عزت مآب جناب جین بے کوو، صدر جمہوریۂ کرغزستان

محترم جناب عادل بیک علوشمکاربیک، ڈائرکٹر انویسٹمنٹ پرموشن ایجنسی

جناب سندیپ سومانی، صدر فکّی

ہندوستان اور کرغزستان کے بزنس، صنعت اور تعلیم کے شعبے سے آئے ہوئے معززشرکاء

ہندوستانی اور کرغز کاروباری برادریوں کے درمیان  اس بزنس فورم کا انعقاد بہت ہی خوشی کی بات ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ میرے بشکیک سفر کے دوطرفہ مرحلے کاآغاز اس بزنس فورم سے ہو رہا ہے۔ یہ ہماری مشترکہ ترجیحات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہندستان اور کرغزستان کے درمیان زمانۂ قدیم سے قریبی، ثقافتی اور  مالیاتی تعلقات رہے ہیں۔ اس تاریخی اشتراک کو جدید زمانے کے مطابق فروغ دینے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ صدر جین بے کوو اور میں مختلف شعبوں میں  ہندوستان-کرغز تعلقات کو توسیع دینا چاہیں گے اور خاص طور پر  بزنس اور سرمایہ کاری کے شعبے میں انھیں خاص مضبوط کرنا چاہیں گے۔ صدر محترم نے اس فورم کی رہنمائی کی ہے اور ذاتی طو رپر اس میں حصہ لیا۔ اس کے لیے میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

دوستو!

دنیا کی معیشت میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے۔ ایسے میں ہندوستان جیسی بڑی معیشت  کی  مالیاتی ترقی اور ٹیکنالوجیکل ترقی  دنیا میں استحکام اور امید کی اہم وجوہات ہیں۔ ہندوستان ایک وسیع مارکیٹ تو ہے ہی۔ ہمارے ملک  کے نوجوانوں کی صلاحیت اور پرجوش انوویٹرز 5 ٹریلین ڈالر کی  معیشت بننے کے ہمارے نشانے کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

دوستو!

یہ ظاہر ہے کہ فی الحال ہماری دوطرفہ تجارت اور معاشی شراکت داری امکان سے کافی ہے۔ اس لیے بزنس فورم کی یہ پہل بہت مناسب وقت پر کی جارہی ہے۔ میرے خیال میں تجار ت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے تین محرک ہیں۔ مناسب ماحول، کنیکٹیویٹی اور بزنس ٹو بزنس یعنی بی ٹو بی لین دین۔ میں بتانا چاہوں گا کہ مناسب ماحول بنانے کے لیے ہم نے دوہرے ٹیکس لگائے جانے سے بچنے کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ساتھ ہی دوطرفہ سرمایہ کاری سمجھوتے پر ہم سرگرمی کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ ان سے سرمایہ کاری کے لیے مضبوط بنیاد ملے گی۔ ہم نے دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کے لیے پنج سالہ روڈ میپ تیار کیا ہے۔ کرغز ری پبلک، یوریشین اکنامک یونین کا رکن ہے۔ ہم یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ تجارت کو بڑھانے کے لیے ترجیحی تجارت معاہدے پر بھی کام کر رہے ہیں۔

تجارت کو آسان بنانے میں بہتر کنیکٹیویٹی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چا بہار بندرگاہ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان رابطے کا ایک نیا ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔ ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان کنیکٹیویٹی کے بہتر متبادل تیار کرنے پر ہمیں اور زیادہ توجہ دینی ہوگی۔ بی ٹو بی لین دین میں اضافہ کرنے کے لیے بھی ہم نے کئی پہل کی ہیں۔ اس سال بشکیک میں ‘‘نمسکار یوریشیا’’ ٹریڈ شو منعقد کیا جائے گا۔ ہندوستان اور کرغز ری پبلک کی مختلف مصنوعات تجارت میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ ہمیں ان تمام مواقع کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔کرغز آرگینک مصنوعات کی بازار میں اچھی ساکھ ہے۔ یہاں کا پہاڑی شہد، اخروٹ اور ڈیری مصنوعات اکولوجیکل طو رپر صفائی اور قدرتی پروسیسنگ کے لیے مشہور ہیں۔ اسی طرح ہندوستان کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے ادویات، ٹیکسٹائل، ریلوے، ہائیڈروپاؤر، کان کنی اور معدنیات اور سیاحت کے شعبوں میں کرغز ری پبلک میں اچھے مواقع موجود ہیں۔

دوستو!

میری خواہش ہے کہ آپ کی تمام بات چیت کامیاب ہو۔ میں کرغز تاجروں کے لیڈروں کی  ہندوستانی صنعتکاروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔

آپ سب کا ہندوستان میں بھی اتنا ہی خیرمقدم ہے اور ہندوستان کے لوگوں کو تو جہاں ایئرپورٹ پر اترتے ہی مانس سنتے ہی لگتا ہوگا کہ ہم کافی اپنے پن سے جڑے ہوئے ہیں۔ مانو سنتے ہی لگتا ہے کہ ہم تو دنیا کی پرانی چیزوں سے جڑے ہوئے ہیں اتنا اپنا پن ہے۔ اگر زبان میں بھی تھوڑی توجہ دیں گے تو کئی لفظ یکساں ملیں گے۔ آپ کو اتنی نزدیکی ملے گی تو اتنا اپنا پن تو بہت فطری ہے۔ اس کا فائدہ دونوں فریق لیں۔ اب دونوں ملکوں کی ترقی میں صنعت وتجارت کے دوستوں کا تعاون بڑھے۔ اسی ایک توقع کے ساتھ آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات۔

آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Guyana Vice-President lauds India's rapid progress in digital governance

Media Coverage

Guyana Vice-President lauds India's rapid progress in digital governance
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet clears higher equity limit for POWERGRID
February 24, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved enhanced delegation to POWERGRID under the extant guidelines dated 4th February, 2010 of the Department of Public Enterprises (DPE) on delegation of powers applicable to Maharatna CPSEs. The approval enhances the permissible equity investment limit of POWERGRID from the current threshold of Rs.5,000 crore per subsidiary to Rs.7,500 crore per subsidiary, while retaining the existing cap of 15% of the company's net worth.

The approval will enable POWERGRID, the largest and most experienced transmission service provider in the country, to expand its investment in its core business and support the evacuation of renewable energy capacity, helping achieve the target of 500 GW from non-fossil-based sources.

POWERGRID can now participate in the bids for capital-intensive transmission projects, such as Ultra High Voltage Alternating Current (UHVAC) and High Voltage Direct Current (HVDC) transmission networks. Additionally, it will broaden competition in the Tariff Based Competitive Bidding (TBCB) for selection of bidders for critical transmission projects. This ensures better price discovery, and ultimately lead to the availability of affordable and clean energy for consumers.