این ایف ایس اے کے تمام مستفیدین کے لئے فی ماہ پانچ کلو گرام فی شخص کو مفت معیاری اور بہتراناج دسمبر2022 تک جاری رہے گا
پردھان منتری غریب کلیان انّ یوجنا کے تحت اب تک 6 مرحلوں میں 3.45 لاکھ کروڑ روپے کی تخمینہ سبسڈی فراہم کی گئی ہے
اکتوبر سے دسمبر تک پردھان منتری غریب کلیان انّ یوجنا کے مرحلہ 7 میں44762 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سبسڈی آئے گی
​​​​​​​مرحلہ 7 میں غذائی اجناس کی مجموعی نکاسی 122 لاکھ میٹرک ٹن کے بقدر متوقع ہے
مرحلہ 7 میں پی ایم جی کے اے وائی کے لئے اناج کے اعتبار سے مجموعی نکاسی تقریباً 122 لاکھ میٹرک ٹن کے بقدر متوقع ہے۔مرحلہ ایک سے 7 کے لئے غذائی اجناس لگ بھگ تقریباً1121 لاکھ میٹرک ٹک مختص کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے 7 جون 2021 کو قوم سے اپنے خطاب کے ذریعہ کئے گئے  عوام حامی  اعلان کی روشنی میں مرکزی کابینہ نے مرحلہ 7 میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں  مزید تین ماہ (اکتوبر2022-دسمبر2022) کے لئے  پردھان منتری غریب کلیان انّ یوجنا  (پی ایم جی کےاے وائی) کی  توسیع کومنظوری  دے دی ہے۔

اس فلاحی اسکیم کے تحت نیشنل فوڈ سکورٹی ایکٹ (این ایف ایس اے )انتودیہ انّ یوجنا اور ترجیحی ہاؤس ہولڈ کے تحت احاطہ کئے گئے تمام مستفیدین نیز راست فائدے کی منتقلی ڈی بی ٹی کے تحت احاطہ کئے گئے  تمام لوگوں کے لئے مفت پانچ کلو گرام اناج ہر ماہ فی شخص کو فراہم کیا گیا ہے۔

حکومت ہند کے لئے پی ایم جی کے اے وائی کے مرحلہ 6 تک تقریباً 3.45 لاکھ کروڑ روپے کی  مالی پیچیدگی رہی ہے۔اس اسکیم کے مرحلہ 7 کے لئے تقریباً44762 کے اضافی اخراجات کے ساتھ پی ایم جی کے اے وائی کے مجموعی اخراجات تمام مرحلوں کے لئے تقریباً 3.91 لاکھ کروڑ روپے ہوگی۔

مرحلہ 7 میں پی ایم جی کے اے وائی کے لئے اناج کے اعتبار سے مجموعی نکاسی تقریباً 122 لاکھ میٹرک ٹن  کے بقدر متوقع ہے۔مرحلہ ایک سے 7 کے لئے غذائی اجناس لگ بھگ تقریباً1121 لاکھ میٹرک ٹک مختص کیا گیا ہے۔

اب تک پی ایم جی کے اے وائی 25 مہینوں کے لئے  کام کررہا ہے،جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

  1. مرحلہ ایک اور دو (8ماہ) اپریل2020 سے نومبر2021 تک۔
  2. مرحلہ تین سے 5 (11 ماہ) مئی2021 سےمارچ2022 تک۔
  3. مرحلہ 6 (6 ماہ) اپریل2022 سےستمبر2022 تک۔

پی ایم غریب کلیان انّ یوجنا کووڈ-19 بحران کے مشکل دور میں شروع ہوئی تھی جس کے تحت اب تک  غریبوں، ضرورت مندوں اور محروم گھروں اور مستفیدین کو خوراک کی  یقینی  فراہمی کی گئی ہے۔جس سے کہ وہ مناسب اناج کی عدم دستیابی سے محروم نہ رہ سکیں۔ ماہانہ  اناج کی مقدارکی فراہمی کو دوگنا کردیا گیا ہے  جو عام طور پر مستفیدن کو  فراہم کی جاتی تھی۔

سابقہ مرحلوں کے تجربہ کی روشنی میں پی ایم غریب کلیان انّ یوجنا-7 کی کارکردگی اسی اعلیٰ سطح پر ہونے کی توقع ہے جیسا کہپہلے حاصل کی گئی ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”