مختلف سرکاری محکموں اور تنظیموں میں نئے بھرتی ہونے والوں میں تقریباً 71,000 تقرری نامے تقسیم کیے
’’روزگار میلے نوجوانوں کے تئیں حکومت کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں‘‘
’’گزشتہ 9 برسوں میں، حکومت نے بھرتی کے عمل کو تیز تر، شفاف اور غیر جانبدارانہ بنا کر ترجیح دی ہے‘‘
’’حکومتی پالیسیاں روزگار کے امکانات کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی جاتی ہیں‘‘
’’حکومت نے 9 برسوں میں تقریباً 34 لاکھ کروڑ روپے سرمایہ جاتی اخراجات کی مد میں خرچ کیے ہیں اور اس سال بھی سرمایہ جاتی اخراجات سے متعلق خرچ کے لیے 10 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے‘‘
’’آتم نر بھر بھارت مہم ملک میں مینوفیکچرنگ کے ذریعے روزگار پیدا کرنے کے نظریہ پر مبنی ہے‘‘

نمسکار ساتھیو،

آج 70 ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو حکومت ہند کے مختلف محکموں میں سرکاری ملازمتوں کے لیے تقرری نامے دئے جا رہے ہیں۔ آپ سب نے محنت سے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ میں آپ کو اور آپ کے خاندان  کے افراد کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ ابھی چند روز قبل گجرات میں بھی ایسے ہی ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرنے والے روزگار میلے کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس ماہ آسام میں بھی ایک بڑا روزگار میلہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ حکومت ہند اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستی حکومتوں میں اس طرح کے روزگار میلے نوجوانوں کے تئیں ہماری وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں۔

 

ساتھیو،

پچھلے 9 برسوں میں، حکومت ہند نے سرکاری بھرتی کے عمل کو تیز تر، زیادہ شفاف اور منصفانہ بنانے کو بھی ترجیح دی ہے۔ اس سے قبل اسٹاف سلیکشن بورڈ بھرتی کے عمل میں تقریباً 15 سے 18 مہینے کا وقت صرف ہوتا تھا، یعنی تقریباً ڈیڑھ سال ۔ آج یہ عمل چھ سے آٹھ مہینےمیں مکمل ہو جاتا ہے۔ پہلے سرکاری نوکری کے لیے درخواست دینا ہی بہت مشکل بھرا کام ہوتا تھا، درخواست فارم جمع کرنے کے لیے گھنٹوں لائن میں کھڑے رہنے، دستاویزات کی تصدیق کے لیے گزیٹیڈ افسران  کو تلاش کرنے کی زحمت اٹھانی ہوتی تھی پھر درخواست ڈاک کے ذریعے بھیجی جاتی تھی۔ اور اس میں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ درخواست وقت پر پہنچی یا نہیں۔ جہاں پہنچنا چاہئے  تھا وہاں پہنچی یا نہیں پہنچی؟ آج درخواست دینے سے لے کر نتائج حاصل کرنے تک کا سارا عمل آن لائن ہو گیا ہے۔آج دستاویز کی خود تصدیق کرنا بھی کافی ہے۔ گروپ-سی اور گروپ ڈی کے عہدوں پر بھرتی کے لیے انٹرویوز بھی ختم کردئے گئے ہیں۔ ان تمام کوششوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ کرپشن یا اقربا پروری کے امکانات ختم ہو گئے۔

ساتھیو،

آج کا دن ایک اور وجہ سے بہت خاص ہے۔ آج سے 9 سال پہلے 16 مئی کو لوک سبھا انتخابات کے نتائج آئے تھے۔ پھر پورا ملک جوش، ولولہ اوراعتمادسے لبریز ہو گیا۔ ہندوستان جو سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے منتر کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، آج ایک ترقی یافتہ ہندوستان بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس طرح نو سال پہلے 16 مئی کو لوک سبھا انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا گیا تھا، آج ایک اور اہم دن ہے۔ آج ہمالیہ کی گود میں واقع ہمارے ایک اہم صوبے سکم کا یوم تاسیس بھی ہے۔

ساتھیو،

ان 9 برسوں کے دوران حکومت کی پالیسیاں روزگار کے نئے امکانات کو مرکز میں رکھ کر بنائی گئیں۔ جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر ہو، دیہی علاقوں کی ترقی ہو یا زندگی سے جڑی سہولیات کی توسیع ہو، حکومت ہند کی ہر منصوبہ، ہر پالیسی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیداکر رہی ہے۔

ساتھیو،

گزشتہ 9 برسوں میں حکومت ہند نے بنیادی سہولیات کے لیے تقریباً 34 لاکھ کروڑ روپے  سرمایہ جاتی اخراجات کی مد میں صرف کئے ہیں۔اس سال کے بجٹ میں بھی سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے 10 لاکھ کروڑ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے ملک میں نئی​​شاہراہیں، نئے ہوائی اڈے، نئے ریل روٹس، نئے پل بنائے گئے ہیں اور ایسے لاتعداد جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر سے ملک میں لاکھوں نئی​​ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔ آج ہندوستان جس رفتارسے اورجس پیمانے پر کام کر رہا ہے وہ آزادی کے 75 سال کی تاریخ میں بھی بے مثال ہے۔ 70 برسوں میں ہندوستان میں صرف تقریباً 20 ہزار کلومیٹر ریل لائنوں کو بجلی فراہم کی گئی۔ جبکہ ہماری حکومت کے تحت گزشتہ 9 برسوں کے دوران  بھارت میں تقریباً 40 ہزار کلومیٹر ریل لائنوں کو برقی کیا گیا ہے۔ 2014 سے پہلے ہمارے ملک میں ہر ماہ صرف 600 میٹر نئی میٹرو لائنیں بچھائی جا رہی تھیں۔ آج ہندوستان میں ہر ماہ 6 کلومیٹرلائن بچھائی جارہی ہے،اس وقت حساب میٹر کا تھا،آج حساب کلومیٹر کا ہے۔ 6 کلومیٹر نئی میٹرو لائن کا کام مکمل کیا جا رہا ہے۔ 2014 سے پہلے ملک میں 4 لاکھ کلومیٹر سے بھی کم دیہی سڑکیں تھیں۔ آج ملک میں 7.25 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ دیہی سڑکیں ہیں۔ یہ بھی تقریباً دوگنا ہے۔ 2014 سے پہلے ملک میں صرف 74 ہوائی اڈے تھے۔ آج ملک میں ہوائی اڈوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور 150 کے قریب پہنچ رہی ہے۔ یہ بھی دوگنا ہے۔ پچھلے 9 برسوں میں ملک میں غریبوں کے لیے جو 4 کروڑ پکے مکانات بنائے گئے ہیں ان سے روزگار کے کئی نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ہر گاؤں میں پانچ لاکھ کامن سروس سینٹر کھولے گئے ہیں،آج وہ روزگار کا ایک بڑا ذریعہ بن گئے ہیں، نوجوانوں کو گاؤں کی سطح کے کاروباری بنا رہے ہیں۔ دیہات میں 30,000 سے زیادہ پنچایت عمارتوں کی تعمیر ہو یا 9 کروڑ گھروں کو پانی کے کنکشن سے جوڑنا، یہ تمام مہم بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کر رہی ہے۔ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد ہو یا ہندوستان سے ریکارڈ برآمدات، وہ ملک کے کونے کونے میں روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

 

ساتھیو،

گزشتہ 9 برسوں میں ملازمت کی نوعیت بھی بہت تیزی سے بدلی ہے۔ ان بدلتے ہوئے حالات میں نوجوانوں کے لیے نئے شعبے سامنے آئے ہیں۔ مرکزی حکومت بھی ان نئے شعبوں کی مسلسل مدد کر رہی ہے۔ ان 9 برسوں میں ملک نے اسٹارٹ اپ کلچر میں ایک نیا انقلاب دیکھا ہے۔ 2014 میں جہاں ملک میں چند سو اسٹارٹ اپس تھے، آج ان کی تعداد ایک لاکھ اسٹارٹ اپس تک پہنچ رہی ہے۔ اور ایک اندازے کے مطابق ان اسٹارٹ اپس نے کم از کم 10 لاکھ نوجوانوں کو روزگار دیا ہے۔

ساتھیو،

ان 9 برسوں میں، ملک نے ٹیکسیوں کو کیب ایگریگیٹرزیعنی ایپ کے ذریعے ہندوستانی شہروں کی نئی لائف لائن بنتے دیکھا ہے۔ ان 9 برسوں میں آن لائن ڈیلیوری کا ایسا نیا سسٹم بنایا گیا ہے جس سے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار ملا ہے۔ ان 9 برسوں میں ڈرون سیکٹر میں ایک نیا عروج آیا ہے۔ کھاد کے چھڑکاؤ سے لے کر ادویات کی فراہمی تک ڈرون کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ ان 9 برسوں میں شہر میں گیس کی تقسیم کا نظام بھی 60 شہروں سے 600 سے زائد شہروں تک پھیل چکا ہے۔

ساتھیو،

گزشتہ 9 برسوں میں حکومت ہند نے مدرا یوجنا کے تحت ملک کے نوجوانوں کو 23 لاکھ کروڑ روپے دیے ہیں۔ کچھ نے اس رقم سے اپنا نیا کاروبار شروع کیا، کسی نے ٹیکسی خریدی، کسی نے اپنی دکان  کھول لی ۔ اور ان کی تعداد لاکھوں میں نہیں ہے، میں فخر سے کہتا ہوں کہ یہ تعداد آج کروڑوں میں ہے۔ تقریباً 8 سے 9 کروڑ لوگ ہیں جنہوں نے مدرا یوجنا کی مدد سے پہلی بار اپنا آزادانہ کام شروع کیا ہے۔ خود انحصار بھارت مہم جو آج چل رہی ہے وہ بھی ملک میں مینوفیکچرنگ کے ذریعے روزگار پیدا کرنے پر مبنی ہے۔ پی ایل آئی اسکیم کے تحت مرکزی حکومت مینوفیکچرنگ کے لیے تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کی امداد فراہم کر رہی ہے۔ ہندوستان کو دنیا کا مینوفیکچرنگ ہب بنانے کے علاوہ یہ رقم لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں بھی مددگار ہوگی۔

ساتھیو،

ہندوستان کے نوجوانوں میں مختلف شعبوں میں کام کرنے کی مہارت ہونی ضروری ہے۔ اس کے لئے ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں، ہنر مندی کے فروغ کے اداروں کی  بھی جنگی سطح پر تیاری ہورہی ہے۔  سال 2014 سے 2022 کے درمیان ہر سال ایک نیا آئی آئی ٹی اور ایک نیا آئی آئی ایم تیار ہوا ہے۔ گزشتہ 9 برسوں میں اوسطا ہر ہفتہ ایک یونیورسٹی اور ہر دن دو کالج کھولے گئے ہیں۔ ہماری حکومت آنے سے قبل ملک میں تقریباً 720 یونیورسٹیز تھی، اب ان کی تعداد بڑھ کر سو سے زیادہ ہوگئی ہے۔ 7 دہائیوں میں ملک میں صرف 7 ایمس تیار کئے گئےتھے، گزشتہ 9 برسوں میں ہم 15 نئے ایمس بنانے کی طرف بڑھے ہیں۔ ان میں سے متعدد اسپتالوں نے اپنی خدمات دینی بھی شروع کردی ہے۔ 2014 تک پورے ملک میں 400 سے بھی کم میڈیکل کالج تھے، آج ان کی تعداد بڑھ کر تقریباً 700 ہوچکی ہے۔ اگر کالج کی تعداد بڑھتی ہے تو اس سے یقیناً سیٹوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ نوجوانوں کے لئے اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔ سال 2014 سے پہلے ہمارے ملک میں ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کی سیٹیں صرف 80 ہزار تھی ، اب ملک میں ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کی سیٹیں بڑھ کر ایک لاکھ 70 ہزار سے بھی زیادہ ہوگئی ہیں۔

 

ساتھیو،

کسی کام کے لئے ہنرمندی کے فروغ میں ہماری آئی ٹی آئیز کا بھی اہم کردار ہے۔ آئی ٹی آئیز ہنرمندی کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ گزشتہ 9 برسوں میں ملک میں تقریباً یومیہ ایک نئے آئی ٹی آئی کی تعمیر ہورہی ہے۔ آج ملک میں تقریباً 15 ہزار آئی ٹی آئیز میں ملک کی نئی ضروریات کے مطابق نئے کورسیز شروع کئے جارہے ہیں۔ پی ایم کوشل وکاس یوجنا کے تحت اب تک سوا کروڑ سے زیادہ نوجوانوں کو ہنرمندی تربیت بھی دی گئی ہے۔

ساتھیو،

حکومت کی ان کوششوں سے نئے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ میں آپ کو ایک مثال دینا چاہتا ہوں، وہ ہے ای پی ایف او۔ اگر ہم سال 19-2018 کے بعد ای پی ایف او کے تحت ملازمین کے اعداد وشمار پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ لوگوں کو رسمی ملازمت ملی ہے۔ امپلائز پروویڈنٹ فنڈ  آرگنائزیشن یعنی ای پی ایف او کے پیرول ڈاٹا سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں رسمی ملازمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ رسمی ملازمت میں اس اضافہ کے ساتھ ہی خود روزگار کے مواقع بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

ساتھیو،

گزشتہ کچھ ہفتوں میں جس طرح کی خبریں آئی ہیں، وہ ہندوستان میں صنعت اور سرمایہ کاری کے تعلق سے واضح مثبت پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔  کچھ دن پہلے ہی میری ملاقات والمارٹ کے سی ای او سے ہوئی۔  انہوں نے اس اعتماد کا اظہارکیا کہ ان کی کمپنی اگلے 3 سے 4 برسوں میں ہندوستان سے 80 ہزار کروڑ روپے کے سامان کا برآمدات کرے گی۔ ہمارے نوجوان جو لاجسٹکس اور سپلائی چین کے شعبے میں کام کرنے کے خواہش مند ہے، ان کے لئے یہ خوش آئند خبر ہے۔ سی آئی ایس سی او کے سی ای او نے بھی اپنے بھارتی سفر کے دوران مجھے بتایا کہ انہوں نے  ہندوستان میں تیار 8 ہزار کروڑ روپے کے مصنوعات کی برآمدات  کا ہدف رکھاہے۔ کچھ دن پہلے ایپل کے سی ای او بھی ہندوستان آئے تھے۔ ہندوستان کے روشن مستقبل اور خصوصی طور پر موبائل کی مینوفیکچرنگ کے تعلق سے وہ بہت پراعتماد تھے۔ دنیا کے مشہور سیمی کنڈکٹر کمپنی این ایکس پی اس کے اعلیٰ ایگزیکٹو سے بھی حالیہ دنوں ملاقات ہوئی ہے۔ وہ ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کی تعمیر اور اس کی صلاحیت کے تعلق سے بہت مثبت رویہ رکھتے ہیں۔ فوکس کون نے بھی ہندوستان میں دیگر پروجیکٹس میں ہزاروں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری شروع کردی ہے۔  اگلے ایک ہفتہ میں دنیا کی بڑی کمپنیوں کے متعدد سی ای او سے دوبارہ ملاقات کرنے والا ہوں۔  وہ تمام ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لئے پرجوش ہیں۔ یہ ساری باتیں، یہ ساری کوشش ظاہر کرتی ہے کہ ہندوستان میں الگ الگ شعبوں میں کتنی تیزی سے روزگار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔

ساتھیو،

ملک میں جاری ترقی کی اس رفتار میں اتنی بڑی تبدیلیوں میں اب آپ کی براہ راست شمولیت ہوگی۔ اگلے 25 برسوں میں آپ کو اپنے فرائض کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ بھارت کے عزائم کو بھی حتمی جامہ پہنانا ہے۔ میری آپ سبھی سے اپیل ہے کہ اِس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھائیں، آج سے آپ کی زندگی میں سیکھنے کا بھی ایک نیا دور شروع ہورہا ہے۔ سرکار کا سارا زور اپنے ملازمین کی ہنرمندی کے فروغ پر ہے۔ اسی کو دھیان میں رکھتے ہوئے آن لائن لرننگ پلیٹ فارم، آئی جی او ٹی کرم یوگی شروع کیاگیا ہے۔ اِس پلیٹ فارم  پر متعدد کورسیز دستیاب ہیں۔ آپ ان کا پورا استعمال کریں ۔ آپ کی صلاحیت میں جتنا اضافہ ہوا، اتنا آپ کے کام پر بھی مثبت اثر پڑے گا اور باصلاحیت افراد کے سبب کام پر جو مثبت اثر ہوتا ہے، اس کا اثر ملک کی تمام سرگرمیوں میں مثبتیت کی رفتار کو طاقت دیتا ہے۔ آج اِس اہم موقع پر آپ کی زندگی کے ایک بہت ہی اہم مقام پر میں آپ کو دوبارہ مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ کے نئے سفر کے لئے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ آپ کے اہل خانہ کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں، کیونکہ انہوں نے بھی آپ کی امیدوں اور امنگوں کے ساتھ زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے بہت ساتھ دیا ہے۔ آپ کے روشن مستقبل کی دعا کرتا ہوں۔ ایک بار پھر آپ سبھی کو بہت بہت مبارکباد۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
One of the world’s first canal-top solar projects placed a 750-meter solar array above an Indian irrigation canal, generating clean power while saving an estimated 9 million liters of water each year

Media Coverage

One of the world’s first canal-top solar projects placed a 750-meter solar array above an Indian irrigation canal, generating clean power while saving an estimated 9 million liters of water each year
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM addresses an energy-packed public rally in Jalandhar, Punjab
July 17, 2026
The party ruling Punjab neither has honest intent nor clean governance: PM Modi's sharp criticism
Punjab’s farmers, youth and entrepreneurs can make the state one of India's strongest growth engines. For that, Punjab needs a double-engine BJP government: PM’s promise
Punjab's youth have extraordinary talent. From the sports goods capital of Jalandhar, I want to tell every young person that this is the time to seize new opportunities: PM
BJP-governed states are delivering faster development, better welfare and stronger support for farmers and employees: PM notes in Punjab

PM Modi addressed a massive public rally in Jalandhar, Punjab, where he highlighted the transformation of India's railway infrastructure, outlined the BJP's vision for a Viksit Punjab and called for a double-engine government to unlock the state's full potential. He also spoke about the growing opportunities for Punjab's youth through India's emerging sports economy.

The PM said Indian Railways, which serves millions of poor and middle-class families every day, had long suffered neglect under previous governments. He noted that while earlier governments limited themselves to announcing new trains, the BJP government has focused on modernising railway infrastructure across the country. He said the newly inaugurated Jalandhar Cantt station, alongside other stations, reflects the vision of a Viksit Bharat while also celebrating Punjab's cultural heritage. He added that these stations are becoming centres of commerce by creating opportunities for local artisans, Vishwakarma beneficiaries and women SHGs. He also recalled that the BJP government renamed Adampur Airport after Shri Guru Ravidass Maharaj Ji and Chandigarh International Airport after Shaheed Bhagat Singh, honouring India's great icons.

PM Modi strongly criticised the Punjab government over law and order, corruption and misgovernance. He said rising gang wars, extortion, attacks on police stations and the growing drug menace have put Punjab's future at risk. He alleged that corruption and criminal cases involving leaders of the ruling party have eroded public trust, while funds provided by the Centre for roads, irrigation, markets and welfare have not been utilised effectively. He further stated that central schemes were being rebranded instead of being implemented honestly, adding that even the Ayushman Bharat scheme had been subjected to political branding.

Calling for a double-engine government in Punjab, the PM said the state has immense potential through its farmers, youth and entrepreneurs. Drawing comparisons with BJP-governed states, he said double-engine governments have accelerated development, strengthened welfare delivery and ensured better support for farmers and employees. He alleged that promises made to women in Punjab remain unfulfilled, while Congress and other regional parties remain occupied with internal politics instead of serving the people. He said only the BJP can bring lasting development, attract fresh investment, generate employment and make Punjab a stronger and more self-reliant state.

Addressing the youth, he noted Jalandhar's globally recognised sports manufacturing ecosystem and said it is at the heart of India's emerging sports economy. He said initiatives such as ‘Khelo India’ are creating new opportunities across sports manufacturing, coaching, sports science, sports medicine, universities, centres of excellence and sports startups. Referring to his recent visits to Australia and New Zealand, he said several agreements had been signed to strengthen India's sports ecosystem and encouraged Punjab's youth to seize these opportunities and make the country proud on the global stage.