مختلف سرکاری محکموں اور تنظیموں میں نئے بھرتی ہونے والوں میں تقریباً 71,000 تقرری نامے تقسیم کیے
’’روزگار میلے نوجوانوں کے تئیں حکومت کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں‘‘
’’گزشتہ 9 برسوں میں، حکومت نے بھرتی کے عمل کو تیز تر، شفاف اور غیر جانبدارانہ بنا کر ترجیح دی ہے‘‘
’’حکومتی پالیسیاں روزگار کے امکانات کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی جاتی ہیں‘‘
’’حکومت نے 9 برسوں میں تقریباً 34 لاکھ کروڑ روپے سرمایہ جاتی اخراجات کی مد میں خرچ کیے ہیں اور اس سال بھی سرمایہ جاتی اخراجات سے متعلق خرچ کے لیے 10 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے‘‘
’’آتم نر بھر بھارت مہم ملک میں مینوفیکچرنگ کے ذریعے روزگار پیدا کرنے کے نظریہ پر مبنی ہے‘‘

نمسکار ساتھیو،

آج 70 ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو حکومت ہند کے مختلف محکموں میں سرکاری ملازمتوں کے لیے تقرری نامے دئے جا رہے ہیں۔ آپ سب نے محنت سے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ میں آپ کو اور آپ کے خاندان  کے افراد کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ ابھی چند روز قبل گجرات میں بھی ایسے ہی ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرنے والے روزگار میلے کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس ماہ آسام میں بھی ایک بڑا روزگار میلہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ حکومت ہند اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستی حکومتوں میں اس طرح کے روزگار میلے نوجوانوں کے تئیں ہماری وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں۔

 

ساتھیو،

پچھلے 9 برسوں میں، حکومت ہند نے سرکاری بھرتی کے عمل کو تیز تر، زیادہ شفاف اور منصفانہ بنانے کو بھی ترجیح دی ہے۔ اس سے قبل اسٹاف سلیکشن بورڈ بھرتی کے عمل میں تقریباً 15 سے 18 مہینے کا وقت صرف ہوتا تھا، یعنی تقریباً ڈیڑھ سال ۔ آج یہ عمل چھ سے آٹھ مہینےمیں مکمل ہو جاتا ہے۔ پہلے سرکاری نوکری کے لیے درخواست دینا ہی بہت مشکل بھرا کام ہوتا تھا، درخواست فارم جمع کرنے کے لیے گھنٹوں لائن میں کھڑے رہنے، دستاویزات کی تصدیق کے لیے گزیٹیڈ افسران  کو تلاش کرنے کی زحمت اٹھانی ہوتی تھی پھر درخواست ڈاک کے ذریعے بھیجی جاتی تھی۔ اور اس میں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ درخواست وقت پر پہنچی یا نہیں۔ جہاں پہنچنا چاہئے  تھا وہاں پہنچی یا نہیں پہنچی؟ آج درخواست دینے سے لے کر نتائج حاصل کرنے تک کا سارا عمل آن لائن ہو گیا ہے۔آج دستاویز کی خود تصدیق کرنا بھی کافی ہے۔ گروپ-سی اور گروپ ڈی کے عہدوں پر بھرتی کے لیے انٹرویوز بھی ختم کردئے گئے ہیں۔ ان تمام کوششوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ کرپشن یا اقربا پروری کے امکانات ختم ہو گئے۔

ساتھیو،

آج کا دن ایک اور وجہ سے بہت خاص ہے۔ آج سے 9 سال پہلے 16 مئی کو لوک سبھا انتخابات کے نتائج آئے تھے۔ پھر پورا ملک جوش، ولولہ اوراعتمادسے لبریز ہو گیا۔ ہندوستان جو سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے منتر کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، آج ایک ترقی یافتہ ہندوستان بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس طرح نو سال پہلے 16 مئی کو لوک سبھا انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا گیا تھا، آج ایک اور اہم دن ہے۔ آج ہمالیہ کی گود میں واقع ہمارے ایک اہم صوبے سکم کا یوم تاسیس بھی ہے۔

ساتھیو،

ان 9 برسوں کے دوران حکومت کی پالیسیاں روزگار کے نئے امکانات کو مرکز میں رکھ کر بنائی گئیں۔ جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر ہو، دیہی علاقوں کی ترقی ہو یا زندگی سے جڑی سہولیات کی توسیع ہو، حکومت ہند کی ہر منصوبہ، ہر پالیسی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیداکر رہی ہے۔

ساتھیو،

گزشتہ 9 برسوں میں حکومت ہند نے بنیادی سہولیات کے لیے تقریباً 34 لاکھ کروڑ روپے  سرمایہ جاتی اخراجات کی مد میں صرف کئے ہیں۔اس سال کے بجٹ میں بھی سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے 10 لاکھ کروڑ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے ملک میں نئی​​شاہراہیں، نئے ہوائی اڈے، نئے ریل روٹس، نئے پل بنائے گئے ہیں اور ایسے لاتعداد جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر سے ملک میں لاکھوں نئی​​ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔ آج ہندوستان جس رفتارسے اورجس پیمانے پر کام کر رہا ہے وہ آزادی کے 75 سال کی تاریخ میں بھی بے مثال ہے۔ 70 برسوں میں ہندوستان میں صرف تقریباً 20 ہزار کلومیٹر ریل لائنوں کو بجلی فراہم کی گئی۔ جبکہ ہماری حکومت کے تحت گزشتہ 9 برسوں کے دوران  بھارت میں تقریباً 40 ہزار کلومیٹر ریل لائنوں کو برقی کیا گیا ہے۔ 2014 سے پہلے ہمارے ملک میں ہر ماہ صرف 600 میٹر نئی میٹرو لائنیں بچھائی جا رہی تھیں۔ آج ہندوستان میں ہر ماہ 6 کلومیٹرلائن بچھائی جارہی ہے،اس وقت حساب میٹر کا تھا،آج حساب کلومیٹر کا ہے۔ 6 کلومیٹر نئی میٹرو لائن کا کام مکمل کیا جا رہا ہے۔ 2014 سے پہلے ملک میں 4 لاکھ کلومیٹر سے بھی کم دیہی سڑکیں تھیں۔ آج ملک میں 7.25 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ دیہی سڑکیں ہیں۔ یہ بھی تقریباً دوگنا ہے۔ 2014 سے پہلے ملک میں صرف 74 ہوائی اڈے تھے۔ آج ملک میں ہوائی اڈوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور 150 کے قریب پہنچ رہی ہے۔ یہ بھی دوگنا ہے۔ پچھلے 9 برسوں میں ملک میں غریبوں کے لیے جو 4 کروڑ پکے مکانات بنائے گئے ہیں ان سے روزگار کے کئی نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ہر گاؤں میں پانچ لاکھ کامن سروس سینٹر کھولے گئے ہیں،آج وہ روزگار کا ایک بڑا ذریعہ بن گئے ہیں، نوجوانوں کو گاؤں کی سطح کے کاروباری بنا رہے ہیں۔ دیہات میں 30,000 سے زیادہ پنچایت عمارتوں کی تعمیر ہو یا 9 کروڑ گھروں کو پانی کے کنکشن سے جوڑنا، یہ تمام مہم بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کر رہی ہے۔ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد ہو یا ہندوستان سے ریکارڈ برآمدات، وہ ملک کے کونے کونے میں روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

 

ساتھیو،

گزشتہ 9 برسوں میں ملازمت کی نوعیت بھی بہت تیزی سے بدلی ہے۔ ان بدلتے ہوئے حالات میں نوجوانوں کے لیے نئے شعبے سامنے آئے ہیں۔ مرکزی حکومت بھی ان نئے شعبوں کی مسلسل مدد کر رہی ہے۔ ان 9 برسوں میں ملک نے اسٹارٹ اپ کلچر میں ایک نیا انقلاب دیکھا ہے۔ 2014 میں جہاں ملک میں چند سو اسٹارٹ اپس تھے، آج ان کی تعداد ایک لاکھ اسٹارٹ اپس تک پہنچ رہی ہے۔ اور ایک اندازے کے مطابق ان اسٹارٹ اپس نے کم از کم 10 لاکھ نوجوانوں کو روزگار دیا ہے۔

ساتھیو،

ان 9 برسوں میں، ملک نے ٹیکسیوں کو کیب ایگریگیٹرزیعنی ایپ کے ذریعے ہندوستانی شہروں کی نئی لائف لائن بنتے دیکھا ہے۔ ان 9 برسوں میں آن لائن ڈیلیوری کا ایسا نیا سسٹم بنایا گیا ہے جس سے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار ملا ہے۔ ان 9 برسوں میں ڈرون سیکٹر میں ایک نیا عروج آیا ہے۔ کھاد کے چھڑکاؤ سے لے کر ادویات کی فراہمی تک ڈرون کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ ان 9 برسوں میں شہر میں گیس کی تقسیم کا نظام بھی 60 شہروں سے 600 سے زائد شہروں تک پھیل چکا ہے۔

ساتھیو،

گزشتہ 9 برسوں میں حکومت ہند نے مدرا یوجنا کے تحت ملک کے نوجوانوں کو 23 لاکھ کروڑ روپے دیے ہیں۔ کچھ نے اس رقم سے اپنا نیا کاروبار شروع کیا، کسی نے ٹیکسی خریدی، کسی نے اپنی دکان  کھول لی ۔ اور ان کی تعداد لاکھوں میں نہیں ہے، میں فخر سے کہتا ہوں کہ یہ تعداد آج کروڑوں میں ہے۔ تقریباً 8 سے 9 کروڑ لوگ ہیں جنہوں نے مدرا یوجنا کی مدد سے پہلی بار اپنا آزادانہ کام شروع کیا ہے۔ خود انحصار بھارت مہم جو آج چل رہی ہے وہ بھی ملک میں مینوفیکچرنگ کے ذریعے روزگار پیدا کرنے پر مبنی ہے۔ پی ایل آئی اسکیم کے تحت مرکزی حکومت مینوفیکچرنگ کے لیے تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کی امداد فراہم کر رہی ہے۔ ہندوستان کو دنیا کا مینوفیکچرنگ ہب بنانے کے علاوہ یہ رقم لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں بھی مددگار ہوگی۔

ساتھیو،

ہندوستان کے نوجوانوں میں مختلف شعبوں میں کام کرنے کی مہارت ہونی ضروری ہے۔ اس کے لئے ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں، ہنر مندی کے فروغ کے اداروں کی  بھی جنگی سطح پر تیاری ہورہی ہے۔  سال 2014 سے 2022 کے درمیان ہر سال ایک نیا آئی آئی ٹی اور ایک نیا آئی آئی ایم تیار ہوا ہے۔ گزشتہ 9 برسوں میں اوسطا ہر ہفتہ ایک یونیورسٹی اور ہر دن دو کالج کھولے گئے ہیں۔ ہماری حکومت آنے سے قبل ملک میں تقریباً 720 یونیورسٹیز تھی، اب ان کی تعداد بڑھ کر سو سے زیادہ ہوگئی ہے۔ 7 دہائیوں میں ملک میں صرف 7 ایمس تیار کئے گئےتھے، گزشتہ 9 برسوں میں ہم 15 نئے ایمس بنانے کی طرف بڑھے ہیں۔ ان میں سے متعدد اسپتالوں نے اپنی خدمات دینی بھی شروع کردی ہے۔ 2014 تک پورے ملک میں 400 سے بھی کم میڈیکل کالج تھے، آج ان کی تعداد بڑھ کر تقریباً 700 ہوچکی ہے۔ اگر کالج کی تعداد بڑھتی ہے تو اس سے یقیناً سیٹوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ نوجوانوں کے لئے اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔ سال 2014 سے پہلے ہمارے ملک میں ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کی سیٹیں صرف 80 ہزار تھی ، اب ملک میں ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کی سیٹیں بڑھ کر ایک لاکھ 70 ہزار سے بھی زیادہ ہوگئی ہیں۔

 

ساتھیو،

کسی کام کے لئے ہنرمندی کے فروغ میں ہماری آئی ٹی آئیز کا بھی اہم کردار ہے۔ آئی ٹی آئیز ہنرمندی کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ گزشتہ 9 برسوں میں ملک میں تقریباً یومیہ ایک نئے آئی ٹی آئی کی تعمیر ہورہی ہے۔ آج ملک میں تقریباً 15 ہزار آئی ٹی آئیز میں ملک کی نئی ضروریات کے مطابق نئے کورسیز شروع کئے جارہے ہیں۔ پی ایم کوشل وکاس یوجنا کے تحت اب تک سوا کروڑ سے زیادہ نوجوانوں کو ہنرمندی تربیت بھی دی گئی ہے۔

ساتھیو،

حکومت کی ان کوششوں سے نئے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ میں آپ کو ایک مثال دینا چاہتا ہوں، وہ ہے ای پی ایف او۔ اگر ہم سال 19-2018 کے بعد ای پی ایف او کے تحت ملازمین کے اعداد وشمار پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ لوگوں کو رسمی ملازمت ملی ہے۔ امپلائز پروویڈنٹ فنڈ  آرگنائزیشن یعنی ای پی ایف او کے پیرول ڈاٹا سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں رسمی ملازمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ رسمی ملازمت میں اس اضافہ کے ساتھ ہی خود روزگار کے مواقع بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

ساتھیو،

گزشتہ کچھ ہفتوں میں جس طرح کی خبریں آئی ہیں، وہ ہندوستان میں صنعت اور سرمایہ کاری کے تعلق سے واضح مثبت پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔  کچھ دن پہلے ہی میری ملاقات والمارٹ کے سی ای او سے ہوئی۔  انہوں نے اس اعتماد کا اظہارکیا کہ ان کی کمپنی اگلے 3 سے 4 برسوں میں ہندوستان سے 80 ہزار کروڑ روپے کے سامان کا برآمدات کرے گی۔ ہمارے نوجوان جو لاجسٹکس اور سپلائی چین کے شعبے میں کام کرنے کے خواہش مند ہے، ان کے لئے یہ خوش آئند خبر ہے۔ سی آئی ایس سی او کے سی ای او نے بھی اپنے بھارتی سفر کے دوران مجھے بتایا کہ انہوں نے  ہندوستان میں تیار 8 ہزار کروڑ روپے کے مصنوعات کی برآمدات  کا ہدف رکھاہے۔ کچھ دن پہلے ایپل کے سی ای او بھی ہندوستان آئے تھے۔ ہندوستان کے روشن مستقبل اور خصوصی طور پر موبائل کی مینوفیکچرنگ کے تعلق سے وہ بہت پراعتماد تھے۔ دنیا کے مشہور سیمی کنڈکٹر کمپنی این ایکس پی اس کے اعلیٰ ایگزیکٹو سے بھی حالیہ دنوں ملاقات ہوئی ہے۔ وہ ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کی تعمیر اور اس کی صلاحیت کے تعلق سے بہت مثبت رویہ رکھتے ہیں۔ فوکس کون نے بھی ہندوستان میں دیگر پروجیکٹس میں ہزاروں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری شروع کردی ہے۔  اگلے ایک ہفتہ میں دنیا کی بڑی کمپنیوں کے متعدد سی ای او سے دوبارہ ملاقات کرنے والا ہوں۔  وہ تمام ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لئے پرجوش ہیں۔ یہ ساری باتیں، یہ ساری کوشش ظاہر کرتی ہے کہ ہندوستان میں الگ الگ شعبوں میں کتنی تیزی سے روزگار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔

ساتھیو،

ملک میں جاری ترقی کی اس رفتار میں اتنی بڑی تبدیلیوں میں اب آپ کی براہ راست شمولیت ہوگی۔ اگلے 25 برسوں میں آپ کو اپنے فرائض کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ بھارت کے عزائم کو بھی حتمی جامہ پہنانا ہے۔ میری آپ سبھی سے اپیل ہے کہ اِس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھائیں، آج سے آپ کی زندگی میں سیکھنے کا بھی ایک نیا دور شروع ہورہا ہے۔ سرکار کا سارا زور اپنے ملازمین کی ہنرمندی کے فروغ پر ہے۔ اسی کو دھیان میں رکھتے ہوئے آن لائن لرننگ پلیٹ فارم، آئی جی او ٹی کرم یوگی شروع کیاگیا ہے۔ اِس پلیٹ فارم  پر متعدد کورسیز دستیاب ہیں۔ آپ ان کا پورا استعمال کریں ۔ آپ کی صلاحیت میں جتنا اضافہ ہوا، اتنا آپ کے کام پر بھی مثبت اثر پڑے گا اور باصلاحیت افراد کے سبب کام پر جو مثبت اثر ہوتا ہے، اس کا اثر ملک کی تمام سرگرمیوں میں مثبتیت کی رفتار کو طاقت دیتا ہے۔ آج اِس اہم موقع پر آپ کی زندگی کے ایک بہت ہی اہم مقام پر میں آپ کو دوبارہ مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ کے نئے سفر کے لئے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ آپ کے اہل خانہ کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں، کیونکہ انہوں نے بھی آپ کی امیدوں اور امنگوں کے ساتھ زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے بہت ساتھ دیا ہے۔ آپ کے روشن مستقبل کی دعا کرتا ہوں۔ ایک بار پھر آپ سبھی کو بہت بہت مبارکباد۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt

Media Coverage

India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister urges MPs to vote in favour of Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment, Calls it Historic Opportunity
April 17, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, has highlighted that a discussion is currently underway in Parliament on the amendment to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam, noting that deliberations continued till 1 AM last night.

He stated that all misconceptions surrounding the amendment have been addressed with logical responses, and every concern raised by members has been resolved. The Prime Minister added that necessary information, wherever lacking, has also been provided to all members, ensuring that issues of opposition have been clarified.

Emphasising that the issue of women’s reservation has witnessed political debates for nearly four decades, the Prime Minister said that the time has now come to ensure that women, who constitute half of the country’s population, receive their rightful representation.

He observed that even after decades of independence, the low representation of women in the decision-making process is not appropriate and needs to be corrected.

The Prime Minister informed that voting in the Lok Sabha is expected shortly and urged all political parties to take a thoughtful and sensitive decision by voting in favour of the women’s reservation amendment.

Appealing on behalf of the women of the country, he urged all Members of Parliament to ensure that no action hurts the sentiments of Nari Shakti. He noted that crores of women are looking towards the Parliament, its intent, and its decisions.

The Prime Minister called upon MPs to reflect upon their families-mothers, sisters, daughters, and wives—and listen to their inner conscience while making the decision.

He described the amendment as a significant opportunity to serve and honour the women of the nation and urged members not to deprive them of new opportunities.

Expressing confidence, the Prime Minister said that if the amendment is passed unanimously, it will further strengthen Nari Shakti as well as the country’s democracy.

Calling it a historic moment, he urged all members to come together to create history by granting rightful representation to women, who form half of India’s population.

The Prime Minister wrote on X;

“संसद में इस समय नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन पर चर्चा चल रही है। कल रात भी एक बजे तक चर्चा चली है।

जो भ्रम फैलाए गए, उनको दूर करने के लिए तर्कबद्ध जवाब दिया गया है। हर आशंका का समाधान किया गया है। जिन जानकारियों का अभाव था, वो जानकारियां भी हर सदस्य को दी गई हैं। किसी के मन में विरोध का जो कोई भी विषय था, उसका भी समाधान हुआ है।

महिला आरक्षण के इस विषय पर देश में चार दशक तक बहुत राजनीति कर ली गई है। अब समय है कि देश की आधी आबादी को उसके अधिकार अवश्य मिलें।

आजादी के इतने दशकों बाद भी भारत की महिलाओं का निर्णय प्रक्रिया में इतना कम प्रतिनिधित्व रहे, ये ठीक नहीं।

अब कुछ ही देर लोकसभा में मतदान होने वाला है। मैं सभी राजनीतिक दलों से आग्रह करता हूं… अपील करता हूं...

कृपया करके सोच-विचार करके पूरी संवेदनशीलता से निर्णय लें, महिला आरक्षण के पक्ष में मतदान करें।

मैं देश की नारी शक्ति की तरफ से भी सभी सदस्यों से प्रार्थना करूंगा… कुछ भी ऐसा ना करें, जिनसे नारीशक्ति की भावनाएं आहत हों।

देश की करोड़ों महिलाओं की दृष्टि हम सभी पर है, हमारी नीयत पर है, हमारे निर्णय पर है। कृपया करके नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन का साथ दें।”

“मैं सभी सांसदों से कहूंगा...

आप अपने घर में मां-बहन-बेटी-पत्नी सबका स्मरण करते हुए अपनी अंतरात्मा को सुनिए ...

देश की नारीशक्ति की सेवा का, उनके वंदन का ये बहुत बड़ा अवसर है।

उन्हें नए अवसरों से वंचित नहीं करिए।

ये संशोधन सर्वसम्मति से पारित होगा, तो देश की नारीशक्ति और सशक्त होगी… देश का लोकतंत्र और सशक्त होगा।

आइए… हम मिलकर आज इतिहास रचें। भारत की नारी को… देश की आधी आबादी को उसका हक दें।”

"Parliament is discussing a historic legislation that paves the way for women’s reservation in legislative bodies. The discussions, which began yesterday, lasted till around 1 AM and have continued since the House proceedings began this morning.

The Government has addressed all apprehensions and misconceptions relating to the legislation with facts and logic. All concerns have been addressed and any gaps in information have also been filled.

For nearly four decades, this issue of women’s reservation in legislative bodies has been inordinately delayed. Now is the time to ensure that half of the nation’s population receives its rightful due in decision making. Even after so many decades of Independence, it is not right that women in India have such limited representation in this area.

In a short while from now, voting will take place in the Lok Sabha. I urge and appeal to all political parties to reflect carefully and take a sensitive decision by voting in favour of women’s reservation.

On behalf of our Nari Shakti, I also request all members not to do anything that may hurt the sentiments of women across India. Crores of women are watching us…our intent and our decisions. I once again request that everyone support the amendments to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam.”

"I would like to appeal to all Members of Parliament…

Please reflect upon your conscience, remembering the women in your own families.

The legislation to ensure women’s reservation in legislative bodies is a significant opportunity to do justice to women of our nation.

Please do not deprive our Nari Shakti of new opportunities.

If this amendment is passed unanimously, it will further empower the women of our country and strengthen our democracy.

Let us come together today to create history.

Let us ensure that the women of India, who are half of the nation’s population, receive their rightful due.”