نمسکار ساتھیو،

سرمائی اجلاس ہے اور ماحول بھی سر رہے گا۔ 2024 کا یہ آخری حصہ ہے ، ملک پوری امنگ اور جوش و خروش کے ساتھ 2025 کے استقبال کی تیاری میں بھی مصروف ہے۔

 ساتھیو،

پارلیمنٹ کا یہ اجلاس کئی لحاظ سے خاص ہے۔ اور سب سے بڑی بات  ہےہمارے آئین کا 75 سالہ سفر ، 75 ویں سال میں اس کا داخلہ ۔ یہ اپنے آپ میں جمہوریت کے لیے بہت سنہرا موقع ہے۔ اور کل آئین ساز  ایوان  میں سب مل کر اس آئین کے 75 ویں سال کی، اس کے جشن کی مل کر شروعات کریں گے۔ آئین کی معماروں نے آئین کا مسودہ تیار کرتے  وقت ایک ایک نکتے پر کافی تفصیل سے بحث کی ہے اور تب ج اکر ایسی بہترین دستاویز ہمیں حاصل ہوئی ہے ۔اور اس کی ایک اہم اکائی ہماری پارلیمنٹ ہے۔ ہمارے ارکان پارلیمنٹ بھی اور ہماری پارلیمنٹ بھی۔ پارلیمنٹ میں صحت مند بحث ہو،زیادہ سے زیادہ لوگ بحث میں اپنا تعاون دیں ۔ بدقسمتی سے کچھ لوگوں نے اپنے سیاسی مفادکے لیے  جن کو عوام نے مسترد کر دیا ہے، وہ پارلیمنٹ کو بھی مٹھی بھر لوگوں کی ہڑدنگ بازی  سے کنٹرول کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا اپنا مقصد تو پارلیمنٹ کی  کاروائی کوروکنے سے زیادہ کامیاب نہیں ہوتا ہے۔ اور ملک کے عوام ان کی ساری حرکتوں کو دیکھتے ہیں ۔ اور جب وقت آتا ہے تو سزا بھی دیتے ہیں ۔

 

لیکن سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ نئے ارکان پارلیمنٹ ہوتے ہیں، نئے خیالات، نئی توانائی لے کر آتے ہیں ،اور  یہ کسی ایک پارٹی سے نہیں سبھی پارٹی میں آتے ہیں ۔ ان کے حقوق کو کچھ لوگ د بوچ دیتے ہیں۔ انہیں ایوان میں بولنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ جمہوری روایت میں ہر نسل کا کام  ہےآنے والی نسلوں کو تیار کر یں ،لیکن 80-80، 90-90 بار عوام نے جن کولگاتار  مسترد کیا ہے،  وہ نہ تو پارلیمنٹ میں بحث ہونے دیتے ہیں نہ جمہوریت کے جذبے کا احترام کرتے ہیں ،نہ ہی وہ لوگوں کی آرزوں کی کوئی اہمیت سمجھتے ہیں، ان کا ان کے تئیں کوئی ذمہ داری ہے، وہ کچھ سمجھ پاتے ہیں ۔ اور اس کا  نتیجہ ہے وہ عوام کی توقعات پر کبھی پورا نہیں اترتے۔ اور نتیجتاً عوام کو انہیں بار بار مسترد کرنا پڑتا ہے۔

 ساتھیو،

 یہ پارلیمنٹ جمہوریت کی ، 2024 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد، ملک کے عوام کو اپنی اپنی ریاستوں میں کچھ مقامات پر اپنے جذبے، اپنے خیالات، اپنی توقعات  کو ظاہر کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس میں بھی 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج کو اور زیادہ طاقت دی گئی ہے ریاستوں کے ذریعے ،اور زیادہ قوت فراہم کی گئی ہے ، اور زیادہ حمایت کا دائرہ بڑھا ہے۔ اور جمہوریت کی یہ شرط ہے کہ ہم عوام کے کا احترام کر یں ، ان کی امیدوں ، توقعات پر کھرااترنے کے لیے دن رات محنت کر یں۔ میں بار بار خاص طور پر اپوزیشن کے ساتھیوں سے درخواست کر رہا ہوں، اور کچھ اپوزیشن  کے لوگ بہت ذمہ داری سے برتائو کرتے بھی ہیں۔ ان کی بھی خواہش رہتی ہے کہ ایوان میں خوش اسلوبی سے کام ہو۔لیکن  عوام نے جن کو مسلسل مسترد کیا ہے ،وہ اپنے ساتھیوں کی بات کا بھی دبا دیتے تھے ، ان کے جذبات کی بھی توہین کرتے تھے، اور جمہوریت کے جذبات کی توہین کرتے تھے۔

 

 میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے نئے ساتھیوں کو موقع ملے ، سبھی پارٹی میں نئے ساتھ ہیں ۔ ان کے پاس نئے خیالات ہیں ، بھارت کو آگے لے جانے کے لیے نئے نئے تصورات ہیں ۔ اور آج دنیا  بھارت کی طرف بہت امید بھری نظر سے دیکھ رہی ہے، تب ہم  ارکان پارلیمنٹ وقت کا استعمال عالمی سطح پر بھی بھارت کا آج جو وقار بڑھا ہے ، بھارت کے تئیں جو دلچسپی بڑھی ہے ، اس کو تقویت فراہم کرنے والا ہمارا رویہ رہنا چاہیے۔دنیا کے اندر بھارت کو ایسے مواقع بہت کم ملتے ہیں ، جو آج ملا ہے ۔ اور بھارت کی پارلیمنٹ سے وہ پیغام بھی جانا چاہیے کہ بھارت کے ووٹر، ان کا جمہوریت کے تئیں  لگن ،  ان کا پارلیمانی طریقہ کار پر اعتماد، پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے ہم سب کو عوام کے ان جذبات پرکھرا ترنا ہی پڑے گا۔ اور وقت کی مانگ ہے ، ہم اب تک جتنا وقت گنوا چکے ہیں ، اس  پرتھوڑ ا افسوس کریں ،اور اس  کی اصلاح کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم  بہت ہی صحت مند انداز میں ہر موضوع کے مختلف پہلوؤں کو پارلیمنٹ ہائوس میں اجاگر کریں۔ آنے والی نسلیں بھی اسے پڑھیں  گی ، اس سے تحریک لیں گی۔  میں امید کرتا ہوں کہ یہ اجلاس انتہائی نتیجہ خیز ہو ، آئین کے 75 ویں سال کی شان کو بڑھانے والا ہو ، بھارت کے عالمی وقار کوقوت بخشنے والاہو، نئے اراکین پارلیمنٹ کو مواقع فراہم کر نے والا ہو، نئے خیالات کا خیر مقدم کرنے والا ہو۔  اس جذبے کے ساتھ، میں ایک بار پھر تمام معزز اراکین پارلیمنٹ کو امنگ اور جوش و خروش کے ساتھ اس اجلاس کو  آگے بڑھنے کے  لیے دعوت دیتا ہوں،  خیر مقدم کرتا ہوں۔ آپ سبھی ساتھیوں کا بھی بہت بہت شکریہ۔

 نمسکار۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Tractor sales cross 10 lakh mark in FY26 on strong rural demand, GST cut

Media Coverage

Tractor sales cross 10 lakh mark in FY26 on strong rural demand, GST cut
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to address ‘Nari Shakti Vandan Sammelan’ on 13th April
April 12, 2026
Sammelan to witness participation of eminent personalities and women achievers from diverse fields
Sammelan to highlight the government’s commitment towards women-led development in the journey towards Viksit Bharat 2047
Sammelan underscores the importance of enhanced representation of women in decision-making processes

Prime Minister Shri Narendra Modi will attend a national level ‘Nari Shakti Vandan Sammelan’ on 13th April 2026 at Vigyan Bhawan, New Delhi at around 11 AM. He will also address the gathering on the occasion.

The programme will witness participation of eminent personalities and women achievers from diverse fields. It will bring together representatives from different sectors such as government, academia, science, sports, entrepreneurship, media, social work and culture.

In September 2023, Parliament passed the ‘Nari Shakti Vandan Adhiniyam’ marking a significant step towards enhancing women’s representation in legislative bodies. The Act provided for reservation of one-third of seats for women in Lok Sabha and State Legislative Assemblies. Now, with a focus on implementation of women’s reservation across the country, a Parliament session is being convened on 16th April.

The Sammelan is being organised to reinforce the commitment towards greater participation of women in shaping India’s development trajectory. It will also highlight the increasing role of women in governance and leadership across all levels, from Panchayats to Parliament. The programme will underscore the importance of enhanced representation of women in decision-making processes.

The Sammelan will highlight the role of women in the journey towards Viksit Bharat 2047. It will reflect the government’s continued commitment towards women-led development as a central pillar of the vision for Viksit Bharat 2047.