وزیراعظم جناب نریندرمودی کی زیرصدارت مرکزی کابینہ نے مرکز کے ذریعہ اسپانسرکردہ اسکیم (سی ایس ایس ) فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس (ایف ٹی ایس سی ) کو یکم اپریل 2023سے 31مارچ 2026تک کے لئے جاری رکھنے کو منظوری دی ۔ جس کے لئے 1952.23کروڑروپے کی لاگت  (مرکزی حصہ کے طورپر1207.24کروڑروپے اورریاستی حصے کے طورپر744.99کروڑروپے ) آئے گی ۔مرکزی حصے کے لئے رقم نربھیہ فنڈسے کرائی جائیگی ۔ یہ اسکیم 02اکتوبر 2019کو شروع کی گئی تھی ۔

خواتین اوربچوں کی حفاظت اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کی غیرمتزلزل ترجیح اس کے کئی اقدامات سے ظاہرہوتی ہے ،جیسے‘‘ بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھاؤ’’پروگرام ۔لڑکیوں اورخواتین کی عصمت دری کے معاملات نے ملک کو بہت زیادہ متاثرکیا ہے ۔ ایسے معاملات کی تعداد اور مرتکب افراد کے خلاف مقدمے کی طوالت نے ایسے وقف شدہ عدالتی نظام کے قیام کو ضروری بنایا جو کہ عدالتی کارروائی تیزی لاسکے اور جنسی جرائم کا شکارہونے والوں کو فوری طورپرراحت فراہم کراسکے ۔ اس کے نتیجے میں مرکزی حکومت نے’ مرکزی حصہ کے طورپر‘‘ فوجداری قانون (ترمیم ) ایکٹ 2018’’وضع کیا۔جس میں عصمت دری کے مجرموں کے لئے سزائے موت سے سخت سزا شامل ہے ۔ اسی کے نتیجے میں فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس کی تشکیل کی گئی۔

وقف شدہ عدالتوں کے طورپرڈیزائن کی گئیں ایف ٹی ایس سیزسے توقع کی گئی کہ وہ  تیزی کے ساتھ انصاف فراہم کرانے کو یقینی بنائیں گی اور متاثرین کو فوری طورپرراحت پہنچائیں گی ۔جب کہ اس سے جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے ایک ایسا فریم ورک مضبوط ہوگا کہ وہ ایسے جرائم کے ارتکاب سے خوفزدہ ہوں گے ۔

یونین آف انڈیا نے عصمت دری اور بچوں کے جنسی جرائم سے تحفظ کے لئے  ایکٹ (پاکسوایکٹ ) سے متعلق معاملات کے وقت پرنمٹان کے لئے ایف ٹی ایس سی قائم  کرنے کے واسطے ایک مرکز کے ذریعہ اسپانسرکردہ اسکیم وضع کی ۔عزت مآب سپریم کورٹ آف انڈیانے ازخود نوٹس لیتے ہوئے رٹ پٹیشن (فوجداری )نمبر 1/2019مورخہ 25جولائی 2019 میں درج ذیل ہدایات جاری کی ہیں ۔

اسکیم کے تحت  100سے زیادہ پاکسو  ایکٹ کے معاملات والے ضلعوں   کے لئے خصوصی پاکسوکورٹس کے قیام کو لازمی قراردیاگیا۔ یہ اسکیم ابتدائی طورپراکتوبر 2019میں ایک سال کے لئے شروع کی گئی تھی ، جس کو 31مارچ 2023تک کے اضافی دوبرسوں کے لئے آگے بڑھادیاگیاتھا۔ اب اس میں 2026تک کے لئے مزید توسیع کی گئی ہے جس میں 1952.23کروڑروپے کا مالیاتی خرچ آئے گا ۔ جس کے لئے مرکزی حصے کی ادائیگی نربھیہ فنڈ سے کی جائیگی ۔

قانون اورانصاف کی وزارت کے محکمہ انصاف کے ذریعہ نافذ کی گئی ،مرکزی اسپانسرکردہ  ایف ٹی ایس سی کی اسکیم نے ملک بھرمیں ایف ٹی ایس سی کے قیام کے لئے ریاستی حکومت کے وسائل میں اضافہ کیا ، جس سے عصمت دری  اور پاکسوایکٹ سے  متعلق معاملات کو تیزی سے نمٹائے جانے کو یقینی بنایا گیا۔

اس اسکیم میں 30ریاستوں / مرکزکے زیرانتظام خطوں نے شرکت کی ، جنھوں نے 414خصوصی پاکسوعدالتوں سمیت 761ایف ٹی ایس سی چلائیں ، جنھوں نے 195000معاملات کا نمٹان کیا ۔ یہ عدالتیں  دوردراز علاقوں میں بھی جنسی جرائم کا شکارہونے والوں کو وقت پرانصاف فراہم کرانے کی  ریاستی /مرکز کے زیرانتظام خطے کی حکومتوں کی کوششوں میں مدد کرتی ہیں ۔

اس اسکیم کے متوقع نتائج درج ذیل ہیں :

  • اس سے جنسی اورصنفی  تعصب پرمبنی تشدد کو ختم کرنے کے لئے ملک کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے ۔
  • اس نے عصمت دری اورپاکسوایکٹ کے التواشدہ معاملات کو کافی حدتک کم کیاہے ، جس سے عدلیہ کے نظام پر جو بوجھ اس میں کمی آئی ہے ۔
  • بہترسہولیات  اورتیزی سے مقدمات کی سماعت کے ذریعہ جنسی جرائم کا شکارہونے والوں کے لئے  انصاف کی تیز رفتاررسائی کو یقینی بنایا۔
  • معاملات کے بوجھ کو ایک مناسب تعداد تک کم کیا۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
'Will Not Let Bengalis Become Minority': PM Modi Promises Speedy Implementation Of UCC In Bengal

Media Coverage

'Will Not Let Bengalis Become Minority': PM Modi Promises Speedy Implementation Of UCC In Bengal
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to address ‘Nari Shakti Vandan Sammelan’ on 13th April
April 12, 2026
Sammelan to witness participation of eminent personalities and women achievers from diverse fields
Sammelan to highlight the government’s commitment towards women-led development in the journey towards Viksit Bharat 2047
Sammelan underscores the importance of enhanced representation of women in decision-making processes

Prime Minister Shri Narendra Modi will attend a national level ‘Nari Shakti Vandan Sammelan’ on 13th April 2026 at Vigyan Bhawan, New Delhi at around 11 AM. He will also address the gathering on the occasion.

The programme will witness participation of eminent personalities and women achievers from diverse fields. It will bring together representatives from different sectors such as government, academia, science, sports, entrepreneurship, media, social work and culture.

In September 2023, Parliament passed the ‘Nari Shakti Vandan Adhiniyam’ marking a significant step towards enhancing women’s representation in legislative bodies. The Act provided for reservation of one-third of seats for women in Lok Sabha and State Legislative Assemblies. Now, with a focus on implementation of women’s reservation across the country, a Parliament session is being convened on 16th April.

The Sammelan is being organised to reinforce the commitment towards greater participation of women in shaping India’s development trajectory. It will also highlight the increasing role of women in governance and leadership across all levels, from Panchayats to Parliament. The programme will underscore the importance of enhanced representation of women in decision-making processes.

The Sammelan will highlight the role of women in the journey towards Viksit Bharat 2047. It will reflect the government’s continued commitment towards women-led development as a central pillar of the vision for Viksit Bharat 2047.