Lays foundation stone of building for Faculty of Technology, Computer Centre and Academic Block of the University
Releases Commemorative Centenary Volume - Compilation of Centenary Celebrations; Logo Book - Logo of Delhi University and its colleges; and Aura - 100 Years of University of Delhi
Takes Metro Ride to reach University of Delhi
“Delhi University has not been just a university but a movement”
“If during these hundred years, DU has kept its emotions alive, it has kept its values vibrant too”
“India’s rich education system is the carrier of India's prosperity”
“Delhi University played a major part in creating a strong generation of talented youngsters”
“When the resolve of an individual or an institution is towards the country, then its achievements are equated with the achievements of the nation”
“The third decade of the last century gave new momentum to the struggle for India’s independence, now the third decade of the new century will give impetus to the development journey of India”
“Indian values like democracy, equality and mutual respect are becoming human values”
“World's largest heritage museum - ‘Yuge Yugeen Bharat’ is going to be built in Delhi”
“Soft power of India is becoming a success story of the Indian youth”

دہلی یونیورسٹی کے اس سنہرے پروگرام میں موجود ملک کے وزیر تعلیم جناب دھرمندر پردھان جی، ڈی یو کے وائس چانسلر محترم یوگیش سنگھ جی، سبھی پروفیسران، اساتذہ اور سبھی میرے نوجوان ساتھی۔ آپ لوگوں نے مجھے جب یہ دعوت دی تھی، تبھی میں نے طے کر لیا تھا کہ مجھے آپ کے یہاں تو آنا ہی ہے۔ اور یہاں آنا، اپنوں کے درمیان آنے جیسا ہے۔

اب سو سال کی یہ فلم ہم دیکھ رہے تھے، دہلی یونیورسٹی کی دنیا کو سمجھنے کے لیے۔ صرف دو  عظیم شخصیات کو دیکھ لیتے ہیں تو بھی پتہ چل جاتا کہ  دہلی یونیورسٹی نے کیا دیا ہے۔ کچھ لوگ میرے سامنے بیٹھے ہیں، جن کو میں طالب علمی کے زمانے سے جانتا ہوں، لیکن اب بہت بڑے بڑے لوگ بن گئے۔ اور مجھے اندازہ تھا کہ میں آج آؤں گا تو مجھے ان سب پرانے ساتھیوں سے ملنے کا ضرور موقع ملے گا۔ اور مجھے مل رہا ہے۔

 

ساتھیوں،

ڈی یو کا کوئی بھی اسٹوڈنٹ ہو، کالج فیسٹ چاہے اپنے کالج میں ہو یا دوسرے کالج میں، اس کے لیے سب سے امپارٹنٹ یہی ہوتا ہے کہ بس کی طرح اس فیسٹ کا حصہ بن جائیں۔ میرے لیے بھی یہ ایسا ہی موقع ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج جب دہلی یونیورسٹی کے 100 سال کا جشن منایا جا رہا ہے، تو جشن کے اس ماحول میں مجھے بھی آپ سب کے درمیان آنے کا موقع ملا ہے۔ اور ساتھیوں، کیمپس میں آنے کا مزہ بھی تبھی ہوتا ہے جب آپ کولیگس کے ساتھ آئیں۔ دو دوست چل دیے گپیں مارتے ہوئے، دنیا جہان کی باتیں کریں گے، اسرائیل سے لے کر مون تک کچھ چھوڑیں گے نہیں۔ کون سی فلم دیکھی… او ٹی ٹی پر وہ سیریز اچھی ہے…وہ والی ریل دیکھی یا نہیں دیکھی…ارے باتوں کا بے کراں سمندر ہوتا ہے۔ اس لیے، میں بھی آج آپ کی ہی طرح دہلی میٹرو سے اپنے نوجوان دوستوں سے گپ شپ کرتے کرتے یہاں پہنچا ہوں۔ اس بات چیت میں کچھ قصے بھی پتہ چلے، اور کئی دلچسپ جانکاریاں بھی مجھے ملیں۔

ساتھیوں،

آج کا موقع ایک اور وجہ سے بہت خاص ہے۔ ڈی یو نے ایک ایسے وقت میں اپنے 100 سال مکمل کیے ہیں، جب ملک اپنی آزادی کے 75 سال پورے ہونے پر امرت مہوتسو منا رہا ہے۔ کوئی بھی ملک ہو، اس کی یونیورسٹیز، اس کے تعلیمی ادارے اس کی حصولیابیوں کی سچی عکاسی کرتے ہیں۔ ڈی یو کے بھی اس 100 برسوں کے سفر میں کتنے ہی تاریخی موڑ آئے ہیں! اس میں کتنے پروفیسرز کی، کتنے اسٹوڈنٹس کی اور کتنے ہی دوسرے لوگوں کی زندگی جڑی رہی ہے۔ ایک طرح سے، دہلی یونیورسٹی صرف ایک یونیورسٹی نہیں بلکہ ایک تحریک رہی ہے۔ اس یونیورسٹی نے ہر تحریک کو جیا ہے۔ اس یونیورسٹی نے ہر تحریک میں جان بھر دی ہے۔ میں اس تاریخی موقع پر یونیورسٹی کے سبھی پرفیسرز اور اسٹاف کو، سبھی اسٹوڈنٹس کو اور ایلومنی کو  تہ دل سے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

 

ساتھیوں،

آج اس تقریب کے ذریعے یہاں نئے اور پرانے اسٹوڈنٹس بھی ساتھ مل رہے ہیں۔  ظاہر ہے، کچھ سدا بہار باتیں بھی ہوں گی۔ نارتھ کیمپس کے لوگوں کے لیے کملا نگر، ہڈسن لائن اور مکھرجی نگر سے جڑی یادیں، ساؤتھ کیمپس والوں کے لیے ستیہ نکیتن کے قصے، آپ چاہے جس سال کے پاس آؤٹ ہوں، دو ڈی یو والے مل کر ان پر کبھی بھی گھنٹوں نکال سکتے ہیں! ان سب کے درمیان، میں مانتا ہوں، ڈی یو نے 100 سالوں میں اگر اپنے احساسوں کو زندہ رکھا ہے، تو اپنی قدروں کو بھی تازہ رکھا ہے۔ ’’نشٹھا دھریتی ستیم‘‘، یونیورسٹی کا یہ موٹو اپنے ہر ایک اسٹوڈنٹ کی زندگی میں گائیڈنگ لیمپ کی طرح ہے۔

ساتھیوں،

ہمارے یہاں کہا جاتا ہے-

’’گیان وانین سکھوان، گیان وانیو جیوتی

گیان وانیو بلوان، تسمات گیان میو بھو‘‘

یعنی، جس کے پاس علم ہے وہی خوش ہے، وہی طاقتور ہے۔ اور  اصل میں وہی جیتا ہے، جس کے پاس علم ہے۔ اس لیے، جب ہندوستان کے پاس نالندہ جیسی یونیورسٹی تھی، تب ہندوستان آسائش اور خوشحالی کے عروج پر تھا۔ جب ہندوستان کے پاس تکشیلا جیسے ادارے تھے، تب ہندوستان کا سائنس دنیا کو گائیڈ کرتا تھا۔ ہندوستان کا شاندار تعلیمی نظام، ہندوستان کی خوشحالی کا محرک تھا۔

یہ وہ دور تھا جب دنیا کی جی ڈی پی میں بہت بڑا شیئر ہندوستان کا ہوتا تھا۔ لیکن، غلامی کے سینکڑوں برسوں  کے دور نے ہمارے تعلیم کے مندروں کو، ان ایجوکیشن سنٹرز کو تباہ کر دیا۔ اور جب ہندوستان کی علمی موج رکی، تو ہندوستان کی گروتھ بھی تھم گئی۔

لمبی غلامی کے بعد ملک آزاد ہوا۔ اس دوران، آزادی  کے جذباتی  تلاطم کو ایک ٹھوس شکل دینے میں ہندوستان کی یونیورسٹیز نے ایک اہم رول نبھایا تھا۔ ان کے ذریعے ایک ایسی نوجوان نسل کھڑی ہوئی، جو اس زمانے کی جدید دنیا کو للکار سکتی تھی۔ دہلی یونیورسٹی بھی اس تحریک کا ایک بڑا مرکز تھی۔ ڈی یو کے سبھی اسٹوڈنس، وہ چاہے کسی بھی کورس میں ہوں، وہ اپنے ادارہ کی ان جڑوں سے ضرور  واقف ہوں گے۔ ماضی کی یہ سمجھ ہمارے وجود کو شکل  دیتی ہے، اصولوں کو بنیاد عطا کرتی ہے، اور مستقبل کے وژن کو وسعت بخشتی ہے۔

 

ساتھیوں،

کوئی انسان ہو یا ادارہ، جب اس کے عزائم ملک کے لیے ہوتے ہیں، تو اس کی کامیابی بھی ملک کی کامیابیوں سے قدم ملا کر چلتی ہے۔ کبھی ڈی یو میں صرف 3 کالج تھے، آج 90 سے زیادہ کالج ہیں۔ کبھی ہندوستان کی معیشت خستہ حال تھی، آج ہندوستان دنیا کی  ٹاپ 5 معیشتوں میں شامل ہو چکا ہے۔ آج ڈی یو میں پڑھنے والے لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے۔ اسی طرح ملک میں بھی جینڈر ریشیو میں کافی بہتری آئی ہے۔ یعنی، تعلیمی اداروں کی جڑیں جتنی گہری ہوتی ہیں، ملک کی شاخیں اتنی ہی بلندیوں کو چھوتی ہیں۔ اور اس لیے مستقبل کے لیے بھی یونیورسٹی اور ملک کے عزائم میں یکسانیت ہونی چاہیے، انٹر کنکشن ہونا چاہیے۔

25 سال بعد، جب ملک اپنی آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا، تب دہلی یونیورسٹی اپنے قیام کے 125 سال منائے گی۔ تب ہدف تھا ہندوستان کی آزادی، اب ہمارا ہدف ہے 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر۔ پچھلی صدی کی تیسری دہائی نے، اگر پچھلی صدی کی تاریخ کی طرف نظر کریں تو پچھلی صدی کی تیسری دہائی نے جدوجہد آزادی کو نئی رفتار دی تھی۔ اب اس صدی کی یہ تیسری دہائی ہندوستان کی ترقی کے سفر کو نئی رفتار دے گا۔ آج ملک بھر میں بڑی تعداد میں یونیورسٹی، کالج بنائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ برسوں میں آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، این آئی ٹی اور ایمس جیسے اداروں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہوا ہے۔ یہ سبھی ادارے نیو انڈیا کے بلڈنگ بلاکس بن رہے ہیں۔

 

ساتھیوں،

تعلیم صرف سکھانے کا عمل نہیں ہے، بلکہ یہ سیکھنے کا بھی عمل ہے۔ طویل عرصے تک تعلیم کا فوکس اسی بات پر رہا کہ طلباء کو کیا پڑھایا جانا چاہیے۔ لیکن ہم نے فوکس اس بات پر بھی شفٹ کیا کہ  طالب علم کیا سیکھنا چاہتا ہے۔ آپ سبھی کی مشترکہ کوششوں سے نئی تعلیمی پالیسی تیار ہوئی ہے۔ اب طلباء کو یہ بڑی سہولت ملی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی پسند کے موضوعات کا انتظاب کر سکتے ہیں۔

تعلیمی اداروں کا معیار بہتر بنانے کے لیے بھی ہم لگاتار کام کر رہے ہیں۔ ان اداروں کو  مسابقتی بنانے کے لیے ہم نیشنل انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک لے کر آئے ہیں۔ اس سے ملک بھر کے اداروں کو ایک تحریک مل رہی ہے۔ ہم نے اداروں کی خود مختاری کو کوالٹی آف ایجوکیشن سے بھی جوڑا ہے۔ جتنی بہتر اداروں کی کارکردگی ہوگی، اتنی ہی انہیں خود مختاری مل رہی ہے۔

ساتھیوں،

تعلیم کی مستقبل نواز پالیسیوں اور فیصلوں کا نتیجہ ہے کہ آج اڈین یونیورسٹیز کی گلوبل پہچان بڑھ رہی ہے۔ 2014 میں کیو ایس ورلڈ رینکنگ میں صرف 12 انڈین یونیورسٹیز ہوتی تھیں، لیکن آج یہ تعداد 45 ہو گئی ہے۔

ہمارے ایجوکیشن انسی ٹیوٹس دنیا میں اپنی الگ پہچان بنا رہے ہیں۔ ہمارے ادارے کوالٹی ایجوکیشن، اسٹوڈنٹ فیکلٹی ریشیو، اور رپیوٹیشن سب میں تیزی سے بہتری کر رہے ہیں۔ اور ساتھیوں، آپ جانتے ہیں ان سب کے پیچھے سب سے بڑی گائیڈنگ فورس کون سی کام کر رہی ہے؟ یہ گائیڈنگ فورس ہے – ہندوستان کی نوجوان طاقت۔ اس ہال میں بیٹھے ہوئے میرے نوجوانوں کی طاقت۔

 

ساتھیوں،

ایک زمانہ تھا جب اسٹوڈنٹس کسی انسٹی ٹیوٹ میں ایڈمشن لینے سے پہلے صرف پلیسمنٹ کو ہی ترجیح دیتے تھے۔ یعنی، ایڈمشن کا مطلب ڈگری، اور ڈگری کا مطلب نوکری، تعلیم یہیں تک محدود ہو گئی تھی۔ لیکن، آج نوجوان زندگی کو اس میں باندھنا نہیں چاہتا۔ وہ کچھ نیا کرنا چاہتا ہے، اپنی لکیر خود کھینچنا چاہتا ہے۔

2014 سے پہلے ہندوستان میں صرف کچھ سو اسٹارٹ اپ تھے۔ آج ہندوستان میں اسٹارٹ اپس کی تعداد ایک لاکھ کو بھی پار کر گئی ہے۔ 15-2014 کے مقابلے آج 40 فیصد سے زیادہ پیٹنٹ فائل ہو رہے ہیں۔ جو پیٹنٹ جاری ہو رہے ہیں، ان میں بھی 5 گنا کا اضافہ ہوا ہے۔ گلوبل انوویشن انڈیکس، جس میں ہندوستان 81ویں مقام پر تھا، 80 سے بھی بعد۔ وہاں سے بڑھ کرکے آج ہم 46 پر پہنچ چکے ہیں، وہ مقام ہم نے حاصل کیا ہے۔

ابھی کچھ دن پہلے ہی میں امریکہ کے دورہ سے لوٹا ہوں۔ آپ سب نے دیکھا ہوگا، آج ہندوستان کی عزت کتنی بڑھی ہے،  وقار کتنا بڑھا ہے۔ کیا وجہ ہے، کیا وجہ ہے آج ہندوستان کا اتنا وقار بڑھا ہے؟ جواب وہی ہے۔ کیوں کہ، ہندوستان کی صلاحیت بڑھی ہے، ہندوستان کے نوجوانوں پر دنیا کا بھروسہ بڑھا ہے۔ اسی سفر میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان  انیشیٹو آن کریٹکل اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجی یعنی، آئی سی ای ٹی ڈیل ہوئی ہے۔ اس ایک معاہدہ سے، ہمارے نوجوانوں کے لیے زمین سے لے کر خلاء تک، سیمی کنڈکٹر سے لے کر اے آئی تک، تمام فیلڈز میں نئے مواقع پیدا ہونے والے ہیں۔

جو ٹیکنالوجی پہلے ہندوستان کی پہنچ سے باہر ہوتی تھی، اب ہمارے نوجوانوں کو ان کی رسائی ملے گی، ان کا اسکل ڈیولپمنٹ ہوگا۔ امریکہ کی مائکرون، گوگل اور اپلائیڈ میٹریلز جیسے کمپنیوں نے ہندوستان میں بڑی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ اور ساتھیوں، یہ آہٹ ہے کہ مستقبل کا ہندوستان کیسا ہونے والا ہے، آپ کے لیے کیسے کیسے مواقع دستک دے رہے ہیں۔

ساتھیوں،

انڈسٹری ’فور پوائنٹ او‘ کا انقلاب بھی ہمارے دروازے پر آ چکا ہے۔ کل تک اے آئی اور اے آر-وی آر کے جو قصے ہم سائنس فکشن فلموں میں دیکھتے تھے، وہ اب آج ہماری ریئل لائف کا حصہ بن رہے ہیں۔ ڈرائیونگ سے لے کر سرجری تک، روبوٹکس اب نیو نارمل بن رہا ہے۔ یہ سبھی سیکٹرز ہندوستان کی نوجوان نسل کے لیے، ہمارے اسٹوڈنٹس کے لیے نئے راستے بنا رہے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ہندوستان نے اپنے اسپیس سیکٹر کو کھولا ہے، ہندوستان نے اپنے ڈیفنس سیکٹر کو کھولا ہے، ہندوستان نے ڈرون سے جڑی پالیسیوں میں بہت بڑی تبدیلی کی ہے، ان سبھی فیصلوں سے ملک کے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے۔

ساتھیوں،

ہندوستان کی ترقی کے سفر سے، ہزاروں نوجوانوں کو، ہمارے اسٹوڈنٹس کا کیسے فائدہ ہو رہا ہے، اس کا ایک اور پہلو ہے۔ آج دنیا کے لوگ ہندوستان کو، ہندوستان کی پہچان کو، ہندوستان کی ثقافت کو جاننا چاہ رہے ہیں۔ کورونا کے دوران دنیا کا ہر ملک اپنی ضرورتوں کے لیے پریشان تھا۔ لیکن، ہندوستان اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک کی بھی مدد کر رہا تھا۔

لہٰذا دنیا میں ایک تجسس پیدا ہوا کہ آخر ہندوستان کے  وہ کون سے اصول ہیں جو بحران میں بھی خدمت کا عزم پیدا کرتے ہیں۔ ہندوستان کی بڑھتی صلاحیت ہو، ہندوستان کی جی 20 صدارت ہو، یہ سبھی ہندوستان کے تئیں تجسس بڑھا رہے ہیں۔ اس سے ہمارے جو ہیومینٹیز کے اسٹوڈنٹس ہیں، ان کے لیے  بے شمار نئے مواقع پیدا ہونے لگے ہیں۔ یوگا جیسا ہمارا سائنس، ہماری ثقافت، ہمارے فیسٹیول، ہمارا لٹریچر، ہماری ہسٹری، ہمارا ہیرٹیج،  ہمارے ہنر، ہمارے پکوان، آج ہر کسی کی بات ہو رہی ہے۔ ہر کسی کے لیے نئی دلچسپی پیدا ہو رہی ہے۔ اس لیے، ان ہندوستانی نوجوانوں کی ڈیمانڈ بھی بڑھ رہی ہے جو دنیا کو ہندوستان کے بارے میں بتا سکیں، ہماری چیزوں کو دنیا تک پہنچا سکیں۔ آج ڈیموکریسی، ایکویلٹی اور میوچوئل ریسپکٹ جیسی ہندوستانی اقدار دنیا کے لیے  انسانی پیمانہ بنا رہے ہیں۔ گورنمنٹ فارمس سے لے کر ڈپلومیسی تک، کئی شعبوں میں ہندوستانی نوجوانوں کے لیے لگاتار نئے موقعے بن رہے ہیں۔ ملک میں ہسٹری، ہیرٹیج اور کلچر سے جڑے شعبوں نے بھی نوجوانوں کے لیے  بے پناہ امکانات بنا دیے ہیں۔

آج ملک کی الگ الگ ریاستوں میں ٹرائبل میوزیم بن رہے ہیں۔ پی ایم میوزیم کے ذریعے آزاد ہندوستان کی ترقی کے سفر کےد رشن ہوتے ہیں۔ اور آپ کو یہ جان کر بھی اچھا لگے گا کہ دہلی میں دنیا کا سب سے بڑا ہیرٹیج میوزیم- ’یوگو یوگین بھارت‘ یہ بھی بننے جا رہا ہے۔ فن، ثقافت اور تاریخ سے جڑے نوجوانوں کے لیے پہلی بار پیشن کو پروفیشن بنانے کے اتنے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اسی طرح، آج دنیا میں ہندوستانی ٹیچرز  کی الگ پہچان بنی ہے۔ میں گلوبل لیڈرز سے ملتا ہوں، ان میں سے کئی اپنے  کسی نہ کسی انڈین ٹیچر سے جڑے قصے بتاتے ہیں اور بڑے فخر سے بتاتے ہیں۔

ہندوستان کی یہ سافٹ پاور انڈین یوتھس کی سکسیس اسٹوری بن سکتی ہے۔ ان سب کے لیے ہماری یونیورسٹیز کو، ہمارے انسٹی ٹیوشنز کو تیار ہونا ہے، اپنے مائنڈ سیٹ کو تیار کرنا ہے۔ ہر یونیورسٹی کو اپنے لیے ایک روڈ میپ بنانا ہوگا، اپنے اہداف کو طے کرنا ہوگا۔

جب آپ اس ادارہ کے 125 سال منائیں، تب آپ کی گنتی ورلڈ کی ٹاپ رینکنگ والی یونیورسٹی میں ہو، اس کے لیے اپنی کوشش بڑھائیں۔ فیوچر میکنگ انوویشنز آپ کے یہاں ہوں، دنیا کے بیسٹ آئیڈیاز اور لیڈرز آپ کے یہاں سے نکلیں، اس کے لیے آپ کو لگاتار کام کرنا ہوگا۔

لیکن اتنے ساری تبدیلیوں کے درمیان، آپ لوگ پوری طرح مت بدل جائیے گا۔ کچھ باتیں ویسے ہی چھوڑ دیجئے گا بھائی۔ نارتھ کیمپس میں پٹیل چیسٹ کی چائے…نوڈلز…ساؤتھ کیمپس میں  چانکیاز کے موموز…ان کا ٹیسٹ نہ بدل جائے، یہ بھی آپ کو انشیور کرنا ہوگا۔

ساتھیوں،

جب ہم اپنی زندگی میں کوئی ہدف طے کرتے ہیں، تو اس کے لیے پہلے ہمیں اپنے ذہن و دل کو تیار کرنا ہوتا ہے۔ ایک  ملک کے ذہن و دل کو تیار کرنے کی یہ ذمہ داری اس کے ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹس کو نبھانی ہوتی ہے۔ ہماری نئی جنریشن فیوچر ریڈی ہو، وہ چیلنجز کو ایکسیپٹ کرنے اور فیس کرنے کا ٹیمپرامینٹ رکھی ہو، یہ تعلیمی ادارہ کے وژن اور مشن سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

مجھے یقین ہے، دہلی یونیورسٹی اپنے اس سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے ان عزائم کو ضرور پورا کرے گی۔ اسی کے ساتھ، آپ سبھی کو…اس سو سال کے سفر کو جس طرح سے آپ نے آگے بڑھایا ہے، اسے اور زیادہ مضبوطی سے، اور زیادہ شاندار طریقے سے، اور زیادہ خواب اور عزائم کو لے کر کے ہدف کو حاصل کرنے کا راستہ بناتے ہوئے آگے بڑھیں،  کامیابیاں آپ کے قدم چومتی رہیں، آپ کی صلاحیت سے ملک بڑھتا رہے۔ اسی دعا کے ساتھ آپ سب کو بہت بہت مبارکباد۔

شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Japan-India Annual Summit: 150+ firms back $12.5 billion leap to fortify security ties

Media Coverage

Japan-India Annual Summit: 150+ firms back $12.5 billion leap to fortify security ties
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Rajasthan and Gujarat on 4 July
July 03, 2026
PM to dedicate, inaugurate, and lay the foundation stone for development projects worth around ₹1.06 lakh crore in Balotra
Projects span across sectors including petrochemicals, urban transport, railways, roads, renewable energy and power transmission
PM to dedicate India’s first greenfield integrated Refinery-cum-Petrochemical Complex at Pachpadra in Balotra
The state-of-the-art complex integrates refining and petrochemical production; has been established with an investment of over ₹79,450 crore
PM to lay the foundation stone for Phase 2 of the Jaipur Metro Rail Project
PM to launch the Modified UDAN scheme in Jodhpur
PM to inaugurate the Terminal Building of Jodhpur Airport
Marking a significant milestone in India's semiconductor manufacturing journey, PM to inaugurate CG Semi OSAT facility in Sanand, Ahmedabad
CG Semi plant to feature one of India's first end-to-end OSAT facilities offering semiconductor assembly and test services
Once fully ramped up, the facility will have an annual production capacity of up to 5 billion semiconductor chips

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Rajasthan and Gujarat on 4 July 2026. At around 10:45 AM, Prime Minister will inaugurate the Terminal Building of Jodhpur Airport and launch the Modified UDAN scheme in Jodhpur. Subsequently, at around 12:15 PM, he will travel to Balotra to dedicate, inaugurate, and lay the foundation stone for development projects worth approximately ₹1.06 lakh crore. He will also address a public gathering on the occasion.

Thereafter, Prime Minister will travel to Gujarat. At around 4:30 PM, Prime Minister will inaugurate the CG SEMI Outsourced Semiconductor Assembly and Test (OSAT) Facility in Sanand, Ahmedabad. He will also address the gathering on the occasion.

PM in Jodhpur

In a major boost to the aviation sector, with a particular focus on regional connectivity, Prime Minister will launch the Modified UDAN Scheme in Jodhpur. This marks a significant leap forward in India's civil aviation landscape and will further advance the vision of "Ude Desh ka Aam Nagrik". With an allocation of ₹28,840 crore over the next 10 years, the scheme aims to accelerate the next phase of aviation-led development. It focuses on multiple strategic components designed to ensure comprehensive and sustainable connectivity.

A key emphasis is on the development of 100 aerodromes from existing unserved airstrips, supported by an outlay of over ₹12,000 crore, to expand aviation infrastructure across the country. In addition, over ₹2,500 crore has been earmarked for Operations and Maintenance (O&M) support to ensure the viability of regional airports during their initial years of operation. To address accessibility challenges in remote and difficult terrains, the scheme also proposes the development of 200 modern helipads.

The scheme also continues Viability Gap Funding (VGF) support of over ₹10,000 crore for airlines, ensuring sustained regional operations while encouraging gradual commercial viability. Further strengthening the vision of Aatmanirbhar Bharat, the initiative includes the procurement of indigenous aircraft and helicopters, such as HAL Dhruv and Dornier platforms, to enhance connectivity and operations in underserved regions.

During the programme, the Prime Minister will also inaugurate the New Terminal Building at Jodhpur Airport. The project has been developed at a total cost of ₹480 crore. Spread over an area of more than 23,000 sqm., the New Terminal Building is designed to handle up to 20 lakh passengers annually. It is equipped with modern passenger amenities to ensure a seamless and comfortable travel experience.

Architecturally inspired by Rajasthan's royal heritage, the terminal seamlessly blends traditional elements such as arches and jharokhas with contemporary design. Sustainability has been integral to the terminal's design, with features such as energy-efficient systems, water conservation measures, and green building practices aimed at achieving a 5-Star GRIHA rating. The inauguration of the New Terminal Building at Jodhpur Airport will provide a significant boost to tourism, trade, and employment generation in the region.

PM in Balotra

Prime Minister will lay the foundation stone and inaugurate various development projects worth around ₹1.06 lakh crore in Balotra. These projects span multiple sectors, including petrochemicals, urban transport, railways, roads, renewable energy, and power transmission

Prime Minister will dedicate India's first greenfield integrated refinery-cum-petrochemical complex to the nation at Pachpadra in Balotra, marking a landmark achievement in the country's energy and petrochemical sector.

Developed as a joint venture between Hindustan Petroleum Corporation Limited (HPCL) and the Government of Rajasthan, the 9 Million Metric Tonnes Per Annum (MMTPA) Greenfield Refinery-cum-Petrochemical Complex has been established with an investment of over ₹79,450 crore.

The state-of-the-art complex integrates refining and petrochemical production, with a petrochemical capacity of 2.4 MMTPA. The refinery features a high Nelson Complexity Index of 17.0 and petrochemical yields exceeding 26%, aligning with global benchmarks for efficiency and sustainability.

The project is expected to play a pivotal role in strengthening India's energy security, enhancing petrochemical self-sufficiency, and driving industrial growth. It will serve as an anchor industry for the development of a Petrochemical and Plastic Park in the region, promoting downstream industries and ancillary sectors. Additionally, the refinery is poised to generate significant employment opportunities, contributing to the socio-economic development of the region.

Prime Minister will lay the foundation stone for Phase 2 of the Jaipur Metro Rail Project, which has a total cost of over ₹13,000 crore. Under Phase 2, a 41-km north-south metro corridor will be developed from Prahladpura to Todi Mod, connecting the industrial and residential areas of Sitapura and Vishwakarma Industrial Area (VKI) through 36 stations. The corridor will provide seamless connectivity to key locations, including the Sitapura Industrial Area, VKI, Jaipur Airport, Tonk Road, SMS Hospital, SMS Stadium, Ambabari, and Vidyadhar Nagar. The project will significantly improve connectivity to Jaipur's major industrial and residential areas, providing residents with faster, safer, and more convenient public transport. Under Phase 1, an 11.64-km metro corridor with 11 stations is already operational.

Prime Minister will further dedicate to the nation the Churu–Sadulpur (58 km) and Churu–Ratangarh (46 km) rail doubling projects, constructed at a cost of around ₹900 crore. Spanning a total length of 104 km, these projects will strengthen rail connectivity in north-west Rajasthan. They will enhance rail line capacity, enabling smoother, safer, and more punctual operation of both passenger and freight trains while easing congestion on the rail network. The projects will also provide impetus to investment, employment generation, and industrial development in the region.

Prime Minister will also inaugurate the four-laning of NH-125A, Jodhpur Ring Road Section-2 (Karwar–Dangiyawas). Developed at a cost of about ₹740 crore, the project will improve regional connectivity around Jodhpur and make travel smoother and safer.

Further, Prime Minister will dedicate to the nation SJVN Limited's 1,000 MW Bikaner Solar Energy Project, developed with an investment of about ₹5,500 crore. The project uses 24.22 lakh domestically manufactured solar modules. The Prime Minister will also dedicate NHPC's 300 MW Karnisar Bikaner Solar Energy Plant. The project uses about 7.75 lakh domestically manufactured solar PV cells and modules.

Prime Minister will also inaugurate the transmission line constructed at a cost of over ₹1,900 crore for power evacuation from the Rajasthan Renewable Energy Zone (REZ) and lay the foundation stone for the 530 km-long power transmission system for the Rajasthan REZ. These transmission systems will facilitate the evacuation of renewable energy generated in Rajasthan and help ensure an uninterrupted power supply in the state.

Prime Minister will also hand over appointment letters to around 54,000 youth recruited across various departments of the Government of Rajasthan. The recruits include personnel from the Departments of Education, Energy, Home, Panchayati Raj, Transport, Higher Education, Skill Development, Planning, Agriculture, Information Technology, and Administrative Reforms.

PM in Sanand

Prime Minister will inaugurate the CG Semi Outsourced Semiconductor Assembly and Test (OSAT) facility in Sanand, Gujarat. The inauguration marks a significant milestone in India's semiconductor manufacturing journey with the commencement of commercial production at the facility. It represents a major step forward in strengthening India's position in the global semiconductor value chain. The project is one of the first four approved under the India Semiconductor Mission (ISM) and has been developed with a total investment of over ₹7,500 crore.

Once fully ramped up, the facility will have an annual production capacity of up to 5 billion semiconductor chips and will help address the growing global demand for memory and storage solutions driven by rapid advancements in Artificial Intelligence (AI) and high-performance computing. The facility will cater to customers across the automotive, industrial, telecommunications, 5G, and Internet of Things (IoT) sectors. The CG Semi facility offers end-to-end semiconductor assembly and testing services, including wafer sorting, assembly, testing, package design, failure analysis, test programme development, product characterisation, and logistics support.

The operationalisation of this facility underscores India's emergence as a trusted and self-reliant semiconductor manufacturing destination and aligns with the Prime Minister's vision of building a resilient and self-reliant technology ecosystem in the country.