کوکراجھار کا شاندار بوڈو ثقافت سے گہرا تعلق ہے: وزیر اعظم
ان ترقیاتی پروجیکٹوں کا مقصد خطے کی نمو کو تقویت بہم پہنچانا ہے: وزیر اعظم
آج بوڈولینڈ نے امن اور ترقی کے راستے پر قدم بڑھا دیے ہیں؛ آسام امن اور خوشحالی کا نیا باب رقم کر رہا ہے: وزیر اعظم
ہماری حکومت نے اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ بوڈو برادری کا عقیدہ اور روایات کو عالمی سطح پر احترام حاصل ہو؛ بوڈو برادری کے روایتی عقیدے، باتھو کو بہت احترام دیا گیا ہے: وزیر اعظم
ہمیں آسام کی ترقی کی رفتار کو جاری رکھنا ہوگا، آسام کے عوام کے آشیرواد سے ’وکست آسام‘ کا عزم ضرور پورا ہوگا: وزیر اعظم

کھلومبائی کوکراجھار!

میرے عزیز ساتھیو!

خراب موسم کی وجہ سے میں کوکراجھار نہیں آ سکا۔ اس کے لیے میں آپ سب سے معذرت خواہ ہوں۔ یہاں گوہاٹی سے ہی آپ سے رابطہ ممکن ہو سکا ہے۔ میں آپ سے ملنے کے لیے دہلی سے روانہ ہوا تھا، لیکن مجھے گوہاٹی ہی میں اترنا پڑا۔ اب میں یہیں سے آپ کو دیکھ بھی رہا ہوں اور آپ سے گفتگو بھی کر رہا ہوں۔

اس پروگرام سے وابستہ آسام کے وزیرِ اعلیٰ بھائی ہمنتا بسوا سرما جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی سربانند سونووال جی، بوڈولینڈ ٹیریٹوریل کونسل کے چیف ایگزیکٹو ممبر ہاگراما موہیلاری جی، ہمارے ساتھ موجود آسام کے گورنر لکشمن پرساد آچاریہ جی، آسام حکومت کے معزز وزراء، ارکانِ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی، بی ٹی سی کے تمام نمائندگان، معاشرے کے معزز بزرگوں اور میرے پیارے بھائیو اور بہنو!

سب سے پہلے میں بودوفا اوپیندرناتھ برہما جی، روپناتھ برہما جی اور اس سرزمین کی دیگر عظیم شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ جہاں تک میری نظر جا رہی ہے، لوگوں کا ایک سمندر نظر آ رہا ہے۔ بڑی تعداد میں ہماری مائیں اور بہنیں بھی اپنی دعائیں اور آشیرواد دینے کے لیے آئی ہوئی ہیں۔ آپ اتنی بڑی تعداد میں یہاں جمع ہوئے ہیں۔

 

آپ کا یہ پیار میرے لیے ایک قرض کی طرح ہے۔ اور میں ہمیشہ کوشش کرتا رہا ہوں کہ اس قرض کو آپ کی خدمت کر کے ادا کروں، اس خطے کی ترقی کے لیے کام کر کے ادا کروں۔

ساتھیو!

چند ہفتے پہلے میں گوہاٹی میں تھا۔ وہاں مجھے باگورومبا دہو کے شاندار جشن میں شرکت کرنے اور بوڈو ثقافت کی خوبصورتی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت فخر محسوس ہوتا ہے کہ بوڈو سماج نے اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنی روایات کو بڑی محبت اور ذمہ داری کے ساتھ سنبھال کر رکھا ہے۔

چاہے باتھوؤ کی روحانی روایت ہو یا بیساغو کا تہوار—یہ سب چیزیں بھارت کی ثقافتی طاقت کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔

ساتھیو!

بھارتیہ جنتا پارٹی اور این ڈی اے کی ڈبل انجن حکومت بھی آسام کی تہذیبی وراثت کے تحفظ اور آسام کی تیز رفتار ترقی، دونوں کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ آج اسی پروگرام میں اس علاقے کی ترقی کے لیے ساڑھے چار ہزار کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے اور کئی منصوبوں کا افتتاح بھی کیا گیا ہے۔ ان میں سے گیارہ سو کروڑ روپے سے زائد رقم صرف بوڈولینڈ کی سڑکوں کی تعمیر اور بہتری پر خرچ کی جائے گی۔

آسام مالا مہم کے تیسرے مرحلے سے آسام کی سڑکوں کا رابطہ نظام مزید مضبوط ہوگا۔

ساتھیو!

کچھ دیر پہلے مجھے کاماکھیا–چارلاپلّی امرت بھارت ایکسپریس اور گوہاٹی–نیو جلپائی گوڑی ایکسپریس کو ہری جھنڈی دکھانے کا بھی موقع ملا ہے۔ ان تمام منصوبوں سے نہ صرف آپ کو سہولتیں ملیں گی بلکہ تجارت اور سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ اس سے کسانوں کی پیداوار بڑی منڈیوں تک آسانی سے پہنچ سکے گی۔ میں آپ سب کو ان ترقیاتی منصوبوں کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو!

کوکراجھار سمیت اس پورے علاقے نے گزشتہ دہائیوں میں بہت کچھ برداشت کیا ہے اور بہت کچھ کھویا بھی ہے۔ ہم نے وہ مشکل دور بھی دیکھا ہے جب ان پہاڑیوں میں صرف بموں اور بندوقوں کی آوازیں گونجتی تھیں۔ لیکن آج منظر بدل رہا ہے۔ آج یہی پہاڑیاں کھام کی تھاپ اور سیفونگ کی مدھر دھنوں سے گونج رہی ہیں۔ آج بوڈولینڈ امن اور ترقی کے راستے پر گامزن ہو چکا ہے۔ آج آسام امن اور ترقی کا ایک نیا باب رقم کر رہا ہے۔

 

ساتھیو!

آج یہاں بی ٹی آر (بوڈولینڈ ٹیریٹوریل ریجن) کے تحت چھ اہم سڑک منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس علاقے کی ریلوے رابطہ سہولت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی بڑے اقدامات کیے گئے ہیں۔ یہاں قائم ہونے والی ریلوے ورکشاپ اس علاقے کو لاجسٹکس کا ایک بڑا مرکز بنانے والی ہے۔ بھوٹان کو جوڑنے والی ریلوے لائن پر بھی کام جاری ہے اور کئی ریلوے اسٹیشنوں کو جدید بنایا جا رہا ہے۔ اب وندے بھارت اور راجدھانی ایکسپریس جیسی ٹرینیں بھی کوکراجھار میں رکتی ہیں، جو بوڈولینڈ کے بہتر رابطہ نظام کا ثبوت ہے۔ ایسے منصوبوں کی بدولت کوکراجھار تجارت کا ایک بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔

ساتھیو!

میں ہاگراما موہیلاری جی کی ٹیم اور ہمنتا جی کی پوری ٹیم کو ترقیاتی کاموں کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو!

کئی دہائیوں تک بوڈولینڈ کا یہ علاقہ کانگریس کی بے وفائی اور وعدہ خلافی کا گواہ رہا ہے۔ بوڈولینڈ کی کئی نسلوں کو کانگریس نے جھوٹے خوابوں میں الجھائے رکھا۔ دہلی میں بیٹھی کانگریس کی حکومتوں نے صرف دکھاوے کے لیے کاغذی معاہدے کیے۔

ساتھیو!

جب آپ نے ملک اور آسام دونوں جگہوں سے کانگریس کو ہٹا کر بی جے پی اور این ڈی اے کو موقع دیا تو ہم نے خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ کوششیں شروع کیں۔ جہاں کانگریس اپنی مفاد پرستانہ سیاست کے لیے مختلف برادریوں میں تفرقہ پیدا کرتی تھی، وہیں بی جے پی نے مستقل امن کے قیام کے لیے کام کیا۔ اسی سوچ کے تحت بوڈو امن معاہدہ کیا گیا۔ اس معاہدے میں پہلی بار تمام بڑے تنظیموں اور گروہوں کو ایک ساتھ لایا گیا۔

 

ساتھیو!

کانگریس کی ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ جھوٹے وعدوں کی دکان ہے۔ وہ ایک وعدہ کرتی ہے اور اس کے ساتھ چار بڑے جھوٹ مفت میں پیش کر دیتی ہے، کیونکہ ان وعدوں کو پورا کرنے کا اس کا کوئی ارادہ ہی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس آپ کے سامنے بی جے پی اور این ڈی اے کا ماڈل ہے۔ ہماری ڈبل انجن حکومت نے جو بھی کہا اسے پورا کرنے کی دیانت دارانہ کوشش کی ہے۔ اور یہ صرف آج کی بات نہیں ہے۔

سن 2003 میں جب دہلی میں این ڈی اے کی حکومت تھی اور اٹل بہاری واجپئی جی اس کی قیادت کر رہے تھے، تب بھی ہم نے پوری ایمانداری سے کام کیا۔ اسی دور میں سکسٹھ شیڈول کے تحت بی ٹی سی (بوڈولینڈ ٹیریٹوریل کونسل) کی تشکیل ہوئی، جس سے بوڈولینڈ کی ترقی کو نئی طاقت ملی۔ یہاں بوڈولینڈ یونیورسٹی قائم ہوئی، سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بنا، انجینئرنگ کالج قائم ہوا اور اس طرح کے کئی اہم منصوبے اس علاقے میں آئے۔

ساتھیو!

سن 2020 کے معاہدے کے تحت ہم نے جو وعدے کیے تھے، وہ ایک ایک کر کے تیزی سے پورے کیے جا رہے ہیں۔ بوڈو زبان کو معاون سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ بوڈولینڈ کے لیے 1500 کروڑ روپے کا خصوصی ترقیاتی پیکج دیا گیا۔ آج کوکراجھار میں میڈیکل کالج کام کر رہا ہے اور تمول پور میں ایک نیا میڈیکل کالج تعمیر ہو رہا ہے۔ یہاں کئی نئے پل بن رہے ہیں۔

 

آج وہ تقریباً دس ہزار نوجوان جنہوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، انہیں قومی دھارے سے جوڑ کر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ وہ مائیں آج ہمیں دعائیں دے رہی ہیں جن کے بیٹے اب گھر واپس آ گئے ہیں اور اپنے خاندان کے ساتھ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔

ساتھیو!

ہماری حکومت نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ بوڈو سماج کے عقیدے اور روایات کو قومی سطح پر مناسب احترام حاصل ہو۔ بوڈو سماج کے روایتی مذہبی عقیدے باتھوؤ کو بھی خصوصی عزت دی گئی ہے اور عبادت گاہوں کی ترقی کے لیے خصوصی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ساتھیو!

کانگریس کا ایک اور بڑا گناہ ہے جس نے ملک اور آسام کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اس نے روٹی، بیٹی اور مٹی—تینوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کانگریس کا ہاتھ ہمیشہ سے دراندازوں کے ساتھ رہا ہے اور آج بھی ہے۔ کانگریس نے کئی دہائیوں تک یہاں کے مقامی باشندوں کو زمین کے قانونی کاغذات تک نہیں دیے۔ اس نے قبائلیوں کی بڑی مقدار میں زمین دراندازوں کے حوالے کر دی۔

دھوبری اور گولپارا جیسے اضلاع میں تو حالات انتہائی سنگین ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ سے بوڈولینڈ میں آبادی کا توازن بگڑنے لگا تھا اور سماجی مسائل پیدا ہونے لگے تھے۔ مجھے اطمینان ہے کہ ہمنتا جی کی قیادت میں آسام میں دراندازوں کے قبضے سے زمین واپس لینے کی ایک بڑی مہم جاری ہے۔ یہاں بی جے پی–این ڈی اے حکومت نے آسام کے اصل باشندوں کو زمین کے قانونی دستاویزات بھی فراہم کیے ہیں۔

میں قبائلی برادری کا بھی دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ آج میں آپ سے اپیل کرنے آیا ہوں کہ آنے والے انتخابات میں کانگریس کو سخت سے سخت سزا دیں اور ایک واضح پیغام دیں کہ اب دراندازوں کے لیے اس ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ آسام سے اٹھنے والا پیغام پورے ملک کی آواز بن جائے گا۔

ساتھیو!

ہمیں آسام کی ترقی کی رفتار کو مسلسل تیز کرتے رہنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آسام کے عوام کی دعاؤں اور حمایت سے ترقی یافتہ آسام کا عزم ضرور پورا ہوگا۔ اسی یقین کے ساتھ میں آپ سب کو ایک بار پھر ان ترقیاتی منصوبوں کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ۔

نمستے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India identifies 102 GWp floating solar potential, eyes new push for reservoir-based projects

Media Coverage

India identifies 102 GWp floating solar potential, eyes new push for reservoir-based projects
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 11th Governing Council Meeting of NITI Aayog
June 11, 2026
Vision of Viksit Bharat should become the collective resolve of every State, district, block and village: PM
PM calls India's 70 crore youth its asset, urges States to transform this Demographic dividend into Development dividend
PM encourages States to create opportunities for youth and MSMEs and actively attract investments from countries with which India has signed FTAs
States to strengthen ODOP and leverage opportunities in defence manufacturing: PM
PM emphasizes that AI should be viewed as an opportunity and people should be equipped with future ready skills
PM highlights the need for coordinated efforts to address emerging social challenges such as drug abuse and cyber fraud
PM draws attention to concerns arising from El Niño and urges States to conserve water and promote natural farming
CMs/LGs/Administrators congratulate PM Modi on completing 12 years in office
States express solidarity with the Centre to withstand the global geo-political crisis and to strengthen India’s resilience
All States and 5 UTs attend meeting; first time when CMs of all 28 States participate
Theme of meeting : Inclusive Human Development for Viksit Bharat@2047

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 11th Governing Council Meeting of NITI Aayog at Rashtrapati Bhavan Cultural Centre, New Delhi, earlier today. This year’s theme was Inclusive Human Development for Viksit Bharat@2047. It was attended by Chief Ministers, Lt. Governors and Administrators representing 28 States and 5 UTs. This was the first time when Chief Ministers of all 28 States participated in the Governing Council Meeting of NITI Aayog.

Prime Minister noted that at a time when many major economies are facing uncertainty and economic challenges, India’s growth story continues to inspire the world. He emphasized the need to further strengthen the nation’s resolve towards self-reliance and highlighted the importance of adopting and implementing global best practices, particularly in the renewable energy sector.

Underscoring the importance of cooperative federalism, Prime Minister stated that the Centre and the States must work together to achieve the goal of a Viksit Bharat. He stressed that the vision of Viksit Bharat should become the collective resolve of every State, district, block and village.

Highlighting the strength of India’s demographic profile, Prime Minister observed that the country’s youth constitute its greatest asset, with nearly 70 crore Indians below the age of 25 years. Calling this a demographic dividend, he urged States to focus on transforming it into a development dividend through education, skilling and capacity-building initiatives that prepare young people for future opportunities and challenges.

Referring to India’s recently concluded trade agreements with several countries, Prime Minister encouraged States to create opportunities for youth and MSMEs and to equip stakeholders to effectively leverage the benefits arising from these agreements. He also urged States to actively attract investments from partner countries.

Emphasizing women-led development, Prime Minister called upon States to work towards increasing the number of Lakhpati Didis from 3 crore to 6 crore and stressed the importance of ensuring a safe and secure environment for Nari Shakti.

Prime Minister urged States to focus on One District One Product (ODOP) initiatives and develop export-oriented strategies around it. He also identified defence manufacturing as an emerging sector where India is establishing a distinct identity and encouraged States to formulate policies to leverage the opportunities arising from its growth.

Prime Minister highlighted the need for coordinated efforts to address emerging social challenges such as drug abuse and cyber fraud through preventive measures, awareness campaigns and effective governance.

Prime Minister also drew attention to concerns arising from El Niño conditions and appealed to States to promote water conservation and encourage natural and organic farming practices. He noted that the purchase of 11 lakh tonnes of organic manure by farmers during the current Kharif season reflected growing confidence in sustainable agriculture.

Prime Minister emphasized the need to evaluate progress at the district level, particularly through aspirational district parameters. Prime Minister suggested that on similar lines, 100 districts should be identified in the field of agriculture to bring positive results. He urged the States to take lead in this pursuit so that a phenomenal change can be achieved through the aspirational approach.

Prime Minister emphasised the need for a monitoring framework and targeted 100-day and five-year goals towards achieving the vision of Viksit Bharat@2047.

Highlighting the importance of good governance, transparency, and infrastructure for attracting investment, he urged States to focus on branding, ease of doing business, and emerging opportunities in sectors such as data centres and artificial intelligence. He emphasized that AI should be viewed as an opportunity and called for greater efforts to equip people with the skills required for the future economy.

The Chief Ministers/Lt. Governors/Administrators congratulated Prime Minister Modi on completing 12 years in his office. They also expressed solidarity with the Centre to withstand the global geo-political crisis and to strengthen India’s resilience with respect to energy requirements, and sustain its growth trajectory.

Prime Minister noted that the discussions were constructive and reflected the aspirations, hopes, experiences, best practices, and challenges of the States. Prime Minister expressed his gratitude to all the CMs, LGs and Administrators for participating in the meeting and expressed confidence that Together, through cooperation, innovation, and a shared commitment to development, India can accelerate its journey towards a Viksit Bharat by 2047.