India is committed to promoting global cooperation and engaging local communities towards heritage conservation efforts
“India is so ancient that every point of the present here tells the story of some glorious past”
“Return of ancient heritage artifacts is a display of global generosity and respect for history”
“Maidam, first entry in the UNESCO World Heritage list from Northeast are special due their uniqueness”
“India's heritage is not just a history. India's heritage is also a science”
“The history of India and Indian civilization are much older and broader than the common understanding of history”
“It is India’s clarion call to the world to come together to promote each others’ heritage and amplify the spirit of human welfare”
“India's vision is - development as well as heritage- Vikas bhi Virasat bhi”

مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی ایس جے شنکر جی، گجیندر سنگھ شیخاوت جی، یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آدرے اوزلے جی، میرے کابینہ کے دیگر اراکین راؤ اندرجیت سنگھ جی، سریش گوپی جی اور ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی کے چیئرمین وشال شرما جی، دیگر تمام معززین، خواتین اور حضرات،

آج ہندوستان گرو پورنیما کا مقدس تہوار منا رہا ہے۔ سب سے پہلے میں آپ سب کو اور تمام ہم وطنوں کو علم اور روحانیت کے اس تہوار پر مبارکباد دیتا ہوں۔ ایسے اہم دن پر آج 46ویں ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی کا اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ اور یہ تقریب ہندوستان میں پہلی بار منعقد کی جا رہی ہے، اور فطری طور پر مجھ سمیت تمام ہم وطن اس پر بہت خوش ہیں۔ میں اس موقع پر دنیا بھر سے آنے والے تمام معززین اور مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ خاص طور پر، میں یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آدرے اوزولے کو بھی مبارکباد دیتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ہر عالمی ایونٹ کی طرح یہ ایونٹ بھی ہندوستان میں کامیابی کے نئے ریکارڈ بنائے گا۔

 

ساتھیو،

حال ہی میں میں بیرون ملک سے واپس لائے گئے قدیم ورثے کی نمائش بھی دیکھ رہا تھا۔ گزشتہ برسوںمیں، ہم ہندوستان کے 350 سے زیادہ قدیم ورثے کی اشیا کو واپس لائے ہیں۔ قدیم ورثے کی واپسی عالمی سخاوت اور تاریخ کے احترام کی عکاسی کرتی ہے۔ یہاں کی عمیق نمائش بھی اپنے آپ میں ایک شاندار تجربہ ہے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، اس شعبے میں تحقیق اور سیاحت کے بھی بے پناہ امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔

دوستو،

ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی کا یہ پروگرام ہندوستان کے لیے ایک قابل فخر کارنامہ ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے شمال مشرقی ہندوستان کے تاریخی ‘موئدم‘ کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔ یہ ہندوستان کے 43 ویں عالمی ورثے کامقام  اور شمال مشرقی ہندوستان کا پہلا ورثہ ہوگا جسے ثقافتی عالمی ورثے کا درجہ مل رہا ہے۔ موئدم اپنی خصوصیات کی وجہ سے بہت خاص ہے۔ مجھے یقین ہے کہ عالمی ورثے کی فہرست میں آنے کے بعد ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگا اور اس کی طرف دنیا کی  کشش بڑھے گی۔

 

ساتھیو،

آج کی تقریب میں دنیا کے کونے کونے سے ماہرین تشریف لائے ہیں جو کہ بذات خود اس سربراہی اجلاس کی اہمیت  کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اہتمام ہندوستان کی سرزمین پر ہو رہا ہے جو دنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ ہم نے دیکھا ہے... دنیا میں   وراثتوں کے مختلف مراکز ہیں۔ لیکن ہندوستان اتنا قدیم ہے کہ یہاں موجودہ دور کا  ہر نقطہ کسی نہ کسی شاندار ماضی کی کہانی سناتا ہے۔ دہلی کی مثال لے لیں...دنیا دہلی کو ہندوستان کے دارالحکومت کے طور پر جانتی ہے۔ لیکن، یہ شہر ہزاروں سال پرانے ورثے کا مرکز بھی ہے۔ یہاں آپ کو ہر قدم پر تاریخی ورثہ نظر آئے گا۔ یہاں سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر کئی ٹن وزنی لوہے کا ستون ہے۔ ایک ستون، جو 2 ہزار سال سے کھلے میں کھڑا ہے، آج بھی اس پر زنگ  نہیں لگا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان کی دھات کاری اس وقت بھی کتنی ترقی یافتہ تھی۔ یہ واضح ہے کہ ہندوستان کا ورثہ صرف ایک تاریخ نہیں ہے۔ ہندوستان کا ورثہ ایک سائنس بھی ہے۔

ہندوستان کاورثہ  اعلیٰ درجے کی انجینئرنگ کے شاندار سفر کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ یہاں دہلی سے چند سو کلومیٹر دور  3500 میٹر کی بلندی پر کیدارناتھ مندر واقع ہے۔ آج بھی وہ جگہ جغرافیائی طور پر بھی  اتنی دشوار گزار  ہے کہ لوگوں کو کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے یا ہیلی کاپٹر سے جانا پڑتا ہے۔ وہ جگہ اب بھی کسی بھی تعمیر کے لیے کافی چیلنجنگ ہے... سال کے بیشتر حصے میں برف باری کی وجہ سے وہاں کام کرنا ناممکن ہے۔ لیکن، آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کیدارگھاٹی میں اتنا بڑا مندر آٹھویں صدی میں بنایا گیا تھا۔ اس کی انجینئرنگ میں سخت ماحول اور گلیشیئرز کا پورا دھیان رکھا گیا۔ یہی نہیں مندر میں کہیں بھی مارٹر کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن، وہ مندر اب بھی  اٹل ہے۔ اسی طرح جنوب میں راجہ  چول کےذریعہ تعمیر کردہ برہادیشور مندر کی بھی مثال ملتی ہے ۔ مندر کی تعمیراتی ترتیب، افقی اور عمودی جہتیں، مندر کے مجسمے، مندر کا ہر حصہ اپنے آپ میں ایک عجوبہ معلوم ہوتا ہے۔

 

دوستو،

ریاست گجرات جہاں سے میں آیا ہوں، وہاں دھولاویرا اور لوتھل جیسی جگہیں ہیں۔ دھولاویرا میں 3000 اور 1500 قبل مسیح کے درمیان جس قسم کی شہری منصوبہ بندی موجود تھی… جس طرح کے پانی کے انتظام کے نظام اور انتظامات موجود تھے…  وہ 21 ویں صدی میں بھی ماہرین کو حیران کیے ہوئے ہیں۔ لوتھل میں بھی قلعہ اور زیریں شہر کی منصوبہ بندی… گلیوں اور نالوں کا انتظام… یہ اس قدیم تہذیب کی جدید سطح کو ظاہر کرتا ہے۔

دوستو،

ہندوستان کی تاریخ  اور ہندوستانی تہذیب تاریخ کی عام فہم سے کہیں زیادہ قدیم اور جامع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے نئے حقائق سامنے آ رہے ہیں… جیسے جیسے تاریخ کی سائنسی تصدیق ہو رہی ہے… ہمیں ماضی کو دیکھنے کے لیے نئے زاویے تیار کرنا ہوں گے۔ یہاں موجود عالمی ماہرین کو اتر پردیش کے سینولی میں ملنے والے شواہد کے بارے میں ضرور جاننا چاہیے۔ سینولی کے آثار تانبے کے دور کے ہیں،  لیکن، یہ وادی سندھ کی تہذیب کے بجائے ویدک تہذیب سے مطابقت رکھتے ہیں۔ 2018 میں وہاں سے ایک 4 ہزار سال پرانا رتھ ملا تھا، یہ ‘گھوڑے سے چلنے والا’ تھا۔ یہ تحقیق، یہ نئے حقائق کو سامنے لاتی  ہے کہ ہندوستان کو جاننے کے لیے تصورات سے پاک نئی سوچ کی ضرورت ہے۔ میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ  نئے حقائق کی روشنی میں تاریخ کی جو نئی تفہیم تیار ہورہی ہے، آپ اس کا حصہ بنیں اور اسے آگے بڑھائیں۔

 

دوستو،

ورثہ صرف تاریخ نہیں بلکہ انسانیت کا مشترکہ شعور ہے۔ جب ہم دنیا میں کہیں بھی کوئی ورثہ دیکھتے ہیں تو ہمارا ذہن موجودہ جیو پولیٹیکل فیکٹرز سے اوپر اٹھتا ہے۔ ہمیں ورثے کی اس صلاحیت کو دنیا کی بہتری کے لیے استعمال کرنا ہے۔ ہمیں اپنے ورثے کے ذریعے دلوں کو جوڑنا ہے  اور آج، 46 ویں ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی کی میٹنگ کے ذریعے، یہ پوری دنیا کے لیے ہندوستان کی اپیل ہے... آئیے ہم سب شامل ہوں... ایک دوسرے کے ورثے کو آگے بڑھانے کے لیے... آئیے...  ہم سب شامل ہوں... انسانی فلاح کے جذبے کی توسیع کے لیے! آئیے ہم سب مل کر سیاحت میں اضافہ کریں اور اپنے ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کریں۔

دوستو،

دنیا نے ایک ایسا دور بھی دیکھا ہے جب ترقی کی دوڑ میں ورثے کو نظر انداز کیا جانے لگا تھا۔ لیکن، آج کا دور بہت زیادہ باشعور ہے۔ ہندوستان کا ایک وژن ہے - ترقی کے ساتھ ساتھ ورثہ بھی! پچھلے 10 سالوں میں ایک طرف ہندوستان نے جدید ترقی کی نئی جہتوں کو چھو لیا ہے تو دوسری طرف اس نے ‘وراثت پر فخر’ کرنے کا عہد بھی لیا ہے۔ ہم نے  ورثے کے تحفظ کے لیے بے مثال اقدامات کیے ہیں۔ کاشی میں وشوناتھ کوریڈور ہو، ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر ہو، قدیم نالندہ یونیورسٹی کے جدید کیمپس کی تعمیر ہو، ایسے کئی کام ملک کے کونے کونے میں ہو رہے ہیں۔ وراثت کے حوالے سے ہندوستان کے عزم میں پوری انسانیت کی خدمت کا جذبہ شامل ہے۔ ہندوستانی ثقافت اپنے بارے میں نہیں بلکہ ہم سب کے  بارے میں بات کرتی ہے۔ ہندوستان کا جذبہ ہے - میں نہیں، بلکہ ہم! اس سوچ کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ہندوستان نے ہمیشہ دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے شراکت دار بننے کی کوشش کی ہے۔

 

آج پوری دنیا میں یوگا کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ آج پوری دنیا آیورویدک سائنس کے فوائد حاصل کر رہی ہے۔ یہ یوگا، یہ آیوروید... یہ ہندوستان کا سائنسی ورثہ ہیں۔ پچھلے سال ہم نے  جی- 20 سمٹ کی بھی میزبانی کی تھی۔ اس سربراہی اجلاس کا موضوع  تھا‘ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل’ ۔ ہمیں اس کی تحریک کہاں سے ملی؟ ہمیں اس کی تحریک ’واسودھیو کٹمبکم‘ کے خیال سے ملی ہے۔ ہندوستان خوراک اور پانی کے بحران جیسے چیلنجوں کے لیے  میلیٹس کو فروغ دے رہا ہے… ہماری سوچ ہے – ‘ماتا بھومی: پتروہم پرتھیویا’، یعنی یہ زمین ہماری ماں ہے، ہم اس کے بچے ہیں۔ اس خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے، آج ہندوستان انٹرنیشنل سولر الائنس اور مشن لائف جیسے حل فراہم کر رہا ہے۔

ساتھیو،

ہندوستان بھی عالمی ورثے کے اس تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی وراثت کے ساتھ ساتھ ہم گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں وراثت کے تحفظ میں بھی تعاون کر رہے ہیں۔ کمبوڈیا کے انکور واٹ، ویتنام کے چام مندر، میانمار کے بگان میں استوپ، ہندوستان اس طرح کے بہت سے ورثے کے تحفظ میں مدد کر رہا ہے  اور اس سمت میں آج میں ایک اور اہم اعلان کر رہا ہوں۔ ہندوستان یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مرکز کے لیے ایک ملین ڈالر کا تعاون کرے گا۔ یہ گرانٹ صلاحیت سازی، تکنیکی مدد اور عالمی  ورثے کی جگہوں کے تحفظ میں استعمال کی جائے گی۔ خاص طور پر یہ رقم گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے کارآمد ثابت ہوگی۔ ہندوستان میں نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے ورلڈ ہیریٹیج مینجمنٹ میں ایک سرٹیفکیٹ پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ثقافتی اور تخلیقی صنعت عالمی ترقی میں ایک بڑا عنصر بن جائے گی۔

 

ساتھیو،

آخر میں، میں بیرون ملک سے آنے والے تمام مہمانوں سے ایک اور گزارش کرنا چاہوں گا… آپ کو ہندوستان کی سیر ضرور کرنی چاہیے۔ ہم نے آپ کی سہولت کے لیے آئیکونک ہیریٹیج سائٹس کے لیے ٹور سیریز بھی شروع کی ہے۔ مجھے یقین ہے، یہ تجربات آپ کے سفر کو یادگار بنائیں گے۔ ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی کے اجلاس کے لیے ایک بار پھر آپ سب کے لیے نیک خواہشات۔ آپ کا بہت بہت شکریہ، نمستے۔

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s manufacturing push: Govt identifies 100 products for Made-In-India boost

Media Coverage

India’s manufacturing push: Govt identifies 100 products for Made-In-India boost
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Visit of Prime Minister to UAE, Netherlands, Sweden, Norway, and Italy (May 15 - 20, 2026)
May 11, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi will pay an official visit to the United Arab Emirates on May 15, 2026, where he will meet the President of the UAE, His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan. The two leaders will have the opportunity to exchange views on bilateral issues, in particular energy cooperation, as well as regional and international issues of mutual interest. They will also discuss ways to advance the bilateral Comprehensive Strategic Partnership underpinned by strong political, cultural, economic and people-to-people links. The visit will serve to promote the significant trade and investment linkages between the two countries. The UAE is India’s third largest trade partner and its seventh largest source of investment cumulatively over the past 25 years. With the UAE hosting over 4.5 million - strong Indian community, the visit will also be an opportunity to discuss their welfare.

For the second leg of his visit, at the invitation of the Prime Minister of the Netherlands, H.E. Mr. Rob Jetten, Prime Minister Modi will pay an official visit to the Netherlands from May 15-17, 2026. This will be Prime Minister’s second visit to the Netherlands after his previous visit in 2017. During the visit, Prime Minister will call on Their Majesties King Willem-Alexander and Queen Máxima, and hold talks with Prime Minister Rob Jetten. Prime Minister’s visit will build on the momentum of high-level engagements and close cooperation spanning diverse sectors, including defence, security, innovation, green hydrogen, semiconductors and a Strategic Partnership on Water. Prime Minister’s visit early in the tenure of the new Government will provide an opportunity to further deepen and expand the multifaceted partnership. Netherlands is one of India's largest trade destinations in Europe, with bilateral trade worth USD 27.8 billion (2024-25); and India's 4th largest investor with cumulative FDI of USD 55.6 billion.

For the third leg of the visit, at the invitation of the Prime Minister of the Kingdom of Sweden, H.E. Mr. Ulf Kristersson, Prime Minister will travel on 17-18 May 2026 to Gothenburg, Sweden. Prime Minister had earlier visited Sweden in 2018 for the first-ever India-Nordic Summit. PM Modi will hold bilateral talks with PM Kristersson to review the entire gamut of bilateral relations and explore new avenues of cooperation to enhance bilateral trade, which has reached USD 7.75 billion (2025), and Swedish FDI into India which has reached USD 2.825 billion (2000 – 2025), as well as collaboration in green transition, AI, emerging technologies, startups, resilient supply chains, defence, space, climate action and people-to-people ties. The two Prime Ministers will also address the European Round Table for Industry, a leading pan-European business leaders forum, along with H.E. Ms. Ursula von der Leyen, President of the European Commission.

In the fourth leg of his visit, Prime Minister will pay an official visit to Norway from 18 - 19 May 2026 for the 3rd India-Nordic Summit and bilateral engagements. This will be the first visit of Prime Minister Modi to Norway, and will mark the first Prime Ministerial visit from India to Norway in 43 years. Prime Minister will call on with Their Majesties King Harald V and Queen Sonja, and hold bilateral talks with Prime Minister H.E. Mr. Jonas Gahr Støre. Prime Minister will also address the India-Norway Business and Research Summit along with the Norwegian Prime Minister. The visit will provide an opportunity to review the progress made in India-Norway relations and explore avenues to further strengthen them, with a focus on trade and investment, capitalizing on the India – EFTA Trade and Economic Partnership Agreement, as well as on clean & green tech and blue economy. The visit will also be an opportunity to induce momentum in bilateral trade worth around USD 2.73 billion (2024), and investments by Norway’s Government Pension Fund (GPFG) of close to USD 28 billion in the Indian capital market.

The 3rd India-Nordic Summit will take place in Oslo on 19 May 2026. Prime Minister Shri Narendra Modi will be joined by the Prime Minister of Norway, H.E. Mr. Jonas Gahr Støre; Prime Minister of Denmark, H.E. Ms. Mette Frederiksen; Prime Minister of Finland, H.E. Mr. Petteri Orpo; Prime Minister of Iceland, Ms. Kristrún Frostadóttir; and Prime Minister of Sweden, Mr. Ulf Kristersson for the Summit. The Summit will build upon the two previous Summits held in Stockholm in April 2018 and in Copenhagen in May 2022, and will impart a more strategic dimension to India’s relationship with the Nordic countries, especially in technology and innovation; green transition and renewable energy; sustainability; blue economy; defence; space and the Arctic. The visit will also provide an impetus to India’s bilateral trade (USD 19 billion in 2024) and investment ties with Nordic countries as well as help build resilient supply chains following the India-EU FTA and India-EFTA TEPA.

In the final leg of his visit, at the invitation of Prime Minister of the Italian Republic, H.E. Ms. Giorgia Meloni, Prime Minister will undertake an official visit to Italy from 19–20 May 2026. Prime Minister had last visited Italy in June 2024 for the G7 Summit. During the visit, he will call on the President of the Italian Republic, H.E. Mr. Sergio Mattarella and hold talks with Prime Minister Meloni. The visit takes place in the backdrop of a strong momentum in bilateral ties with both sides proactively implementing the Joint Strategic Action Plan 2025-2029, a comprehensive road map for cooperation in various sectors including in bilateral trade which reached USD 16.77 in 2025; boosting investment, which has recorded a cumulative FDI of USD 3.66 billion (April 2000-September 2025); defence and security; clean energy; innovation; science and technology; and people - to - people ties.

Prime Minister’s upcoming visit will further deepen India’s partnership with Europe across sectors, particularly trade and investment ties in light of the recently concluded India-EU FTA.