Share
 
Comments
بھارت نے ملک کی آزادی کے 75 ویں سال میں ایک نئے بھارت کی ضرورتوں اورامنگوں کے مطابق ملک کی راجدھانی کو ترقی دینے میں ایک اور اہم قدم اٹھایا:وزیراعظم
راجدھانی میں ایک جدید دفاعی انکلیو کی تعمیر کی طرف ایک بڑا قدم:وزیراعظم
کسی بھی ملک کی راجدھانی اس ملک کی سوچ،عزم مصمم، قوت اور ثقافت کی ایک علامت ہوتی ہے :وزیراعظم
بھارت جمہوری اقدار کو فروغ دینے والا ملک ہے،بھارت کی راجدھانی ایسی ہونی چاہئے جس میں شہریوں اورعوام کو مرکزی حیثیت حاصل ہو :وزیراعظم
جدید بنیادی ڈھانچے کارہن سہن میں آسانی، اور کاروبار کرنےمیں سہولت پیدا کرنے پر حکومت کی توجہ مرکوز کرنے میں ایک اہم کردار ہے:وزیراعظم
جب پالیسیاں اور ارادے واضح ہوں، قوت ارادی مضبوط ہو اور کوششیں ایماندارانہ ہوں تو ہر چیز ممکن ہے:وزیراعظم
پروجیکٹوں کی قبل از وقت تکمیل تبدیل شدہ موقف اور سوچ کا نتیجہ ہے :وزیراعظم

پروگرام میں موجود مرکزی کابینہ کے میرے سینئر رفقا جناب راج ناتھ سنگھ جی، ہردیپ سنگھ پوری جی، اجے بھٹ جی، کوشل کشور جی، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت جی، تینوں فوجوں  کے سربراہان، سینئر افسران ، دیگر مہمانان گرامی، خواتین وحضرات۔

آزادی کے 75 ویں سال میں آج ہم ملک کی راجدھانی کو نئے بھارت کی ضروریات اور خواہشات کے مطابق فروغ دینے کی طرف ایک اہم قدم بڑھا رہے ہیں۔ یہ نیا ڈیفنس آفسزکمپلکسز ہماری فوجوں کے کام کاج کو  مزید آسان ، زیادہ موثر بنانے کی کوششوں کو اور مضبوط کرنے والا ہے۔ ان نئی سہولیات کے لئے دفاع سے جڑے سبھی ساتھیوں کو میں بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

آپ سبھی واقف ہیں کہ ابھی تک دفاع سے وابستہ ہمارا کام کاج دوسری عالمی جنگ کے دوران بنائے گئے ہٹمینٹس سے ہی چل رہا تھا۔ ایسے ہٹمینٹس جن کو اس وقت گھوڑے کے اصطبل اور بیرکوں سے متعلق ضروریات کے مطابق بنایا گیا تھا۔ آزادی کے بعد کی دہائی میں ان کو وزارت دفاع، فوج اور فضائیہ کے دفتروں کے طور پر فروغ دینے کے لئے وقت وقت پر ہلکی پھلکی مرمت ہوجاتی تھی، کوئی اوپر کے افسران آنے والے ہیں تو تھوڑا اور پینٹنگ ہو جاتی تھی اور ایسے ہی چلتا رہا۔ اس کی باریکیوں کو جب میں نے دیکھا تو میرے من میں  پہلا خیال یہ آیا کہ ایسی بری حالت میں ہمارے اتنے اہم فوج کے لوگ ملک کی حفاظت کے لئے کام کرتے ہیں۔ اس کی اس حالت کے سلسلے میں ہمارے دہلی کی میڈیا نے کبھی لکھا کیوں نہیں۔ یہ میرے من میں ہوتا تھا، ورنہ یہ ایسی جگہ تھی کہ ضرور کوئی نہ کوئی تنقید کرتا کہ بھارت سرکار کیا کررہی ہے۔ لیکن پتہ نہیں کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔ ان ہٹمینٹس میں آنے والی پریشانیوں کو بھی آپ لوگ بخوبی  جانتے  ہیں۔

آج جب 21 ویں صدی کے بھارت کی فوجی طاقت کو ہم ہر لحاظ سے جدید بنانے میں مصروف ہیں ، ایک سے ایک جدیداسلحے سے لیس کرنے میں مصروف ہیں، بارڈر انفرااسٹرکچر کو جدید بنایا جارہا ہے ، چیف آف ڈینفس اسٹاف کے ذریعہ سے فورسز کا کو-آرڈینیشن بہتر ہورہا ہے،فوج کی ضرورت کی پروکیورمنٹ جو سالوں سال چلتی تھی وہ تیز ہوئی ہے، تب ملک کی دفاعی سلامتی سے جڑا کام کاج دہائیوں پرانے ہٹمینٹس سے ہو، یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے اور اس  لئے ان حالات کو بدلنا بھی ضروری تھا اور میں یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ جو لوگ سنٹرل وسٹا کے پروجیکٹ کے پیچھے ڈنڈا لے کر پڑے تھے وہ بڑی ہوشیاری سےبڑی چالاکی سے  سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کا  یہ بھی ایک حصہ ہے۔ سات ہزار سے زیادہ فوج کے افسر ان جہاں کام کرتے ہیں وہ  نظام  فروغ پارہاہے ، اس پر بالکل خاموش تھے ، کیونکہ ان کو معلوم تھا جو افواہ پھیلانے کا ارادہ، جھوٹ پھیلانے کا ارادہ ہے، جیسے ہی یہ بات سامنے آئے گی تو پھر ان کی ساری گپ بازی چل نہیں پائے گی لیکن آج ملک دیکھ رہا ہے کہ سنٹرل وسٹا کے پیچھے ہم کر کیا رہے ہیں۔ اب کے جی مارگ اور افریقہ ایوینیو میں بنے یہ جدید آفسز ، ملک  کی سیکورٹی سے جڑے ہر کام کو موثر طریقہ سے چلانے میں بہت مدد کریں گے۔ راجدھانی میں جدید ڈیفنس انکلیو کی تعمیر کی طرف یہ بڑا اور اہم قدم ہے۔ دونوں  کمپلیکس میں ہمارے جوانوں اور ملازمین کے لئے ہر ضروری سہولیات دی گئی ہیں۔ اور میں آج اہل وطن کے سامنے میرے من میں جو باتیں چل رہی ہیں اس کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں۔

2014 میں آپ نے مجھے خدمت کرنے کا موقع دیا اور  تب بھی مجھے لگتا تھا کہ یہ سرکاری دفاتر کے حال ٹھیک نہیں ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے حال  ٹھیک نہیں ہے اور 2014 میں ہی آکر میں پہلا یہ کام کرسکتا تھا لیکن میں نے وہ راستہ نہیں اختیارنہیں کیا۔ میں نے سب سے پہلے بھارت کی آن-بان-شان ، بھارت کے لئے جینے والے بھارت کے لئے جوجھنے والے ہمارے ملک کے بہادر جوان  ، جو وطن کے لئے شہید ہوگئے ، ان کی یادگار بنانا، سب سے پہلے طے کیا اور آج جو کام آزادی کے فوراً بعد ہونا چاہئے تھا وہ کام 2014 کے بعد شروع ہوا اور اس کام کو مکمل کرنے کے لئے ہم نے اپنے  دفاتر کو ٹھیک کرنے کے لئے سنٹرل وسٹا کا کام شروع کیا۔ سب سے پہلے ہم نے یاد کیا اپنے  ملک کے بہادر شہیدوں کو، بہادر جوانوں کو ۔

ساتھیو،

یہ جو تعمیر کا کام ہوا ہے  کام کاج کے ساتھ ساتھ یہاں رہائشی کمپلکس بھی بنائے گئے ہیں۔ جو جوان 24x7اہم حفاظتی کاموں میں مصروف رہتے ہیں،  ان کے لئے ضروری  رہائش، کچن، میس، علاج سے جڑی جدید سہولیات ان سب کی بھی تعمیر کی گئی ہے۔ ملک بھر سے جو ہزاروں ریٹائرڈ فوجی اپنے پرانے سرکاری کام کاج کے لئے یہاں آتے ہیں، ان کا بھی خاص خیال رکھنا، ان کو زیادہ پریشانی نہ ہو  اس کے لئے مناسب کنکٹیویٹی کا یہاں خیال رکھاگیا ہے۔ ایک اچھی بات یہ ہے کہ جو بلڈنگس بنی ہیں، وہ ایکو-فرینڈلی ہیں اور راجددھانی کی عمارتوں کا جو پرانا رنگ۔روپ ہے، جو اس کی پہچان ہے،  برقرار رکھی گئی  ہے۔بھارت کے فنکاروں کے دلکش  فنون کو، آتم نربھربھارت کی علامات کو یہاں کے کمپلیکسوں میں جگہ دی گئی ہے۔ یعنی دہلی کی چمک اوریہاں کے ماحولیات کومحفوظ رکھتے ہوئے ، ہمارے  ثقافتی تنوع کی جدیدشکل کو ہرکوئی محسوس کرے گا۔

ساتھیو،

دہلی کو بھارت کی راجدھانی بنے 100 سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے۔ 100 سال سے زیادہ کے اس عرصہ میں یہاں کی آبادی اور دیگر حالات میں کافی زیادہ فرق آچکا ہے ۔ جب ہم راجدھانی کی بات کرتے ہیں تو وہ صرف ایک شہر نہیں ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک کی راجدھانی اس ملک کی سوچ ، اس ملک کے عزم، اس ملک  کی قوت اور اس ملک کی ثقافت کی علامت ہوتی ہے۔ بھارت تو جمہوریت کی ماں ہے۔ اس لئے بھارت کی راجدھانی ایسی ہونی چاہئے جس کے مرکز میں لوک ہو، عوام ہوں۔ آج جب ہم از آف لوئنگ اور از آف ڈوئنگ بزنس پر فوکس کررہے ہیں ، تو اس میں جدید انفرااسٹرکچر کا بھی اتنا ہی بڑا رول ہے۔ سنٹرل وسٹا سے متعلق جو کام آج ہورہا ہے ، اس کی بنیاد میں یہی جذبہ ہے۔ اس کی تفصیل ہمیں آج شروع ہوئی سنٹرل وسٹا سے متعلق  ویب سائٹ  میں بھی نظرآتی ہے۔

ساتھیو،

راجدھانی  کی آرزومندیوں کے مطابق دہلی میں نئی تعمیرات پر پچھلے برسوں میں کافی زور دیا گیا ہے۔ ملک بھر سے منتخب ہوکر آئے عوامی نمائندوں کے لئے نئی رہائش گاہیں ہوں، امبیڈکر جی کی یادگاروں کو محفوظ کرنے کی کوششیں ہوں، کئی نئی عمارتیں ہوں، جن پر مسلسل کام کیا گیا ہے۔ ہماری فوج، ہمارے شہیدوں ، ہماری قربانیوں کا احترام اور سہولت سے متعلق قومی یادگاریں بھی اس میں شامل ہیں۔ اتنی دہائیوں بعد فوج ، نیم فوجی دستوں اور پولیس فورس کے شہیدوں کے لئے قومی یادگار یں آج دہلی کے افتخار میں اضافہ کررہی ہیں اور ان کی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ رہی ہے کہ ان میں سے بیشتر مقررہ وقت سے پہلے پوری کی گئی ہیں ورنہ سرکاروں کی شناخت یہی ہے – ہوتی ہے، چلتی ہے، کوئی بات نہیں، 6-4 مہینے دیر ہے تو فطری ہے۔ ہم نے نیا ورک کلچر سرکار میں لانے کی ایمانداری سے کوشش کی تاکہ ملک کی املاک برباد نہ ہو، مقررہ وقت پر کام ہو، طے شدہ خرچ سے بھی کچھ کم خرچ میں کیوں نہ ہو اور پروفیشنلزم  ہو، ایفیشی اینسی ہو ، ان ساری باتوں پر ہم زور دے رہے ہیں یہ سوچ اور اپروچ میں آئی ایفیشی اینسی کی ایک بہت بڑی مثال آج یہاں پیش ہے۔

ڈیفنس آفسز کمپلکس  کا بھی جوکام 24 مہینے میں پورا ہونا تھا، وہ صرف 12 مہینے کے ریکارڈ وقت میں کمپلیٹ کیا گیا ہے یعنی 50 فیصد وقت بچا لیا گیا۔ وہ بھی اس وقت جب کورونا سے پیدا حالات میں لیبر سے لے کر تمام طرح کے چیلنجنز سامنے تھے۔ کورونا دور میں سینکڑوں مزدوروں کو اس پروجیکٹ سے روزگار ملا ہے۔ اس تعمیراتی کام سے جڑے سبھی مزدور ساتھی ، سبھی انجینئر، سبھی ملازمین، افسران، یہ سب کے سب  اس مقررہ وقت پر تعمیر کے لئے تو مبارکباد کے حقدار ہیں لیکن ساتھ ساتھ کورونا کا اتنا زیادہ جب خوف تھا، زندگی اور موت کے بیچ  سوالیہ نشان تھا، اس وقت بھی ملک کی تعمیر کے اس مقدس کام میں جن جن لوگوں نے تعاون کیا ہے ، پورا ملک ان کو مبارکباد دیتا ہے۔ پورا ملک ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ جب پالیسی اور نیت صاف ہو، قوت ارادی مضبوط ہو ، کوشش  ایماندا ہوں، تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا ہے، سب کچھ ممکن ہوتا ہے۔ مجھے  یقین ہے ، ملک کی نئی  پارلیمنٹ کی بلڈنگ کی تعمیر بھی، جیسا ہردیپ جی بڑے یقین کے ساتھ بتا رہے تھے ، مقررہ وقت کے اندر ہی مکمل ہوگی۔

ساتھیو،

آج کنسٹرکشن میں جو تیزی نظرآرہی ہے، اس میں نئی کنسٹرکشن ٹکنالوجی کا بھی رول ہے۔ ڈیفنس آفس کمپلکس میں بھی روایتی آر سی سی تعمیر کے بجائے لائٹ گیج اسٹیل فریم تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔ نئی تکنیک کی وجہ سے یہ عمارت آگ اور دوسری قدرتی آفات سے زیادہ محفوظ ہیں۔ ان نئے کمپلکسز کے بننے سے درجنوں ایکڑ میں پھیلے پرانے ہٹمینٹس کے رکھ رکھاؤ میں جو خرچ ہر سال کرنا پڑتا تھا ، اس کی بھی بچت ہوگی۔ مجھے خوشی ہے کہ آج دہلی ہی نہیں ، بلکہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی اسمارٹ سہولیات کو فروغ دینے ، غریبوں کو پکے گھر دینے کے لئے جدید کنسٹرکشن ٹکنالوجی پر فوکس کیا جارہا ہے۔ ملک کے 6 شہروں میں جاری لائٹ ہاؤس پروجیکٹ اس سمت میں ایک بہت بڑا تجربہ ہے۔ اس سیکٹر میں نئے اسٹارٹ اپس  کو فروغ دیا جارہا ہے۔ جس اسپیڈ اور جس اسکیل پر ہمیں اپنے اربن سنٹرز کو ٹرانسفورم کرنا ہے ، وہ نئی ٹکنالوجی کے وسیع تر استعمال سے ہی ممکن ہے۔

ساتھیو،

یہ جو ڈیفنس آفسز کملپکس بنائے گئے ہیں ، یہ ورک کلچر میں آئی ایک اور تبدیلی اور سرکار کی ترجیح کا عکاس ہے۔ یہ ترجیح ہے ، دستیاب لینڈ کا بہتر استعمال ۔ اور صرف لینڈ ہی نہیں ، ہمارا یہ یقین ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ہمارے جو بھی ریسورسز ہیں ، ہماری جو بھی قدرتی املاک ہیں اس کا آپٹیمم یوٹی لائزیشن ہونا چاہئے ۔ اناپ-شناپ ایسی املاک کی بربادی اب ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے اور اس سوچ کے نتیجہ میں سرکار کے الگ الگ ڈپارٹمنٹ کے پاس جو زمینیں ہیں ، ان کے پروپر اور آپٹیمم یوٹی لائزیشن پر پرفیکٹ پلاننگ  کے ساتھ آگے بڑھنے پر زور دیا جارہا ہے۔ یہ جو نئے کمپلکسز  بنائے گئے ہیں وہ تقریباً 13 ایکڑ زمین پر بنے ہیں۔ اہل وطن آج جب یہ سنیں گے ، جو لوگ دن رات ہمارے ہر کام پر نکتہ چینی کرتے ہیں، ان کا چہرہ سامنے رکھ کر ان چیزوں کو سنیں ملک کے عوام۔ دہلی جیسی اتنی اہم جگہ پر 62 ایکڑ زمین پر راجدھانی کے اندر 62 ایکڑ زمین پر، اتنی بڑی جگہ پر یہ جو ہٹمینٹس بنے ہوئے تھے، اس کو وہاں سے شفٹ کیا  اور اعلیٰ معیار کی جدیدسہولت صرف 13 ایکڑ زمین پر تعمیر ہوگئی۔ ملک کی املاک کا کتنا بہتر استعمال ہورہا ہے  یعنی اتنی بڑی اور جدید سہولیات کے لئے پہلے کے مقابلے تقریباً پانچ گنا کم زمین کا استعمال ہوا ہے۔

 

ساتھیو،

آزادی کے امرت کال یعنی آنے والے 25 برسوں میں نئے آتم نربھر بھارت کی تعمیر کا یہ مشن سبھی کی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ سرکاری نظام کی پروڈکٹیوٹی  اور ایفیشی اینسی بڑھانے کا جو بیڑاآج ملک نے اٹھایا ہے ، یہاں بن رہی عمارتیں ان خوابوں کو سپورٹ کررہی ہیں ، اس عزم کو شرمندہ تعبیر کرنے کا یقین دلارہی ہیں۔ کامن سنٹرل سکریٹریٹ  ہو ، کنکٹیڈ کانفرنس ہال ہوں، میٹرو جیسے پبلک ٹرانسپورٹ سے آسان کنکٹیوٹی  ہو، یہ سب کچھ راجدھانی کو پیوپل فرینڈلی بنانے میں بھی بہت مدد کریں گے۔ ہم سبھی اپنے اہداف کو تیزی سے حاصل کریں ، اسی امید کے ساتھ میں پھر ایک بار آپ سب کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں!

بہت -بہت شکریہ !

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Why Narendra Modi is a radical departure in Indian thinking about the world

Media Coverage

Why Narendra Modi is a radical departure in Indian thinking about the world
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM congratulates H. E. Jonas Gahr Store on assuming office of Prime Minister of Norway
October 16, 2021
Share
 
Comments

The Prime Minister, Shri Narendra Modi has congratulated H. E. Jonas Gahr Store on assuming the office of Prime Minister of Norway.

In a tweet, the Prime Minister said;

"Congratulations @jonasgahrstore on assuming the office of Prime Minister of Norway. I look forward to working closely with you in further strengthening India-Norway relations."