بھارت آگے بڑھ رہا ہے : وزیر اعظم مودی
ہماری معیشت آگے بڑھ رہی ہے۔ ہم دنیا کی سب سے بڑی تیزی سے نمو پذیر معیشت ہیں : وزیر اعظم
ہمارے شہر اور قصبات ترقی کر رہے ہیں۔ ہم 100 اسمارٹ شہر بنا رہے ہیں : وزیر اعظم
ہمارا بنیادی ڈھانچہ ترقی کی راہ پر ہے۔ ہم تیز رفتاری سے سڑکیں، ایئرپورٹس، ریل لائنیں اور پورٹس کی تعمیر کر رہے ہیں : وزیر اعظم مودی
ہماری اشیاء ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ جی ایس ٹی نے ہمیں سپلائی چین اور گودام نیٹ ورک کو سمجھنے میں مدد کی ہے : وزیر اعظم
ہماری اصلاحات بہتر ہو رہی ہیں۔ ہم نے بھارت کو کاروبار کرنے میں آسانی والا ملک بنا دیا ہے: وزیر اعظم مودی
ہماری زندگیاں بہتر ہو رہی ہیں۔ کنبوں کو گھر، بیت الخلاء، ایل پی جی سلینڈرس، بینک کھاتے اور قرض میسر ہو رہے ہیں : وزیر اعظم
ہمارے نوجوان آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم تیز رفتاری سے ابھرتے ہوئے اسٹارٹ ۔ اپ کا مرکز بن رہے ہیں : وزیر اعظم مودی
موبیلٹی معیشت کا کلیدی عنصر ہے۔ بہتر موبیلٹی سفر اور نقل و حمل کے بوجھ میں تخفیف پیدا کرتا ہے اور اقتصادی نمو کو تقویت بخشتا ہے : وزیر اعظم مودی
موبیلٹی کا مستقبل، 7 سی – کامن یعنی مشترکہ، کنکٹیڈ یعنی مربوط، کنوی نئینٹ یعنی آسان، کنجیسشن فری یعنی بھیڑ بھاڑ سے مبرّا، چارجڈ یعنی پرجوش، کلین یعنی صاف ستھرا اور کٹنگ ایچ یعنی جدیدیت، پر محیط ہے : وزیر اعظم

نئی دہلی،7؍ستمبر؍وزیراعظم جناب نریندر مودی نے، آج نئی دلی میں ، عالمی موبلیٹی سربراہ کانفرنس کا افتتاح کیا۔ سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان، معیشت، بنیادی ڈھانچے، نوجوانوں اور دیگر متعدد میدانوں میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو چلانے کے لئے موبلیٹی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ معاشی نمو اور روزگار کے مواقع فراہم کرانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

وزیراعظم نے اس موقع پر 7سیز کی بنیاد پر مستقبل میں موبلیٹی کے تصورات کے لئے ایک خاکہ بھی پیش کیا۔ 7 سیز کا مطلب ہے:کومن(عام)، کنیکٹیڈ (منسلک)، کنوینینٹ(آسان؍سہل)، کنجیشن-فری (کثافت سے پاک)، چارجڈ(توانائی سے بھرپور)، کلین(صاف)اور کٹنگ ایج۔

 درج ذیل وزیراعظم کے خطاب کا مکمل متن ہے

عزت مآب!

دنیا بھر سےآئے ہوئے امتیازی وفود،

خواتین و حضرات۔

میں، عالمی موبلیٹی سربراہ کانفرنس میں آپ سب کا خیر مقدم کرتا ہوں۔

موو–سربراہ کانفرنس کے اس نام نے ہندوستان کی روح پر قبضہ کر لیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہماری معیشت موو(تحریک) پر گامزن ہے۔ ہم دنیا کی سب سے تیز رفتار بڑی معیشتوں میں سے ایک ہیں۔

ہمارے شہر اور قصبے متحرک ہیں۔ ہم ایک اسمارٹ شہروں کی تعمیر کر رہے ہیں۔

ہمارا بنیادی ڈھانچہ تحریک پذیر ہے۔ ہم سڑکیں، ہوائی اڈے، ریلوے لائنوں اور بندرگاہوں کو فوری رفتار سے تعمیر کر رہے ہیں۔۔
 

ہمارا سازوسامان اور اشیاء تحریک پذیر ہیں۔ اشیاء اور خدمات ٹیکس نے سپلائی چین اور ویئر ہاؤس نیٹ ورک کو معقول بنانے میں مدد کی ہے۔

ہماری اصلاحات متحرک ہیں۔ ہم نے ہندوستان کو تجارت کرنے کے لئے ایک آسان مقام بنا دیا ہے۔ ہماری زندگیاں متحرک ہیں۔ کنبوں کو مکان، بیت الخلاء، دھوئیں سے پاک ایل پی جی سلینڈرس، بینک اکاؤنٹس اور قرضے حاصل ہو رہے ہیں۔

ہمارے نوجوان متحرک ہیں۔ ہم دنیا کے تیزی سے ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپ ہب کے طور پر ابھارا ہے۔ ہندوستان نئی توانائی، جلد بازی اور مقاصد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

دوستو!

ہم سب جانتے ہیں کہ حرکت پذیری (موبلیٹی) انسانیت کی ترقی کی چابی ہے۔ دنیا اب ایک نئی حرکت پذیر انقلاب کے وسط میں ہے۔

موبلیٹی، معیشت تحریک کی اہم کنجی ہے۔ بہتر حرکت پذیری سفر اور نقل و حمل کے بوجھ کو کم کرتی ہے اور معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔ یہ از خود ایک بڑی آجر ہے اور آنے والی پیڑھی؍نسل کےلئے نوکری کے نئے مواقع پیدا کرا سکتی ہے۔

 

حرکت پذیری، ‘‘زندگی کوآسان’’ بنانے میں ایک اہم عنصر ہے ۔ اس نے درحقیقت ہر انسان کے دماغ پر قبضہ کر لیا ہے اور یہ ہر جگہ ہے۔ اسکول یا کام پر پہنچنے میں وقت لگ رہا ہے، ٹریفک میں پھنس کر جھنجھلاہٹ ہو رہی ہے۔ کنبے کو یا سامان کو لے جانے میں پیسہ صرف ہو رہا ہے، سرکاری ٹرانسپورٹ تک رسائی میں دقت ہو رہی ہے۔ ہوا کے معیار سے بچوں کو سانس لینے میں دقت ہے، ہمارے سفر میں تحفظ کے پیش نظر یہ ہے ہماری اہم اموزوں ہیں۔

تحریک پذیر ی ہمارے سیارے کے تحفظ کے نظر سے بھی بہت اہم ہے۔ سڑک نقل و حمل سے عالمی پیمانے پر کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کا ایک بٹہ پانچ حصہ خارج ہوتا ہے۔ اس سےشہروں کے چوک ہونے اور عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ ہونے کا خطرہ ہے۔

 

آج وقت کی ضرورت ہے کہ ہم قدرت کے ساتھ تال میل کے ساتھ ایک موبلیٹی ایکو نظام قائم کریں۔

حرکت پذیری، تبدیلیٔ ہوا کے خلاف ہماری لڑائی میں سب سے آگے ہے۔ بہتر حرکت پذیری، بہتر نوکریاں، بہتر اور اسمارٹ انفراسٹرکچر اور زندگی کے معیار فراہم کر سکتی ہے۔ یہ لاگت کو گھٹانے، معاشی سرگرمیوں کی توسیع اور سیارے کو محفوظ رکھنے میں بھی مدد کر سکتی ہے۔

حرکت پذیری اور خصوصی طور پر موبلیٹی کا ڈیجیٹائزیشن، انتشار انگیز ہے۔ اس میں اختراع کے لئے بہت زیادہ گنجائش ہے اور یہ اپنے لئے مقام بنا رہی ہے۔

لوگوں نے ٹیکسوں کو اپنے موبائل کے ذریعہ بلانا شروع کر دیا ہے۔ شہروں میں مشترکہ سائکلیں موجود ہیں، بسیں سبز توانائی پر رواں دواں ہیں اور الیکٹرک کاریں بنائی جا چکی ہیں۔ بھارت میں ہم حرکت پذیر (موبلیٹی) پر کام کر رہے ہیں۔ ہم نے شاہراہوں کی تعمیر کا کام شروع کر دیا ہے۔ ہمیں دیہی سڑک تعمیر پروگرام کو دوبارہ قائم کرنا ہے۔ ہم گاڑیوں کے لئے لاگت کے ایندھن اور صاف ایندھن کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ہم نے دشوارگزار اور مشکل رسائی والے علاقوں (انڈر-سروڈ) میں کم لاگت فضائی کنکٹیویٹی کو فروغ دیا ہے۔ ہم نے سیکڑوں نئے فضائی راستوں کی شروع پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔ ہم ریل اور سڑک جیسے روایتی آمدورفت کے وسائل کے ساتھ ساتھ آبی راستوں کی تعمیر پر کام کر رہے ہیں۔ ہم گھروں، اسکولوں اور دفتروں کے لئے ایفی شیئنٹ مقامات کی فراہمی کے ذریعہ اپنے شہروں میں طویل مسافت کو کم کر رہے ہیں۔

ہم نے انٹیلی جینٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم جیسی ڈیٹا پر مبنی نئی شروعات بھی کی ہیں۔

تاہم، ہمیں پیدل چلنے ، سائکلنگ کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے اور اس کے لئے عوام کی سلامتی اور ترجیحات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔

دوستو!

تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے آمدورفت کے نظام میں، ہندوستان کے پاس کچھ موروثی طاقتیں اور مجموعی فوائد ہیں۔ ہمارا آغاز بہت صاف و تازہ ہے۔ ہمارے پاس ریسورس، بلائنڈ موبلیٹی ورثہ ہے۔ ہمارے پاس دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں فی کس (ہر آدمی کے پاس) گاڑیاں کم ہیں۔ اس لئے، دیگر معیشتوں کی طرح زیادہ بیگیج نہیں ڈھوتے ہیں کہ جنہیں پرائیویٹ کار کے مالک کی پیٹھ پر لادا جاتا تھا۔ اس کی وجہ سے ہمیں تمام نئے، بے جوڑ، ایکو-نظام بنانے کے موقعوں کی ونڈو حاصل ہوئی ہے۔

ٹیکنالوجی کے محاذ پر ، ہماری صلاحیتوں اور طاقتوں میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی، بڑے اعداد وشمار (ڈیٹا)، ڈیجیٹل پیمنٹس اور انٹرنیٹ کے اشتراک پر مبنی معیشت ہے۔ ان عناصر میں اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی مستقبل آمدورفت کے ڈرائیور بنتے جارہے ہیں۔

ہمارے منفرد شناختی پروگرام، آدھار اور اس کے ایکو نظام نے مجموعی عوامی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے پر اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس کے ذریعہ ہمارے 850 ملین شہری ڈیجیٹلی با اختیار ہوئے ہیں۔ ہندوستان اس کا مظاہرہ کر سکتا ہے کہ کیسے اس طرح کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو ایک ساتھ نئے موبلیٹی بزنس ماڈلوں میں تبدیلی کر سکتا ہے۔

ہماری قابل تجدید توانائی مہم اس بات کو یقینی بنائے گی کہ برقی حرکت پذیری یعنی موبلیٹی کے ماحولیاتی فوائد کو مکمل طور پر تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ 2022 تک 175 گیگاواٹ قابل تجدید توا نائی پیدا کرنے کا ہمارا منصوبہ ہے۔

ہمارا مقام دنیا میں شمسی توانائی پیدا کرنے میں پہلے ہی پانچویں نمبر پر ہے۔ ہم قابل تجدید توانائی پیدا کرنے میں دنیا میں چھٹے نمبر پر ہیں۔ بین الاقوامی شمسی اتحاد کے ذریعہ عالمی سطح پر ہم چمپئن بھی ہیں۔

ہم مینوفیکچرنگ شعبے میں تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور خصوصی طور پر آٹو موٹیو شعبے میں ہم تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس بہت بڑی ڈیجیٹلی تعلیم یافتہ نوجوان آبادی ہے۔ اس سے مستقبل میں لاکھوں تعلیم یافتہ ذہنوں، ہنر مند ہاتھوں اور پُرامید خوابوں کو طاقت ملے گی۔اس لئے مجھے اعتماد ہے کہ دنیا میں ہندوستان نے اپنا بہترین مقام بنا لیا ہے اور موبلیٹی ایکونومی میں اولین مقام پر ہوگا۔

ہندوستان میں موبلیٹی کے مستقبل کےلئے 7 سیزپر مبنی ہے، جن کا مطلب ہے، کومن، کنکٹیڈ، کنوینینٹ ، کنجسشن فِری، چارجڈ، کلین اور کٹنگ ایج۔

1-کومن(عام):عوامی ٹرانسپورٹ، ہمارے موبلیٹی پہل کی بنیاد ہونا چاہئے۔ موجودہ پیراڈائم کو ، ڈیجیٹائزیشن کے ذریعہ چلائے جانے والے نئے تجارتی ماڈل نو تشکیل دیں گے۔ بڑا ڈیٹا فیصلے لینے میں مدد کرتا ہے اور ہمارے پیٹرن اور ضروریات کی بہتر سمجھ بناتا ہے۔ ہماری توجہ، کاروں سے آگے دیگر موٹرگاڑیوں، جیسے اسکوٹروں اور رکشوں پر ہونی چاہئے۔ آبادی کا بڑا حصہ آمدورفت کے لئے ان پر انحصار کرتا ہے۔

2-کنیکٹیڈ (منسلک):

موبلیٹی جغرافیائی اور آمدورفت کے وسائل کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے۔ موبلیٹی کے فلکرم کے طور پر انٹرنیٹ کی اہلیت والی شیئرنگ ایکونومی ابھر رہی ہے۔ اس لئے ہمیں گاڑی پول اور دیگر اختراعی تکنیکی حلوں کے ذریعہ بہتر پرائیویٹ وہیکل یوٹیلائزیشن کو ممکن بنانا ہے۔

3-کنوینینٹ (آسان):

اس کا مطلب ہے معاشرے کے تمام طبقات کے لئے محفوظ، قابل استطاعت یعنی سستی اور قابل رسائی موبلیٹی کو ممکن بنائیں۔ اس میں بزرگ، خواتین اور خصوصی طور پر چیلنجڈ لوگ شامل ہیں۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ لوگ پرائیویٹ یا نجی ٹرانسپورٹ پر سرکاری ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیں۔

4-کنجیسشن-فری(کثافت سے پاک):کثافت سے پاک موبلیٹی کا مطلب ہے کہ کثافت کی معاشی اور ماحولیاتی قیمت کے مدنظر اس پر کنٹرول کیا جائے۔ اس لئے، نیٹ ورک کے تنگ راستوں کو ختم کرنے پر زور دیا جائے۔ اس کے نتیجے میں ٹریفک جام کم لگیں گے اور لوگوں کو سفر کرنے میں کم تناؤ ہوگا۔

5-چارجڈ موبلیٹی:یہ موبلیٹی آگے کا راستہ ہے۔ ہم الیکٹرک وہیکل مینوفیکچرنگ کو بیٹریوں کی اسمارٹ چارجنگ سے تمام ویلیو چین میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کے تجارتی لیڈر اور مینوفیکچررس اب اپنی توجہ بیٹری ٹیکنالوجی کو فروغ دینے پر کر رہے ہیں۔

بھارتی خلائی تحقیق ادارہ اپنا ایک بہترین بیٹری نظام خلاء میں سیارچوں کوحرکت میں لانے کے لئے کرتا ہے۔ دیگر ادارے اِسرو کے ساتھ برقی کاریں بنانے کےلئے مؤثر اور کم لاگت والا بیٹری نظام بنانے کے لئے شراکت کر سکتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت برقی گاڑیوں کے معاملے میں ایک سرفہرست ملک بن جائے۔ ہم جلد ہی بجلی اور دیگر متبادل ایندھنوں سے چلنے والی موٹر گاڑیوں کے سلسلے میں ایک مستحکم پالیسی نظام قائم کریں گے۔ پالیسیاں اس انداز سے وضع کی جائیں گی کہ وہ سب کے لئے مفید ہوں ، سب کا احاطہ کریں اور موٹر گاڑی کے شعبے میں وسیع مواقع بھی فراہم کریں۔

6-صاف ستھری توانائی سے صاف موبلیٹی کی فراہم:موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جدو جہد میں صاف ستھری توانائی کے ذریعے صاف ستھری موبلیٹی یعنی آمدورفت کے آلودگی سے پاک نظام کی فراہمی ہمارا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک کثافت سے مبرا مہم چلائی جائے، جس کے نتیجے میں ہوا صاف ستھری ہو جائے اور ہمارے عوام کے لئے بہتر معیار حیات فراہم ہو سکے۔ ہمیں کلین کلومیٹر کے نظریئے کو بڑھاوا دینا چاہئے اور یہ حصولیابی حیاتیاتی ایندھن، بجلی یا شمسی توانائی کو بروئے کار لانے کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے گی۔ بطور خاص بجلی سے چلنے والی گاڑیاں قابل احیاء توانائی میں ہماری سرمایہ کاری میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس کے لئےجوکچھ بھی ضرورت ہو گی ہم کریں گے، کیونکہ اگلی پیڑھیوں کے لئے یہ ہماری عہد بندگی ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ اپنے ورثے سے بھی ہمارا یہی عہد ہے۔

7-جدید ترین ٹیکنالوجی:موبلیٹی بھی انٹرنیٹ کی طرح اپنے اوئل دور میں ہے۔ یہ ابھی آغاز ہے۔ یہ اختراعات کا اگلا بڑا شعبہ ہے۔ موو ہیک اور پِچ ٹو موو جیسی تقریبات ، جن کا اہتمام گزشتہ ہفتے کے دوران اس امر کی وضاحت کے لئے کیا گیا کہ کس طرح سے اذہان خلاقانہ حل پیش کر رہے ہیں۔

صنعت کاروں کو موبلیٹی کو ایک بے پناہ مواقع کے حامل شعبے کے طور پر دیکھا جانا چاہئے، کیونکہ یہاں اختراعات اور نمو کی بڑی گنجائشیں ہیں۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے، جہاں اختراعات عوامی بہبود کے لئے مسائل کا حل نکال سکتی ہیں۔

دوستو،

مجھے پورا یقین ہے کہ موبلیٹی انقلاب ہمارے لئے ترقی اور نمو کا ایک ذریعہ ہے۔ جب بھارت موبلیٹی کے سلسلے میں تغیر کے عمل سے گزرتا ہے، تو اس سے بنی نوع انسان کے پانچویں حصے کو فائدہ پہنچتا ہے۔ یہ کامیابی کے اندازے کا بھی ایک ذریعہ بن جاتا ہے اور دیگر لوگوں کے لئے قابل تقلید بھی قرار پاتا ہے۔

آئیے ہم سب پوری دنیا کےلئے ایک نمونہ پیش کریں۔ آخر میں میں بھارت کے نوجوانوں سے بطور خاص یہ اپیل کرنا چاہوں گا۔

میرے نوجوان ، متحرک دوستو، آپ کے لئے اختراعات کے ایک نئے عہد کی قیادت کا موقع دستیاب ہے۔ یہ مستقبل ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے، جو ڈاکٹروں سے لے کر انجینئروں تک اور ڈرائیوروں سے لے کر میکنیکوں تک حاصل ہونے والی ہر چیز کو اپنے اندر سمو لے گا۔ ہمیں آگے بڑھ کر اس انقلاب کا خیر مقدم کرنا چاہئے اور موبلیٹی اختراعات کے ایکو نظام کو خود اپنے آپ اور دیگر افراد کے لئے بروئے کار لانے کے سلسلے میں اپنی قوتوں کو مستحکم کرنا چاہئے۔ جو صلاحیتیں اور ٹیکنالوجیاں آج یہاں یکجا ہوئی ہیں، ان میں اتنی قوت ہے کہ وہ بھارت اور پوری دنیا کے لئے تغیراتی موبلیٹی شفٹ یا تبدیلی لانے کی اہل ہیں۔

یہ تغیر اور تبدیلی ہماری دنیا کے لئے ہم کتنا سوچتے ہیں اور دیگر افراد کے ساتھ کتنا ساجھا کرتے ہیں، پر مبنی ہوگی۔

ایک قدیم صحیفے کے الفاظ یہاں پیش کرنا چاہوں گا۔

اوم سہ ناؤ وَت

سہ نو بھونکتو

سہ ویر کرواؤ ہے

تیجسوی نا وِدھیتمستو ما ودھیشاوہے

اس کا مطلب ہو تا ہے کہ

خداکرے ہم سب کا تحفظ ہو

ہم سب کو تغذیہ حاصل ہو

ہم افزوں توانائی کے ساتھ مل کرایک دوسرے کے ساتھ کام کر سکتے ہیں

اور ہماری فہم و دانش میں اضافہ ہو

دوستو!

میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ ہم ایک ساتھ مل کر کیا کر سکتے ہیں

یہ سربراہ ملاقات محض ایک آغاز ہے

آئیے ہم سب مل کر آگے بڑھیں،

آپ کا شکریہ۔

آپ کا بہت بہت شکریہ!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report

Media Coverage

India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review measures being taken in the context of ongoing West Asia Conflict
April 01, 2026
Interventions across agriculture, fertilizers, shipping, aviation, logistics and MSMEs to mitigate emerging challenges discussed
Supply diversification for LPG and LNG, fuel duty reduction and power sector measures reviewed to ensure stability of essential supplies
Steps being taken to ensure stable prices of essential commodities and strict action against hoarding and black-marketing
Control Rooms set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act
Various efforts being taken to ensure fertilizer supply such as maintaining Urea Production and coordination with overseas suppliers for DAP/NPKS supplies
PM assesses availability of critical needs for the common man
PM discusses availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons
PM directs that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict
PM underlines the need for timely & smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering
Enough coal stock exists which shall serve power needs adequately in coming months

Prime Minister Shri Narendra Modi a special of the Cabinet Committee on Security (CCS) to review measures taken by various Ministries/Departments and also discussed further initiatives to be taken in the context of the ongoing West Asia conflict, at 7 Lok Kalyan Marg today. This was the second special CCS meeting on this issue.

Cabinet Secretary briefed about the action taken to ensure supply of petroleum products, particularly LNG/LPG, and sufficient power availability. Sources are being diversified for procurement of LPG with new inflows from different countries. Similarly, Liquefied Natural Gas (LNG) is being sourced from different countries. He further briefed that LPG prices for domestic consumers have remained the same and Anti-diversion enforcement to curb hoarding and black marketing of LPG is being conducted regularly.

Initiatives have also been taken to expand Piped Natural Gas connections. Measures like exempting the gas-based power plants with a capacity of 7-8 GW from gas pooling mechanism and increasing of rake for positioning more coal at thermal power stations etc. have also been taken to ensure availability of power during the peak summer months.

Further, interventions proposed to be taken for emerging challenges in various other sectors such as agriculture, civil aviation, shipping and logistics were also discussed.

Various efforts like maintaining urea production to meet requirements, coordinating with overseas supplies for DAP/NPKS suppliers are being taken to ensure fertilizer supply. State governments are being requested to curb black marketing, hoarding, and diversion of fertilizers through daily monitoring, raids, and strict action.

The retail prices of food commodities have been stable over the past one month. Control Rooms have been set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act. The prices of agricultural products , vegetables and fruits are also being monitored.

Efforts to globally diversify our sources for energy, fertilizers and other supply chains, and international initiatives for securing safe passage of vessels through the strait of Hormuz and ongoing diplomatic efforts are being taken.

Enhanced coordination, real-time communication, and proactive measures across central, state, and district levels to drive effective information dissemination and public awareness amid the evolving crisis is being undertaken.

Prime Minister assessed the availability of critical needs for the common man. He discussed availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons. He said that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. Prime Minister also emphasised smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering.

Prime Minister directed all concerned departments to take all possible measures to ameliorate the problems of citizens and sectors affected by the ongoing global situation.