نئی دہلی،18/ نومبر      جمہوریہ مالدیپ کے صدر عزت مآب ابراہیم محمد صالح نے ہندوستان کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کاخیر مقدم کیا اور صدارتی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے  مالدیپ کا دورہ کرنے  کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے مدعو کرنے کے خصوصی سلوک کے لیے صدر صالح کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے جمہوریہ مالدیپ کے عوام کو جمہوریت، جو کہ امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے ضروری ہے، کو مستحکم کرنے  کے لیے ہندوستان کے عوام کی جانب سے مبارکباد اور نیک خواہشات بھی پیش کیں۔

دونوں لیڈروں نے ہندوستان اور مالدیپ کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کا ذکر کرتے ہوئے مالدیپ کے صدر کے طور پر جناب صالح کے انتخاب سے تعاون اور دوستی کے مضبوط رشتوں کی تجدید  کے بارے میں اعتماد کا بھی اظہار کیا۔

اپنی میٹنگ کے دوران دونوں لیڈر بحرہند میں امن اور سلامتی برقرار رکھنے کی اہمیت  پر متفق ہوئے اور دونوں نے خطے کے استحکام کے لیے ایک دوسرے کی تشویش اور خواہشات کو بھی اہمیت دی۔

دونوں لیڈروں نے خطے کے اندر اور کہیں بھی دہشت گردی سے مقابلہ کرنے میں اپنی غیر متزلزل عہد بندی اور  مزید تعاون کے لیے حمایت کا بھی اظہار کیا۔

صدر صالح نے وزیر اعظم مودی کو اس خطرناک معاشی صورتحال سے بھی آگاہ کیا جس کا کہ ان کے عہدہ سنبھالنے کے وقت  ملک سامنا کر رہا ہے۔ دونوں لیڈروں نے ان طریقوں کے بارے میں بات چیت کی جن کے ذریعے خصوصی طور پر  مالدیپ کے عوام کے ساتھ اپنی عہد بندی کو پورا کرنے میں نئی حکومت کی مدد کرنے میں ہندوستان ترقیاتی شراکت داری جاری رکھ سکتا ہے۔ صدر صالح نے خصوصی طور پر مکانات اور بنیادی ڈھانچے کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے ساتھ ساتھ باہری جزائر میں پانی اور سیوریج سسٹم قائم کرنے کی ضرورت کا ذکر کیا۔

وزیر اعظم مودی نے صدر صالح کو   پائیدار سماجی اور اقتصادی ترقی کے حصول میں مالدیپ کی مدد کرنے میں ہندوستان کی مستحکم عہد بندی کا یقین دلایا۔ انھوں نے ہر ممکن طریقے سے مدد کرنے میں ہندوستان کے تیار ہونے کی بات بھی کہی اور مشورہ دیا کہ مالدیپ کی ضرورتوں کے مطابق تفصیلات تیار کرنے کے لیے دونوں  فریقوں کو جلدی سے جلدی ملاقات کرنی چاہئے۔

وزیر اعظم مودی نے دونوں ملکوں کے باہمی مفاد کے لیے مختلف شعبوں میں مالدیپ میں سرمایہ کاری کے لیے ہندوستانی کمپنیوں کو موقع دیئے جانے کا بھی خیر مقدم کیا۔ دونوں ملکوں  کے درمیان بڑے پیمانے پر سفر کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے شہریوں کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے لیڈروں نے ویزا کے طریقہ کار کو آسان بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔

وزیر اعظم مودی نے صدر صالح کو مدعو کیا کہ وہ  جلد سے جلد جب بھی انھیں آسانی ہو ہندوستان کا سرکاری دورہ کریں۔ صدر صالح نے بڑی خوشی کے ساتھ دعوت کو قبول کیا۔

مالدیپ کے امور خارجہ کے وزیر آگے کی بات چیت کے لیے اور ہندوستان میں صدر صالح کے آئندہ سرکاری دورے کی تیاری کے لیے 26 نومبر کو ہندوستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔

صدر صالح نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم مودی مستقبل قریب میں مالدیپ کا سرکاری دورہ کریں گے۔ وزیر اعظم مودی نے بشکریہ اس دعوت کو قبول کیا۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.