ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل،
معزز مہمانان گرامی،
خواتین و حضرات،

نمسکار!

آپ کی پرتکلف میزبانی اور مجھے “ایگریکولا میڈل” سے نوازنے پر میں ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہندوستان کے بارے میں ان کے دوستانہ الفاظ اور ایف اے او میں برسوں کی خدمات کے لیے میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

یہ صرف میرا اعزاز نہیں ہے۔ یہ ہندوستان کے کروڑوں کسانوں، مویشی پروری سے وابستہ افراد، ماہی گیروں، زرعی سائنس دانوں اور ہمارے محنت کشوں کا اعزاز ہے۔ یہ ہندوستان کے اس مضبوط عزم کا بھی اعتراف ہے ،جس کے مرکز میں انسانی فلاح، غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی شامل ہے۔ میں اس میڈل کو انتہائی عاجزی کے ساتھ قبول کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے ان داتاؤں(اناج پیدا کرنے والوں)کے نام وقف کرتا ہوں۔

دوستو!

ہندوستانی تہذیب میں زراعت صرف فصلیں اگانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ اسے انسان اور  ماتر بھومی کے درمیان ایک گہرے اور مقدس تعلق کا درجہ حاصل ہے۔

ہندوستان میں زراعت زندگی کی بنیادی عنصر ہے۔ یہ ہماری ثقافت کا لازمی حصہ ہے اور ہمارے اخلاقی و سماجی اقدار کا عکس ہے۔ ہمارے یہاں زمین کو ’ماں‘اور کسان کو ’زمین کا بیٹا’ کہا جاتا ہے۔ ہزاروں سال پرانے یہی اقدار آج بھی ہماری جدوجہد کے لیے باعث تحریک ہیں۔

 

دوستو!

ہزاروں سال کی تعلیم اور ہندوستان کی زرعی روایت کے ساتھ آج ہمارا ملک زرعی شعبے میں سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت پر مبنی طریقۂ کار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

دوستو!

ہم صرف پیداوار بڑھانے کے لیے ہی نہیں بلکہ ایک ایسا زرعی نظام (فارمنگ ایکو سسٹم) بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں جو پائیدار بھی ہو، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں مضبوط (کلائمٹ ریزیلینٹ) بھی ہو اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق بھی ہو۔ اسی لیے پورے ہندوستان میں سائنسی زراعت کو مشن موڈ میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

سائل ہیلتھ کارڈز کی مدد سے ہم کسانوں کو مٹی کی سائنسی جانچ اور غذائی اجزاء کی بنیاد پر رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔

’پرڈراپ، مور کراپ‘جیسے پروگرام مائیکرو اریگیشن اور پریسیژن فارمنگ کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ کسان کم پانی میں زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں۔

دوستو!

ٹیکنالوجی آج ہندوستانی زراعت کی نئی طاقت بن رہی ہے۔ ایگریک سٹیک جیسے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے، اے آئی پر مبنی مشاورتی نظام، ڈرونز، ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجیز اور سینسر بیسڈ مشینری ہندوستان میں زراعت کو زیادہ اسمارٹ اور ڈیٹا ڈرون بنا رہی ہیں۔ آج دیہات کا چھوٹا کسان بھی موبائل ٹیکنالوجی کے ذریعے موسم کی معلومات، فصلوں سے متعلق مشورے اور مارکیٹ کی معلومات تک رسائی حاصل کر رہا ہے اور ہندوستان موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق مضبوط (کلائمٹ ریزیلینٹ) زراعت پر بھی تیزی سے کام کر رہا ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں ملک میں تقریباً 3000 کلائمٹ ریزیلینٹ (موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں مضبوط فصلوں کی اقسام)فصلوں کی اقسام تیار کی گئی ہیں۔ تین ہزار- اس سے ملک کے کروڑوں کسانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

ساتھیو!

ہم  مانتے ہیں کہ زراعت کا مستقبل صرف ’زیادہ پیداوار‘ میں نہیں بلکہ ’بہتر پیداوار‘ میں ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ حیاتیاتی تنوع (بایو ڈائیورسٹی) کو بڑھانے اور کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کا تجربہ دنیا کو یہ دکھا رہا ہے کہ وسعت (اسکیل) اور پائیداری (سسٹین ایبلیٹی) ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں، ٹیکنالوجی اور شمولیت ایک دوسرے کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور سائنس پر مبنی زراعت عالمی غذائی تحفظ کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔

دوستو!

آج ہندوستان میں زراعت کی شکل تیزی سے بدل رہی ہے۔ ہندوستان خوراک کی اضافی پیداوار رکھنے والا ملک (فوڈ سرپلس نیشن) ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی غذائی تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ دودھ اور مصالحہ کی پیداوار میں ہندوستان سرفہرست ہے۔ چاول، گندم، پھل، سبزیاں اور کپاس کی پیداوار میں بھی ہندوستان سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ ہندوستان کی زرعی برآمدات 2020 میں 35 ارب ڈالر سے بڑھ کر گزشتہ برس 51 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔

 

دوستو!

یہ کامیابیاں اس لیے اہم ہیں ،کیونکہ ہندوستان کے پاس دنیا کی صرف ڈھائی فیصد زرعی زمین ہے، لیکن دنیا کی 18 فیصد آبادی ہندوستان میں رہتی ہے۔ ہندوستان کا کامیاب تجربہ پورے گلوبل ساؤتھ کو نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہمارے لیے غذائی تحفظ صرف ایک پالیسی معاملہ نہیں ،بلکہ انسانیت کے تئیں ہماری ذمہ داری ہے۔

دوستو!

ہندوستان کا ایف اے او کے ساتھ تعاون کئی دہائیوں پرانا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ڈاکٹر سوامی ناتھن اور ڈاکٹر بینوئے رنجن سین جیسے عظیم سائنس دانوں نے ایف اے او کے ساتھ وابستہ ہو کر عالمی غذائی تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔ ہندوستان ہمیشہ سے یہ مانتا آیا ہے کہ جب سائنس، پالیسی اور انسانی اقدار ایک ساتھ آتے ہیں تو تاریخ بدل جاتی ہے۔ بانی رکن کے طور پر ہندوستان نے ایف اے او کے ساتھ مل کر عالمی غذائی تحفظ، پائیدار زراعت اور بھوک سے پاک دنیا کے اہداف کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ ہماری شراکت کی بہترین مثال ہمیں “انٹرنیشنل ایئر آف ملیٹس” کے دوران دیکھنے کو ملی۔ ایف اے او کے تعاون سے دنیا نے باجرے کی اہمیت کو ایک نئے انداز میں پہچانا۔ ہم آئندہ بھی کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتے رہیں گے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی میں باجرے (ملیٹس) کے بارے میں بات کرتا ہوں تو ہر کسی کی توجہ غذائیت کی طرف جاتی ہے، لیکن ملیٹس ایک ماحول دوست فصل بھی ہے۔ اس کے لیے بہت کم پانی درکار ہوتا ہے اور یہ بغیر کیمیائی کھادوں کے بھی اگ سکتی ہے۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں 85 فیصد کسان چھوٹے اور محدود زمین رکھنے والے ہیں۔ جہاں آبپاشی کی سہولت نہیں ہے اور جہاں صرف بارش پر انحصار کرنا پڑتا ہے، وہاں کے کسان باجرےکی کاشت کے ذریعے نہ صرف غذائیت کی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ ماحول کے تحفظ میں بھی بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔

 

دوستو!

ہندوستان میں ہم کہتے ہیں: ’جے جوان، جے کسان‘۔ جب کسان ایک بیج بوتا ہے تو وہ صرف فصل نہیں اگاتا، وہ آنے والی نسلوں کے لیے اعتماد بھی بوتا ہے۔ آج جب دنیا غیر یقینی اور عدم استحکام کے دور سے گزر رہی ہے، تو کسانوں کا کردار اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ آج جو اعزاز دیا گیا ہے، وہ  ہندوستان کے ہر کسان کے عزم کو مزید مضبوط کرے گااور آئندہ بھی بھوک، غربت اور غذائی کمی کے خلاف عالمی کوششوں میں ہندوستان اپنی پوری وابستگی کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ جیسا بتایا گیا کہ کل آپ چائے کا دن منانے والے ہیں، تو چائے کا دن منانے کے لیے چائے والا ایک دن پہلے ہی آپ کے درمیان آ گیا ہے۔ ہندوستان میں چائے کی اقسام بھی بہت ہیں اور چائے کی طاقت بھی بہت زیادہ ہے۔

 

دوستو!

ہندوستان میں ہم کہتے ہیں: ’جے جوان، جے کسان‘۔ جب کسان ایک بیج بوتا ہے تو وہ صرف فصل نہیں اگاتا، وہ آنے والی نسلوں کے لیے اعتماد بھی بوتا ہے۔ آج جب دنیا غیر یقینی اور عدم استحکام کے دور سے گزر رہی ہے، تو کسانوں کا کردار اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ آج جو اعزاز دیا گیا ہے، وہ  ہندوستان کے ہر کسان کے عزم کو مزید مضبوط کرے گااور آئندہ بھی بھوک، غربت اور غذائی کمی کے خلاف عالمی کوششوں میں ہندوستان اپنی پوری وابستگی کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ جیسا بتایا گیا کہ کل آپ چائے کا دن منانے والے ہیں، تو چائے کا دن منانے کے لیے چائے والا ایک دن پہلے ہی آپ کے درمیان آ گیا ہے۔ ہندوستان میں چائے کی اقسام بھی بہت ہیں اور چائے کی طاقت بھی بہت زیادہ ہے۔

ایک بار پھر میں ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

آپ سب کا بھی میں بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Small towns emerge big growth driver for connected TV in India

Media Coverage

Small towns emerge big growth driver for connected TV in India
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Chairs Third High-Level Meeting with Secretaries to Government of India
August 20, 2026
PM urges Secretaries to think with a long-term perspective on how the country’s future should be shaped
PM says data is a national asset and a resource for the future; calls for greater interoperability and effective use of data
PM says that silos are not merely an organisational problem but also a problem of mindset; urges officials to work with a spirit of belongingness
PM highlights importance of informal interaction and building team spirit among officers
PM calls for greater engagement between government departments, universities and young people to bring fresh perspectives in policymaking
PM calls for effective use of AI while ensuring human intervention and judgement
PM emphasises the need to further strengthen India’s defence industry and make it more competitive at global level
Secretaries share perspective on key priorities and implementation challenges

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the third high-level meeting with Secretaries to the Government of India at his residence at 7, Lok Kalyan Marg earlier today. He discussed the future action agenda of Ministries and Departments dealing with Infrastructure and Connectivity, Security and External Affairs, and Governance.

Noting that deliberations had already been held with two groups of Secretaries, Prime Minister said that Secretaries, in addition to thinking about immediate issues and statistics, should also think with a long-term perspective on how the country’s future should be shaped.

Discussing the challenge of overcoming silos, Prime Minister stressed that silos are not merely an organisational problem but also a problem of mindset. He said silos can be both horizontal and vertical. He stressed that officials must take ownership of their responsibilities and work with a spirit of belongingness.

Emphasising the importance of collective effort, Prime Minister cited the experience of the COVID-19 pandemic and the West Asia crisis, when officials across departments worked together effectively. He said that such coordination mechanisms should become a natural part of the government’s work culture.

Prime Minister called for effective use of Artificial Intelligence while ensuring human intervention and judgement. He called for exploring innovative ways of combining the capabilities of AI with human expertise.

Prime Minister emphasised that data is a national asset and a resource for the future. He noted that the government invests resources in collecting, storing and managing data, but its full potential is not always realised because of departmental silos and fragmented systems. He pointed to differences in the manner in which data is collected and managed for various purposes, and called for finding solutions that enable greater interoperability and effective use of data.

Prime Minister called for greater engagement between government departments, universities and young people to bring fresh perspectives in policymaking. He said wider engagement with universities and young people can bring new and unconventional ideas.

Prime Minister also called for greater focus on research and innovation, including in the defence sector. He emphasised the need to further strengthen India’s defence industry and make it more competitive at the global level. He stressed the importance of developing innovative defence courses and strengthening human resource development in the defence sector.

Prime Minister also discussed the need for a comprehensive approach to strengthening India’s maritime sector. He recalled that shipbuilding was accorded infrastructure status and called for assessing whether the intended objectives are being achieved in mission mode. He reiterated the need for India to move from port development to port-led development.

Prime Minister emphasised the need for better connectivity between manufacturing units and export-oriented units, so that India’s manufacturing and export capabilities can fully benefit from its maritime infrastructure.

Prime Minister concluded by reiterating the need for a whole-of-government approach, greater coordination, innovative thinking and collective ownership to address complex challenges and shape India’s future with a long-term perspective.

Prime Minister underlined the importance of informal interaction and building team spirit among officers. He encouraged senior officers to develop greater personal and informal engagement with junior colleagues and to build stronger networks across cadres and departments.

The Secretaries shared their experiences on sectoral priorities, emerging challenges and implementation issues. The meeting was attended by the Cabinet Secretary, Secretaries of key Ministries and Departments, and senior officials from the Prime Minister’s Office.