وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی نے این ٹی پی سی لمیٹڈ کو اختیارات میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری مہارتنا مرکزی عوامی شعبے کے اداروں (سی پی ایس ایز) کے لیے اختیارات کی موجودہ ہدایات سے ہٹ کر دی گئی ہے، تاکہ این ٹی پی سی لمیٹڈ اپنی ذیلی کمپنی این ٹی پی سی گرین انرجی لمیٹڈ (این جی ای ایل) میں سرمایہ کاری کر سکے۔ اس کے بعد این جی ای ایل، این ٹی پی سی رینیوایبل انرجی لمیٹڈ (این آر ای ایل) اور اس کی دیگر مشترکہ منصوبہ (جے ویز) یا ذیلی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ سرمایہ کاری پہلے سے منظور شدہ حد 7500 کروڑ روپے سے بڑھا کر20000 کروڑ روپے تک کی جا سکتی ہے۔ یہ فیصلہ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں اضافے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ2032 تک 60 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی کی پیداواری صلاحیت حاصل کی جا سکے۔

 این ٹی پی سی اور این جی ای ایل کو دئے گئے اختیارات سے ملک میں قابل تجدید منصوبوں کی تیزی سے ترقی میں سہولت فراہم ہوگی۔  یہ اقدام بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں قابل اعتماد ، چوبیس گھنٹے بجلی کی رسائی فراہم کرنے میں سرمایہ کاری کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا ۔

قابل تجدید توانائی کے پروجیکٹ تعمیراتی مرحلے کے ساتھ ساتھ او اینڈ ایم مرحلے کے دوران مقامی لوگوں کے لیے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا کریں گے ۔  اس سے مقامی سپلائرز ، مقامی کاروباری اداروں/ایم ایس ایم ایز کو فروغ ملے گا اور ملک میں روزگار اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے علاوہ ملک کے اندر کاروباری مواقع کی حوصلہ افزائی ہوگی ۔

ہندوستان نے اپنی توانائی کی منتقلی کے سفر میں غیر رکازی ایندھن کے ذرائع سے پیرس معاہدے میں اس کے قومی سطح پر طے شدہ شراکت کے تحت طے شدہ ہدف سے پانچ سال پہلے اپنی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت کا 50فیصد تک پہنچ کر ایک سنگ میل حاصل کیا ہے۔ ملک کا 2030 تک 500 گیگا واٹ غیر فوسل توانائی کی صلاحیت تک پہنچنے کا ہدف ہے ۔ ایک مرکزی عوامی شعبے کے اداروں اور ملک کی معروف پاور یوٹیلیٹی کے طور پر ، این ٹی پی سی کا مقصد 2032 تک قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں 60 گیگاواٹ کا اضافہ کرنا ہے جس سے ملک کو مذکورہ ہدف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور 2070 تک ’خالص صفر‘ اخراج کے بڑے مقصد کی طرف بڑھنے میں مدد ملے گی۔

این جی ای ایل، این ٹی پی سی گروپ کا ایک ذیلی ادارہ ہے، جو نامیاتی اور غیر نامیاتی ترقی کے ذریعے قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ نامیاتی ترقی کایہ منصوبہ بنیادی طور پر این جی ای ایل کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی این آر ای ایل کے ذریعے پوراکرنے کی تجویز ہے۔ این جی ای ایل نے آر ای پروجیکٹ کی ترقی کے لیے مختلف ریاستی حکومتوں اور سی پی ایس یو کے ساتھ کیوریٹڈ شراکت داری بھی قائم کی ہے۔ این جی ای ایل کے پاس ~32 جی ڈبلیو آر ای صلاحیت کا پورٹ فولیو ہے۔ اس میں ~ 6 جی ڈبلیو آپریشنل صلاحیت، ~ 17 جی ڈبلیو کنٹریکٹ/ منظورشدہ صلاحیت اور ~ 9 جی ڈبلیو منصوبے میں شامل ہیں۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Kamal Haasan Backs PM Modi's Call To Save Energy Amid US-Iran War: 'India Will Emerge Stronger'

Media Coverage

Kamal Haasan Backs PM Modi's Call To Save Energy Amid US-Iran War: 'India Will Emerge Stronger'
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister condoles the loss of lives in China mining accident
May 23, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi today expressed deep sadness over the tragic loss of lives resulting from a mining accident in the Shanxi Province of China.

On behalf of the people of India, the Prime Minister extended his heartfelt condolences to President Xi Jinping and the people of China. Shri Modi prayed that the bereaved families find strength in this tragic hour, while also wishing for the early and safe recovery of all remaining missing persons.

The Prime Minister posted on X:

"Saddened by the loss of lives in a mining accident in Shanxi Province in China. On behalf of the people of India, my condolences to President Xi Jinping and the people of China. May the bereaved families find strength in this tragic hour. Praying for the early and safe recovery of all remaining missing persons."