Share
 
Comments
‘‘لتا جی نے اپنی الٰہی آواز سے پوری دنیا کو مغلوب کیا’’
‘‘بھگوان شری رام ایودھیا کے عظیم مندر میں پہنچنے والے ہیں’’
’’بھگوان رام کی آشیرواد سے مندر کی تعمیر کی تیز رفتاری کو دیکھ کر پورا ملک پرجوش ہے’’
یہ ‘وراثت پر فخر’ کا اعادہ ہے نیز قوم کی ترقی کا ایک نیا باب ہے
’’بھگوان رام ہماری تہذیب کی علامت ہیں اور ہماری اخلاقیات، اقدار، وقار اور فرض کا زندہ آئیڈیل ہیں’’
‘‘لتا دیدی کے بھجن نے ہمارے ضمیر کو بھگوان رام میں غرق کررکھا ہے’’
‘‘لتا جی کی طرف سے پڑھے گئے منتروں سے نہ صرف ان کی آواز گونجتی تھی بلکہ ان کاعقیدہ، روحانیت اور پاکیزگی بھی’’
‘‘لتا دیدی کی آواز آنے والے زمانے تک اس ملک کے ہر ذرے کو جوڑے گی’’

نمسکار!

آج ہم سب کی قابل احترام اور  محبت کی مورتی لتا دیدی کا یوم پیدائش ہے۔ آج اتفاق سے نوراتری کا تیسرا دن، ماں چندر گھنٹا  کی سادھنا کا تہوار بھی ہے۔ کہتے ہیں کہ کوئی سادھک- سادھیکا  جب  سخت ریاضت کرتا ہے، تو ماں چندر گھنٹا کی کرپا سے  اسے غیبی آوازوں کا احساس ہوتا ہے۔ لتا جی، ماں سرسوتی کی ایک ایسی ہی سادھیکا تھیں، جنہوں نے پوری دنیا کو اپنی غیبی آوازوں سے مسحور کر دیا۔ سادھنا (ریاضت) لتا جی نے کی، وردان ہم سب کو ملا۔ ایودھیا میں لتا منگیشکر چوک پر نصب کی گئی ماں سرسوتی کی یہ عظیم الشان وینا،  موسیقی کی اُس ریاضت کی علامت بنے گی۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ چوک کے احاطہ میں سروور کے بہتے ہوئے پانی میں سنگ مرمر سے بنے 92 سفید کمل، لتا جی  کی مدت حیات کی عکاسی کر رہے ہیں۔ میں اس شاندار کوشش کے لیے یوگی جی کی حکومت کا،  ایودھیان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا اور ایودھیا کے عوام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس موقع پر میں تمام ہم وطنوں کی طرف سے بھارت رتن لتا جی کو  خراب عقیدت پیش کرتا ہوں۔ میں پربھو شری رام سے کامنا کرتا ہوں، ان کی زندگی کا جو فائدہ ہمیں ملا، وہی فائدہ ان کے سُروں کے ذریعے آنے والی نسلوں کو بھی ملتا رہا۔

ساتھیوں،

لتا دیدی کے ساتھ جڑی ہوئی میری کتنی ہی یادیں ہیں، کتنے ہی جذباتی اور  محبت بھرے لمحے ہیں۔ جب بھی میری ان سے بات ہوتی، ان کی آواز کی جانی پہچانی مٹھاس ہر بار مجھے مسحور کر دیتی تھی۔ دیدی اکثر مجھ سے کہتی تھیں- ’انسان عمر سے نہیں کارنامے سے بڑا ہوتا ہے، اور جو ملک کے لیے جتنا زیادہ کرے، وہ اتنا ہی بڑا ہے‘۔ میں مانتا ہوں کہ ایودھیا کا یہ لتا منگیشکر چوک، اور ان سے جڑی ایسی تمام یادگاریں ہمیں ملک کے تئیں اپنے فرائض کا بھی احساس کروائیں گی۔

ساتھیوں،

مجھے یاد ہے، جب ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے بھومی پوجن ختم ہوا تھا، تو میرے پاس لتا دیدی کا فون آیا تھا۔ وہ بہت جذباتی تھیں، بہت خوش تھیں، بہت  مسرت سے بھر گئی تھیں اور بہت آشیرواد دے رہی تھیں۔ انہیں یقین نہیں ہو رہا تھا کہ آخرکار رام مندر کی تعمیر شروع ہو رہی ہے۔ آج مجھے لتا دیدی کا گایا وہ بھجن بھی یاد آ رہا ہے – ’’من کی ایودھیا تب تک سونی، جب تک رام نہ آئے‘‘ ایودھیان کے شاندار مندر میں شری رام آنے والے ہیں۔ اور اس سے پہلے کروڑوں لوگوں میں رام نام کی عظمت بیان کرنے والی لتا دیدی کا نام، ایودھیا شہر کے ساتھ ہمیشہ کے لیے  قائم ہو گیا ہے۔ وہیں رام چرت مانس میں کہا گیا ہے – ’رام تے ادھک رام کر داسا‘۔ یعنی، رام جی کے بھکت رام جی سے بھی پہلے آتے ہیں۔ شاید اس لیے، رام مندر کی شاندار تعمیر سے پہلے ان کی آرادھنا کرنے والی ان کی بھکت لتا دیدی کی یاد میں بنا یہ چوک بھی مندر سے پہلے ہی بن گیا ہے۔

ساتھیوں،

پربھو رام تو ہماری تہذیب کے ’پرتیک پروش‘ ہیں۔ رام ہماری اخلاقیات کے، ہماری قدروں، ہمارے وقار،  ہمارے فرائض کے جیتے جاگتے رہنما ہیں۔ ایودھیا سے لے کر رامیشورم تک، رام بھارت کے ذرے ذرے میں سمائے ہوئے ہیں۔ بھگوان رام کے آشیرواد سے آج جس تیز رفتار سے  شاندار رام مندر کی تعمیر ہو رہی ہے، اس کی تصویریں پورے ملک کو مبہوت کر رہی ہیں۔ یہ اپنی ’وراثت پر فخر‘ کا نیا احساس بھی ہے، اور ترقی کا نیا باب بھی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ جس جگہ پر لتا چوک تیار کیا گیا ہے، وہ ایودھیا میں ثقافتی اہمیت کے مختلف مقامات کو جوڑنے والے  مرکزی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ چوک، رام کی پیڑی کے قریب ہے اور سریو کی مقدس  دھارا بھی اس سے بہت دور نہیں ہے۔ لتا دیدی کے نام پر چوک کی تعمیر کے لیے اس سے بہتر جگہ اور کیا ہوتی؟ جیسے ایودھیا نے اتنے زمانے کے بعد بھی رام کو ہمارے من میں برقرار رکھا ہے، ویسے ہی لتا دیدی کے بھجنوں نے  ہماری روح کو  ’رام مئے‘ بنائے رکھا ہے۔  مانس کا منتر ’شری رام چندر کرپالو بھَج من، ہرَن بھو بھئے دارونم‘ ہو، یا میرا بائی کا ’پایو جی میں نے رام رتن دھن پاپو‘، بے شمار ایسے بھجن ہیں، باپو کا محبوب بھجن ’ویشنو جن‘ ہو، یا پھر ہر ایک کے من اتر چکا ’تم آشا وشواس ہمارے رام‘، ایسے میٹھے گیت ہوںٍ! لتا جی کی آواز میں انہیں سن کر  بے شمار ہم وطنوں نے بھگوان رام کے دَرشن کیے ہیں۔ ہم نے لتا دیدی  کی آوازوں کی ’دیویہ‘ مٹھاس سے رام کے  ’الوکِک مادُھریہ‘ کو محسوس کیا ہے۔

اور ساتھیوں،

موسیقی میں اثر صرف الفاظ اور آوازوں سے نہیں آتا۔ یہ اثر تب آتا ہے، جب بھجن گانے والے میں وہ جذبہ ہو، وہ بھکتی ہو، رام سے وہ ناطہ ہو، رام کے لیے وہ عقیدت ہو۔ اسی لیے، لتا جی کے ذریعے ادا کیے گئے منتروں میں، بھجنوں میں صرف  ان کی آواز ہی نہیں بلکہ ان کا عقیدہ، روحانیت اور تقدس بھی گونجتا ہے۔

ساتھیوں،

لتا دیدی کی آواز میں آج بھی ’وندے ماترم‘ کی اپیل سن کر ہماری آنکھوں کے سامنے بھارت ماتا  کی عظیم الشان شکل و صورت نظر آنے لگتی ہے۔ جس طرح لتا دیدی ہمیشہ شہریوں کے فرائض کو لے کر بہت بیدار رہیں، ویسے ہی یہ چوک بھی ایودھیا میں رہنے والے لوگوں کو، ایودھیا آنے والے لوگوں کو  فرائض کی تعمیل کا سبق دے گا۔ یہ چوک، یہ وینا، ایودھیا کی ترقی اور ایودھیا  کے حوصلے کو بھی مزید معنی خیز بنائے گا۔ لتا دیدی کے نام پر بنا یہ چوک، ہمارے ملک میں فنون کی دنیا سے وابستہ لوگوں کے لیے بھی حوصلہ کے مقام کی طرح کام کرے گا۔ یہ بتائے گا کہ  بھارت کی جڑوں سے جڑے رہ کر، جدیدیت کی جانب بڑھتے ہوئے، بھارت  کے فن و ثقافت کو  دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا، یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ بھارت کی ہزاروں سال پرانی وراثت پر فخر کرتے ہوئے، بھارت کی ثقافت کو نئی نسل تک پہنچانا، یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے لتا دیدی جیسی جفا کشی اور اپنی ثقافت کے تئیں بے پناہ محبت لازمی ہے۔

مجھے یقین ہے،  بھارت  کے فنون کی دنیا کے ہر ’سادھک‘ کو اس چوک سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ لتا دیدی کی آواز  برسہا برس تک  ملک کے ذرے ذرے کو جوڑے رکھے گی، اسی یقین کے ساتھ، ایودھیا کے باشندوں سے بھی میری کچھ توقعات ہیں، مستقبل قریب میں رام مندر بننا ہے،  ملک کے کروڑوں لوگ ایودھیا آنے والے ہیں، آپ تصور کر سکتے ہیں ایودھیا کے باشندوں کو ایودھیا کو کتنا عظیم الشان بنانا ہوگا، کتنا خوبصورت بنانا ہوگا، کتنا صاف ستھرا بنانا ہوگا اور اس کی تیاری آج سے ہی کرنی چاہیے اور یہ کام ایودھیا کے ہر باشندے کو کرنا ہے، ہر ایودھیا والے کو کرنا ہے، تبھی جا کر ایودھیا کی آن بان شان، جب کوئی بھی مسافر آئے گا، تو رام مندر کی عقیدت کے ساتھ ساتھ ایودھیا کے انتظامات کو، ایودھیا کی عظمت کو، ایودھیا کی مہمان نوازی کو محسوس کرکے جائے گا۔ میرے ایودھیا کے بھائیوں اور بہنوں تیاریاں ابھی سے شروع کر دیجئے، اور لتا دیدی کا یوم پیدائش  ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حوصلہ بخشتا رہے۔ چلئے بہت سی باتیں ہو چکیں، آپ سب کو بہت بہت مبارکباد۔

شکریہ!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
The Bharat Budget: Why this budget marks the transition from India to Bharat

Media Coverage

The Bharat Budget: Why this budget marks the transition from India to Bharat
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Share
 
Comments
“Krishnaguru ji propagated ancient Indian traditions of knowledge, service and humanity”
“Eknaam Akhanda Kirtan is making the world familiar with the heritage and spiritual consciousness of the Northeast”
“There has been an ancient tradition of organizing such events on a period of 12 years”
“Priority for the deprived is key guiding force for us today”
“50 tourist destination will be developed through special campaign”
“Gamosa’s attraction and demand have increased in the country in last 8-9 years”
“In order to make the income of women a means of their empowerment, ‘Mahila Samman Saving Certificate’ scheme has also been started”
“The life force of the country's welfare schemes are social energy and public participation”
“Coarse grains have now been given a new identity - Shri Anna”

The Prime Minister, Shri Narendra Modi addressed the Krishnaguru Eknaam Akhanda Kirtan for World Peace, being held at Krishnaguru Sevashram at Barpeta, Assam via video conferencing today. Krishnaguru Eknaam Akhanda Kirtan for World Peace is a month-long kirtan being held from 6th January at Krishnaguru Sevashram.

Addressing the gathering, the Prime Minister said that Krishnaguru Eknaam Akhanda Kirtan has been going on for a month. He underlined that the traditions of knowledge, service and humanity in ancient India which were propagated by Krishna Guru ji are in perpetual motion even today. The Prime Minister observed that the divinity of the contributions of Guru Krishna Premanand Prabhu Ji and the efforts of his disciples are clearly visible on this magnificent occasion. Expressing his desire to join the august gathering in person today as well as on previous occasions, the Prime Minister sought the blessings of Krishna Guru so he gets the opportunity to visit the sevashram in the near future.

Referring to the tradition of Akhand Eknaam Jap every twelve years by Krishnaguru ji, the Prime Minister noted the Indian tradition of organizing spiritual events with duty as the key thought. “These events rekindle a sense of duty in the individual and society. People used to gather to discuss and analyze the happenings of the last twelve years, evaluate the present and create a blueprint for the future”, the Prime Minister said. The Prime Minister gave examples of Kumbh, Pushkaram Celebration in the Brahmaputra River, Mahamaham at Kumbakonam in Tamil Nadu, Mahamastakabhisheka of Bhagwan Bahubali, blooming of Neelakurinji flower as key events that take place once in twelve years.  Eknaam Akhanda Kirtan is laying down a similarly powerful tradition and making the world familiar with the heritage and spiritual consciousness of the Northeast, he added.  

The Prime Minister underlined that the exceptional talent, spiritual realizations and extraordinary incidents related to the life of Krishnaguru act as a source of inspiration for each one of us. Dwelling on his teachings, the Prime Minister noted that no work or person is big or small. Similarly, the Prime Minister said that the nation has worked towards the betterment of its people with the same spirit of taking everyone along (Sabka Saath) for everyone’s development (Sabka Vikas) with absolute dedication. Underlining that the nation gives top priority to those who have been so far deprived and neglected, the Prime Minister said, “Priority to the deprived” Giving examples of the state of Assam and the Northeast, the Prime Minister observed that these regions have been neglected for decades when it comes to development and connectivity, but they are being given top priority today.  

Referring to this year’s Budget the Prime Minister underlined the same priority to the deprived as the key guiding sentiment. Noting the key role of tourism in the economy of Northeast, the Prime Minister mentioned this year’s Budget provision of developing and upgrading 50 tourist destinations which will benefit the region a great deal. The Prime Minister also talked about the Ganga Vilas Cruise which will soon reach Assam. He highlighted that Indian heritage’s most valuable treasures are situated on the river banks.  

The Prime Minister also mentioned Krishnaguru Sewashram’s work for artisans in traditional skills and informed the country has done historical work in developing the traditional skills and linking the artisans with the global markets in the last few years. He also informed about changing laws about bamboo and changing its category from tree to grass, which opened the avenues of bamboo business. He said that ‘Unity Malls’, proposed in the Budget, will help farmers, artisans and youth of Assam by showcasing their products. These products will be showcased in the Unity Malls in other states and big tourist places.  The Prime Minister also talked about his fondness for Gamosa  and said that it encapsulates the hard work and skills of the women of Assam. He also noted the increasing demand for Gamosa  and self-help groups that have emerged to meet the rising demand. Shri Modi said that the Budget has made special provisions for these self-help groups. “In order to make the income of women a means of their empowerment, ‘Mahila Samman Saving Certificate’ scheme has also been started. Women will especially get the benefit of higher interest on savings” he said. He also said that PM Awas Yojana allocation has been increased to 70 thousand crores and most of the houses built under the scheme are in the name of the women of the house. “There are many such provisions in this budget, from which women of North Eastern states like Assam, Nagaland, Tripura, Meghalaya will be widely benefited, new opportunities will be created for them’, he added. 

Quoting the teachings of Krishnaguru, the Prime Minister said that one should always serve their own soul while believing in the daily acts of devotion. Underlining that the lifeline of various government run schemes for the development of the country make for the power of the society and public participation, the Prime Minister said that these Sewa Yagya like the one organized today are becoming a great strength of the country. Giving the examples of Swacch Bharat, Digital India and various other schemes that were made successful by public participation, the Prime Minister emphasized that Krishnaguru Sevashram has an important role to play in taking forward schemes like Beti Bachao Beti Padhao, Poshan Abhiyan, Khelo India, Fit India, Yoga  and Ayurveda that will further strengthen the nation. 

The Prime Minister pointed out that the country is starting PM Vishwakarma Kaushal Yojana for the traditional artisans. “The country has now for the first time resolved to enhance the skills of these traditional artisans”, the Prime Minister emphasized, requesting Krishnaguru Sevashram to work to spread awareness about the scheme. The Prime MInister asked the Sewashram to propagate coarse grains, recently branded as Shri Anna by preparing ‘Prasada’ with Shri Anna. He also asked them to take the history of the freedom fighters to the younger generation through Sevashram publications. Concluding the address, the Prime  Minister said that we will be witnessing a more empowered India when this Akhand Kirtan will take place after 12 years.

Background

Paramguru Krishnaguru Ishwar established the Krishnaguru Sevashram in 1974, at Nasatra village in Barpeta, Assam.  He is the ninth descendant of Mahavaishnab Manohardeva, who was a follower of the great Vaishnavite saint Shri Shankardeva. Krishnaguru Eknaam Akhanda Kirtan for World Peace is a month-long kirtan being held from 6th January at Krishnaguru Sevashram.