اپنے بہتر بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے آسام آتم نربھر بھارت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آرہا ہے: وزیراعظم

نئی دہلی،  23  جنوری 2021،         وزیراعظم جناب نریندر مودی نے شیو ساگر آسام میں مقامی بے زمین لوگوں کو  زمین آلاٹمنٹ کے سرٹی فکیٹ تقسیم کئے۔ اس موقع پر  حکومت آسام کے وزیراعلی  اور وزرا کے ساتھ  مرکزی وزیر جناب  رامیشور تیلی بھی موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آسام کے ایک لاکھ سے زیادہ مقامی خاندانوں کو  زمین کا حق ملنے سے  شیو ساگر میں  لوگوں کی زندگی  سے ایک بڑی پریشانی  دور ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب کا تعلق  آسام کے اصل باشندوں کی خوداری، آزادی اور تحفظ سے ہے۔ انہوں نے شیو ساگر کی اہمیت کا ذکر کیا جو کہ ملک کے لئے  قربانیاں دینے کے  معاملے میں مشہور ہے۔ آسام کی تاریخ میں شیو ساگر  کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا  کہ حکومت شیو ساگر کو  ملک کی پانچ اہم ترین  آثار قدیمہ کے مقامات میں شامل  کیے جانے کے لئے اقدامات کررہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک  آج نیتاجی کے 125 ویں یوم پیدائش پر  انہیں یاد کررہا ہے اور  23 جنوری کو  پ’راکرم دوس‘ کے طور پر منایا جارہا ہے۔آج ملک بھر میں  نئے بھارت کی تعمیر  کی خواہش کا اظہار کے لئے پراکرم دوس کے موقع پر ملک بھر میں  کئی پروگرام شروع کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیتا کی بہادری اور ان کی قربانی ہمیں اب بھی تحریک دیتی ہے۔ انہوں نے بھارت رتن بھوپین کا دوہا سناتے ہوئے زمین کی اہمت دیا۔

“ओ मुर धरित्री आई,

चोरोनोटे डिबा थाई,

खेतियोकोर निस्तार नाई,

माटी बिने ओहोहाई।”

جس کا مطلب ہے  دھرتی ماتا  مجھے اپنے قدموں میں جگہ دے۔ تمہارے بغیر ایک کسان کیا سکتا ہے؟ زمین کے بغیر وہ بے سہارا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ  آزادی کے اتنے برسوں بعد بھی آسام میں لاکھوں ایسے خاندان ہیں جو پہلے زمین سے محروم تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب سونووال حکومت اقتدار میں آئی، تو 6 لاکھ سے زیادہ قبائلیوں کے ساتھ  اپنی زمین کا کوئی کاغذ نہیں تھا۔ انہوں نے  سونووال حکومت کی زمین سے متعلق نئی پالیسی اور آسام کے عوام کے تئیں اس کی عہد بندی کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا  کہ زمین کے پٹے کی وجہ سے  آسام کے  اصل باشندوں کا طویل مدت سے چلا آرہا تھا مطالبہ پورا ہوا ہے۔اس سے لاکھوں لوگوں کے لئے بہتر معیار زندگی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ انہوں نے  کہا کہ اب  زمین کا حق مل جانے سے  ان استفادہ کنندگان کو  بہت سے دیگر اسکیموں کے فائدے کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا، جس سے وہ پہلے محروم تھے مثلاً پی ایم کسان سمان ندھی، کسان کریڈٹ کارڈ، فصل بیمہ پالیسی، صرف یہی نہیں وہ اب بینکوں سے قرضے بھی لے سکیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت  آسام میں قبائلیوں کی تیز رفتار ترقی اور  انہیں سماجی تحفظ فراہم کرانے کے لئے عہد بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمی زبان اور اس کے ادب کو  فروغ دینے کے لئے بہت سے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اسی طرح  ہر ایک  برادری کی عظیم شخصیتوں کا بھی احترام کیا گیا ہے۔ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں  مذہبی اور روحانی اہمیت کے حامل  کئی تاریخی  اشیا  کے تحفظ کے لئے  بہت سی کوششیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  قاضی رنگا نیشنل پارک  سے غیر قانونی قبضے کو ہٹانے اور اسے بہتر بنانے کے لئے بھی  تیزی سے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکود کفیل بھارت کے لئے  شمال مشرق اور آسام کی  تیز رفتار ترقی ضروری ہے۔ خود کفیل آسام کا راستہ  آسام کے عوام کے اعتماد سے ہوکر گزارتا ہے۔ اعتماد اسی وقت پروان چڑھتا ہے جب سہولتںیں دستیاب ہوں اور بنیادی ڈھانچہ  بہتر ہو۔ گزشتہ برسوں میں آسام میں ان دونوں محاذوں پر غیر معمولی کام کیا گیا ہے۔آسام میں تقریباً 1.75 غریبوں  کے جن دھن بینک کھاتے کھولے گئے ہیں۔ان بینک کھاتوں کی وجہ سے  کورونا کے دور میں  ہزاروں خاندانوں کی بینک کھاتوں میں  براہ راست رقم منتقل کی گئی ہے۔ آسام میں تقریباً 40 فیصد آبادی کو  آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت کور کیا گیا ہے۔ ان میں سے  تقریباً 1.5 لاکھ کو  مفت علاج ملا ہے۔ گزشتہ 6 برسوں میں آسام میں  ٹوائلیٹ کا کوریج 38 فیصد سے بڑھ کر  100 فیصد ہوا ہے۔ پانچ سال قبل  50 فیصد سے بھی کم  گھروں میں بجلی تھی۔ اب یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 100 فیصد ہوگئی ہے۔ جل جیون مشن کے تحت آسام میں  گزشتہ ڈیڑھ برسوں  میں  2.5 لاکھ سے زیادہ گھروں میں  پائٹ کے ذریعہ پانی کا کنکشن فراہم کرایا گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان سہولتوں سے  خواتین کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ اجوولا یوجنا سے  35 لاکھ خاندانوں  کے کچن میں گیس کنکشن پہنچایا گیا ہے، جن میں سے  چار لاکھ  ایس سی / ایس ٹی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایل پی جی گیس کوریج 2014 میں 40 فیصد تھا، اب یہ 99 فیصد  پر پہنچ گیا ہے۔ ایل پی جی تقسیم کاروں کی تعداد 2014 ممیں 330 تھی جو کہ  اب بڑھ کر  576 ہوگئی ہے۔ کورونا کی مدت کے دوران  پچاس لاکھ سے زیادہ  مفت سلینڈر تقسیم کئے گئے ہیں۔ اجوولا سے  اس خطے کی خواتین کی زندگی میں آسانی آئی ہے اور  نئے ڈسٹریبوشن سینٹر  قائم کئے جانے سے نئے روزگار پیدا ہوئے ہیں۔

اپنی حکومت کے منتر سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس کا ذکر کرتے ہوئے  وزیراعظم نے کہا کہ  حکومت ترقی کا فائدہ تمام طبقوں تک  پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  عرصۂ دراز سے بے توجہی  کے باعث بدحال  چائی قبیلے کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے  کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس قبیلے کے گھروں میں ٹوائلیٹ کی سہولیات فراہم کرائی جارہی ہیں، بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں، صحت سہولیات اور روزگار فراہم کرایا جارہا ہے۔ چائی قبیلے کے لوگوں کو بیکنگ سہولتوں سے  منسلک کیا جارہا ہے اور  مختلف اسکیموں کا فائدہ  براہ راست میں ان کے کھاتے میں منتقل ہورہا ہے۔ وزیراعظم نے  کہا کہ  اس قبیلے کے  مزدور لیڈر  سنتوش توپنو جیسے لیڈروں کے مجسمے نصب کرکے اس قبیلے کی خدمات کا اعتراف کیا جارہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ  آسام کا ہر ایک خطہ  ہر ایک قبیلے کو ساتھ لیکر چلنے کی پالیسی کی وجہ سے امن اور ترقی  کی راہ پر گامزن ہے۔ تاریخی بوڈو معاہدے سے  آسام کا ایک بڑا حصہ اب  امن اور ترقی کے راستے پر لوٹ آیا ہے۔ وزیراعظم نے  یہ امید ظاہر کی کہ  معاہدے کے بعد  بوڈو لینڈ علاقائی کونسل  کے نمائندوں کے حالیہ الیکشن سے  یہ ترقی کی نئی مثال پیش کرے گا۔

وزیراعظم نے  گزشتہ برسوں کے دوران  کنکٹی وٹی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی  جدید کاری کے   لئے کئے گئے متعدد اقدامات کا بھی ذکر کیا۔  آسام اور شمال مشرق ، مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ  بھارت کی کنکٹی وٹی کو فروغ دینے کے معاملے میں  بہت اہم ہیں۔ اپنے بہتر بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے آسام  آتم نربھر بھارت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آرہا ہے۔ وزیراعظم نے  آسام کے گاؤوں میں   11 ہزار کلو میٹر  سڑکوں ،  ڈاکٹر بھوپین ہزاریکا سیتو، بوگی بیل برج، سرائے گھاٹ برج اور  بہت سے دیگر پلوں کا بھی ذکر کیا جو کہ  تعمیر کئے گئے ہیں یا زیر تعمیر ہیں اور جن سے آسام کی کنکٹی وٹی  مستحکم ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ  بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور میانمار کے ساتھ واٹر ویز کنکٹی وٹی پر بھی توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ریل اور ایئر کنکٹی وٹی میں اضافے سے  آسام میں  بہتر صنعتی اور روزگار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ لوک پریہ گوپی ناتھ بورڈولوئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ  میں نیا جدید ٹرمنل اور  کسٹم کلیئرنس سینٹر ، کوکراجھار میں روپسی ایئر پورٹ کی جدید کاری،  بونگئی گاؤں میں ملٹی ماڈل لاجسٹک ہب  سے آسام کی صنعتی ترقی کو  نیا فروغ ملے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آسام  گیس پر مبنی معیشت  کی سمت میں ملک کو لیجانے کے معاملے میں ایک اہم پارٹنر ہے۔ آسام میں  تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے پر 40 ہزار کروڑ سے زیادہ روپے  خرچ کئے گئے ہیں۔ گوہاٹی۔ برونی گیس پائپ لائن سے  شمال مشرق اور مشرقی بھارت کے درمیان کنکٹی وٹی مستحکم ہوگی۔ نمالی گڑھ ریفائنری میں ایک بایو ریفائنری سہولت کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے آسام ایتھنول جیساےبایو فیول کا ایک اہم پروڈیوسر بنا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے ایمس اور انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے خطے کے نوجوانوں کے لئےنئی راہیں کھلیں گی اور  اس سے یہ خطہ صحت اور تعلیم کا مرکز بنا جائے گا۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report

Media Coverage

Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi chairs 51st PRAGATI Meeting
May 27, 2026
PM reviews seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of around ₹30,000 crore
PM also reviews Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0
PM says Ken-Betwa River Inter-linking Project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues amicably
PM asks States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants
PM calls for mission-mode rooftop solar coverage in urban areas
Acting upon the advice of PM, system of monthly review of social sector schemes at State level operationalised, starting with review of Swachh Bharat Mission

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 51st meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State governments, at Seva Teerth, earlier today.

During the meeting, the Prime Minister reviewed seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors covering nine States worth around ₹30,000 crore. These projects, pivotal to economic growth and public welfare, were reviewed with a focus on timelines, inter-agency coordination, and timely issue resolution. Prime Minister also reviewed Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0.

While reviewing power sector projects, Prime Minister emphasized the need to accelerate rooftop solar adoption across urban areas, with a special focus on cities, residential clusters and public institutions. He underlined that rooftop solar should be taken up in mission mode to reduce electricity costs, improve energy security and promote clean energy at the household and community level.

While reviewing road and port connectivity projects, it was emphasised that Vadhavan Port should be developed as a model of port-led, multi-modal development, where every major mode of transport is seamlessly integrated to create a future-ready logistics ecosystem. The project should not be seen merely as a port, but as a national gateway connected through coastal shipping, inland waterways, dedicated freight corridors, high-speed rail connectivity, highways and airport linkages.

Prime Minister emphasised the need for effective implementation of Swachh Bharat Mission 2.0 and underlined that the mission should move beyond infrastructure creation and ensure measurable outcomes through regular monitoring, citizen participation and convergence between various stakeholders. He asked States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants.

While reviewing Ken-Betwa River Inter-linking Project, Prime Minister observed that Ken-Betwa project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues through cooperation, timely clearances, technology-based monitoring and mission-mode execution. States were encouraged to identify similar opportunities where river-linking, water conservation, groundwater recharge and efficient irrigation can be taken up in an integrated manner to ensure long-term water security.

Prime Minister also underlined that the delay in the implementation of public projects leads not only to cost escalation but also deprives citizens of timely access to essential facilities and development benefits. He observed that every delay has a direct impact on people’s lives, regional growth and public resources. He stressed that Ministries, Departments and States must adopt a more proactive and time-bound approach to resolve pending issues, remove bottlenecks and ensure faster execution.

Prime Minister also emphasized that innovative use of canal networks should be explored, including installation of solar panels along canals and over canals for clean electricity generation. This would help optimize land use, reduce evaporation losses, generate renewable energy and create additional economic value from water infrastructure.

At the beginning of the meeting, the Cabinet Secretary informed that, in pursuance of the directions of the Prime Minister, a system of monthly review of social sector schemes at the State level has also been operationalised. This mechanism aims to ensure regular monitoring, faster resolution of implementation issues and greater accountability at the State and district levels. As part of this initiative, Swachh Bharat Mission has been taken up for review at the State level in the first instance.