The India-Japan Special Strategic and Global Partnership is based on our shared democratic values, and respect for the rule of law in the international arena: PM Modi
We had a fruitful discussion on the importance of reliable supply chains in semiconductor and other critical technologies: PM Modi after talks with Japanese PM

عالی جناب وزیراعظم کیشیدا

دونوں ممالک کے وفد کے مندوبین

دوستو اور میڈیا نمسکار!

ابتدا میں میں وزیراعظم کیشیدا اور ان کے وفدکا  بھارت میں گرمجوشی سے خیرمقدم کرتا ہوں۔ وزیر اعظم کیشیدا کے ساتھ گزشتہ ایک برس میں میری متعدد ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ہر مرتبہ میں نے ، بھارت- جاپان تعلقات کے تئیں ان کی مثبت سوچ اور عہد بندگی کا احساس کیا ہے۔لہذا اس لیے ان کا آج کا دورہ ہمارے تعاون کی رفتار کو برقرار رکھنے میں بہت مفید ثابت ہوگا۔

دوستو،

آج کی ہماری ملاقات ایک دوسری وجہ سے بھی بہت خصوصی حیثیت کی حامل ہے۔ بھارت اس سال جی-20 کی صدارت کررہا ہے اور جاپان جی -7 کی صدارت کررہا ہے۔ لہذا یہ ازعہد مناسب موقع ہے کہ ہم اپنی اپنی متعلقہ ترجیحات اور متعلقہ مفادات کی سمت میں مل جل کر کام کریں، آج، میں نے تفصیل کے ساتھ وزیر اعظم کیشیدا کے روبرو  جی -20 کی بھارت کی صدارت کے کوائف بیان کیے ہیں۔ گلوبل ساؤتھ کی ترجیحات کو اجاگر کرنا ہماری جی-20صدارت کا ایک اہم ستون ہے، ہم نے یہ پہل قدمی اس لیے اختیار کی ہے کہ ہماری ثقافت ایک ایسی ثقافت ہے، جو وسودھیو کٹمبکم اور ہر کسی کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتی ہے۔

دوستو،

بھارت-جاپان خصوصی کلیدی اور عالمی شراکت داری ہماری مشترکہ جمہوری اقدار اور بین الاقوامی منظر نامے میں قانون کی حکمرانی کے تئیں احترام پر منحصر ہے۔ اس شراکت داری کو مستحکم بنانا نہ صرف یہ کہ ہمارے دونوں ممالک کے لیے اہم ہے، بلکہ اس کے تحت امن، خوش حالی اور انڈوپیسفک خطے میں استحکام کو فروغ دینے کے لیے بھی ضروری ہے۔آج کی ہماری گفت وشنید میں ہم نے ہمارے باہمی تعلقات میں ہوئی پیش رفت پر نظر ثانی کی ہے۔ ہم نے دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی اشتراک، تجارت، صحت اور ڈیجیٹل شراکت داری پر بھی نظر ثانی کی ہے اور تبادلہ خیالات کیے ہیں۔ ہم نے سیمی کنڈیکٹر اور دیگر اہم ٹیکنالوجیوں کے بارے میں معتبر سپلائی چینوں کی اہمیت کے موضوع پر بھی بارآور تبادلہ خیالات کیے ہیں۔ گزشتہ برس، ہم نے بھارت میں 50 کھرب ین کے بقدر جاپانی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا تھا۔ یعنی پانچ برسوں میں یہ سرمایہ کاری عمل میں آنی تھی۔ یہ رقم تین لاکھ20 ہزار کروڑ روپے کے بقدر بنتی ہے۔ یہ بات تسلی بخش ہے کہ اس سمت میں اطمینان بخش پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔

2019 میں ہم نے بھارت- جاپان صنعتی مسابقتی شراکت داری قائم کی  تھی۔ اس کے تحت ہم لوجسٹکس ، خوراک ڈبہ بندی، ایم ایس ایم ای، کپڑے کی صنعت، مشینری اور فولاد کے شعبوں میں بھارتی صنعت کی مسابقتی صلاحیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ آج ہم نے اس شراکت داری کی سرگرمی پر بھی مسرت کا اظہار کیا ہے۔ ہم ممبئی- احمدآباد ہائی اسپیڈ ریل کے معاملے میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ سال 2023 کو سیاحتی تبادلے کے طور پر منا رہے ہیں اور اس کے لیے ہم نے ‘‘ہمالیہ کو ماونٹ فیوجی کے ساتھ مربوط کرنا’’ کا عنوان منتخب کیا ہے۔

دوستو،

آج وزیر اعظم کیشیدا نے ماہ مئی میں ہیروشیما میں منعقد ہونے والی جی -7 قائدین کے سربراہ ملاقات میں شریک ہونے کی دعوت دی ہے۔ میں اس کے لیے تہہ دل سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ چند ماہ بعد ماہ ستمبر میں، مجھے ایک مرتبہ پھر جی-20 قائدین کی سربراہ ملاقات میں وزیر اعظم کیشیدا  کا بھارت میں خیرمقدم کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔ خدا کرے کہ گفت وشنید کا یہ سلسلہ اور روابط کا یہ تعلق اسی انداز میں برقرار رہےا ور  بھارت-جاپان تعلقات نئی بلندیوں سے ہمکنار ہوتے رہیں۔ میں اسی تمنا کے ساتھ اپنی تقریر ختم کرتا ہوں۔

 آپ سب کا بے حد شکریہ۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report

Media Coverage

Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s visit to Indonesia, Australia and New Zealand
July 03, 2026

At the invitation of the President of the Republic of Indonesia, H.E. Mr. Prabowo Subianto, Prime Minister Shri Narendra Modi will pay a visit to Indonesia from 6-8 July, 2026. This will be Prime Minister’s fourth visit to Indonesia and his first bilateral visit since the elevation of India-Indonesia ties to the level of Comprehensive Strategic Partnership in May 2018. During the visit, Prime Minister will hold bilateral discussions with President Prabowo and review the progress made in the partnership. In Jakarta, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora. India and Indonesia share historical and warm people-to-people ties. In keeping with these special bonds, Prime Minister will visit the Prambanan Temple complex at Yogyakarta, a prominent UNESCO world heritage site in Indonesia.

From Indonesia, at the invitation of the Prime Minister of Australia, the Honourable Anthony Albanese MP, Prime Minister will travel to Melbourne from 8-10 July, 2026. In Melbourne, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Albanese. He will also call on the Governor General of Australia, the Honourable Ms Sam Mostyn AC. During his visit, Prime Minister will also participate in the India-Australia CEOs Forum, where he will address a gathering of top business leaders from both countries. Prime Minister will also address a large gathering of the Indian Diaspora, who constitute a strong pillar of the India-Australia relationship.

From Melbourne, at the invitation of the Prime Minister of New Zealand, Rt Honourable Christopher Luxon, Prime Minister will travel to Auckland for a state visit from 10-11 July, 2026. This will be the first state visit of an Indian Prime Minister to New Zealand in four decades. In Auckland, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Luxon and review the entire gamut of the bilateral relationship, which has seen significant progress in the last two years, especially in the areas of trade and commerce and defence. While in Auckland, Prime Minister will also interact with prominent business and sports personalities. In a reflection of the strong people-to-people ties that exist between India and New Zealand, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora during the visit.