بھارت کی کامیابی کا راستہ آتم نربھرتاکے ساتھ خلائی اہداف کو حاصل کرنے میں مضمر ہے: وزیر اعظم
ہندوستان کو مستقبل کے مشنوں کی قیادت کے لیے40-50 تیار خلابازوں کا پول بنانے کی ضرورت ہے: وزیر اعظم
ہندوستان کے پاس اب دو ااسٹریٹجک مشن ہیں- خلائی اسٹیشن اور گگن یان: وزیر اعظم
خلاباز شکلا کا سفر ہندوستان کے خلائی عزم میں محض پہلا قدم ہے: وزیر اعظم

وزیر اعظم- آپ لوگ جب اتنے لمبے سفر کے بعد واپس آئے ہیں...

شوبھانشو شکلا - جی سر۔

وزیر اعظم - تو آپ ضرور کچھ تبدیلی محسوس کر رہے ہوں گے، جیسا کہ میں سمجھنا چاہتا ہوں، آپ لوگ کیسا محسوس کرتے ہیں؟

شوبھانشو شکلا - سر، جب ہم اوپر جاتے ہیں، تو وہاں کا جو ماحول  ہے،اینوائرنمنٹ ہے، وہ الگ ہے،  گریویٹی نہیں ہے۔

وزیراعظم- بیٹھنے کا انتظام ویسا ہی رہتا ہے، جیسا آپ چاہتے ہیں...

شوبھانشو شکلا – ویسا ہی رہتا ہے سر۔

وزیر اعظم - اور پورے 24-23 گھنٹے اسی میں گزارنے پڑتے ہیں؟

شوبھانشو شکلا - جی سر، لیکن ایک بار جب آپ خلا میں پہنچ جاتے ہیں،تو آپ اپنی سیٹ کھول سکتے ہیں، اپنا ہارنس کھول سکتے ہیں اور اسی کیپسول میں آپ نو گراؤنڈ جا سکتے ہیں، اِدھر اُدھر چیزیں کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم – اتنی جگہ ہے اس میں؟

شوبھانشو شکلا – بہت تو نہیں ہے سر، لیکن تھوڑی بہت ہے۔

وزیراعظم-  مطلب آپ کا فائٹر جیٹ کا کاک پٹ ہے، اس سے تو زیادہ اچھا ہے۔

 

شوبھانشو شکلا - اس سے بھی زیادہ اچھا ہے سر۔ لیکن پہنچنے کے بعد سر بہت سی تبدیلیاں آتی ہیں جیسےسرپوراآپ کا دل سست ہو جاتا ہے، اس لیے کچھ تبدیلیاں آتی ہیں، اور وہ، لیکن 5-4 دن میں آپ کا جسم اس کا عادی ہو جاتا ہے، وہاں آپ نارمل ہو جاتے ہیں اور پھر جب آپ واپس آتے ہیں، تو پھر وہی، دوبارہ سےوہی  ساری تبدیلیاں ، آپ چل نہیں سکتے، جب آپ واپس آتے ہیں، توچاہے آپ کتنے ہی صحت مند کیوں نہ ہوں۔ مجھے برا نہیں لگ رہا تھا، میں ٹھیک تھا، لیکن پھر بھی جب میں نے پہلا قدم رکھا،  تو میں مطلب گر رہا تھا، تو  لوگوں نے مجھے پکڑ رکھاتھا۔ پھر دوسرا، تیسرا، اگرچہ میں جانتا ہوں کہ مجھے چلنا ہے، لیکن دماغ کو یہ سمجھنے میں وقت لگتا ہے کہ ٹھیک ہے اب یہ نیا انوائرنمنٹ ہے، نیا ماحول ہے۔

وزیراعظم-یعنی یہ صرف  باڈی کی ٹریننگ نہیں ہے، دماغ کی بھی تربیت ہے؟

شوبھانشو شکلا- مائنڈ کا ٹریننگ ہے سر، جسم میں طاقت ہے، پٹھوں میں طاقت ہے، لیکن  وہ دماغ کو دوبارہ متحرک کرنا ہے، اسے دوبارہ  یہ سمجھنا ہے کہ یہ نیا ماحول ہے، اب آپ کو اس میں چلنے کے لیے اتنی طاقت یا اتنی محنت کی ضرورت ہوگی۔ وہ واپس یہ سمجھتے ہیں سر۔

وزیر اعظم - سب سے زیادہ وقت  سے وہاں کون تھا، کتنے وقت تک ؟

شوبھانشو شکلا – فی الحال ایک وقت میں لوگ زیادہ سے زیادہ 8 مہینے قیام کر رہے ہیں جناب، اسی مشن  سےشروع ہوا ہے کہ ہم 8 مہینے تک رہیں گے۔

وزیر اعظم - جن لوگوں سے آپ ابھی وہاں ملے ہیں...

شوبھانشو شکلا – ہاں، ان میں کچھ لوگ ہیں جو دسمبر میں واپس آئیں گے۔

وزیر اعظم - اور مونگ اور میتھی کی کیا اہمیت ہے؟

شوبھانشو شکلا – بہت اچھا ہے سر، مجھے بہت حیرت ہوئی کہ لوگوں کو اس کے بارے میں نہیں معلوم تھا، ان چیزوں کے بارے میں، جناب ایک خلائی اسٹیشن پر کھانا بہت بڑا چیلنج ہے، جگہ محدود ہے، کارگو مہنگا ہے، آپ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کیلوریز اور غذائیت کم سے کم جگہ میں پیک کریں، اور ہر طرح سے تجربات جاری ہیں جناب، اور ان کو اُگانابہت آسان ہے، بہت زیادہ ریسورس نہیں چاہئےخلائی  اسٹیشن میں، چھوٹے سے ایک ڈِش میں تھوڑا سا پانی ڈال کر انہیں چھوڑ دیا اور 8 دن کے بعد وہ بہت اچھی طرح سے انکرت ہونے شروع ہو گئے تھے سر۔ اسٹیشن میں ہی مجھے دیکھنے کو ملے۔ تو ہمارے ملک کے یہ راز، میں کہوں گا جناب، جیسے ہی ہمیں یہ موقع ملا کہ ہم مائیکرو گریویٹی ریسرچ تک پہنچ سکیں، وہ وہاں پہنچ رہے ہیں اور کون جانتا ہے، ہو سکتا ہے کہ اس سے ہمارا فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ حل ہو جائے، کیونکہ یہ پہلے سے ہی خلابازوں کے لیےا سٹیشن میں موجود ہے، لیکن اگر اسے وہاں حل کر دیا جائے، تو یہ زمین پر موجود لوگوں کے لیے بھی فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ حل کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے، سر۔

 

وزیر اعظم - پہلا، اس بار ایک کوئی  ہندوستانی آیا ہے، تو ایک ہندوستانی کو دیکھ کر لوگوں کے دماغ میں کیا گزرتا ہے، وہ کیا پوچھتے ہیں، کیا بات کرتے ہیں، یہ دنیا کے دوسرے ممالک کے لوگ ہوتے ہیں؟

شبھانشو شکلا - جی سر۔ پچھلے ایک سال کا میرا ذاتی تجربہ یہ رہا ہے کہ میں جہاں بھی گیا، جس سے بھی ملا، سب مجھ سے مل کر بہت خوش ہوئے، وہ آکر مجھ سے بات کرنے اور مجھ سے پوچھنے کے لیے بہت پرجوش تھے کہ تم کیا کر رہے ہو، کیسے کر رہے ہو اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ سب کو معلوم تھا کہ ہندوستان خلائی میدان میں کیا کر رہا ہے۔ اس کے بارے میں سب کو معلوم تھا، اور مجھ سے زیادہ گگن یان کے بارے میں بہت پرجوش لوگ تھے، جو مجھ سے آکر پوچھتے تھے کہ تمہارا مشن کب جا رہا ہے، اور میرے اپنے عملے کے ساتھی جو میرے ساتھ تھے، مجھ سے دستخط کروانے کے بعد اسے تحریری طور پر لے گئے ہیں کہ جب بھی تمہارا گگن یان جائے گا، تم ہمیں لانچ کے لیے بلاؤ گے، اور اس کے بعد ہمیں جلد از جلد تمہاری گاڑی میں بیٹھ کر جانا ہے۔ تو میرا خیال ہے سر بہت جوش ہے۔

وزیر اعظم - وہ سب آپ کو ٹیک جینئس کہتے تھے، وجہ کیا تھی؟

شوبھانشو شکلا – نہیں سر، مجھے لگتا ہے کہ وہ لوگ بہت مہربان ہیں، اور وہ اس طرح بات کرتے ہیں۔ لیکن میری جو ٹریننگ رہی ہے سر،  میری ٹریننگ ایئر فورس میں ہوئی اور اس کے بعد ہم نے ٹیسٹ پائلٹ کی ٹریننگ لی سر۔ اس لئے جب میں ایئر فورس میں شامل ہوا تو میں نے سوچا کہ مجھے پڑھنا نہیں پڑے گا، لیکن اس کے بعد مجھے بہت زیادہ پڑھنا پڑا، مجھے نہیں معلوم اور ٹیسٹ پائلٹ بننے کے بعد یہ ایک طرح کا انجینئرنگ ڈسپلن بن جاتا ہے۔ میں نے اس کی تربیت بھی لی، ہمارے سائنسداں نے ہمیں دو تین چار سال پڑھایا، اس لیے مجھے لگتا ہے کہ جب ہم اس مشن کے لیے پہنچے تو ہم بہت اچھی طرح سے تیار تھے۔

 

وزیر اعظم - میں نے جوآپ کو ہوم ورک کہاتھا ، تواس کی کیا پیش رفت ہے؟

شوبھانشو شکلا - بہت اچھی پیش رفت ہوئی ہے سر، اور لوگ مجھ سے بہت ہنسے، اس ملاقات کے بعد انہوں نے مجھے چھیڑا کہ آپ کے وزیر اعظم نے آپ کو ہوم ورک دیا ہے۔ ہاں انہوں نے دیا ہے اور یہ بہت ضروری ہے کہ جناب ہمیں اس کا احساس ہونا چاہیے، میں اسی وجہ سے وہاں گیا تھا۔ مشن کامیاب ہوگیا جناب ہم واپس آگئے ہیں۔ لیکن یہ مشن ختم نہیں ہے، مشن صرف ایک آغاز ہے۔

وزیر اعظم - میں نے اس دن بھی کہا تھا۔

شوبھانشو شکلا - آپ نے اس دن کہا تھا ...

وزیر اعظم - یہ ہمارا پہلا قدم ہے۔

شوبھانشو شکلا - سریہ پہلا قدم ہے ۔ تو اس پہلے قدم کا ، جو بنیادی مقصدتھا، وہ یہی  تھا کہ ہم اس سے کتنا سیکھ سکتے ہیں اور اسے واپس لا سکتے ہیں۔

وزیر اعظم - دیکھیں، سب سے بڑا کام یہ ہوگا کہ ہمارے پاس خلابازوں کا ایک بہت بڑا پول ہونا چاہیے۔ ہمارے پاس 50-40 لوگ تیار ہونے چاہئیں، اب تک بہت کم بچوں کو یہ خیال آیا ہو گا کہ ہاں یاریہ تو اچھی بات ہے، لیکن اب آپ کے آنے کے بعد شاید وہ اعتماد بھی بہت بڑھ جائے گا، راغب بھی ہوں گے۔

شوبھانشو شکلا - سر، جب میں چھوٹا تھا، راکیش شرما سر پہلی بار 1984 میں گئے تھے، لیکن خلاباز بننے کا خواب میرے ذہن میں کبھی نہیں آیا، کیونکہ ہمارے پاس کوئی پروگرام نہیں تھا، کچھ نہیں سر۔ لیکن جب میں اس بار اسٹیشن گیا تو سر، میں نے تین بار بچوں سے بات کی، ایک بار یہ لائیو پروگرام تھا سر، اور دو بار میں نے ان سے ریڈیو کے ذریعے بات کی اور تینوں واقعات میں سر، ہر ایونٹ میں ایک بچہ تھا جس نے سر سے پوچھا کہ میں خلاباز کیسے بن سکتا ہوں۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی کامیابی ہے جناب، کہ آج کے ہندوستان میں اسے خواب دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ ممکن ہے، ہمارے پاس آپشن ہے، اور ہم بن سکتے ہیں۔ اور جیسا کہ آپ نے کہا سر یہ میری ذمہ داری ہے، میں محسوس کرتا ہوں، مجھے اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کے بہت سے مواقع ملے ہیں، اور اب یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہاں تک پہنچاؤں۔

وزیر اعظم – اب خلائی اسٹیشن اور گگن یان

شبھانشو شکلا - سر۔

 

وزیر اعظم - ہمارے دو بڑے مشن ہیں...

شبھانشو شکلا - سر۔

وزیر اعظم – اس میں آپ کا تجربہ  بہت کام آئے گا۔

شبھانشو شکلا - میرے خیال میں سر، کہیں نہ کہیں یہ ہمارے لیے بہت بڑا موقع ہے، خاص طور پر سر، کیونکہ ہماری حکومت نے خلائی پروگرام کے لیے جس طرح کا عہد کیا ہے، جو چندریان-2 جیسی ناکامیوں کے باوجود ہر سال مستقل بجٹ بناتا ہے، سر، اس کے بعد بھی ہم نے کہا نہیں، ہم آگے بڑھیں گے، چندریان-3 کامیاب رہا۔ اسی طرح ناکامیوں کے بعد بھی اگر ہمیں اتنی پذیرائی مل رہی ہے اور پوری دنیا اس کو دیکھ رہی ہے۔ تو کہیں جناب، ہم میں اس میں صلاحیت بھی ہے، اور اس میں کوئی مقام بھی ہے، تو ہم یہاں قائدانہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اور یہ ایک بہت بڑا ٹول ہوگا، اگر کوئی اسپیس اسٹیشن ہو جس کی قیادت بھارت کر رہا ہو، لیکن دوسرے لوگ آکر اس کا حصہ بنیں، سر میں نے سنا ، آپ نے اسپیس مینوفیکچرنگ میں آتم نربھربھارت کے بارے میں بات کی۔ تو یہ سب چیزیں اسی طرح جڑی ہوئی ہیں، جو آپ نے ہمیں ابھی گگن یان اور بی اے ایس اور پھر مون لینڈنگ کا خواب دیا ہے سر، یہ ایک بہت بڑا، بہت بڑا خواب ہے۔

وزیر اعظم - اگر ہم خود انحصار بن کر ایسا کریں گے تو ہم اچھا کریں گے۔

شوبھانشو شکلا - بالکل سر۔

شوبھانشو شکلا – میں نے بہت کوشش کی ہے سر، خلا میں ہندوستان کی تصویریں لینے کے لیے، تو یہ ہندوستان یہاں سے شروع ہے، سر، یہ ٹرائینگل بنگلورو ہے سر، یہ حیدرآباد کراس ہو رہا ہے اور یہ جوچمک آپ دیکھ رہے ہیں سر، یہ سب بجلی چمک رہی ہے سر، یہ جوپہاڑوں میں بھرا ہےسر اور جو یہ کراہوتی ہے، جو ڈارک ایریا  آتا ہے سر یہ ہمالیہ ہے اور یہ اوپر کی طرف جوجا رہے ہیں سر، یہ سب تارے ہیں اور یہ کراس کرتے ہی یہ پیچھے سے سورج آرہا ہےسر۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Tier 2 cities emerge as next frontiers for India's growing GCC ecosystem

Media Coverage

Tier 2 cities emerge as next frontiers for India's growing GCC ecosystem
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India-Australia Roadmap for Sports Collaboration
July 10, 2026

Sports is a powerful bridge between India and Australia, bringing communities together and opening new pathways for collaboration.

Building on the 2023 MoU on Cooperation in Sports, the India-Australia Roadmap for Sports Collaboration sets out practical, future-focused priorities and opportunities to strengthen this cornerstone of our bilateral relationship.

Recognising the decade of opportunity ahead — including the 2030 Commonwealth Games in Ahmedabad, the Brisbane 2032 Olympic and Paralympic Games, and India’s ambition to host a future Olympic and Paralympic Games — this Roadmap identifies targeted areas of cooperation aligned to shared priorities, capabilities and resources.

Respecting differences in the governance of sport and the development of sport ecosystems in Australia and India, and recognising the leadership role of sporting bodies, businesses, state–level governments, universities and community groups in promoting elite and community sports, we are committed to facilitating engagement and supporting collaborative ways of working between relevant institutions, to encourage stronger sports partnerships at all levels that benefits both countries.

Implementation will be pragmatic and outcomes-focused, with activities prioritised in line with available resources and major event timelines.

Cooperation will be delivered through established partnerships, supported by flexible, demand-led arrangements, whereby responsibility for resourcing activities will be negotiated on a case-by-case basis. This approach ensures practical, sustainable and mutually beneficial outcomes.

In this context, the following have been identified as focus areas for collaboration under this Roadmap:

A. Capacity Building:

o Collaborate for sharing best practice in establishing and operating High-Performance Sports Centres in India in priority sports.

o Identify Para sport as a key priority and opportunity for collaboration, including Australian expertise in Para classification, coaching and performance support, with potential links between Indian and Australian universities where appropriate.

o Drawing on Australia’s coach development models, facilitate two-way exchanges that bring Indian coach and coach educators to Australia and Australian coaches and coach educators to India, using a Train the Trainer approach where appropriate.

o A physical education exchange programme between India and Australia may be introduced to facilitate mutual learning, sharing of best practices, and collaboration in areas such as school sports, sports science, and community participation in physical education.

o Recognising the physical and mental health benefits of yoga and the World Yogasana, the federation for yogasana sports based in India, identify opportunities to share knowledge, foster collaboration and encourage participation in yoga in Australia.

o Work with the Australian Sports Commission to build the capability of select Indian coaches as part of the India Australia High Performance Coach Development program.

o Explore opportunities through relevant non-government stakeholders such as sporting organisations and universities to support talented young Indian sportspersons as part of high-performance programs in Australia through student scholarships funded by Government of India.

B. Collaborative Sports Science and Technology Research:

o Encourage joint research and development projects between universities in India and Australia on athlete performance analytics, injury prevention, sports nutrition, wearable performance technology, recovery techniques and Para sport.

o Encourage partnerships between Indian and Australian universities to co-develop sports curriculums.

o Sport Integrity Australia and National Anti-Doping Agency India contribute to international anti-doping efforts by supporting World Anti-Doping Agency (WADA)-led capacity building programs through engagement with the WADA Asia/Oceania Office, and through representation on the UNESCO International Convention against Doping in Sport (Convention) Groups.

C. Major Sporting Events:

o Collaborate with Australian States and Territories, and National Sporting Organisations to exchange best practices for hosting large events.

o Explore opportunities to host exhibition matches and youth events in both countries to promote sports of mutual interest (such as Kabaddi and Kho Kho in Australia, and Australian Football League and basketball in India).

o Leverage the build-up to major sporting events such as Olympic, Paralympic and Commonwealth Games to establish formal, reciprocal arrangements between Indian and Australian sporting bodies for shared facilities, competitions and support networks during and in the build-up to major sporting events.

o Welcoming the inaugural Big Bash League match to be played in India in Chennai in December 2026, encourage Cricket Australia and the Board of Control for Cricket in India to work towards a commitment to host annual BBL matches in India.

D. Sports Industry and Investment Platform:

o Build on the Australia-funded Sports Industry Summit in Mumbai in December 2026 to promote collaboration between Indian and Australian companies on sports equipment manufacturing, sports media and broadcasting, event management, and sports start-ups.

o Facilitate Australian sports sector businesses in the Indian sports market through information sessions and vice-versa.

o Expand India’s export of high quality, competitively priced sports goods to Australia.

o Expand the export of Australian expertise in high performance sports, including coaching, coach development, strength and conditioning, athlete wellbeing, nutrition and psychology.

E. Women in Sports Partnership:

o Launch joint initiatives promoting women’s leadership, health, high performance and participation in sport, including bilateral tournaments for women athletes, drawing on the Australian Sports Commission’s flagship programs, recognising that sport is a powerful pathway for women’s economic empowerment, leadership, health and social inclusion.