Share
 
Comments

نئی دلّی ، 28 فروری / میرے پیارے ہم وطنوں ، نمسکار ۔ کل ماگھ پورنیما  کا تہوار تھا ۔ ماگھ کا مہینہ  ، خاص طور پر دریاؤں  ، جھیلوں اور آبی وسائل سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس کا ذکر ہمارے  صحیفوں میں بھی کیا گیا ہے ۔  

‘‘ ماگھے  نمگنا : سلیلے سوشیتے ، ویمکت پاپا : دتری دیوم  پرایانتی ’’

یعنی ماگھ کے مہینے میں کسی بھی  مقدس آبی  وسائل میں نہانے کو مقدس سمجھا جاتا ہے ۔  دنیا کے ہر سماج میں   دریا کے ساتھ جڑی ہوئی   کوئی نہ کوئی روایت موجود ہوتی ہی ہے ۔   دریاؤں کے کناروں پر  بہت سی  تہذیبوں نے فروغ پایا ہے  کیونکہ ہماری تہذیب بھی ہزاروں سال پرانی ہے  ۔ اِس لئے یہ روایت یہاں   بھی واضح نظر آتی ہے ۔  ہندوستان میں کوئی ایک بھی ایسا دن ہے ، جس میں ملک  کے کسی نہ کسی کونے میں پانی سے  مربوط کوئی تہوار نہ ہو ۔  ماگھ کے دوران   لوگ  اپنے گھروں  اور اپنے قریبی لوگوں تک کو    اور آسائش اور آرام کو چھوڑ کر دریا کے کناروں پر   کلپ واس  رکھتے ہیں ۔ اس مرتبہ ہریدوار میں کمبھ بھی   منعقد کیا جا رہا ہے ۔  ہمارے لئے  پانی زندگی ہے   ، عقیدہ بھی ہے اور   ترقی    کی علامت بھی ہے ۔ ایک  طرح سے پانی   پارس یا فلوسفر کے پتھر سے زیادہ اہم ہے ۔  کہا جاتا ہے کہ پارس  رگڑنے سے  لوہا سونے میں بدل جاتا ہے ۔ اسی طرح  پانی  بھی زندگی کے لئے  ضروری ہے ، ترقی کے لئے نا گزیر ہے ۔

دوستو ،  ماگھ مہینے  کو پانی سے جوڑنے   کی ایک اور وجہ بھی ہے ۔ اس کے بعد سے ہی  سردیاں ختم ہو جاتی ہیں  اور گرمیاں دستک دینے لگتی ہیں ۔ اس لئے پانی کے تحفظ کے لئے ہمیں  ابھی سے ہی  کوششیں  شروع کر دینی چاہئیں ۔  کچھ دنوں بعد  مارچ کے مہینے میں ہی 22 تاریخ کو پانی کا  عالمی دن بھی ہے ۔

مجھے  یو پی کی  آرادھیا جی نے لکھا ہے   کہ دنیا میں  کروڑوں لوگ   اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ پانی کی کمی کو پورا کرنے میں ہی لگا دیتے ہیں ۔  ‘بن پانی سب سون ’ ایسے ہی نہیں  کہا گیا ہے  ۔ پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے  ایک بہت ہی اچھا پیغام مغربی بنگال کے  شمالی دیناج پور سے  سجیت جی نے مجھے بھیجا ہے ۔   سجیت جی نے لکھا ہے کہ قدرت نے  پانی کی شکل میں ہمیں ایک  اجتماعی تحفہ دیا ہے   ۔ اس لئے اِسے بچانے کی ذمہ داری  بھی اجتماعی ہے ۔  یہ بات صحیح ہے   ، جیسا اجتماعی تحفہ ہے ، ویسے ہی اجتماعی   جوابدہی بھی ہے ۔ سجیت جی کی بات بالکل صحیح ہے ۔ دریا ، تالاب ، جھیل  ، بارش  یا زمین کا پانی   یہ سب  ہر ایک کے لئے ہیں ۔

ساتھیو ، ایک وقت تھا ، جب گاؤں میں  کنویں   ،  تالاب   ، اِن کی دیکھ بھال  سب مل کر کرتے تھے ۔  اب ایسی ہی ایک کوشش  تمل ناڈو کے  ترووناّ ملائی میں ہو رہی ہے ۔  یہاں مقامی لوگوں نے اپنے کنووں کو محفوظ کرنے کے لئے    مہم چلائی ہے ۔ یہ لوگ اپنے علاقے میں   برسوں سے بند پڑے  عوامی کنووں کو  پھر سے  بحال کر رہے ہیں ۔

مدھیہ پردیش کے  اگروتھا گاؤں  کی ببیتا  راجپوت جی   بھی ، جو کر رہی ہیں ، اُس سے آپ سبھی کو تحریک ملے گی ۔ ببیتا جی کا گاؤں بندیل کھنڈ میں ہے ۔ اُن کے گاؤں کے پاس کبھی ایک  بہت بڑی  جھیل تھی ، جو سوکھ گئی تھی  ۔ انہوں نے  گاؤں کی ہی  دوسری خواتین کو ساتھ لیا اور جھیل تک  پانی لے جانے کے لئے ایک نہر بنا دی ۔  اس نہر سے  بارش کا پانی   سیدھے جھیل میں  جانے لگا ۔ اب  یہ جھیل پانی  سے بھری رہتی ہے ۔

ساتھیو ، اترا کھنڈ کے باگیشور میں    رہنے والے جگدیش   کنیال  جی کا کام بھی  بہت کچھ سکھاتا ہے ۔   جگدیش جی کا گاؤں  اور  آس پاس کا علاقہ  پانی کی ضرورتوں کے لئے   ایک قدرتی   چشمہ پر منحصر تھا لیکن کئی سال پہلے  یہ چشمہ سوکھ  گیا ۔ اس سے    پورے علاقے میں  پانی   کا بحران  بڑھتا چلا گیا ۔   جگدیش جی نے   ، اِس مسئلے کا حل   شجر کاری سے  کرنے کا عزم کیا  ۔ انہوں نے پورے علاقے میں گاؤں کے لوگوں کے ساتھ مل کر  ہزاروں پیڑ لگائے اور آج اُن کے علاقے  کا سوکھ چکا چشمہ پھر سے بھر گیا ہے ۔

ساتھیو ،  پانی  کو لے کر   ہمیں ، اِسی طرح  اپنی اجتماعی ذمہ داریوں  کو سمجھنا ہو گا  ۔ ہندوستان کے زیادہ تر حصوں میں مئی – جون میں بارش  ہوتی ہے ۔  کیا ہم ابھی سے  اپنے آس پاس کے  پانی کے وسائل کی صفائی کے لئے ، بارش کے پانی   کو  جمع کرنے کے لئے   100 دن کی کوئی  مہم شروع کر سکتے ہیں ؟ اسی سوچ کے ساتھ  اب سے کچھ دن بعد   جل شکتی کی وزارت کے ذریعے بھی   ‘ جل شکتی ابھیان ’ – ‘ کیچ دا – رین ’ بھی شروع کیا جا  رہا ہے ۔ اس مہم کا  خاص مقصد ہے ، ‘ کیچ دا – رین  ویئر اِٹ فال ، وہین اِٹ  فالس ’ ۔ ہم ابھی سے محنت کریں گے  ، ہم ابھی سے ، جو رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم ہے   ، انہیں درست کروا لیں گے ، گاؤوں میں  ، تالابوں میں   پوکھروں کی صفائی  کروا لیں گے  ،   ان میں پہنچنے والے  پانی کے راستے کی رکاوٹیں دور کر لیں گے تو زیادہ سے زیادہ بارش کا پانی محفوظ کر سکیں گے ۔

میرے پیارے ہم وطنو ، جب بھی  ماگھ کے مہینے  اور اس کے  سماجی اہمیت   کی بات ہوتی ہے  تو یہ بات ایک  نام کے بغیر پوری نہیں ہوتی ۔ یہ نام ہے  ، سنت روی داس جی کا ۔  ماگھ پورنیما کے دن   ہی   سنت روی داس جی کی   جینتی ہوتی ہے ۔  آج بھی ،  سنت روی داس جی کے الفاظ   ، اُن کی تعلیم ، ہماری رہنمائی کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا تھا –

ایکے ماتی  کے سبھ بھانڈے ،

سبھ  کا ایکو  سرجن ہار  ۔

روی داس  ویاپے  ایکے گھٹ  بھیتر ،

سبھ  کو ایکے  گھڑے  کمہار ۔

ہم سبھی ایک ہی مٹی کے برتن ہیں ۔ ہم سبھی کو   ایک نے  ہی گھڑا ہے   ۔ سنت روی داس جی نے   سماج میں  پھیلی ہوئی برائیوں پر   ہمیشہ کھل کر اپنی بات کہی ہے ۔  انہوں نے ، اِن برائیوں کو سماج  کے سامنے رکھا ، اُسے سدھارنے کی راہ دکھائی اور تبھی تو میرا جی نے کہا تھا  -

‘ گرو ملیا   ریداس ، دینہی  گیان کی گٹکی  ’ ۔

یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں سنت  روی داس جی   کے پیدائشی مقام   وارانسی سے جڑا ہوا ہوں ۔  سنت روی داس جی کی  زندگی    انتہائی اونچائی کو   اور اُن کی توانائی کو میں نے   ، اُس مقدس مقام   پر محسوس کیا ہے  ۔

ساتھیوں روی داس جی کہتے تھے –

کرم بندھن  میں بندھ  رہیو ، پھل  کی نا تجّیو  آس ۔

کرم مانوش  کا دھرم ہے ، ست بھاکھے   روی داس ۔

یعنی ہمیں مسلسل اپنا  عمل کرتے رہنا چاہیئے ۔   پھر پھل تو ملے گا ہی  ملے گا ،  یعنی  عمل کا نتیجہ   تو نکلتا ہی نکلتا ہے ۔ ہمارے نو جوانوں کو   ایک اور بات  سنت روی داس جی سے ضرور سیکھنی چاہیئے ۔ نو جوانوں کو  کوئی بھی  کام کرنے کے لئے خود کو  پرانے طور طریقوں میں باندھنا نہیں چاہیئے ۔ آپ اپنی زندگی کو  خود ہی طے کریئے ۔  اپنے طور طریقے بھی خود ہی بنائیے اور اپنے ہدف بھی خود ہی طے کریئے ۔  اگر آپ    کا ذہن   ، آپ کی خود  اعتمادی مضبوط ہے تو آپ کو دنیا میں کسی بھی  چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔  میں ایسا اِس لئے کہتا ہوں کیونکہ کئی مرتبہ ہمارے نو جوان  ، اِس چلی آ رہی سوچ کے دباؤ میں  ، وہ کام نہیں کر پاتے ، جو واقعی انہیں پسند ہوتا ہے ۔ اس لئے آپ کو کبھی بھی نیا سوچنے   ، نیا کرنے میں ، ہچکچاہٹ نہیں کرنی چاہیئے ۔  اسی طرح  سنت روی داس جی نے  ایک اور اہم  پیغام دیا ہے ۔  یہ پیغام ہے ،  اپنے پیروں پر کھڑا ہونا  ۔  ہم اپنے خوابوں کے لئے  کسی دوسرے پر منحصر رہیں ،  یہ بالکل درست نہیں ہے ۔  جو جیسا ہے ، وہ ویسا چلتا رہے ، روی داس جی  کبھی بھی  اِس کی حمایت میں نہیں تھے اور آج ہم دیکھتے ہیں  کہ ملک  کا نو جوان بھی  ، اِس سوچ کے حق میں  بالکل نہیں ہے ۔ آج جب میں   ملک کے نو جوانوں میں   اننوویشن  کا جذبہ دیکھتا ہوں تو  مجھے لگتا ہے کہ ہمارے نوجوانوں پر سنت روی داس جی کو  ضرور  فخر ہوتا ۔ 

میرے پیارے ہم وطنو ، آج نیشنل سائنس ڈے بھی ہے ۔ آج کا دن  ہندوستان کے عظیم سائنسداں ڈاکٹر سی وی رمن جی کے ذریعے   کی گئی   ‘ رمن اِفکیٹ ’ کی دریافت   کے لئے وقف ہے ۔ کیرالہ  کے یوگیشورن جی نے نمو  ایپ  پر لکھا ہے کہ رمن اِفکیٹ کی دریافت نے پوری سائنس کی سمت کو ہی  بدل دیا تھا ۔  اس سے جڑا ہوا ایک بہت    اچھا پیغام مجھے  ناسک کے  اسنیہل جی نے  بھیجا ہے ۔ اسنیہل جی نے لکھا  ہے کہ ہمارے ملک کے اَنگنت سائنسداں ہیں ، جن کے تعاون کے بغیر  سائنس اتنی ترقی  نہیں کر سکتی تھی ۔ ہم جیسے  دنیا کے   دوسرے   سائنس دانوں کے بارے میں جانتے ہیں ، ویسے ہی ہمیں ہندوستان کے سائنس دانوں کے بارے میں بھی جاننا چاہیئے ۔  میں بھی  من کی بات کے اِن سامعین کی بات سے متفق ہوں ۔ میں ضرور چاہوں گا کہ  ہمارے  نو جوان  ہندوستان کے سائنس دانوں  - تاریخ کو  ہمارے سائنس دانوں کو جانیں ، سمجھیں اور خوب پڑھیں ۔

ساتھیو ، جب ہم سائنس کی بات کرتے ہیں  تو کئی بار   اسے لوگ فزکس – کیمسٹری  یا پھر  لیبس  تک ہی محدود کر دیتے ہیں  لیکن   سائنس  کا وسعت تو اِس سے کہیں زیادہ ہے اور آتم نربھر مہم میں   سائنس کی  طاقت کا بہت تعاون  بھی ہے ۔ ہمیں سائنس کو  ‘ لیب تو لینڈ ’ کے منتر کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا ۔

مثال کے طور پر حیدر آباد کے  چنتلا  وینکٹ ریڈی جی ہیں ۔ ریڈی جی کے ایک  ڈاکٹر دوست نے ، انہیں ایک مرتبہ ویٹامن ڈی کی کمی سے ہونے والی بیماریوں  اور اُس کے خطروں سے نمٹنے  کے بارے میں بتایا تھا ۔ ریڈی جی کسان ہیں ۔ انہوں نے سوچا کہ وہ اِس  مسئلے کو حل کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے  محنت کی اور  گیہوں چاول کی   ایسی نسل کو  فروغ دیا  ، جو خاص طور پر  ویٹامن ڈی سے بھر پور ہے ۔   اسی مہینے انہیں  ورلڈ انٹلیکچوول  پراپرٹری   آرگنائزیشن  ، جینیوا سے  پیٹنٹ بھی ملا ہے ۔  یہ ہماری حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ وینکٹ ریڈی  جی کو پچھلے سال  پدم شری سے بھی نوازا گیا تھا ۔

ایسے ہی بہت   اننو ویٹیو طریقے سے  لداخ کے اُرگین  فتسوگ بھی کام کر رہے ہیں ۔ ارگین بھی اتنی اونچائی پر آرگینک طریقے سے کھیتی کرکے  تقریباً  20 فصلیں اگا  رہے ہیں ۔ وہ بھی   سائکلک  طریقے سے ، یعنی وہ   ایک فصل  کے کچرے  کو  دوسری  فصل میں   کھاد کے طور پر  استعمال کرلیتے ہیں ۔ ہے نا کمال کی بات ۔

اسی  طرح گجرات کے  پاٹن ضلع میں   کام راج بھائی چودھری   نے گھر  میں ہی   سہجن  کے  اچھے  بیج  فروغ دیئے ہیں ۔ سہجن کو کچھ لوگ   سرگوا بولتے ہیں ۔ اسی  مورنگا یا ڈرم  اسٹک بھی کہا جاتا ہے ۔   اچھے بیجوں کی مدد سے ، جو سہجن پیدا ہوتا ہے ، اُس کی کوالٹی بھی اچھی ہوتی ہے  ۔ اپنی پیداوار کو وہ اب تمل ناڈو اور مغربی بنگال بھیج کر   اپنی آمدنی  بھی بڑا رہے ہیں  ۔

ساتھیو ، آج کل  چیا کے بیج  کا نام آپ لوگ بہت سن رہے ہوں گے ۔  ہیلتھ اویئر نیس سے جڑے لوگ   اِسے کافی اہمیت دیتے ہیں اور دنیا میں  اس کی کافی مانگ ہے ۔  ہندوستان میں  اسے زیادہ تر  باہر سے منگواتے ہیں لیکن اب  چیا بیج  میں خود انحصاری کا بیڑا بھی  لوگ  اٹھا رہے ہیں ۔ ایسے ہی یو پی کے بارابنکی میں  ہریش چندر جی  نے  چیا کے بیج  کی کھیتی  شروع کی ہے  ۔  چیا کے بیج   کی کھیتی     ، اُن کی آمدنی بھی بڑھائے گی اور خود کفیل بھارت مہم میں بھی مدد کرے گی ۔

ساتھیو ، زرعی کچرے سے دولت پیدا کرنے  کے بھی کئی تجربے ملک  بھر میں کامیابی سے چل رہے ہیں ۔  جیسے مدورئی کے   مروگیسن  جی نے کیلے کے  کچرے سے   رسی بنانے کی ایک مشین  بنائی ہے ۔ مروگیسن جی کے اِس اننوویشن سے ماحولیات اور گندگی کا بھی حل ہوگا اور کسانوں کے لئے  اضافی آمدنی کا راستہ بھی کھلے گا ۔ 

ساتھیو ، ‘ من کی بات ’ کے سامعین  کو اتنے سارے  لوگوں کے بارے میں بتانے کا میرا مقصد یہی ہے کہ ہم سبھی اِن سے ترغیب لیں ۔ جب  ملک کا ہر شہری اپنی زندگی   کے ہر شعبے میں سائنس کو وسعت دے گاتو  ترقی کے راستے بھی کھلیں گے  اور ملک خود کفیل  بھی بنے گا اور مجھے یقین ہے کہ  ملک کا ہر  شہری کر سکتا ہے ۔

میرے پیارے ساتھیو ، کولکاتہ کے رنجن جی نے اپنے خط میں بہت ہی دلچسپ اور بنیادی سوال پوچھا ہے اور ساتھ ہی بہترین طریقے سے ، اس کا جواب بھی دینے  کی کوشش کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب ہم خود کفیل ہونے کی بات کرتے ہیں تو ہمارے لئے اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ اسی سوال کے جواب میں ، خود انہوں نے مزید لکھا ہے کہ - "آتم نربھر بھارت مہم"  صرف ایک حکومتی پالیسی نہیں ہے ، بلکہ ایک قومی روح بھی ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ خود کفیل  ہونے کا مطلب ہے کہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا یعنی خود اپنی قسمت  کا بنانے والا بننا   ۔ رنجن بابو کی بات سو ٹکا صحیح ہے ۔ اُن کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے میں یہ بھی کہوں گا کہ خود کفالت کی پہلی شرط ہوتی ہے – اپنے ملک کی چیزوں پر فخر ہونا ، اپنے ملک کے لوگوں کے ذریعے بنائی گئی چیزوں پر فخر ہونا ۔ جب ہر ایک ہم وطن فخر کرتا ہے ، ہر ایک ہم وطن جڑتا ہے ، تو آتم نربھر بھارت ، صرف ایک معاشی مہم نہ رہ کر ایک قومی روح بن جاتی ہے ۔ جب آسمان میں ہم اپنے ملک میں بنے  لڑاکو طیارے  تیجس کو کلابازیاں کھاتے دیکھتے ہیں  ، جب بھارت میں بنے ٹینک ، بھارت میں بنی میزائلیں   ، ہمارے فخر میں اضافہ کرتی ہیں  ، جب   ترقی یافتہ ملکوں  میں ہم  میٹرو ٹرین  کے میڈ اِن انڈیا کوچیز  دیکھتے ہیں ، جب درجنوں ملکوں تک  میڈ اِن انڈیا کورونا ویکسین کو پہنچتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہمارا سر اور اونچا ہو جاتا ہے اور ایسا ہی نہیں ہے کہ بڑی بڑی چیزیں ہی بھارت کو خود کفیل بنائیں گی ۔ بھارت میں بنے کپڑے ، بھارت کے ہنرمند کاریگروں کے ذریعے  بنایا گیا ہینڈی کرافٹ کا سامان  ، بھارت کی الیکٹرانک اشیاء  ، بھارت کے موبائل ، ہر شعبے میں ، ہمیں اِس  فخر کو بڑھانا ہو گا ۔ جب ہم اِسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں گے ، تبھی صحیح معنی میں آتم نربھر بن پائیں گے اور ساتھیو ں ، مجھے خوشی ہے کہ خود کفیل بھارت کا یہ منتر ، ملک کے گاؤں – گاؤں میں پہنچ رہا ہے ۔ بہار کے بیتیا میں یہی ہوا ہے ، جس کے بارے میں مجھے میڈیا میں پڑھنے کو ملا ۔

بیتیا کے رہنے والے پرمود جی ، دلّی میں ایک ٹیکنیشئن کے طور پر ایل ای ڈی بلب بنانے والی فیکٹری میں  کام کرتے تھے ۔ انہوں نے اِس فیکٹری میں کام کے دوران پوری   طریقے کو بہت باریکی سے سمجھا   ۔ لیکن کورونا کے دوران پرمود جی کو اپنے گھر پاس لوٹنا پڑا ۔ آپ جانتے ہیں ، لوٹنے  کے بعد پرمود جی نے کیا کیا ؟ انہوں نے خود ایل ای ڈی بلب بنانے کی ایک چھوٹی سی یونٹ ہی شروع کر دی ۔ انہوں نے اپنے علاقے کے کچھ نو جوانوں کو ساتھ لیا اور کچھ ہی مہینوں میں فیکٹری ورکر سے لے کر فیکٹری اونر بننے تک کا سفر پورا کر دیا ۔ وہ بھی اپنے ہی گھر میں رہتے ہوئے ۔

ایک اور مثال ہے – یو پی کے گڑھ مکتیشور کی ۔ گڑھ مکتیشور سے شری مان سنتوش  جی نے لکھا ہے کہ کیسے کورونا  دور  میں ، انہوں نے  آفت کو موقع میں بدلا  ۔ سنتوش جی کے پُرکھے شاندار کاریگر تھے ، چٹائی بنانے کا کام کرتے تھے ۔ کورونا کے وقت جب باقی کام رُکے تو اِن لوگوں نے بڑی  طاقت اور جوش   کے ساتھ چٹائی بنانا شروع کیا ۔ جلد ہی ، انہیں نہ صرف اتر پردیش بلکہ دوسری ریاستوں سے بھی چٹائی کے آڈر ملنے شروع ہو گئے ۔ سنتوش جی نے یہ بھی بتایا ہے  کہ  اِس سے اِس علاقے کے سینکڑوں سال پرانے خوبصورت فن کو بھی ایک نئی طاقت ملی ہے ۔

ساتھیو ، ملک بھر میں ایسی کئی مثالیں ہیں  ، جہاں لوگ ، ‘ آتم نربھر بھارت مہم ’ میں ، اسی طرح اپنا  حصہ  لے رہے ہیں ۔ آج یہ ایک  جذبہ  بن چکا ہے  ، جو عام لوگوں  کے دلوں میں  رواں دواں ہے ۔

میرے پیارے ہم وطنوں ، میں نے نمو ایپ  پر گڑ گاؤں  کے رہنے والے  میور کی ایک  دلچسپ پوسٹ دیکھی ۔ وہ پیشنیٹ  برڈ واچر  اور  قدر سے محبت کرنے والے ( نیچر لور ) ہیں ۔  میور جی نے لکھا ہے کہ میں تو ہریانہ میں رہتا ہوں  لیکن  میں چاہتا ہوں کہ آپ ، آسام کے لوگوں اور خاص طور پر کازی رنگا کے لوگوں سے گفتگو کریں۔ مجھے لگا کہ میور جی ، رائنوس کے بارے میں  بات کریں گے ، جنہیں وہاں کا فخر کا کہا جاتا ہے لیکن میور جی نے کازی رنگا میں واٹر فولس کی تعداد میں ہوئے اضافے کو لے کر آسام کے لوگوں  کو سراہنے کے لئے کہا ہے ۔ میں ڈھونڈ رہاتھا کہ  ہم  واٹر فولس  کو عام زبان میں کیا  کہہ سکتے ہیں تو ایک لفظ ملا  - جل پکشی  ( پانی کا پرندہ ) ۔ ایسے پرندے ، جن کا گھونسلا ، پیڑوں پر نہیں  ، پانی پر ہوتا ہے ، جیسے بطخ وغیرہ ۔ کازی رنگا نیشنل پارک اینڈ ٹائیگر  ریزرو  اتھارٹی کچھ وقت سے سالانہ واٹر فولس سینسز ( مردم شماری ) کرتی آ رہی ہے ۔ اس مردم شماری سے پانی کے پرندوں کی تعداد  کا پتہ چلتا ہے اور ان کی پسندیدہ رہائش گاہ  کی معلومات ملتی ہیں  ۔ ابھی دو تین ہفتے پہلے ہی سروے پھر سے ہوا ہے ۔ آپ کو بھی یہ جانکر خوشی ہو گی کہ اس بار پانی کے پرندوں کی تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 175 فی صد زیادہ آئی ہے ۔ اس مردم شماری کے دوران کازی رنگا نیشنل پارک میں برڈس کی کل 112 قسموں کو دیکھا گیا ہے ۔ ان میں سے 58 قسمیں یوروپ ، وسطی ایشیا اور  مشرقی ایشیا  سمیت دنیا کے مختلف حصوں سے آئے  وِنٹر مائیگرینٹس  کی ہیں ۔ اس کی سب سے اہم وجہ  یہ ہے کہ یہاں  پانی کا بہتر تحفظ  ہونے کے ساتھ انسانی مداخلت بہت کم ہے ۔ ویسے کچھ معاملوں میں  مثبت انسانی مداخلت  بھی بہت اہم ہوتی ہے ۔

آسام کے جناب جادو پائینگ  کو ہی دیکھ لیجئے ۔ آپ میں سے کچھ لوگ اُن کے بارے میں ضرور جانتے ہوں گے ۔  اپنے کاموں کے لئے انہیں   پدم سمان ملا ہے ۔ شری جادو پائینگ وہ شخص ہیں ، جنہوں نے آسام کے   مجولی آئی لینڈ   میں قریب 300 ہیکٹیئر   شجر کاری  میں اپنا فعال تعاون  دیا ہے ۔ وہ  جنگلات کے تحفظ  کے لئے کام کرتے رہے ہیں  اور لوگوں  کو شجر کاری   اور  حیاتیاتی  تنوع کے تحفظ  کے لئے تحریک  دلا رہے ہیں ۔

ساتھیو ، آسام میں ہمارے مندر بھی  ، قدرت کے تحفظ  میں ،  اپنا الگ ہی  کردار  ادا کر رہے ہیں ۔   اگر آپ  ہمارے مندروں کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر مندر کے  پاس ایک تالاب ہے۔ ہاجو کے  ہیاگریو مادھیب مندر ، سونیت پور کے ناگ شنکر مندر اور گوہاٹی کے اُگر تارا مندر کے پاس  ، اسی طرح کے کئی تالاب ہیں ۔  ان کا استعمال معدوم ہو  رہے کچھوؤں  کو بچانے کے لئے کیا جا  رہا ہے ۔ آسام میں کچھوؤں کی سب سے زیادہ نسلیں پائی جاتی ہیں ۔ مندروں کے یہ تالاب کچھوؤں کے تحفظ ، افزائش اور ان کے بارے میں جاننے کے لئے ایک بہترین مقام بن سکتے ہیں ۔

    میرے پیارے ہم وطنو ، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اننوویشن کرنے کے لئے ، آپ کا سائنسدان ہونا ضروری ہے ۔ کچھ سوچتے ہیں کہ دوسروں کو کچھ سکھانے کے لئے  آپ کا ٹیچر ہونا  ضروری ہے ۔ اس سوچ کو چیلنج کرنے والے لوگ ہمیشہ تعریف کے لائق ہوتے ہیں ۔ اب جیسے ، کیا کوئی ، کسی کی فوجی بنانے کے لئے  تربیت کرتا ہے  تو کیا اُس کا  فوجی ہونا ضروری ہے ؟ آپ سوچ رہے ہوں گے  کہ ہاں ، ضروری ہے ۔ لیکن یہاں تھوڑا سا ٹوئیسٹ ہے ۔

مائی گو پر کمل کانتھ جی نے میڈیا کی ایک رپورٹ ساجھا کی ہے ، جو کچھ الگ بات کہتی ہے ۔ اڈیشہ میں اراکھڑا میں ایک صاحب ہیں – نائک سَر ۔ ویسے  تو اِن کا نام سلو نائک  ہے  ، پر  سب انہیں نائک سَر ہی بلاتے ہیں ۔ دراصل ، وہ مین آن اے مشن ہیں ۔ وہ اُن نو جوانوں کی مفت میں تربیت کرتے ہیں ، جو فوج میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ نائک سر  کی آرگنائزیشن کا نام   مہاگرو  بٹالین  ہے ۔ اس میں  فزیکل فٹنیس  سے لے کر انٹر ویو تک اور رائٹنگ سے لے کر ٹریننگ   تک ، ان سبھی  پہلوؤں کے بارے میں   بتایا جاتا ہے ۔ آپ کو یہ  جانکر حیرانی ہوگی کہ انہوں نے جن لوگوں کو تربیت دی ہے ، انہوں نے بری ، بحری  اور  فضائی فوج  ،  سی آر پی ایف ، بی ایس ایف جیسی فورسیز میں اپنی جگہ بنائی ہے ۔ ویسے آپ  کو یہ جانکر بھی حیرت ہو گی کہ سلو نائک جی نے خود اڈیشہ پولیس میں بھرتی ہونے کے لئے کوشش کی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو پائے ۔ اس  کے باوجود  ، انہوں نے اپنی تربیت   کے دم پربہت سے نوجوانوں کو ملک کی خدمت کے قابل بنایا ہے ۔ آئیے ، ہم سب مل کر نائک سر کو   مبارکباد دیں  کہ وہ ہمارے ملک کے لئے اور زیادہ   جانبازوں کو تیار کریں ۔

ساتھیو ، کبھی کبھی بہت چھوٹا اور عام سا سوال  بھی ذہن کو ہلا دیتا ہے ۔   یہ سوال لمبے نہیں ہوتے ہیں  ، بہت  آسان ہوتے ہیں  ، پھر بھی وہ ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ کچھ دن پہلے حیدر آباد  کی اپرنا  ریڈی جی نے مجھ سے ایسا ہی ایک سوال پوچھا ۔ انہوں نے کہا کہ – آپ اتنے سال  سے وزیر اعظم ہیں  ، اتنے سال  وزیر اعلیٰ رہے  ، کیا آپ کو کبھی   لگتا ہے کہ   کہ کچھ کمی رہ گئی ۔ اپرنا جی  کا سوال   جتنا  آسان ہے ، اس کا جواب  اتنا ہی مشکل  بھی ۔  میں نے اس سوال پر سوچا اور  خود سے کہا میری ایک کمی یہ رہی کہ میں دنیا کی سب سے تاریخی زبان  تمل سیکھنے کے لئے بہت کوشش نہیں کرپایا ۔ میں تمل نہیں سیکھ پایا ۔ یہ ایک ایسی خوبصورت  زبان ہے ، جو دنیا بھر میں  مشہور ہے ۔  بہت سے لوگوں نے مجھے تمل  ادب کے معیار   اور اس میں لکھے گئے اشعار  کی گہرائی  کے بارے میں  بہت کچھ بتایا ہے ۔ بھارت ایسی بہت سی  زبانوں  کا مقام ہے ، جو ہماری ثقافت اور فخر کی علامت ہے ۔ زبان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، میں  ایک چھوٹی سی  دلچسپ  کلپ آپ سب کے ساتھ ساجھا کرنا چاہتا ہوں۔

## (ساؤنڈ کلپ مجسمہ اتحاد)

دراصل ، ابھی جو آپ  سن رہے تھے ، وہ مجسمہ ٔاتحاد پر ایک گائڈ ہے ،  جو سنسکرت میں لوگوں کو سردار پٹیل کی  دنیا کی سب سے بلند مجسمے کے بارے میں بتا رہی ہے ۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ کیوڑیا میں 15 سے زیادہ گائیڈ ، سنسکرت میں لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اب میں آپ کو ایک اور آواز سنواتا ہوں ۔

## (ساؤنڈ کلپ کرکٹ کمنٹری)

آپ بھی اِسے سن کر حیران ہو گئے ہوں گے  ۔  در اصل ، یہ سنسکرت  میں کی جا رہی کرکٹ کمنٹری ہے ۔ وارانسی میں ، سنسکرت  کالجوں  کے بیچ  ایک کرکٹ ٹورنامنٹ  ہوتا ہے ۔ یہ کالج  ہیں - شاستھارتھ مہا ودیالیہ ، سوامی ویدانتی وید ودیا پیٹھ ، شری برہم  وید ودیالیہ اور انٹرنیشنل چندر مولی چیریٹبل ٹرسٹ ۔ اس ٹورنامنٹ کے میچوں کے دوران کمنٹری سنسکرت میں بھی کی جاتی ہے۔ ابھی میں نے اس کمنٹری کا ایک بہت ہی چھوٹا سا حصہ  آپ کو سنایا ۔ یہی نہیں ، اس ٹورنامنٹ میں  ، کھلاڑی  اور   کمنٹیٹر روایتی لباس میں نظر آتے ہیں ۔ اگر آپ کو توانائی ، جوش و خروش ، سسپنس سب کچھ ایک ساتھ چاہیئے تو آپ کو کھیلوں کی کمنٹری  سننی چاہیئے ۔ ٹی وی آنے سے بہت  پہلے کھیلوں کے تبصرے ہی وہ  وہ ذریعہ تھے ، جس کے ذریعے کرکٹ اور ہاکی جیسے کھیلوں  کی سنسنی  ملک بھر کے لوگ محسوس کرتے تھے ۔ ٹینس اور فٹ بال میچوں کی کمنٹری بھی بہت اچھی طرح سے پیش کی جاتی ہے ۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جن کھیلوں کی کمنٹری  میں وسعت  ہے ، ان کھیلوں کو مقبولیت  بہت تیزی سے حاصل ہوتی ہے ۔ ہمارے یہاں بھی بہت سے بھارتی کھیل ہیں لیکن ان میں کمنٹری کلچر نہیں آیا ہے اور اس وجہ سے وہ  معدوم ہونے کی حالت میں ہیں ۔ میرے ذہن میں  ایک خیال آیا ہے ۔ – کیوں نہ الگ الگ کھیلوں اور خاص طور پر بھارتی کھیلوں کی اچھی کمنٹری زیادہ سے زیادہ زبانوں میں ہو ، ہمیں اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے بارے میں ضرور سوچنا چاہیے ۔ میں کھیل کی وزارت اور پرائیویٹ اداروں  کے ساتھیوں  سے اس بارے میں سوچنے کی درخواست کروں گا ۔

میرے پیارے  نو جوان ساتھیو ، آنے والے کچھ مہینے آپ سب کی زندگی  میں خاص اہمیت رکھتے ہیں ۔  زیادہ تر نو جوان  ساتھیوں کے  امتحانات  ہوں گے  ۔ آپ سب کو یاد ہے نا – واریئر بننا ہے  ، ووریئر  نہیں ۔ ہنستے  ہوئے امتحان دینے جانا ہے اور مسکراتے  ہوئے لوٹنا ہے۔ کسی اور سے نہیں   ، اپنے  آپ  سے ہی مقابلہ  کرنا ہے ۔ ضرورت کے مطابق نیند بھی لینی ہے اور  ٹائم مینجمنٹ  بھی کرنا ہے ۔ کھیلنا بھی نہیں چھوڑنا ہے   کیونکہ  جو کھیلے وہ کھِلے ۔   نظر ثانی اور یاد کرنے کے اسمارٹ طریقے اپنانے ہیں یعنی  کل ملاکر ، ان امتحانات میں  اپنی بہترین کارکردگی کو باہر لانا ہے ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے ، یہ سب ہوگا کیسے  ۔ ہم سب مل کر یہ کرنے والے ہیں ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی ہم سب کریں گے ‘ پریکشا پے چرچا ’ ۔  لیکن مارچ میں ہونے والی ‘ پریکشا پے چرچا ’ سے پہلے میری آپ سبھی ایگزام واریئر  سے ،  والدین سے اور اساتذہ سے  درخواست  ہے کہ اپنے  تجربات   ضرور شیئر کریں ۔ آپ مائی گو ایپ پر شیئر کر سکتے ہیں ۔ نریندر مودی ایپ  پر شیئر کر سکتے ہیں ۔   اس بار  ‘ پریکشا پے چرچا ’ میں نو جونواں کے ساتھ ساتھ ، والدین اور اساتذہ بھی   مدعو ہیں ۔ کیسے حصہ لینا ہے ، کیسے انعام جیتنے ہیں ، کیسے میرے  ساتھ  گفتگو  کا موقع حاصل کرنا ہے  ، یہ ساری معلومات  آپ کو مائی گو   ایپ پر  ملیں گی ۔  اب تک ایک لاکھ سے زیادہ  طالب علم ، قریب 40 ہزار  والدین اور تقریباً  10 ہزار  اساتذہ  حصہ لے چکے ہیں ۔ آپ  بھی آج  ہی  حصہ لیجئے ۔ اس کورونا  کے وقت میں ، میں نے کچھ وقت نکال کر  ایگزام واریئر  بُک میں بھی  کئی نئے  منتر   جوڑ دیئے ہیں  ، اب اس میں والدین  کے لئے بھی کچھ منتر جوڑے  گئے ہیں ۔  ان منتروں سے جڑی بہت ساری دلچسپ سرگرمیاں نریندر مودی ایپ  پر دی گئی ہیں ، جو آپ کے اندر کے ایگزام واریئر  کو اکسانے میں مدد کریں گی ۔ آپ ان کو ضرور آزماکر دیکھئے ۔ سبھی نوجوان ساتھیوں کو آنے والے  امتحانات  کے لئے بہت بہت  نیک خواہشات ۔

میرے پیارے ہم وطنو ،  مارچ کا مہینہ  ہمارے  مالی سال  کا آخری  مہینہ  بھی ہوتا ہے  ۔ اس لئے آپ میں  سے بہت  سے لوگوں کے لئے  کافی  مصروفیت بھی رہے گی ۔  اب جس طرح سے ملک  میں  اقتصادی سرگرمیاں  تیز ہو رہی ہیں ، اس سے ہمارے  کاروباریوں  اور صنعت کاروں کی مصروفیت    بھی بہت بڑھ رہی ہے ۔  ان سارے معاملوں کے بیچ  ہمیں کورونا  سے متعلق احتیاط میں کمی نہیں کرنی ہے ۔ آپ سب صحت مند رہیں گے ، خوش رہیں گے ، فرائض کی انجام دہی   پر ڈتے رہیں گے تو ملک تیزی سے آگے بڑھتا رہے گا ۔

آپ سبھی کو تہواروں  کی پیشگی  مبارکباد ، ساتھ ساتھ  کورونا  سے متعلق ، جو بھی  قواعد  و ضوابط    پر عمل کرنا ہے ، ان میں کسی طرح کی کمی نہیں آنی چاہیئے ۔  بہت بہت شکریہ  !

 

Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
India's FY22 GDP expected to grow by 8.7%: MOFSL

Media Coverage

India's FY22 GDP expected to grow by 8.7%: MOFSL
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM congratulates His Excellency Ebrahim Raisi on his election as President of Iran
June 20, 2021
Share
 
Comments

The Prime Minister, Shri Narendra Modi has congratulated His Excellency Ebrahim Raisi on his election as President of the Islamic Republic of Iran.

In a tweet, the Prime Minister said, "Congratulations to His Excellency Ebrahim Raisi on his election as President of the Islamic Republic of Iran. I look forward to working with him to further strengthen the warm ties between India and Iran."