Share
 
Comments

ہمارا اصول ہونا چاہئے : ’بیٹا بیٹی ایک سمان‘

آیئے ہم بچی کی پیدائش کی سالگرہ منائیں۔ ہمیں بچی کی پیدائش پر بھی اسی قدر فخر کرنا چاہئے جتنا کہ لڑکے کی پیدائش پر کیا جاتا ہے۔میں آپ سے گذارش کرتا ہوں کہ آپ اپنی بیٹی کی پیدائش پر پانچ پودھے لگاکر اس موقع کی مسرت منائیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی

 

وزیر اعظم نریندر مودی جنسی مساوات اور خواتین کی بااختیاری کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں سب سے آگے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو محض خواتین کی ترقی کی ہی ضرورت نہیں ہے بلکہ خواتین کی قیادت میں ایسی ترقی کی احتیاج ہے جس میں ہماری خواتین کو ترقی کے مدار میں رہنما طاقت کی حیثیت حاصل ہو۔

اسی طرح، وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت خواتین کو جامع طریقے سے بااختیار بنانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

 

بچی کا تحفظ اور اس کی بااختیاریت

سال 2015 کے شروع میں بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کی مہم شروع کی گئی تھی جس سے ہمارے سماج کے نظریے میں بچیوں کے تئیں زبردست تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔تربیت، حساسیت اور بیداری کے ذریعہ سوچ میں تبدیلی پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ زمینی سطح پر سماجی فعالیت میں اضافہ کیا جا سکے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں 104 اضلاع میں بچیوں کی شرح پیدائش میں بہتری پیدا ہوائی ہے۔ ان میں سے بیشتر وہ اضلاع ہیں جو جنسی اعتبار سے بہت حساس تصور کیے جاتے تھے۔ 119 اضلاع میں پہلی مرتبہ اندارج میں ترقی درج ہوئی اور 146 اضلاع میں زچگی کے عمل میں بہتری پیدا ہوئی۔ان اضلاع میں ان اقدامات کی کامیابی کے ساتھ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ پروگرام کا نفاذ ملک کے 640 اضلاع میں ہو چکا ہے۔

بچیوں کو بااختیار بنانے میں تعلیم اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بچیوں کی تعلیم کے لئے متعدد وظائف جیسی سرکار کی انتھک کوششوں کے نتیجے  میں سیکنڈری اسکولوں میں بچیوں کے داخلے میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بچی کی مالیاتی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے پردھان منتری سکنیا سمردھی یوجنا شروع کی گئی تھی۔ اس کی زبردست کامیابی اس سچائی میں مضمر ہے کہ1.26 کروڑ سے زائد سکنیا سمردھی کھاتے کھولے جا چکے ہیں اور ان میں تقریباً 20,000 کروڑ روپئے کی رقم جمع کی جا چکی ہیں۔

خواتین کو تشدد سے محفوظ رکھنا قومی جمہوری اتحاد سرکار کی کلیدی پالیسی کی ترجیح رہی ہے۔ سرکار بچی کی حفاظت اور سلامتی کو اول ترین ترجیح دیتی ہے، اس لئے ایک آرڈیننس کے ذریعہ 12 برس سے کم عمرکی بچی کے ساتھ زنا بالجبر کرنے والے مجرم کے لئے سزائے موت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 16برس سے کم عمر کی بچی کے ساتھ زنا بالجبر کے مجرم کی سزا دس برس سے بڑھا کر 20 برس کر دی گئی ہے۔.

 

مالیاتی شمولیت اور مالیاتی بااختیاریت

خواتین کی مالیاتی بااختیاریت میں اضافے اور انہیں مالیاتی اداروں سے رسمی فوائد کی دستیابی انتہائی اہم امر ہے ۔ خواتین میں ہنرمندی کی ایسی زبردست صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں جنہیں ایسی مالیاتی پونجی کی ضرورت ہوتی ہے جن سے ان ہنرمندیوں کو کامیاب کاروباری مواقع میں تبدیل کیا جا سکے۔ وزیر اعظم نریند مودی کی حکومت نے اس سلسلے میں مدرا یوجنا کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد کاروباریوں کو بغیر ضمانت کے قرض فراہم کرنا اور انہیں ان کے خوابوں کی عملی تعبیر حاصل کرنے میں مدد کرنا ہے۔

اسٹینڈ اپ انڈیا ایک دوسرا پروگرام ہے جس کے تحت شیڈیول کاسٹ  اور شیڈیول ٹرائب زمرے کی خواتین کاروباریوں کو ایک کروڑ روپئے تک کا قرض دیا جاتا ہے۔ خواتین ان پروگراموں کو کامیاب بنانے کی صف اول میں رہی ہیں۔ نو کروڑ سے زائد خواتین نے مدرا اور اسٹینڈ اپ سے مشترکہ طور پر قرض حاصل کیے۔ مدرا کے استفادہ کنندگان میں خواتین کی تعداد 70 فیصد سے بھی زائد ہے۔

 

ماؤں کی خبرگیری

وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکار نے متوقع ماؤں اور نوزائدہ بچوں کی ماں کی فلاح کے لئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

میٹرنٹی بینیفٹ (امینڈمنٹ) ایکٹ 2017 کے توسط سے سرکار نے وقفہ زچگی کی باتنخواہ چھٹی کی مدت 12ہفتے سے بڑھا کر 26 ہفتے کردی ہے۔ یہ زچگی کے دوران باتنخواہ چھٹی کی دنیا کی سب سے زیادہ مدت ہے۔

حال ہی میں شروع کیا جانے والا پوشن ابھیان اپنی نوعیت کا پہلا منفرد پروگرام ہے جس کے تحت کثیر النوع اقدامات کے ذریعہ سوء تغذیہ کے مسئلے کا سدباب کیا جا سکے گا۔ اس سلسلے میں متعدد وزارتیں آگے آکر سوء تغذیہ کے خلاف جنگ میں تکنالوجی کی طاقت کے ذریعہ معینہ نشانوں کے حصول کو یقینی بنا رہی ہیں۔

مشن اندرا دھنش ایک ایسی عوامی تحریک ہے جس کا مقصد ٹیکہ کاری کے ذریعہ حاملہ خواتین اور بچوں کی صحت کو بہتر بنانا ہے۔ یہ ایک مشن کے طریقے سے کیا جانے والا اقدام ہے جس میں 80 لاکھ سے زائد حاملہ خواتین کی حفاظتی ٹیکہ کاری کی گئی ہے۔

پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا ایک ایسا اقدام ہے جس سے حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو معاشی معاونت فراہم کرائی جاتی ہے۔ اس کے تحت ماؤ اور بچوں کی صحت کو بحتر بنانے کی غرض سے ماں اور بچے کی بروقت جانچ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو بہتر غذائیت والی اشیاء کے حصول میں معاونت کے لئے 6,000 روپئے کی ترغیبی رقم پیش کی جاتی ہے۔ امید ہے کہ پی ایم ایم وی وائی کی اسکیم سے ہر سال پچاس لاکھ خواتین کو فائدہ پہنچے گا۔

ماؤ اور بچوں کی بہتر صحت کو یقینی بنانے کے عمل میں زیادہ پیچیدگی والے حمل کا پتہ لگانے کا کام انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں پردھان منتری سرکشت ماترتوا ابھیان شروع کیا گیا ہے جس کے تحت ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 12,900 سے زائد صحت مراکز میں 1.16 ماقبل پیدائش جانچوں کو یقینی بنایا جائے گا۔ این ڈی اے حکومت نے اس اقدام کے تحت چھ لاکھ سے زائد ازحد پیچیدگی کے حامل حمل کے واقعات کی شناخت کی ہے۔

 

خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے زبردست پروگرام

وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکار کے پردھان منتری اجوولا یوجنا اور سووَچھ بھارت پروگرام، دو ایسے پروگرام ہیں جن سے پورا ملک مانوس ہو چکا ہے۔ ان دونوں پروگراموں نے کروڑوں خواتین بالخصوص کمزور طبقات کی خواتین کے معیار زندگی کو بہتر بنایا ہے۔

اُجوولا یوجنا ایک ایسا پروگرام ہے جس کے تحت مفت ایل پی جی کنکشن دیے جاتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت آخری تاریخ سےبہت پہلے ہی 5.33 کروڑ گیس کنکشن دیے جا چکے ہیں اور اب اس کے نشانے کو بڑھا کر آٹھ کروڑ کنکشن کیا جا رہا ہے جس سے خواتین کو صحت مند اور دھوئیں سے محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے وقت اور پیسے کی بھی بچت ہوتی ہے جبکہ لکڑی جلاکر کھانا بنانے میں وقت اور پیسہ دونوں ہی زیادہ خرچ ہوتے تھے۔

سووَچھ بھارت نے صفائی ستھرائی کے میدان میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے جس سے محفوظ صفائی تک خواتین کی رسائی آسان ہوگئی ہے۔ 8.23 کروڑ سے زائد کنبوں میں بیت الخلاء تعمیر کیے جا چکے ہیں اور ملک کی انیس ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 4.25 مواضعات کو کھلے میں رفع حاجت کی لعنت سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ ہندوستان کی مکمل صفائی ستھرائی کا دائرہ کار اکتوبر 2014 میں 38.7 فیصد تھا،جو اب بڑھ کر 91.03 فیصد ہو گیا ہے۔ سووَچھ بھارت کے تحت وزیر اعظم نریندر مودی کی ان تھک کوششیں کی بدولت محض چار برس کی مدت میں یہ ایک بہت بڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

سماجی بااختیاریت اور انصاف

خواتین کی مجموعی ترقی اور ان کے وقار کو یقینی بنانے کے عمل میں خواتین کی سماجی بااختیاریت ایک کلیدی پہلو کی حیثیت رکھتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکار نے خواتین کی بااختیاریت کو یقینی بنانے کے لئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

خواتین کے نام سے غیر منقولہ اثاثہ جات کی موجودگی میں معاونت کی غرض سے پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت خواتین کو ترجیح دی جاتی ہے۔

تنہا ماؤں کے پاسپورٹ قوائد بھی نرم کر دیے گئے ہیں تاکہ وہ بغیر مشکلوں کے تمام خانہ پری کے لئے دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت مسلم خواتین کے حقوق کی حمایت کرتی رہی ہے۔ سرکار نے اپنے ایک اہم اصلاحی اقدام کے ذریعہ مسلم خواتین کو مرد سرپرست کے بغیر فریضہ حج انجام دینے کو یقینی کر دیا ہے۔ اس سے پہلے فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے مرد سرپرست کی موجودگی ضروری ہوا کرتی تھی۔

انصاف کو یقینی بنانے کے عمل کے دوران تاریخی لمحہ اس وقت آیا جب خواتین کو طلاق ثلاثہ کے خلاف بااختیار بنائے جانے کا بل لوک سبھا میں منظور کیا گیا۔

اس طرح وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے نہ صرف خواتین کی ترقی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے خواتین کی ترقی اور خواتین کی قیادت میں ترقی کے لئے ان کو بااختیار بنانے کی زبردست کوشش کی ہے۔

 

donation
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
India claims top 10 in list of fastest-growing cities

Media Coverage

India claims top 10 in list of fastest-growing cities
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Share
 
Comments

بنیادی ڈھانچہ اور رابطہ کاری کسی بھی ملک کی ترقی اور نمو کے لئے جسم میں خون پہنچانے والی دریدوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے بنیادی ڈھانچے کے فروغ کو اولین ترجیح دی ہے۔ نئے ہندوستان کے خواب کی عملی تعبیر کے لئے این ڈی اے حکومت ریلوے، سڑکوں، شاہراہوں، آبی شاہراہوں اور کفایتی شرحوں پر ہوابازی کی سہولت کی فراہمی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

ریلوے

ہندوستانی ریلوے کا نیٹ ورک دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔ ریل پٹریاں بدلے جانے کے کام کی رفتار فرد کی نگرانی کے بغیر ریلوے کراسنگ اور بڑی پٹری کی لائنیں بچھانے کے کام میں وزیر اعظم مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دور اقتدار میں نمایاں کام ہوا ہے۔

2017-18 کے دوران ایک سال کے عرصے میں محض 100 سے بھی کم ریل حادثوں کے ساتھ ریلوے میں حفاظت کا بہترین نظام ریکارڈ کیا گیا۔ اعداد و شمار شاہد ہیں کہ سال 2013-14 میں 118 ریل حادثے ہوئے جن کی تعداد سال 2017-18 میں ہوکر محض 73 رہ گئی۔ 5,469فرد کی نگرانی کے بغیر لیول کراسنگ کوسال2009-14کی مدت میں 20فیصد کی رفتار سے ختم کر دیا گیا ہے۔ بڑی لائن کے ریل راستوں پر فرد کے بغیر لیول کراسنگ کو بہتر حفاظت کے لئے 2020 تک پوری طرح ختم کر دیا جائے گا۔

ریلوے کی ترقی میں رفتار پیدا کرتے ہوئے 50 فیصد ریل پٹریاں بدلی گئیں جو 2013-14 میں محض 2,926 کلو میٹر تھیں اور اب 2017-18 کی مدت میں بڑھ کر 4,405 کلو میٹر ہوگئی ہیں۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دوراقتدار میں بڑی لائن کی 9,528 کلو میٹر طویل ریلوے لائن چالو کی گئی جو 2009-14 کی درمیانی مدت کے 7,600 کلومیٹر سے کہیں زیادہ ہے۔

ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شمال مشرقی ہندوستان بڑی لائن کی ریلوے لائن کے ساتھ باقی ماندہ ملک سے جڑ چکا ہے جس سے 70 برس بعد میگھالیہ، تری پورہ اور میزورم نے ہندوستان کے ریل نقشے پر اپنی جگہ محفوظ کر لی ہے۔

نئے ہندوستان کی ترقی کے لئے ہمیں جدید تکنالوجی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ممبئی سے احمدآباد کا سفر کرنے والی بلیٹ ٹرین کی منصوبہ بندی کے نتیجے میں احمدآباد سے ممبئی کا سفر آٹھ گھنٹوں سے کم ہو کر دو گھنٹے میں طے ہو سکے گا۔

 

شہری ہوابازی

ہمارے ملک کا شہری ہوابازی کا شعبہ بھی مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ اڑان (اُڑے دیش کا عام ناگرک) کے تحت ملک کے 25 ہوائی اڈوں سے کفایتی ہوائی سفر کی سہولت محض چار برس کی مدت میں دستیاب کرائی جا چکی ہے جبکہ آزادی کے بعد سے سال 2014 تک مصروف عمل ہوائی اڈوں کی تعداد محض 75 ہی تھی۔ غیر مخصوص اور ناکافی پرواز والے ہوائی اڈوں سے علاقائی فضائی رابطہ کاری کی شرح 2,500 روپئے فی گھنٹہ کردی گئی ہے جس سے ان گنت ہندوستانیوں کے ہوائی سفر کا خواب پورا ہونے میں مدد ملی ہے۔ اس طرح پہلی مرتبہ ایئر کنڈیشنڈ ریلوں سے زیادہ لوگوں نے طیاروں میں فضائی سفر کیے۔

گذشتہ تین برسوں کے دوران مسافروں کی آمدورفت کی نمو 18-20 فیصد تک رہی ہے، جس کے ساتھ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا شہری ہوابازی بازار بن چکا ہے۔ 2017 میں تو گھریلو فضائی مسافروں کی تعداد بھی 100 ملین سے زیادہ ہوگئی تھی۔

 

جہازرانی

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت میں ہندوستان جہازرانی کے شعبے میں بھی ترقی کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ بندرگاہی ترقیات میں تیزی کے ساتھ ملک کے بڑے بندرگاہوں پر آمدورفت کے اوقات میں بھی کمی ہوگئی ہے جو سال 2013-14 میں 94 گھنٹے تھی اور 2017-18 میں محض 64 گھنٹے رہ گئی ہے۔

بڑے بندرگاہوں پر مال اور سامان کے نقل و حمل کی بات کریں تو سال 2010-11 میں مال کے نقل و حمل کی مقدار 570.32 ملین ٹن تھی جو 2012-13 میں گھٹ کر 545.79 ملین ٹن رہ گئی۔ تاہم این ڈی اے حکومت کے دور اقتدار میں اس میں بہتری پیدا ہوئی اور سال 2017-18 میں ساز و سامان اور مال کے نقل و حمل کی مقدار100ملین ٹن کے اضافے کے ساتھ 679.367 ملین ٹن ہوگئی۔

اندرون ملک آبی شاہراہوں سے نہ صرف ٹرانسپورٹ پر آنے والے خرچ میں کمی ہوئی ہے بلکہ کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کے اخراج میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ گذشتہ چار برسوں کے دوران 106 قومی آبی شاہراہیں آمدورفت کے لئے جوڑی گئیں جبکہ گذشتہ 30 برسوں کے دوران اندرون ملک قومی آبی شاہراہوں کی تعداد محض پانچ سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔

سڑک ترقیات

کثیر رخی ارتباط کے ساتھ شاہراہوں کی توسیع کا کام انقلابی پروجیکٹ بھارت مالا پریوجنا کے تحت کیا جا رہا ہے۔ قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک میں بھی 2013-14 کے 92,851 کلو میٹر سے بڑھ کر 2017-18 میں 1,20,543 کلو میٹر کی توسیع ہوئی ہے۔

محفوظ سڑکوں کے لئے سیتو بھارتم پروجیکٹ پر 20,800 کروڑ روپئے کی کل تخصیص کے ساتھ کام جاری ہے، جس کے تحت ریلوے اووَر برج یا انڈر پاس راستوں کی تعمیر کی جا رہی ہے تاکہ قومی شاہراہوں کو ریلوے کی لیول کراسنگ سے بچایا جا سکے۔

سڑکوں کی تعمیر کی رفتار بھی تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ سال 2013-14 میں سڑکو کی تعمیر کی رفتار 12 کلو میٹر یومیہ تھی جو 2017-18 میں بڑھ کر 27 کلو میٹر یومیہ ہوگئی ہے۔

 جموں میں ہندوستان کی سب سے طویل سرنگ چینانی ۔ نشری اور ملک کا طویل ترین پل دھولہ ۔ سادیہ اروناچل پردیش سے اضافہ شدہ رابطہ کاری دراصل ان علاقوں کو ترقی دینے کی ہماری عہد بستگی کا ثبوت ہیں جن میں اب تک کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا تھا۔ بہروچ میں دریائے نرمدا پر پل کی تعمیر اور کوٹا میں دریائے چمبل پر پل کی تعمیر سے اس خطے کی سڑک رابطہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سڑکیں دیہی ترقیات کے لئے عمل انگیزی کا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے گذشتہ چار برس کی مدت میں 1.69 لاکھ کلو میٹر طویل سڑکیں تعمیر کی جا چکی ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر کی اوسط رفتار 2013-14 میں 69 کلو میٹر یومیہ تھیں جو 2017-18 میں بڑھ کر 134 کلو میٹر یومیہ ہوگئی ہے۔اب دیہی سڑک رابطہ کاری کی مقدار 82 فیصد تک ہوگئی ہے جو 2014 میں محض 56 فیصد تھی۔ دیہی سڑک رابطہ کاری میں اس اضافے سے ہمارےگاؤں بھی ملک کی ترقی کے راہِ عمل میں شامل ہوگئے ہیں۔

ملازمتوں کے مواقع میں اضافے کے لئے سیاحت میں وافر امکانات موجود ہیں۔ تیرتھوں کے اضافہ شدہ سفر کے تجربات کے ساتھ سیاحت کے شعبے میں بھی زبردست ترقی ہوئی ہے۔ چاردھام مہامارگ وکاس پریوجنا سیاحت کے شعبے کو بڑھاوا دینے کے لئے شروع کی گئی تھی جس کے تحت سفر محفوظ، تیزرفتار اور آسان بنایا جا سکے گا۔ اس سے تقریباً 12,000 کروڑ روپئے کی لاگت سے تقریباً 900 کلومیٹر طویل قومی شاہراہوں کی تعمیر ہو سکے گی۔

بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے ساتھ مال اور سازو سامان کے نقل و حمل سے ہماری معیشت کو استحکام حاصل ہوا ہے۔ این ڈی اے حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں سال 2017-18 کے دوران کل 1,160 ملین ٹن مال اور ساز و سامان کی لدان ہوئی جو اب تک کی سب سے زیادہ مقدار ہے۔

شہری تغیر

اسمارٹ سٹیز کے ذریعہ شہروں کی ہیئت میں تبدیلی کے لئے سو شہری مراکز کا انتخاب معیار زندگی میں بہتری، پائیدار شہری منصوبہ بندی اور ترقی کو یقینی بنانے کی غرض سے کیا گیا ہے۔ ان شہروں میں مختلف ترقیاتی منصوبے تقریباً دس کروڑ ہندوستانیوں کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب کریں گے۔ ان منصوبوں پر 2,01,979 کروڑ روپیوں کی لاگت آئے گی۔

پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت شہری اور دیہی دونوں طرح کے علاقوں میں تقریباً ایک کروڑ کفایتی مکانات تعمیر کیے گئے ہیں۔ متوسط طبقے اور نو متوسط طبقے کے فائدے کے لئے 9 اور بارہ لاکھ روپئے تک کے قرض کی فراہمی کا انتظام کیا گیا ہے جن کی شرح سود میں 4 اور 3 فیصد کی رعایت دی جائے گی۔