Yatra to extended beyond 26th January
“Yatra’s Vikas Rath has turned into Vishwas Rath and there is trust that no one will be left behind”
“ Modi worships and values people who were neglected by everyone”
“VBSY is a great medium of the last mile delivery”
“For the first time a government is taking care of transgenders”
“People’s faith and trust in government is visible everywhere”

نمسکار!

میرے پریوار جنو!

وکست بھارت سنکلپ یاترا کے 2 ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ اس یاترامیں چلنے والا ترقی کا رتھ اعتماد  کا رتھ ہے اور اب لوگ اسے ضمانت کا رتھ بھی کہہ رہے ہیں۔ یہ مانا جاتا ہے کہ کوئی بھی محروم نہیں رہے گا، اسکیموں کے فائدے سے کوئی محروم نہیں رہے گا۔ اس لیے جن گاؤں میں مودی کی گارنٹی کی گاڑی ابھی تک نہیں پہنچی، وہ اب اس کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ پہلے ہم نے 26 جنوری تک اس یاترا کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن ہمیں اتنا تعاون ملا ہے، اتنی مانگ بڑھ گئی ہے، کہ  ہر گاؤں کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ مودی کی گارنٹی والی گاڑی ہمارے پاس آنی چاہیے۔ چنانچہ جب مجھے اس کا علم ہوا تو میں نے اپنے سرکاری افسروں سے کہا کہ اس میں تھوڑی سی توسیع کی جائے، 26 جنوری تک نہیں۔ لوگوں کو اس کی ضرورت ہے، لوگوں کی مانگ ہے تو ہمیں اسے پورا کرنا ہے۔ اور اس لیے شاید چند دنوں کے بعد یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ وہ فروری کے مہینے میں بھی مودی کی گارنٹی والی گاڑی چلائیں گے۔

ساتھیو!

جب ہم نے یہ سفر 15 نومبر کو بھگوان برسا منڈا کے آشیرواد سے شروع کیا، تو ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ اتنا کامیاب ہوگا۔  ماضی میں مجھے کئی بار اس یاترا میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ میں نے ذاتی طور پر بہت سے مستفیدین سے بات کی۔ صرف دو مہینوں میں تیار ہونے والی بھارت سنکلپ یاترا ایک عوامی تحریک میں بدل گئی ہے۔ مودی کی گارنٹی والی گاڑی جہاں بھی پہنچ رہی ہے ، لوگ بڑے پیار سے اس کا استقبال کر رہے ہیں۔ اب تک 15 کروڑ لوگ وکست بھارت سنکلپ یاترا میں شامل ہو چکے ہیں۔ اور ہمارے وزیر صحت منسکھ بھائی، نے آپ کو بہت سے اعداد و شمار بتائے، یہ یاترا ملک کی تقریباً 70 سے 80 فیصد پنچایتوں تک پہنچ چکی ہے۔

 

ساتھیو!

وکست بھارت سنکلپ یاترا کا بنیادی مقصد ایسے لوگوں تک پہنچنا تھا، جو کسی نہ کسی وجہ سے اب تک سرکاری اسکیموں سے محروم تھے۔ اور مودی جی ایسے لوگوں سے پوچھتے ہیں جنہیں کسی نے نہیں پوچھا۔ اگر کوئی آج مطالعہ کرے، تو اسے پتہ چلے گا کہ وکست بھارت سنکلپ یاترا جیسی مہم آخری شخص تک  پہنچے  کا سب سے بہترین وسیلہ ہے۔ اس یاترا کے دوران 4 کروڑ سے زیادہ لوگوں کا طبی معائنہ کیا گیا ہے۔ اس یاترا کے دوران 2.5 کروڑ لوگوں کا ٹی بی کا ٹیسٹ کیا گیا۔ قبائلی علاقوں میں 50 لاکھ سے زائد لوگوں کی سکیل سیل انیمیا کی جانچ کی جا چکی ہے۔

وکست بھارت سنکلپ یاترا میں سیچوریشن  کی اپروچ  نے حکومت کو بہت سے محروم لوگوں کی دہلیز  تک پہنچا یا ۔ اس یاترا  کے دوران 50 لاکھ سے زیادہ آیوشمان کارڈ دیے گئے ہیں۔ 50 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے انشورنس اسکیموں کے لیے درخواستیں دی ہیں ۔ پی ایم کسان یوجنا میں 33 لاکھ سے زیادہ نئے مستفیدین کو شامل کیا گیا۔ کسان کریڈٹ کارڈ میں 25 لاکھ سے زیادہ نئے مستفیدین کو شامل کیا گیا۔ 22 لاکھ سے زیادہ نئے مستفیدین نے مفت گیس کنکشن کے لیے درخواست دی ہے۔ پی ایم سواندھی کے فوائد حاصل کرنے کے لیے 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے درخواست دی ہے۔

اور ساتھیو !

کروڑوں اور لاکھوں کی یہ تعداد کسی کے لیے محض اعداد و شمار ہوں گے لیکن میرے لیے ہر نمبر صرف ایک اعداد و شمار نہیں ہے، میرے لیے یہ ایک زندگی ہے، یہ میرے  ہندوستانی بھائی یا بہن، میرے خاندان کا فرد ہے، جو اب تک اسکیم  کے فائدے سے محروم تھے اور اس لیے ہماری کوشش ہے کہ ہر شعبے میں  ہم  سیچوریشن کی طرف بڑھیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ہر ایک کو غذائیت، صحت اور علاج کی ضمانت دی جائے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہر خاندان کو مستقل مکان ملے اور ہر گھر کو گیس کنکشن، پانی، بجلی اور بیت الخلاء کی سہولت حاصل ہو۔ ہماری کوشش ہے کہ صفائی کا دائرہ وسیع کیا جائے۔ ہر گلی، ہر محلہ، ہر خاندان کو اس میں شامل ہونا چاہیے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہر ایک کے پاس بینک اکاؤنٹ ہو، اور اسے خود روزگار میں آگے بڑھنے کا موقع ملے۔

ساتھیو!

اس طرح کا کام جب نیک نیتی اور دیانتداری کے ساتھ کیا جائے تو اس کے نتائج بھی برآمد ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں غربت میں کمی کے حوالے سے جو نئی رپورٹ آئی ہے ،وہ بہت حوصلہ افزا ہے۔ اور صرف ہندوستان میں ہی نہیں، اس نے دنیا کو ہندوستان کی طرف دیکھنے، طرز حکمرانی کے ماڈل کو دیکھنے اور دنیا کے غریب ممالک غربت سے نکلنے کے لیے کون سا  راستہ تلاش کرسکتے ہیں ، اس کے لئے  یہ بہت بڑا کام ہوا ہے۔ اور تازہ ترین رپورٹ کیا ہے، تازہ ترین رپورٹ یہی کہتی ہے (یہ ابھی ایک ہفتہ پہلے آئی ہے)۔ اس تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہماری حکومت کے گزشتہ 9 سالوں میں تقریباً 25 کروڑ لوگ غربت سے باہر آئے ہیں۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ہندوستان میں غربت کبھی کم ہو سکتی ہے۔ لیکن ہندوستان کے غریبوں نے دکھایا ہے کہ اگر غریبوں کو وسائل مل جائیں، تو وہ غربت کو شکست دے سکتے ہیں۔

 

گزشتہ 10 برسوں میں ہماری حکومت نے، جس طرح کا شفاف نظام قائم کیا ہے ، حقیقی کوششیں کیں ہیں اور عوامی شراکت کو فروغ دیا ہے، اس نے ناممکن کو بھی ممکن بنا دیا۔ حکومت غریبوں کے لیے کس طرح کام کر رہی ہے ،اس کا اندازہ بھی پی ایم آواس یوجنا سے لگایا جا سکتا ہے۔ پچھلے 10 سالوں میں 4 کروڑ سے زیادہ غریب خاندانوں کو ان کے مستقل مکان مل چکے ہیں۔  4 کروڑ غریب خاندانوں کو اپنے مستقل مکان ملنا کتنی بڑی کامیابی ہے اور غریبوں کو کتنی بڑی نعمت مل رہی ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان گھروں میں سے 70 فیصد سے زیادہ مکانات  خواتین کے نام پر رجسٹرڈ ہیں، ہماری بہنیں  مالک بن چکی ہے۔ انہیں غربت سے نکالنے کے ساتھ ساتھ، اس اسکیم نے خواتین کو بااختیار بنانے میں مدد کی ہے۔

دیہی علاقوں میں مکانات کا حجم بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ پہلے حکومت اس میں مداخلت کرتی تھی کہ گھر کیسے بنیں گے، اب لوگ اپنی مرضی کے گھر بنا رہے ہیں۔ حکومت نے ہاؤسنگ اسکیموں کے تحت مکانات کی تعمیر میں بھی تیزی لائی ہے۔ جب کہ پہلے کی حکومتوں میں گھر بنانے میں 300 دن سے زیادہ کا وقت لگتا تھا، اب پی ایم آواس ہاؤسز کی تعمیر کا اوسط وقت تقریباً 100 دن ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم پہلے سے تین گنا زیادہ تیزی سے مستقل گھر بنا رہے ہیں اور غریبوں کو دے رہے ہیں۔ یہ رفتار ہے، ہے نا، یہ صرف کام کی رفتار نہیں ہے، ہمارے دلوں میں غریبوں کے لیے جو جگہ ہے، غریبوں کے لیے محبت ہے، وہ ہمیں بھاگنے پر مجبور کرتی ہے اور اس لیے کام تیزی سے ہو جاتا ہے۔ اس طرح کی کوششوں نے ملک میں غربت کو کم کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔

ساتھیو !

ہماری حکومت کس طرح پسماندہ افراد کو ترجیح دے رہی ہے، اس کی ایک مثال تیسری صنف  کا معاشرہ ہے۔ اور ابھی میں تیسری  صنف  کے معاشرے  کے نمائندے سے تفصیل سے بات کر رہا تھا، آپ نے سنا ہوگا۔ آزادی کے بعد، اتنی دہائیوں تک کسی نے خواجہ سراؤں کی پرواہ نہیں کی۔ یہ ہماری حکومت ہے ،جس نے پہلی بار تیسری صنف  کی برادری کی مشکلات کے بارے میں فکر کی تھی اور ان کی زندگی کو آسان بنانے کو ترجیح دی۔ سال 2019 میں، ہماری حکومت نے تیسری صنف کی برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک قانون بنایا۔ اس سے نہ صرف تیسری صنف کی برادری کو معاشرے میں باعزت مقام حاصل کرنے میں مدد ملی،  بلکہ ان کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو ختم کرنے میں بھی مدد ملی۔ حکومت نے ہزاروں لوگوں کو تیسری صنف کے شناختی سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا اور اب خواجہ سرا برادری کے نمائندے نے کہا کہ انہوں نے سب کو آئی کارڈ دے دیا ہے۔ ان کے لیے ایک سرکاری سکیم ہے اور تیسری صنف کی برادری بھی ہماری مدد کر رہی ہے۔ اور جیسا کہ کچھ دیر پہلے ہونے والی گفتگو میں انکشاف ہوا، ہماری تیسری صنف کی برادری بھی غریبوں کی فلاح و بہبود کی مختلف اسکیموں کے فائدے مسلسل حاصل کر رہی ہے۔

میرے پیارے  پریوار جنو !

ہندوستان بدل رہا ہے  اور بہت تیزی سے بدل رہا ہے ۔ آج لوگوں کا اعتماد، حکومت پر ان کا اعتماد اور نئے ہندوستان کی تعمیر کا ان کا عزم ہر جگہ نظر آتا ہے۔ ابھی دو دن پہلے میں پی ایم جنم ابھیان کے پروگرام میں انتہائی پسماندہ قبائلی برادری کے لوگوں سے بات کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ کس طرح قبائلی گاؤں کی خواتین مل کر گاؤں کی ترقی کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ یہ ان دیہات کی خواتین ہیں، جہاں آزادی کے کئی دہائیوں بعد بھی زیادہ تر لوگوں کو ترقیاتی اسکیموں کا پورا فائدہ نہیں ملا تھا۔ لیکن ان گاؤں کی خواتین باشعور ہیں، وہ اپنے خاندان اور سماج کو اسکیموں کا فائدہ پہنچانے میں مصروف عمل ہیں۔

آج کے پروگرام میں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح اپنی مدد آپ گروپ میں شامل ہونے کے بعد، بہنوں کی زندگیوں میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے۔ 2014 سے پہلے، ملک میں اپنی مدد آپ گروپس بنانا ایک سرکاری پروگرام تھا جو صرف کاغذوں تک ہی محدود تھا، اور زیادہ تر لیڈروں  کے پروگراموں  کے لیے بھیڑ جمع کرنا تھا۔ اس سے پہلے اس بات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی کہ  اپنی مدد آپ گروپس کو کس طرح مالی طور پر مضبوط ہونا چاہیے اور اپنے کام کو کیسے پھیلانا چاہیے۔

یہ ہماری حکومت ہے جس نے زیادہ سے زیادہ اپنی مدد آپ گروپس کو بینکوں سے جوڑا ہے۔ ہم نے بغیر کسی ضمانت  کے انہیں قرض دینے کی حد بھی 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دی۔ ہماری حکومت کے پچھلے 10 سالوں میں تقریباً 10 کروڑ بہنیں اپنی مدد آپ گروپس میں شامل ہوئی ہیں۔ انہیں خود روزگار کے لیے بینکوں سے 8 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی مدد ملی ہے۔ یہ تعداد کم نہیں ہے، ہم نے ان غریب ماؤں کے ہاتھ میں 8 لاکھ کروڑ روپے دینے کی ہمت کی ہے۔ کیونکہ مجھے اپنی ان ماؤں بہنوں پر پورا بھروسہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر انہیں  موقع ملا تو وہ پیچھے نہیں رہے گی۔ ہزاروں بہنوں نے نئے منصوبے شروع کیے ہیں۔ 3 کروڑ خواتین کو خواتین کسانوں کے طور پر بااختیار بنایا گیا ہے۔ ملک کی لاکھوں بہنیں خوشحال اور خود کفیل  بن چکی ہیں۔

 

اس مہم کو تیز کرتے ہوئے حکومت نے تین سالوں میں 2 کروڑ لکھ پتی دیدیاں بنانے کا کام شروع کیا ہے۔ اپنی مدد آپ گروپس سے وابستہ خواتین کو روزگار کے نئے وسیلے فراہم کرنے کے لیے نمو ڈرون دیدی ... اب بات ہوگی چندریان کی، لیکن جب میری اپنی مدد آپ گروپ کی بہن گاؤں میں ڈرون چلا رہی ہو اور مدد کر رہی ہو تو کیسا ہو گا؟ کھیتی باڑی کا کام؟آپ سوچ سکتے ہیں کہ کیا ہوگا...اس کے تحت نمو ڈرون دیدیوں کو 15 ہزار ڈرون دستیاب کرائے جائیں گے۔ اب ان کی تربیت کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ اور مجھے خوشی ہے کہ اب تک ایک ہزار سے زیادہ نمو ڈرون دیدیوں کی تربیت مکمل ہو چکی ہے۔ نمو ڈرون دیدی کی وجہ سے اپنی مدد آپ گروپس کی آمدنی بڑھے گی، ان کی خود کفالت بڑھے گی، گاؤں کی بہنوں کو ایک نیا اعتماد ملے گا، اور یہ ہمارے کسانوں کے لیے بھی بہت مددگار ثابت ہوگا۔

میرے پریوار جنو !

ہماری حکومت کی ترجیح دیہی معیشت کو جدید بنانا اور کسانوں کو بااختیار بنانا ہے۔ اس لیے حکومت چھوٹے کسانوں کی طاقت بڑھانے، کاشتکاری پر ان کے اخراجات کو کم کرنے اور انہیں مارکیٹ میں بہتر قیمت  دلانے کے قابل بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ملک میں 10 ہزار نئی کسان پیداواری یونین-  ایف پی اوز بنانے کی مہم شروع کی گئی ہے۔ آج ان میں سے تقریباً 8 ہزار ایف پی اوز بن چکے ہیں۔

حکومت مویشیوں کے تحفظ کے لیے بھی یکساں کوششیں کر رہی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کووِڈ کے دوران انسانوں کو ویکسین لگتی ہے، جانیں بچ جاتی ہیں۔ انہوں نے اس کے بارے میں سنا اور اس کی تعریف کی کہ مودی نے مفت میں ویکسین لگائی، جان بچ گئی... خاندان بچ گیا۔ لیکن اس سے آگے مودی کی سوچ کیا ہے، مودی کیا کام کرتے ہیں؟ ہر سال ہمارے جانوروں میں پاؤں اور منہ کی بیماری کی وجہ سے کسانوں اور چرواہوں کو ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

اس سے دودھ کی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے آزادی کے بعد پہلی بار ایک بہت بڑی مہم چلائی گئی ہے۔ اس کے تحت اب تک 50 کروڑ سے زیادہ مویشیوں  کو ٹیکے لگائے  جا چکے ہیں۔ اس پر بھی حکومت نے 15 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کئے ہیں ۔  اس مہم کا ہی نتیجہ ہے کہ ملک میں دودھ کی پیداوار میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ اس سے مویشیوں  کے چرواہے، جانور پالنے والے کسان اور ملک کو فائدہ ہوا ہے۔

ساتھیو !

آج دنیا کے مقابلے میں ہندوستان میں نوجوانوں  کی  سب سے  زیادہ تعداد ہے۔ ملک میں نوجوانوں کی  طاقت کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے مسلسل کام کیا جا رہا ہے اور یہ وکست بھارت سنکلپ یاترا بھی اس میں مدد کر رہی ہے۔ اس دوران کئی کوئز مقابلے منعقد کیے گئے۔ اس کے علاوہ ملک کے کونے کونے میں ہمارے باصلاحیت کھلاڑیوں کو بھی نوازا جا رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد وکست بھارت سنکلپ یاترا میں 'میرا بھارت رضاکار' کے طور پر رجسٹر ہو رہی ہے۔ اس یاترا کے دوران کروڑوں لوگوں نے ہندوستان کو ترقی یافتہ بنانے کا عہد کیا ہوا ہے۔ یہ قراردادیں ملک کو ترقی یافتہ قوم بنانے کی توانائی دے رہی ہیں۔ ہم سب 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کا سفر مکمل کرنے کے تئیں پرعزم ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ بھی اس مہم میں حصہ لیں گے۔ ایک بار پھر، میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کے ساتھ مجھے بات چیت کرنے کا موقع ملا اور آپ نے اتنی بڑی تعداد میں مودی کی گارنٹی شدہ گاڑی کا خیرمقدم کیا اور اس کا احترام کیا، اس لیے آپ سب کا بہت شکریہ۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
A Leader for a New Era: Modi and the Resurgence of the Indian Dream

Media Coverage

A Leader for a New Era: Modi and the Resurgence of the Indian Dream
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Srinagar Viksit Bharat Ambassadors Unite for 'Viksit Bharat, Viksit Kashmir'
April 20, 2024

Srinagar hosted a momentous gathering under the banner of the Viksit Bharat Ambassador or VBA 2024. Held at the prestigious Radisson Collection, the event served as a unique platform, bringing together diverse voices and perspectives to foster the nation's collective advancement towards development.

Graced by the esteemed presence of Union Minister Shri Hardeep Singh Puri as the Chief Guest, the event saw the attendance of over 400 distinguished members of society, representing influencers, industry stalwarts, environmentalists, and young minds, including first-time voters. Presidents of Chambers of Commerce, Federation of Kashmir Industrial Corporation, House Boat Owners Association, and members of the writers' association were also present.

The VBA 2024 meetup began with an interesting panel discussion on Viksit Kashmir, which focused on the symbiotic relationship between industry growth and sustainable development. This was followed by an interactive session by Minister Puri, who engaged with the attendees through an engaging presentation. Another event highlight was the live doodle capture by a local artist of the discussions.

Union Minister Hardeep Singh Puri discussed how India has changed in the last decade. He said India is on track to become one of the world's top three economies, surpassing Germany and Japan soon.

 

"The country is set to surpass Germany and Japan and will become the world's third-largest economy by 2027-28," he said.

 

According to official estimates, India's economy is projected to reach a remarkable $40 trillion by 2040. Presently, the economy stands at approximately $3.5 trillion.

He also stressed that India's progress is incomplete without a developed Kashmir.

 

"Bharat cannot be Viksit without a Viksit Kashmir," he said.

Hardeep Puri reflected on India's economic journey, noting that in the 1700s, India contributed a significant 25% to the global GDP. However, as experts documented, this figure gradually dwindled to a mere 2% by 1947.

 

He highlighted how India, once renowned as the 'sone ki chidiya' (golden bird), lost its economic strength during British colonial rule and continued to struggle even after gaining independence, remaining categorized under the 'Fragile Five' until 2014.

 

Puri emphasized that the true shift in India's economic trajectory commenced under the Modi government. Over the past decade, the nation has ascended from among the top 11 economies to ranking among the top 5 globally.

The Union Minister also encouraged everyone to participate in the Viksit Bharat 2047 mission, emphasizing that achieving this dream requires the active engagement and coordination of all "ambassadors" of change.

He highlighted India's rapid progress in metro network development, stating that the operational metro network spans approximately 950 kilometres. He expressed confidence that within the next 2-3 years, India's metro network will expand to become the second-largest globally, surpassing that of the United States.

 

Regarding Jammu and Kashmir, he mentioned that through the Smart project, over 68 projects totalling Rs 6,800 crores were conceptualized, with Rs 3,200 crores worth of projects already completed.

 

He further stated that Jammu and Kashmir possesses more potential than Switzerland but has faced setbacks due to man-made crises. He emphasized the Modi government's dedication to the comprehensive development of the region.

The minister highlighted a significant government policy shift from women-centred to women-led development. Drawing from his extensive experience as a diplomat spanning 39 years, he shared that when a country transitions to women-led development, there is typically a substantial GDP increase of 20-30%. 

He mentioned that the government is actively pursuing this objective, citing examples such as the Awas Yojana, where houses are registered in the names of women household members, and the implementation of 33% reservation for women in elected bodies as part of this broader mission. 

He also provided insight into the transformative impact of the Modi government's welfare policies on people's lives. He highlighted the Ujjwala Yojana, noting that 32 crore individuals have received LPG cylinders, a significant increase from the 14 crore connections in 2014. Additionally, he mentioned the expansion of the gas pipeline network, which has grown from 14,000 km to over 20,000 km over the past ten years.

The Vision of Viksit Bharat: 140 crore dreams, 1 purpose 

The Viksit Bharat Ambassador movement aims to encourage citizens to take responsibility for contributing to India's development. VBA meet-ups and events are being organized in various parts of the country to achieve this goal. These events provide a platform for participants to engage in constructive discussions, exchange ideas, and explore practical strategies for contributing to the movement.

Join the movement on the NaMo App: https://www.narendramodi.in/ViksitBharatAmbassador

The NaMo App: Bridging the Gap

Prime Minister Narendra Modi's app, the NaMo App, is a digital bridge that empowers citizens to participate in the Viksit Bharat Ambassador movement. The NaMo App serves as a one-stop platform for individuals to:

Join the cause: Sign up and become a Viksit Bharat Ambassador and make 10 other people

Amplify Development Stories: Access updates, news, and resources related to the movement.

Create/Join Events: Create and discover local events, meet-ups, and volunteer opportunities.

Connect/Network: Find and interact with like-minded individuals who share the vision of a developed India.

The 'VBA Event' section in the 'Onground Tasks' tab of the 'Volunteer Module' of the NaMo App allows users to stay updated with the ongoing VBA events.