کاشی کو علم، فرض اور سچائی کا خزانہ کہا جاتا ہے اور یہ حقیقت میں ہندوستان کا ثقافتی اور روحانی دارالحکومت ہے
ہمیں ہندوستان میں اپنی ابدی اور متنوع ثقافت پر بہت فخر ہے۔ ہم اپنے غیر محسوس ثقافتی ورثے کو بھی بہت اہمیت دیتے ہیں
”یوگے یوگین بھارت“ نیشنل میوزیم مکمل ہونے پر دنیا کے سب سے بڑے میوزیم کے طور پر پہچانا جائے گا جس میں ہندوستان کی 5000 سال پر محیط تاریخ اور ثقافت کی نمائش ہوگی
کسی ملک کا ورثہ نہ صرف مادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے بلکہ یہ ملک کی تاریخ اور شناخت بھی ہے
وراثت معاشی ترقی اور تنوع کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے، اور اس کی بازگشت ہندوستان کے ’وکاس بھی وراثت بھی‘ کے منتر میں ملتی ہے
ہندوستان کا نیشنل ڈیجیٹل ڈسٹرکٹ ریپوزٹری جدوجہد آزادی کی کہانیوں کو دوبارہ دریافت کرنے میں مدد کر رہا ہے
ورکنگ گروپ چار C - ثقافت، تخلیقی صلاحیت، تجارت اور تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے

نمسکار!

وارانسی میں میں آپ کا استقبال ہے، جسے کاشی بھی کہا جاتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ وارانسی میں اجلاس کر رہے ہیں، جو میرا پارلیمانی حلقہ ہے۔ کاشی صرف دنیا کا قدیم ترین زندہ شہر نہیں ہے۔ یہاں سے کچھ دور سارناتھ ہے، جہاں بھگوان بدھ نے اپنا پہلا خطبہ دیا تھا۔ کاشی کو ’علم، مذہب، اور سچائی‘ کا شہر کہا جاتا ہے - علم، فرض اور سچائی کا خزانہ۔ یہ واقعی ہندوستان کا ثقافتی اور روحانی دارالحکومت ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ نے اپنے پروگرام میں گنگا آرتی دیکھنے، سارناتھ جانے اور کاشی کے پکوانوں کا ذائقہ چکھنے کے لیے کچھ وقت رکھا ہوگا۔

معزز حاضرین،

ثقافت متحد ہونے کی فطری صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ہمیں متنوع پس منظر اور نقطہ نظر کو سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔ اور اس لیے آپ کا کام پوری انسانیت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہندوستان میں ہمیں اپنی ابدی اور متنوع ثقافت پر بہت فخر ہے۔ ہم اپنے غیر محسوس ثقافتی ورثے کو بھی بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ہم اپنے ورثے کے مقامات کے تحفظ اور احیا کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے ثقافتی اثاثوں اور فنکاروں کی نقشہ سازی کی ہے، نہ صرف قومی سطح پر، بلکہ ہندوستان کے تمام گاؤں کی سطح پر بھی۔ ہم اپنی ثقافت کا جشن منانے کے لیے کئی مراکز بھی بنا رہے ہیں۔ ان میں سب سے اہم ملک کے مختلف حصوں میں قبائلی عجائب گھر ہیں۔ یہ عجائب گھر ہندوستان کی قبائلی برادریوں کی متحرک ثقافت کی نمائش کریں گے۔ نئی دہلی میں ہمارے پاس پرائم منسٹرز میوزیم ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی ایک کوشش ہے جو ہندوستان کے جمہوری ورثے کو ظاہر کرتی ہے۔ ہم ’یوگے یوگین بھارت‘ نیشنل میوزیم بھی بنا رہے ہیں۔ ایک بار مکمل ہونے کے بعد، یہ دنیا کے سب سے بڑے میوزیم کے طور پر پہچانا جائے گا۔ یہ 5000 سال پر محیط ہندوستان کی تاریخ اور ثقافت کو ظاہر کرے گا۔

معزز سامعین،

ثقافتی املاک کی بحالی کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ اور میں اس سلسلے میں آپ کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ بالآخر، زر خیز ورثہ صرف مادی قدر نہیں ہے۔ یہ کسی قوم کی تاریخ اور شناخت بھی ہے۔ ہر ایک کو اپنے ثقافتی ورثے تک رسائی اور اس سے لطف اندوز ہونے کا حق ہے۔ 2014 سے، ہندوستان ایسے سینکڑوں نوادرات واپس لایا ہے جو ہماری قدیم تہذیب کی شان کو ظاہر کرتے ہیں۔ میں ’زندہ ورثہ‘ کے لیے آپ کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ’کلچر فار لائف‘ میں آپ کے تعاون کی بھی ستائش کرتا ہوں۔ یقینی طور پر، ثقافتی ورثہ صرف وہ نہیں ہے جو پتھر میں تراشا جاتا ہے۔ یہ روایات، رسم و رواج اور تہوار بھی ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی کوششیں پائیدار طریقوں اور طرز زندگی کو فروغ دیں گی۔

حضرات،

ہم سمجھتے ہیں کہ ورثہ اقتصادی ترقی اور تنوع کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے۔ اس کی گونج ہمارے منتر، ’وکاس بھی وراثت بھی‘- ترقی کے ساتھ ساتھ ورثہ میں سنائی دیتی ہے۔ ہندوستان کو اپنے 2,000 سال پرانے دستکاری ورثے پر فخر ہے، جس میں تقریباً 3,000 منفرد فنون اور دستکاریاں موجود ہیں۔ ہمارا ’ایک ضلع، ایک پروڈکٹ‘ اقدام خود انحصاری کو فروغ دیتے ہوئے ہندوستانی دستکاری کی انفرادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ثقافتی اور تخلیقی صنعتوں کے فروغ کے لیے آپ کی کوششیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ جامع اقتصادی ترقی میں سہولت فراہم کرے گا، اور تخلیقی صلاحیتوں اور اختراعات کی حمایت کرے گا۔ آنے والے مہینے میں، ہندوستان پی ایم وشوکرما یوجنا شروع کرنے جا رہا ہے۔ آٹھ بلین ڈالر کے ابتدائی اخراجات کے ساتھ، یہ روایتی کاریگروں کے لیے تعاون کا ایک ماحولیاتی نظام بنائے گا۔ یہ انہیں اپنے دستکاری میں پنپنے کے قابل بنائے گا اور ہندوستان کے شاندار ثقافتی ورثے کے تحفظ میں اپنا تعاون کرے گا۔

دوستوں،

ثقافت کا جشن منانے میں ٹیکنالوجی کو ایک اہم حیثیت حاصل ہے۔ ہندوستان میں، ہمارے پاس ایک نیشنل ڈیجیٹل ڈسٹرکٹ ریپوزٹری ہے۔ اس سے ہماری آزادی کی جدوجہد کی کہانیوں کو دوبارہ دریافت کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ ہم اپنے ثقافتی ورثے کے بہتر تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنے ثقافتی مقامات کو مزید سیاحوں کے لیے موافق بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔

معزز حاضرین،

مجھے خوشی ہے کہ آپ کے گروپ نے ’ثقافت سبھی کو متحد کرتی ہے‘ مہم شروع کی ہے۔ یہ واسودھیو کٹمبکم کی روح کو ظاہر کرتی ہے - ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل۔ میں اس اہم کردار کی بھی تعریف کرتا ہوں جو آپ ٹھوس نتائج کے ساتھ جی 20 ایکشن پلان کی تشکیل کے لیے ادا کر رہے ہیں۔ آپ کا کام چار C کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے – ثقافت (کلچر)، تخلیقی صلاحیت (کریئٹیویٹی)، تجارت (کامرس) اور تعاون (کولابریشن)۔ یہ ہمیں ایک ہمدرد، جامع اور پرامن مستقبل کی تعمیر کے لیے ثقافت کی طاقت کو بروئے کار لانے کے قابل بنائے گا۔ میری خواہش ہے کہ آپ سب کی ملاقات بہت نتیجہ خیز اور کامیاب ہو۔

آپ سب کا شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Semiconductors to clean energy: Inside PM Modi’s high-profile meeting with 16 Dutch CEOs in The Hague

Media Coverage

Semiconductors to clean energy: Inside PM Modi’s high-profile meeting with 16 Dutch CEOs in The Hague
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister and Prime Minster of Sweden exchange special gifts celebrating the shared cultural legacy of Rabindranath Tagore
May 17, 2026

The Prime Minister of Sweden, H.E. Mr. Ulf Kristersson and Prime Minister Shri Narendra Modi exchanged special commemorative gifts to celebrate the legacy of Nobel Laureate Gurudev Rabindranath Tagore.

The gift from Prime Minister Kristersson comprised a box containing two replicas of hand-written epigrams by Gurudev Rabindranath Tagore, accompanied by a small explanatory text and a photograph of Gurudev Tagore taken in 1921 during his visit to Uppsala University. The originals, recently discovered in the Swedish National Archives, were created by Gurudev Tagore during his visits to Sweden in 1921 and 1926.

Prime Minister Modi presented to Prime Minster Kristersson a set of collected works of Rabindranath Tagore, along with a specially handcrafted bag from Shantiniketan with motifs that Gurudev chose to empower local artisans. The bag symbolizes Tagore’s philosophy that art is not meant to be confined to galleries, but to breathe life into everyday objects, bridging the gap between the intellectual and the functional.

Although Gurudev Tagore could not travel to Sweden in 1913 to receive the Nobel Prize, he was received by King Gustav V when he visited Sweden in 1921. These gifts symbolize the shared cultural and intellectual heritage between India and Sweden, and pay tribute to the enduring legacy of Rabindranath Tagore. The exchange of gifts also coincides with the centenary of Gurudev’s historic visit to Sweden in 1926.