Awards 100 ‘5G Use Case Labs’ to educational institutions across the country
Industry leaders hail the vision of PM
“The future is here and now”
“Our young generation is leading the tech revolution”
“India is not only expanding the 5G network in the country but also laying emphasis on becoming a leader in 6G”
“We believe in the power of democratization in every sector”
“Access to capital, access to resources and access to technology is a priority for our government”
“India's semiconductor mission is progressing with the aim of fulfilling not just its domestic demands but also the global requirements”
“In the development of digital technology, India is behind no developed nation”
“Technology is the catalyst that expedites the transition from a developing nation to a developed one”
“The 21st century marks an era of India's thought leadership”

اسٹیج پر موجود مرکزی حکومت میں میرے ساتھی، موبائل اور ٹیلی کام انڈسٹری سے وابستہ تمام معززین، باوقار مہمانان، خواتین و حضرات!

انڈیا موبائل کانگریس کے اس ساتویں ایڈیشن میں آپ سب کے درمیان ہونا اپنے آپ میں ایک خوشگوار تجربہ ہے۔ 21ویں صدی کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں یہ انعقاد کروڑوں لوگوں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک وقت تھا، جب ہم مستقبل کی بات کرتے تھے، تواس کا مطلب اگلی دہائی، یا اب سے 20-30 سال بعد کا وقت، یا پھر اگلی صدی ہوتی تھی۔ لیکن آج ٹیکنالوجی میں تیز رفتار تبدیلیوں کی وجہ سے ہر روز ہم کہتے ہیں کہ 'دی فیوچر اِز ہیئر اینڈ ناؤ'، ابھی چند منٹ پہلے، میں نے یہاں نمائش میں کچھ اسٹالز لگے ہوئے دیکھے۔ اس نمائش میں میں نے اسی مستقبل کی ایک جھلک دیکھی۔ ٹیلی کام ہو، ٹیکنالوجی ہو یا کنیکٹیویٹی، 6 جی ہو، اے آئی ہو، سائبر سکیورٹی ہو، سیمی کنڈکٹرز ہو، ڈرون ہو یا خلائی شعبہ ہو، ڈیپ سی ہو، گرین ٹیک ہو یا دیگر شعبے، آنے والا وقت بالکل مختلف ہونے والا ہے۔ اور یہ ہم سب کے لیے خوشی کی بات ہے کہ ہماری نوجوان نسل ملک کے مستقبل کی قیادت کررہی ہے، ہمارے ٹیک انقلاب کی رہنمائی کر رہی ہے۔

 

دوستو،

آپ کو یاد ہوگا، پچھلے سال ہم یہاں 5جی رول آؤٹ کے لیے جمع ہوئے تھے۔ اس تاریخی پروگرام  کے بعد پوری دنیا حیرت زدہ نظروں سے ہندوستان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ آخرکار، دنیا کا سب سے تیز ترین 5جی رول آؤٹ ہندوستان میں ہوا۔ لیکن ہم اس کامیابی کے بعد بھی رکے نہیں۔ ہم نے ہندوستان کے ہر شہری تک 5جی پہنچانے کا کام شروع کیا۔ یعنی ہم 'رول آؤٹ' مرحلے سے 'ریچ آؤٹ' مرحلے تک پہنچ گئے۔

ساتھیو،

5جی کے آغاز کے ایک سال کے اندرہی، ہندوستان میں تقریباً 4 لاکھ 5جی بیس اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ ان سے ملک کے 97 فیصد شہروں  اور 80 فیصد سے زائد آبادی کا احاطہ کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں میڈین موبائل براڈ بینڈ کی رفتار میں پچھلے ایک سال میں تقریباً 3 گنا اضافہ ہوا ہے۔ موبائل براڈ بینڈ کی رفتار کے لحاظ سے ہندوستان کبھی 118 پر تھا، ہم وہیں اٹکے ہوئے تھے ، آج ہم 43 ویں  پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔ ہم نہ صرف ہندوستان میں 5جی کو تیزی سے توسیع کر رہے ہیں بلکہ 6جی کے شعبے میں ایک لیڈر بننے کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں۔ شاید نئی نسل کو معلوم نہیں ہوگا کہ 2جی کے دور میں کیا ہوا تھا۔ لیکن میں اس کا تذکرہ نہیں کروں گا ورنہ شاید میڈیا والے اسی بات کو اٹھا لیں گے اور کچھ نہیں بتائیں گے۔ لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ ہمارے دور میں 4جی  کا دائرہ وسیع ہوا ہے لیکن اس پر ایک دھبہ تک نہیں لگا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اب ہندوستان 6جی میں دنیا کی قیادت کرے گا۔

اور دوستو،

انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور رفتار میں بہتری صرف رینکنگ اور نمبرز کے بارے میں نہیں ہے۔ انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور رفتار میں بہتری زندگی کی آسانی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ جب انٹرنیٹ کی رفتار بڑھ جاتی ہے تو طلباء کے لیے اپنے اساتذہ سے آن لائن رابطہ قائم کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ جب انٹرنیٹ کی رفتار بڑھ جاتی ہے، تو مریضوں کو ٹیلی میڈیسن کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہوئے ایک ہموار تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ جب انٹرنیٹ کی رفتار بڑھ جاتی ہے تو سیاحوں کو کسی مقام  کوتلاش کرنے کے لیے نقشے  کےاستعمال کرنے کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ جب انٹرنیٹ کی رفتار بڑھ جاتی ہے، تو کسان آسانی سے کاشتکاری کی نئی تکنیکوں کو سیکھنے اور سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ رابطے کی رفتار اور دستیابی سماجی اور اقتصادی دونوں لحاظ سے بڑا فرق پیدا کرتی ہے۔

 

دوستو،

ہم ہر شعبے میں ’جمہوریت کی طاقت‘ پر ​​یقین رکھتے ہیں۔ ہندوستان میں ترقی کے ثمرات ہر طبقے، ہر علاقے تک پہنچنے چاہئیں، ہندوستان کے وسائل سے ہر ایک کو فائدہ اٹھانا چاہئے، ہر ایک کو باوقار زندگی ملنی چاہئے، اور ٹیکنالوجی کے فائدے ہر ایک کو ملنے  چاہئے، ہم اس سمت میں تیزی سے کام کر رہے ہیں، اور میرے لئے یہ سب سے بڑا سماجی انصاف ہے۔

شہریوں کے لیے، سرمائے تک رسائی، وسائل تک رسائی، اور ٹیکنالوجی تک رسائی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ چاہے وہ مدرا یوجنا کے تحت بغیر ضمانتی قرضے ہوں، یا سووچھ بھارت کے بیت الخلاء، یا جے اے ایم  تثلیث کے ذریعے براہ راست فائدہ کی منتقلی، ان سب میں ایک چیز مشترک ہے۔ یہ ملک کے عام شہری کو وہ حقوق دے رہے ہیں جو اس کے لیے پہلے حاصل کرنا مشکل تھا۔ اور یقیناً ٹیلی کام ٹیکنالوجی نے اس میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ بھارت نیٹ پروجیکٹ نے اب تک تقریباً 2 لاکھ گرام پنچایتوں کو براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی سے جوڑا ہے۔

ہماری اٹل ٹنکرنگ لیبز کے پیچھے یہی خیال ہے۔ 10 ہزار لیبز کے ذریعے، ہم تقریباً 75 لاکھ بچوں کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے میں کامیاب رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ تعلیمی اداروں میں سو 5جی یوز کیس لیبز شروع کرنے کی آج کی مہم سے بھی ایسا ہی ایک وسیع فائدہ ہونے والا ہے۔ نئی نسل کو جوڑنے کے لیے یہ ایک بڑا اقدام ہے۔ ہمارے نوجوان کسی بھی علاقے سے جتنا زیادہ جڑیں گے، اس علاقے کی ترقی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے اور اس فرد کی ترقی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ یہ لیبز ہندوستان کے نوجوانوں کو بڑے خواب دیکھنے اور انہیں حاصل کرنے کا اعتماد فراہم کرتی ہیں۔ اور مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے نوجوان، اپنی توانائی، اپنے جوش اور جذبے کے ساتھ،   یقینی طور پر آپ کو حیران کر سکتے ہیں۔ کئی بار وہ کسی خاص ٹیکنالوجی کے ساتھ ایسے کام کریں گے، جو اس ٹیکنالوجی کے تخلیق کاروں نے بھی نہیں سوچا ہوگا ۔   ابھی کچھ دن پہلے میں ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا کہ ہمارے ملک کے لوگوں کی سوچ کیا ہے اور ڈرون کا  یہ بھی استعمال  کیا جا سکتا ہے، یہ رامائن ہنومان جی کے لیے سجائی جا رہی تھی،  ہنومان جی کو جڑی بوٹی لانے کے لئے جانا تھا – تو انہوں نے ڈرون پر ہنومان جی کو بھیجا ۔اس لیے یہ مہم ہمارے نوجوانوں میں انوویشن کلچر کو فروغ دینے کی جانب ایک خوش آئند قدم ہے۔

 

دوستو،

پچھلے کچھ سالوں میں، ہمارے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم نے بھی ہندوستان کی سب سے اہم کامیابی کی کہانیوں میں ایک بہت اہم مقام حاصل کیا ہے۔ یہ اسٹارٹ اپ والے یہاں کیا کر رہے ہیں؟ بہت کم وقت میں، ہم نے یونیکورنز کی ایک سنچری لگائی  ہے، اور ہم دنیا کے ٹاپ-3 اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں سے ایک بن گئے ہیں۔   2014 سے پہلے ہندوستان میں چند سو اسٹارٹ اپس تھے، لیکن اب یہ تعداد تقریباً ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بھی بہت اچھی بات ہے کہ انڈیا موبائل کانگریس نے اسٹارٹ اپس کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے لیے ایسپائر (اے ایس پی آئی آر ای) پروگرام شروع کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کا یہ قدم ہندوستان کے نوجوانوں کی بہت مدد کرے گا۔

لیکن دوستو،

اس مرحلے پر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ ہم کتنی دور  تک پہنچے ہیں اور کن حالات میں اب تک پہنچے ہیں۔ آپ کو 10-12 سال پہلے کے موبائل فون یاد ہیں۔ اس زمانے میں پرانے فون کی ا سکرین بار بار  ہینگ ہوجاتی تھی، ایسا ہی ہوتا تھا نا، ذرا بتائیے نا۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ نے اسکرین کو کتنا ہی سوائپ کیا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ نے کتنے بٹن دبائے ہیں، کوئی اثر نہیں ہوا، ٹھیک ہے؟ اور اس وقت کی حکومت کا بھی یہی حال تھا۔ اس وقت ہندوستانی معیشت یا اس وقت کی حکومت خود 'ہینگ اپ' موڈ میں تھی۔ اور حالت اس قدر بگڑ چکے تھے  کہ ری اسٹارٹ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا... بیٹری کو چارج کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا، بیٹری بدلنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا۔ 2014 میں لوگوں نے ایسے پرانے فونز کو ترک کر دیا اور اب ہمیں اپنی  خدمت کا موقع فراہم کیا۔ اس تبدیلی کی وجہ سے جو کچھ ہوا وہ بھی صاف نظر آرہا ہے۔ اس وقت ہم موبائل فون کے درآمدکار تھے، آج موبائل فون کے برآمدکار ہیں۔ اس وقت موبائل مینوفیکچرنگ میں ہماری موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن آج ہم دنیا میں موبائل بنانے والے دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس وقت الیکٹرانک مینوفیکچرنگ کے لیے کوئی واضح وژن نہیں تھا۔ آج ہم الیکٹرانک مینوفیکچرنگ میں تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کا ایکسپورٹ کر رہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ گوگل نے بھی حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے پکسل فون ہندوستان میں بنائے گا۔ سیم سنگ کے 'فولڈ فائیو' اور ایپل کے آئی فون 15 نے پہلے ہی ہندوستان میں مینوفیکچرنگ شروع کر دی ہے۔ آج ہم سب کو فخر ہے کہ پوری دنیا میڈ ان انڈیا فون استعمال کر رہی ہے۔

 

دوستو،

آج موبائل اور الیکٹرانک مینوفیکچرنگ میں اپنی کامیابی کو مزید آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ ٹیک ایکو سسٹم میں ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر دونوں کی کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ہندوستان میں ایک مضبوط سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ سیکٹر بنائیں۔ سیمی کنڈکٹرز کی ترقی کے لیے، حکومت نے پہلے ہی تقریباً اسی ہزار کروڑ روپے کی پی ایل آئی اسکیم شروع کی ہے۔ آج دنیا بھر کی سیمی کنڈکٹر کمپنیوں نے ہندوستانی کمپنیوں کے ساتھ سیمی کنڈکٹر اسمبلی اور جانچ کی سہولیات میں سرمایہ کاری شروع کر دی ہے۔ ہندوستان کا سیمی کنڈکٹر مشن نہ صرف اپنی گھریلو مانگ بلکہ دنیا کی ضروریات کو پورا کرنے کے وژن کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

دوستو،

ترقی پذیر ملک سے ترقی یافتہ ملک تک کے سفر کو اگر کوئی چیز تیز کر سکتی ہے تو وہ ٹیکنالوجی ہے، ہم جتنا زیادہ ملک کی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے، اتنا ہی ترقی کی طرف بڑھیں گے۔ ہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں ایسا ہوتا دیکھ رہے ہیں، جہاں ہندوستان کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے پیچھے نہیں ہے۔ اسی طرح ہر شعبے میں تبدیلی لانے کے لیے ہم اسے ٹیکنالوجی سے جوڑ رہے ہیں۔ ہم شعبوں کے مطابق مختلف پلیٹ فارم بنا رہے ہیں۔ اس طرح کے بہت سے پلیٹ فارم بنائے گئے ہیں جیسے لاجسٹکس کے لئے  پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان،   ہیلتھ کیئر   کے لئے نیشنل ہیلتھ مشن ، ایگری  کلچر کے لئے ایگری اسٹیک۔ حکومت سائنسی تحقیق کوانٹم مشن اور نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ہم دیسی ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو بھی مسلسل فروغ دے رہے ہیں۔ مجھے یہ جان کر بھی خوشی ہوئی کہ انٹرنیشنل ٹیلی کام یونین اور انڈیا موبائل کانگریس مل کر انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ فار ایس ڈی جی کے موضوع پر ایک تقریب کا اہتمام کر رہے ہیں۔

دوستو،

ان تمام کوششوں کے درمیان ایک بہت اہم پہلو ہے جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ یہ سائبر سیکیورٹی اور نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کا پہلو ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ سائبر سیکیورٹی کی پیچیدگی کیا ہے اور اس کے مضر اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔ جی -20 سمٹ میں بھی اسی بھارت منڈپم میں سائبر سیکیورٹی کے عالمی خطرات پر سنجیدہ بحث ہوئی۔ سائبر سیکیورٹی کے لیے پوری مینوفیکچرنگ ویلیو چین میں خود انحصاری بہت اہم ہے۔ ہارڈ ویئر ہو، سافٹ ویئر ہو یا کنیکٹیویٹی، جب ہماری ویلیو چین کی ہر چیز ہمارے قومی ڈومین میں ہو، تو ہمارے لیے اسے محفوظ رکھنا آسان ہو جائے گا۔ اس لیے آج اس موبائل کانگریس میں اس بات پر بھی بحث کی ضرورت ہے کہ ہم کس طرح دنیا کے جمہوری معاشروں کو مصیبت کا شکار ہونے  سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔

 

دوستو،

ہندوستان ایک طویل عرصے سے کئی ٹیکنالوجی کی بسیں مس کررہی ہیں ۔ اس کے بعد وہ وقت بھی آیا جب ہم نے پہلے سے ترقی یافتہ ٹیکنالوجیز میں اپنا ہنر دکھایا۔ ہم نے اپنی آئی ٹی سروس انڈسٹری کو بھی وسعت دینے کے لیے  کوششیں کی ہیں۔ لیکن اب 21ویں صدی کا یہ دور ہندوستان کی سوچ کی قیادت کا دور ہے۔ اور میں یہ سب یہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے اور ان نوجوانوں سے کہہ رہا ہوں جو ہنڈریڈ لیبز کے افتتاح کے موقع پر یہاں آئے ہوئے ہیں۔ اور یقین کرو دوستو جب میں کچھ کہتا ہوں تو وہ کسی گارنٹی سے کم نہیں ہوتی۔ اسی لیے میں تھاٹ لیڈرز والی  بات کر رہا ہوں۔ تھاٹ لیڈرز ایسی نئی جہتیں پیدا کر سکتے ہیں، جن پر دنیا بعد میں عمل کرے گی۔

ہم کچھ ڈومینز میں تھاٹ لیڈرز بھی بن گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، یو پی آئی ہماری تھاٹ لیڈرز  شپ کا نتیجہ ہے، جو آج ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں پوری دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔ آج بھی، دنیا اس پہل کے بارے میں بات کرتی ہے جو ہم نے کووڈ، کووون کے دوران کی تھی۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں ٹیکنالوجی کے بہترین اختیار کرنے والے اور نافذ کرنے والے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے تھاٹ لیڈرز  بھی  تیار کرنے ہیں ۔ ہندوستان میں نوجوان آبادی کی طاقت ہے، متحرک جمہوریت کی طاقت ہے۔

 

میں انڈیا موبائل کانگریس کے لوگوں کو، خاص کر اس کے نوجوان ممبران کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس سمت میں آئیں، آگے بڑھیں، میں آپ کے ساتھ ہوں۔ آج، ایک ایسے وقت میں جب ہم ایک ترقی یافتہ ہندوستان بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں، تھاٹ لیڈرز کے طور پر آگے بڑھنے کی یہ تبدیلی پورے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔

 مجھے یقین  ہے ، اور یہ میرا یقین آپ لوگوں کی صلاحیت  کی وجہ سے ہے۔ مجھے آپ کی طاقت، آپ کی صلاحیت، آپ کی لگن پر بھروسہ ہے اور اسی لیے میں کہتا ہوں کہ ہم یہ کر سکتے ہیں، ہم یہ ضرور کر سکتے ہیں۔ ایک بار پھر، آپ کے لیے بہت سی نیک خواہشات، اور میں ملک کے، دہلی اور آس پاس کے علاقوں کے نوجوانوں سے درخواست کروں گا کہ وہ بھارت منڈپم اور اس نمائش میں آئیں، جو مستقبل میں ٹیکنالوجی، ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ سمجھنے کا موقع کہ یہ زندگی کے نئے شعبوں کو کس طرح چھونے والا ہے۔ میں سب سے درخواست کروں گا، میں حکومت کے تمام محکموں سے بھی درخواست کروں گا کہ ان کی ٹیکنالوجی ٹیمیں بھی یہاں آئیں اور ان  چیزوں کو دیکھیں۔ ایک بار پھر آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات۔

شکریہ

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
How Kibithoo, India’s first village, shows a shift in geostrategic perception of border space

Media Coverage

How Kibithoo, India’s first village, shows a shift in geostrategic perception of border space
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM announces ex-gratia for the victims of Kasganj accident
February 24, 2024

The Prime Minister, Shri Narendra Modi has announced ex-gratia for the victims of Kasganj accident. An ex-gratia of Rs. 2 lakh from PMNRF would be given to the next of kin of each deceased and the injured would be given Rs. 50,000.

The Prime Minister Office posted on X :

"An ex-gratia of Rs. 2 lakh from PMNRF would be given to the next of kin of each deceased in the mishap in Kasganj. The injured would be given Rs. 50,000"