Share
 
Comments
وزیراعظم نے تعاون، مشترکہ کوششوں اور آپسی تال میل کیلئے ریاستوں کی تعریف کی
وزرائے اعلی نے تمام ممکنہ مدد فراہم کرنے کیلئے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا
مہاراشٹر اور کیرالہ میں کووڈ معاملوں میں اضافہ کا رجحان تشویش کا باعث ہے: وزیراعظم
ٹیسٹ ٹریک، ٹریٹ اور ٹیکہ کا تجربہ کیا گیا ہے اور حکمت عملی ثابت ہوئی ہے: وزیراعظم
ہم نے تیسری لہر کے امکانات کو روکنے کیلئے سرگرم اقدامات کئے ہیں: وزیراعظم
بنیادی ڈھانچہ میں خلا کو،خاص طور پر دیہی علاقوں میں ، پورا کیا گیا: وزیراعظم
کورونا ابھی ختم نہیں ہوا ہے،ان لاکنگ کے بعد کے رویے کی تصویر تشویشناک ہے: وزیراعظم

نئی دہلی،16؍جولائی : نمسکار جی!

آپ سب نے کورونا کے خلاف ملک کی لڑائی میں بہت سے اہم نکات پر اپنی بات بتائی۔ صرف دو روز قبل ہی ، مجھے شمال مشرقی ریاستوں  کے تمام معزز وزرائے اعلی سے اسی موضوع پر گفتگو کرنے کا موقع ملا تھا۔ کیونکہ جہاں جہاں بھی پریشان کن صورتحال ہے۔ میں ان ریاستوں کے ساتھ خصوصی  طور سے بات  چیت کر رہا ہوں۔

ساتھیوں،

گذشتہ ڈیڑھ برسوں میں ، ملک نے باہمی تعاون اور متحدہ کوششوں سے ہی اس بڑی وبا کا مقابلہ کیا ہے۔ تمام ریاستی حکومتوں نے جس طرح سے ایک دوسرے سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ، انہوں نے بہترین طریقوں کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی کوشش کی ہے اور ہم اپنے تجربات  سے  یہ کہہ سکتے ہیں۔ کہ ایسی کوششوں سے ہم آگے کی اس لڑائی میں فاتح ثابت ہوسکتے ہیں۔

ساتھیوں،

آپ سب واقف ہیں کہ ہم ایک ایسے موڑ پرکھڑے  ہیں جہاں تیسری لہر کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ جس طرح سے ملک کی بیشتر ریاستوں میں حکومتوں کی محنت کے باعث کیسوں کی تعداد کم ہوئے ہیں ، اس سے نفسیاتی طور پر ، کچھ راحت  تو ضرور محسوس ہوئی ہے۔ ماہرین بھی اس گراوٹ کو دیکھ کر  توقع کر رہے تھے کہ جلد ہی یہ ملک دوسری لہر سے مکمل طور پر نکل آئے گا۔ لیکن کچھ ریاستوں میں کیسوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اب بھی تشویش ناک ہے۔

ساتھیوں،

آج جتنی ریاستیں ہیں ، چھ ریاستیں آج ہمارے ساتھ ہیں۔ اس بحث میں شامل ہوئی ہیں ، پچھلے ہفتے تقریباً 80 فیصد نئے معاملات اسی ریاستوں سے آئے ہیں جہاں آپ ہیں۔ ان ریاستوں میں 68 فیصد المناک اموات بھی ہوئیں۔ ابتداء میں ماہرین یہ فرض کر رہے تھے کہ جہاں دوسری لہر کی ابتدا ہوئی ہے ، صورتحال دوسروں کے مقابلہ میں پہلے ہی قابو میں ہوگی۔ لیکن معاملات میں اضافہ مہاراشٹر اور کیرالہ میں مسلسل دیکھا جارہا ہے۔ یہ واقعی ہم سب کے لئے ، ملک کے لیےتشویش کا باعث ہے۔ آپ سبھی واقف ہیں کہ دوسری لہر سے پہلے بھی جنوری-فروری میں اسی طرح کے رجحانات دیکھے گئے تھے۔ لہذا ، خدشات قدرتی طور پر بڑھتے ہیں کہ اگر اس کو قابو نہ کیا گیا تو صورتحال  مزید مشکل ہوسکتی ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ جن ریاستوں میں معاملات بڑھ رہے ہیں ، انہیں تیسری لہر کے کسی بھی امکان کو روکنے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

ساتھیوں،

ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک کیسوں میں مسلسل اضافہ ہونے کی وجہ سے ، کورونا وائرس میں تغیر کا امکان بڑھ جاتا ہے ، نئے قسم کی کیفیت کے پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لہذا ، تیسری لہر کو روکنے کے لئے کورونا کے خلاف موثر اقدامات کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سمت میں حکمت عملی وہی ہے ، جو آپ نے اپنی ریاستوں میں اپنائی ہے ، پورے ملک نے اس پر عمل درآمد کیا ہے۔ اور ہمارے پاس بھی اس کا ایک وسیع  تجربہ ہے۔ جو آپ کے لئے آزمودہ اور کارآمد طریقہ  ثابت ہوسکتا ہے۔ ٹیسٹ ، ٹریک اور علاج ۔ اب ہمیں صرف ٹیکہ کاری کی اپنی پہلے سے ہی وضع کردہ حکمت عملی پر فوکس کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ ہمیں مائیکرو کنٹونمنٹ زون پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ جن اضلاع میں مثبت کیسزکی  شرح زیادہ ہیں ، جہاں سے زیادہ تعداد میں کیسز آ رہے ہیں ، وہاں زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔ جب میں نارتھ ایسٹ کے دوستوں سے بات کر رہا تھا۔ تو ایک بات سامنے آئی کہ کچھ ریاستوں نے لاک ڈاؤن بالکل نہیں کیا۔ لیکن مائکرو  کنٹونمنٹ زون پر بہت زیادہ زور دیا گیا۔ اور اسی وجہ سے وہ حالات کو سنبھالنے میں کامیاب رہے۔ جانچ میں بھی ، ایسے اضلاع پر خصوصی توجہ ی جانی چاہیے جہاں کیسز بڑھ رہے ہیں۔  پوری ریاست میں جانچ کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جانا چاہئے۔ ان اضلاع میں جہاں زیادہ انفیکشن ہے ، ویکسین ہمارے لئے ایک اسٹریٹجک ٹول بھی ہے۔ ٹیکوں کے موثر استعمال سے کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والی پریشانیوں کو کم کیا جاسکتا ہے۔ بہت سی  ریاستیں اس وقت ہمارے پاس موجود ونڈو کا استعمال بھی کررہی ہیں تاکہ ان کی آر ٹی-پی سی آر جانچ کی صلاحیت کو بڑھایا جاسکے۔ یہ بھی ایک قابل ستائش اور ضروری قدم ہے۔ زیادہ سے زیادہ RT-PCR جانچ وائرس کو روکنے میں موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔

ساتھیوں،

آئی سی یو میں نئے بیڈ بنانے ، جانچنے کی استعداد بڑھانے اور دیگر تمام ضروریات کے لئے ملک کی تمام ریاستوں کو فنڈز مہیا کیے جارہے ہیں۔ حال ہی میں ، مرکزی حکومت نے 23 ہزار کروڑ سے زائد کا ایمرجنسی کووڈ رسپانس پیکیج بھی جاری کیا ہے۔ میں چاہوں گا کہ اس بجٹ کو صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنے کے لئے استعمال کیا جائے۔ ریاستوں میں جو بھی 'بنیادی ڈھانچے' ہیں ، ان کو تیزی سے پُر کیا جائے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں – دور درازمقامات میں ، ہمیں مزید محنت کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ، تمام ریاستوں میں آئی ٹی سسٹم ، کنٹرول روم اور کال سنٹرز کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ، وسائل کا ڈیٹا ، اس کی معلومات شہریوں کو شفاف انداز میں دستیاب کرائی جانی چاہیے۔ مریضوں اور ان کے لواحقین کو علاج کے لئے یہاں وہاں بھاگنا نہ پڑ ے ایسے انتظامات کیے جائیں۔

ساتھیوں،

مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ کی ریاستوں میں جو 332 PSA پلانٹ مختص کیے گئے ہیں ان میں سے 53پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ میری تمام ریاستوں سے گزارش ہے کہ وہ PSA آکسیجن پلانٹوں کو جلد سے جلد مکمل کریں۔ اس کام کے لیے کسی ایک سینئر آفیسر کو خصوصی طور پر رکھیں ، اور اس کام کو 15-20 دن کے مشن موڈ میں مکمل کریں۔

ساتھیوں،

ایک اور  گہری تشویش بچوں کے بارے میں بھی ہے۔ ہمیں بچوں کو کورونا انفیکشن سے بچانے کے لئے پوری کوشش کرنی ہوگی۔

ساتھیوں،

ہم دیکھ رہے ہیں کہ پچھلے دو ہفتوں میں ، یورپ کے بہت سے ممالک میں کورونا کے کیسز بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اگر ہم مغرب کی طرف دیکھیں ، چاہے وہ یورپ کا ملک ہو یا امریکہ ، یہاں ہم مشرق کی طرف دیکھتے ہیں ، پھر بنگلہ دیش ، میانمار ، انڈونیشیا ، تھائی لینڈ ، معاملات بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایک طرح سے ، کہیں چار گنا اضافہ ہوا ہے ، کہیں آٹھ گنا اور  کہیں دس گنا۔ یہ پوری دنیا کے لئے ایک انتباہ ہے ، اور ہمارے لئے بھی ، ایک بہت بڑی وارننگ ہے۔ ہمیں لوگوں کو بار بار یاد دلانا ہوگا کہ کورونا ہمارے درمیان سے نہیں گیا ہے۔ یہاں کی بیشتر مقامات سے اَنلاک کرنے کے بعد جو تصاویر آرہی ہیں وہ اس تشویش کو اور بھی بڑھاتی ہیں۔ میں صرف اس سلسلے میں نارتھ ایسٹ کے تمام دوستوں سے بات کر رہا تھا ، میں نے اس دن بھی اس کا تذکرہ کیا تھا۔ آج میں اس بات پر ایک بار پھر زور دے کر کہنا چاہتا ہوں۔ آج جو ریاستیں ہمارے ساتھ جڑی  ہیں ،ان میں سے تو کئی  بہت بڑے شہر(میٹروپولیٹن سیٹی) ہیں ، وہاں  بہت گنجان آبادی ہے۔ ہمیں اس کو بھی دھیان میں رکھنا ہوگا۔ عوامی مقامات پر ہجوم کو روکنے کے لئے ہمیں ہوشیار ، مستعد اور سخت رہنا ہوگا۔ حکومت کے ساتھ ساتھ - ہمیں سول سوسائٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں ، سماجی تنظیموں اور این جی اوز کو بھی ساتھ لے کر لوگوں کو مستقل آگاہ کرتے رہنا ہوگا ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کا وسیع تجربہ اس سمت میں بہت کام آئے گا۔ اس اہم ملاقات کے لئے وقت نکالنے کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ! اور جیسا کہ آپ سب وزرائے اعلی نے جن خاص چیزوں کا تذکرہ کیاہے۔ میں ہر لمحہ دستیاب ہوں۔ ہمارا رابطہ بنا رہتا ہے ۔ میں آئندہ بھی ہمیشہ دستیاب رہوں گا۔ تاکہ ہم سب  مل کر بنی نوع انساں کو اس بحران سے بچانے کی  اس مہم میں اپنی متعلقہ ریاستوں کو بھی  بچاسکیں۔ میں آپ سب کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ !

 

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Modi’s Human Touch in Work, Personal Interactions Makes Him The Successful Man He is Today

Media Coverage

Modi’s Human Touch in Work, Personal Interactions Makes Him The Successful Man He is Today
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Share
 
Comments

The Prime Minister, Shri Narendra Modi laid the foundation stone of Rajkiya Medical College, Kushinagar. He also inaugurated and laid the foundation stones of various development projects in Kushinagar.

Addressing the gathering, the Prime Minister said that with the medical college in Kushinagar, local aspirations of becoming a doctor or having quality medical infrastructure will be fulfilled. He pointed out that under National Education Policy, the possibility of getting technical education in one’s own language is becoming a reality. This will enable local youth of Kushinagar to realize their dreams, said the Prime Minister. Shri Modi emphasized that when basic facilities are available, then the courage to dream big and the spirit to fulfil the dreams are born. The one who is homeless, is in a slum, when he gets a pucca house, when there is a toilet in the house, electricity connection, gas connection, water comes from the tap, then the confidence of the poor enhances further. The Prime Minister emphasized that the ‘double engine’ government in the state is improving the situation with double strength. He lamented the fact that earlier governments did not care about the dignity and progress of the poor and the ill effects of dynasty politics prevented many good measures from reaching the poorest of the poor.

The Prime Minister recalled that Ram Manohar Lohia used to say that - connect karma with compassion, connect it with full compassion. But those who were running the government earlier did not care about the pain of the poor, the earlier government linked their karma with scams and with crimes.

The Prime Minister said that the Union government has started the Swamitva scheme that is going to open new doors of prosperity in the rural areas of Uttar Pradesh in future. Under PM Swamitva Yojana, the work of giving the ownership documents of the houses of the village i.e. the ownership of the houses has been started. The Prime Minister also said that with the schemes like toilets and Ujjwala, sisters and daughters are feeling safe and dignified. In PM Awas Yojna, most of the houses are in the name of the women of the house.

Commenting on the law and order situation in Uttar Pradesh during the earlier times, the Prime Minister said the policy of the government before 2017 gave a free hand to the mafia for open loot. Today, under the leadership of Yogi ji, the mafia is running around apologizing and the mafias are also suffering the most under the government of Yogi ji, the Prime Minister remarked. .

The Prime Minister remarked that Uttar Pradesh is the state which has given the maximum number of Prime Ministers to the country. This is the speciality of Uttar Pradesh, however, “the identity of Uttar Pradesh cannot be limited only to this. Uttar Pradesh Cannot be confined to 6-7 decades. This is a land whose history is timeless, whose contribution is timeless”. Lord Rama took incarnation on this land; Lord Shri Krishna incarnation also appeared here. 18 Jain Tirthankaras out of 24 had appeared in Uttar Pradesh. He added that in the medieval period, epoch-making personalities like Tulsidas and Kabirdas were also born on this soil. This state has also got the privilege of giving birth to a social reformer like Sant Ravidas, the Prime Minister said.

The Prime Minister said Uttar Pradesh is a region where there are pilgrimages every step of the way, and there is energy in every particle. The work of penning the Vedas and Puranas was done here in Naimisharanya. In the Awadh region itself, there is a pilgrimage like Ayodhya here, Shri Modi said.

The Prime Minister said our glorious Sikh Guru tradition also has a deep connection with Uttar Pradesh. The ‘Guru Ka Taal' Gurdwara in Agra is still a witness to the glory of Guru Tegh Bahadur ji, his bravery where he challenged Aurangzeb.

The Prime Minister said the double engine government is setting new records in procurement from farmers. So far, about Rs 80,000 crore has reached the bank accounts of the farmers of UP for the purchase of the produce. More than Rs 37,000 crore has been deposited in the bank accounts of UP farmers from PM Kisan Samman Nidhi, the Prime Minister said. .