پردھان منتری مہیلا کسان ڈرون کیندر کا آغاز کیا
دیو گھر کے ایمس میں 10 ہزار ویں جن اوشدھی کیندر کو قوم کو وقف کیا
ملک میں جن اوشدھی کیندروں کی تعداد 10 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار کرنے کے پروگرام کا آغاز کیا
‘‘وکست بھارت سنکلپ یاترا کا مقصد سرکاری اسکیموں کو عروج تک پہنچانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس کے فوائد پورے ملک میں شہریوں تک پہنچیں’’
‘‘مودی کی گارنٹی کی وین ،اب تک 12 ہزار گرام پنچایتوں تک پہنچ چکی ہے، جہاں تقریبا 30 لاکھ شہریوں نے اس سے رابطہ کیا ہے’’
‘‘وی بی ایس وائی ایک سرکاری اقدام سے جن آندولن میں تبدیل ہو گیا ہے’’
‘‘وکست بھارت سنکلپ یاترا کا مقصد سرکاری اسکیموں اور خدمات کو اُن لوگوں تک پہنچانا ہے، جو اب تک اس سے محروم رہے ہیں’’
‘‘مودی کی گارنٹی، وہاں سے شروع ہوتی ہے، جہاں سے دوسروں کی توقعات ختم ہوتی ہیں’’
‘‘وکست بھارت کے چار امرت ستونوں میں ‘بھارت کی ناری شکتی، یووا شکتی، کسان اور بھارت کے غریب کنبے ہیں’’

اس پروگرام سے جڑے الگ الگ ریاستوں کے عزت مآب گورنر، سبھی وزرائے اعلیٰ، مرکز اور ریاستی حکومتوں کے وزراء، ارکان پارلیمنٹ اورارکان اسمبلی اور  گاؤں گاؤں سے جڑےہوئے سبھی میرے پیارے بھائیو ، بہنوں،ماؤں،میرے کسان بھائی بہنوں، اور سب سے زیادہ میرے نوجوان ساتھیو،

آج ملک کے گاؤں گاؤں ، میں دیکھ رہا ہوں کہ گاؤں گاؤں سے اتنی بڑی تعداد میں لاکھوں ہم وطن اور میرے لئےتوپورا ہندوستان میرا کنبہ ہے، توآپ سب میرے پریوارجن ہیں ۔ آپ سب میر پریوار جنو ں کے دیدار کرنے کامجھے موقع ملا ہے ۔ دورسےسہی، لیکن آپ کے دیدار سے مجھے طاقت ملتی ہے۔ آپ نےوقت نکالا ، آپ آئے، میں آپ سبھی کا ا ستقبال کرتا ہوں۔

آج وکست بھارت سنکلپ یاتراکے 15 دن پورے ہورہے ہیں ۔ شروع کی تیاری میں شاید کیسے کرنا ہے، کیا کرنا ہے ، اس میں کچھ الجھنیں رہیں، لیکن پچھلے دو تین دن سےجوخبریں میرے پاس آرہی ہیں اور میں اسکرین پر دیکھ رہا ہوں، ہزاروں لوگ ایک ایک کرکے یاترا کےساتھ جڑتے ہوئے دکھتے ہیں ۔ یعنی ان 15 دنوںمیں ہی،لوگ یاترامیں چل رہے وکاس رتھ کو اورجیسے جیسے آگے بڑھتا گیا، مجھےکئی لوگوں نے کہا کہ اب تو لوگوں نے اسکانام ہی بدل دیاہے ۔ سرکارنےجب نکالا تب تو یہ کہا تھا کہ وکاس رتھ ہے ، لیکن اب لوگ کہنے لگے ہیں ، رتھ وتھ نہیں ہے، یہ تو مودی کی گارنٹی والی گاڑی ہے ۔ مجھےبہت اچھا لگا یہ سن کرکے ، آپ کااتنا بھروسہ ہے،آپ نے اس کو مودی کی گارنٹی والی گاڑی بنا دیا ہے ، تو میں بھی آپ کو کہتاہوں  جس کو آپ نے مودی کی گارنٹی والی گاڑی کہاہے، وہ کام مودی ہمیشہ پورا کرکے رہتا ہے ۔

اورتھوڑی دیر پہلے مجھے کئی استفادہ کنندگان سے بات چیت کرنے کا موقع ملا ۔ میں خوش تھا کہ میرے ملک کی مائیں۔ بہنیں، نوجوان کتنے جوش و امنگ سے بھرے ہوئے ہیں ، کتنی خود اعتمادی سے بھرے ہوئےہیں ، کتناعزم ہے ان کے اندر ۔   اوراب تک 12 ہزار سے زیادہ پنچایتوں تک یہ مودی کی گارنٹی والی گاڑی پہنچ چکی ہے ۔ تقریبا  30 لاکھ لوگ اسکافائدہ اٹھاچکے ہیں، اسکے ساتھ جڑے ہیں، بات چیت کی ہے، سوال پوچھے ہیں، اپنےنام لکھوائے ہیں ،  جن چیزوں کی ان کو ضرورت ہے اس کافارم بھر دیا ہے ۔ اور سب سے بڑی بات کہ مائیں- بہنیں بڑی تعداد میں مودی کی گارنٹی والی گاڑی تک پہنچ رہی ہیں ۔ اورجیسا ابھی بلبیر جی بتارہے تھے، کچھ جگہ پر کھیتی کاکام چل رہا ہے ۔ اس کےباوجودبھی کھیت سے چھوڑ چھوڑ کرکے ہرپروگرام میں جڑنا، یہ اپنے آپ میں ترقی کے تئیں لوگوں کاکتنایقین ہے ، ترقی کی اہمیت کیا ہے، یہ آج ملک کے گاؤں گاؤں کا ہرفرد سمجھنے لگاہے ۔

اورہر جگہ وکست بھارت سنکلپ یاترا میں شامل ہونے کےلئے، شامل تو ہوتے نہیں، اس کااستقبال کرتے ہیں ، شاندارتیاریاں کرتے ہیں ، گاؤں گاؤں اطلاعات دیتے ہیں  اور لوگ ا مڑ رہے ہیں ۔ملک کے باشندے اسے ایک عوامی تحریک کی شکل دے کر اس پوری مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔ جس طرح سے لوگ وکست بھارت رتھوں کا استقبال  کررہے ہیں، جس طرح سے رتھ کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ جو ہماری حکومت کے کام کرنے والے میرے کارندےساتھی ، ملازم بھائی بہن ہیں ، ان کا بھی بھگوان کی طرح لوگ استقبال کررہے ہیں ، جس طرح نوجوان اورمعاشرے کے ہر طبقے کےلوگ وکست  بھارت یاتراسےجڑ رہے ہیں، جہاں – جہاں کے ویڈیو میں نے دیکھے ہیں، وہ اتنے متاثر کرنےوالے ہیں ، ا تنی تحریک دینے والے ہیں ۔اورمیں دیکھ رہا ہوں سب لوگ اپنے گاؤں کی کہانی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کررہے ہیں۔ اورمیں چاہوں گاکہ نمو ایپ پر آپ ضرور اپ لوڈ کیجئے، کیوں کہ میں نمو ا یپ پر  یہ ساری سرگرمیاں روزانہ  دیکھتا ہوں ۔ جب بھی سفر میں ہوتاہوں تو مسلسل اسکو دیکھتا رہتا ہوں ، کس گاؤں میں، کس ریاست میں ، کہاں کیسا ہوا، کیسے کررہے ہیں اور نوجوان تووکست بھارت کے ایک طرح سے امبیسڈر بن چکے ہیں۔ ان میں زبردست جوش ہے۔ نوجوان مسلسل اس پر ویڈیو اپ لوڈ کررہے ہیں، اپنےکام کوپھیلا رہے ہیں، اورمیں نے تو دیکھا کچھ گاؤں نے یہ مودی کی گارنٹی والی گاڑی آنےو الی تھی تو دو دن تک گاؤں میں صفائی کی بڑی مہم چلا ئی، کیوں کہ یہ تو  بھئی گارنٹی والی گاڑی آرہی ہے ۔ یہ جوش ، یہ جو عزم ہے، یہ بہت بڑی تحریک  دینے والا ہے ۔

 

اورمیں نےدیکھا گاجے باجےبجانےوالے، نئے لباس وپوشاک پہننےوالے، یہ بھی گھر میں جیسے دیوالی ہے گاؤں میں ، اسی طرح سے لوگ کام کررہے ہیں ، آج جو کوئی بھی وکست بھارت سنکلپ یاتراکودیکھ رہاہے، وہ کہہ رہا ہے، کہ اب بھارت رکنےوالانہیں ہے، اب بھارت چل پڑا ہے ۔  اب ہدف کو پار کرکےہی آگے بڑھنے والا ہے۔بھارت نہ اب رکنےوالاہے اورنہ ہی بھارت کبھی تھکنے والاہے،اب تو وکست بھارت بنانا 140 کروڑ ہم وطنوں سے ٹھان لیا ہے ۔ اورجب ملک کے باشندوں نے عہد کرلیا ہے تو پھر یہ ملک ترقی یافتہ ہوکر رہنےہی والاہے ۔ میں نے ابھی دیکھاملک کے باشندوں نےدیوالی کے وقت ووکل فالوکل: مقامی چیزیں خریدنےکی مہم چلائی،لاکھوں کروڑ روپئے کی خریداری ہوئی،دیکھئے کتنا بڑا کام ہواہے ۔

میرے پریوار جنو،

ملک کے گوشے گوشے میں وکست بھارت  سنکلپ یاترا کو لے کر اتناجوش بلا وجہ نہیں ہے ، اسکی وجہ ہے کہ گزشتہ دس سال انہوں نےمودی کو دیکھاہے ، مودی کے کام کودیکھا ہے،اوراس کی وجہ  حکومت ہند پر بےانتہا اعتمادہے۔حکومت ہند کی کوششوں پر ا عتمادہے ۔ ملک کے لوگوں نےوہ دور بھی دیکھا ہے جب پہلے کی حکومتیں خود کو عوام کا ماں باپ سمجھتی تھیں۔ اوراس وجہ سے آزادی کی کئی دہائیوں کےبعد تک ملک کی بہت بڑی آبادی  بنیادی سہولیات سے محروم رہی ۔ جب تک کوئی بچولیا نہیں ملتا ہے، دفتر تک نہیں پہنچ پاتے، جب تک بچولئے جی کی جیب نہیں بھرتے تب تک ایک کاغذ بھی نہیں ملتا ہے۔ نہ گھر ملے، نہ بیت الخلا ملے،نہ بجلی کاکنکشن ملے، نہ گیس کاکنکشن ملے ، نہ بیمہ ملے،نہ پنشن ملے، نہ بینک کاکھاتہ کھلے، یہ حال  تھادیش کا۔ آج آپ کوجان کر تکلیف ہوگی ، بھارت کی آدھے سے زیادہ آبادی حکومتوں سےمایوس ہوچکی تھی، بینک میں کھاتہ تک نہیں کھلتا تھا۔ اس کی امیدیں ہی ختم ہوگئی تھیں۔ جو لوگ ہمت جٹاکر، کچھ سفارش لگاکر مقامی سرکاری دفاتر تک پہنچ جاتے تھے،  اور تھوڑی بہت  چاپلوسی بھی کرلیتے تھے، تب جاکرکے وہ رشوت دینے کے بعد کچھ کام ان کا ہوپاتاتھا، انہیں چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے بڑی رشوت دینی ہوتی تھی ۔

اورحکومتیں بھی ہر کام میں اپنی سیاست دیکھتی تھیں۔ انتخاب نظر آتا تھا، ووٹ بینک نظر آتا تھا، اورووٹ بینک کے ہی کھیل کھیلتے تھے۔  گاؤں میں جائیں گےتو اس گاؤں میں جائیں گے جہاں سے ووٹ ملنے والے ہیں ۔ کسی محلے میں جائیں گے تو اسی محلے میں جائیں گے جو محلہ ووٹ دیتا ہے، دوسرے محلے کو چھوڑ دیں گے ۔ یہ ایسا امتیاز، ایسا ظلم یہ جیسے فطرت بن گئی تھی ۔ جس علاقے میں ان کو ووٹ ملتے دکھتے تھے،  انہی پر تھوڑی بہت توجہ دی جاتی تھی، اوراس لئےملک کے باشندوں کو ایسے مائی باپ حکومتوں کے اعلانات پر بھروسہ کم ہی ہوتا تھا۔

ناامیدی کی اس صورتحال کو ہماری حکومت نے بدلا ہے۔آج ملک میں جو حکومت ہے وہ عوام کوماننےوالی ہے، ایشور کی شکل ماننےوالی حکومت ہے ۔ اورہم اقتدار  کی لالچ سے نہیں، خدمت کے جذبے سے کام کرنے والے لوگ ہیں ۔ اورآج بھی آپ کےساتھ اسی خدمت کےجذبےسے گاؤں گاؤں جانےکی میں نے ٹھان لی ہے ۔ آج ملک بدنظمی کی پہلے والی بلندی کو پیچھے چھوڑ کر بہتر حکمرانی اوربہتر حکمرانی کا مطلب ہے صد فیصد فائدہ ملنا چاہئے، تکمیل  ہونی چاہئے، کوئی بھی پیچھے چھوٹنانہیں چاہئے، جو بھی حقدارہے اس کو ملنا چاہئے ۔

حکومت شہریوں کی ضروریات کی نشاندہی کرے اور انہیں ان کے حقوق دے اور یہی فطری انصاف ہے اور یہی حقیقی سماجی انصاف بھی ہے۔ ہماری حکومت کے اس طرزِ عمل کی وجہ سے احساسِ غفلت جو پہلے کروڑوں اہل وطن میں بھرا ہوا تھا، جو خود کو نظر انداز کرتے تھے، کون مانگے گا، کون سنے گا، کون ملے گا، کی ذہنیت ختم ہو گئی ہے۔ یہی نہیں اب اسے لگتا ہے کہ اس ملک پر اس کا بھی حق ہے، میں بھی اس کا حقدار ہوں اور میرے حقوق میں سے کچھ نہ چھینا جائے، میرا حق نہ روکا جائے، مجھے میرا حق ملنا چاہیے اور وہ جہاں سے ہے وہیں سے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ ابھی جب میں پورنا سے بات کر رہا تھا تو اس نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کو انجینئر بنانا چاہتا ہوں۔ یہ خواہش میرے ملک کو ترقی یافتہ بنائے گی، لیکن خواہش تب کامیاب ہو جاتی ہے جب کوئی دس سال میں کامیابی کی خبر سنتا ہے۔

اور یہ مودی کی گارنٹی والی گاڑی جو آپ کی جگہ آئی ہے، آپ کو صرف یہ بتاتی ہے کہ دیکھو، ہم نے اسے یہاں تک بنایا ہے۔ یہ اتنا بڑا ملک ہے، ابھی گاؤں میں صرف دو چار لوگ رہ جائیں گے اور مودی یہ ڈھونڈنے آئے ہیں کہ کون بچا ہےتاکہ میں اس کام کو آنے والے پانچ سالوں میں مکمل کر سکوں۔ اس لیے آج آپ ملک میں جہاں بھی جائیں آپ کو ایک بات ضرور سننے کو ملتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ اہل وطن کے دل کی آواز ہے، وہ دل سے کہہ رہے ہیں، تجربے کی بنیاد پر، جہاں وہ دوسروں سے امیدیں کھو بیٹھتے ہیں ، مودی کی گارنٹی وہیں سے شروع ہوتی ہے! اور یہی وجہ ہے کہ مودی کی گارنٹی والی گاڑی کو لے کر کافی چرچا ہے۔

ساتھیو،

ترقی یافتہ ہندوستان کا عہد اکیلے مودی یا کسی حکومت کی نہیں ہے۔ یہ سب کا تعاون لینے اور سب کے خوابوں کو پورا کرنے کا عزم ہے۔ وہ آپ کے عہد کو بھی پورا کرنا چاہتا ہے۔ وہ ایسا ماحول بنانا چاہتا ہے جہاں آپ کی خواہش پوری ہو۔ وکست بھارت سنکلپ یاترا سرکاری اسکیموں اور سہولتوں کو ان لوگوں تک لے جا رہی ہے جو اب تک ان سے باہر رہ گئے ہیں اور ان سے واقف تک نہیں ہیں۔ اگر معلومات ہے تو کیسے حاصل کی جائے، راستہ نہیں جانتے۔ آج، میں وہ تصاویر بھی دیکھ رہا ہوں جو لوگ نمو ایپ پر مختلف جگہوں سے بھیج رہے ہیں۔ کہیں ڈرون کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے تو کہیں ہیلتھ چیک اپ ہو رہا ہے۔ قبائلی علاقوں میں سکل سیل انیمیا کی جانچ  کی جا رہی ہیں۔ جن پنچایتوں میں یاترا پہنچی ہے وہاں دیوالی منائی گئی ہے اور ان میں کئی ایسی پنچایتیں ہیں جہاں مکمل کامیابی ملی ہے، کوئی تفریق نہیں ہے، سب کو ملی ہے۔ جہاں کہیں بھی مستفیدین رہ گئے ہیں، انہیں بھی ابھی اطلاع دی جارہی ہے اور بعد میں انہیں بھی اسکیم کا فائدہ ملے گا۔

انہیں فوری طور پر اجولا اور آیوشمان کارڈ جیسی کئی اسکیموں سے جوڑا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے مرحلے میں 40 ہزار سے زیادہ بہنوں اور بیٹیوں کو اجولا گیس کنکشن دیے گئے ہیں۔ یاترا کے دوران بڑی تعداد میں مائی بھارت والنٹیئر بھی رجسٹر ہو رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ چند روز قبل ہم نے نوجوانوں کی ملک گیر تنظیم قائم کی ہے اور حکومت کی جانب سے اس کا آغاز کیا ہے۔ اس کا نام مائی بھارت ہے۔ میری درخواست ہے کہ ہر پنچایت میں زیادہ سے زیادہ نوجوان اس مائی بھارت مہم میں شامل ہوں۔ وہاں اپنی معلومات دیں۔ میں وقتاً فوقتاً آپ سے بات کرتا رہوں گا اور آپ کی طاقت ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کی طاقت بن جائے، ہم مل کر کام کریں گے۔

میرے پریوار جنو،

جب یہ سفر 15 نومبر کو شروع ہوا تھااور آپ کو یاد ہوگا کہ یہ بھگوان برسا منڈا کے یوم پیدائش پر شروع ہوا تھا۔ یہ دن قبائلی فخر کا دن تھا اور میں نے یہ کام جھارکھنڈ کے دور دراز جنگلات میں ایک چھوٹی سی جگہ سے شروع کیا تھا، ورنہ میں یہ کام یہاں کسی بڑی عمارت میں یا یشو بھومی کے وگیان منڈپم میں بڑی شان سے کر سکتا تھا، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ انتخابی میدان چھوڑ کر، میں جھارکھنڈ کے کھونٹی گیا، قبائلیوں کے درمیان گیا اور اس کام کو آگے بڑھایا۔

اور جس دن سفر شروع ہوا، میں نے ایک اور بات کہی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کا عزم 4 امرت ستونوں پر مضبوطی سے ٹکا ہوا ہے۔ ہمیں اس امر پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی کہ یہ امرت کے ستون کون سے ہیں۔ یہ ایک امرت ستون ہے – ہماری ناری شکتی، دوسرا امرت ستون ہماری یووا شکتی، تیسرا امرت ستون ،ہمارے کسان بھائی بہنیں، چوتھا امرت ستون ہمارے غریب خاندان ہیں۔ میرے نزدیک ملک میں چار بڑی ذاتیں ہیں۔ میرے نزدیک سب سے بڑی ذات غریب ہے۔ میرے نزدیک سب سے بڑی ذات نوجوان ہے۔ میرے لیے سب سے بڑی ذات خواتین  ہے، میرے لیے سب سے بڑی ذات کسان ہے۔ ان چار ذاتوں کی ترقی سے  ہی ملک کی ترقی ہوگی اور اگر یہ چار کے ساتھ ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ سب کے ساتھ ہوگا۔

اس ملک میں کوئی بھی غریب آدمی چاہے اس کی پیدائشی حیثیت کچھ بھی ہو، مجھے اس کا معیار زندگی بہتر کرنا ہے اور اسے غربت سے نکالنا ہے۔ میں اس ملک کے کسی بھی نوجوان کو چاہے وہ کسی بھی ذات سے تعلق رکھتا ہو، روزگار اور خود روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنا چاہتا ہوں۔ اس ملک کی کوئی بھی خاتون چاہے اس کی ذات کسی بھی ہو، میں اسے بااختیار بنانا چاہتا ہوں، اس کی زندگی کی مشکلات کو کم کرنا چاہتا ہوں۔ میں اس کے خوابوں کو پنکھ دینا چاہتا ہوں جو معدوم ہیں، ان میں عزم و حوصلے بھرنا چاہتا ہوں اور کامیابی تک ان کے ساتھ رہ کر ان کے خوابوں کو پورا کرنا چاہتا ہوں۔ اس ملک کا کوئی بھی کسان خواہ وہ کسی بھی ذات کا ہو، مجھے اس کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے، مجھے اس کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ میں اس کی کھیتی کو جدید بنانا چاہتا ہوں۔ مجھے اس کی کھیتی میں پیدا ہونے والی چیزوں کی قیمت میں اضافہ کرنا ہے۔ خواہ وہ غریب ہوں، نوجوان ہوں، خواتین  ہوں یا کسان ہوں، جب تک میں ان چاروں ذاتوں کو ان کی مشکلات سے نہیں بچا لیتا، میں آرام سے نہیں بیٹھوں گا۔ بس مجھے آشیرواد دیجئے تاکہ میں اتنی طاقت سے کام کر سکوں اور ان چاروں ذاتوں کو تمام مسائل سے نجات دلا سکوں اور جب یہ چار ذاتیں مضبوط ہو جائیں گی تو قدرتی طور پر ملک کی ہر ذات مضبوط ہو جائے گی۔ جب وہ مضبوط ہوں گے تو پورا ملک مضبوط ہو گا۔

ساتھیو،

اسی سوچ پر چلتے ہوئے  آج وکست  بھارت سنکلپ یاترا کے دوران یعنی جب مودی کی گارنٹی والی یہ گاڑی آئی ہے، ملک نے دو بڑے پروگرام منعقد کیے ہیں۔ ایک کام ناری شکتی، کھیتی کو جدید بنانا، اسے سائنسی بنانا اور ٹیکنالوجی کی مدد سے اسے بااختیار بنانا ہے اور دوسرا اس ملک کے ہر شہری کی مدد کرنا ہے، خواہ وہ غریب ہو، نچلا متوسط ​​طبقہ، متوسط ​​طبقہ وغیرہ سے ہو، ہر غریب کو سستے داموں پر ادویات ملنی چاہئیں، اسے بیماری میں زندگی نہ گزارنی پڑے، یہ خدمت کا بہت بڑا کام ہے، اچھائی  کا کام ہے اور اس سے منسلک مہم بھی ہے۔

میں نے لال قلعہ کی فصیل سے ملک کی دیہی بہنوں کو ڈرون دیدی بنانے کا اعلان کیا تھا اور میں نے دیکھا کہ اتنے تھوڑے عرصے میں ہماری بہنیں، گاؤں کی بہنوں نے دسویں کلاس پاس کی، کوئی گیارہویں کلاس پاس، کوئی بارہویں کلاس پاس کر گئی، اور ہزاروں بہنیں ڈرون چلانا سیکھ گئیں۔ کھیتی باڑی میں استعمال کرنے کا طریقہ سیکھا، ادویات کیسے چھڑکیں، کھاد کیسے چھڑکیں کو بھی سیکھ لیا ۔ میرے لیے یہ ڈرون دیدی کو خراج تحسین پیش کرنے کا پروگرام ہے اور اسی لیے میں اس پروگرام کا نام نمو ڈرون دیدی، نمو ڈرون دیدی رکھتا ہوں۔ یہ ہماری نمو ڈرون دیدی ہے جسے آج لانچ کیا جا رہا ہے۔ مجھے ایسا ماحول بنانا ہے کہ ہر گاؤں ڈرون دیدی کو نمستے کہتا رہے، ہر گاؤں ڈرون دیدی کو سلام کرتا رہے۔ اس لیے اس اسکیم کا نام بھی مجھے کچھ لوگوں نے تجویز کیا ہے - نمو ڈرون دیدی۔ گاؤں والے نمو ڈرون دیدی کہیں گے تو ہماری ہر دیدی کی عزت بڑھ جائے گی۔

آنے والے وقت میں 15 ہزار سیلف ہیلپ گروپس کو اس نمو ڈرون دیدی پروگرام سے جوڑ دیا جائے گا، وہاں ڈرون دیے جائیں گے، اور گاؤں میں ہماری دیدی سب کا احترام کرنے کے لیے صحیح انسان بنیں گی اور نمو ڈرون دیدی ہمیں آگے بڑھائیں گی۔ ہماری بہنوں کو ڈرون پائلٹ کی تربیت دی جائے گی۔ سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعے بہنوں کو خود کفیل بنانے کی جاری مہم کو بھی ڈرون اسکیم سے تقویت ملے گی۔ اس سے بہنوں اور بیٹیوں کو کمائی کے اضافی ذرائع میسر ہوں گے اور میرا خواب ہے کہ دو کروڑ دیدیوں کو مجھے کروڑ پتی بنانا ہے۔ دیہات میں رہنے والی اور خواتین کے سیلف گروپس میں کام کرنے والی دو کروڑ دیدیوں کو کروڑ پتی بنانا ہے۔ دیکھیں مودی چھوٹا نہیں سوچتا اور جو سوچتاہے اسے پورا کرنے کے عزم کے ساتھ نکل پڑتا ہے اور مجھے پختہ یقین ہے کہ اس سے ملک کے کسانوں کو ڈرون جیسی جدید ٹیکنالوجی بہت کم قیمت پر حاصل ہو سکے گی۔ اس سے ان کی صحت کو بھی فائدہ ہوگا، اس سے وقت بھی بچے گا، ادویات اور کھادیں بھی، جو ضائع ہوجاتی تھی  وہ ضائع نہیں ہوگا۔

 

ساتھیو،

آج ملک کے 10 ہزارویں جن اوشدھی کیندر کا بھی افتتاح کیا گیا ہے، اور مجھے خوشی ہے کہ مجھے بابا کی سرزمین سے 10 ہزارویں مرکز کے لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا۔ اب یہ کام آج سے آگے بڑھنے والا ہے۔ ملک بھر میں پھیلے یہ جن او شدھی مراکز آج ہر ایک کو سستی دوائیں فراہم کرنے کے بڑے مراکز بن گئے ہیں، خواہ وہ غریب ہو یا متوسط ​​طبقہ اور اہل وطن اس سے محبت کرتے ہیں، میں نے دیکھا ہے کہ گاؤں والوں کو اس کا نام یاد نہیں ہے۔ دکانداروں کو بتایا جاتا ہے کہ یہ مودی کی ادویات کی دکان ہے۔ مودی کی دوا کی دکان پر جائیں گے۔ آپ اسے جو چاہیں کہہ لیں، لیکن میری خواہش ہے کہ آپ کا پیسہ بچ جائے، یعنی آپ بیماریوں سے بچیں اور آپ کی جیب میں پیسہ بھی بچ جائے، مجھے دونوں کام کرنے ہیں۔ آپ کو بیماریوں سے بچانا اور آپ کی جیب سے پیسہ بچانا، اس کا مطلب مودی کی دوا کی دکان ہے۔

ان جن اوشدھی کیندروں پر تقریباً 2000 قسم کی دوائیں 80 سے 90 فیصد رعایت پر دستیاب ہیں۔ اب بتایے ایک روپے کی چیز 10، 15، 20 پیسے میں مل جائے تو کتنا فائدہ ہو گا؟ اور بچا ہوا پیسہ آپ کے بچوں کے کام آئے گا۔ 15 اگست کو ہی میں نے ملک بھر میں 25 ہزار جن اوشدھی کیندر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، جنہیں لوگ مودی کی دوا کی دکانیں کہتے ہیں۔ اسے  25 ہزار تک پہنچانا ہے۔ اب اس سمت میں تیزی سے کام شروع ہو گیا ہے۔ میں ان دونوں اسکیموں کے لیے پورے ملک کو، خاص کر اپنی ماؤں، بہنوں، کسانوں، خاندانوں، سبھی کو مبارکباد دیتا ہوں۔

مجھے آپ کو یہ معلومات دیتے ہوئے بھی خوشی ہو رہی ہے کہ غریب کلیان ان یوجنا، آپ جانتے ہیں، کووڈ کے دوران شروع کی گئی تھی اور یہ یقینی بنایاگیا کہ غریب کے گھر کا چولہا نہیں بجھنا چاہیے، غریب کا بچہ غریب کو بھوکا نہیں سونا چاہیے۔ اتنی بڑی کووڈ وبائی بیماری تھی کہ ہم نے خدمت کا کام شروع کر دیا اور اس کی وجہ سے میں نے خاندانوں کو بہت سارے پیسے بچاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اچھے کاموں پر خرچ ہو رہے ہیں۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری کابینہ نے کل ہی فیصلہ کیا ہے کہ اب اس مفت راشن اسکیم کو 5 سال تک بڑھایا جائے گا۔ تاکہ آنے والے 5 سالوں میں آپ کو کھانے کے لیے خرچ نہ کرنا پڑے اور جو بھی پیسہ بچایا جائے، اسے جن دھن اکاؤنٹ میں جمع کروائیں اور سب سے بڑھ کر اسے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے استعمال کریں۔ منصوبہ بندی کریں، پیسہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ مودی مفت میں بھیجتے ہیں لیکن اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ آپ کی طاقت بڑھے۔ 80 کروڑ سے زیادہ ملک کے باشندوں کو اب 5 سال تک مفت راشن ملتا رہے گا۔ غریب اپنی بچت کی رقم کو اپنے بچوں کی بہتر دیکھ بھال میں استعمال کر سکیں گے اور یہ بھی مودی کی گارنٹی ہے، جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ اس لیے میں کہتا ہوں، مودی کی گارنٹی کا مطلب پورا ہونے کی ضمانت ہے۔

 

 

ساتھیو،

اس ساری مہم میں پوری سرکاری مشینری اور سرکاری ملازمین کا بڑا کردار ہے۔ مجھے یاد ہے، چند سال پہلے گرام سوراج ابھیان کی شکل میں ایسی ہی ایک بہت ہی کامیاب کوشش کی گئی تھی۔ ہم نے اس مہم کو ملک کے تقریباً 60 ہزار گاؤں میں دو مرحلوں میں چلایا۔ حکومت اپنی سات اسکیموں کے ساتھ گاؤں گاؤں گئی اور مستحقین تک پہنچی۔اس میں  توقعاتی اضلاع کے ہزاروں دیہات بھی شامل تھے۔ اب حکومت نے اسی کامیابی کو وکست بھارت سنکلپ یاترا کی بنیاد بنایا ہے۔ اس مہم سے جڑے تمام حکومتی نمائندے ملک کی خدمت اور سماج کی خدمت کا بہترین کام کر رہے ہیں۔ پوری ایمانداری کے ساتھ کھڑے ہیں، ہر گاؤں تک پہنچ رہے ہیں۔ سب کی کوششوں سے وکست بھارت سنکلپ یاترا مکمل ہوگی اور مجھے یقین ہے کہ جب ہم ترقی یافتہ ہندوستان کی بات کرتے ہیں تو یہ آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ آنے والے سالوں میں میرا گاؤں کتنا بدلے گا۔ اتنی ترقی ہمارے گاؤں میں بھی ہونی چاہیے، یہ طے کرنا ہے۔ ہم سب مل کر کریں گے، ہندوستان ترقی کرتا رہے گا، ہمارا ملک دنیا میں بہت اونچا ہوگا۔ ایک بار پھر آپ سب سے ملنے کا موقع ملا، اگر درمیان میں موقع ملا تو آپ سے دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کروں گا۔

آپ سب کو میری نیک خواہشات۔ بہت بہت شکریہ !

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
India on track to become $10 trillion economy, set for 3rd largest slot: WEF President Borge Brende

Media Coverage

India on track to become $10 trillion economy, set for 3rd largest slot: WEF President Borge Brende
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Sant Ravidas ji was a great saint of the Bhakti movement, who gave new energy to the weak & divided India: PM Modi
February 23, 2024
Unveils new statue of Sant Ravidas
Inaugurates and lays foundation stones for development works around Sant Ravidas Janam Sthali
Lays the foundation stone for the Sant Ravidas Museum and beautification of the park
“India has a history, whenever the country is in need, some saint, sage or great personality is born in India.”
“Sant Ravidas ji was a great saint of the Bhakti movement, which gave new energy to the weak and divided India”
“Sant Ravidas ji told the society the importance of freedom and also worked to bridge the social divide”
“Ravidas ji belongs to everyone and everyone belongs to Ravidas ji.”
“Government is taking forward the teachings and ideals of Sant Ravidas ji while following the mantra of ‘Sabka Saath SabkaVikas’”
“We have to avoid the negative mentality of casteism and follow the positive teachings of Sant Ravidas ji”

जय गुरु रविदास।

उत्तर प्रदेश के मुख्यमंत्री योगी आदित्यनाथ जी, पूरे भारत से यहां पधारे सम्मानित संत जन, भक्त गण और मेरे भाइयों एवं बहनों,

आप सभी का मैं गुरु रविदास जी जन्म जयंती के पावन अवसर पर उनकी जन्मभूमि में स्वागत करता हूँ। आप सब रविदास जी की जयंती के पर्व पर इतनी-इतनी दूर से यहां आते हैं। खासकर, मेरे पंजाब से इतने भाई-बहन आते हैं कि बनारस खुद भी ‘मिनी पंजाब’ जैसा लगने लगता है। ये सब संत रविदास जी की कृपा से ही संभव होता है। मुझे भी रविदास जी बार बार अपनी जन्मभूमि पर बुलाते हैं। मुझे उनके संकल्पों को आगे बढ़ाने का मौका मिलता है, उनके लाखों अनुयायियों की सेवा का अवसर मिलता है। गुरु के जन्मतीर्थ पर उनके सब अनुयायियों की सेवा करना मेरे लिए किसी सौभाग्य से कम नहीं।

और भाइयों और बहनों,

यहां का सांसद होने के नाते, काशी का जन-प्रतिनिधि होने के नाते मेरी विशेष ज़िम्मेदारी भी बनती है। मैं बनारस में आप सबका स्वागत भी करूं, और आप सबकी सुविधाओं का खास ख्याल भी रखूं, ये मेरा दायित्व है। मुझे खुशी है कि आज इस पावन दिन मुझे अपने इन दायित्वों को पूरा करने का अवसर मिला है। आज बनारस के विकास के लिए सैकड़ों करोड़ रुपए की विकास परियोजनाओं का लोकार्पण और शिलान्यास होने जा रहा है। इससे यहां आने वाले श्रद्धालुओं की यात्रा और सुखद और सरल होगी। साथ ही, संत रविदास जी की जन्मस्थली के विकास के लिए भी कई करोड़ रुपए की योजनाओं का लोकार्पण हुआ है। मंदिर और मंदिर क्षेत्र का विकास, मंदिर तक आने वाली सड़कों का निर्माण, इंटरलॉकिंग और ड्रेनेज का काम, भक्तों के लिए सत्संग और साधना करने के लिए, प्रसाद ग्रहण करने के लिए अलग-अलग व्यवस्थाओं का निर्माण, इन सबसे आप सब लाखों भक्तों को सुविधा होगी। माघी पूर्णिमा की यात्रा में श्रद्धालुओं को आध्यात्मिक सुख तो मिलेगा ही, उन्हें कई परेशानियों से भी छुटकारा मिलेगा। आज मुझे संत रविदास जी की नई प्रतिमा के लोकार्पण का सौभाग्य भी मिला है। संत रविदास म्यूज़ियम की आधारशिला भी आज रखी गई है। मैं आप सभी को इन विकास कार्यों की अनेक-अनेक शुभकामनाएँ देता हूं। मैं देश और दुनिया भर के सभी श्रद्धालुओं को संत रविदास जी की जन्मजयंती और माघी पूर्णिमा की हार्दिक बधाई देता हूं।

साथियों,

आज महान संत और समाज सुधारक गाडगे बाबा की जयंती भी है। गाडगे बाबा ने संत रविदास की ही तरह समाज को रूढ़ियों से निकालने के लिए, दलितों वंचितों के कल्याण के लिए बहुत काम किया था। खुद बाबा साहब अंबेडकर उनके बहुत बड़े प्रशंसक थे। गाडगे बाबा भी बाबा साहब से बहुत प्रभावित रहते थे। आज इस अवसर पर मैं गाडगे बाबा के चरणों में भी श्रद्धापूवर्क नमन करता हूं।

साथियों,

अभी मंच पर आने से पहले मैं संत रविदास जी की मूर्ति पर पुष्प अर्पित करने, उन्हें प्रणाम करने भी गया था। इस दौरान मेरा मन जितनी श्रद्धा से भरा था, उतनी ही कृतज्ञता भी भीतर महसूस कर रहा था। वर्षों पहले भी, जब मैं न राजनीति में था, न किसी पद पर था, तब भी संत रविदास जी की शिक्षाओं से मुझे मार्गदर्शन मिलता था। मेरे मन में ये भावना होती थी कि मुझे रविदास जी की सेवा का अवसर मिले। और आज काशी ही नहीं, देश की दूसरी जगहों पर भी संत रविदास जी से जुड़े संकल्पों को पूरा किया जा रहा है। रविदास जी की शिक्षाओं को प्रचारित-प्रसारित करने के लिए नए केन्द्रों की स्थापना भी हो रही है। अभी कुछ महीने पहले ही मुझे मध्यप्रदेश के सतना में भी संत रविदास स्मारक एवं कला संग्रहालय के शिलान्यास का सौभाग्य भी मिला था। काशी में तो विकास की पूरी गंगा ही बह रही है।

साथियों,

भारत का इतिहास रहा है, जब भी देश को जरूरत हुई है, कोई न कोई संत, ऋषि, महान विभूति भारत में जन्म लेते हैं। रविदास जी तो उस भक्ति आंदोलन के महान संत थे, जिसने कमजोर और विभाजित हो चुके भारत को नई ऊर्जा दी थी। रविदास जी ने समाज को आज़ादी का महत्व भी बताया था, और सामाजिक विभाजन को भी पाटने का काम किया था। ऊंच-नीच, छुआछूत, भेदभाव, इस सबके खिलाफ उन्होंने उस दौर में आवाज़ उठाई थी। संत रविदास एक ऐसे संत हैं, जिन्हें मत मजहब, पंथ, विचारधारा की सीमाओं में नहीं बांधा जा सकता। रविदास जी सबके हैं, और सब रविदास जी के हैं। जगद्गुरु रामानन्द के शिष्य के रूप में उन्हें वैष्णव समाज भी अपना गुरु मानता है। सिख भाई-बहन उन्हें बहुत आदर की दृष्टि से देखते हैं। काशी में रहते हुए उन्होंने ‘मन चंगा तो कठौती में गंगा’ की शिक्षा दी थी। इसलिए, काशी को मानने वाले लोग, मां गंगा में आस्था रखने वाले लोग भी रविदास जी से प्रेरणा लेते हैं। मुझे खुशी है कि आज हमारी सरकार रविदास जी के विचारों को ही आगे बढ़ा रही है। भाजपा सरकार सबकी है। भाजपा सरकार की योजनाएं सबके लिए हैं। ‘सबका साथ, सबका विकास, सबका विश्वास और सबका प्रयास’, ये मंत्र आज 140 करोड़ देशवासियों से जुड़ने का मंत्र बन गया है।

साथियों,

रविदास जी ने समता और समरसता की शिक्षा भी दी, और हमेशा दलितों, वंचितों की विशेष रूप से चिंता भी की। समानता वंचित समाज को प्राथमिकता देने से ही आती है। इसीलिए, जो लोग, जो वर्ग विकास की मुख्यधारा से जितना ज्यादा दूर रह गए, पिछले दस वर्षों में उन्हें ही केंद्र में रखकर काम हुआ है। पहले जिस गरीब को सबसे आखिरी समझा जाता था, सबसे छोटा कहा जाता था, आज सबसे बड़ी योजनाएं उसी के लिए बनी हैं। इन योजनाओं को आज दुनिया में सबसे बड़ी सरकारी योजनाएं कहा जा रहा है। आप देखिए, कोरोना की इतनी बड़ी मुश्किल आई। हमने 80 करोड़ गरीबों को मुफ्त राशन की योजना चलाई। कोरोना के बाद भी हमने मुफ्त राशन देना बंद नहीं किया। क्योंकि, हम चाहते हैं कि जो गरीब अपने पैरों पर खड़ा हुआ है वो लंबी दूरी तय करे। उस पर अतिरिक्त बोझ न आए। ऐसी योजना इतने बड़े पैमाने पर दुनिया के किसी भी देश में नहीं है। हमने स्वच्छ भारत अभियान चलाया। देश के हर गांव में हर परिवार के लिए मुफ्त शौचालय बनाया। इसका लाभ सबसे ज्यादा दलित पिछड़े परिवारों को, खासकर हमारी SC, ST, OBC माताओं बहनों को ही हुआ। इन्हें ही सबसे ज्यादा खुले में शौच के लिए जाना पड़ता था, परेशानियां उठानी पड़ती थीं। आज देश के गांव- गांव तक साफ पानी पहुंचाने के लिए जल जीवन मिशन चल रहा है। 5 वर्षों से भी कम समय में 11 करोड़ से ज्यादा घरों तक पाइप से पानी पहुंचाया गया है। करोड़ों गरीबों को मुफ्त इलाज के लिए आयुष्मान कार्ड मिला है। उन्हें पहली बार ये हौसला मिला है कि अगर बीमारी आ भी गई, तो इलाज के अभाव में जिंदगी खत्म नहीं होगी। इसी तरह, जनधन खातों से गरीब को बैंक जाने का अधिकार मिला है। इन्हीं बैंक खातों में सरकार सीधे पैसा भेजती है। इन्हीं खातों में किसानों को किसान सम्मान निधि जाती है, जिनमें से करीब डेढ़ करोड़ लाभार्थी हमारे दलित किसान ही हैं। फसल बीमा योजना का लाभ उठाने वाले किसानों में बड़ी संख्या दलित और पिछड़े किसानों की ही है। युवाओं के लिए भी, 2014 से पहली जितनी स्कॉलर्शिप मिलती थी, आज हम उससे दोगुनी स्कॉलर्शिप दलित युवाओं को दे रहे हैं। इसी तरह, 2022-23 में पीएम आवास योजना के तहत हजारों करोड़ रुपए दलित परिवारों के खातों में भेजे गए, ताकि उनका भी अपना पक्‍का घर हो।

और भाइयों बहनों,

भारत इतने बड़े-बड़े काम इसलिए कर पा रहा है क्योंकि आज दलित, वंचित, पिछड़ा और गरीब के लिए सरकार की नीयत साफ है। भारत ये काम इसलिए कर पा रहा है, क्योंकि आपका साथ और आपका विश्वास हमारे साथ है। संतों की वाणी हर युग में हमें रास्ता भी दिखाती हैं, और हमें सावधान भी करती हैं।

रविदास जी कहते थे-

जात पात के फेर महि, उरझि रहई सब लोग।

मानुष्ता कुं खात हई, रैदास जात कर रोग॥

अर्थात्, ज़्यादातर लोग जात-पांत के भेद में उलझे रहते हैं, उलझाते रहते हैं। जात-पात का यही रोग मानवता का नुकसान करता है। यानी, जात-पात के नाम पर जब कोई किसी के साथ भेदभाव करता है, तो वो मानवता का नुकसान करता है। अगर कोई जात-पात के नाम पर किसी को भड़काता है तो वो भी मानवता का नुकसान करता है।

इसीलिए भाइयों बहनों,

आज देश के हर दलित को, हर पिछड़े को एक और बात ध्यान रखनी है। हमारे देश में जाति के नाम पर उकसाने और उन्हें लड़ाने में भरोसा रखने वाले इंडी गठबंधन के लोग दलित, वंचित के हित की योजनाओं का विरोध करते हैं। और सच्चाई ये है कि ये लोग जाति की भलाई के नाम पर अपने परिवार के स्वार्थ की राजनीति करते हैं। आपको याद होगा, गरीबों के लिए शौचालय बनाने की शुरुआत हुई थी तो इन लोगों ने उसका मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने जनधन खातों का मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने डिजिटल इंडिया का विरोध किया था। इतना ही नहीं, परिवारवादी पार्टियों की एक और पहचान है। ये अपने परिवार से बाहर किसी भी दलित, आदिवासी को आगे बढ़ते नहीं देना चाहते हैं। दलितों, आदिवासियों का बड़े पदों पर बैठना इन्हें बर्दाश्त नहीं होता है। आपको याद होगा, जब देश ने पहली आदिवासी महिला राष्ट्रपति बनने के लिए महामहिम द्रौपदी मुर्मू जी चुनाव लड़ रही थीं, तो किन किन लोगों ने उनका विरोध किया था? किन किन पार्टियों ने उन्हें हराने के लिए सियासी लामबंदी की थी? वे सब की सब यही परिवारवादी पार्टियां ही थीं, जिन्हें चुनाव के समय दलित, पिछड़ा, आदिवासी अपना वोट बैंक नज़र आने लगता है। हमें इन लोगों से, इस तरह की सोच से सावधान रहना है। हमें जातिवाद की नकारात्मक मानसिकता से बचकर रविदास जी की सकारात्मक शिक्षाओं का पालन करना है।

इसीलिए भाइयों बहनों,

आज देश के हर दलित को, हर पिछड़े को एक और बात ध्यान रखनी है। हमारे देश में जाति के नाम पर उकसाने और उन्हें लड़ाने में भरोसा रखने वाले इंडी गठबंधन के लोग दलित, वंचित के हित की योजनाओं का विरोध करते हैं। और सच्चाई ये है कि ये लोग जाति की भलाई के नाम पर अपने परिवार के स्वार्थ की राजनीति करते हैं। आपको याद होगा, गरीबों के लिए शौचालय बनाने की शुरुआत हुई थी तो इन लोगों ने उसका मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने जनधन खातों का मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने डिजिटल इंडिया का विरोध किया था। इतना ही नहीं, परिवारवादी पार्टियों की एक और पहचान है। ये अपने परिवार से बाहर किसी भी दलित, आदिवासी को आगे बढ़ते नहीं देना चाहते हैं। दलितों, आदिवासियों का बड़े पदों पर बैठना इन्हें बर्दाश्त नहीं होता है। आपको याद होगा, जब देश ने पहली आदिवासी महिला राष्ट्रपति बनने के लिए महामहिम द्रौपदी मुर्मू जी चुनाव लड़ रही थीं, तो किन किन लोगों ने उनका विरोध किया था? किन किन पार्टियों ने उन्हें हराने के लिए सियासी लामबंदी की थी? वे सब की सब यही परिवारवादी पार्टियां ही थीं, जिन्हें चुनाव के समय दलित, पिछड़ा, आदिवासी अपना वोट बैंक नज़र आने लगता है। हमें इन लोगों से, इस तरह की सोच से सावधान रहना है। हमें जातिवाद की नकारात्मक मानसिकता से बचकर रविदास जी की सकारात्मक शिक्षाओं का पालन करना है।

साथियों,

रविदास जी कहते थे-

सौ बरस लौं जगत मंहि जीवत रहि करू काम।

रैदास करम ही धरम है करम करहु निहकाम॥

अर्थात्, सौ वर्ष का जीवन हो, तो भी पूरे जीवन हमें काम करना चाहिए। क्योंकि, कर्म ही धर्म है। हमें निष्काम भाव से काम करना चाहिए। संत रविदास जी की ये शिक्षा आज पूरे देश के लिए है। देश इस समय आज़ादी के अमृतकाल में प्रवेश कर चुका है। पिछले वर्षों में अमृतकाल में विकसित भारत के निर्माण की मजबूत नींव रखी जा चुकी है। अब अगले 5 साल हमें इस नींव पर विकास की इमारत को और ऊंचाई देनी है। गरीब वंचित की सेवा के लिए जो अभियान 10 वर्षों में चले हैं, अगले 5 वर्षों में उन्हें और भी अधिक विस्तार मिलना है। ये सब 140 करोड़ देशवासियों की भागीदारी से ही होगा। इसलिए, ये जरूरी है कि देश का हर नागरिक अपने कर्तव्यों का पालन करे। हमें देश के बारे में सोचना है। हमें तोड़ने वाले, बांटने वाले विचारों से दूर रहकर देश की एकता को मजबूत करना है। मुझे विश्वास है कि, संत रविदास जी की कृपा से देशवासियों के सपने जरूर साकार होंगे। आप सभी को एक बार फिर संत रविदास जयंती की मैं बहुत बहुत शुभकामनाएं देता हूं।

बहुत-बहुत धन्यवाद !