نئی دہلی،09 نومبر  / وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج گرونانک دیو جی کے تعلیمات اور اقدار پر عمل کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے انٹی گریٹڈ چیک پوسٹ (آئی سی پی) اور کرتار پور کوریڈور کے افتتاح کے موقع پر ڈیرا بابا نانک میں منعقدہ خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے گرونانک دیو جی کے 550ویں یوم پیدائش کے موقع پر یادگار سکہ بھی جاری کیا۔

اس موقع پر بڑی تعداد میں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ڈیرا بابا نانک کے مبارک مقام پر کرتار پور کوریڈور قوم کے نام وقف کرتے ہوئے فخر کا احساس ہو رہا ہے۔

اس سے قبل شرومنی گرودوارا پربندھک کمیٹی نے وزیراعظم کو قومی سیوا ایوارڈ سے نوازا ۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس کو شری گرونانک دیو جی کے قدموں میں پیش کررہےہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ 550ویں گرونانک جینتی کے موقع پر آئی سی پی اور کرتار پور کوریڈور کا افتتاح ایک ایسا آشرواد ہے جس سے پاکستان میں گرودوارا دربار صاحب تک سفر کرنے میں آسانی ہوگی۔

وزیراعظم نے ایس جی پی سی ، پنجاب حکومت اور ان لوگوں کے تئیں اپنی ممنوعیت کا اظہار کیا جنہوں نے سرحد پار زائرین کے آنے جانے میں آسانی فراہم کرانے کے لیے ریکارڈ مقررہ مدت میں کوریڈور تیار کیا۔

وزیراعظم نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور سرحد کے دوسری جانب کے ان تمام لوگوں کے لیے بھی اپنی ممنوعیت کا اظہار کیا جنھوں نے اس کام کو ممکن بنایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ شری گرونانک دیو جی صرف ہندوستان کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے محرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرونانک دیو جی صرف گرو نہیں ہیں بلکہ ایک فلسفی اور ہماری زندگی کا ایک بنیادی ستون بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرو نانک دیو جی نے ہمیں زندگی کی سچی اقدار کی اہمیت کی تعلیم دی اور اہمیں ایمانداری اور خود اعتمادی پر مبنی ایک معاشی نظام بھی دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گرونانک دیو جی نے معاشرے میں برابری ، بھائی چارے اور اتحاد کی تعلیم دی اور انہوں نے مختلف سماجی برائیوں کو دور کرنے کے لیے جدوجہد بھی کی۔

کرتار پور کو نانک دیو جی کی روحانیت سے لبریز ایک پاکیزہ مقام قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوریڈور ہزاروں عقیدتمندوں اور زائرین کی مدد کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے حکومت ملک کی مالا مال وراثت اور ثقافت کی حفاظت کی کوشش کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گرونانک دیو جی کے 550ویں یوم پیدائش کے موقع پر ملک بھر میں اور پوری دنیا میں ہمارے سفارتخانوں کے ذریعے متعدد پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گرو گووند سنگھ کا 350واں یوم پیدائش ملک بھر میں منایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گرو گووند سنگھ جی کے اعزاز میں گجرات میں جام نگر میں 750 بستروں والا ایک جدید اسپتال تعمیر کیا گیا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ گرووانی کا یونیسکو کی مدد سے نوجوان نسل کے فائدے کے لیے دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سلطان پور لودھی کو ایک وراثتی شہر کے طور پر ڈیولپ کیا جا رہا ہے اور تمام اہم مقامات کو گرونانک جی سے منسلک کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹرین شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شری اکال تخت ، دمدما صاحب، تیز پور صاحب ، کیس گڑھ صاحب، پٹنہ صاحب اور حضور صاحب کے درمیان ٹرین اور ہوائی جہاز کے ذریعے کنکٹیویٹی کو مضبوط کیا جا رہا ہے اور امرتسر اور ناندیڑ کے درمیان ایک خصوصی فلائٹ نے اپنی خدمات شروع کر دی ہیں۔ اسی طرح امرتسر سے لندن کی  ایئر انڈیا فلائٹ پر ایک اومکار کا پیغام چلایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ایک اور بڑا فیصلہ کیا ہے جس سے دنیا بھر میں رہنے والے بہت سے سکھ خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ برسوں سے بیرونی ممالک میں رہنے والے بہت سے لوگوں کو ہندوستان آنے میں جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا انہیں ختم کر دیا گیا ہے۔ اب بہت سے خاندان ویزا اور او سی آئی کارڈ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔وہ آسانی سے ہندوستان میں اپنے رشتے داروں سے ملاقات کر سکتے ہیں اور زیارت گاہوں کا دورہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کے دو مزید فیصلوں سے سکھوں کو مدد ملی ہے۔ ایک فیصلہ دفعہ 370 کی منسوخی کا ہے۔ اِس سے اب جموں و کشمیر اور لیہہ میں رہنے والے سکھ لوگوں کو مدد ملے گی اور انہیں بھی وہی حقوق ملیں گے جو کہ ملک کے دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ اسی طرح شہریت میں ترمیم کے بل سے سکھوں کو ملک کا شہری بننے میں آسانی ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ گرونانک دیو جی سے لے کر گرو گووند جی تک کئی روحانی گروؤں نے ہندوستان کی یکجہتی اور سلامتی کے لیے اپنی زندگیاں لگا دیں۔ بہت سے سکھوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے اپنی زندگیاں نچھاور کیں۔ اس کا اعتراف کرنے کے لیے مرکز نے کئی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلیاں والا باغ میموریل کی جدید کاری کی جا رہی  ہے۔ اب فوکس سکھ طلبا کی ہنرمندی کو بہتر بنانے اور ان کے خود روزگار پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں تقریباً 27 لاکھ سکھ طلبا کو وظائف دیئے جا رہے ہیں۔

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Total Urea stocks currently at 61.14 LMT, up from 55.22 LMT in March 2025

Media Coverage

Total Urea stocks currently at 61.14 LMT, up from 55.22 LMT in March 2025
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review the situation and mitigating measures in the context of ongoing West Asia Conflict
March 22, 2026
Short, Medium and Long term measures to ensure continued availability of essential needs discussed in detail
Alternate sources of fertilizers for farmers were also discussed to ensure continued availability in the future
Several measures discussed to diversify sources of imports required by chemicals, pharmaceuticals, petrochemicals and other industrial sectors
New export destinations to promote Indian goods to be developed in near future
PM instructs that all arms of government should work together to ensure least inconvenience to citizens
PM directs that a group of Ministers and Secretaries be created to work dedicatedly in a whole of government approach
PM instructs for sectoral groups to work in consultation with all stakeholders
PM asks for proper coordination with state governments to ensure no black-marketing and hoarding of important commodities

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired a meeting of the Cabinet Committee on Security to review the situation and ongoing and proposed mitigating measures in the context of ongoing West Asia Conflict.

The Cabinet Secretary gave a detailed presentation on the global situation and mitigating measures taken so far and being planned by all concerned Ministries/Departments of Government of India. The expected impact and measures taken to address it across sectors like agriculture, fertilisers, food security, petroleum, power, MSMEs, exporters, shipping, trade, finance, supply chains and all affected sectors were discussed. The overall macro-economic scenario in the country and further measures to be taken were also discussed.

The ongoing conflict in West Asia will have significant short, medium and long term impact on the global economy and its effect on India were assessed and counter-measures, both immediate and long-term, were discussed.

Detailed assessment of availability for critical needs of the common man, including food, energy and fuel security was made. Short term, Medium term and Long term measures to ensure continued availability of essential needs were discussed in detail.

The impact on farmers and their requirement for fertiliser for the Kharif season was assessed. The measures taken in the last few years to maintain adequate stocks of fertilizers will ensure timely availability and food security. Alternate sources of fertilizers were also discussed to ensure continued availability in the future.

It was also determined that adequate supply of coal stocks at all power plants will ensure no shortage of electricity in India.

Several measures were discussed to diversify sources of imports required by chemicals, pharmaceuticals, petrochemicals and other industrial sectors. Similarly new export destinations to promote Indian goods will be developed in the near future.

Several measures proposed by different ministries will be prepared and implemented in the coming days after consultation with all stakeholders.

PM directed that a group of ministers and secretaries be created to work dedicatedly in a whole of government approach. PM also instructed for sectoral groups to work in consultation with all stakeholders.

PM said that the conflict is an evolving situation and the entire world is affected in some form. In such a situation, all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. PM instructed that all arms of government should work together to ensure least inconvenience to the citizens. PM also asked for proper coordination with state governments to ensure no black-marketing and hoarding of important commodities.