ملک نے وبا کی پہلی لہر کے عروج کو عبور کرلیا ہے۔ اب پہلے سے کہیں زیادہ معاملے کے بڑھنے کی شرح ہے۔:وزیراعظم
ہمارے پاس بہتر وسائل اور بہتر تجربہ ہے ساتھ ہی ہمارے پاس ویکسین بھی ہے: نریندر مودی
ہم ٹیسٹ، مرض کا پتہ لگانے ، علاج کرنے، کووڈ کے مناسب برتاؤ، کووڈ سے نمٹنے پر توجہ دے رہے ہیں: نریندر مودی
کووڈ کی وبا کی مشقت کی وجہ سے ہماری کوششوں میں کوئی نرمی نہیں آنی چاہئے
بہت زیادہ توجہ والے ضلعوں میں45 سال سے زیادہ عمر کی آبادی والے علاقوں میں 100 فیصد ٹیکہ کاری حاصل کرلی گئی ہے: وزیراعظم
جیوتی باپھولے اور بابا صاحب امبیڈ کر کی سالگرہ تقریبات کے درمیان ٹیکہ کاری فیسٹول کی ضرورت پر زور(11تا14 اپریل)

نئی دہلی،  09اپریل 2021: آپ سبھی نے موجودہ صورتحال کی سنجیدگی کا جائزہ لیتے ہوئے کئی اہم پوائنٹ سامنے رکھے ہیں اور کئی ضروری تجاویز بھی دی ہیں اور بہت  فطری تھا کہ جہاں شرح اموات زیادہ  ہے۔ جہاں کورونا کا پھیلاؤ  تیز ہورہا ہے ، ان ریاستوں  کے ساتھ خاص  طور سے گفتگو کی گئی ہے ۔ لیکن باقی ریاستوں کے پاس  بھی کافی اچھی تجاویز ہوسکتی ہیں،  تو میں  اپیل کروں  گا کہ ایسی کوئی پازیٹو  تجاویز  جو ضروری ہیں ، آپ کو لگتا ہے وہ مجھ  تک پہنچی ہیں تاکہ کوئی  حکمت عملی  بنانے میں  وہ کارگر ہوں ۔

ابھی یہاں جو بھارت سرکار کی  طرف سے صحت کے سکریٹری کی طرف سے پریذینٹیشن رکھا گیا ہے ،اس سے بھی واضح ہے کہ ایک بار پھرچیلنج کی صورتحال بن رہی ہے۔ کچھ ریاستوں میں صورتحال تشویش ناک ہے ۔ ایسے میں  گورننس سسٹم میں سدھار یہ بہت ضروری ہے ۔ یہ میں  سمجھ سکتا ہوں  کہ سال بھر کی اس لڑائی کی وجہ انتظام میں  بھی تھکان آسکتی ہے ۔ لیکن یہ دو تین ہفتہ اگر اور ہم ٹائٹ کریں   اورزیادہ گورننس کو مضبوط کریں   تو اس  پر ہمیں زوردینا چاہئے ۔

ساتھیو!

آج کے جائزے میں کچھ باتیں  ہمارے سامنے واضح ہیں  او ر ان پر ہمیں خاص دھیان دینے کی ضرورت ہے۔پہلا-دیش  پہلی لہر کے وقت کی پیک (عروج ) کو عبور کرچکا ہے اور ا س  بار یہ گروتھ ریٹ  پہلے سے بھی زیادہ تیز ہے۔

دوسرا ،مہاراشٹر ، چھتیس گڑھ  ، پنجاب ، مدھیہ پردیش اور گجرات سمیت  کئی ریاستیں  پہلی لہر کے عروج کو بھی عبور کرچکی ہیں ۔ کچھ ریاستیں  بھی اس طرف تیزی سے  بڑھ رہی ہیں ۔ میں سمجھتا ہو ں کہ ہم سب کے لئے یہ تشویش کا موضوع ہے۔

اور تیسرا ،اس بار لوگ پہلے کے مقابلے بہت زیادہ  لاپرواہ ہوگئے ہیں  ۔بیشتر ریاستوں میں انتظامیہ بھی سست نظر آرہی ہے۔ایسے میں کورونا کے کیسز کی اس اچانک بڑھوتری نے مشکلیں زیادہ کھڑی کردی ہیں ۔ کورونا کے  پھیلنے کو روکنے کے لئے پھرسے جنگی سطح  پر کام کرنا ضروری ہے۔

ساتھیو!

ان تمام چیلنجز کے باوجود ہمارے  پاس  پہلے کے مقابلے بہتر تجربہ  ہے ۔پہلے کے مقابلے اچھے وسائل ہیں اور اب ایک ٹیکہ بھی ہمارے پاس  ہے۔ جن بھاگیداری کے ساتھ ساتھ  ہمارے باصلاحیت ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکرس  کے علاوہ  حفظان صحت کے عملے نے صورتحال کو سنبھالنے میں  بہت مدد کی ہے اور آج بھی  خدمت میں لگے ہوئے ہیں ۔ آپ سبھی سے اپنے  پہلے کے تجربوں کاپر اثر ڈھنگ سے استعمال کی توقع رکھتا ہوں۔

اب آپ تصور کیجئے کہ گزشتہ سال ان دنوں میں  ہمارے حال کیا تھے ۔  ہمارے پاس ٹیسٹنگ لیب نہیں  تھے یہاں تک کہ ماسک کہاں سے ملیں  گے ، یہ بھی تشویش کا موضوع تھا ۔ پی پی ای  کٹ نہیں  تھے اور اس وقت  ہمارے بچنے کا واحد راستہ بچا تھا لاک ڈاؤن تاکہ ہم انتظامات کو ایک دم سے جتنا تیزی سے بڑھ سکیں  اور وہ ہماری حکمت عملی کام آئی اور ہم انتظامات کو بناسکیں   ، وسائل کھڑے پرپائیں ، ہماری اپنی صلاحیت بڑھے ، دنیا سے جہاں سے حاصل کرسکتے تھے کر پائے اور لاک ڈاؤن  کے وقت کا ہم نے  استعمال کیا۔

لیکن آج  جو صورتحال ہے ، آج جب ہمارے پاس وسائل ہیں تو ہمارا زور اور یہ ہماری گورننس کی کسوٹی ہے ۔ ہمارا زور مائکرو کنٹنمٹ زون پر ہونا چاہئے ۔چھوٹے چھوٹے کنٹنمٹ زون پر سب سے زیادہ ہونا چاہئے ، جہاں پر رات کے کرفیو کا استعمال ہورہا ہے ، میری اپیل ہے کہ اس کے لئے لفظ استعمال ہمیشہ کریں   کورونا کے تئیں  ایک بیداری بنی ہے ۔

کچھ لوگ  یہ دانشورانہ بحث کرتے ہیں  کہ کیا کورونا رات کو ہی آتا ہے ۔ حقیقت میں دنیا نے بھی یہ رات کا کرفیو کے استعمال کو قبول کیا ہے تو یادآتا ہے کہ ہاں  میں کورونا دور میں جی رہاہوں اور باقی زندگی کے انتظامات کا کم سے کم اثر ہوتا ہے۔

ہاں! اچھا ہوگا کہ ہم کورونا کرفیو رات کو 9 بجے شروع کریں یا رات کو دس بجے شروع کریں اور صبح  5 بجے تک چلائیں  ۔ باقی انتظامات پر اثر نہ پڑے  اور اس لئے  اس کو کورونا کرفیو کے نام سے ہی  آگے بڑھا یا  جائے اور کورونا کرفیو  ایک طرح  سے لوگوں  کو ایجوکیٹ کرنے کے لئے کام آرہا ہے ، بیداری کے لئے کام آرہا ہے تو ہم نے اس کی طرف دھیان دینے کی ۔۔۔۔ لیکن میں نے پہلے کہا اب ہمارے پاس انتظام  اتنا ہوچکا ہے ۔ مائیکرو کنٹنمنٹ زور اسی پر زوردیجئے ۔ آپ کو اچھے نتائج ملیں گے ۔ ہاں ، اس میں ذرا سرکار کو تھوڑی محنت زیادہ کرنی پڑتی ہے، گورننس کو ٹائٹ کرنا پڑتا ہے، ہر چیز کا پوری طرح  مشاہدہ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ محنت رنگ لائے گی ۔ یہ مجھ  پر یقین کیجئے ۔

دوسری بات  یہ ہے کہ ہم نے پچھلی بار کووڈ کا آنکڑہ دس  لاکھ سرگرم کیسوں  سے سوالاکھ تک نیچے لاکر دکھا یا ہے یہ  جس حکمت عملی پرچلنے ہوئے ممکن ہوپا یا ہے وہ آج بھی اتنا ہی درست ہے اور وجہ دیکھئے ،اس وقت کامیابی ہمیں لوگوں نے  پائی تھی ، تب وسائل بھی کم تھے ،آج  تو وسائل زیادہ ہیں اورتجربہ بھی زیادہ ہے اور آج ہم اس عروج سے  تیزی سے نیچے جاسکتے ہیں۔ عروج کو اوپر جاتے روک بھی سکتے ہیں اور تجربہ کہتا ہے کہ ٹیسٹ  ، ٹریک ، ٹریٹ یعنی علاج کووڈ کے مناسب برتاؤ اور کووڈ سے نمٹنے  اور انہیں چیزوں  پرہمیں زور دینا ہے اور آپ دیکھئے کہ اب ایک موضوع ایسا آیا ہے ۔ میں آپ سبھی وزرائے اعلیٰ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ اپنی ریاستوں کی مشینری کے ذریعہ تھوڑا اگر تجزیہ کریں اورسروے کریں  تو ایک سوال کا جواب کیا ہمیں مل سکتا ہے ؟ میں اس کو سوال کی شکل میں کہہ رہا ہوں ۔ ہوتا کیا ہے کہ ان دنوں  کورونا میں  ۔۔۔۔ یہ تھوڑا ویری فکیشن کا موضوع ہے لیکن آپ بھی اس کو ریاست میں کراسکتے ہیں ۔  پہلے کورونا کے وقت کیا ہوتا تھا ہلکی  پھلکی علامات سے بھی لوگ ڈر جاتے تھے ،وہ فوراََ ایکشن لیتے تھے دوسرا ان دنوں  بہت  سے مریضوں میں  مرض    کی علامات  نہیں ہیں اور اس کی وجہ ان کو لگتا ہے یہ ایسے ہی تھوڑ ازکام ہوگیا۔

کبھی کبھی تو وہ بھی  نظر نہیں آتا اور اس کی وجہ  کنبے میں  پہلے کی طرح ہی زندگی جیتے ہیں اور نتیجے کے طور پر کنبہ لپیٹ میں آجاتا ہے اور پھر شدت بڑھتی ہے ، تب ہمارے دھیان میں آتا ہے جو آج کنبے اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں ، اس کی بنیادی وجہ ہے ابتدا میں  مریضوں میں مرض کی علامات  جو ہوتی ہیں اور کئیر لیس   ہوجاتے ہیں، اس کا حل کیا ہے ، اس کا حل ہے سرگرمی سے ٹیسٹنگ کرانا ۔ ہم جتنا زیادہ ٹیسٹنگ کریں  گے تو نہ  پائی جانے والی علامات جو مریض   میں ہوں گی  وہ بھی دھیان میں آجائیں   تو کنبے ہوم کورنٹائن وغیر ہ ڈھنگ سے کرلیں  گے ۔ وہ کنبے کے ساتھ جیسے  نارمل زندگی جیتا ہے وہ نہیں جئے گا اور اس لئے جو پورا کنبہ آج لپیٹ میں آتا ہے اس کو ہم بچا سکتے ہیں۔

او ر اس لئے  ہم گفتگو جتنی ویکسین کی کرتے ہیں  ،اس  سے زیادہ گفتگو ہمیں  ٹیسٹنگ کی کرنے کی ضرورت ہے ۔ زور ٹیسٹنگ  پر دینے کی ضرورت ہے اور ہم نے سامنے سے ٹیسٹنگ کے لئے جانا ہے ۔ اس کو تکلیف ہو اور پھر ٹیسٹنگ کرنے کے لئے آئے ، پھر اس کو پازیٹو نگیٹو  مل  جائے اور وہ   میں سمجھتا ہوں  ہمارے لئے تھوڑا بدلنا ضروری ہے۔

 ہمارے پاس وائرس کو قابو میں  کرنے کے لئے ایک اہم طریقہ ہے کہ ہم ہیومن ہوسٹ کو قابو کریں  ۔ میں  نے  پہلے بھی کہا تھا ۔ یہ کورونا ایک ایسی چیز ہے کہ جب تک آپ اس کو لے کر کہ نہیں  آؤ گے وہ  گھر میں  نہیں آتا ہے اور اس لئے  انسانی وسیلہ جو ہے ، ہر ایک کو ہمیں  بیدار کرنا پڑے گا ، اصولوں  پر عمل کرنا پڑے گا ۔ یہ بہت ضروری ہے اور یقینی طور پر اس میں  جانچ  اور پتہ لگانے کا بہت بڑا روال ہے۔  ہمیں جانچ کو ہلکے میں  نہیں لینا چاہئے ۔

جانچ کو ہمیں ہر ریاست میں  اتنا بڑھان ہوگا کہ پازیٹوٹی ریٹ   کیسے بھی کرکے  5 فیصد  سے نیچے لاکر دکھانا ہے اور آپ کو یاد ہوگا ،شروع میں جب کورونا کی خبریں  آنے لگے تو ہمارے یہاں مقابلے ہونے لگے وہ ریاست تو  نکمی ہے ، وہاں بہت بڑھ گیا ہے ۔ فلانی ریاست  بہت اچھا کررہی ہے ۔ریاستوں  کی تنقید  کرنا  بڑا فیشن ہوگیا تھا تو پہلی میٹنگ میں  میں  نے آپ سب سے کہا تھا کہ تعداد بڑھنے  سے آپ ذرا بھی فکر نہ کیجئے ۔ اس کے  سبب آپ  کی کارکردگی بری ہے ۔ اس ٹینشن  میں  مت رہئے ۔ آپ  جانچ  پر زور دیجئے اور وہ بات میں  آج بھی کہہ رہا ہوں  ۔تعداد زیادہ ہے اس لئے آپ غلط کررہے ہیں ۔ یہ سوچنے کی ضرورت نہیں  ہے آپ ٹیسٹنگ زیادہ کرتے ہیں  اس کی وجہ پازٹیو کیس  نظر آتے ہیں لیکن  باہر نکلنے  کا راستہ وہی ہے اور جو  تنقید کرنے والے  ہیں ، تھوڑے دن تنقیدسننی  پڑے گی۔

 لیکن راستہ تو جانچ کا ہی ہے ۔ جانچ کے سبب  آنکڑہ بڑھا ہوا آتا ہے۔ آنے دیجئے اس کی وجہ  کوئی  ریاست اچھی ہے ، کوئی ریاست بری  ہے ۔ ایسے تجزیہ کا طریقہ ٹھیک نہیں  ہے اور اس لئے میری آپ سے اپیل ہے کہ اس دباؤ سے باہر نکل جائیے  ۔ جانچ  پر زور دیجئے بھلے ہی پازٹیو کیس زیادہ آتے ہیں آنے دیجئے دیکھئے  اسی کا تو ہم حل تلاش کریں  گے۔

اور ہمارا ٹارگیٹ   70 فیصد آرٹی  -پی سی آر ٹیسٹ کرنے کا ہے ۔ کچھ جگہوں  سے میرے پاس خبر آئی ہے ۔ میں نے تصدیق نہیں  کی ہے کہ کچھ لوگ  جو آرٹی  -پی سی آر ٹیسٹ کررہے ہیں اس میں  جو نمونے لیتے ہیں اس میں  بہت   لیتھارجک ہیں   ایسے  مونھ کے آگے سے ہی نمونے لے لیتے ہیں ۔ ایسے ہی بہت گہرے جاکر  کہ نمونے لئے بنا صحیح نتیجہ ملتا ہی نہیں  ہے ۔ اگر آپ  نے  اوپر اوپر سے لے لیا ہے مونھ  میں  تھوڑ ا سا ڈال کرکہ تو جو ریزلٹ آئے گا وہ تو نگیٹو ہی آنے والا ہے ۔ اس لئے جب تک سوئی کو اندر ڈال کر کہ نمونے نہیں  لیتے ہیں ۔۔۔۔ جن ریاستوں میں یہ ہورہا ہے اس کو روکنے کے لئے کوشش کیجئے  ، بھلے ہی پازیٹو کیس بڑھیں  فکر مت کیجئے ، لیکن  پازیٹو کیس ہوگا تو علاج ہوگا لیکن وہ نہیں ہوگا تو گھر میں  پھیلتا رہے ۔ پورے کنبے کو ، پورے محلے کو  ، پورے  ٹینمٹن کو  سب کو لپیٹ میں  لیتا رہے گا۔

 ہم نے پچھلی میٹنگ میں  بھی اس  پر گفتگو  کی تھی کہ آرٹی  -پی سی آر ٹیسٹ بڑھانے کی ضرورت ہے اور پھر میں  کہتا ہوں  کہ مناسب سیمپلنگ  اور مناسب ہی ہونا چاہئے ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لیب سب کے  سب کو  نگیٹوٹی دے رہے ہیں ۔ کچھ لیب سب کو پازیٹو دے رہے ہیں ،  تو یہ تو کوئی اچھی علامت نہیں  ہے۔تو کہیں کچھ کمی ہے اور یہ گورننس کے وسیلے سے ہم کو چیک کرنا ہوگا۔کچھ ریاستوں کو اس کے لئے بنیادی ڈھانچہ بڑھانے کی ضرورت ہوگی اور اسے جتنی تیز ی سے کریں  گے یہ اتنا ہی مدد گار ہوگا۔

 لیبس میں  شفٹ بڑھانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو میں  سمجھتا ہوں کہ اسے بھی کیا جانا چاہئے جیسا کہ میں نے شروع  کہا ۔کنٹنمٹ زون میں  ٹیسٹنگ  پر بھی ہمیں  بہت زور دینا چاہئے جس کنٹنمنٹ زون کو طے کریں  اس  میں  ایک بھی شخص  جانچ کے بنا رہنا نہیں  چاہئے ۔ آپ دیکھئے آپ کو نتیجہ فٹا فٹ ملنا شروع ہوجائے گا۔

ساتھیو!

 جہاں تک مرض  کا پتہ لگانے کا سوال ہے انتظامیہ سطح  پر ہر انفیکشن کو ، ہر کانٹریکٹ کو ٹریک کرنا ، ٹیسٹ کرنا اور قابو میں  اس میں  بھی بہت تیزی کی ضرورت ہے  ۔72  گھنٹوں میں  کم سے کم  30  کانٹیکٹ  ٹریسنگ سے ہمارا ٹارگیٹ کم نہیں  ہونا چاہئے ۔ ایک شخص کی خبر آئی تو اس سے  30  رابطے لوگوں   ، جو  بھی ملے ہیں  ، اس کو ہمیں  کرنا ہی پڑے گا ، کنٹنمنٹ زون کی حد واضح ہونی چاہئے ۔ وہ ویگ  نہیں  ہونا چاہئے ، پورے محلے کے محلے ،علاقے کے علاقے ایسا مت کرو ۔ اگر دو فلیٹ ہیں  ایک عمارت میں  6  منزلیں  ہیں  تو پھر اتنوں  کو ہی کرو  ، بغل میں ٹاور ہے تو اس  کو بعد میں کرو ادوائز کیا ہوگا کہ ہم سب کےسب ۔۔۔۔۔ آسان راستہ یہی ہے کہ محنت کم پڑتی ہے ۔ یہ کردو  اس  سمت میں  مت جائیے ۔ آپ سب اس سمت میں سرگرم ہیں  بس ہماری  سرگرمی میں کوئی کمی نہیں آنی چاہئے یہ ہماری اپیل رہے گی ۔ ہمیں  یقینی  بنانا چاہئے کہ کووڈ  تھکان کے  پیش نظر زمین تک جاتے جاتے کوششوں میں سستی کسی بھی طرح سے نہیں آنے دینی ہے ۔  کئی ریاستوں  نے کانٹیکٹ ٹریسنگ  کو پری یوڈیکلی  کراس چیک کرنے کے لئے  ٹیمیں  بناکر کام کیا ہے ۔ اس کے اچھے نتیجے ملے ہیں ۔

ہم سب کایہ بھی تجربہ ہے کہ جہاں کونٹیمنٹ زونس میں وزارت صحت کی ایس اوپیز کا ---اورمیں مانتاہوں کہ ایس اوپیز بڑے تجربے کے بعد تیارہوئی ہے اوروقتافوقتاان کو اپ ڈیٹ کیاگیاہے ۔ ان ایس اوپیز پر موثر طورپر عمل ہورہاہے ، وہاں بہت اچھی کامیابی مل رہی ہے ۔ اس لئے میرا یہ مشورہ ضرورہوگا کہ اس طرف خاص توجہ دی جائے ۔

ساتھیو ،

ہم نے گفتگوکے دوران ابھی شرح اموات پر تشویش کا اظہارکیا ۔ یہ کم سے کم رہے ،اس پربھی ہمیں بہت زوردینا ہوگا۔ اس کا خاص سبب یہی ہے کہ وہ معمول کی زندگی جیتاہے ، معمولی بیماری جیسامان لیتاہے ، پورے کنبے میں پھیلادیتاہے ۔اورپھرایک حالت بگڑنے کے بعد اسپتال تک آتاہے ، پھرٹسٹنگ ہوتی ہے ، اوراس وقت تک معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکل جاتاہے ۔ہمارے پاس ہراسپتال سے اموات کے تجزیئے کی معمولات ہونی چاہیئں ۔ کس اسٹیج میں بیماری کا پتہ چلا ، کب ایڈمیشن ہوا ، مریض کو کونسی کونسی بیماریاں تھیں ، موت کے پیچھے دیگرکونسے کونسے عوامل رہے، یہ تفصیلات جتنی بھرپوری ہونگی ، اتنا ہی زندگیاں بچانے میں آسانی زیادہ ہوگی ۔

ساتھیو،

یہ آپ کے بھی علم میں ہے کہ ایمس دلی ہرمنگل واراورجمعہ کو اس موضوع پر ویبنارمنعقد کرتے ہیں ۔ جس میں ملک بھرکے ڈاکٹروں کی شرکت ہوتی ہے ۔ یہ مسلسل ہوتے رہناچاہیئں۔ سبھی ریاستوں کے اسپتال ان سے جڑتے رہیں ، جو نیشنل کلینکل منیجمنٹ پروٹوکول چل رہے ہیں ، ان کی معلومات سب کو رہے یہ بھی ضروری ہے ۔ اوریہ لگاتار کمیونیکیشن کی سہولت ہے ۔ جو میڈیکل فیکلٹی کے لوگ ہیں ، ان کو ان ہی زبان میں ، ان ہی کے لوگ سمجھائیں ، اس کا انتظام ہے ، اس کافائدہ بھی اٹھایاجاناچاہیئے ۔ اسی طرح ایمبولینس ، وینٹی لیٹرس اور آکسیجن کی دستیابی کی بھی لگاتارنگرانی ضروری ہے ۔ ابھی تک جب پچھلی بارہم کووڈ کے عروج کے دورمیں تھے ، آج بھی ملک میں آکسیجن کا اتنا استعمال نہیں ہورہاہے ۔ اوراس لئے ایک بار ہم چیزوں کا تجزیہ کرلیں ،رپورٹ کی ذرا توثیق کرلیں ہم ۔

ساتھیو ،

ہم ایک دن میں 40لاکھ کی ٹیکہ کاری کے آنکڑے کوپارکرچکے ہیں ۔ٹیکہ کاری پر کئی خاص نکتے اس گفتگوکے دوران ہمارے سامنے آئے ہیں۔دیکھئے ، ٹیکہ کاری میں بھی آپ کے افسران کو لگائیے ۔دنیا بھر کے خوشحال سے خوشحال ممالک جن کے پاس تمام سہولیات موجود ہیں ، انھوں نے بھی ٹیکہ کاری کے لئے جو پیمانے طے کئے ہیں ،بھارت ان سے الگ نہیں ہے ۔ آپ ذرامطالعہ تو کیجئے ،آپ پڑھے لکھے لوگ ، آپ کے پاس ہے ---ذرادیکھئے توسہی ۔

اورنئی ویکسینوں کی تیاری کے لئے جتنا بھی کوشش ہورہی ہے ، زیادہ سے زیادہ ٹیکہ کاری کے سامان کی تیاری کی استعداد ہے ، اس کے لئے بھی کام ہورہاہے اورویکسین کی تیاری سے لے کر اس کی ذخیرہ کاری اور اس کے کچرے وغیرہ کے انتظام جیسے ضروری نکات پربھی گفتگوہوئی ہے ۔ یہ بات صحیح ہے ، آپ کو معلوم کہ بھئی اتنی ویکسین بن پاتی ہے ۔ ابھی ایسا تو نہیں ہے کہ اتنی بڑی بڑی فیکٹریاں کوئی راتوں ورات لگ جاتی ہیں۔ جو ہمارے پاس موجود ہیں ہمیں اسی کو ترجیحی حیثیت دینی پڑے گی ۔ کسی ایک ریاست میں سارا مال رکھ کرکے ہمیں اس کا نتیجہ مل جائے گا ،یہ طرز فکر ٹھیک نہیں ۔ہمیں پورے ملک کا خیال کرکے ہی اس کا انتظام کرنا پڑے گا۔ کووڈ سے متعلق انتظام کاایک بہت بڑاحصہ ویکسین کو ضائع جانے سے بچانابھی ہے ۔

ساتھیو،

ٹیکہ کاری کے معاملے میں ریاستی سرکاروں کی صلاح ،تجاویز اوراتفاق رائے سے ہی ملک گیرحکمت عملی ترتیب دی گئی ہے ۔میری آپ سبھی لوگوں سے درخواست ہوگی کہ جواضلاع خاص توجہ کے مرکز ہیں ، ان میں 45سال سے زیادہ عمرکے افراد کے لئے ٹیکہ کاری کی لگاتارکوشش کی جانی چاہیئے ۔ ایک بارایک تو  حاصل کرکے دیکھئے ۔ میں ایک مشورہ دیتاہوں ۔کیونکہ  کبھی کبھی ماحول تبدیل کرنے کے لئے یہ چیزیں بہت کام آتی ہیں ۔ 11اپریل جس دن جیوتی باپھولے جی کا یوم پیدائش  ہے اور14اپریل ، باباصاحب یوم پیدائش ہے ۔ کیاہم 11اپریل سے 14اپریل تک اپنی پوری ریاست میں‘ ٹیکہ اتسو’مناسکتے ہیں، ایک پورا ماحول پیداکرسکتے ہیں ٹیکہ اتسوکا ؟

ایک خاص تحریک چلاکر ہم زیادہ سے زیادہ مستحق لوگوں کی ٹیکہ کاری کریں اورویکسین کو ضائع ہونے سے بچائیں ۔ یہ چاردن جوہیں ٹیکہ اتسومیں ویکسین بالکل ضائع نہیں ہوگی ، اس سے بھی ٹیکہ کاری کی استعداد میں اضافہ ہوگا۔ ہماری ٹیکہ کاری کی صلاحیت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ اس طرح ہم لوگ کریں ۔ اوراس کے لئے اگر ہمیں ٹیکہ کاری کے مراکز کی تعداد میں اضافہ بھی کرنا پڑے ، تو ہم وہ بھی کریں۔ پر ایک  بار دیکھیں کہ ہم 11سے 14اپریل ، کس طرح سے چیزوں کو موبلائز کرسکتے ہیں ، ایک حصولیابی کی آسودگی ملے گی ---ماحول کو تبدیل کرنے میں یہ بہت کام آئے گا ۔ اوربھارت سرکارسے بھی میں نے کہاہواہے کہ جتنی مقدارمیں ہم ٹیکہ کاری انجام دے سکتے ہیں ، ہمیں انجام دینے کی کوشش کرنا چاہیئے ۔ ہماری کوشش یہی  ہوناچاہیئے کہ اس ٹیکہ اتسومیں ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین کی خوراکیں دیں اوربھی مستحق طبقے کو ۔

میں ملک کے نوجوانوں سے  بھی اپیل کروں گا کہ آپ اپنے آس پاس کے بھی 45سال سے زیادہ عمروالے جو افراد ہیں ، ان کو ٹیکہ لگوانے میں مدد کریں ۔ میری نوجوانوں سے خاص طورپر اپیل ہے ---آپ صحت مند ہیں ، مستعدد ہیں ، آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں لیکن اگرمیرے ملک کا نوجوان کوروناکے جو معیاری ضابطہ عمل ہیں ، جو پروٹوکول ہیں ---فاصلہ قائم رکھنے والی بات ہے ، ماسک پہننے کا معاملہ ہے ، اگرمیرے ملک کا نوجوان اس پرعمل کرے گا توکوروناکی کوئی طاقت نہیں کہ وہ میرے نوجوان تک پہنچ جائے ۔

ہم پہلے اس احتیاط پرعمل کرنے کے لئے نوجوانوں پر زوردیں ۔نوجوانوں کو جتنا ہم ویکسین کے لئے مجبورکرناچاہتے ہیں ، اس سے زیادہ اس کو پروٹوکول کی پابندی کے لئے ترغیب دیں ۔ اگرہمارانوجوان اس کے لئے بیڑااٹھالے گا ---خود بھی پروٹوکول کی پابندی کرے گا اوردوسروں سے بھی کروائے گا ،توآپ دیکھئے وہی صورت حال جیسے ہم ایک بار کوروناکے   نقطہ ء عروج پرجاکر نیچے آئے تھے ،دوبارہ ہم آسکتے ہیں ۔ اس اعتماد کے ساتھ ہم پیش قدمی کرسکتے ہیں ۔

سرکارنے ایک ڈیجیٹل سہولیت قائم کی ہے جس سے لوگوں کو ٹیکہ کاری میں مدد مل رہی ہے اوربہت اچھا تجربہ ۔سب لوگ لکھتے ہیں کہ بھی مجھے بہت اچھاتجربہ ہوا ۔لیکن اس ڈیجیٹل سہولت سے جڑنے میں جسے بھی پریشانی آرہی ہے ، جیسے غریب خاندان ہیں ، ان لوگوں کو ٹکنالوجی کی معلومات نہیں ہے ---میں نوجوانوں سے کہنا چاہوں گا کہ ایسے کنبوں کی مدد کرنے کے لئے آپ آگے آیئے ۔ ہمارے این سی سی ہوں ، ہمارے این ایس ایس ہوں ، یہ ہماری ریاست کی جو حکومت کی جوسرکاری سہولیات ہیں ، ان کو ہم کام میں لگائیں تاکہ لوگوں کو تھوڑی مدد ملے ۔ ہمیں اس کی فکرکرنی چاہیئے ۔

شہروں میں ایک بہت بڑا طبقہ ہے جو غریب ہے ، بزرگ ہے ، جھگی جھونپڑیوں میں رہ رہاہے ، ان تک یہ باتیں پہنچایئے۔ ان کو ہم ٹیکہ کاری کے لئے لے جائیں ۔ یہ ہمارے رضاکاروں کو ، سول سوسائٹی کو، ہمارے نوجوانوں کو ہماری سرکاریں موبیلائز کریں اورانھیں ترجیحی بنیادوں پر ویکسین کی خوراک دلوانا اگرہماری کوشش رہے گی توہمیں ایک کارثواب کا اطمینان حاصل ہوگا، اورہمیں ان کی فکر ضرورکرنی چاہیئے ۔ ٹیکہ کاری کے ساتھ ساتھ ہمیں اس بھی دھیان رکھنا ہے ، کہ ویکسین لگوانے کے بعد بھی لاپرواہی نہ بڑھے ۔ سب سے بڑی پریشانی یہ ہوگئی ہے کہ بھئی اب مجھے کچھ ہوگا ہی نہیں ۔میں روزاول ہی سے کہہ رہاہوں کہ دوائی بھی اورکڑائی بھی ۔

ہمیں لوگوں کو یہ بارباربتاناہوگا کہ ویکسین لگائے جانے کے بعد بھی ماسک اوردیگرجو پروٹوکول ہیں ، اس کی پابندی لازمی ہے ۔افرادی سطح پر لوگوں میں ماسک اور احتیاط  کے حوالے جو لاپرواہی آئی ہے ، اس کے سلسلے میں پھرسے بیداری ضروری ہے ۔ بیداری سے اس مہم میں ہمیں ایک بارپھربااثرافراد سماجی انجمنوں اہم شخصیات ، اوپینین میکرز کو اپنے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ اوراس کے لئے میری اپیل ہے کہ گورنرنام کا اپنے یہاں جو ادارہ ہے اس کا بھی بھرپوراستعمال کیاجائے ۔

گورنرصاحب کی قیادت میں وزیراعلیٰ صاحب کی رہنما ئی میں کل جماعتی میٹنگ ریاست توسب سے پہلے کرلیں۔ریاستیں کل جماعتی میٹنگ منعقد کریں اور کل جماعتی میٹنگ کرکے قابل عمل نقطہ طے کریں ۔ پھرمیرایہ کہنا ہے کہ گورنرصاحب اوروزیراعلیٰ مل کرکے جتنے بھی منتخب لوگ   ہیں ، ان کا ورچوئل ویبنارکریں ۔ پہلے شہری اداروں کا کریں ، پھردیہی اداروں کا کریں ۔جتنے لوگ منتخب ہوکر آئے ہیں ان سے کریں ۔اوران کے سامنے سبھی آپ کی اسمبلی میں جو جیت کر لوگ آئے ہیں ، اس کے جو فلورلیڈرہیں ، سب خطاب کریں ،توایک مثبت پیغام پہنچنا اپنے آپ شروع ہوجائے گاکہ بھئی اس میں سیاست نہیں کرنی ہے ---سب کو مل کرکے کرنا ہے ۔تو میں سمجھتاہوں ایک تو یہ کوشش کرنی چاہیئے ۔

دوسراگورنرصاحب کی قیادت میں ---کیونکہ وزیراعلیٰ کے پاس بہت کام رہتے ہیں لیکن گورنرصاحب کی قیادت میں ایک آدھ چوٹی کانفرنس ، بڑا ویبناربھی کیاجائے اورجو شہرہو وہاں پرمقامی ہوتوسبھی مذہبی رہنماؤں کودعوت دے کر چوٹی کانفرنس ہوجائے اورباقی لوگوں کو ورچوئل طریقے سے شامل کیاجائے ۔ جو سول سوسائٹی کے لوگ ہیں ، ایک آدھ کانفرنس ان کی بھی کرلی جائے ۔جو سرکردہ شخصیات ہیں ، مصنفین ہیں ، فنکارہیں ، کھلاڑی ہیں ان کا بھی ایک بار ویبنارکرلیاجائے ۔

میں سمجھاتاہوں کہ یہ گورنرکے توسط سے اس قسم کے لگاتارطرح طرح کے سماجوں کے لوگوں کو جوڑنے کی ایک تحریک چلائی جائے اوریہی بات کہ بھی آپ ان ضابطوں کی پابندی کیجئے ، ٹسٹنگ پرزوردیجئے ۔ ہماراکیاہواہے ، ہم ایک دم ٹسٹنگ کو بھلاکر ویکسین پرچلے گئے ۔ ویکسین جیسے جیسے تیارہوگی ، جیسے جیسے پہنچے گی ---پہنچے گی ۔ہم نے لڑائی جیتی تھی بناویکسین کے ۔ ویکسین آئے گی کہ نہیں آئے گی اس کا بھی بھروسہ نہیں تھا---تب بھی ہم لڑائی جیتے ہیں ،توآج توہمیں اس طرح سے خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔لوگو ں کو خوف زدہ نہیں ہونے دینا ہے ۔

اگرہم نے جس طریقے سے یہ جنگ لڑی تھی ،اسی طریقے سے لڑائی کوجیت سکتے ہیں اورجیسا میں نے کہاکہ پورے کنبے کنبے کے زد میں آرہے ہیں ، اس کا بنیادی سبب جو مجھے نظرآتاہے ---پھربھی آپ لوگ اس کا تجزیہ کیجئے ---میں کسی کے سامنے اس کا دعویٰ نہیں کررہاہوں ۔ میں صرف آپ کی توجہ مبذول کرارہاہوں کہ غیرعلامتی اسباب سے شروع میں کنبے میں یہ پھیل جاتاہے اورپھراچانک خاندان میں جوپہلے سے بیمارشخص ہے یا جس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے ---وہ ایک دم سے نئی مصیبت میں آجاتاہے اورپھر پورا کنبہ اس مصیبت کی زد میں ہوتاہے ۔

اوراس لئے میری اپیل ہے کہ ہمیں انتہائی گرم جوشانہ طورپر ٹسٹنگ کے لئے زوردینا ہوگا۔ ہمارے پاس سہولیات ہیں ۔ ہندوستان کے ہرضلع میں تجربہ گاہیں بن چکی ہیں ۔ ہم نے ایک لیب سے شروع کیاتھا ، آج ہرضلع میں لیب پہنچ گئی ہے ۔اورہم اگراس چیز پرزورنہ دیں تو کیسے ہوگا؟

اس لئے میرا مشورہ ہے ---جہاں تک سیاست کرنے نہ کرنے کا سوال ہے ---میں توپہلے دن سے ہی دیکھ رہاہوں ---طرح طرح کے بیانوں جھیل رہاہوں ، لیکن میں کبھی منھ کھولتانہیں ہوں ۔ کیونکہ میں مانتاہوں کہ ہندوستان کے لوگوں کی خدمت کرنا ہمارا مقدس فریضہ ہے ---ہمیں خدانے اس  وقت اس سنگین صورت حال میں خدمت کرنے کی ذمہ داری دی ہے ---ہمیں اس کو اداکرنا ہے ۔جو سیاست کرنا چاہتے ہیں وہ کررہے ہیں ---ان کے بارے میں مجھے کچھ نہیں کہنا ہے ۔لیکن ہم سبھی وزرائے اعلیٰ اپنی ریاست کی سبھی پارٹیوں کو بلاکرکے ، سبھی طرح کے لوگوں کو ساتھ رکھ کرکے ---اپنی ریاست میں صورت حال کو بدلنے کے لئے آگے آئیں گے ---مجھے یقین کامل ہے کہ اس مصیبت کو بھی ہم دیکھتے  ہی دیکھتے  پارکرکے نکل جائیں گے ۔

پھرایک بارمیرایہی منترہے دوائی بھی کڑائی بھی ۔اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ مت کیجئے ---میں نے پچھلے باربھی کہاتھا کہ آپ نے  زکام کی دوالے لی اورباہربارش آرہی ہے ---آپ کہیں میں چھتری کا استعمال نہیں کروں گا ---یہ نہیں چل سکتاہے ۔آپ کو اگرزکام ہواہے ، دوائی لی ہے ، ٹھیک ہوئے ہیں ، توبھی اگربارش آرہی ہے تو آپ کو چھتری رکھنی ہی پڑے گی، رین کوٹ پہنناہی پڑے گا ۔ویسے ہی یہ کورونا ایک ایسی بیماری ہے جیسے ہرپروٹوکول میں پابندی کرتے ہیں ، اس کو بھی کرنا پڑے گا۔

اورمیں کہوں گا کہ جیسے ہم نے پچھلی بارکوروناپرقابو پایاتھا ، ویسے ہی ہم اس بار بھی کرلیں گے ۔ مجھے پختہ یقین ہے اورمیراآپ پربھروسہ ہے ، آپ اگراقدام کریں گے ، فکرکریں گے اور ٹسٹنگ پرتوجہ دیں گے ۔ٹیکہ کاری کی سہولت ایک لمبے عرصے کے لئے ہے جو مسلسل چلانی ہوگی ---وہ ہم چلاتے رہیں گے ---آج ہم زوراس پردیں اورجو ٹیکہ اتسو ایک پیش رفت کرنے کے لئے طے کیاہے ، اس ٹیکہ اتسوپر ہم ایک نئی کامیابی حاصل کریں ۔ ایک نیا اعتماد پیداکرنے کے لئے ایک چھوٹا سے موقع کام آسکتاہے ۔

میں پھرایک بارآپ کے مشوروں کا انتظارکروں گا ۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Pvt sector banks log robust growth in deposits and advances in Q1FY27

Media Coverage

Pvt sector banks log robust growth in deposits and advances in Q1FY27
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
When there is a government with the resolution of Nation First, then national heroes also get due respect: PM Modi
July 06, 2026
We pay homage to a great son of India whose unwavering commitment to national unity continues to inspire generations: PM
When there is a government with the resolution of Nation First, then national heroes also get due respect: PM
Dr. Mookerjee fiercely opposed the talk of two constitutions, two prime ministers, and two flags in the country: PM
He understood very well that the essence of nation-building is in the building of institutions : PM
Dr. Mookerjee laid the foundation for such national institutions which became India's economic strength for decades to come: PM

Union Cabinet colleagues Amit Bhai Shah, Gajendra Singh Shekhawat, West Bengal’s dynamic Chief Minister Shubhendu Adhikari, senior BJP member and inspiration to lakhs of workers like me, Shri Makhanlal ji, BJP state president Shamik Bhattacharya, esteemed public representatives, distinguished guests, ladies and gentlemen!

My greetings to all of you!

Due to my pre-scheduled program, I am currently traveling. But with the help of technology, I am able to join you in this historic event.

Friends,

Today, the soil of our nation, the soil of West Bengal, is reverently remembering one of its great sons - a great patriot, a visionary dedicated to India’s integrity. Today we celebrate the seed of thought he planted, which is flourishing everywhere in the present time, playing a major role in guiding modern India.

Friends,

When ideas are rooted in the ground, when intentions are strong and pure, when new resolutions are pursued with complete dedication, and when all these links come together, success is inevitable. Dr. Syama Prasad Mookerjee lived such a life. On the occasion of his 125th birth anniversary, I bow to him and offer my tribute.

Friends,

This program is also testimony to the fact that when there is a government committed to Nation First, national heroes are honored and efforts are made to walk in their vision. Our government is celebrating Dr. Mookerjee’s 125th birth anniversary as a two-year national festival. It began last year on July 6 and will continue until July 6 next year. And now, with a BJP government in Bengal, this national honor has gained even more grandeur. Just a few days ago, on June 20, West Bengal Day was celebrated in a grand manner. That was a salute to Bengal’s land and heritage. Today’s program is part of that same respect for heritage. I warmly congratulate the West Bengal government for organizing such a magnificent event.

Friends,

Dr. Mookerjee’s life is an inspiration - from an idea to a mass movement. He gave birth to an ideological movement in India. At the time when the Jana Sangh was founded, Congress dominated everywhere. In such an era, when there was no space for alternative thought, when even finding a foothold was difficult, Dr. Mookerjee challenged those circumstances and had the courage to create a new idea. It was not merely the decision to form an organization or a political party. It was the expression of his unwavering faith in ideological diversity, national thought, and public participation in democracy. From this faith, the Bharatiya Jana Sangh was born.

Friends,

No idea becomes immortal merely by its founding. An idea becomes immortal when generations nurture it with their lives. To keep the flame of the Jana Sangh alive, lakhs of workers dedicated their lives, moment by moment, sacrifice by sacrifice. They never let that flame die. Today, even if the Jana Sangh is not visible in its original form, the light of that flame has spread as the trust of crores of Indians. That light today shines across the nation in the form of millions of blooming lotuses. What was once the Jana Sangh is today the Bharatiya Janata Party - the world’s largest democratic force, serving the people.

Friends,

Often we see that with time, some ideas lose their appeal. But think - how powerful was the seed of thought planted by Dr. Mookerjee, that even after so many years, it continues to expand rapidly. I am confident that when future generations write the history of the BJP’s journey, when they study it, they will certainly mention Dr. Syama Prasad Mookerjee’s ideas, his courage, and his foresight. And I will say again - for Bengal, this is a double joy. First, the 125th birth anniversary of Dr. Mookerjee. And second, this grand celebration in Bengal itself, under a BJP government born from his vision. This is a heartfelt tribute from the people of West Bengal to their great son.

Friends,

In one of his speeches in Parliament, Dr. Mookerjee said something that continues to inspire us even today. He said: “On the foundation of national unity alone can the edifice of a golden future be built.” And indeed, India can proudly say that Dr. Mookerjee lived this belief until his last breath. In 1947, when the country was divided and another crisis loomed - conspiracies were being hatched to separate the whole of Bengal from India. At that time, Dr. Mookerjee stood like a rock against these plots. He mobilized public opinion, fought political battles, and ensured that West Bengal remained an integral part of India. It was then that Dr. Syama Prasad Mookerjee thundered: “Congress desh bhag korechhe, ami Pakistan ke bhag korechhi.” Meaning, Congress divided the country, but I divided Pakistan itself.

Friends,

That roar, that strength, the political will it displayed - we can still feel its power when we look at today’s circumstances.

Friends,

Dr. Mookerjee was fully dedicated to the vision of Ek Bharat, Shreshtha Bharat. That is why, when the idea of two constitutions, two prime ministers, and two flags was raised, he strongly opposed it. He gave the nation the mantra: “Ek deshe dui bidhan, dui prodhan ebong dui nishan - amra kokhono mene nebo na.” In other words: “In one country, two constitutions, two prime ministers, and two flags - will not be accepted, will not be accepted.” This was not just a slogan. It was a call for equal rights, one constitution, and a unified national consciousness. He fought for these principles, went to jail, and ultimately gave his supreme sacrifice for Kashmir. Today, our government is proud that by removing Article 370, we fulfilled Dr. Mookerjee’s dream.

Friends,

When we speak of Ek Bharat, Shreshtha Bharat today, it is the expansion of that same national vision defined by Dr. Mookerjee’s life. A vision of an India where there is no distance between North and South, where East and West share equal opportunities, where every state contributes its unique identity to India’s collective strength, and where every citizen is bound by one constitution, one national spirit, and one shared future. I am glad that inspired by Dr. Mookerjee, India’s constitution today applies across the nation with full dignity, inspiring millions of citizens.

Friends,

Dr. Mookerjee understood well that nation-building lies in institution-building. At just 33 years of age, he became the youngest Vice-Chancellor of Calcutta University. But he did not see that position as merely administrative. He saw the university as an institution shaping India’s future. He sought to free education from the mindset of colonial servitude. He said: “Bongo-jatir atto-shomman punor-uddhar ebong matri-bhashar madhyome shikkhar proshar ei amader prodhan lokkho howa uchit.” Meaning, restoring the self-respect of Bengal’s people and spreading education through the mother tongue should be our foremost goal. He believed that if India was to become a confident nation, its education must be rooted in the Indian soul. With this vision, he gave respect to Indian languages. Today, we are proud that under the new National Education Policy, emphasis is being placed on education in local languages - fulfilling the dream Dr. Mookerjee once saw.

Friends,

As independent India’s first Industry Minister, he laid out a broad vision for industrial development. He established national institutions that became the pillars of India’s economic strength for decades. Chittaranjan Locomotive Works gave new momentum to India’s railways. Sindri Fertilizer Plant was a major step toward agricultural self-reliance. Damodar Valley Corporation opened a new chapter in energy and irrigation. The Industrial Finance Corporation of India (IFCI) provided a financial foundation for Indian industries.

Friends,

For him, industries and factories were not just workshops. Universities were not just places to hand out degrees. Research institutions were not just sites for experiments. For him, all these were centers of national devotion. He believed in institutions that gave talent opportunities, education that encouraged innovation, industries that became the basis of self-reliance, and systems that empowered future generations to inherit a stronger India. This spirit is the inspiration behind today’s vision of a developed India.

Friends,

On this occasion, I say to the youth of Bengal and of the entire nation: Dr. Mookerjee dedicated his life for Ek Bharat. We must live for Shreshtha Bharat. Together, we must fulfill the resolve of a developed India. We must make the nation self-reliant. With this call, I once again bow to Dr. Mookerjee. And I will end with his own words, his own spirit: “Je kaj ei hate nao na keno, ta atyononto gurutto shohokare korte hobe.” Meaning: Whatever work you begin, do it with utmost seriousness, with dedication, with complete sincerity. Never leave any work incomplete - always see it through to the end. With this flowing inspiration from Dr. Mookerjee’s words, I extend my heartfelt best wishes to all of you.

Thank you very much!