وزیراعظم جناب نریندر مودی نے سرمایہ کاری   اور عوامی اثاثے کا نظم کرنے کے محکمے میں بجٹ گنجائشوں کے موثر نفاذ پر ایک سیمینار سے آج ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ خطاب کیا۔

ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس بجٹ نے ہندوستان کو پھر سے انتہائی نمو کے رخ پر لے جانے کا ایک واضح روڈ میپ تیار کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بجٹ میں ہندوستان کی ترقی پرائیویٹ سیکٹر کی خاطر خواہ خدمات پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ انہوں نے سرمایہ کشی اور اثاثوں  کو سرمایہ میں بدلنے کی اہمیت پر زور دیا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب سرکاری زمرے کی صنعتوں کا آغاز کیا گیا تھا ، ملک میں اس وقت  کی ضرورتیں آج سے مختلف تھیں۔انہوں نے کہا کہ جو اصلاحات کی جارہی ہیں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ عوام کے پیسے کا مناسب استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری زمرے کے بیشتر کاروباری ادارے خسارے میں چل رہے ہیں اور ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ان کی مدد کی جارہی ہے اور یہ بھی معیشت پر بوجھ کی ایک وجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری زمرے کے صنعتی اداروں کو محض اس لئے سرگرم رہنے دینے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اتنے برسوں سے چلتے آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں صنعتوں کی مکمل اعانت کرے لیکن اسی کے ساتھ  کاروبار کرنے سے حکومت کا کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی توجہ عوام کی بہبود اور ترقیاتی پروجیکٹوں پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کئی حدوں کے اندر کام کرتی ہے، اس لئے اس کے لئے کاروباری فیصلے آسان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت چاہتی ہے کہ عوام کی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جائے اور اسی کے ساتھ عوام کی زندگی میں  حکومت کے غیرضروری دخل کو کم کیا جائے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ بہرحال زندگی میں حکومت یا حکومت کے اثر کا فقدان نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسے اثاثوں کی بھرمار ہے جن کا بہت کم استعمال ہوا یا سرے سے استعمال نہیں ہوا۔ اثاثوں کو سرمایہ میں بدلنے کے قومی پائپ لائن کا اعلان اسی بات کو ذہن میں رکھ کر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت  اثاثوں کو سرمایہ میں بدلنے اور جدت کاری کے منتر کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور جب حکومت اثاثوں کو سرمایہ میں بدلتی ہے تو اس سے پیدا ہونے والے خلا کو ملک میں پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے پُر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر اپنے ساتھ سرمایہ اور بہترین عالمی طریقہ عمل لاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری اثاثوں  کو سرمایہ میں بدلنے اور نجکاری  سے جو پیسہ ہاتھ میں آتا ہے وہ عوامی بہبود کی اسکیموں میں استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے اسی کے ساتھ یہ بھی کہا کہ نجکاری نوجوانوں کو روزگار کے بہترمواقع سے بااختیار بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حکمت انگیز شعبوں کو چھوڑ کر باقی تمام شعبوں کی نجکاری کی پابند ہے۔ سرمایہ کاری کا ایک واضح روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔ ا س سے ہر شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع سامنے آئیں گے اورروزگار کے بھی زبردست مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اس رخ پر مکمل عہد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور ان پالیسیوں کے نفاذ کو مساوی طور پر بھرپور ترجیح دی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پالیسیوں کو مستحکم رکھنے کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ شفاف طریقہ سے کام کاج کو یقینی بنایا جائے اور تقابلی محاذ پر  طریقہ عمل کو درست رکھا جائے ۔

 

 

وزیراعظم نے کہا کہ سکریٹریوں کا ایک بااختیار گروپ تشکیل دیاگیا ہے جو سرمایہ کاری کرنے والوں سے رابطہ میں رہے گا اور ان کے ساتھ پیدا ہونے والے امور کو تیزی سے طے کرے گا۔ اسی طرح سرمایہ کاروں کے لئے رابطہ کا ایک مرکز بنایا گیا ہے تاکہ ہندوستان میں کاروبار کو آسان بنانے کی کوشش میں بہتری لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزرنے والے برسوں کے ساتھ ہماری حکومت  نے مسلسل اصلاح سے کام لیا ہے تاکہ ہندوستان کو کاروبار کا ایک اہم مقام بنایا جائے  اور آج کا ہندوستان ایک منڈی – ایک ٹیکس  کے نظام سے لیس ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان میں کمپنیوں کے پاس داخلے اور اخراج کے بہترین چینل موجود ہیں۔ انہوں نے اسی کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ہم مسلسل پیچیدگیوں کو آسان بنانے میں لگے ہوئے ہیں  اور سازوسامان کے  محاذ پر مسائل تیزی سے حل کررہے ہیں۔ ہندوستان کے ٹیکس کے نظام کو بھی آسان بنایا جارہا ہے اور شفافیت کے عمل کو  مضبوط کیا جارہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان نے براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی پالیسی میں بے نظیر اصلاحات کی ہیں اور پیداوار سے مربوط ترغیبات کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں پچھلے چند مہینوں کے دوران ریکارڈ غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری عمل میں آئی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کو آتم نربھر بنانے کے لئے ہم جدید انفرااسٹرکچر  اور کثیر نوعیت کے رابطوں پر تیزی سے کام کررہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ پانچ برسوں میں نیشنل انفرااسٹرکچر پائپ لائن کے ذریعہ ہم اپنے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کو 111 ٹریلین روپئے خرچ کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ نوجوانوں پر مشتمل دنیا کے سب سے بڑے ملک کی یہ توقعات صرف حکومت سے نہیں بلکہ پرائیویٹ سیکٹر سے بھی ہیں اور ان امنگوں نے کاروبار کے  زبردست مواقع پیدا کئے ہیں لہذا ہم سب ان موقعوں سے استفادہ کریں۔ 

Click here to read PM's speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.