Gujarat's Greatest Gift - A Politics built around Development, Stability and Trust

Published By : Admin | November 24, 2012 | 09:11 IST

 

Dear Friends, 

It is now a matter of few weeks before the people of Gujarat take part in the biggest festival of democracy, the elections. Over the past few months, I have had several opportunities to interact closely with many of you. Be it the Vivekananda Yuva Vikas Yatra, exchanging Nutan Varsh greetings or meeting party workers, I am glad to see a grand atmosphere of vibrancy and optimism across the length and breadth of Gujarat.

These new heights of development we have scaled would never have been possible without the political stability we have witnessed for more than a decade. Many of you must have seen the Gujarat where Governments did not last for long and there would be frequent games of musical chairs to capture power. All that is history now. The coherence as well as consistency in policy making has benefitted the people immensely. This political stability is nothing but a manifestation of the vision and farsightedness of the people of Gujarat, who have time again reposed their faith in development over everything else.

I am often asked this question- Modi ji what has been the most notable contribution of Gujarat in the last 11 years. You would expect me to say- we significantly reduced school drop out rates, gave a strong boost to girl child education, took the fruits of development to the Tribal areas of Gujarat, connected the poorest of the poor with technology, made Gujarat an industrial hub, witnessed record growth in agriculture etc.

But, for me the greatest contribution is something beyond this- it is the fact that over the years Gujarat has instilled a robust faith among the people in the political system and the institution of democracy, after it was systematically eroded by years of Congress rule in the decades after Independence.

Let me give you an example to illustrate my point. In the 1980s, former Prime Minister Rajiv Gandhi said that by the time a Rupee reaches the village, it becomes 15 paisa! This statement amazed me. When he made the comment, the Congress party’s foothold in the nation’s politics was complete- from the Panchayat till the Parliament they were everywhere and we were nowhere. So, what does this comment show - that the Congress is an expert at listing problems but when it comes to solutions we cannot expect anything.

Today, I am very proud of the fact that if a rupee leaves Gandhinagar, every single paisa reaches the intended beneficiary. Middlemen have long been reduced to a state of unemployment in Gujarat! This is just one of the reasons why people have developed immense faith in the system; with the same rules, same set up Gujarat has shown how it is possible to bring about a qualitative change in the life of the common man.

You would be surprised that even the allegations against us are, ‘you built 350 schools instead of 500’ or ‘You promised 10 km roads but built only 8 km!’ They are centered around development. But, can we say the same about our Congress friends? No! Nobody bothers to ask them about development. The only thing discussed is the number of scams and the ever increasing burden on the common man thanks to the absence of a Neta, Niti or Niyat in that Party.

Friends, the difference is fundamentally that of style of politics. The BJP is forever committed towards politics for development whereas the Congress is a dyed in the wool exponent of votebank politics. Remember how they divided brother from brother, friend from friend in Gujarat. Be it a Rath Yatra or a cricket match, curfew was all-prevalent in the state. Today, ask a child the meaning of curfew and he would not even know it- this is the difference over the last decade.

I keep saying this very often- if the Congress wants Gujarat, they must wholeheartedly embrace politics of development rather than votebank politics. Till then, the people of Gujarat having known them so well will never give them a chance to enter our soil.

Through the last many days, I am also meeting many of our Karyakartas and the joy in meeting these ever-passionate and motivated individuals is something words cannot describe! Our true strength is our Karyakartas and I congratulate them for the splendid work they are doing. I assure them that their efforts will not go in vain. We shall commence our march towards a Bhavya and Divya (glorious and divine) Gujarat from January 2013 and before that, we will celebrate another Diwali on 20th December 2012, one that will grander than ever before….

 

Yours,

Narendra Modi

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Somnath Swabhiman Parv: “Feeling blessed to be in Somnath, a proud symbol of our civilisational courage,” says PM Modi

Media Coverage

Somnath Swabhiman Parv: “Feeling blessed to be in Somnath, a proud symbol of our civilisational courage,” says PM Modi
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
سومناتھ سوابھیمان پَرْو — ایک ہزار سال کی اٹوٹ عقیدت (1026–2026)
January 05, 2026

سومناتھ… اس لفظ کو سنتے ہی ہمارے دل و دماغ میں فخر کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ یہ ہندوستان کی روح کا ابدی اعلان ہے۔ یہ شاندار مندر بھارت کے مغربی ساحل پر گجرات میں پربھاس پٹن نامی مقام پر واقع ہے۔ ’’دواَدش جیوتِرلنگ اسٹوترم‘‘ میں ہندوستان بھر کے بارہ جیوتِرلنگوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس اسٹوترم کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے: ’’سوراشٹرے سومناتھم چ...‘‘ جو اس بات کی علامت ہے کہ تہذیبی اور روحانی اعتبار سے سومناتھ کو پہلے جیوتِرلنگ کی حیثیت حاصل ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے:

سوملِنگم نرو درِشٹوا سروپاپیہ پرموچیتے
لبھتے پھلَم منووانچھتم مرتَہ سوَرگم سماشرَیَت

اس کا مفہوم یہ ہے: سومناتھ کے شِولِنگ کے دیدار سے انسان تمام گناہوں سے نجات پا لیتا ہے، اپنی جائز اور نیک خواہشات کو حاصل کرتا ہے اور وفات کے بعد جنت میں مقام پاتا ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ یہی سومناتھ جو کروڑوں عقیدت مندوں کی عقیدت اور دعاؤں کا مرکز تھا، غیر ملکی حملہ آوروں کے نشانے پر آیا، جن کا مقصد عبادت نہیں بلکہ تخریب تھا۔

سال 2026 سومناتھ مندر کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس عظیم عبادت گاہ پر پہلے حملے کو ایک ہزار سال مکمل ہو رہے ہیں۔ جنوری 1026 میں محمود غزنوی نے اس مندر پر حملہ کیا تھا، جس کا مقصد تشدد اور بربریت کے ذریعے عقیدے اور تہذیب کی ایک عظیم علامت کو مٹانا تھا۔

تاہم ایک ہزار سال گزر جانے کے باوجود یہ مندر آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے اور اس کا سہرا ان بے شمار کوششوں کو جاتا ہے جن کے ذریعے سومناتھ کو اس کی عظمتِ رفتہ لوٹائی گئی۔ ایسی ہی ایک اہم سنگِ میل کو 2026 میں 75 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ 11 مئی 1951 کو، اس وقت کے صدرِ جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجندر پرساد کی موجودگی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران بحال شدہ مندر کو عقیدت مندوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔

ایک ہزار سال قبل 1026 میں سومناتھ پر ہونے والا پہلا حملہ شہر کے باشندوں پر ڈھائے گئے مظالم اور مندر کو پہنچائی گئی تباہی مختلف تاریخی حوالوں میں نہایت تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔ جب ان واقعات کو پڑھا جاتا ہے تو دل لرز اٹھتا ہے۔ ہر سطر اپنے اندر غم، درندگی اور ایسے دکھ کا بوجھ سمیٹے ہوئے ہے جو وقت گزرنے کے باوجود کم نہیں ہوتا۔

اس کے اثرات کا اندازہ کیجیے کہ اس نے بھارت اور عوام کے حوصلے پر کیا اثر ڈالا ہوگا۔ آخرکار سومناتھ کو غیر معمولی روحانی اہمیت حاصل تھی۔ یہ سمندر کے کنارے واقع تھا، جو ایک ایسی سماج کو طاقت بخشتا تھا جو معاشی اعتبار سے بھی نہایت مضبوط تھا اور جس کے سمندری تاجر اور جہاز ران اس کی عظمت کے قصے دور دور تک لے کر جاتے تھے۔

اس کے باوجود، میں پورے یقین اور فخر کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے حملے کے ایک ہزار سال بعد سومناتھ کی کہانی تباہی سے متعین نہیں ہوتی بلکہ یہ بھارت ماتا کے کروڑوں فرزندوں کے ناقابلِ شکست حوصلے اور عزم سے عبارت ہے۔

1026 میں ایک ہزار سال قبل شروع ہونے والی قرونِ وسطیٰ کی بربریت نے دوسروں کو بھی بار بار سومناتھ پر حملہ کرنے کی ’ترغیب‘ دی۔ یہ ہمارے عوام اور ہماری تہذیب کو غلام بنانے کی ایک کوشش کا آغاز تھا، لیکن ہر بار جب مندر پر حملہ ہوا تو ایسے عظیم مرد و خواتین بھی سامنے آئے جنہوں نے اس کے دفاع کے لیے کھڑے ہو کر اپنی جان تک قربان کر دی۔ اور ہر مرتبہ نسل در نسل ہماری عظیم تہذیب کے لوگوں نے خود کو سنبھالا، مندر کی ازسرِ نو تعمیر کی اور اسے نئی زندگی بخشی۔ یہ ہمارے لیے باعثِ افتخار ہے کہ ہم اسی دھرتی کی آغوش میں پلے بڑھے ہیں جس نے اہلیابائی ہولکر جیسی عظیم شخصیات کو جنم دیا، جنہوں نے سومناتھ میں عقیدت مندوں کی عبادت کو ممکن بنانے کے لیے ایک عظیم اور نیک کوشش کی۔

1890 کی دہائی میں سوامی وویکانند نے سومناتھ کا دورہ کیا اور یہ تجربہ ان کے دل کو گہرائی سے چھو گیا۔ انہوں نے 1897 میں چنئی میں ایک لیکچر کے دوران اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’جنوبی ہندوستان کے یہ قدیم مندر اور گجرات کے سومناتھ جیسے مندر تمہیں علم و حکمت کے انبار سکھائیں گے اور کسی بھی تعداد میں پڑھی گئی کتابوں سے بڑھ کر تمہیں اس قوم کی تاریخ کا گہرا شعور عطا کریں گے۔ ذرا غور کرو کہ یہ مندر کس طرح سو حملوں اور سو بار کی تجدید کے نشانات اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں—بار بار تباہ کیے گئے اور بار بار کھنڈرات میں سے ابھر کر کھڑے ہوئے، پہلے کی طرح توانا اور مضبوط! یہی قومی ذہن ہے، یہی قومی زندگی کی دھارا ہے۔ اس کی پیروی کرو تو یہ تمہیں عظمت تک لے جائے گی۔ اگر اسے ترک کر دو تو تمہاری موت یقینی ہے، اس زندگی کی دھارا سے ہٹتے ہی انجام صرف فنا اور نیست و نابودی ہوگا۔‘‘

آزادی کے بعد سومناتھ مندر کی ازسرِ نو تعمیر کی مقدس ذمہ داری سردار ولبھ بھائی پٹیل کے باصلاحیت ہاتھوں میں آئی۔ دیوالی کے موقع پر 1947 میں کیے گئے ایک دورے نے انہیں اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے اعلان کیا کہ اسی مقام پر مندر کی دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔ بالآخر 11 مئی 1951 کو سومناتھ میں ایک عظیم الشان مندر نے عقیدت مندوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے اور اس موقع پر بھارت کے پہلے صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد موجود تھے۔ عظیم سردار صاحب اس تاریخی دن کو دیکھنے کے لیے حیات نہیں تھے، مگر ان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو کر پوری شان و شوکت کے ساتھ قوم کے سامنے کھڑا تھا۔ اُس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اس پیش رفت سے زیادہ خوش نہیں تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ معزز صدرِ جمہوریہ اور وزراء اس خصوصی تقریب سے وابستہ ہوں۔ ان کا خیال تھا کہ اس تقریب سے بھارت کی شبیہ پر منفی اثر پڑے گا۔ تاہم ڈاکٹر راجندر پرساد اپنے موقف پر ثابت قدم رہے اور پھر جو ہوا وہ تاریخ بن گیا۔ سومناتھ کا ذکر کے۔ ایم۔ منشی کی خدمات کو یاد کیے بغیر ادھورا ہے، جنہوں نے سردار پٹیل کا نہایت مؤثر انداز میں ساتھ دیا۔ سومناتھ پر ان کے کام، خصوصاً ان کی کتاب ’سوماناتھ: دی شرائن ایٹرنل‘ نہایت معلوماتی اور تعلیمی اہمیت کی حامل ہیں۔

واقعی، جیسا کہ منشی جی کی کتاب کے عنوان سے ظاہر ہوتا ہے، ہم ایک ایسی تہذیب ہیں جو روح اور خیالات کی ابدیت پر کامل یقین رکھتی ہے۔ ہم پختہ طور پر اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو چیز ابدی ہے وہ ناقابلِ فنا ہے، جیسا کہ گیتا کے مشہور شلوک
’’نَینَم چھِندَنتی شَسترانی...‘‘ میں بیان کیا گیا ہے۔ ہماری تہذیب کی ناقابلِ تسخیر روح کی اس سے بہتر مثال کوئی نہیں ہو سکتی کہ سومناتھ آج بھی تمام مشکلات اور جدوجہد پر قابو پاتے ہوئے پوری شان کے ساتھ قائم ہے۔

یہی روح آج ہماری قوم میں بھی نمایاں ہے جو صدیوں کی یلغاروں اور نوآبادیاتی لوٹ مار پر قابو پاتے ہوئے عالمی ترقی کے روشن ترین مراکز میں سے ایک بن چکی ہے۔ ہماری اقدار اور عوام کے عزم و استقلال نے آج بھارت کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ دنیا بھارت کو امید اور رجائیت کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ وہ ہمارے اختراعی نوجوانوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔ ہماری فنونِ لطیفہ، ثقافت، موسیقی اور متعدد تہوار عالمی سطح پر مقبول ہو رہے ہیں۔ یوگا اور آیوروید دنیا بھر میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیتے ہوئے اثر ڈال رہے ہیں۔ عالمی سطح کے بعض نہایت سنگین مسائل کے حل بھی بھارت سے سامنے آ رہے ہیں۔

ازمنۂ قدیم سے سومناتھ مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یکجا کرتا آیا ہے۔ صدیوں پہلے، کالی کل سرواگیہ ہیمنچندر آچاریہ، جو ایک معزز جین راہب تھے، سومناتھ آئے۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں عبادت کے بعد انہوں نے یہ شعر پڑھا: ’’بھَو بیج آنکُر جننا راگادیاہ کشَیَمُپگتا یَسّیَ۔‘‘ جس کا مطلب ہے: اُس ذات کو سلام ہے جس میں دنیوی وجود کے بیج فنا ہو چکے ہیں، جس میں خواہش، لگاؤ اور تمام آلائشیں مٹ چکی ہیں۔ آج بھی سومناتھ کے اندر وہی صلاحیت موجود ہے کہ وہ ذہن اور روح کے اندر کسی گہری اور بامعنی کیفیت کو بیدار کر دے۔

1026 میں ہونے والے پہلے حملے کے ایک ہزار سال بعد بھی سومناتھ کے ساحل پر سمندر اسی شدت کے ساتھ گرجتا ہے جیسا کہ اُس وقت گرجتا تھا۔ سومناتھ کے کناروں کو چھوتی ہوئی موجیں ایک کہانی سناتی ہیں۔ ہر حال میں، بالکل موجوں کی طرح یہ بار بار اٹھتا رہا اور پھر کھڑا ہو گیا۔

ماضی کے حملہ آور آج ہوا میں اڑتی ہوئی خاک بن چکے ہیں اور ان کے نام تباہی کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تاریخ کے اوراق میں محض حاشیے بن کر رہ گئے ہیں، جبکہ سومناتھ پوری تابانی کے ساتھ آج بھی قائم ہے، افق سے کہیں آگے تک اپنی روشنی بکھیرتا ہوا اور ہمیں اس ابدی روح کی یاد دلاتا ہے جو 1026 کے حملے کے باوجود کمزور نہ پڑی۔ سومناتھ امید کا وہ نغمہ ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ نفرت اور جنون گرچہ لمحاتی طور پر تباہی کی طاقت رکھتے ہیں، مگر نیکی کی قوت پر ایمان اور یقین میں ایسی تخلیقی طاقت ہے جو ہمیشہ کے لیے قائم رہتی ہے۔

اگر سومناتھ مندر، جس پر ایک ہزار سال قبل حملہ ہوا اور جسے بعد ازاں بھی مسلسل حملوں کا سامنا کرنا پڑا، بار بار اٹھ کھڑا ہو سکتا ہے تو ہم بھی یقیناً اپنی عظیم قوم کو اس شان و شوکت کی طرف دوبارہ لے جا سکتے ہیں جو حملوں سے قبل ایک ہزار سال پہلے اس کا خاصہ تھی۔ شری سومناتھ مہادیو کی برکتوں کے ساتھ ہم ایک نئے عزم کے ساتھ وِکست بھارت کی تعمیر کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، جہاں تہذیبی دانش ہمیں پوری دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کی رہنمائی کرے گی۔

جے سومناتھ!