وزیر اعظم نے پی ایم شری اسکیم کے تحت فنڈز کی پہلی قسط جاری کی
12 بھارتی زبانوں میں ترجمہ شدہ تعلیم اور ہنر مندی کے نصاب کی کتابیں جاری کی گئیں
’’ہمارے تعلیمی نظام کا ان اہداف کو حاصل کرنے میں بہت بڑا کردار ہے جن کے ساتھ 21 ویں صدی کا بھارت آگے بڑھ رہا ہے‘‘
’’قومی تعلیمی پالیسی میں روایتی علم اور مستقبل کی ٹکنالوجیوں کو یکساں اہمیت دی گئی ہے‘‘
’’مادری زبان میں تعلیم بھارت میں طلبہ کے لیے انصاف کی ایک نئی شکل کا آغاز کر رہی ہے۔ یہ سماجی انصاف کی طرف بھی ایک بہت اہم قدم ہے ‘‘
’’جب طلبہ کسی زبان میں پر اعتماد ہوں گے تو ان کی مہارت اور صلاحیت بلارکاوٹ ابھرے گی‘‘
’’ہمیں امرت کال کے اگلے 25 سالوں میں ایک متحرک نئی نسل کو پروان چڑھاناہے، ایک ایسی نسل جو غلامی کی ذہنیت سے پاک، جدت طرازی کی خواہش مند اور فرض کے احساس سے معمور ہو‘‘
’’تعلیم میں مساوات کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی بچہ مقام، طبقہ یا علاقے کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے‘‘
’’5 جی کے دور میں پی ایم- شری اسکول جدید تعلیم کا ذریعہ ہوں گے‘‘
’’ زنجبار اور ابوظہبی میں آئی آئی ٹی کیمپس کھولے گئے۔ بہت سے دوسرے ممالک بھی ہم پر زور دے رہے ہیں کہ ہم ان کے ممالک میں آئی آئی ٹی کیمپس کھولیں‘‘

میرے کابینہ کے ساتھی جناب دھرمیندر پردھان جی، اناپورنا دیوی جی، راجکمار رنجن سنگھ جی، سبھاش سرکار جی، ملک کے مختلف حصوں سے آئے اساتذہ، معزز دانشور اور ملک بھر سے میرے پیارے طالب علم دوست۔

تعلیم ہی ملک کو کامیاب بنانے اور ملک کی تقدیر بدلنے کی سب سے زیادہ طاقت رکھتی ہے۔ آج 21ویں صدی کا بھارت  جن مقاصد کے لیے آگے بڑھ رہا ہے، ان میں ہمارے تعلیمی نظام کی بھی بہت اہمیت ہے۔ آپ سب اس نظام کے نمائندے ہیں، پرچم بردار ہیں۔ اس لیے ’آل انڈیا ایجوکیشن کانفرنس‘ کا حصہ بننا میرے لیے بھی بہت اہم موقع ہے۔

میں متفق ہوں، سیکھنے کے لیے مذاکرہ بہت ضروری ہے۔ تعلیم کے لیے رابطہ ضروری ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آل انڈیا ایجوکیشن کانفرنس کے اس سیشن کے ذریعے ہم اپنے مذاکرے اور فکر کی روایت کو مزید آگے لے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے کاشی میں نو تعمیر شدہ رودراکش آڈیٹوریم میں اس طرح کا ایک پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔ اس بار یہ سماگم دلی کے اس نو تعمیر شدہ بھارت منڈپم میں ہو رہا ہے۔ اور یہ خوشی کی بات ہے کہ بھارت منڈپم کے باقاعدہ افتتاح کے بعد یہ پہلا پروگرام ہے اور خوشی میں اضافہ اس لیے  ہو جاتا ہے کہ پہلا پروگرام تعلیم سے متعلق منعقد کیا جا رہا ہے۔

 

ساتھیو،

کاشی کے رودراکش سے لے کر اس جدید بھارت منڈپم تک، اکھل بھارتیہ شکشا سماگم کے اس سفر میں بھی ایک پیغام چھپا ہوا ہے۔ یہ ہے قدیمیت اور جدیدیت کے سنگم کا پیغام! یعنی ایک طرف ہمارا تعلیمی نظام بھارت  کی قدیم روایات کو محفوظ کر رہا ہے اور دوسری طرف جدید سائنس اور ہائی ٹیک ٹیکنالوجی، اس میدان میں بھی ہم اتنی ہی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ اس تقریب کے لیے، تعلیمی نظام میں آپ کے تعاون کے لیے، میں آپ سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اتفاق سے آج ہماری قومی تعلیمی پالیسی کو بھی 3 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ ملک بھر کے دانشوروں، ماہرین تعلیم اور اساتذہ نے اسے ایک مشن کے طور پر لیا اور آگے بڑھایا ہے۔ آج اس موقع پر میں ان سب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کے تئیں اظہار تشکر کرتا ہوں۔

ابھی یہاں آنے سے پہلے میں پاس کے برآمدے میں نمائش دیکھ رہا تھا۔ اس نمائش میں ہماری مہارت اور تعلیم کے شعبے کی طاقت اور کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ نئے جدید طریقے دکھائے گئے ہیں۔ مجھے وہاں کنڈرگارٹن میں بچوں سے ملنے اور ان سے بات کرنے کا موقع ملا۔ میرے لیے یہ دیکھنا واقعی حوصلہ افزا تھا کہ بچے کھیلتے ہوئے کیسے اتنا سیکھ رہے ہیں، تعلیم اور اسکولنگ کے معنی کیسے بدل رہے ہیں۔ اور میں آپ سب سے یہ بھی گزارش کروں گا کہ پروگرام ختم ہونے کے بعد جب بھی آپ کو موقع ملے آپ وہاں ضرور جائیں اور وہ تمام سرگرمیاں ضرور دیکھیں۔

ساتھیو،

جب عہد سازی میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، تو وہ اپنا وقت لیتی ہیں۔ تین سال قبل جب ہم نے قومی تعلیمی پالیسی کا اعلان کیا تو ہمارے سامنے ایک بہت بڑا کام تھا۔ لیکن قومی تعلیمی پالیسی کو نافذ کرنے کے لیے آپ سب نے جس فرض شناسی کا مظاہرہ کیا، جس لگن کا مظاہرہ کیا اور نئے خیالات کو قبول کرنے کی ہمت دکھائی، اور  کھلے ذہن کے ساتھ نئے تجربات کو قبول کیا،  یہ واقعی زبردست ہے اور اس سے نئےسرے سے اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

آپ سب نے اسے ایک مشن کے طور پر لیا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی میں روایتی علمی نظام سے لے کر مستقبل کی ٹیکنالوجی تک کو متوازن انداز میں یکساں اہمیت دی گئی ہے۔ پرائمری تعلیم کے شعبے میں نئے نصاب کی تیاری، علاقائی زبانوں میں کتابیں لانے، اعلیٰ تعلیم کے لیے، ملک میں تحقیق کے ایکو نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ملک کی تعلیمی دنیا کی تمام عظیم شخصیات نے محنت کی ہے۔

 

ملک کے عام شہری اور ہمارے طلباء نئے نظام سے بخوبی واقف ہیں۔ انہیں معلوم ہوا ہے کہ ’ٹین پلس ٹو‘ تعلیمی نظام کے بجائے اب ’فائیو پلس تھری‘ پلس تھری پلس فور‘ کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔ تعلیم بھی تین سال کی عمر سے شروع ہو جائے گی۔ اس سے پورے ملک میں یکسانیت آئے گی۔

حال ہی میں کابینہ نے نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری دی ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی کے تحت نیشنل کریکولم فریم ورک بھی جلد نافذ ہونے والا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ فاؤنڈیشن اسٹیج یعنی 3 سے 8 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ایک فریم ورک بھی تیار کیا گیا ہے۔ باقی جماعتوں کا نصاب بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ قدرتی طور پر، اب ملک بھر کے سی بی ایس ای اسکولوں میں ایک مشترکہ نصاب ہوگا۔ این سی ای آر ٹی اس کے لیے نئی نصابی کتابیں تیار کر رہی ہے۔  تیسری جماعت  سے بارہویں تک تقریباً 130 مضامین پر نئی کتابیں آرہی ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ چونکہ اب علاقائی زبانوں میں بھی تعلیم دی جانی ہے، یہ کتابیں 22 بھارتی  زبانوں میں ہوں گی۔

ساتھیو،

نوجوانوں کو ان کے ہنر کے بجائے ان کی زبان کی بنیاد پر پرکھنا ان کے ساتھ سب سے بڑا ظلم ہے۔ مادری زبان میں تعلیم کی وجہ سے بھارت  کے نوجوان صلاحیت کے ساتھ حقیقی انصاف شروع ہونے والا ہے۔ اور یہ سماجی انصاف کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔ دنیا میں سینکڑوں مختلف زبانیں ہیں۔ ہر زبان کی اپنی اہمیت ہے۔ دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک نے اپنی زبان کی وجہ سے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اگر ہم صرف یورپ کو دیکھیں تو وہاں کے بیشتر ممالک صرف اپنی مادری زبان استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہاں اتنی بھرپور زبانیں ہونے کے باوجود ہم اپنی زبانوں کو پسماندہ قرار دیتے ہیں۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی کا دماغ کتنا ہی اختراعی ہو، اگر وہ انگریزی نہیں بول سکتا ، تو اس کی قابلیت کو آسانی سے قبول نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان ہمارے دیہی علاقوں کے ہونہار بچوں کو ہوا ہے۔ آج آزادی کے سنہری دور میں قومی تعلیمی پالیسی کے ذریعے ملک نے اس احساس کمتری کو پیچھے چھوڑنا شروع کر دیا ہے اور میں اقوام متحدہ میں بھی بھارت  کی زبان بولتا ہوں۔ سننے والے کو تالی بجانے میں وقت لگے  تو لگے ۔

 

ساتھیو،

اب سماجی علوم سے انجینئرنگ تک کی تعلیم بھی بھارتی  زبانوں میں دی جائے گی۔ نوجوانوں میں زبان پر اعتماد ہوگا تو ان کی صلاحیتیں اور ہنر بھی سامنے آئے گا اور، اس کا ملک کو ایک اور فائدہ ہوگا۔ زبان کی سیاست کر کے نفرت کی دکان چلانے والوں کا بھی منہ بند کر دیا جائے گا۔ قومی تعلیمی پالیسی سے ملک کی ہر زبان کا احترام  ہوگا اور اسے فروغ حاصل ہوگا۔

ساتھیو،

آزادی کے امرت مہوتسو میں آئندہ 25 سال بہت اہم ہیں۔ ان 25 سال میں ہمیں توانائی سے بھرپور نوجوان نسل تیار کرنی ہے۔ وہ نسل جو غلامی کی ذہنیت سے آزاد ہو۔ ایسی نسل، جو نئی ایجادات کے لیے ترس رہی ہے۔ ایسی نسل جو سائنس سے لے کر کھیل تک ہر میدان میں بھارت  کا نام روشن کرتی ہو، بھارت  کا نام آگے لے جاتی ہو۔ ایک ایسی نسل جو 21ویں صدی کے بھارت  کی ضروریات کو سمجھتی ہو، اپنی صلاحیت کو بڑھاتی ہو اور ایسی نسل، جو فرض کے احساس سے معمور ہو، اپنی ذمہ داریوں کو جانتی اور سمجھتی ہو،  اس میں قومی تعلیمی پالیسی کا بہت بڑا کردار ہے۔

ساتھیو،

معیاری تعلیم کی دنیا میں بہت سے مرحلے ہیں، لیکن، جب ہم بھارت  کی بات کرتے ہیں، تو ہمارے پاس ایک بڑی کوشش ہے - مساوات! قومی تعلیمی پالیسی کی ترجیح یہ ہے کہ بھارت  کے ہر نوجوان کو یکساں تعلیم اور اس کے ،مساوی موقع ملیں۔ جب ہم مساوی تعلیم اور مساوی موقعوں کی بات کرتے ہیں تو صرف اسکول کھولنے سے یہ ذمہ داری پوری نہیں ہوتی۔ مساوی تعلیم کا مطلب- تعلیم کے ساتھ ساتھ وسائل تک مساوات ہونی چاہیے۔ مساوی تعلیم کا مطلب ہے - ہر بچے کی سمجھ اور پسند کے مطابق اسے اختیارات ملتے ہیں۔ مساوی تعلیم کا مطلب ہے کہ بچوں کو مقام، طبقے، علاقہ کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ کیا جائے۔

 

اسی لیے، قومی تعلیمی پالیسی کا وژن یہ ہے،  ملک کی کوشش ہے کہ نوجوانوں کو ہر طبقے، گاؤں، شہر، امیر غریب میں یکساں موقعے ملے۔ آپ نے دیکھا کہ پہلے بہت سے بچے صرف اس وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے تھے کہ دور دراز علاقوں میں اچھے اسکول نہیں تھے۔ لیکن آج ملک بھر میں ہزاروں اسکولوں کو پی ایم  - شری  اسکولوں کے طور پر اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔ ’5 جی‘کے اس دور میں یہ جدید ہائی ٹیک اسکول بھارت  کے طلبہ کے لیے جدید تعلیم کا ذریعہ بنیں گے۔

آج قبائلی علاقوں میں ایکلویہ قبائلی اسکول بھی کھولے جا رہے ہیں۔ آج ہر گاؤں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔ دور دراز کے بچے دیکشا، سویم اور سویم پربھا جیسے ذرائع سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بہترین کتابیں ہوں، تخلیقی انداز میں سیکھنے تکنیک، آج ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر گاؤں میں نئے خیالات، نئے انتظامات، نئے موقعے دستیاب ہو رہے ہیں یعنی بھارت  میں پڑھائی کے لیے درکار وسائل کا فرق بھی تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

ساتھیو،

آپ جانتے ہیں کہ قومی تعلیمی پالیسی کی ایک بڑی ترجیح یہ ہے کہ تعلیم کو صرف کتابوں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ عملی تعلیم کو اس کا حصہ بنایا جائے۔ اس کے لیے پیشہ ورانہ تعلیم کو عام تعلیم کے ساتھ مربوط کرنے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ کمزور، پسماندہ اور دیہی ماحول کے بچوں کو ہوگا۔

کتابی مطالعہ کے بوجھ کی وجہ سے یہ بچے سب سے پیچھے رہ گئے۔ لیکن نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت اب نئے طریقوں سے پڑھائی جائے گی۔ یہ مطالعہ انٹرایکٹو ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ بھی ہوگا۔ اس سے پہلے لیب اور پریکٹیکل سہولیات بہت کم اسکولوں میں دستیاب تھیں۔ لیکن، اب 75 لاکھ سے زیادہ بچے اٹل ٹنکرنگ لیبز میں سائنس اور اختراعات سیکھ رہے ہیں۔ سائنس اب سب کے لیے یکساں طور پر قابل رسائی ہوتی جا رہی ہے۔ یہ نوجوان سائنسدان مستقبل میں ملک کے بڑے پروجیکٹوں کی قیادت کریں گے اور بھارت  کو دنیا کا تحقیقی مرکز بنائیں گے۔

ساتھیو،

کسی بھی اصلاح کے لیے ہمت کی ضرورت ہوتی ہے اور جہاں ہمت ہوتی ہے وہاں نئے امکانات جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھارت  کو نئے امکانات کی نرسری کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ آج دنیا جانتی ہے کہ جب سافٹ ویئر ٹیکنالوجی کی بات آتی ہے تو مستقبل بھارت  کا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ جب خلائی ٹیکنالوجی کی بات آتی ہے تو بھارت  کی صلاحیت کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ جب دفاعی ٹیکنالوجی کی بات آتی ہے تو بھارت  کا ’کم لاگت‘ اور ’بہترین کوالٹی‘ کا ماڈل ہٹ ہونے والا ہے۔ ہمیں دنیا کے اس اعتماد کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے۔

گزشتہ برسوں میں جس رفتار سے بھارت  کی صنعتی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے، جس رفتار سے ہمارے اسٹارٹ اپ دنیا میں بڑھے ہیں، اس سے پوری دنیا میں ہمارے تعلیمی اداروں کی عزت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تمام عالمی درجہ بندیوں میں بھارتی  اداروں کی تعداد بڑھ رہی ہے، ہماری درجہ بندی بھی بڑھ رہی ہے۔ آج ہمارے آئی آئی ٹیز کے دو کیمپس زنجبار اور ابوظبی میں کھل رہے ہیں۔ بہت سے دوسرے ممالک بھی ہم پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنی جگہوں پر  آئی آئی ٹی کیمپس کھولیں۔ دنیا میں اس کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ہمارے تعلیمی ماحولیاتی نظام میں آنے والی ان مثبت تبدیلیوں کی وجہ سے، بہت سی عالمی یونیورسٹیاں بھی بھارت  میں اپنے کیمپس کھولنا چاہتی ہیں۔ آسٹریلیا کی دو یونیورسٹیاں گجرات کے گفٹ سٹی میں اپنے کیمپس کھولنے والی ہیں۔ ان کامیابیوں کے درمیان، ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کو مسلسل مضبوط کرنا ہوگا اور انہیں مستقبل کے لیے تیار کرنے کے لیے سخت محنت کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنے اداروں، اپنی یونیورسٹیوں، اپنے اسکولوں اور کالجوں کو اس انقلاب کا مرکز بنانا ہے۔

 

ساتھیو،

قابل نوجوانوں کی تعمیر ہی ایک مضبوط قوم کی تعمیر کی سب سے بڑی ضمانت  ہوتی ہے اور نوجوانوں کی تعمیر میں پہلا کردار والدین اور اساتذہ کا ہوتا ہے۔ اس لیے میں اساتذہ اور والدین سے یہ کہنا چاہوں گا کہ بچوں کو آزادانہ طور پر پرواز کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ ہمیں ان میں اعتماد پیدا کرنا ہوگا تاکہ وہ ہمیشہ کچھ نیا سیکھنے اور کرنے کی ہمت کریں۔ ہمیں مستقبل پر نظر رکھنی ہے، مستقبل کے نظریے سے سوچنا ہوگا ۔ ہمیں بچوں کو کتابوں کے دباؤ سے آزاد کرنا ہوگا۔

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ  مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسی ٹیکنالوجی جو کل تک سائنس فکشن میں ہوا کرتی تھی، اب ہماری زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ روبوٹکس اور ڈرون ٹیکنالوجی ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ اس لیے ہمیں پرانی سوچ سے نکل کر نئے دائروں میں سوچنا ہو گا۔ ہمیں اپنے بچوں کو اس کے لیے تیار کرنا ہے۔ میں اپنے اسکولوں میں مستقبل کی ٹیکنالوجی سے متعلق انٹرایکٹو سیشنز کرنا چاہوں گا۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کی بات ہو ، موسمیاتی تبدیلی ہو یا صاف توانائی، ہمیں اپنی نئی نسل کو بھی ان سب سے آگاہ کرنا ہوگا۔ اس لیے ہمیں اپنے نظام تعلیم کو اس طرح تیار کرنا ہو گا کہ نوجوان اس  جانب آگاہ ہوں اور ان کے تجسس میں اضافہ ہو ۔

ساتھیو،

جیسے جیسے بھارت مضبوط ہو رہا ہے، بھارت  کی شناخت اور روایات میں دنیا کی دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے۔ ہمیں اس تبدیلی کو دنیا کی توقع کے طور پر ماننا ہوگا۔ یوگ، آیوروید، آرٹ، موسیقی، ادب اور ثقافت کے شعبوں میں مستقبل کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو ان سے متعارف کرانا ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ آل انڈیا ایجوکیشن کانفرنس کے لیے یہ تمام مضامین ترجیحی حیثیت رکھتے  ہوں گے۔

بھارت  کے مستقبل کی تشکیل کے لیے آپ سب کی یہ کوششیں ایک نئے بھارت  کی بنیاد ڈالیں گی اور مجھے پختہ یقین ہے کہ 2047 میں ہم سب کا ایک خواب ہے، ہم سب کے پاس ایک قرارداد ہے کہ جب ملک آزادی کے 100 سال منائے گا، 2047 میں ہمارا ملک ایک ترقی یافتہ بھارت  ہوگا اور یہ دور اُن نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے جو آج آپ کے ساتھ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ جو آج آپ کے ساتھ تیار ہو رہے ہیں، وہ کل ملک کو تیار کرنے والے ہیں اور اسی لیے آپ سب کو بہت سی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں، اس خواب کو پورا کرنے کے لیے ہر نوجوان کے دل میں عزم کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے، اس عزم کو سچ کرنے کے لیے محنت کی انتہا ہونی چاہیے، کامیابیاں حاصل کرتے رہیں، آگے بڑھیں۔ اس نیت کے ساتھ آگے بڑھیں۔

میں آپ سب کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں، آپ کا بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
How Varanasi epitomises the best of Narendra  Modi’s development model

Media Coverage

How Varanasi epitomises the best of Narendra Modi’s development model
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
“If today the world thinks India is ready to take a big leap, it has a powerful launchpad of 10 years behind it”
“Today 21st century India has stopped thinking small. What we do today is the best and biggest”
“Trust in government and system is increasing in India”
“Government offices are no longer a problem but are becoming allies of the countrymen”
“Our government created infrastructure keeping the villages in mind”
“By curbing corruption, we have ensured that the benefits of development are distributed equally to every region of India”
“We believe in Governance of Saturation, not Politics of Scarcity”
“Our government is moving ahead keeping the principle of Nation First paramount”
“We have to prepare 21st century India for its coming decades today itself”
“India is the Future”

The Prime Minister, Shri Narendra Modi addressed the News 9 Global Summit in New Delhi today. The theme of the Summit is ‘India: Poised for the Big Leap’.

Addressing the gathering, the Prime Minister said TV 9’s reporting team represents the diversity of India. Their multi-language news platforms made TV 9 a representative of India's vibrant democracy, the Prime Minister said.

The Prime Minister threw light on the theme of the Summit - ‘India: Poised for the Big Leap’, and underlined that a big leap can be taken only when one is filled with passion and enthusiasm. He said that the theme highlights India’s self-confidence and aspirations owing to the creation of a launchpad of 10 years. In these 10 years, the Prime Minister said, the mindset, self-confidence and good governance have been the major factors of transformation.

The Prime Minister underlined the centrality of the commission citizen in the destiny of India. He emphasized that a mindset of defeat can not lead to victory, in this light, he said that the change in mindset and leap that India has taken is incredible. PM Modi recalled the negative view exposed by the leadership of the past and the overhang of corruption, scams, policy paralysis and dynasty politics had shook the foundation of the nation. The Prime Minister mentioned the turnaround and India entering into the top 5 economies of the world. “India of 21st century India does not think small. Whatever we do, we do best and biggest. World is amazed and sees the benefit of moving with India”, he said.

Highlighting the achievements of the last 10 years compared to the ten years before 2014, the Prime Minister mentioned the record increase in FDI from 300 billion US dollars to 640 billion US dollars, India’s digital revolution, trust in India’s Covid vaccine and the growing number of taxpayers in the country which symbolizes the increasing trust of the people in the government. Speaking about mutual fund investments in the country, the Prime Minister informed that people had invested Rs 9 lakh crore in 2014 while 2024 has seen a meteoric rise to Rs 52 lakh crores. “This proves to the citizens that the nation is moving forward with strength”, PM Modi continued, “The level of trust toward self and the government is equal.”

The Prime Minister said that the government's work culture and governance are the cause of this turn-around. “Government offices are no longer a problem but are becoming allies of the countrymen”, he said.

The Prime Minister said that for this leap, a change of gear was needed. He gave examples of long pending projects such as Saryu Canal Project in Uttar Pradesh, Sardar Sarovar Yojana, and Krishna Koena Pariyojana of Maharashtra which were lying pending for decades and were completed by the government. The Prime Minister drew attention to the Atal Tunnel whose foundation stone was laid in 2002 but remained incomplete till 2014, and it was the present government that accomplished the work with its inauguration in 2020. He also gave the example of Bogibeel Bridge in Assam, commissioned in 1998 but finally completed 20 years later in 2018, and Eastern Dedicated Freight Corridor commissioned in 2008 but completed 15 years later in 2023. “Hundreds of such pending projects were completed after the present government came to power in 2014”, he added. The Prime Minister also explained the impact of regular monitoring of the big projects under PRAGATI and informed that in the last 10 years projects worth 17 lakh crore have been reviewed under the mechanism. The Prime Minister gave examples of a few projects that were completed very quickly such as Atal Setu, Parliament Building, Jammu AIIMS, Rajkot AIIMs, IIM Sambalpur, New terminal of Trichy Airport, IIT Bhilai, Goa Airport, undersea cable up to Lakshadweep, Banas Dairy at Varanasi, Dwarka Sudarshan Setu. Foundation stones of all these projects were laid by the Prime Minister and he dedicated them to the nation also. “When there is willpower and respect for the taxpayers' money, only then the nation moves forward and gets ready for a big leap”, he added.

The Prime Minister illustrated the scale by listing the activities of just one week. He mentioned a massive educational push from Jammu with dozens of higher education institutes like IIT, IIMs and IIIT on 20th February, on 24 th February he dedicated 5 AIIMs from Rajkot, and more than 2000 projects including revamping more than 500 Amrit Stations was done this morning. This streak will continue during his visit to three states in the coming two days, he informed. “We lagged in the first, second and third revolutions, now we have to lead the world in the fourth revolution”, the Prime Minister said.

He continued by furnishing the details of the nation's progress. He gave figures like 2 new colleges daily, a new university every week, 55 patents and 600 trademarks every day, 1.5 lakh Mudra loans daily, 37 startups daily, daily UPI transaction of 16 thousand crore rupees, 3 new Jan Aushadhi Kendras per day, construction of 14 KM road everyday, 50 thousand LPG connections everyday, one tap connection every second and 75 thousand people came out of poverty everyday.

Referring to a recent report on the consumption pattern of the country, the Prime Minister highlighted the fact that poverty has reached its lowest level till date into single digit. As per data, he said that consumption has increased by 2.5 times as compared to a decade ago as people's capacity to spend on different goods and services has increased. “In the last 10 years, consumption in villages has increased at a much faster rate than that in cities. This means that the economic power of the village people is increasing, they are having more money to spend”, he said.

The Prime Minister said that the government has developed infrastructure keeping rural needs in mind resulting in better connectivity, new employment opportunities and income for women. This strengthened rural India, he said. “For the first time in India, food expenditure has become less than 50 per cent of the total expenditure. That is, the family which earlier used to spend all its energy in procuring food, today its members are able to spend money on other things”, the Prime Minister added.

Pointing out the trend of vote bank politics adopted by the previous government, the Prime Minister underscored that India has broken out of the scarcity mindset in the last 10 years by putting an end to corruption and ensuring that the benefits of development are distributed equally. “We believe in governance of saturation instead of politics of scarcity”, PM Modi emphasized, “We have chosen the path of santushti (contentment) of the people instead of tushtikaran.” This, the Prime Minister said, has been the mantra of the government for the past decade. “This is Sabka Saath Sabka Vikas”, the Prime Minister said, elaborating that the government has transformed vote bank politics into politics of performance. Highlighting the Modi Ki Guarantee Vehicle, the Prime Minister said that the government of today is going door-to-door and providing facilities to the beneficiaries. “When saturation becomes a mission, there is no scope for any kind of discrimination”, PM Modi exclaimed.

“Our government is moving forward keeping the principle of Nation First paramount”, the Prime Minister remarked, as he mentioned the critical decisions taken by the government to resolve old challenges. He touched upon the abrogation of Article 370, construction of the Ram Mandir, ending of triple talaq, Nari Shakti Vandan Adhiniyam, One Rank One Pension, and creation of the post of Chief of Defense Staff. He underlined that the government completed all such incomplete tasks with the thinking of Nation First.

The Prime Minister stressed the need to prepare the India of the 21st century and threw light on the rapidly progressing plans. “From space to semiconductor, digital to drones, AI to clean energy, 5G to Fintech, India has today reached the forefront of the world”, he said. He highlighted India’s growing prowess as one of the biggest forces in digital payments in the global world, the fastest-growing country in Fintech Adoption Rate, the first country to land a rover on the south pole of the Moon, among the leading countries in the world in Solar Installed Capacity, leaving Europe behind in the expansion of 5G network, rapid progress in the semiconductor sector and rapid developments on future fuels like green hydrogen.

Concluding the address, the Prime Minister said, “Today India is working hard towards its bright future. India is futuristic. Today everyone says – India is the future.” He also drew attention to the importance of the next 5 years. He reaffirmed the belief to take India's potential to new heights in the third term and wished that the coming 5 years be years of progress and praise for India’s journey to Viksit Bharat.