آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ نے ملک کی آزادی کے 75ویں سال میں خدمات کے شعبے میں قدم رکھا ہے؛ اگلے 25 سال آپ اور ہندوستان دونوں ہی کے لئے انتہائی اہم ہیں:وزیر اعظم
انہوں نے ’’سوراج ‘‘ کے لیے لڑائی لڑی؛ آپ کو ’’سو-راج‘‘ کے لئے آگے بڑھنا ہوگا : وزیر اعظم
وسیع تکنیکی تبدیلی کے اس دور میں پولس کو پوری طرح سے تیار رکھناچیلنج ہے:وزیر اعظم
آپ’’ایک بھارت –شریشٹھ بھارت‘‘کے پرچم بردار ہیں’’راشٹر پہلے، سدیو پہلے‘‘کے اصول کو ہمیشہ سب سے اوپر رکھیں:وزیر اعظم
ہمیشہ دوست نواز رہیں اور وردی کے وقار کو اولیت دیں:وزیر اعظم
میں خاتون افسروں کی ایک روشن نئی نسل دیکھ رہا ہوں، ہم نے پولس فورس میں خواتین کی حصے داری بڑھانے کا ہمیشہ دھیان رکھا ہے:وزیر اعظم
وباء کے دوران اپنی جان گنوادینے والے پولس سروس کے ممبروں کو خراج عقیدت پیش کی
پڑوسی ملکوں کے ٹرینی افسران ہمارے ملک کے ساتھ قربت اور گہرے روابط کو ظاہر کرتے ہیں:وزیر اعظم

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سردار بلبھ بھائی پٹیل نیشنل پولس اکیڈمی میں تربیت حاصل کرنے والے آئی پی ایس افسران کو خطاب کیا۔انہوں نے اس دوران تربیت یافتہ آئی پی ایس افسران کے ساتھ بات چیت بھی کی۔اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ اور وزیر مملکت (داخلہ)جناب نتیہ نند رائے بھی موجود  تھے۔

ٹرینی افسران کے ساتھ بات چیت

وزیر اعظم نے انڈین پولس سروس کے ٹرینی افسران کے ساتھ انتہائی پرزوش ماحول میں بات چیت کی۔ٹرینی افسران کے ساتھ بات چیت انتہائی خوشگوار ماحول میں کی گئی اور وزیر اعظم نے نئی نسل کے پولس افسران کی خواہشات و خوابوں پر گفتگو کرنے کے لئے اس باوقار سروس کے سرکاری پہلوؤں سے الگ ہٹ کر بات چیت کی۔

آئی آئی ٹی رڑکی سے اپنی تعلیم پوری کرنے والے ہریانہ کے انوج پالیوال، جنہیں کیرل کیڈر مختص کیا گیا ہے، کے ساتھ بات چیت کے دوران وزیر اعظم نے ہر چند کہ متضاد قسم کی گفتگو کی، لیکن وہ پوری گفتگو اُس افسرکی پسند کے عین مطابق اور کارآمد تھی۔افسر نے وزیر اعظم کو جرائم کی جانچ میں اپنی بایو ٹیکنالوجی پس منظر کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اپنے چنے ہوئے کیریئر کے مختلف پہلوؤں سے نمٹنے میں سول سروسز امتحان میں اپنے متبادل مضمون سماجیات کی اہمیت کے بارے میں بتایا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جناب پالیوال کو موسیقی کا شوق ہے، جو پولس سروس کی خاموش دنیا میں بھلے ہی عجیب لگے، لیکن یہ شوق ان کے لئے کافی مددگار ثابت ہوگااور انہیں ایک بہتر افسر بنائے گا۔اس کے ساتھ ہی انہیں اس سروس کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔

روہن جگدیش ، جو لا گریجویٹ ہے، سول سروسز کے امتحان میں جنہوں نے پولیٹکل سائنس اور بین لاقوامی تعلقات جیسے مضمون کا انتخاب کیا اور وہ ایک بہترین تیراک بھی ہے۔اس طرح کی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پولس سروس میں فٹنس کی اہمیت پر بھی گفتگو کی۔وزیر اعظم نے وقت گزر نے کے ساتھ تربیت میں آئی تبدیلی کو لے کر بھی گفتگو کی۔ایک وہ وقت جب جناب جگدیش کے والد کرناٹک میں اسٹیٹ سروسز میں افسر تھے اور ایک یہ وقت کہ جب وہ خود بطور آئی پی ایس افسر کرناٹک جارہے ہیں۔

گورو رام پرویش رائے، جو مہاراشٹر سے سول انجینئرہیں اورجنہیں چھتیس گڑھ کیڈر ملاہے،سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جناب رائے کے پسندیدہ کھیل شطرنج کو لے کر بات چیت کی۔کس طرح سے شطرنج کا کھیل جناب رائے کے لئے حکمت عملی تیار کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے، اس پر گفتگو کی۔وزیر اعظم نے کہا کہ بائیں بازو کی انتہاپسندی سے متاثر ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں کئی اہم چیلنجز ہیں۔ ان کے حل کے لئے قبائلی علاقوں میں قانوں و انتظام کے ساتھ ترقی اور سماجی حصے داری پربھی زور دیا جانا چاہئے۔وزیر اعظم نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے جیسے نوجوان افسر نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے باہر نکالنے میں اہم تعاون دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ماؤنواز تشدد کو قابو کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور قبائلی علاقوں میں ترقی و اعتماد کے نئے پُل قائم کئے جارہے ہیں۔

ہریانہ کی رہنے والی رنجیتا شرما،جنہیں راجستھان کیڈر ملا ہے ، سے بھی وزیر اعظم نے بات کی۔وزیر اعظم نے تربیت کے دوران محترمہ رنجیتا کے اعلیٰ ٹرینی افسر منتخب ہونے کی ستائش کی۔انہوں نے کہا کہ سروس کے دوران مواصلات مضمون کی اُن کی پڑھائی کافی سود مند ثابت ہوگی۔ جناب مودی نے اس بات کی وضاحت کی کہ ہریانہ اور راجستھان میں اپنی بیٹیوں کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے متعدد مثبت کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے خاتون افسر کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر ہفتے ایک گھنٹے کے لئے اپنے کام والے علاقے کی بچیوں سے بات کریں اور انہیں اس بات کے لئے تحریک دیں کہ لڑکیوں کو اپنی پوری صلاحیت کے مطابق حصولیابی حاصل کرنی چاہئے۔

کیرالہ کے نتن راج پی، جنہیں آبائی ریاست کا کیڈر ملا ہے، سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جناب راج کو فوٹوگرافی اور تعلیم کے تعلق سے اُن کی دلچسپی کو بنائے رکھنے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ یہ دلچسپیاں لوگوں کے ساتھ سیدھے طورپر جڑنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

وزیر اعظم نے پنجاب کی ایک دانتوں کی ڈاکٹر نوجوت سیمی ، جنہیں بہار کیڈر الاٹ کیا گیا ہے، سے کہا کہ مسلح فورسز میں خاتون افسران کی موجودگی خدمات کے شعبے میں مثبت تبدیلی لائے گی۔اُنہوں نے گرو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ افسر کو حساسیت اور رحم دلی کے ساتھ کسی ڈر کے بغیر اپنے فرض کی ادائیگی کا صلاح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹیوں کو سروسز میں زیادہ تعداد میں شامل کرنے سے یہ مزید مضبوط ہوگی۔

کومّی پرتاپ شیو کشور، جو آئی آئی ٹی کھڑگ پور سے ایم ٹیک ہے اور جنہیں ہوم کیڈر آندھراپردیش ملا ہے، سے بھی وزیر اعظم نے بات کی۔وزیر اعظم نے مالی دھوکہ دہی سے نمٹنے کےلئے ان کے خیالات جانتے ہوئے بات چیت کی۔ وزیر اعظم نے اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی شمولیاتی صلاحیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے دنیا میں بڑھتے ہوئے سائبر جرائم سے نمٹنے کےلئے اُن سے اس سمت میں اپنا تال میل بنائے رکھنے کو کہا۔ وزیر اعظم نے نوجوان افسروں سے ڈیجیٹل بیداری میں اصلاح لانے کےلئے اپنے مشورے بھیجنے کو بھی کہا۔

جناب مودی نے مالدیپ کے ایک ٹرینی افسر محمد ناظم سے بھی بات چیت کی۔وزیر اعظم نے مالدیپ کے فطرت دوست لوگوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ مالدیپ صرف پڑوسی ہی نہیں ، بلکہ ایک اچھا دوست بھی ہے۔ہندوستان وہاں ایک پولس اکیڈمی قائم کرنے میں مدد کررہا ہے۔ وزیر اعظم نے دونوں ملکوں کے درمیان سماجی اور کاروباری تعلقات پر بھی گفتگو کی۔

وزیر اعظم کا خطاب

اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ آنےو الا 15 اگست آزادی کی 75ویں سالگرہ کا آغاز کرے گا۔پچھلے 75 سالوں میں ایک بہتر پولس سروسز کی تعمیر کے لئے کوششیں کی گئیں  ہیں۔حال کے برسوں میں پولس تربیت سے متعلق بنیادی ڈھانچے میں اہم بہتری آئی ہے۔ وزیر اعظم نے تربیت یافتہ افسران سے جنگ آزادی کے جذبے کو یاد رکھنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ 1930 سے 1947ء کی مدت کے درمیان میں ہمارے ملک کی نوجوان نسل ایک عظیم ہدف کو حاصل کرنے کےلئے متحد ہوکر آگے بڑھی گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کے اندر بھی ہم یہ جذبہ دیکھنا چاہتے ہیں۔وزیر اعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ  انہوں نے سوراج کے لڑائی لڑی ’’آپ کو سو-راج ‘‘کے لئے آگے بڑھنا ہوگا۔

وزیر اعظم نے ٹرینی افسران سے کہا کہ وہ اس وقت کی اہمیت کو یاد رکھیں کہ جب وہ اپنے کیریئر میں داخل ہورہے ہیں، تب ہندوستان  اپنی ہر ایک سطح پر تبدیلی سے گزر رہا ہے۔اُن کی سروس کے ابتدائی 25 سال اِس ملک کی زندگی کے اہم 25 سال ہونے جارہے ہیں، کیونکہ ہندوستانی جمہوریہ اپنی آزادی کے 75ویں سال سے اپنی آزادی کی صدی کی طرف آگے بڑھے گی۔

وزیر اعظم نے تکنیکی مداخلتوں کے اس وقت میں پولس کو ایک دم تیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اب چیلنج نئے طرح کے جرائم کو اور بھی جدید طریقے سے روکنے کا ہے۔انہوں نے سائبر تحفظ کے لئے نئی تحقیق ، استعمال اور طریقے اپنانے پر زور دیا۔

جناب مودی نے ٹرینی افسران سے کہا کہ لوگ اُن سے ایک خاص طرح کے رویے کی امید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف دفتر یا ہیڈ کوارٹر میں ، بلکہ اُس سے بھی الگ اپنی سروس کے وقار کے تئیں ہمیشہ چوکنا رہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آپ کا ارادہ یہ ہو کہ آپ کو سماج میں اپنے سارے رول کے بارے میں پتہ ہو۔آپ کو دوست نواز رہنے  اور وردی کے وقار کو ہمیشہ اولیت دینے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے ٹرینی افسران کو یاد دلایا کہ وہ ’’ایک بھارت شریشٹھ بھارت’’کے پرچم بردار ہیں۔اس لیے اُنہیں ہمیشہ ’’راشٹر پہلے، ہمیشہ پہلے‘‘کے گُر کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہئےاور ان کی تمام سرگرمیوں سے اس کا اظہار ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اپنے شعبوں میں رہتے ہوئے آپ کے فیصلوں میں ملک کے مفاد اور قومی پس منظر کو ہمیشہ دھیان میں رکھنا چاہئے۔

جناب مودی نے نئی نسل کی ہونہار نوجوان خاتون افسران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ فورسز میں خواتین کی حصے داری بڑھانے کے لئے کوششیں کی گئی ہیں۔اُنہوں نے اس بات کو لے کر امید ظاہر کی کہ ملک کی بیٹیاں پولس سروس میں اہلیت ، جواب دہی کے اعلیٰ معیارات پیدا کریں گی اور ساتھ ہی نرمی ،ملائمت اور حساسیت کے عناصر بھی جوڑیں گی۔انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ ریاستیں 10 لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہروں میں کمشنری نظام شروع کرنے پر کام کررہی ہیں۔16ریاستوں کے کئی شہروں میں یہ نظام پہلے ہی شروع کیا جاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولس کو مؤثر اور مستقبل نواز بنانے کے لئے اجتماعی طورپر اور حساسیت کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔

وزیر اعظم نے وباء کے دوران اپنی خدمات فراہم کرتے ہوئے جان گنوا دینے والے پولس فورس کے ممبر وں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے وباء کے خلاف لڑائی میں ان کے تعاون کو یاد کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اکیڈمی میں تربیت لے رہے پڑوسی ملکوں کے پولس افسر ملکوں کی قربت اور گہرے روابط کو ظاہر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چاہے وہ بھوٹان ہو، نیپال ہو، مالدیپ ہو یا ماریشش۔ ہم صرف پڑوسی نہیں ہیں، بلکہ ہماری سوچ اورسماجی تانے بانے میں زیادہ یکسانیت ہے۔ ہم سبھی دکھ سکھ کے ساتھی ہیں اور جب بھی کوئی آفت یا مصبیت کی گھڑی ہوتی ہے، تو ہم سب سے پہلے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ کورونا کی مدت میں بھی یہ صاف دکھائی دیا ہے۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Great To See How He Supports Art': 'Fauda' Star Lior Raz On Meeting PM Modi In Israel

Media Coverage

Great To See How He Supports Art': 'Fauda' Star Lior Raz On Meeting PM Modi In Israel
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
The HPV vaccination campaign, launched from Ajmer, marks a significant step towards empowering the nation’s Nari Shakti: PM Modi in Rajasthan
February 28, 2026
Our government is committed to all-round development: PM
Today, I had the privilege of launching the nationwide HPV vaccination campaign from Ajmer, inaugurating and laying foundation stones for multiple projects and distributing appointment letters to the youth: PM
The HPV vaccination campaign has commenced from Ajmer, this campaign is a significant step towards empowering the Nari Shakti of the country: PM
The double-engine government is moving forward by taking both Rajasthan’s heritage and development together: PM
The campaign to link rivers started by our government will significantly benefit Rajasthan: PM
There is no shortage of sunlight in Rajasthan, this very sunshine is becoming a source of savings and income for the common man: PM
A very significant role is being played by the PM Surya Ghar Free Electricity Scheme, this scheme has the power to change Rajasthan's destiny: PM

भारत माता की जय।

भारत माता की जय।

भारत माता की जय।

तीर्थराज पुष्कर और माता सावित्री की इस पावन भूमि पर, आज मुझे आप सबके बीच आने का, आपके आशीर्वाद प्राप्त करने का अवसर मिला है। इस मंच से मैं सुरसुरा के तेजाजी धाम को, पृथ्वीराज की भूमि अजमेर को प्रणाम करता हूं।

मेरे साथ बोलिए –

तीर्थराज पुष्कर की जय।

तीर्थराज पुष्कर की जय।

वीर तेजाजी महाराज की जय।

वीर तेजाजी महाराज की जय।

भगवान देव नारायण की जय।

भगवान देव नारायण की जय।

वरूण अवतार भगवान झूलेलाल जी की जय।

भगवान झूलेलाल जी की जय।

मंच पर विराजमान राजस्थान के राज्यपाल हरिभाउ बागडे जी, राज्य के लोकप्रिय मुख्यमंत्री श्री भजनलाल शर्मा जी, पूर्व मुख्यमंत्री बहन वसुंधरा जी, केंद्रीय मंत्रिमंडल में मेरे साथी भगीरथ चौधरी जी, उपमुख्यमंत्री प्रेमचंद भैरवा जी, दिया कुमारी जी, संसद में मेरे साथी, भाजपा के प्रदेश अध्यक्ष मदन राठौर जी, उपस्थित अन्य मंत्रिगण, अन्य महानुभाव और राजस्थान के मेरे प्यारे भाई और बहनों। मैं पूज्य संतों का बहुत आभारी हूं, कि हमें आशीर्वाद देने के लिए इतनी बड़ी संख्या में पूज्य संतगण यहां मौजूद हैं।

साथियों,

अजमेर आस्था और शौर्य की धरती है। यहां तीर्थ भी है और क्रांतिवीरों के पदचिन्ह भी हैं। अभी कल ही मैं इजराइल की यात्रा को पूरा करके भारत लौटा हूं। राजस्थान के सपूत मेजर दलपत सिंह के शौर्य को इजराइल के लोग आज भी गौरव से याद करते हैं। मुझे भी इजराइल की संसद में, मेजर दलपत सिंह जी के शौर्य को नमन करने का सौभाग्य मिला। राजस्थान के वीर बाकुरों की, इजराइल के हाइफा शहर को आजाद कराने में जो भूमिका थी, मुझे उसका गौरवगान करने का अवसर मिला है।

साथियों,

कुछ समय पहले ही, राजस्थान में भाजपा की डबल इंजर सरकार को दो साल पूरे हुए हैं, मुझे संतोष है कि आज राजस्थान विकास के नए पथ पर अग्रसर है। विकास के जिन वायदों के साथ भाजपा सरकार आपकी सेवा में आई थी, उन्हें तेजी के साथ पूरा कर रही है। और आज का दिन, विकास के इसी अभियान को तेज करने का दिवस है। थोड़ी देर पहले यहां राजस्थान के विकास से जुड़ी करबी 17 हजार करोड़ रूपयों की परियोजनाओं का शिलान्यास और लोकार्पण हुआ है। सड़क, बिजली, पानी, स्वास्थ्य, शिक्षा, हर क्षेत्र में नई शक्ति जुड़ रही है। ये सारे प्रोजेक्टस राजस्थान की जनता की सुविधा बढ़ाएंगे और राजस्थान के युवाओं के लिए, रोजगार के भी अवसर पैदा करेंगे।

साथियों,

भाजपा की डबल इंजर सरकार लगातार युवा शक्ति को सशक्त कर रही है। दो साल पहले तक राजस्थान से भर्तियों में भ्रष्टाचार और पेपर लीक की ही खबरें चमकती रहती थीं, आती रहती थीं। अब राजस्थान में पेपर लीक पर लगाम लगी है, दोषियों पर सख्त कार्रवाई हो रही है। आज यहां इसी मंच से राजस्थान के 21 हजार से अधिक युवाओं को नियुक्ति पत्र भी सौंपे गए हैं। ये बहुत बड़ा बदलाव आया है। मैं इस बदलाव के लिए, नई नौकरियों के लिए, विकास के सभी कामों के लिए, राजस्थान के आप सभी लोगों को बहुत-बहुत बधाई देता हूं।

साथियों,

आज वीरांगनाओं की इस धरती से, मुझे देशभर की बेटियों के लिए एक अहम अभियान शुरू करने का अवसर मिला है। यहां अजमेर से HPV वैक्सीनेशन अभियान शुरू हुआ है। ये अभियान, देश की नारीशक्ति को सशक्त करने की दिशा में अहम कदम है।

साथियों,

हम सब जानते हैं कि परिवार में जब मां बीमार होती है, तो घर बिखर सा जाता है। अगर मां स्वस्थ है, तो परिवार हर संकट का सामना करने में सक्षम रहता है। इसी भाव से, भाजपा सरकार ने महिलाओं को संबल देने वाली अनेक योजनाएं चलाई हैं।

साथियों,

हमने 2014 से पहले का वो दौर देखा है, जिसमें शौचालय के अभाव में बहनों-बेटियों को कितनी पीड़ा, कितना अपमान झेलना पड़ता था। बच्चियां स्कूल छोड़ देती थीं, क्योंकि वहां अलग टॉयलेट की सुविधा नहीं होती थी। गरीब बेटियां सेनिटरी पैड्स नहीं ले पाती थीं। पहले जो सत्ता में रहे, उनके लिए ये छोटी बातें थीं। इसलिए इन समस्याओं की चर्चा तक नहीं होती थी। लेकिन हमारे लिए ये बहनों-बेटियों को बीमार करने वाला, उनके अपमान से जुड़ा संवेदनशील मसला था। इसलिए, हमने इनका मिशन मोड पर समाधान किया।

साथियों,

गर्भावस्था के दौरान कुपोषण माताओं के जीवन के लिए बहुत बड़ा खतरा होता था। हमने सुरक्षित मातृत्व के लिए योजना चलाई, मां को पोषक आहार मिले, इसके लिए पांच हज़ार रुपए बहनों के खाते में जमा करने की योजना शुरु की। मां धुएं में खांसती रहती थी, लेकिन उफ्फ तक नहीं करती थी। हमने कहा ये नहीं चलेगा। और इसलिए उज्जवला गैस योजना बनाई गई। ये सब इसलिए संभव हुआ, क्योंकि भाजपा सरकार, सत्ता भाव से नहीं, संवेदनशीलता के साथ काम करती है।

साथियों,

21वीं सदी का एक चौथाई हिस्सा बीत चुका है। आज का समय राजस्थान के विकास के लिए बड़ा महत्वपूर्ण है। भाजपा की डबल इंजन सरकार, राजस्थान की विरासत और विकास, दोनों को साथ लेकर चल रही है। हम सब जानते हैं, अच्छी सड़क, अच्छी रेल और हवाई सुविधा सिर्फ सफर आसान नहीं करती, वो पूरे इलाके की किस्मत बदल देती है। जब गांव-गांव तक अच्छी सड़क पहुँचती है, तो किसान अपनी फसल सही दाम पर बेच पाता है। व्यापारी आसानी से अपना सामान बाहर भेज पाते हैं। और हमारा अजमेर-पुष्कर तो, उसकी पर्यटन की ताकत कौन नहीं जानता। अच्छी कनेक्टिविटी का पर्यटन पर सबसे अच्छा असर पड़ता है। जब सफर आसान होता है, तो ज्यादा लोग घूमने आते हैं।

और साथियों,

जब पर्यटक आते हैं तो स्वाभाविक है होटल चलते हैं, ढाबे चलते हैं, कचौड़ी और दाल बाटी ज्यादा बिकती है, यहां राजस्थान के कारीगरों का बनाया सामान बिकता है, टैक्सी चलती है, गाइड को काम मिलता है। यानी एक पर्यटक कई परिवारों की रोज़ी-रोटी बन जाता है। इसी सोच के साथ हमारी सरकार, राजस्थान में आधुनिक कनेक्टिविटी पर बहुत बल दे रही है।

साथियों,

जैसे-जैसे राजस्थान में कनेक्टिविटी का विस्तार हो रहा है, वैसे-वैसे यहां निवेश के लिए भी अवसर लगातार बढ़ते जा रहे हैं। दिल्ली-मुंबई इंडस्ट्रियल कॉरिडोर के इर्द-गिर्द उद्योगों के लिए एक बहुत ही शानदार इंफ्रास्ट्रक्चर बनाया जा रहा है। यानी राजस्थान को अवसरों की भूमि बनाने के लिए, डबल इंजन सरकार हर संभव, अनेक विध काम कर रही है।

साथियों,

राजस्थान की माताएं अपने बच्चों को पालने में ही, राष्ट्र भक्ति का संस्कार देती हैं। राजस्थान की ये धरा जानती है कि देश का सम्मान क्या होता है, और इसीलिए आज राजस्थान की इस धरा पर, मैं आप लोगों से एक और बात कहने आया हूं।

साथियों,

हाल में ही, दिल्ली में, दुनिया का सबसे बड़ा AI सम्मेलन हुआ, Artificial Intelligence इसमें दुनिया के अनेक देशों के प्रधानमंत्री, अनेक देशों के राष्ट्रपति, अनेक देशों के मंत्रि, उस कार्यक्रम में आए थे। दुनिया की बड़ी-बड़ी कंपनियां, उन कंपनियों के कर्ता-धर्ता वो भी एक छत के नीचे इकट्ठे हुए थे। सबने भारत की खुले मन से प्रशंसा की। मैं जरा राजस्थान के मेरे भाई-बहनों से पूछना चाहता हूं। जब दुनिया के इतने सारे लोग, भारत की प्रशंसा करते हैं, ये सुनकर के आपको गर्व होता है की नहीं होता है? आपको गर्व होता है कि नहीं होता है? आपको अभिमान होता है कि नहीं होता है? आपका माथा ऊंचा हुआ या नहीं हुआ? आपका सीना चौड़ा हुआ कि नहीं हुआ?

साथियों,

आपको गर्व हुआ, लेकिन हताशा निराशा में डूबी, लगातार पराजय के कारण थक चुकी कांग्रेस ने क्या किया, ये आपने देखा है। दुनियाभर के मेहमानों के सामने, कांग्रेस ने देश को बदनाम करने की कोशिश की। इन्होंने विदेशी मेहमानों के सामने देश को बेइज्जत करने के लिए पूरा ड्रामा किया।

साथियों,

कांग्रेस, पूरे देश में ल्रगातार हार रही है, और गुस्से में वो इसका बदला, वो भारत को बदनाम करके ले रही है। कभी कांग्रेस, INC यानी इंडियन नेशनल कांग्रेस थी, लेकिन अब INC नहीं बची है, इंडियन नेशनल कांग्रेस नहीं बची है, आज वो INC के बजाय MMC, MMC बन गई है। MMC यानी मुस्लिम लीगी माओवादी कांग्रेस हो चुकी है।

राजस्थान के मेरे वीरों,

इतिहास गवाह है, मुस्लिम लीग भारत से नफरत करती थी, और इसलिए मुस्लिम लीग ने देश बांट दिया। आज कांग्रेस भी वही कर रही है। माओवादी भी, भारत की समृद्धि, हमारे संविधान और हमारे सफल लोकतंत्र से नफरत करते हैं, ये घात लगाकर हमला करते हैं, कांग्रेस भी घात लगाकर, देश को बदनाम करने के लिए कहीं भी घुस जाती है। कांग्रेस के ऐसे कुकर्मों को देश कभी माफ नहीं करेगा।

साथियों,

देश को बदनाम करना, देश की सेनाओं को कमजोर करना, ये कांग्रेस की पुरानी आदत रही है। आप याद कीजिए, यही कांग्रेस है, जिसने हमारी सेना के जवानों को हथियारों और वर्दी तक के लिए तरसा कर रखा था। ये वही कांग्रेस है, जिसने सालों तक हमारे सैनिक परिवारों को वन रैंक वन पेंशन से वंचित रखा था। ये वही कांग्रेस है, जिसके जमाने में विदेशों से होने वाले रक्षा सौदों में बड़े-बड़े घोटाले होते थे।

साथियों,

बीते 11 वर्षों में भारत की सेना ने हर मोर्चे पर आतंकियों पर, देश के दुश्मनों पर करारा प्रहार किया। हमारी सेना, हर मिशन, हर मोर्चे में विजयी रही। सर्जिकल स्ट्राइक से लेकर ऑपरेशन सिंदूर तक, वीरता का लोहा मनवाया, लेकिन कांग्रेस के नेताओं ने इसमें भी दुश्मनों के झूठ को ही आगे बढ़ाया। देश के लिए जो भी शुभ है, जो भी अच्छा है, जो भी देशवासियों का भला करने वाला है, कांग्रेस उस सबका विरोध करती है। इसलिए, देश आज कांग्रेस को सबक सिखा रहा है।

साथियों,

राजस्थान में तो आपने कांग्रेस के कुशासन को करीब से अनुभव किया है। यहां जितने दिन कांग्रेस की सरकार रही, वो भ्रष्टाचार करने और आपसी लड़ाई-झगड़े में ही उलझी रही। कांग्रेस ने हमारे किसानों को भी हमेशा धोखा दिया है। आप याद कीजिए, कांग्रेस ने दशकों तक सिंचाई की परियोजनाओं को कैसे लटकाए रखा। इसका राजस्थान के किसानों को बहुत अधिक नुकसान हुआ है। ERCP परियोजना को कांग्रेस की सरकारों ने केवल फाइलों और घोषणाओं में उलझाकर रखा। हमारी सरकार ने आते ही इस स्कीम को फाइलों से निकालकर धरातल पर उतारने का प्रयास किया है।

साथियों,

हमारी सरकार ने नदियों को जोड़ने का जो अभियान शुरु किया है, उसका बहुत अधिक फायदा राजस्थान को मिलना तय है। संशोधित पार्वती-कालीसिंध-चंबल लिंक परियोजना हो, यमुना-राजस्थान लिंक प्रोजेक्ट हो, डबल इंजन सरकार ऐसी अनेक सिंचाई परियोजनाओं का लाभ किसानों तक पहुंचाने के लिए प्रतिबद्ध है। आज भी झालावाड़, बारां, कोटा और बूंदी जिले के लिए पानी की अनेक परियोजनाओं पर काम शुरु हुआ है। हमारा प्रयास है, कि राजस्थान में भूजल का स्तर भी ऊपर उठे।

साथियों,

भाजपा सरकार, राजस्थान के सामर्थ्य को समझते हुए, योजनाएं बना रही है, उन्हें लागू कर रही है। मुझे खुशी है कि राजस्थान अब, सूरज की ताकत से समृद्धि कमाने वाली धरती बन गया है। हम सब जानते हैं, हमारे राजस्थान में धूप की कोई कमी नहीं। अब यही धूप, सामान्य मानवी के घर की बचत और कमाई का साधन बन रही है। और इसमें बहुत बड़ी भूमिका है, प्रधानमंत्री सूर्यघर मुफ्त बिजली योजना की। इस योजना में राजस्थान का भाग्य बदलने की ताकत है। इस योजना में भाजपा सरकार लोगों को अपनी छत पर सोलर पैनल लगाने के लिए 78 हजार रुपए की सहायता देती है। सरकार सीधे आपके बैंक खाते में पैसे भेजती है। आजादी के बाज सब बजट, सब योजनाएं देख लीजिए, जिसमें मध्यम वर्ग को सबसे ज्यादा लाभ होने वाला है, ऐेसी योजना कभी नजर नहीं आएगी, आज इन परिवारों को सोलर पैनल लगाने के लिए 78 हजार रुपए सीधा सरकार देती है। सबसे अधिक लाभ मध्यम वर्ग के लोग ले रहे हैं। और जिससे घर पर एक छोटा सा बिजली घर तैयार हो जाता है। दिन में सूरज की रोशनी से बिजली बनती है, घर में वही बिजली काम आती है और जो ज्यादा बिजली बनती है, वो बिजली ग्रिड में जाती है। और जिस घर में बिजली बनी होती है, उसे भी इसका लाभ मिलता है।

साथियों,

आज राजस्थान में सवा लाख से अधिक परिवार इस योजना से जुड़ चुके हैं। और इस योजना की वजह से, कई घरों का बिजली बिल लगभग जीरो आ रहा है। यानी खर्च कम हुआ है, बचत ज़्यादा हुई है।

साथियों,

विकसित राजस्थान से विकसित भारत के मंत्र पर हम लगातार काम कर रहे हैं। आज जिन योजनाओं पर काम शुरू हुआ है, वो विकसित राजस्थान की नींव को और अधिक मजबूत करेंगे। जब राजस्थान विकसित होगा, तो यहां के हर परिवार का जीवन समृद्ध होगा। आप सभी को एक बार फिर, विकास परियोजनाओं के लिए बहुत-बहुत शुभकामनाएं। मेरे साथ बोलिये-

भारत माता की जय!

भारत माता की जय!

वंदे मातरम के 150 साल देश मना रहा है। मेरे साथ बोलिये-

वंदे मातरम।

वंदे मातरम।

वंदे मातरम।

वंदे मातरम।

वंदे मातरम।

वंदे मातरम।

वंदे मातरम।

वंदे मातरम।

वंदे मातरम।

वंदे मातरम।

बहुत-बहुत धन्यवाद।