وزیر اعظم نے 18,100 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت کے متعدد قومی شاہراہ پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا
دریائے گنگا پر چھ لین کے پل کا سنگ بنیاد رکھا، بہار میں 3 ریلوے پروجیکٹوں کا افتتاح کیا
بہار میں نمامی گنگے کے تحت تقریبا 2،190 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کردہ 12 پروجیکٹوں کا افتتاح کیا
پٹنہ میں یونٹی مال کا سنگ بنیاد رکھا
’’فخر بہار جناب کرپوری ٹھاکر کو بھارت رتن دینا پورے بہار کا اعزاز ہے‘‘
’’ہماری حکومت ملک کے ہر غریب، آدیواسی، دلت اور محروم شخص کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں لگی ہوئی ہے‘‘
’’بہار کی ترقی، بہار میں امن، نظم و نسق کی حکمرانی، اور بہار میں بہنوں اور بیٹیوں کے حقوق دینا – یہ مودی کی گارنٹی ہے‘‘
وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج بہار کے اورنگ آباد میں 21,400 کروڑ روپئے کی لاگت سے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ آج کے ترقیاتی پروجیکٹوں میں سڑک، ریلوے اور نمامی گنگے کے شعبے شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے فوٹو گیلری کا واک تھرو بھی کیا۔

بہار کے گورنر جناب راجندر ارلیکر جی، وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار جی، اور تمام سینئر لیڈران جو  یہاں بیٹھے ہیں، مجھے سب کا نام یاد نہیں ہے، لیکن آج تمام پرانے دوست مل رہے ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں آ پ سب جو  صاحبان جو یہاں آئے   ہیں میں  تہہ دل آپ سب کا استقبال کرتا ہوں۔

ہم دنیا کے مشہور سوریہ مندر، امگیشوری ماتا اور دیو کنڈ  کے ای پورتر بھومی کو  ہم نمن  کرت ہیں ۔ راونی سب کے پرنام کرت ہیں! بھگوان بھاسکر کے کرپا رووا سب پر بنل رہے۔

ساتھیو!

اورنگ آباد کی یہ سرزمین بہت سے  مجاہد ین آزادی کی جائے پیدائش ہے۔ یہ بہار کی عظیم شخصیت انوگرہ نارائن سنہا جی جیسے عظیم لوگوں  کی جائے پیدائش ہے۔ اورنگ آباد کی اسی سر زمین پر آج بہار کی ترقی کا ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے۔ آج یہاں تقریباً 21.5 ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح ہوا ہے  اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ ان منصوبوں میں سڑک کے بنیادی ڈھانچے کے بہت سے منصوبے، ریل کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے، اور جدید بہار کی مضبوط جھلک بھی ہے ۔ آج یہاں   آمس-دربھنگہ چار لین کاریڈور کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ آج ہی دانا پور-بہٹہ فور لین ایلیویٹڈ روڈ کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیاہے۔ پٹنہ رنگ روڈ کے شیر پور سے دیگھواڑہ سیکشن کا بھی سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ اور یہی این ڈی اے کی پہچان ہے۔ ہم کام شروع کرتے ہیں، کام مکمل بھی  کرتے ہیں، اور ہم ہی اسے عوام کے لیے وقف بھی کرتے ہیں۔ یہ مودی کی گارنٹی ہے، ای مودی کے گارنٹی ہئی! آج بھوجپور ضلع میں آرا بائی پاس ریل لائن کا بھی سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ آج بہار کو نمامی گنگے مہم کے تحت 12 پروجیکٹوں سے بھی نوازا گیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ بہار کے لوگ اور خاص کر میرے اورنگ آباد کے بھائی اور بہنیں بھی بنارس-کولکتہ ایکسپریس وے کا انتظار کر رہے ہیں۔ یوپی بھی اس ایکسپریس وے سے صرف چند گھنٹوں کی دوری پر ہوگا، اور کچھ گھنٹے  میں  ہی کولکتہ بھی پہنچ جائیں گےاور یہ این ڈی اے کے کام کرنے کا طریقہ ہے۔ بہار میں جو ترقی کی گنگا بہنے جا رہی ہے اس کے لیے میں آپ سب کو، بہار کے لوگوں کو  بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

 

ساتھیو،

میرا آج بہار کی سرزمین پر آنا کئی لحاظ سے خاص ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی بہار کے فخر کرپوری ٹھاکر جی کو ملک بھارت رتن دیا ہے۔ یہ اعزاز پورے بہار کا اعزاز ہے، ای سمان سموچے بہار  کئے سمان  ہے۔! ابھی کچھ دن پہلے ایودھیا میں رام للا کے عظیم الشان مندر کی پران پرتشٹھا بھی ہوئی ہے۔ للا ایودھیا میں رام براجمان ہوئے  ہیں، تو  فطری بات  ہے کہ ماں سیتا کی سرزمین پر زیادہ سے زیادہ خوشیاں منائی جائیں گی۔ میں آپ کے ساتھ وہ خوشی بانٹنے آیا ہوں، رام للا کی پران پرتشٹھا کو لے کر بہار جس خوشی میں شرابور ہوا، بہار کے لوگوں نے جیسا جشن  منایا ،اور رام للا کو جو تحفے بھیجے ، میں وہ خوشی آپ سے ساجھا کرنے آیا ہوں۔ اور اس کے ساتھ ہی بہار نے ایک بار پھر ڈبل انجن کی رفتار حاصل کر لی ہے۔ اس لیے بہار اس وقت پورے جوش و خروش میں ہے اورخود اعتمادی سے بھرا ہوا ہے۔ یہ جوش و ولولہ مجھے اپنے سامنے موجود ماؤں، بہنوں، نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد سے ملتا ہے اور جہاں بھی میری نظریں پہنچتی ہیں، آپ لوگ جوش و جذبے سے لبریز اتنی بڑی تعداد میں آشیرواد دینے آئے ہیں۔ آپ کے چہروں پر یہ چمک بہار کو لوٹنے کا  خواب دیکھنے والوں کے چہروں پر  ہوائیاں اڑا رہی ہے۔

ساتھیو!

این ڈی اے کی طاقت میں اضافے کے بعد بہار میں کنبہ پروری کی سیاست حاشیے پر جانے لگی ہے۔ کنبہ پروری  کی سیاست کا ایک المیہ ہے۔ ہمیں اپنے ماں باپ  سے وراثت میں پارٹی اور کرسی تو مل جاتی ہے لیکن ماں باپ کی سرکاروں کے  کام کاج  کا ایک بار بھی ذکر کرنے کی ہمت نہیں پڑتی ہے ۔ یہ ہے کنبہ پرست پارٹیوں کی حالت۔ میں نے سنا ہے کہ ان کی پارٹی کے بڑے بڑے لیڈر بھی اس بار بہار میں لوک سبھا الیکشن لڑنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے ہیں۔ اور میں نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ سب بھاگ رہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ اب وہ لوک سبھا الیکشن نہیں لڑنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ راجیہ سبھا کی سیٹوں کی تلاش میں ہیں۔ عوام ساتھ دینے کو تیار نہیں۔ اور یہ آپ کے یقین، آپ کے حوصلے اور آپ کے عہد کی طاقت ہے۔مودی اسی اعتماد  کے لیے بہار کے عوام کا شکریہ ادا کرنے کے لئے  آیا ہے۔

 

ساتھیو،

ایک دن میں اتنے بڑے پیمانے پر ترقی کی یہ تحریک گواہ ہے کہ ڈبل انجن والی حکومت میں کتنی تیزی سے تبدیلی آتی ہے! آج سڑک اور ہائی وے سے متعلق جو کام کیا گیا ہے اس سے بہار کے کئی اضلاع کی تصویر بدلنے والی ہے۔ گیا، جہان آباد، نالندہ، پٹنہ، ویشالی، سمستی پور اور دربھنگہ کے لوگوں کو جدید نقل و حمل کا بے مثال تجربہ ملے گا۔ اسی طرح بودھ گیا، وشنوپد، راجگیر، نالندہ، ویشالی، پاواپوری، پوکھر اور جہان آباد میں ناگارجن کی  غاروں تک پہنچنا بھی آسان ہوجائےگا۔ بہار کے تمام شہر،تیرتھ اور سیاحت کے بے پناہ امکانات سے جڑے ہوئے ہیں۔ دربھنگہ ہوائی اڈہ اور بہٹا میں بننے والے نئے  ایئرپورٹ کو بھی اس نئے سڑک بنیادی ڈھانچے سے جوڑا جائے گا۔ اس سے باہر سے آنے والوں کو بھی آسانی ہوگی۔

ساتھیو،

ایک وقت تھا جب بہار کےہی  لوگ  اپنے ہی گھروں سے باہر نکلنے کے لئے ڈرتے تھے۔  ایک یہ وہ دور ہے جب بہار میں سیاحت کے امکانات کو فروغ مل رہا ہے۔بہار کو وندے بھارت اور امرت بھارت جیسی جدید ٹرینیں ملیں، امرت اسٹیشن تیار ہو رہے ہیں۔ جب بہار میں پرانے دور تھا، ریاست کو بدامنی، عدم تحفظ اور دہشت کی آگ میں جھونک دیا گیا تھا۔ بہار کے نوجوانوں کو ریاست چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑی۔ اور آج وہ دور ہے جب ہم نوجوانوں کی صلاحیت سازی کرکے ان کی صلاحیتوں کو نکھار رہے ہیں۔ بہار کی دستکاری کو فروغ دینے کے لیے ہم نے 200 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے ایکتا مال کی بنیاد رکھی ہے۔ یہ ہے نئے بہار کی نئی سمت۔ یہ بہار کی مثبت سوچ ہے۔ یہ اس بات کی گارنٹی ہے کہ ہم بہار کو اس پرانے دور میں واپس نہیں جانے دیں گے۔

 

ساتھیو،

بہار تبھی آگے بڑھے گا جب بہار کے غریب آگے بڑھیں گے۔ بہار تبے آگے بڑھتئی جب بہار کے غریب آگے بڑھتن! اسی لیے ہماری سرکار ملک کے ہر غریب، قبائلی، دلت اور محروم طبقات کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں لگی ہوئی ہے۔ بہار کے تقریباً 9 کروڑ مستفیدین کو پی ایم غریب کلیان یوجنا کا فائدہ مل رہا ہے۔ بہار میں اجولا اسکیم کے تحت ایک کروڑ سے زیادہ خواتین کو مفت گیس کنکشن دیے گئے ہیں۔ بہار کے تقریباً 90 لاکھ کسانوں کو پی ایم کسان سمان ندھی کا فائدہ مل رہا ہے۔ ان کسانوں کے بینک کھاتوں میں 22 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم منتقل کی گئی ہے۔ 5 سال پہلے تک بہار کے دیہاتوں میں صرف 2 فیصد گھروں کو نل کا پانی ملتا تھا۔ آج یہاں کے 90 فیصد سے زیادہ گھروں میں نل کا پانی پہنچ رہا ہے۔ بہار میں 80 لاکھ سے زیادہ آیوشمان کارڈ ہولڈر ہیں، جنہیں 5 لاکھ روپے تک مفت علاج کی گارنٹی ملی ہے۔ ہماری سرکار  دہائیوں سے ٹھپ پڑے  شمالی کوئل ْآبی ذخیرہ پروجیکٹ کو جلد مکمل کرنے کے لیے عہد بند ہے۔ اس آبی ذخیرہ سے سے بہار-جھارکھنڈ کے 4 اضلاع میں ایک لاکھ ہیکٹر کھیتوں کی آبپاشی کے لیے پانی دستیاب ہوگا۔

 

ساتھیو،

بہار کی ترقی- یہ مودی کی گارنٹی ہے۔ بہار میں امن و  قانونی نظم و ضبط کا راج - یہ مودی کی گارنٹی ہے۔ بہار میں بہنوں اور بیٹیوں کے حقوق – یہ مودی کی گارنٹی ہے۔ تیسری مدت میں، ہماری سرکار ان گارنٹیوں کو پورا کرنے اور ایک ترقی یافتہ بہار بنانے  کی خاطر کام کرنے کے لیے عہد بندہے۔

آپ سب کو ایک بار پھر بہت بہت مبارک باد۔ آج ترقی کا جشن ہے، میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنا موبائل فون نکالیں، اس کی فلیش لائٹ  آن کریں، اس ترقی کا جشن منائیے، جو دور دور بیٹھے ہوئے لوگ ہیں  وہ سب اپنا موبائل باہر نکال لیں ، اور ترقی کا جشن منائیں۔ میرے ساتھ آپ سب بولیں۔

بھار ت ماتا کی جئے

بھار ت ماتا کی جئے

بھار ت ماتا کی جئے

بہت بہت شکریہ.

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Lok Sabha polls: J&K's Baramulla sees highest voter turnout in over 4 decades

Media Coverage

Lok Sabha polls: J&K's Baramulla sees highest voter turnout in over 4 decades
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi's interview to News X
May 21, 2024

In an interview to News X, Prime Minister Modi addressed the issue of toxic language in elections, explained why the Opposition frequently discussed him, and shared his views on job creation. He criticized the Congress' tax plans and appeasement politics.

Rishabh Gulati: A very warm welcome to the viewers of NewsX and India News. I’m Rishabh Gulati and with me is Aishwarya Sharma of The Sunday Guardian and Rana Yashwant. In today’s special episode, we proudly welcome a renowned ‘rashtra sevak’, and the Prime Minister of India in this Amrit Kaal, Hon’ble Shri Narendra Modi. Mr Prime Minister, you took the time to speak to us, we are very grateful.

Prime Minister: Namaskar, my warm greetings to all your viewers.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, the first question that comes to mind is about the Opposition, and it seems that the biggest item on their poll agenda is Narendra Modi. Why, in your opinion, do they talk so much about Narendra Modi?

Prime Minister: To understand why they discuss Narendra Modi, we must first understand the Opposition. To understand them, one can examine the administration between 2004 and 2014.

The Opposition has not been able to play a strong role. Even as the Opposition, the way they are falling apart, they did not play a constructive role of any kind. Despite deep discussions, they haven’t been able to bring serious issues to the public attention. They thought that by their antics, taking up space in the media, they would be able to keep their boat afloat. Even in this election, I have seen that they make fresh attempts every day to acquire media space, be it by making videos, nonsensical statements, or behaving in a way that people don’t normally behave. So they do this to acquire space in the media. Now abusing Modi is one such antic, where, if nothing else, they are guaranteed publicity. Even a small-time politician, if he bad-mouths me, will get about an hour of media attention. Perhaps they see Modi as a ladder to climb up in their political career.

 

Aishwarya Sharma: Mr Prime Minister, the I.N.D.I. alliance is talking about wealth redistribution. Do you think this is possible, and will the voters of the country be influenced by such a scheme?

Prime Minister: You can’t examine this in isolation. You must look at their overall thought process. When their (Congress) manifesto was released, I had said the manifesto had the imprint of the Muslim League. There was a statement made by Dr Manmohan Singh… I had attended the meeting in which he said that ‘Muslims have the first right to India’s resources.’ Now when I raised this in public, their media ecosystem raised a storm saying that ‘Modi is lying,’. So two days later, I brought Manmohan Singh’s press conference forward and put it in front of them. Then they stopped talking. So this was one example. Now in their Manifesto, they have said that they will give reservation (to Muslims) even when allotting government contracts.

So today, when a bridge is to be built somewhere, what is the criteria for awarding the contract? The company bidding is evaluated based on how resourceful they are, their experience, their capability, their ability to deliver on time, all these things. Now they say that they want to give reservations to the minorities, to the Muslims, in this process as well. It all adds up. Now when they say that they will impose inheritance tax, it means that taxes that go to the government, who will stand to benefit from it? It’s the same people that Manmohan Singh ji talked about. If you join the dots, this is the logic that comes from it. How will the country accept this? Secondly, has any developing country in the world indulged in such madness? Today, India needs to work hard to rise above its problems. We have made this attempt and pulled 25 crore people out of poverty. Where there used to be a few hundred start-ups, there are now over 1.25 lakh start-ups, and there are Unicorns. You must go among the people and work with energy, and that will bring the right result.

 

Rana Yashwant: Mr Prime Minister, the Ram Mandir has been built in Ayodhya, the consecration of Ram Lalla took place and there was joy among the people. In all this, there is Iqbal Ansari, who has fought the legal battle, and is an important person. He comes, holding a placard that says ‘Modi ka Parivaar’. Today, the minority community identifies with your policies and welfare schemes. Your opinion?

Prime Minister: Since you’ve brought up Ram Mandir and Iqbal Ansari, I will narrate an incident. Ram Mandir should have been built right after Independence. In all these years, it wasn’t built because they (Congress) felt it would affect their vote bank. Attempts were made in the Courts till the very end to stop it. It is a fact that Congress hindered the building of the Ram Mandir. Despite this, when the Supreme Court judgment came through, the Court constituted a trust, and the trust members, let go of all past differences and went to invite the Congress Party members to the consecration ceremony. They rejected the invitation. The same people went to invite Iqbal Ansari. The ironic thing is, that Iqbal Ansari, who fought the Babri Masjid case his entire life, respected the Supreme Court’s verdict and attended the ‘Shilanyas’ and the ‘Pran Prathistha’ ceremony as well. This is what I think, as far as Iqbal Ansari is concerned.

Now if you want to talk about secularism, it is my very serious allegation, that for over 75 years, through a very well-crafted conspiracy, a false narrative has been fed to the nation. It has been embedded in the nation from before our birth. Sardar Patel was targeted by this narrative, and maybe, today it may be my turn, tomorrow someone else… Why do they cry out ‘secularism’ over and over again? It’s because they want to divert the world’s attention from their communal activities.

They cry ‘thief’ over and over when they have defrauded the people, and they do this because they think crying ‘thief’ will divert the public’s attention. This is their ploy. I have called them out in front of everyone, that they are the ones who are communal. India’s constitution does not allow you to indulge in such sectarian acts, and I have brought out several such examples, like I mentioned earlier that they called the Muslims the rightful inheritors of India’s wealth. I am exposing them. They (Congress) hide behind their politics of appeasement and instead accuse me of being communal. I am talking about those communal parties that wear the ‘nikab’ of secularism and indulge in hardcore communalism. I find three things common among these people. They are hardcore sectarians, they are extremely casteist, and they are hardcore dynasts. They are so full of these three things that they can’t come out of it.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, you have spoken about lifting 25 crore people out of poverty. 80 crore poor people are receiving ration – it is necessary now and will be so in the future as well. What do you have to say about how crucial it will be in the future?

Prime Minister: When Manmohan Singh ji was the Prime Minister, news was rife with reports of food grains getting spoilt. So, the Supreme Court asked the government as to why the grains were not being distributed among the poor. Manmohan Singh ji, who was the Prime Minister then, stated on record that they could not distribute the grains and that it was impossible to do it. That is the consequence of his thinking. I faced the same issue, especially during COVID-19. My first goal was to ensure that a stove should be lit in every poor household. So, I started working on it. I have stated this for the next five years as well because in the lives of those who come out of poverty…

For example, one returns home from the hospital. The treatment has been done but precaution is necessary. A doctor advises you to take rest for a particular duration after returning home, tells you what to eat and what to refrain from consuming, and what to take care of. Why? The illness has already been addressed, but if anything is jeopardized then the condition of the person would return to what it was. That is why poor people who escape poverty need handholding. They should not return to that state in any condition. Once they escape poverty, they should be empowered to stand strong. In my understanding, in the next five years, those who have escaped poverty should be able to firmly stand on their feet. Any unfortunate incident in their family, should not push them to poverty again. And only then will the country eradicate poverty.

 

Aishwarya Sharma: Mr Prime Minister, our country is the youngest country. Under your tenure, 10 lakh government jobs have been filled. Now, the Opposition has vowed to fill 30 lakh government jobs. In your third term, how do you plan to boost employment opportunities for the youth?

Prime Minister: You must have read the SKOCH report that was released. I hope your TV channel studies the SKOCH report in detail and conducts a TV debate on this. They have analysed some 20 to 22 schemes of the government. They have published statistics about how many person-year-hours have been obtained. They have revealed how many hours it takes to build 4 crore houses and how many people it employs. They have published data for about 22 different parameters.

They have stated that 50 crore people have accrued benefits. Secondly, we brought the Mudra Yojana. We give bank loans without any guarantee. We have disbursed loans worth Rs 23 Lakh Crore. 80% of those who have received these loans are first-timers. Some have started their businesses and have employed a few people in this process. Start-ups used to be in the thousands and now they are in lakhs. People have been employed in this process, right? Consider that a 1000-kilometre road is being built and think about how many jobs are created. So, if a 2000-kilometre road is being built more people will be employed, right? Today, road and rail construction has doubled, electrification has doubled, and mobile towers are reaching every corner of India. All this is being created by people who have received jobs. That is why a lie is being peddled.

 What’s important is that we must move towards creating jobs for ourselves. The youth in this country are in the mood to do something and be productive and we must help them. We must encourage them. Our Mudra Yojana does exactly that. We also run the SVANidhi scheme. There are countless street hawkers, who are poor people. But today, they are taking money from the bank to run their businesses. Due to this, they can save money and expand their business. Earlier, a street hawker would sit on the footpath and now his goal is to buy a lorry. One who would owned a lorry earlier now wishes to provide home delivery services. Their aspirations are rising. This is why I believe that while people receive the benefits of government schemes, which will eventually result in development, we must also focus on several other areas.

 

Rana Yashwant: Prime Minister, your government works on the principle of ‘Sabka Saath, Sabka Vikas’. Beneficiaries avail welfare schemes without any discrimination – caste, religion, or community. Yet, the Opposition maintains that Muslims do not accrue the same benefits from these welfare schemes.

Prime Minister: You are the first person from whom I’ve heard this. The unique aspect of my government, in terms of delivering welfare schemes, has not raised any questions regarding discrimination.

 

Rana Yashwant: The Opposition has to say this.

Prime Minister: Even the Opposition does not say this. You are the first person from whom I’ve heard this. I have never heard this from anybody because everyone knows… and Muslims themselves say that they receive all benefits.

The primary reason is that I have two principles. First, 100% saturation. For example, if poor people must be given houses, complete delivery must take place. If 100% delivery is the goal, then where does the scope of discrimination even arise? Whether it is providing gas connections, building toilets, ensuring tap water connections, I believe in 100% delivery. Yes, some people will receive the benefits in January, some in April and some in November, but the scheme will apply to all and 100%. I believe that true secularism is when 100% delivery is done. Social justice is when 100% is done. So, if my mission is 100% saturation… and nobody has made this charge yet. They don’t have the courage to say it. I have lived in Gujarat as well, and on this topic, nobody can prop up any charges against me.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, you have taken out time to sit with us and relay your ‘Mann Ki Baat’. Thank you so much. Best of luck for the polls ahead.

Prime Minister: I thank you all. I have been campaigning day and night…

 

Rana Yashwant: You are constantly on the move. We see you morning until night on the run…

Rishabh Gulati: Today, you had a big rally at 8 in the morning.

Prime Minister: I started my day at 6 am and went to Jagannath Puri temple to offer my prayers. Since then I have been traveling and have at last got time to meet you.

 

Rana Yashwant: Where ever you go, Jagannath or Kashi, there is a sea of people that comes to greet you. You have experienced it yourself.

Prime Minister: I realise that my responsibilities are now increasing. I also see that the public has taken ownership of elections. Political parties are not fighting the elections. The public has taken ownership of this election. And the results will be as desired by the public.

Thank you!