نئی نسل کو ہنر مند اور ماہربنانا قومی ضرورت اور آتم نربھر بھارت کی بنیاد ہے: وزیر اعظم
ہنرمندی کا جشن منانا ہماری ثقافت میں شامل ہے: وزیر اعظم
معاشرے میں ہنر مند کارکنوں کے لئےعزت واحترام کا جذبہ پروان چڑھانے کی ضرورت
'پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا' کے تحت 1.25 کروڑ سے زیادہ نوجوانوں کو تربیت دی گئی ہے: وزیر اعظم
دنیا کو ذہین اور ہنر مند افراد فراہم کرنے میں ہندوستان کو کلیدی کردار ادا کرنا ہے اور یہی ہماری حکمت عملی کا بنیادی مقصد ہونا چاہئے: وزیر اعظم
بھارت کی ہنرمند افرادی قوت نے وبائی امراض کے خلاف موثر جنگ میں مدد کی: وزیر اعظم
نوجوانوں کو ہنر مند بنانے، نئے نئے فنون میں مہارت پیدا کرنے نیز ہنرمندی کو جلا بخشنے کے مشن کو پوری طرح سے جاری و ساری رکھنا چاہئے: وزیر اعظم
اسکل انڈیا مشن ،کمزور طبقات کو ہنرمند بناکر ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے وژن کو پورا کررہا ہے: وزیر اعظم

نمسکار!

ورلڈ یوتھ اسکل ڈے کے موقع پر تمام نوجوان ساتھیوں کو بہت بہت مبارکباد! یہ دوسری مرتبہ ہے جب ہم عالمی وبا کورونا وائرس کے دوران اس اہم ترین دن کو منا رہے ہیں۔

اس عالمی وبا کے چیلنجوں نے ورلڈ یوتھ اسکل ڈے (نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے عالمی دن)کی اہمیت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ایک اور بات جو کافی اہمیت کی حامل ہے ، وہ یہ کہ ہم اس وقت اپنی آزادی کے 75 سال کا جشن منا رہے ہیں۔ 21ویں صدی میں پیدا ہوئے آج کے نوجوان ، بھارت کے ترقی کے سفر کوآزادی کے 100 برسوں  تک آگے بڑھانے والے ہیں۔ اس لیے نئی نسل کے نوجوانوں کو ہنرمند بنانا ایک قومی ضرورت ہے، خود کفیل بھارت کی بھی یہ اہم ترین بنیاد ہے۔ گذشتہ 6 برسوں میں جو بنیاد ہم نے بنائی ہے، جو نئے ادارے بنے ہیں، اس کی پوری طاقت جوڑ کر ہمیں از سر نو اسکل انڈیا مشن کو رفتاردینی  ہی ہے۔

ساتھیوں،

جب کوئی معاشرہ ہنرمندی اور مہارت کو اہمیت دیتا ہے تو اس سے معاشرے کی بھی 'اپ سکلنگ'(ہنرمندی کو جلا بخشنے کی قوت)پروان چڑھتی ہے، ترقی بھی ہوتی ہے۔ دنیا اس بات سے بخوبی واقف بھی ہے۔ لیکن بھارت کی سوچ اس سے بھی دو قدم آگے کی رہی ہے۔ ہمارے اسلاف نے ہنرمندی کو اہمیت دینے کے ساتھ ہی انہوں نے اس کا جشن بھی منایا ہے۔ ہنرمندی اور مہارت کو معاشرے کے جشن اور خوشی کا حصہ بنا دیا ہے۔ آپ دیکھیئے، ہم وجے دشمی کو ہتھیاروں اور اوزاروں کی پوجا کرتے ہیں۔ اکشے ترتییہ کو کسان فصل دی، زراعت سے منسلک ساز و سامان اور آلات کی پوجا کر تے ہیں۔ بھگوان وشوکرما کی پوجا تو ہمارے ملک میں ہر ہنرمند، ہر طرح کی دستکاری سے جڑے لوگوں کے لیے بہت بڑا تہوار  رہا ہے۔ہمارے یہاں مذہبی کتابوں(صحیفوں) میں یہ ہدایت دی گئی ہے۔

ویواہ دیشو یگیہ شو، گرہ آرام ودھایکےI

سرو کرم سو سمپوجیو، وشوکرما ایتی شروتمII

اس کا مطلب یہ ہوا کہ: شادی بیاہ ہو، نئے گھر میں داخلہ ہو، یا کوئی اور یگیہ /پوجاسے متعلق سماجی کام ہو، اس میں بھگوان وشوکرما کی پوجا، ان کا احترام ضرور کیا جانا چاہیے۔ وشوکرما کی پوجا یعنی معاشرتی زندگی میں الگ الگ ثقافتی کام کرنے والے ہمارے وشوکرماؤں کا احترام، ہنرمندی اور مہارت کا احترام ہے۔ لکڑی کے کاریگر، دھاتوں کا کام کرنے والے، صفائی ستھرائی کرنے والے، باغات کو خوبصورت بنانے والے باغباں/مالی، مٹی کے برتن بنانے والے کمہار، ہاتھ سے کپڑا بُننے والے بنکر ساتھی، ایسے کتنے ہی لوگ ہیں جنہیں  ہماری روایات نے خصوصی عزت و احترام سے نوازا ہے۔

مہا بھارت کے بھی ایک اشلوک میں کہا گیا ہے –

وشوکرما نمس تیستو، وشوکرما سنبھوہ: I

یعنی، جن کی وجہ سے دنیا میں سب کچھ ممکن ہوتا ہے، ان وشوکرما کو نمسکار ہے۔وشوکرما کو وشوکرما کہا ہی اس لیے جاتا ہے کیوں کہ ان کے کام کے بغیر، ہنرمندی اور مہارت کے بنا سماج کا وجود ہی ناممکن ہے۔ لیکن بدقسمتی سے غلامی کے طویل عرصے میمں اسکل ڈولپمنٹ کا انتظام و انصرام ہمارے سماجی نظام میں، ہمارے تعلیمی نظام میں آہستہ آہستہ کمزور پڑتی گئی۔

ساتھیوں،

تعلیم اگر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، تو ہنرمند ہمیں سکھاتی ہے کہ وہ کام یقینی طور پر کیسا ہوگا۔ ملک کا اسکل انڈیا مشن اسی سچائی، اسی ضرورت کے ساتھ قدم سے قدم ملانے کی مہم ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ 'پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا'کے وسیلے سے اب تک سوا کروڑ سے زائد نوجوانوں کو تربیت دی جا چکی ہے۔

ساتھیوں!

میں ایک واقعے کے بارے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔ ایک بار اسکل ڈولپمنٹ کو لے کر کام کر رہے کچھ افسران نے مجھ سے ملاقات کی۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اس سمت میں اتنا کام کر رہے ہیں، کیوں نہ آپ ایسے ہنر کی ایک فہرست بنائیں، جن کی ہم اپنی زندگی میں خدمات حاصل کرتے ہیں۔ آ پ کو حیران ہوں گے، جب انہوں نے سرسری طور پر فہرست سازی کی تو ایسی 900 سے زائد مہارتیں نکلیں جن کی ہمیں ہر روز ضرورت پڑتی ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسکل ڈولپمنٹ کا کام کتنا بڑا ہے۔ آج یہ ضروری ہے کہ آپ کے تعلیم کا سلسلہ روزی روٹی میں لگ جانے کے باوجود رُکے نہیں۔آج دنیا میں ہنر مندی کی اتنی زیادہ مانگ ہے کہ جو ہنرمند ہوگا وہی ترقی کے منازل طے کرے گا۔ یہ باتیں انسانوں پر بھی نافذ ہوتی ہیں۔ اور ملک پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔ دنیا کے لیے ایک اسمارٹ اور ماہر افرادی قوت کا حل بھارت دے سکے، یہ ہمارے نوجوانوں کے لیے مہارت کی ترقی کا اصل مقصد ہونا چاہیے۔اس کے پیش نظر گلوبل اسکل گیپ کی میپنگ (عالمی ہنرمندی میں واقع فاصلے کی تفصیلات)جوکی جا رہی ہے، و ہ قابل ستائش قدم ہے۔ اس لیے ، ہمارے نوجوانوں کے لیے ہنرمندی کا فروغ،از سر نو مہارت حاصل کرنے کا جذبہ اور ہنرمندی کو جلا بخشنے کا مشن مسلسل رواں دواں رہنا چاہیے۔

بڑے بڑے ماہرین آج اندازہ کر رہے ہیں کہ جس طرح تیز رفتاری کے ساتھ ٹکنالوجی بدل رہی ہے، آنے والے 3-4 برسوں میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو از سر نو ہنرمند بنانے کی ضرورت پڑے گی۔ اس کے لیے بھی ہمیں  ملک کو تیار کرنا ہوگا۔ اور کورونا کے اس دور میں ہی ہم سب نے ہنرمندی اور ماہر افرادی قوت کی اہمیت کو بہت قریب سے دیکھا ہے، محسوس کیا ہے۔ ملک کورونا کے خلاف اتنا موثر جنگ اسی لیے لڑ سکا، تو اس میں بھی ہمارے ماہر ہنرمندوں کی بہت بڑی شراکت ہے۔

ساتھیوں،

باباصاحب امبیڈکرنے نوجوانوں کی، کمزور طبقات کی ہنرمندی پر بہت زور دیا تھا۔ آج اسکل انڈیا کے ذریعہ ملک بابا صاحب کے اس دور اندیشانہ سوچ اور خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر، قبائلی سماج کے لیے ملک نے 'گوئنگ آن لائن ایز لیڈرز'یعنی جی او اے ایل پروگرام شروع کیا ہے۔ یہ پروگرام روایتی ہنرمندی کے شعبوں، جیسے کہ آرٹ ہو، ثقافت ہو، ہینڈی کرافٹ ہو، ٹکسٹائل ہو، ان میں قبائلی بھائی-بہنوں کی ڈیجیٹل خواندگی اور ہنرمندی میں مدد کرکے گا، ان میں انٹر پرونیئرشپ ڈیولپ کرے گا۔اسی طرح ون دھن  منصوبہ بھی آج قبائلی سماج کو نئے مواقع سے جوڑنے کا ایک موثر وسیلہ بن رہا ہے۔ ہمیں آنے والے دنوں میں اس طرح کی مہم کو اور زیادہ وسیع بنانا ہے، ہنرمندی کے ذریعہ خود کو اور ملک کو خودکفیل بنانا ہے۔

ان ہی نیک خواہشات کے ساتھ، آپ تمام کا بہت بہت شکریہ

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
UPI — an eventful journey

Media Coverage

UPI — an eventful journey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 53rd PRAGATI Meeting
August 25, 2026
PM reviews six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of more than ₹30,000 crore
PM says Infrastructure projects should be viewed as an integrated whole, rather than as individual sections or packages
PM calls for continuous reforms across all stages of project implementation and a proactive work culture across Ministries and States
PM says Speed must go hand-in-hand with quality
While reviewing AgriStack, PM emphasises the need to leverage the latest digital technologies including AI to derive greater value from agricultural data
On cyber fraud and ‘digital arrest’, PM stresses training, public awareness, cyber-safety education and coordinated action

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 53rd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform for Pro-Active Governance and Timely Implementation, at Seva Teerth earlier today.

During the meeting, Prime Minister reviewed six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors, spanning nine States with a cumulative cost of more than ₹30,000 crore. The projects, significant for strengthening connectivity, supporting industrial and economic activity and improving public services, were reviewed with particular emphasis on adherence to timelines, inter-agency coordination, resolution of pending issues and expeditious completion.

Prime Minister emphasised that delays in infrastructure projects have consequences beyond cost escalation, as they also postpone the benefits intended for citizens, businesses and the economy. He said that infrastructure projects should be viewed and monitored as an integrated whole, rather than as isolated sections, stretches or packages. He noted that progress in individual packages should ultimately translate into timely completion and operationalisation of the entire project. Ministries and States were therefore asked to adopt an end-to-end approach, and address critical gaps that could delay the overall commissioning and delivery of benefits. He called for fostering a proactive work culture across Ministries and State Governments, with greater ownership at every level of project implementation.

Prime Minister stressed the need to explore common utility corridors for infrastructure services, wherever feasible, particularly while planning major transport and infrastructure projects. He called upon Ministries and States to examine such integrated approaches at the planning stage itself, keeping in view their technical and economic feasibility.

Prime Minister said that speed of execution must be accompanied by uncompromising quality. He called upon Ministries, States and implementing agencies to adopt modern technologies and strengthen quality assurance and supervision at every stage.

While reviewing AgriStack under the Digital Agriculture Mission, Prime Minister emphasised the need to leverage the latest digital technologies, including Artificial Intelligence, to derive greater value from agricultural data. He stressed that the data ecosystem should be effectively utilised across the agricultural value chain, from input planning to processing, enabling more informed interventions, better targeting and data-driven decision-making. He appreciated the efforts of the States and the Central Government in building the AgriStack ecosystem and called for further strengthening its use for delivering better outcomes for farmers.

During the review of cyber fraud cases, including incidents of digital arrest, Prime Minister said that prevention must be strengthened through a sustained focus on training, awareness and education. He stressed the need for continuous and targeted public-awareness campaigns, particularly for senior citizens, youth and other vulnerable sections, to familiarise them with common fraud techniques, warning signs and safe digital practices. He also called for regular capacity-building of personnel involved so that emerging modes of cyber fraud are identified and acted upon swiftly.