Our judiciary has always interpreted the Constitution positively and strengthened it: PM Modi
Be it safeguarding the rights of people or any instance of national interest needed to be prioritised, judiciary has always performed its duty: PM

نئی دہلی۔ 06 فروری     وزیر اعظم ، جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ گجرات ہائی کورٹ کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے ہائی کورٹ کے قیام کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر قانون و انصاف ، سپریم کورٹ اور گجرات کے ہائی کورٹ کے جج ، اور گجرات کے وزیر اعلی اور قانونی  برداری کے ممبران بھی  موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے 60 سال کے عرصے میں ہندوستانی عدالتی نظام اور ہندوستانی جمہوریت کو مستحکم بنانے میں گجرات ہائی کورٹ کے بینچ اور بار کی خدمات کے بار کی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ عدلیہ نے آئین کی زندگی کی قوت  کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ عدلیہ نے ہمیشہ تخلیقی اور مثبت تشریح کرکے آئین کو مستحکم کیا ہے۔ اس نے شہریوں کے حقوق اور آزادی کے شعبوں میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی کا فریضہ انجام دیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کا یہ تصور ہماری تہذیب اور معاشرتی تانے بانے کی اساس رہا ہے۔ یہ گڈ گورننس کی بھی  بنیاد رہی ہے۔ اس نے ہماری آزادی کی جدوجہد میں اخلاقی جرات کو جنم دیا۔ ہندوستان کے آئین سازوں نے بھی اسے بالاتر رکھاتھا ۔ آئین کی تمہید اس عہد کا مظہر ہے۔ عدلیہ نے ہمیشہ ہی اس اہم اصول کو توانائی اور سمت دی ہے۔ وزیر اعظم نے انصاف کے بنیادی اہداف کو پورا کرنے میں بار کے کردار کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتظامیہ  اور عدلیہ دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی معیار کا عدالتی نظام قائم کریں جو معاشرے کے سب سے نچلے زینے پر  کھڑے فرد کو بروقت انصاف کی ضمانت فراہم کرے۔

وزیر اعظم نے وبائی مرض کی مشکل گھڑی میں عدلیہ کی لگن کی تعریف کی۔ گجرات ہائی کورٹ نے ویڈیو کانفرنسنگ ، ایس ایم ایس کال آؤٹ ، ای-فائلنگ  مقدمات اور 'ای میل مائی کیس اسٹیٹس' کے ذریعہ سماعت جلد شروع کر کے اپنی موزوں صلاحیت کو ظاہر کیا۔ عدالت نے یوٹیوب پر بھی اپنے ڈسپلے بورڈ کی اسکریننگ شروع کی اور ویب سائٹ پر اپنے فیصلے اور احکامات اپ لوڈ کئے۔ گجرات ہائی کورٹ عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ کرنے والی ملک کی پہلی عدالت بن گئی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر  اطمینان کا اظہار کیا کہ وزارت قانون کی ای عدالت مربوط مشن موڈ پروجیکٹ کے ذریعہ قائم  ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو عدالتوں کے ذریعہ بہت تیزی سے اختیار کیا گیا۔ جناب وزیر اعظم نے بتایا کہ آج  18 ہزار سے زیادہ عدالتوں کو کمپیوٹر سےمربوط کردیا گیا ہے اور ٹیلی کانفرنسنگ اور ویڈیو کانفرنسنگ کو سپریم کورٹ کے ذریعہ قانونی منظوری دینے کے بعد عدالتوں میں ای کاروائی میں ایک نئی رفتار دیکھنے میں آرہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ، "یہ بڑی فخر کی بات ہے کہ ہماری سپریم کورٹ نے دنیا کی تمام اعلی عدالتوں  کے مقابلے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سب سے زیادہ مقدمات کی سماعت کی ہے۔"

مقدمات کی ای-فائلنگ  اور مقدمات کی انفرادی شناختی کوڈ  اور کیو آر کورڈ سے 'انصاف کی آسانی' کو ایک نئی جہت حاصل ہوئی ہے جس کے باعث قومی جوڈیشیل ڈاٹا گرد کے قیام کو فروغ ملا ہے۔ یہ گرڈ وکلاء اور مؤکلین کو اپنے مقدمات کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ 'انصاف کی آسانی ' نہ صرف زندگی کو آسان بنانے میں مدد کر رہا ہے بلکہ کاروائی کو آسان بنانے میں بھی معاونت کر رہا ہے۔ کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کار اپنے عدالتی حقوق کے تحفظ کے بارے میں زیادہ پر اعتماد محسوس کررہے ہیں۔ عالمی بینک نے بھی  نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ کی تعریف کی ہے۔ سپریم کورٹ اور این آئی سی کی ای کمیٹی  کلاؤڈ پر مبنی بنیادی ڈھانچے تشکیل دے رہی ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ ہمارے نظام کو مستقبل کے لئے تیار کرنے کے لئے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے امکانات کی تلاش کی جارہی ہے۔ اس سے عدلیہ کی استعداد کار اور رفتار میں اضافہ ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ خود انحصار ہندوستان مہم عدالتی جدید کاری کی کوششوں میں بڑا کردار ادا کرے گا۔ اس مہم کے تحت ، بھارت اپنے ویڈیو کانفرنس پلیٹ فارم کو فروغ دے رہا ہے۔ اعلی عدالتوں اور ضلعی عدالتوں میں ای خدمات مراکز ڈیجیٹل تفریق کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

ای لوک عدالتوں کا ذکر کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے 30-40 سال پہلے جونا گڑھ میں پہلی ای لوک عدالتوں کا تذکرہ کیا۔ آج ، ای لوک عدالتیں بروقت اور آسان انصاف کا ذریعہ بن چکے ہیں کیونکہ 24 ریاستوں میں لاکھوں مقدمات کی سماعت ان عدالتوں میں کی گئی  ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ رفتار ، اعتماد اور سہولت آج کے عدالتی نظام کی مانگ ہے۔  

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves Continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III till March 2028
April 18, 2026

The Union Cabinet, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has given its approval for the continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III (PMGSY-III) beyond March 2025 upto March 2028. It involves consolidation of Through Routes and Major Rural Links connecting habitations to Gramin Agricultural Markets (GrAMs), Higher Secondary Schools and Hospitals. The revised outlay of the scheme will be Rs.83,977 crore.

The Cabinet further, amongst other things, approved the following:

  • Extension of timeline till March 2028 for completion of roads and bridges in plain areas and roads in hilly areas.
  • Extension of timeline till March 2029 for completion of bridges in hilly areas.
  • Works sanctioned before 31.03.2025 but un-awarded till now may be taken up for tender/award.
  • Long Span Bridges (LSBs) (161 Nos. with estimated cost of Rs.961 crore) pending for sanction but lying on the alignment of already sanctioned roads may be sanctioned and tendered/awarded.
  • Revision of outlay to Rs. 83,977 crore from original outlay of Rs.80,250 crore.

Benefits:

The extension of the timeline of PMGSY-III will enable the full realization of its intended socio-economic benefits by ensuring completion of targeted upgradation of rural roads. It will significantly boost the rural economy and trade by enhancing market access for agricultural and non-farm products, reducing transportation time and costs, and thereby improving rural incomes. Improved connectivity will facilitate better access to education and healthcare institutions, ensuring timely delivery of essential services, particularly in remote and underserved areas.

The continued implementation will also generate substantial employment opportunities, both directly through construction activities and indirectly by promoting rural enterprises and services. Overall, the extension will contribute to inclusive and sustainable development by bridging the rural-urban divide and advancing the vision of Viksit Bharat 2047.