جنھوں نے پاکستان میں بیٹھ کر ہماری بہنوں کے سندور کو مٹایا، ہماری فوج نے ان کے ٹھکانوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا: وزیر اعظم
بھارت کی بیٹیوں کے سندور کی طاقت کو پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا نے بھی دیکھا! : وزیر اعظم
وہ دن دور نہیں جب ماؤ نواز تشدد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، امن، سلامتی، تعلیم اور ترقی ہر گاؤں تک بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچ جائے گی: وزیر اعظم
پٹنہ ہوائی اڈے کے ٹرمینل کو جدید بنانے کا بہار کے لوگوں کا دیرینہ مطالبہ اب پورا ہو گیا ہے: وزیر اعظم
ہماری حکومت نے مکھانا بورڈ کا اعلان کیا ، بہار کے مکھانا کو جی آئی ٹیگ دیا، جس سے مکھانا کے کسانوں کو بے حد فائدہ ہوا: وزیر اعظم

بہار کے خوددار اور محنتی بھائیو اور بہنو! آپ سب کو میرا پرنام!

بہار کے گورنر محترم جناب عارف محمد خان جی، ہمارے مقبول وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی جناب جیتن رام مانجھی جی،للن سنگھ جی، گری راج سنگھ جی، چیراغ پاسوان جی، نِتیانند رائے جی، ستیش چندر دوبے جی، راج بھوشن چودھری جی، ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری جی، جناب وجے کمار سنہا جی، موجود دیگر وزراء، عوامی نمائندگان اور بہار کے میرے پیارے بھائیو اور بہنو!

آج مجھے اس مقدس زمین پر بہار کی ترقی کو نئی رفتار دینے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ یہاں تقریباً پچاس ہزار کروڑ روپے سے زائد کی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔ آپ سب بڑی تعداد میں ہمیں دعاؤں سے نوازنے کے لیے تشریف لائے ہیں، آپ کا یہ پیار، بہار کی یہ محبت، میں ہمیشہ دل و جان سے قدر کرتا ہوں۔

اور آج بہار میں اتنی بڑی تعداد میں ماؤں اور بہنوں کا آنا، یہ خود بہار کے میرے ان تمام پروگراموں میں سب سے بڑی اور شاندار بات ہے۔ میں ماؤں اور بہنوں کو خاص طور پر سلام پیش کرتا ہوں۔ میں آپ تمام عوام الناس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 

ساتھیوں،

سہسرام کی اس زمین کے نام میں بھی "رام" شامل ہے، سہسرام ۔ سہسرام  کے لوگ جانتے ہیں کہ خداوند شری رام اور ان کے خاندان کی روایت کیا تھی: "(جان جائےپر وچن نہ جائے یعنی جان جائے مگر وعدہ نہ جائے"۔ یعنی، جو وعدہ ایک بار کیا جائے، اسے پورا کرنا لازم ہوتا ہے۔
بھگوان شری رام کی یہی روایت اب نئے بھارت کی پالیسی بن گئی ہے۔

حال ہی میں پہلگام، جموں و کشمیر میں دہشت گرد حملہ ہوا تھا، ہمارے کتنے بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ اس وحشیانہ دہشت گرد حملے کے صرف ایک دن بعد میں بہار آیا تھا اور میں نے بہار کی زمین سے پورے ملک کو وعدہ کیا تھا، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔ بہار کی اس زمین پر میں نے کہا تھا کہ انہیں تصور سے بھی زیادہ سزا دی جائے گی۔

آج جب میں بہار آیا ہوں تو اپنا وہ وعدہ پورا کرنے آیا ہوں۔ جن لوگوں نے پاکستان میں بیٹھ کر ہماری بہنوں کے سُندور کو چھینا تھا، ہماری فوج نے ان کے ٹھکانوں کو کھنڈر بنا دیا ہے۔
بھارت کی بیٹیوں کے سُندور کی طاقت کیا ہوتی ہے، یہ پاکستان نے بھی دیکھا اور دنیا نے بھی دیکھا۔

جس پاکستانی فوج کی چھتری تلے دہشت گرد اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے تھے، ہماری افواج نے ایک ہی وار میں انہیں گھٹنوں پر لا دیا۔ پاکستان کے ہوائی اڈے، ان کے فوجی ٹھکانے، ہم نے چند ہی منٹوں میں تباہ کر دیے۔
یہ نیا بھارت ہے، یہ نئے بھارت کی طاقت ہے۔

بہار کے میرے پیارے بھائیوں اور بہنوں،

یہ ہمارا بہار ہے، ویروں کے سردار کُنور سنگھ کی زمین ہے۔ یہاں کے ہزاروں نوجوان ملک کی حفاظت کے لیے فوج، بی ایس ایف میں اپنی جوانی قربان کر دیتے ہیں۔ آپریشن سندور میں دنیا نے ہماری بی ایس ایف کا بے مثال حوصلہ اور بے مثل بہادری دیکھی ہے۔ ہماری سرحدوں پر تعینات بی ایس ایف کے بہادر جوان حفاظت کی ناقابل تسخیر چٹان ہیں، ماں بھارت کی حفاظت ہمارے بی ایس ایف کے جوانوں کے لیے سب سے اہم فرض ہے۔

اور اسی وطن کی خدمت کا مقدس فرض نبھاتے ہوئے، 10 مئی کو سرحد پر بی ایس ایف کے سب انسپکٹر امتياز شہید ہو گئے تھے۔ میں بہار کے اس بہادر بیٹے کو دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

 

اور آج میں بہار کی زمین سے دوبارہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپریشن سندور میں بھارت کی وہ طاقت جو دشمن نے دیکھی ہے، لیکن دشمن جان لے کہ یہ تو ہمارے ترکش کا فقط ایک ہی تیر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بھارت کی لڑائی نہ رکی ہے اور نہ رکے گی۔ اگر دہشت گرد دوبارہ سر اٹھائیں گے تو بھارت انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔

ساتھیوں،

ہماری لڑائی ملک کے ہر دشمن سے ہے، چاہے وہ سرحد کے پار ہو یا ملک کے اندر۔ گزشتہ برسوں میں ہم نے ان لوگوں کا کیسے خاتمہ کیا ہے جو تشدد اور افراتفری پھیلاتے تھے، اس کے گواہ بہار کے لوگ ہیں۔ آپ سوچیں، کچھ سال پہلے تک سہسرام ، کیمور اور آس پاس کے ان اضلاع میں کیا حالات تھے؟ نکسلیوں کا راج کیسے تھا؟ نقاب اوڑھے ہوئے، ہاتھوں میں بندوق تھامے، نکسلی کب اور کہاں سڑکوں پر نکل آئیں گے، ہر کسی کو خوف ستائے رکھتا تھا۔ سرکاری منصوبے آتے تھے مگر عام لوگوں تک پہنچتے نہیں تھے۔ نکسلی متاثرہ دیہاتوں میں نہ کوئی ہسپتال ہوتا تھا، نہ موبائل ٹاور۔ کبھی اسکول جلائے جاتے تھے، کبھی سڑک بنانے والوں کو قتل کر دیا جاتا تھا۔ ان لوگوں کا بابا صاحب امبیڈکر کے دستور پر کوئی یقین نہیں تھا۔

نیتیش جی نے ان حالات میں بھی یہاں ترقی کی بھرپور کوشش کی۔ 2014 کے بعد سے ہم نے اس راہ میں تیزی سے کام کیا۔ ہم نے ماؤ نوازوں کو ان کے کیے کی سزا دینی شروع کی۔ ہم نے نوجوانوں کو ترقی کی مرکزی دھارے میں شامل کیا۔ 11 سال کی محنت کا پھل آج ملک کو ملنا شروع ہوا ہے۔ 2014 سے پہلے ملک میں 125 سے زائد اضلاع نکسلی متاثرہ تھے، اب صرف 18 ضلعے باقی رہ گئے ہیں۔ اب حکومت سڑکیں دے رہی ہے، روزگار دے رہی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب ماؤ نوازوں کا تشدد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، اور امن، تحفظ، تعلیم اور ترقی ہر گاؤں تک بغیر رکاوٹ پہنچیں گے۔

ساتھیوں،

جب حفاظت اور امن آتا ہے، تبھی ترقی کے نئے راستے کھلتے ہیں۔ یہاں نیتیش جی کی قیادت میں جب جنگل راج والی حکومت کو رخصت کیا گیا، تو بہار ترقی کے راستے پر آگے بڑھنے لگا۔ ٹوٹے ہوئے ہائی وے، خراب ریلوے، چند محدود فلائٹ کنیکٹیویٹی — وہ دور اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے، پیچھے رہ گیا ہے۔

 

ساتھیوں،

کبھی بہار میں صرف ایک ہی ہوائی اڈہ تھا — پٹنہ۔ آج دربھنگہ ایئرپورٹ بھی شروع ہو چکا ہے۔ اب یہاں سے دہلی، ممبئی، بنگلور جیسے شہروں کی فلائٹس دستیاب ہیں۔ بہار کے لوگوں کی دیرینہ مانگ تھی کہ پٹنہ ایئرپورٹ کے ٹرمینل کو جدید بنایا جائے، اور یہ خواہش بھی اب پوری ہو گئی ہے۔ کل شام مجھے پٹنہ ایئرپورٹ کی نئی ٹرمینل بلڈنگ کا افتتاح کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ نیا ٹرمینل اب ایک کروڑ مسافروں کو سہولت فراہم کر سکتا ہے۔ بھٹہ ایئرپورٹ پر بھی 1400 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

ساتھیوں،

بہار میں آج ہر طرف فور لین اور سکس لین سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ پٹنہ سے بکسار، گیا جی سے دوبھی، پٹنہ سے بودھ گیا، پٹنہ-آرا-سہسرام  گرین فیلڈ کورِڈور، ہر جگہ تیزی سے کام جاری ہے۔ گنگا، سون، گنڈک، کوسی سمیت تمام اہم دریاؤں پر نئے پل تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ ہزاروں کروڑ روپے کی یہ منصوبہ بندی بہار میں نئے مواقع اور امکانات پیدا کر رہی ہے۔ ان منصوبوں سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ یہاں سیاحت اور تجارت دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔

ساتھیوں،

بہار میں ریلوے کی حالت بھی اب تیزی سے بدل رہی ہے۔ آج بہار میں عالمی معیار کی وندے بھارت ٹرینیں چل رہی ہیں، ریلوے لائنوں کو ڈبل اور ٹرپل کیا جا رہا ہے، چھپرا، مظفرپور، کتہار جیسے علاقوں میں کام تیزی سے ہو رہا ہے۔ سون نگر اور آندال کے درمیان ملٹی ٹریکنگ کا کام جاری ہے، جس سے ٹرینوں کا آنا جانا تیز ہوگا۔ سہسرام  میں بھی اب سو سے زیادہ ٹرینیں رکتی ہیں۔ یعنی ہم پرانی مشکلات کو دور کر رہے ہیں اور ریلوے کا جدید کاری بھی کر رہے ہیں۔

بھائیو اور بہنو،

یہ کام پہلے بھی ہو سکتے تھے۔ لیکن جن لوگوں پر بہار کو جدید ٹرینیں دینے کی ذمہ داری تھی، انہوں نے ریلوے میں بھرتی کے نام پر آپ کی زمین لوٹی ہے، غریبوں کی زمین تحریر کر لی، سماجی انصاف کے ان کے یہی طریقے تھے — غریب کو لوٹنا، اس کے حقوق چھیننا، اس کی مجبوریاں کا فائدہ اٹھانا، اور پھر راج شاہی کی خوشیاں منانا۔ بہار کے عوام کو جنگل راج والوں کے جھوٹ اور دھوکے سے ہوشیار رہنا بہت ضروری ہے۔

 

ساتھیوں،

بجلی کے بغیر ترقی ادھوری ہے۔ جب بجلی ہوتی ہے، تو صنعتی ترقی ہوتی ہے، جب بجلی ہوتی ہے تو زندگی آسان ہوتی ہے۔ اور اکیسویں صدی تو ٹیکنالوجی کی دوڑ والی صدی ہے۔ اس لیے ہر جگہ بجلی کی ضرورت رہے گی۔ گزشتہ سالوں میں، بہار میں بجلی پیداوار پر بہت زور دیا گیا ہے۔ آج بہار میں بجلی کی کھپت دس سال پہلے کے مقابلے میں چار گنا بڑھ چکی ہے۔ نوبینگر میں این ٹی پی سی کا بڑا پاور پروجیکٹ بنایا جا رہا ہے، جس پر 30 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ اس سے بہار کو 1500 میگا واٹ بجلی ملے گی۔ بکسار اور پیرپینتی میں بھی نئے تھرمل پاور پلانٹ شروع کیے جائیں گے۔

-

بھائیوں اور بہنوں،

اب ہمارا دھیان مستقبل کی طرف ہے۔ ہمیں بہار کو گرین انرجی کی جانب لے جانا ہے۔ اسی لیے کجرہ میں سولر پارک کا قیام بھی جاری ہے۔ پی ایم-کسوم اسکیم کے تحت کسانوں کو شمسی توانائی سے آمدنی کے نئے ذرائع دیے جا رہے ہیں۔ رینیوایبل ایگریکلچر فیڈر کے ذریعے کھیتوں کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ ہمارے ان اقدامات کا اثر یہ ہوا ہے کہ یہاں لوگوں کی زندگی بہتر ہوئی ہے، خواتین خود کو محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔

 

ساتھیوں،

جب ریاست میں جدید انفراسٹرکچر آتا ہے، تو سب سے زیادہ فائدہ دیہات، غریب، کسان اور چھوٹے صنعتکاروں کو ہوتا ہے، کیونکہ وہ ملک اور بیرون ملک کے بڑے بازاروں سے جڑ پاتے ہیں۔ ریاست میں نئی سرمایہ کاری آتی ہے تو نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ آپ دیکھیں، پچھلے سال بہار بزنس سمٹ میں بڑی تعداد میں کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری کے لیے آگئیں۔ جب ریاست میں صنعت آتی ہے تو لوگوں کو مزدوری کے لیے نقل مکانی نہیں کرنا پڑتی، کسانوں کو بھی نئے راستے ملتے ہیں۔ نقل و حمل کی سہولیات بہتر ہونے سے ان کی پیداوار دور دور تک پہنچ پاتی ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

ہماری حکومت بہار کے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ یہاں 75 لاکھ سے زائد کسانوں کو پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت مالی امداد دی جا رہی ہے۔ ہماری حکومت نے مکھانا بورڈ کا اعلان کیا ہے۔ ہم نے بہار کے مکھانوں کو جی آئی ٹیگ دیا ہے، جس سے مکھانا کسانوں کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ اس سال کے بجٹ میں ہم نے بہار میں فوڈ پروسیسنگ کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ کا بھی اعلان کیا ہے۔ چند دن پہلے ہی کابینہ نے کھریف کے موسم کے لیے، جس میں دھان سمیت 14 فصلیں شامل ہیں، کم از کم حمایتی قیمت (ایم ایس پی) بڑھانے کی منظوری دی ہے۔ اس سے کسانوں کو اپنی فصلوں کا بہتر دام ملے گا اور آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

 

ساتھیوں،

جن لوگوں نے بہار کو سب سے زیادہ لوٹا، جن کے دور میں بہار کے غریب اور محروم طبقات کو بہار چھوڑ کر جانا پڑا، آج وہی لوگ اقتدار حاصل کرنے کے لیے سماجی انصاف کا جھوٹ بول رہے ہیں۔ دہائیوں تک بہار کے دلت، پچھڑوں اور آدیواسیوں کے پاس بیت الخلاء تک نہیں تھا، دہائیوں تک ان بھائیوں اور بہنوں کے پاس بینک میں کھاتہ نہیں تھا، بینکوں میں ان کے لیے داخلہ بند تھا، دروازے تک بھی جانے نہیں دیا جاتا تھا۔ دلت اور پچھڑے طبقے کے سب سے زیادہ لوگ جھگی جھونپڑیوں میں زندگی گزار رہے تھے، ان کے پاس پکا گھر بھی نہیں تھا، وہ بے گھر تھے، کروڑوں لوگوں کے سر پر چھت تک نہیں تھی۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں، بہار کے لوگوں کی یہ حالت، یہ درد، یہ تکلیف کیا کانگریس اور آر جے ڈی کا سماجی انصاف تھا؟ غریبوں کو اس طرح مجبور کرنے والی پالیسیاں بنانے والے، ساتھیوں، اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ کانگریس اور آر جے ڈی والوں نے کبھی دلت، پچھڑوں کی اتنی تکلیف کا خیال نہیں رکھا۔ یہ لوگ بیرونی ملکوں سے لوگوں کو بہار کی غربت دکھانے کے لیے لاتے تھے۔ اب جب دلت، محروم اور پچھڑا طبقہ کانگریس کو اس کے گناہوں کی وجہ سے چھوڑ چکا ہے، تو انہیں اپنا وجود بچانے کے لیے سماجی انصاف کی باتیں یاد آ رہی ہیں۔

بھائیوں اور بہنوں،

بہار میں اور پورے ملک میں سماجی انصاف کا نیا سویرا این ڈی اے کے دور میں دکھا ہے۔ ہم نے غریبوں تک زندگی سے جڑی بنیادی سہولیات پہنچائی ہیں۔ ہم ان سہولیات کو سو فیصد مستحقین تک پہنچانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ چار کروڑ نئے مکانات، 3 کروڑ بہنوں کو لاکھ پتی بنانے کا مشن، 12 کروڑ سے زیادہ گھروں میں نل کا کنکشن، 70 سال سے زائد عمر کے ہر بزرگ کو 5 لاکھ روپے تک مفت علاج، ہر ماہ مفت راشن کی سہولت — ہماری حکومت ہر غریب اور ضرورت مند کے ساتھ کھڑی ہے۔

ساتھیوں،

ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بھی گاؤں چھوٹے نہیں، کوئی بھی حق دار خاندان حکومت کی اسکیموں سے محروم نہ رہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اسی سوچ کے تحت بہار حکومت نے ڈاکٹر بھیمراؤ امبیڈکر سمگر سہوا مہم شروع کی ہے۔ اس مہم میں 22 اہم اسکیمیں ایک ساتھ لے کر حکومت گاؤں گاؤں، ٹولا ٹولا پہنچ رہی ہے۔ ہمارا مقصد ہے — ہر دلت، مہادلت، پچھڑے، اتی پچھڑے اور غریب کے گھر تک براہِ راست پہنچنا۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اب تک 30 ہزار سے زائد کیمپ لگ چکے ہیں اور لاکھوں لوگ اس مہم سے جُڑ چکے ہیں۔ جب حکومت خود مستحقین تک پہنچتی ہے تو نہ کوئی تعصب ہوتا ہے، اور نہ ہی کوئی بدعنوانی۔ تبھی سچا سماجی انصاف ہوتا ہے۔

ساتھیو،

ہمیں اپنے بہار کو بابا صاحب امبیڈکر، کرپوری ٹھاکر، بابو جگجیوَن رام اور جے پی کے خوابوں کا بہار بنانا ہے۔ ہمارا مقصد ہے — ترقی یافتہ بہار، ترقی یافتہ بھارت! کیونکہ جب بھی بہار نے ترقی کی ہے، بھارت دنیا میں چوٹی پر پہنچا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم سب مل کر ترقی کی رفتار کو اور آگے بڑھائیں گے۔ میں ایک بار پھر آپ سب کو ان ترقیاتی کاموں کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔ میرے ساتھ دونوں ہاتھ اٹھا کر، مٹھی بند کر کے بولیں

بھارت ماتا کی جے۔

یہ آواز دور دور تک پہنچنی چاہیے۔ سرحد پر کھڑے ہمارے جوان کا سینہ فخر سے چوڑا ہو جانا چاہیے۔

بھارت ماتا کی جے۔ بھارت ماتا کی جے۔

بھارت ماتا کی جے۔ بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
'Children's future won't be compromised': PM Modi hails anti-paper leak Bill in new late-night video

Media Coverage

'Children's future won't be compromised': PM Modi hails anti-paper leak Bill in new late-night video
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Andhra Pradesh and Karnataka on 1 August
July 31, 2026
PM to lay the foundation stone, inaugurate and dedicate to the nation multiple development projects worth over ₹17,900 crore in Bhogapuram in Vizianagaram, Andhra Pradesh
PM to inaugurate the Alluri Sitarama Raju International Airport at Bhogapuram
State-of-the-Art Greenfield Airport developed at cost of ₹5,640 crore, to strengthen Air Connectivity and drive Regional Growth
Airport Terminal Design Inspired by Andhra Pradesh's Chuttilu Cottages, Araku Valley and the Flying Fish
PM to lay Foundation Stone of Andhra Pradesh's First Semiconductor Manufacturing Facility
PM to inaugurate the Swami Vivekananda Cultural Youth Centre - Viveka Smaraka at Sri Ramakrishna Ashrama in Mysuru
Viveka Smaraka commemorates Swami Vivekananda's historic visit to Mysuru in November 1892
Viveka Smaraka to Inspire Youth Through Value-Based Education, Leadership and Personality Development

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Andhra Pradesh and Karnataka on 1 August 2026. At around 11 AM, the Prime Minister will undertake a walk-through of the passenger terminal building of Alluri Sitarama Raju International Airport at Bhogapuram in Vizianagaram district, Andhra Pradesh. At around 11:30 AM, he will inaugurate the airport and lay the foundation stone, inaugurate and dedicate to the nation multiple development projects worth over ₹17,900 crore in Bhogapuram. He will address the gathering on the occasion. Thereafter, at around 3:30 PM, the Prime Minister will inaugurate the Swami Vivekananda Cultural Youth Centre - Viveka Smaraka at Sri Ramakrishna Ashrama in Mysuru. He will also address the gathering on the occasion

PM in Andhra Pradesh

Prime Minister Shri Narendra Modi will inaugurate the Alluri Sitarama Raju International Airport at Bhogapuram, Andhra Pradesh. Developed under the Public-Private Partnership (PPP) mode at a cost of over ₹5,640 crore, the Greenfield airport has been designed to handle 6 million passengers annually.

The passenger terminal building has been designed to provide a modern, seamless and efficient travel experience. The airport incorporates advanced infrastructure, cutting-edge technologies and sustainable features to enhance operational efficiency and meet future aviation requirements.

The airport has been equipped with advanced technologies such as Artificial Intelligence (AI), Building Information Modelling (BIM), Airside 4.0 technologies, Airport Predictive Operations Centre (APOC), biometric passenger processing, automated baggage handling systems and intelligent operational monitoring solutions. These systems are expected to enhance operational efficiency, improve passenger convenience and safety, and optimise resource utilisation.

The project incorporates several sustainability features, including energy-efficient heating, ventilation and air conditioning (HVAC) systems, energy-efficient lighting, a 5 MW solar power plant, rainwater harvesting, smart building management systems, waste management initiatives, electric vehicle charging infrastructure, and environmental monitoring measures. The terminal has been designed in accordance with Green Building Standards and is registered with the U.S. Green Building Council (USGBC).

The airport's architectural design draws inspiration from the cultural heritage of Andhra Pradesh. The terminal's roof profile reflects the traditional Chuttilu cottages and the landscapes of the Araku Valley, while its flowing form symbolises the graceful movement of a flying fish, blending regional architectural elements with contemporary airport design. The airport is expected to provide a significant boost to tourism, trade, investment and employment generation in Andhra Pradesh while strengthening air connectivity in the region.

Prime Minister will lay the foundation stone of the ASIP Semiconductor Project at Visakhapatnam, being developed with an investment of over ₹460 crore. The facility is being developed by ASIP Technologies Pvt Ltd in partnership with APACT, Republic of Korea. It is Andhra Pradesh's first semiconductor manufacturing facility approved under the India Semiconductor Mission. The facility will manufacture around 96 million semiconductor chips annually and create high-skilled employment opportunities, while also fostering a robust ancillary ecosystem to support semiconductor manufacturing.

Prime Minister will lay the foundation stone for the Transmission System for Integration of Kurnool-IV Renewable Energy Zone (REZ) - Phase-I (4.5 GW), being implemented by POWERGRID through a Special Purpose Vehicle (SPV), with an investment of about ₹5,550 crore.

Prime Minister will also inaugurate the Transmission System for Kurnool Wind Energy Zone / Solar Energy Zone (Andhra Pradesh) – Part A & Part B, implemented at a cost of around ₹3,550 crore, and the Transmission Scheme for Solar Energy Zone in Ananthapuram (2,500 MW) and Kurnool (1,000 MW), implemented by POWERGRID at a cost of over ₹820 crore.

These transmission projects will enable the evacuation of power generated from the renewable energy zones in Kurnool and Ananthapuram and the transmission of power to beneficiaries across the country through the National Grid. They will facilitate the integration of a large quantum of renewable energy into the grid, improve the availability of clean power for demand centres, and contribute to India's energy transition and decarbonisation efforts by reducing dependence on fossil fuel-based power generation.

Prime Minister will dedicate to the nation and lay the foundation stone of National Highway projects worth over ₹1,880 crore. The projects to be dedicated include the four-lane access-controlled Greenfield highway from Recherla to Guruvaygudem section of NH-365BG, the four-lane access-controlled Greenfield highway from Guruvaygudem to Devarapalle section of NH-365BG, and the four-lane Tadipatri Bypass on NH-67. Prime Minister will also lay the foundation stone of the high-level bridge at Lingasamudram on the Penchalakona–Yerpedu section of NH-565. These projects will ease congestion in Vijayawada and several other cities, improve road safety, reduce travel distance and travel time between Visakhapatnam and Hyderabad, and promote regional connectivity.

PM in Karnataka

Prime Minister Shri Narendra Modi will inaugurate the Swami Vivekananda Cultural Youth Centre - Viveka Smaraka at Mysuru, Karnataka.

The Viveka Smaraka commemorates Swami Vivekananda's historic visit to Mysuru in November 1892 during his journey across India. During his stay, he delivered discourses, interacted with scholars and devotees, and received the patronage of Maharaja Sri Chamarajendra Wadiyar X, whose support enabled his journey to the Parliament of Religions in Chicago in 1893.

Established at the historic Niranjana Math, the Viveka Smaraka is spread across a built-up area of over 81,000 square feet and comprises a main building and an annex block. It houses a 4-D Experience Centre, an exhibition hall, an amphitheatre with a seating capacity of around 700, classrooms, conference rooms, a library, a reading room, a meditation and yoga hall, and a book stall. The centre also includes dedicated facilities for students preparing for competitive examinations.

Dedicated to the life, message and ideals of Swami Vivekananda, the Cultural Youth Centre aims to serve as a vibrant hub for value-based education, leadership development and personality building. It is expected to benefit more than 10,000 students from nearby educational institutions, as well as urban and rural youth, through lectures, workshops, short-term courses and capacity-building programmes inspired by Swami Vivekananda's philosophy of nation-building and character development.