ہندوستان اور امریکہ کا مشترکہ بیان

Published By : Admin | September 8, 2023 | 23:18 IST

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان قریبی اور پائیدار شراکت داری کو ایک بار پھر مستحکم کرتے ہوئے امریکہ کے صدر جوزف آر بائیڈن جونیئر کا ہندوستان میں خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جون 2023 میں وزیر اعظم مودی کے تاریخی دورۂ واشنگٹن کی اہم کامیابیوں کو عملی جامہ پہنانے پر جاری خاطر خواہ پیش رفت کی ستائش کی۔

دونوں رہنماؤں نے اپنی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ہند -امریکہ کے مابین اعتماد اور باہمی افہام و تفہیم پر مبنی کثیر الجہتی عالمی ایجنڈے کے تمام پہلوؤں میں اسٹریٹجک شراکت داری کی تبدیلی کا کام جاری رکھیں۔  دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی، جمہوریت، انسانی حقوق، شمولیت، تکثیریت اور تمام شہریوں کے لیے مساوی مواقع کی مشترکہ اقدار ہمارے ممالک کی کامیابی کے لیے اہم ہیں اور یہ اقدار ہمارے تعلقات کو مضبوط کرتی ہیں۔

صدر بائیڈن نے ہندوستان کی جی 20 صدارت کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح جی 20 ایک فورم کے طور پر اہم نتائج دے رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے جی 20 کے ساتھ اپنی عزم بستگی کا اعادہ کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ نئی دہلی میں جی 20 رہنماؤں کے سربراہ اجلاس کے نتائج پائیدار ترقی کو تیز کرنے ، کثیر ملکی تعاون کو فروغ دینے اور ہمارے سب سے بڑے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جامع اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں عالمی اتفاق رائے پیدا کرنے کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھائیں گے ۔

وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن نے آزاد، کھلے، جامع اور لچکدار بحرہند و بحرالکاہل کی حمایت میں کواڈ کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم مودی 2024 میں ہندوستان کی میزبانی میں ہونے والے آئندہ کواڈ رہنما سمٹ میں صدر بائیڈن کا خیرمقدم کرنے کے متمنی ہیں۔ ہندوستان نے جون 2023 میں آئی پی او آئی میں شامل ہونے کے امریکی فیصلے کے بعد تجارتی رابطے اور سمندری نقل و حمل پر ہندبحرالکاہل اوشنز انیشی ایٹو پلر کی مشترکہ قیادت کرنے کے امریکی فیصلے کا خیرمقدم کیا ۔

عالمی گورننس کو زیادہ جامع اور نمائندہ ہونا چاہیے، صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور اس تناظر میں 2028-29 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کے لیے ہندوستان کی امیدواری کا ایک بار پھر خیرمقدم کیا۔ رہنماؤں نے ایک بار پھر کثیر ملکی نظام کو مضبوط بنانے اور اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یہ معاصر حقائق کی بہتر عکاسی کرسکے اور اقوام متحدہ کے جامع اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے عزم  بستہ رہے، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل اور غیر مستقل رکنیت کے زمروں میں توسیع بھی شامل ہے۔

وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے میں ٹکنالوجی کے اہم کردار کا اعادہ کیا اور ہند -امریکہ کے ذریعہ ، باہمی اعتماد اور بھروسے کی بنیاد پر کھلے، قابل رسائی، محفوظ اور لچکدار ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام اور ویلیو چینز کی تعمیر کے لیے اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی (آئی سی ای ٹی) پر پہل، جو ہماری مشترکہ اقدار اور جمہوری اداروں کو تقویت دیتی ہے، کی جاری کوششوں کی ستائش کی۔  امریکہ اور ہندوستان ستمبر 2023 میں آئی سی ای ٹی کا وسط مدتی جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ 2024 کے اوائل میں دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی مشترکہ قیادت میں اگلے سالانہ آئی سی ای ٹی جائزے کی طرف تیزی جاری رہے۔

صدر بائیڈن نے چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں چندریان-3 کی تاریخی لینڈنگ کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے پہلے شمسی مشن آدتیہ-ایل 1 کی کامیاب لانچ پر وزیر اعظم مودی اور ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) کے سائنسدانوں اور انجینئروں کو مبارکباد دی۔ خلائی تعاون کے تمام شعبوں میں نئی سرحدوں تک پہنچنے کی راہ ہموار کرنے کے بعد دونوں رہنماؤں نے موجودہ ہند -امریکہ کے تحت تجارتی خلائی تعاون کے لیے ورکنگ گروپ کے سول اسپیس جوائنٹ ورکنگ گروپ قیام کی پہل کا خیرمقدم کیا۔  بیرونی خلائی تحقیق میں اپنی شراکت داری کو گہرا کرنے کے لیے پرعزم اسرو اور نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) نے 2024 میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں مشترکہ کوششوں کی توسیع کے طریقہ کار، صلاحیت سازی اور تربیت پر بات چیت شروع کردی ہے، اور 2023 کے آخر تک انسانی خلائی پرواز تعاون کے لیے اسٹریٹجک فریم ورک کو حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہندوستان اور امریکہ سیاروں کے دفاع میں تعاون بڑھانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں تاکہ کرہ ارض اور خلائی اثاثوں کو سیارچوں اور زمین کے قریب کی اشیا کے اثرات سے بچایا جا سکے، جس میں مائنر سیارہ مرکز کے ذریعے سیارچوں کا پتہ لگانے اور ٹریکنگ میں ہندوستان کی شرکت کے لیے امریکی مددبھی شامل ہے۔

دونوں رہنماؤں نے لچکدار عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کی تعمیر کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا،  اس سلسلے میں مائیکروچپ ٹکنالوجی انکارپوریٹڈ کی ایک کثیر سالہ پہل کا ذکر کیا ، جس کا مقصد ہندوستان میں اپنی تحقیق و ترقی کی موجودگی کو بڑھانے میں تقریبا 300 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا اور ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائس تحقیق ، ہندوستان میں ترقی، اور انجینئرنگ آپریشن کو وسعت دینے کے لیے اگلے پانچ سالوں میں ہندوستان میں 400 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان شامل ہے۔رہنماؤں نے جون 2023 میں امریکی کمپنیوں، مائیکرون، ایل اے ایم ریسرچ اور اپلائیڈ مٹیریلز کی جانب سے کیے گئے اعلانات پر جاری عملدرآمد پر اطمینان کا اظہار کیا۔

محفوظ اور قابل اعتماد ٹیلی مواصلات، لچکدار سپلائی چین اور عالمی ڈیجیٹل شمولیت کے وژن کا اشتراک کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن نے ہندوستان 6 جی الائنس اور نیکسٹ جی الائنس کے درمیان مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کا خیرمقدم کیا، جو الائنس فار ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری سلوشنز کے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔ انھوں نے اوپن آر اے این کے شعبے میں تعاون اور فائیو جی/6جی ٹیکنالوجیوں میں تحقیق و ترقی پر توجہ مرکوز کرنے والی دو مشترکہ ٹاسک فورسز کے قیام کی بھی ستائش کی۔ ایک معروف ہندوستانی ٹیلی کام آپریٹر میں 6 جی اوپن آر اے این پائلٹ یو ایس اوپن آر اے این مینوفیکچرر فیلڈ تعیناتی سے پہلے کرے گا۔ دونوں رہنما  امریکہ میں رپ اینڈ ری پلیس پروگرام میں ہندوستانی کمپنیوں کی شرکت کے منتظر ہیں۔ صدر بائیڈن نے امریکہ میں رپ اینڈ ری پلیس پائلٹ کے لیے ہندوستان کی حمایت کا بھی خیرمقدم کیا۔

امریکہ نے کوانٹم شعبے میں ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، دوطرفہ طور پر اور کوانٹم انٹیگلمنٹ ایکسچینج کے ذریعے، جو بین الاقوامی کوانٹم تبادلے کے مواقع کو آسان بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے، نیز کوانٹم اکنامک ڈیولپمنٹ کنسورشیم کے رکن کے طور پر ہندوستان کے ایس این بوس نیشنل سینٹر فار بیسک سائنسز، کولکاتا کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔ یہ امر کی بھِ ستائش کی گئی کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) بمبئی شکاگو کوانٹم ایکسچینج میں ایک بین الاقوامی پارٹنر کے طور پر شامل ہوا۔

دونوں رہنماؤں نے امریکہ کی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن (این ایس ایف) اور ہندوستان کے بائیو ٹیکنالوجی شعبے کے درمیان تعاون کے معاہدے پر دستخط کی ستائش کی جس سے بائیو ٹیکنالوجی اور بائیو مینوفیکچرنگ اختراعات میں سائنسی اور تکنیکی تحقیقی تعاون کو ممکن بنایا جاسکے گا۔ انھوں نے سیمی کنڈکٹر ریسرچ، اگلی نسل کے مواصلاتی نظام، سائبر سیکورٹی، پائیداری اور سبز ٹکنالوجی، اور ذہین نقل و حمل کے نظام میں تعلیمی اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے این ایس ایف اور ہندوستان کی الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کی طرف سے جاری کردہ تجاویز کا خیرمقدم کیا۔

لچکدار ٹیکنالوجی ویلیو چینز تیار کرنے اور دفاعی صنعتی  ایکو سستمز  کو جوڑنے کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، دونوں لیڈروں  نے اپنی انتظامیہ کے ذریعہ  ایسی  پالیسیوں کو فروغ دینے اور ایسے ضابطوں کو اختیار کرنے کے لئے عہد بندی کا اعادہ کیا جو   ہندوستانی اور امریکی صنعت حکومت اور تعلیمی اداروں کے درمیان کے درمیان ٹیکنالوجی کی زیادہ شیئرنگ ، مشترکہ ترقی  اور  مشترکہ پروڈکشن کے مواقع کی سہولت فراہم کرائیں۔ انہوں نے ۔ انہوں نے جون 2023 میں شروع کئے گئے دوطرفہ اسٹریٹجک تجارتی مذاکرات  کے زیراہتمام ایک بین ایجنسی مانیٹرنگ میکانزم کے ذریعے مسلسل کام جاری رکھنے کا خیرمقدم کیا۔

دونوں لیڈروں  نے ہندوستانی یونیورسٹیوں ، جن کی نمائندگی  کونسل آف انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(آئی آئی ٹی کونسل) نے کی اور    ایسوسی ایشن آف امریکن یونیورسٹیز (اے اے یو)کے درمیان کم از کم 10 ملین  امریکی ڈالر کی ابتدائی مشترکہ عہد بندی کے ساتھ   ہند-امریکہ  گلوبل چیلنجز انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کے مقصد سے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے جانے کا خیر مقدم  کیا۔ یہ گلوبل چیلنجز انسٹی ٹیوٹ سائنس اور ٹیکنالوجی کے نئے شعبوں کو فروغ دینے،  پائیدار توانائی اور زراعت، صحت اور عالمی وبا کی تیاری،  سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ ، ایڈوانسڈ میٹیریل، مواصلات ، مصنوعی ذہانت اور کوانٹم سائنس  کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے میں دینے کے لئے اےاے یو اور آئی آئی ٹی  رکنیت   کےعلاوہ  دونوں ملکوں  کے ممتاز تحقیقی اور اعلی تعلیمی اداروں کو ایک مقام پر  لائے گا۔

دونوں رہنماؤں نے کثیر ادارہ جاتی تعاون پر مبنی تعلیمی شراکت داری  کی بڑھتی ہوئی تعداد کا  خیرمقدم کیا، جیسا کہ  نیویارک یونیورسٹی-ٹنڈن اور آئی آئی ٹی کانپور ایڈوانسڈ ریسرچ سینٹر  اور بفیلو میں اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک کے جوائنٹ ریسرچ سینٹرز اور آئی آئی ٹی دہلی، کانپور، جودھپور  اور بی ایچ یو کے  درمیان اہم اور ابھرتی  ہوئی ٹیکناکوجیز کےشعبوں  میں  شراکت داری کی گئی ۔

دونوں لیڈروں  نے ڈیجیٹل  صنفی  خلا کو نصف کرنے کے لئے جی 20 کی عہد بندی کے  پیش نظر ڈیجیٹل معیشت میں صنفی ڈیجیٹل فرق کو ختم کرنے کی کوششں کی اہمیت  کی تصدیق کی اور ڈیجیٹل معیشت کی پہل میں خواتین کے لئے تعاون کا اظہار کیا جو  حکومتوں ، نجی شعبے کی کمپنیوں  ، فاؤنڈیشنز، سول سوسائٹی اور کثیر الجہتی تنظیموں کو یکجا کرے گا تاکہ  ڈیجیٹل صنفی فرق  کو ختم  کرنے کے لئے بڑھتے ہوئے قدموں کو تیز کیا جاسکے۔

وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن نے نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے خلاف اور اے آئی  میں تعاون کو وسعت دے کر اور متحرک دفاعی صنعتی تعاون کے ذریعہ ہند-امریکہ بڑی دفاعی شراکت داری کو گہرا اور متنوع بنانے کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے     29 اگست 2023 کو کانگریشنل نوٹیفکیشن  عمل کے  مکمل ہونے اور ہندوستان میں جی ای ایف – 414 جیٹ انجنوں کو تیار کرنے کے لئے جی ای ایرو اسپیس اور ہندوستان ایروناٹیکل لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے درمیان ایک کمرشیل معاہدے کے لئے بات چیت شروع کرنے کا خیر مقدم کیا اور اس  بے مثال مشترکہ پروڈکشن اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی تجویز کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی تعاون اور تیزی سے کام کرنے کے عہد  کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اگست 2023 میں امریکی بحریہ اور مجھگاؤں ڈاک شپ بلڈرز، لمیٹڈ کے ذریعہ حال ہی میں  ایک معاہے پر  دستخط کیے جانے کے ساتھ ایک  دوسرے ماسٹر شپ ریپیئر معاہدے   کی تکمیل کی ستائش کی۔ طرفین نے آگے  کی جانب تعینات کئے گئے  امریکی بحریہ کے اثاثوں اور دیگر طیاروں اور بحری جہازوں کے رکھ رکھاؤ اور  مرمت کے لئے  ایک مرکز کے طور پر  ہندوستان کے  آگے بڑھنے کے عہد کا اعادہ کیا۔ دونوں لیڈروں نے   طیاروں کے رکھ رکھاؤ، مرمت اور اوور ہال  کی صلاحیتوں اور  سہولتوں کے معاملے  میں ہندوستان میں مزید سرمایہ کاری کےلئے  امریکی صنعت یوں کا بھی خیر مقدم کیا۔

دونوں لیڈروں نے  مشترکہ سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ اور ہندوستان کے دفاعی شعبوں کے اختراعی  کام سے استفادہ  کرنے کے واسطے  ایک مضبوط تعاون کا ایجنڈا قائم کرنے کے مقصد سے ہند- امریکہ  ڈیفنس ایکسلریشن ایکو سسٹم  (انڈس-ایکس) کی ستائش کی۔ انڈس-ایکس نے آئی آئی ٹی کانپور میں  افتتاحی اکیڈمیا اسٹارٹ اپ پارٹنرشپ کا اہتمام کیا، جس میں پین اسٹیٹ یونیورسٹی نے شرکت کی اور اگست 2023 میں  امریکی  ایکسلریٹر میسرز ہیکنگ 4 الائنس (ایچ 4ایکس)اور آئی آئی ٹی  حیدر آباد  کے ذریعہ چلائی جانے والی  ایک ورکشاپ  میں  ہندوستانی اسٹارٹ اپس کے لیے مشترکہ ایکسلریٹر پروگرام شروع کیا۔طرفین نے دو مشترکہ چیلنجوں کو شروع کرنے کے لئے  ہندوستان کی وزارت دفاع کے انوویشنز فار  ڈیفنس ایکسی لینس اور امریکہ کی وزارت دفاع کے ڈیفنس انوویشن یونٹ  کےذریعہ کئے گئے اعلان کا بھی خیر مقدم کیا، جس میں مشترکہ دفاعی ٹیکنالوجی چیلنجوں کو سولیوشنز  تیار کرنے کے لیے اسٹارٹ اپس کو مدعو کیا جائے گا۔

صدر بائیڈن نے دور سے پائلٹ کئے جانے والے طیارے 31 جنرل ایٹمکس ایم کیو- 9 بی (16 اسکائی گارڈین اور 15 سی گارڈین)  اور  ان کے متعلقہ آلات کے حصول کے واسطےہندوستان کی وزارت دفاع کی جانب سے  ایک  لیٹر آف رکویسٹ جاری کئے جانے کا خیر مقدم کیا جس سے تمام حلقوں میں  ہندوستان کی مسلح افواج کی انٹیلی جنس، نگرانی اور  چوکسی  (آئی ایس آر)   کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔

ملک کی  آب و ہوا، توانائی کی منتقلی اور توانائی کے تحفظ  کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک ضروری وسیلے کے طور پر  جوہری توانائی کی اہمیت کو دہراتے ہوئے، وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن نے تعاون پر مبنی موڈ میں نیکسٹ جنریشن  اسمال ماڈیولر ری ایکٹر ٹیکنالوجیز تیار کرنے سمیت جوہری توانائی میں ہند-امریکی تعاون کے لئے  سہولت فراہم کرانے کے  مقصد سے مواقع کو وسعت دینے کے  واسطے طرفین کے  متعلقہ اداروں کے درمیان  مشاورت کے عمل کو تیز کرنے کا خیرمقدم کیا۔ امریکہ نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں ہندوستان کی رکنیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور اس مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے ہم خیال شراکت داروں کے ساتھ تعلقات جاری رکھنے کا عہد کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اگست 2023 میں ہند-امریکہ قابل تجدید توانائی ٹیکنالوجیز کے ایکشن پلیٹ فارم(ری-ٹیپ)  کی افتتاحی میٹنگ کا خیرمقدم کیا  جس کے تحت دونوں ممالک اختراعی  ٹیکنالوجیز کے تجربہ گاہ سے تجربہ گاہ تک کے تعاون  پائلٹنگ اور جانچ کا کام،  قابل تجدید توانائی اور  اس سے متعلق  ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھانے کے لیے پالیسی اور منصوبہ بندی میں تعاون؛ سرمایہ کاری، انکیوبیشن اور آؤٹ ریچ پروگرام  اور نئی اور ابھرتی ہوئی قابل تجدید ٹیکنالوجیز اور توانائی کے نظاموں کو اپنانے اور اختیار کرنے کے کام میں تیزی لانے کے لیے تربیت اور ہنر مندی کے فروغ  میں تعاون کریں گے۔

ٹرانسپورٹ شعبے کو  کاربن سے پاک  کرنے کی اہمیت کو دہراتے ہوئے دونوں لیڈروں نے  سرکاری اور نجی فنڈز کےذریعہ ادائیگی کے سکیورٹی میکانزم  کی مالی اعانت کے لئے مشترکہ مدد فراہم کرانے سمیت ہندوستان میں الیکٹرک موبی لٹی کو  وسعت دینے  کے  کاموں کا  خیرمقدم کیا،  اس سے   انڈین پی ایم ای بس سیوا پروگرام  سمیت  ہندوستان میں تیار کردہ 10,000  الیکٹرک بسوں کی حصولیابی کے کام میں تیزی آئے گی جس میں چارج کرنے کا متعلقہ بنیادی ڈھانچہ شامل ہوگا۔  دونوں ملک ای-موبی لٹی کے لیے گلوبل سپلائی چین کو متنوع بنانے میں مدد کرنے کے واسطے  مل کر کام کرنے کے لیے  عہد بند  ہیں۔

ہندوستان اور امریکہ کیپیٹل اخراجات  کو کم کرنے اور گرین فیلڈ قابل تجدید توانائی کے نفاذ،  ہندوستان میں ابھرتے ہوئے گرین ٹیکنالوجی پروجیکٹوں اور بیٹری اسٹوریج  کے کام کو  تیز کرنے کے لیے سرمایہ کاری کے پلیٹ فارموں کی تشکیل کے کام کو  بھی آگے بڑھا ئیں گے۔ اس مقصد کے لیے، ایک قابل تجدید انفراسٹرکچر سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنے کے واسطے  ہندوستان کے نیشنل انویسٹمنٹ اور انفراسٹرکچر فنڈ اور  امریکی  ڈیولپمنٹ فائنانس کارپوریشن نے  پانچ پانچ سو ملین امریکی ڈالر  فراہم کرانے کے کے لئے لیٹر آف انٹینٹ  کا تبادلہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ساتویں اور  آخری بچے ہوئے  ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) تنازعہ کے تصفیہ کی ستائش کی۔ یہ تصفیہ  جون 2023 میں ڈبلیو ٹی او میں چھ باقی ماندہ  دو طرفہ تجارتی تنازعات کے بے مثال  تصفیے کے بعد  ہواہے۔

دونوں رہنماؤں نے دو اینکر ایونٹس  (ایک ہندوستان میں اور ایک امریکہ میں) کو شامل کرنے کے لئے ہند-امریکہ کمرشیل ڈائیلاگ  کے تحت ایک شاندار ’’انوویشن ہینڈ شیک‘‘ ایجنڈا تیار کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا، جس میں اسٹارٹ اپس، پرائیویٹ ایکوٹی اور وینچر کیپیٹل فرموں، کارپوریٹ انویسٹمنٹ محکموں  اور سرکاری افسران کو ایک مقام پر لانے کے لئے طرفین تعاون کریں گے تاکہ  دونوں ممالک کے  اختراعی ایکو سسٹمز کے درمیان روابط استوار ہوسکیں۔

دونوں لیڈروں نے کینسر کی تحقیق، روک تھام، کنٹرول اور بندوبست میں بڑھتے ہوئے دو طرفہ تعاون کا خیرمقدم کیا، اور نومبر 2023 میں  ہند-امریکہ کینسر ڈائیلاگ  شروع کئے جانے کی امید ظاہر کی۔ یہ ڈائیلاگ محروم شہری اور دیہی طبقات کے لئے  کینسر جینومکس کے علم کو فروغ دینے، کینسر کی دیکھ ریکھ میں اضافے  اور اسے  مضبوط کرنے کے لیے نئی تشخیص اور علاج کی ترقی پر توجہ مرکوز کریں گے۔ دونوں لیڈروں نےدونوں ممالک کے درمیان سائنسی ، ضابطہ کاری اور صحت کے معاملے میں تعاون  کو مضبوط کرنے اور اس کےلئے سہولرت فراہم کرانے کی اپنی مشترکہ عہد بندی کا ذکر کرتے ہوئے واشنگٹن، ڈی سی میں اکتوبر 2023  میں ہونے والے آئندہ  امریکہ-ہند صحت مذاکرات پر بھی روشنی ڈالی۔

دونوں رہنماؤں نے امریکی محکمہ دفاع پی او ڈبلیو/این آئی اے اکاؤنٹنگ ایجنسی اور انتھروپولوجیکل سروے آف انڈیا (اے این ایس آئی)کے درمیان ایک میمورنڈم آف ارینجمنٹ  کی  تجدید کا خیرمقدم کیا تاکہ دوسری عالمی جنگ میں خدمات انجام دینے والے امریکی فوجیوں کے باقیات کی ہندوستان سے بازیابی میں آسانی ہو۔

وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن نے دونوں ملکوں کی حکومتوں، صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان اعلیٰ سطح کے تعلقات کو  برقرار رکھنے اور ایک پائیدار ہند-امریکہ  شراکت داری کے اپنے شاندار  وژن کو پورا کرنے کا عہد کیا  جو ایک روشن اور خوشحال مستقبل کے لیے دونوں ملکوں کے عوام  کی امنگوں کو آگے بڑھاتا ہے، عالمی فلاح و بہبود کے لئے کام کرتا ہے  اور ایک آزاد، کھلی، شمولیت والی  اور لچکدار ہند-بحرالکاہل  خطے  کے قیام میں  تعاون  دیتاہے۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
As you turn 18, vote for 18th Lok Sabha: PM Modi's appeal to first-time voters

Media Coverage

As you turn 18, vote for 18th Lok Sabha: PM Modi's appeal to first-time voters
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Kerala, Tamil Nadu and Maharashtra on 27-28 February
February 26, 2024
PM to visit Vikram Sarabhai Space centre (VSSC), Thiruvananthapuram, and inaugurate three important space infrastructure projects worth about Rs 1800 crore
Projects include ‘PSLV Integration Facility’ at Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota; ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at ISRO Propulsion Complex at Mahendragiri; and ‘Trisonic Wind Tunnel’ at VSSC
PM to also review progress of Ganganyaan
PM to inaugurate, dedicate to nation and lay the foundation stone of multiple infrastructure projects worth more than Rs 17,300 crore in Tamil Nadu
In a step to establish a transshipment hub for the east coast of the country, PM to lay the foundation stone of Outer Harbor Container Terminal at V.O.Chidambaranar Port
PM to launch India's first indigenous green hydrogen fuel cell inland waterway vessel
PM to address thousands of MSME entrepreneurs working in Automotive sector in Madurai
PM to inaugurate and dedicate to nation multiple infrastructure projects related to rail, road and irrigation worth more than Rs 4900 crore in Maharashtra
PM to release 16th instalment amount of about Rs 21,000 crore under PM-KISAN; and 2nd and 3rd instalments of about Rs 3800 crore under ‘Namo Shetkari MahaSanman Nidhi’
PM to disburse Rs 825 crore of Revolving Fund to 5.5 lakh women SHGs across Maharashtra
PM to initiate the distribution of one crore Ayushman cards across Maharashtra
PM to launch the Modi Awaas Gharkul Yojana

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Kerala, Tamil Nadu and Maharashtra on 27-28 February, 2024.

On 27th February, at around 10:45 AM, Prime Minister will visit Vikram Sarabhai Space centre (VSSC) at Thiruvananthapuram, Kerala. At around 5:15 PM, Prime Minister will participate in the programme ‘Creating the Future – Digital Mobility for Automotive MSME Entrepreneurs’ in Madurai, Tamil Nadu.

On 28th February, at around 9:45 AM, Prime Minister will inaugurate, and lay the foundation stone of multiple development projects worth about Rs 17,300 crore at Thoothukudi, Tamil Nadu. At around 4:30 PM, Prime Minister will participate in a public programme in Yavatmal, Maharashtra, and inaugurate and dedicate to nation multiple development projects worth more than Rs 4900 crore at Yavatmal, Maharashtra. He will also release benefits under PM KISAN and other schemes during the programme.

PM in Kerala

Prime Minister’s vision to reform the country’s space sector to realise its full potential, and his commitment to enhance technical and R&D capability in the sector will get a boost as three important space infrastructure projects will be inaugurated during his visit to Vikram Sarabhai Space Centre, Thiruvananthapuram. The projects include the PSLV Integration Facility (PIF) at the Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota; new ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at ISRO Propulsion Complex at Mahendragiri; and ‘Trisonic Wind Tunnel’ at VSSC, Thiruvananthapuram. These three projects providing world-class technical facilities for the space sector have been developed at a cumulative cost of about Rs. 1800 crore.

The PSLV Integration Facility (PIF) at the Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota will help in boosting the frequency of PSLV launches from 6 to 15 per year. This state-of-the-art facility can also cater to the launches of SSLV and other small launch vehicles designed by private space companies.

The new ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at IPRC Mahendragiri will enable development of semi cryogenic engines and stages which will increase the payload capability of the present launch vehicles. The facility is equipped with liquid Oxygen and kerosene supply systems to test engines up to 200 tons of thrust.

Wind tunnels are essential for aerodynamic testing for characterisation of rockets and aircraft during flight in the atmospheric regime. The “Trisonic Wind Tunnel” at VSSC being inaugurated is a complex technological system which will serve our future technology development needs.

During his visit, Prime Minister will also review the progress of Gaganyaan Mission and bestow ‘astronaut wings’ to the astronaut-designates. The Gaganyaan Mission is India’s first human space flight program for which extensive preparations are underway at various ISRO centres.

PM in Tamil Nadu

In Madurai, Prime Minister will participate in the programme ‘Creating the Future – Digital Mobility for Automotive MSME Entrepreneurs’, and address thousands of Micro, Small and Medium enterprises (MSMEs) entrepreneurs working in the automotive sector. Prime Minister will also launch two major initiatives designed to support and uplift MSMEs in the Indian automotive industry. The initiatives include the TVS Open Mobility Platform and the TVS Mobility-CII Centre of Excellence. These initiatives will be a step towards realising the Prime Minister’s vision of supporting the growth of MSMEs in the country and helping them to formalise operations, integrate with global value chains and become self-reliant.

In the public programme at Thoothukudi, Prime Minister will lay the foundation stone of Outer Harbor Container Terminal at V.O.Chidambaranar Port. This Container Terminal is a step towards transforming V.O.Chidambaranar Port into a transshipment hub for the east coast. The project aims to leverage India's long coastline and favourable geographic location, and strengthen India's competitiveness in the global trade arena. The major infrastructure project will also lead to creation of employment generation and economic growth in the region.

Prime Minister will inaugurate various other projects aimed at making the V.O.Chidambaranar Port as the first Green Hydrogen Hub Port of the country. These projects include desalination plant, hydrogen production and bunkering facility etc.

Prime Minister will also launch India's first indigenous green hydrogen fuel cell inland waterway vessel under Harit Nauka initiative. The vessel is manufactured by Cochin Shipyard and underscores a pioneering step for embracing clean energy solutions and aligning with the nation's net-zero commitments. Also, Prime Minister will also dedicate tourist facilities in 75 lighthouses across ten States/UTs during the programme.

During the programme, Prime Minister will dedicate to nation rail projects for doubling of Vanchi Maniyachchi - Nagercoil rail line including the Vanchi Maniyachchi - Tirunelveli section and Melappalayam - Aralvaymoli section. Developed at the cost of about Rs 1,477 crore, the doubling project will help in reducing travel time for the trains heading towards Chennai from Kanyakumari, Nagercoil & Tirunelveli.

Prime Minister will also dedicate four road projects in Tamil Nadu, developed at a total cost of about Rs 4,586 Crore. These projects include the four-laning of the Jittandahalli-Dharmapuri section of NH-844, two-laning with paved shoulders of the Meensurutti-Chidambaram section of NH-81, four-laning of the Oddanchatram-Madathukulam section of NH-83, and two-laning with paved shoulders of the Nagapattinam-Thanjavur section of NH-83. These projects aim to improve connectivity, reduce travel time, enhance socio-economic growth and facilitate pilgrimage visits in the region.

PM in Maharashtra

In a step that will showcase yet another example of commitment of the Prime Minister towards welfare of farmers, the 16th instalment amount of more than Rs 21,000 crores under the Pradhan Mantri Kisan Samman Nidhi (PM-KISAN), will be released at the public programme in Yavatmal, through direct benefits transfer to beneficiaries. With this release, an amount of more than 3 lakh crore, has been transferred to more than 11 crore farmers’ families.

Prime Minister will also disburse 2nd and 3rd instalments of ‘Namo Shetkari MahaSanman Nidhi’, worth about Rs 3800 crore and benefiting about 88 lakh beneficiary farmers across Maharashtra. The scheme provides an additional amount of Rs 6000 per year to the beneficiaries of Pradhan Mantri Kisan Samman Nidhi Yojana in Maharashtra.

Prime Minister will disburse Rs 825 crore of Revolving Fund to 5.5 lakh women Self Help Groups (SHGs) across Maharashtra. This amount is additional to the Revolving fund provided by the Government of India under National rural livelihood Mission (NRLM). Revolving Fund (RF) is given to SHGs to promote lending of money within SHGs by rotational basis and increase annual income of poor households by promoting women led micro enterprises at village level.

Prime Minister will initiate distribution of one crore Ayushman cards across Maharashtra. This is yet another step to reach out to beneficiaries of welfare schemes so as to realise the Prime Minister’s vision of 100 percent saturation of all government schemes.

Prime Minister will launch the Modi Awaas Gharkul Yojana for OBC category beneficiaries in Maharashtra. The scheme envisages the construction of a total 10 lakh houses from FY 2023-24 to FY 2025-26. Prime Minister will transfer the first instalment of Rs 375 Crore to 2.5 lakh beneficiaries of the Yojana.

Prime Minister will dedicate to nation multiple irrigation projects benefiting Marathwada and Vidarbha region of Maharashtra. These projects are developed at a cumulative cost of more than Rs 2750 crore under Pradhan Mantri Krishi Sinchai Yojna (PMKSY) and Baliraja Jal Sanjeevani Yojana (BJSY).

Prime Minister will also inaugurate multiple rail projects worth more than Rs. 1300 crore in Maharashtra. The projects include Wardha-Kalamb broad gauge line (part of Wardha-Yavatmal-Nanded new broad gauge line project) and New Ashti - Amalner broad gauge line (part of Ahmednagar-Beed-Parli new broad gauge line project). The new broad gauge lines will improve connectivity of the Vidarbha and Marathwada regions and boost socio-economic development. Prime Minister will also virtually flag off two train service during the programme. This includes train services connecting Kalamb and Wardha; and train service connecting Amalner and New Ashti. This new train service will help improve rail connectivity and benefit students, traders and daily commuters of the region.

Prime Minister will dedicate to nation several projects for strengthening the road sector in Maharashtra. The projects include four laning of the Warora-Wani section of NH-930; road upgradation projects for important roads connecting Sakoli-Bhandara and Salaikhurd-Tirora. These projects will improve connectivity, reduce travel time and boost socio-economic development in the region. Prime Minister will also inaugurate the statue of Pandit Deendayal Upadhyay in Yavatmal city.