انہوں نے ، اُن ریل سیکشنوں کو ملک کے نام وقف کیا، جن کی حال ہی میں بجلی کاری کی گئی ہے، انہوں نے اترا کھنڈ کو ایسی ریاست قرار دیا، جہاں 100 فیصد ریل راستوں پر بجلی کاری کردی گئی ہے
دہلی – دہرہ دون وندے بھارت ایکسپریس سے عوام کے لئے سفر میں آسانی اور مزید آرام کی یقینی دہانی ہوگی
معیشت کو مستحکم بنانے اور غریبی سے نمٹنے میں بھارت ،دنیا کے لئے امید کی ایک کرن بن گیا ہے
یہ دہائی ، اترا کھنڈ کی دہائی ہوگی
دیو بھومی دنیا کے روحانی بیداری کا مرکزبنے گی
حکومت کی توجہ اترا کھنڈ کے لئے ترقی کے نورتنوں پر ہے
ڈبل انجن کی سرکار ، دہری طاقت اور دہری رفتار کے ساتھ کام کر ر ہی ہے
اکیسویں صدی کا بھارت بنیادی ڈھانچے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش کو استعمال کر کے ترقی کی مزید اونچائیوں پر پہنچ سکتا ہے
پروت میلہ پروجیکٹ، سے آئندہ دنوں میں ریاست کی قسمت بدلنے والی ہے
صحیح ارادہ ،پالیسی اور خود کو وقف کردینا ، ترقی کا ضامن ہے
ملک اب رکنے والا نہیں ہے، ملک نے اب رفتار پکڑ لی ہے۔ پورا ملک وندے بھارت کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور آگے بڑھتا رہے گا

نمسکار جی۔

اتراکھنڈ کے گورنر محترم گرمیت سنگھ جی، اتراکھنڈ کے  مقبول وزیر اعلیٰ محترم پشکر سنگھ دھامی، وزیر ریل اشونی ویشنو، حکومت اتراکھنڈ کے وزراء، مختلف ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی، میئر، ضلع پریشد کے ممبران، دیگر حضرات، اور اتراکھنڈ کے میرے عزیز بھائیوں اور بہنوں، اتراکھنڈ کے سبھی لوگوں کو وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کی بہت بہت مبارکباد۔

دہلی اور دہرہ دون کے درمیان چلنے والی یہ ٹرین ملک کی راجدھانی کو دیو بھومی سے مزید تیز رفتار سے جوڑے گی۔ وندے بھارت سے دہلی-دہرہ دون کے درمیان ریل سفر میں اب وقت بھی کافی کم ہو جائے گا۔ اس ٹرین کی رفتار تو اپنی جگہ ہے ہی، جو سہولیات ہیں، وہ بھی سفر کو  مزیدار بنانے والی ہیں۔

ساتھیوں،

میں ابھی کچھ گھنٹے پہلے ہی تین ممالک کا سفر کرکے لوٹا ہوں۔ آج پوری دنیا، بھارت کو بہت امیدوں سے دیکھ رہی ہے۔ ہم بھارت کے لوگوں نے جس طرح اپنی معیشت کو مضبوطی دی ہے، جس طرح ہم غریبی سے لڑ رہے ہیں، اس نے پوری دنیا کا اعتماد جگا دیا ہے۔ جس کورونا سے لڑنے میں بڑے بڑے ملک پست ہو گئے، اسی کورونا کو ہم ہندوستانیوں نے مل کر مضبوطی سے ٹکر دی۔ ہم نے دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم چلائی۔ آج پوری دنیا میں  بھارت کو لے کر چرچہ ہے، دنیا کے لوگ بھارت کو سمجھنے کے لیے، دیکھنے کے لیے بھارت آنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں اتراکھنڈ جیسی اتنی خوبصورت ریاستوں کے لیے، یہ بہت بہترین موقع ہے۔ اس موقع کا پورا فائدہ اٹھانے میں یہ وندے بھارت ٹرین بھی اتراکھنڈ کی مدد کرنے والی ہے۔

 

ساتھیوں،

اتراکھنڈ دیو بھومی ہے۔ مجھے یاد ہے، جب میں بابا کیدار کے درشن کرنے گیا تھا تو درشن کے بعد  اچانک ہی میرے منہ سے کچھ  الفاظ نکلے تھے۔ بابا کیدار کے آشیرواد کے طور پر یہ الفاظ تھے اور یوں ہی میں بول پڑا تھا، یہ دہائی اتراکھنڈ کی دہائی ہوگی۔ اتراکھنڈ آج جس طرح سے  قانون اور نظم و نسق کو  سرفہرست رکھتے ہوئے ترقی کی مہم کو آگے بڑھا رہا ہے، وہ بہت  ہی قابل تعریف ہے۔ یہ اس دیو بھومی کی پہچان کو محفوظ کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔ اور میرا تو اعتماد ہے کہ یہ دیو بھومی آنے والے وقت میں پوری دنیا کے روحانی شعور کی توجہ کا مرکز بنے گا۔ ہمیں اس  استعداد کے موافق بھی اتراکھنڈ کی ترقی کرنی ہوگی۔

اگر ہم ابھی ہی دیکھیں تو چار دھام یاترا پر آنے والے زائرین کی تعداد ہر سال پرانے سارے ریکارڈ توڑ دیتی ہے، نیا ریکارڈ بنا دیتی ہے۔ ابھی بابا کیدار کے درشنوں کے لیے کتنے عقیدت مند امنڈ رہے ہیں، یہ ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ ہریدوار میں ہونے والے کمبھ اور اردھ کمبھ میں دنیا بھر سے کروڑوں عقیدت مند آتے ہیں۔ ہر سال جو کانوڑ یاترا ہوتی ہے، اس میں بھی لاکھوں کروڑوں لوگ اتراکھنڈ پہنچتے ہیں۔ ملک میں ایسی ریاستیں کم ہی ہیں، جہاں اتنی بڑی تعداد میں عقیدت مند آتے ہیں۔ عقیدت مندوں کی یہ تعداد تحفہ بھی ہے اور اتنی بڑی تعداد کو سنبھال پانا، ایک  بھگیرتھ کام بھی ہے۔ اس بھگیرتھ کام کو آسان بنانے کے لیے ہی ڈبل انجن کی سرکار، ڈبل طاقت سے، ڈبل رفتار سے کام کر رہی ہے۔ بی جے پی سرکار کا پورا زور، ترقی کے نو رتنوں پر ہے۔ پہلا رتن – کیدار ناتھ –بدری ناتھ دھام میں 1300 کروڑ روپے سے از سر نو تعمیر کا کام، دوسرا رتن- ڈھائی ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے گوری کنڈ-کیدار ناتھ اور گووند گھاٹ-ہیم کنٹ صاحب روپ وے کا کام، تیسرا رتن- کمایوں کے  قدیم مندروں کو  شاندار بنانے کے لیے مانس کھنڈ مندر مالا مشن کا کام، چوتھا رتن- پوری ریاست میں ہوم اسٹے کو فروغ۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ریاست میں 4000 سے زیادہ ہوم اسٹے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ پانچواں رتن- 16 ایکو ٹورزم ڈیسٹی نیشن کی تعمیر، چھٹا رتن- اتراکھنڈ میں طبی خدمات کی توسیع۔ اودھم سنگھ نگر میں ایمس کا سیٹلائٹ سنٹر بھی بنایا جا رہا ہے۔ ساتواں رتن- تقریباً 2 ہزار کروڑ روپے کی لاگت والا ٹہری لیک ڈیولپمنٹ پروجیکٹ۔ آٹھواں رتن- رشی کیش-ہریدوار کا ایڈونچر ٹورزم اور یوگا کی راجدھانی کے طور پر ترقی اور نواں رتن- ٹنک پور-باگیشور ریل لائن۔ اس ریل لائن پر بھی جلد کام شروع ہو جائے گا۔ اور آپ لوگوں نے ایک کہاوت سنی ہوگی- سونے پر سہاگہ۔ اس لیے ان نو رتنوں کی مالا کو پرونے کے لیے، انفراسٹرکچر کے جو پروجیکٹ یہاں چل رہے ہیں، انہیں بھی دھامی جی کی حکومت نے نئی توانائی بخشی ہے۔ 12 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے چار دھام مہا پریوجنا پر تیز رفتار سے کام ہو رہا ہے۔ دہلی –دہرہ دون ایکسپریس وے تیار ہونے سے دہرہ دون-دہلی کے درمیان سفر اور آسان ہو جائے گا۔ روڈ کنیکٹویٹی کے ساتھ ہی، روپ وے کنٹیکٹویٹی کے لیے بھی اتراکھنڈ میں بڑے پیمانے پر کام ہو رہا ہے۔ پروت مالا یوجنا آنے والے دنوں میں اتراکھنڈ کی تقدیر بدلنے جا رہی ہے۔ اس کے لیے جس کنیکٹویٹی کا اتراکھنڈ کے لوگوں نے برسوں انتظار کیا ہے، وہ انتظار بھی ہماری حکومت ختم کر رہی ہے۔

رشی کیش-کرن پریاگ ریل پروجیکٹ دو تین سال میں پورا ہو جائے گا۔ 16 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ اس  پروجیکٹ کے پیچھے کیے جا رہے ہیں۔ رشی کیش-کرن پریاگ ریل پروجیکٹ پورا ہونے کے بعد اتراکھنڈ کا ایک بڑا علاقہ ریاست کے لوگوں اور سیاحوں کے لیے  آسام ہو جائے گا۔ اس سے یہاں سرمایہ کاری، صنعتوں کی ترقی، روزگار کے نئے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اور دیو بھومی پر ترقی کی اس عظیم مہم کے درمیا، اب یہ وندے بھارت ٹرین بھی اتراکھنڈ کے لوگوں کے لیے ایک شاندار تحفہ ثابت ہوگا۔

 

ساتھیوں،

آج ریاستی حکومت کی کوششوں سے اتراکھنڈ تیزی سے  ٹورزم ہب، ایڈونچر ٹورزم ہب، فلم شوٹنگ  ڈیسٹی نیشن، ویڈنگ ڈیسٹی نیشن کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔ آج اتراکھنڈ کے نئے نئے مقامات، نئے نئے ٹورسٹ ہب،  ملک و بیرون ملک کے سیاحوں کو متوجہ کر رہے ہیں۔ ان سبھی کو وندے بھارت ٹرین سے بہت مدد ملے گی۔ اب تو ملک کے کونے کونے میں وندے بھارت ٹرینیں چلنی شروع ہو چکی ہیں۔ جب فیملی کے ساتھ کہیں لمبی دوری طے کرنی ہو تو، ٹرین ہی لوگوں کی پہلی پسند ہوتی ہے۔ ایسے میں اب وندے بھارت، ہندوستان کے عام خاندانوں کی پہلی پسند بنتی جا رہی ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

21ویں صدی کا ہندوستان، اپنے انفراسٹرکچر کو جدید بنا کر اور تیزی سے  ترقی یافتہ ہو سکتا ہے۔ پہلے طویل عرصے تک جن پارٹیوں کی سرکاریں رہیں، انہوں نے ملک کی اس ضرورت کو کبھی سمجھا ہی نہیں۔ ان پارٹیوں کا دھیان گھوٹالوں پر تھا، بدعنوانی پر تھا۔  کنبہ پروری کے اندر ہی وہ سمٹی ہوئی تھیں۔ کنبہ پروری کے باہر نکلنے کے لیے ان کی طاقت کا ہی موضوع نہیں تھا۔ ہندوستان میں ہائی اسپیڈ ٹرینوں کو لے کر بھی پہلے کی حکومتوں نے بڑے بڑے دعوے کیے۔ ان دعووں میں کئی کئی سال گزر گئے۔ ہائی اسپیڈ ریل تو چھوڑیے، ریل نیٹ ورک  سے  انسانوں کے پاک پھاٹک تک ہٹا نہیں پائے تھے۔ ریلوے کی بجلی کاری کی حالت تو اور بھی سنگین تھی۔ 2014 تک ملک کے ایک تہائی ریل نیٹ ورک کی ہی بجلی کاری نہیں ہو پائی تھی۔ جب یہ حالت ہو، تو تیزی سے چلنے والی ٹرین چلانے کے بارے میں سوچنا بھی ناممکن تھا۔ سال 2014 کے بعد ہم نے ریلوے کو ٹرانسفارم کرنے کے لیے چو طرفہ کام شروع کیا۔ ایک طرف ہم نے ملک کی پہلی ہائی اسپیڈ ٹرین کے خواب کو زمین پر اتارنا شروع کیا۔ دوسری طرف پورے ملک کو سیمی ہائی اسپیڈ ٹرینوں کے لیے تیار کرنا شروع کیا۔ جہاں 2014 سے پہلے ہر سال اوسطاً 600 کلومیٹر ریل لائن کی بجلی کاری ہوتی تھی۔ وہیں اب ہر سال 6 ہزار کلومیٹر ریل لائنوں کی بجلی کاری ہو رہی ہے۔ کہاں 600 اور کہاں 6000، اس لیے آج ملک کے 90 فیصد سے زیادہ ریلوے نیٹ ورک کی بجلی کاری ہو چکی ہے۔ اتراکھنڈ میں تو پورے ریل نیٹ ورک کی سو فیصد بجلی کاری ہو چکی ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

یہ کام اس لیے ہو رہا ہے، کیوں کہ آج صحیح ترقی کی نیت بھی ہے، پالیسی بھی ہے اور عزم بھی ہے۔ 2014 کے مقالبے ریل بجٹ میں جو اضافہ ہوا ہے، اس کا سیدھا فائدہ اتراکھنڈ کو بھی ہوا ہے۔ 2014 سے پہلے کے 5 سالوں میں اتراکھنڈ کے لیے اوسطاً 200 کروڑ روپے سے بھی کم کا بجٹ ملتا تھا۔ اور ابھی اشونی جی نے تفصیل سے اس کے بارے میں بتایا بھی۔ 200 کروڑ سے کم، اتنا مشکل پہاڑی علاقہ، ریلوے کی کمی اور بجٹ کتنا، 200 کروڑ سے بھی کم۔ اس سال اتراکھنڈ کا ریل بجٹ 5 ہزار کروڑ روپے ہے۔ یعنی 25 گنا اضافہ۔ یہی وجہ ہے کہ آج اتراکھنڈ کے نئے نئے علاقوں تک ریل کی توسیع ہو رہی ہے۔ ریلوے ہی نہیں، بلکہ جدید ہائی وے کی بھی اتراکھنڈ میں غیر معمولی توسیع ہو رہی ہے۔ اتراکھنڈ جیسی پہاڑی ریاست کے لیے یہ کنیکٹویٹی کتنی ضروری ہے، یہ ہم سمجھتے ہیں۔ کنیکٹویٹی کی کمی میں ماضی میں کیسے گاؤں کے گاؤں خالی ہو گئے، اس درد کو ہم سمجھتے ہیں۔ آنے والی نسل کو اس درد سے ہم بچانا چاہتے ہیں۔ اتراکھنڈ میں ہی ٹورزم سے، کھیتی کسانی سے، صنعتوں سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، اس لیے اتنی محنت آج ہم کر رہے ہیں۔ ہماری سرحدوں تک رسائی آسان ہو،  ملک کی حفاظت میں مصروف ہمارے فوجیوں کو  مشکل نہ ہو، اس میں بھی یہ جدید کنیکٹویٹی بہت کام آئے گی۔

 

بھائیوں اور بہنوں،

ہماری ڈبل انجن کی سرکار، اتراکھنڈ کی ترقی کے لیے پابند عہد ہے۔ اتراکھنڈ کی تیزی سے ترقی،  ہندوستان کی تیزی سے ترقی میں بھی مدد کرے گی۔ اور ملک اب رکنے والا نہیں ہے، ملک اب اپنی رفتار پکڑ چکا ہے۔ پورا ملک وندے بھارت کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور آگے ہی بڑھتا جائے گا۔ ایک بار پھر آپ سبھی کو اتراکھنڈ کی پہلی وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کے لیے بہت بہت مبارکباد، بہت بہت نیک خواہشات۔ اور ان دنوں تو بابا کیدار کے چرنوں میں، بدری وشال کے چرنوں میں، یمنوتری، گنگوتری کے چرنوں میں بہت تیزی سے ملک بھر کے لوگ آ رہے ہیں۔ اسی وقت وندے بھارت ایکسپریس کا پہنچنا، یہ ان کے لیے بھی بڑا خوش کن تجربہ ہوگا۔ میں پھر ایک بار بابا کیدار کے چرنوں میں پرنام کرتے ہوئے، دیو بھومی کو نمن کرتے ہوئے آپ سب کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ شکریہ!

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
How Varanasi epitomises the best of Narendra  Modi’s development model

Media Coverage

How Varanasi epitomises the best of Narendra Modi’s development model
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
“If today the world thinks India is ready to take a big leap, it has a powerful launchpad of 10 years behind it”
“Today 21st century India has stopped thinking small. What we do today is the best and biggest”
“Trust in government and system is increasing in India”
“Government offices are no longer a problem but are becoming allies of the countrymen”
“Our government created infrastructure keeping the villages in mind”
“By curbing corruption, we have ensured that the benefits of development are distributed equally to every region of India”
“We believe in Governance of Saturation, not Politics of Scarcity”
“Our government is moving ahead keeping the principle of Nation First paramount”
“We have to prepare 21st century India for its coming decades today itself”
“India is the Future”

The Prime Minister, Shri Narendra Modi addressed the News 9 Global Summit in New Delhi today. The theme of the Summit is ‘India: Poised for the Big Leap’.

Addressing the gathering, the Prime Minister said TV 9’s reporting team represents the diversity of India. Their multi-language news platforms made TV 9 a representative of India's vibrant democracy, the Prime Minister said.

The Prime Minister threw light on the theme of the Summit - ‘India: Poised for the Big Leap’, and underlined that a big leap can be taken only when one is filled with passion and enthusiasm. He said that the theme highlights India’s self-confidence and aspirations owing to the creation of a launchpad of 10 years. In these 10 years, the Prime Minister said, the mindset, self-confidence and good governance have been the major factors of transformation.

The Prime Minister underlined the centrality of the commission citizen in the destiny of India. He emphasized that a mindset of defeat can not lead to victory, in this light, he said that the change in mindset and leap that India has taken is incredible. PM Modi recalled the negative view exposed by the leadership of the past and the overhang of corruption, scams, policy paralysis and dynasty politics had shook the foundation of the nation. The Prime Minister mentioned the turnaround and India entering into the top 5 economies of the world. “India of 21st century India does not think small. Whatever we do, we do best and biggest. World is amazed and sees the benefit of moving with India”, he said.

Highlighting the achievements of the last 10 years compared to the ten years before 2014, the Prime Minister mentioned the record increase in FDI from 300 billion US dollars to 640 billion US dollars, India’s digital revolution, trust in India’s Covid vaccine and the growing number of taxpayers in the country which symbolizes the increasing trust of the people in the government. Speaking about mutual fund investments in the country, the Prime Minister informed that people had invested Rs 9 lakh crore in 2014 while 2024 has seen a meteoric rise to Rs 52 lakh crores. “This proves to the citizens that the nation is moving forward with strength”, PM Modi continued, “The level of trust toward self and the government is equal.”

The Prime Minister said that the government's work culture and governance are the cause of this turn-around. “Government offices are no longer a problem but are becoming allies of the countrymen”, he said.

The Prime Minister said that for this leap, a change of gear was needed. He gave examples of long pending projects such as Saryu Canal Project in Uttar Pradesh, Sardar Sarovar Yojana, and Krishna Koena Pariyojana of Maharashtra which were lying pending for decades and were completed by the government. The Prime Minister drew attention to the Atal Tunnel whose foundation stone was laid in 2002 but remained incomplete till 2014, and it was the present government that accomplished the work with its inauguration in 2020. He also gave the example of Bogibeel Bridge in Assam, commissioned in 1998 but finally completed 20 years later in 2018, and Eastern Dedicated Freight Corridor commissioned in 2008 but completed 15 years later in 2023. “Hundreds of such pending projects were completed after the present government came to power in 2014”, he added. The Prime Minister also explained the impact of regular monitoring of the big projects under PRAGATI and informed that in the last 10 years projects worth 17 lakh crore have been reviewed under the mechanism. The Prime Minister gave examples of a few projects that were completed very quickly such as Atal Setu, Parliament Building, Jammu AIIMS, Rajkot AIIMs, IIM Sambalpur, New terminal of Trichy Airport, IIT Bhilai, Goa Airport, undersea cable up to Lakshadweep, Banas Dairy at Varanasi, Dwarka Sudarshan Setu. Foundation stones of all these projects were laid by the Prime Minister and he dedicated them to the nation also. “When there is willpower and respect for the taxpayers' money, only then the nation moves forward and gets ready for a big leap”, he added.

The Prime Minister illustrated the scale by listing the activities of just one week. He mentioned a massive educational push from Jammu with dozens of higher education institutes like IIT, IIMs and IIIT on 20th February, on 24 th February he dedicated 5 AIIMs from Rajkot, and more than 2000 projects including revamping more than 500 Amrit Stations was done this morning. This streak will continue during his visit to three states in the coming two days, he informed. “We lagged in the first, second and third revolutions, now we have to lead the world in the fourth revolution”, the Prime Minister said.

He continued by furnishing the details of the nation's progress. He gave figures like 2 new colleges daily, a new university every week, 55 patents and 600 trademarks every day, 1.5 lakh Mudra loans daily, 37 startups daily, daily UPI transaction of 16 thousand crore rupees, 3 new Jan Aushadhi Kendras per day, construction of 14 KM road everyday, 50 thousand LPG connections everyday, one tap connection every second and 75 thousand people came out of poverty everyday.

Referring to a recent report on the consumption pattern of the country, the Prime Minister highlighted the fact that poverty has reached its lowest level till date into single digit. As per data, he said that consumption has increased by 2.5 times as compared to a decade ago as people's capacity to spend on different goods and services has increased. “In the last 10 years, consumption in villages has increased at a much faster rate than that in cities. This means that the economic power of the village people is increasing, they are having more money to spend”, he said.

The Prime Minister said that the government has developed infrastructure keeping rural needs in mind resulting in better connectivity, new employment opportunities and income for women. This strengthened rural India, he said. “For the first time in India, food expenditure has become less than 50 per cent of the total expenditure. That is, the family which earlier used to spend all its energy in procuring food, today its members are able to spend money on other things”, the Prime Minister added.

Pointing out the trend of vote bank politics adopted by the previous government, the Prime Minister underscored that India has broken out of the scarcity mindset in the last 10 years by putting an end to corruption and ensuring that the benefits of development are distributed equally. “We believe in governance of saturation instead of politics of scarcity”, PM Modi emphasized, “We have chosen the path of santushti (contentment) of the people instead of tushtikaran.” This, the Prime Minister said, has been the mantra of the government for the past decade. “This is Sabka Saath Sabka Vikas”, the Prime Minister said, elaborating that the government has transformed vote bank politics into politics of performance. Highlighting the Modi Ki Guarantee Vehicle, the Prime Minister said that the government of today is going door-to-door and providing facilities to the beneficiaries. “When saturation becomes a mission, there is no scope for any kind of discrimination”, PM Modi exclaimed.

“Our government is moving forward keeping the principle of Nation First paramount”, the Prime Minister remarked, as he mentioned the critical decisions taken by the government to resolve old challenges. He touched upon the abrogation of Article 370, construction of the Ram Mandir, ending of triple talaq, Nari Shakti Vandan Adhiniyam, One Rank One Pension, and creation of the post of Chief of Defense Staff. He underlined that the government completed all such incomplete tasks with the thinking of Nation First.

The Prime Minister stressed the need to prepare the India of the 21st century and threw light on the rapidly progressing plans. “From space to semiconductor, digital to drones, AI to clean energy, 5G to Fintech, India has today reached the forefront of the world”, he said. He highlighted India’s growing prowess as one of the biggest forces in digital payments in the global world, the fastest-growing country in Fintech Adoption Rate, the first country to land a rover on the south pole of the Moon, among the leading countries in the world in Solar Installed Capacity, leaving Europe behind in the expansion of 5G network, rapid progress in the semiconductor sector and rapid developments on future fuels like green hydrogen.

Concluding the address, the Prime Minister said, “Today India is working hard towards its bright future. India is futuristic. Today everyone says – India is the future.” He also drew attention to the importance of the next 5 years. He reaffirmed the belief to take India's potential to new heights in the third term and wished that the coming 5 years be years of progress and praise for India’s journey to Viksit Bharat.