Launches new Complaint Management System portal of CVC
“For a developed India, trust and credibility are critical”
“Earlier governments not only lost people’s confidence but they also failed to trust people”
“We have been trying to change the system of scarcity and pressure for the last 8 years. The government is trying to fill the gap between supply and demand”
“Technology, service saturation and Aatmnirbharta are three key ways of tackling corruption”
“For a developed India, we have to develop such an administrative ecosystem with zero tolerance on corruption”
“Devise a way of ranking departments on the basis of pending corruption cases and publish the related reports on a monthly or quarterly basis”
“No corrupt person should get political-social support”
“Many times the corrupt people are glorified in spite of being jailed even after being proven to be corrupt. This situation is not good for Indian society”
“Institutions acting against the corrupt and corruption like the CVC have no need to be defensive”
“When you take action with conviction, the whole nation stands with you”

میرے کابینہ کے ساتھی ڈاکٹر جتیندر سنگھ جی، پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر پی کے مشرا، جناب راجیو گوبا، سی وی سی جناب سریش پٹیل، دیگر تمام کمشنرز، خواتین و حضرات!

یہ ویجیلنس ہفتہ سردار صاحب کے یوم پیدائش سے شروع ہوا ہے۔ سردار صاحب کی پوری زندگی ایمانداری، شفافیت اور عوامی خدمت کے لیے وقف تھی۔ اور اسی عزم کے ساتھ، آپ نے ویجیلنس کے بارے میں بیداری کی یہ مہم چلائی ہے۔ اس بار آپ سبھی ’ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے بدعنوانی سے پاک ہندوستان‘ کے عزم کے ساتھ ویجیلنس ہفتہ منا رہے ہیں۔ یہ  عزم  آج کے وقت کا تقاضہ ہے، موزوں ہے اور اہل وطن کے لیے بھی یکساں اہمیت کا حامل ہے۔

ساتھیو،

ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے اعتماد اور اعتبار دونوں بہت اہم ہیں۔ حکومت پر عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد سے عوام کی خود اعتمادی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ہمیں یہ بھی مشکل پیش آئی کہ حکومتیں نہ صرف عوام کا اعتماد کھو بیٹھیں بلکہ عوام پر اعتماد کرنے میں بھی پیچھے رہیں۔  غلامی کے لمبے دور سے ہمیں بدعنوانی کی ، استحصال کی ، وسائل پر کنٹرول کی  جو وراثت ملی، اس  کی بدقسمتی سے آزادی کے بعد  مزید توسیع  کی گئی اور اس کا بہت بڑا نقصان ملک کی چار چار پیڑھیوں نے اٹھایا ہے ۔

لیکن آزادی کے اس امرت کال میں ہمیں  دہائیوں سے چلے آرہے اس طریقے کو  پوری طرح تبدیل کردینا ہے۔ اس بار 15 اگست کو  لال قلعہ سے بھی  میں  کہا  ہے کہ گزشتہ  آٹھ برسوں کی محبت، سادھنا، کچھ پہل، اس کے بعد   اب  بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کا وقت آگیا ہے۔ اس پیغام سمجھتے ہوئے ، اس راستے پر چلتے ہوئے  ہم ترقی یافتہ بھارت کی طرف تیزی سے جاپائیں گے۔

ساتھیو،

ہمارے ملک میں بدعنوانی  کی اور اہل وطن کو آگے بڑھنے سے روکنے والی دو وجوہات رہی ہیں۔ ایک - سہولیات کا فقدان اور دوسری - حکومت کا غیر ضروری دباؤ۔لمبی مدت  تک ہمیں  یہاں سہولیات کے، مواقع کے فقدان کو برقرار رکھا گیا، ایک گیپ، ایک خلا کو بڑھنے دیا گیا۔ اس سے ایک غیر صحت مند مقابلہ شروع ہوا، جس میں کسی بھی فائدہ کو ،  کسی بھی سہولت کو دوسرے سے پہلے پانے کا مقابلہ شروع ہوگیا۔ اس رسہ کشی نے  بدعنوانی کا ایکو سسٹم تیار کرنے کے لیے ایک طرح سے  کھاد اور پانی کا کام  کیا۔ راشن کی دکان پر لائن، گیس کنکشن سے لے کر سلنڈر بھروانے میں لائن، بل بھرنا ہو، ایڈمیشن  لینا  ہو ، لائسنس لینا  ہو،  کوئی پرمیشن لینی ہو، سب جگہ لائن۔ یہ لائن جتنی لمبی ، بدعنوانی کی زمین اتنی ہی  مالا مال۔ اور اس طرح  کی بدعنوانی کا سب سے زیادہ  نقصان اگر کسی کو اٹھانا پڑتا ہے تو وہ ہے  ملک کا غریب اور ملک کا متوسط ​​طبقہ۔

جب ملک کا غریب اور متوسط ​​طبقہ  اپنی توانائی انہیں وسائل کے انتظام میں لگا دے گا تو پھر ملک کیسے آگے بڑھے گا، کیسے ترقی کرے گا؟ اس لئے ہم گزشتہ 8 سالوں سے فقدان اور دباؤ سے  تیار ہونے والے اس نظام کو تبدیل  کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مانگ اور سپلائی کے خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے کئی راستے چنے ہیں۔

تین اہم باتوں  کی طرف توجہ مبذول کرانا  چاہتا ہوں۔ ایک جدید ٹیکنالوجی کا راستہ، دوسرا بنیادی سہولتوں کے سیچوریشن کا مقصد اور تیسرا خود کفیلی کا راستہ۔ اب  جیسے  راشن  کو ہی لیجئے گزشتہ 8 سالوں میں ہم نے پی ڈی ایس کو ٹیکنالوجی سے جوڑا  اور کروڑوں فرضی  استفادہ کنندگان کو سسٹم سے باہر کردیا۔

اسی طرح ڈی بی ٹی سے اب حکومت کے ذریعہ دیا جانے والا فائدہ  براہ راست مستفیدین تک پہنچایا جا ر ہاہے۔ اس ایک قدم کی وجہ سے ابھی تک 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ رقم غلط ہاتھوں میں جانے سے بچی  ہے۔  کیش پر مبنی معیشت  میں رشوت خوری ، کالا دھن  اس کا پتہ لگانا کتنا مشکل ہے، یہ ہم سب جانتے ہیں۔

اب ڈیجیٹل سسٹم میں لین دین کا مکمل تفصیلات کہیں زیادہ  آسانی سے دستیاب ہو رہی ہیں۔ گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس - جی ای ایم جیسے سسٹم سے  سرکاری خریداری میں کتنی شفافیت آئی ہے، یہ جو بھی اس کے ساتھ جڑ رہے ہیں اس کی اہمیت کو سمجھ رہے ہیں، محسوس کرررہے ہیں۔

ساتھیو،

کسی بھی سرکاری اسکیم کے ہر  ایک مستحق  استفادہ کنندہ تک پہنچنا، سیچوریشن کے مقاصد کو حاصل کرنا معاشرے میں تفریق ختم کرتا ہے اور بدعنوانی کی گنجائش بھی ختم کر دیتا ہے۔ جب حکومت اور حکومت کے مختلف محکمے خود ہی آگے بڑھ کر ہر ایک اہل شخص کو  تلاش کررہے ہیں،  اس کے دروازے پر  جاکر دستک دیتے  ہیں تو جو بچولئے بیچ میں بنے رہتے تھے ، ان کا رول بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے ہماری حکومت  ذریعہ  ہر اسکیم میں سیچوریشن کے اصول کو اپناگیا ہے۔ ہر گھر جل ، ہر غریب کو پکی چھت، ہر غریب کو بجلی کا کنکشن، ہر غریب کو گیس کا کنکشن، یہ اسکیمیں حکومت کی اسی اپروچ کو  ظاہر کرتی ہیں۔

ساتھیو،

بیرونی ممالک پر بہت زیادہ انحصار بھی بدعنوانی کی ایک بڑی وجہ رہی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کیسے دہائیوں تک ہمارے دفاعی شعبے کو بیرونی ممالک پر منحصر رکھا گیا۔ اس کی وجہ سے  کتنے ہی گھوٹالے ہوئے۔ آج ہم دفاع کے شعبے میں خود  کفیلی کی جو  کوشش کررہے ہیں  اس سے بھی  ان گھوٹالوں کا اسکوپ ختم ہوگیا ہے۔ رائفلوں سے لے کر فائٹر جیٹس اور ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ  تک، آج ہندوستان خود تیار کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ دفاع ہی نہیں بلکہ باقی ضرورتوں  کے لیے ہمیں بیرونی ممالک سے  خریداری پر کم سے کم انحصار کرنا پڑے، خود کفیلی کی ایسی کوششوں کو آج فروغ دیا جا رہا ہے۔

ساتھیو،

سی وی سی  شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سب  کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرنے والی تنظیم  ہے۔ اب پچھلی بار میں نے آپ سبھی سے پریونٹیو ویجیلنس پر دھیان  دینے کی اپیل کی تھی۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے اس سمت میں کئی اقدامات کئے ہیں۔ اس کے لیے جو 3 ماہ کی مہم چلائی گئی ہے وہ بھی قابل ستائش ہے، میں آپ کو اور آپ کی پوری ٹیم کو مبارکباد  دیتا ہوں۔ اور اس کے لیے آپ آڈٹ، انسپیکشن کا ایک روایتی طریقہ آپ اپنا رہے ہیں۔ لیکن اس کو اور زیادہ   جدید،  زیادہ ٹیکنالوجی ڈرائیون  کیسے بنائیں ، اس کو لے کر  بھی آپ  ضرور سوچتے رہے ہیں اور سوچنا بھی چاہیے۔

ساتھیو،

بدعنوانی کے خلاف حکومت جس قوت ارادی کا مظاہرہ کر رہی ہے، ویسی ہی قوت ارادی تمام محکموں میں بھی نظر آنی  ضروری ہے۔ ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے، ہمیں ایک ایسا ایڈمنسٹریٹیو ایکو سسٹم تیار کرنا ہے جو بدعنوانی پر زیرو ٹالیرینس رکھنا ہو ۔  یہ آج حکومت کی پالیسی میں، حکومت کی قوت ارادی میں، حکومت کے فیصلوں میں، آپ  ہر جگہ پر دیکھتے ہوں گے لیکن یہی جذبہ ہمارے انتظامی سسٹم کے ڈی این اے میں بھی مضبوطی سے تیار ہونا چاہیے۔ یہ جذبہ یہ ہے کہ جو  بدعنوان افسر ہوتے ہیں ان کے خلاف کارروائی چاہے وہ مجرمانہ ہو یا  پھرمحکمہ جاتی، برسوں تک چلتی رہتی ہے۔ کیا ہم بدعنوانی سے متعلق ڈسپلن  کی  کارروائی کو مشن موڈ میں ایک  مدت کا تعین کرکے پورا  کر سکتے ہیں؟ کیونکہ لٹکتی تلوار اس کو بھی پریشان کرتی ہے۔ اگر وہ بے قصور ہے، اور اس چکر میں آ گیا ہے، تو اس کو اس بات  زندگی بھر بہت افسوس رہتا ہے کہ میں نے مصدقہ طریقے سے زندگی گزاری اور  مجھے کیسے پھنسا دیا اور پھر فیصلہ نہیں کر رہے۔ جس نے برا کیا  ہےاس کا نقصان الگ سے ہی  ہے لیکن جس نے نہیں کیا وہ اس لٹکتی تلوار کی وجہ سے حکومت  کے لئے اور زندگی کے لیے ہر طرح سے بوجھ بن جاتا ہے۔ اپنے ہی ساتھیوں کو اسی طرح سے لمبی لمبی مدت تک لٹکائے رکھنے کا کیا فائدہ؟

ساتھیو،

اس طرح کے الزامات پر جتنی جلدی فیصلہ ہو گا، اتنی ہی انتظامی نظام میں شفافیت آئے گی، اس کی طاقت میں اضافہ ہوگا۔ جو کریمنل معاملات  ہیں  ان میں بھی تیزی سے  کارروائی کئے جانے، ان کی مسلسل مانیٹرنگ کئے جانے  کی ضرورت ہے۔ ایک اور کام جو کیا جا سکتا ہے وہ ہے  التوا شدہ بدعنوانی کے  معاملات کی بنیاد پر محکموں کی درجہ بندی۔ اب اس میں بھی صفائی ستھرائی کے لئے جیسے ہم  مسابقت  کرتے ہیں، اس میں بھی کریں۔ دیکھیں تو کون ڈپارٹمنٹ کس میں زیادہ غیر متحرک ہے، کیا وجہ ہے اور کون سا محکمہ  ہے جو بہت تیزی سے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ اور اس سے  متعلق رپورٹوں  کی ماہانہ یا سہ ماہی پبلی کیشن الگ الگ  محکموں کو بدعنوانی کے خلاف چلنے والے معاملات  کو تیزی سے نمٹانے کے لئے  تحریک دے گا۔

ہمیں ٹیکنالوجی کے ذریعے سے ایک اور کام کرنا چاہیے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ویجیلنس کلیئرنس میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ اس عمل کو بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے اسٹریم لائن کیا جا سکتا ہے۔ ایک معاملہ اور جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ ہے عوامی شکایات کا ڈیٹا کا۔ حکومت کے مختلف محکموں میں عام طریقے سے شکایات بھیجی جاتی ہیں، جن کو نمٹانے کا بھی ایک سسٹم بنا ہو اہے۔

لیکن اگر ہم عوامی شکایات کے دیٹا کو ہم آڈٹ کر سکیں تو یہ پتہ لگے گا کہ کوئی  خاص محکمہ ہے کہ جہاں زیادہ  سے زیادہ شکایات آرہی ہیں۔ کوئی خاص پرسن ہے، اسی کے یہاں جاکرکے سارا معاملہ اٹکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ایسا کرکے آپ اس محکمے میں بدعنوانی کی تہہ تک  آسانی سے پہنچ پائیں گے۔ ہمیں ان شکایات کو آئسولیٹیڈ  نہیں دیکھنا چاہیے۔  پوری طرح کینوس پر رکھ کرکے سارا  تجزیہ کرنا چاہیے  اور اس سے عوام کا بھی حکومت اور انتظامی محکموں پر اعتماد مزید بڑھے گا۔

ساتھیو،

بدعنوانی پر نگرانی کےلئے ہم سماج کی حصے داری ، عام شہری کی حصے داری کی ہم زیادہ سے زیادہ کس طرح حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں، اس پر بھی کام ہونا چاہیے ۔ لیکن بدعنوان شخص چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ  کسی بھی حال میں  بچنا نہیں چاہیے، یہ آپ جیسے اداروں کی ذمہ داری ہے۔

کسی بدعنوان شخص  کو سیاسی سماجی پناہ نہ ملنے، ہر بدعنوان شخص کو سماج کے ذریعہ  کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے، یہ ماحول بنانا بھی ضروری ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جیل کی سزا ہونے  کے باوجو  بدعنوانی ثابت ہونے کے باوجود  کئی بار بدعنوان لوگوں کا استقبال کیا جاتا ہے۔ میں تو دیکھ رہا ہوں کہ ایسے ایمانداری کا ٹھیکہ لے کر کے گھومنے والے لوگ ان کے ساتھ جاکر کے ایسے ہاتھ پکڑکر  فوٹو نکالنے میں شرم نہیں آتی ان کو۔

یہ صورتحال ہندوستانی سماج  کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ آج بھی کچھ لوگ قصوروار پائے جانے والے بدعنوان لوگوں  کے حق میں طرح طرح کی دلیل  دیتے ہیں۔ اب تو بدعنوان لوگوں کو بڑابڑا اعزاز دینے کے لئے وکالت کی جارہی ہے، یہ ایسا کبھی سنا نہیں ملک میں ہم نے ۔ ایسے لوگوں، ایسی قوتوں کوبھی سماج کے ذریعہ اپنے فرض کا احساس کرایا جانا بہت ضروری ہے۔ اس میں بھی آپ کے محکمہ کے ذریعہ کی گئی ٹھوس کارروائی کا بڑا رول ہے۔

ساتھیو،

آج جب میں آپ کے درمیان آیا ہوں تو فطری طور پر  کچھ اور باتیں بھی کرنے کا من کرتا ہے۔ بدعنوانی اور  بدعنوان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے  والے سی وی سی جیسے اداروں کو اور   سبھی  آپ کی ایجنسیوں کے لوگ بیٹھے ہیں، آپ کو ڈیفینسیو ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ملک کی بھلائی  کے لیے کام کرتے ہیں تو جرم کے احساس کے ساتھ جینے کی ضرورت نہیں ہے دوستو۔ ہمیں پالیٹیکل  ایجنڈے پر نہیں چلنا ہے۔

لیکن ملک کے عام  لوگوں کو جو مصیبتیں درپیش ہیں ان سے نجات دلانے کا ہمارا کام ہے، یہ کام ہم کو کرنا ہے۔ اور جن کے ذاتی مفادات ہیں وہ شور مچائیں گے، وہ ادارے کا گلا گھونٹنے کی کوشش کریں گے۔ اس ادارے میں بیٹھے ہوئے پرعزم  لوگوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ سب ہوگا میں لمبے عرصے تک  اس سسٹم سے نکلا ہوا ہوں دوستوں ۔ لمبے عرصے تک ہیڈ آف دی گورنمنٹ کے طور پر مجھے کام کررنے کا موقع ملا ہے۔ میں نے بہت  گالیاں سنیں، بہت الزامات سنے ہیں دوستوں، کچھ بچا نہیں ہے میرے۔

لیکن عوام ایشور کا روپ ہوتے ہیں، وہ سچائی کو پرکھتے ہیں ، سچ کو جانتے  ہیں اور موقع آنے پر سچ کے ساتھ کھڑے بھی رہتے ہیں۔ میں اپنے تجربے سے کہتا ہوں دوستوں۔ چل پڑئیے ایمانداری کے لیے ، چل پڑیئے آپ کو جو ڈیوٹی ملی ہے اس کو ایمانداری سے نبھانے کےلئے ۔ آپ دیکھئے، ایشور  آپ کے ساتھ  چلے گا، عوام آپ کے ساتھ چلیں گے، کچھ لوگ شور مچاتے رہیں گے کیونکہ ان کا ذاتی مفاد  ہوتا ہے۔ ان کے اپنے پیر گندگی میں  پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔

اور اس لیے میں بار بار کہتا ہوں کہ ملک کے لیے، ایمانداری کے لیے کام کرتے وقت کچھ بھی  اگر اس طرح کے تنازعات  کھڑے ہوتے ہیں، اگر ہم ایمانداری کے راستے پر چلیں گے، مصدقہ طریقے سے  کام کر رہے ہیں، ڈیفنسیو ہونے  کی کوئی ضرورت نہیں دوستو۔

آپ سبھی گواہ ہیں کہ جب ہم  یقین کے ساتھ ایکشن لیتے ہیں  کئی مواقع آپ کی زندگی میں بھی آئے ہوں گے،  سماج  آپ کے ساتھ کھڑا ہی رہا  ہوگا دوستو۔ بدعنوانی سے پاک ملک اور بدعنوانی  سے پاک سماج بنانے کے لیے سی وی سی جیسے اداروں کو مسلسل بیدار رہنا  وہ  ایک موضوع ہے، لیکن انہیں  تمام سسٹمز کو بھی بیدار رکھنا ہوگا، کیوں کہ  اکیلے تو کیا کریں گے، چار چھ لوگ ایک دفتر میں بیٹھ کرکے کیا کرپائیں گے؟ پورا  نظام جب تک ان کے ساتھ جڑتا نہیں ہے، اس جذبے کو لے کر کے جیتا نہیں  تو سسٹمز بھی کبھی کبھی چرمرا جاتے ہیں۔

ساتھیو،

آپ کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ آپ کے چیلنجز بھی بدلتے رہتے ہیں۔ اور اس لیے آپ کے طور طریقوں میں طریقہ کار میں بھی مسلسل  حرکت ضروری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ امرت کال میں ایک شفاف اور مسابقتی ایگو سسٹم کی تعمیر  میں اہم رول ادا کرتے رہیں گے۔

مجھے اچھا لگا،  آج کچھ اسکولی  طلباء یہاں بلائے گئےہیں۔ سب نے مضمون نگاری  کے مقابلے میں حصہ لیا۔ ایک  مسلسل اسپیچ  کمپٹیشن  کی بھی روایت تیار کی جا سکتی ہے۔ لیکن ایک بات کی طرف میرا دھیان گیا، آپ کا  بھی دھیان گیا ہوگا۔ آپ نے بھی اس کو  دیکھا ہوگا، بہت سے لوگوں نے دیکھا ہوگا، بہت سے لوگوں نے جو دیکھا ہوگا اس پر سوچا ہوگا۔ میں نے دیکھا، میں نے بھی سوچا۔ صرف 20 فیصد مرد بدعنوانی کے خلاف لڑائی میں انعام لے گئے، 80 فیصد  بیٹیاں لے گئیں۔ پانچ میں سے چار بیٹیاں،  مطلب یہ  20 کو  80 کیسے کریں، کیونکہ ڈور  تو ان کے ہاتھ میں ہے۔ ان مردوں میں بھی بدعنوانی کے خلاف  وہ ہی طاقت  پیدا ہو ان جو ان بیٹیوں کے دل و دماغ میں ہے، روشن مستقبل کا راستہ تبھی وہیں بنے گا۔

لیکن آپ کی اس پریوینٹیو  اس نظر سے  یہ مہم  اچھی ہے کہ بچوں کے من  میں بدعنوانی  کے خلاف ایک نفرت پیدا ہونی چاہئے۔ جب تک گندگی کے خلاف نفرت پیدا نہیں ہوتی، صفائی ستھرائی کی اہمیت سمجھ میں نہیں آتی ہے اور بدنوانی  کو کم نہ آنکیں، پورے سسٹم  کو چرمرا  دیتی ہے جی۔ اور میں جانتا ہوں،اس پر بار بار سننا پڑےگا، بار بار بولنا پڑے گا، بار بار ہوشیار رہنا پڑے گا۔

کچھ لوگ اپنی طاقت اس لیے بھی لگاتے ہیں کہ اتنے  قوانین میں سے باہر  کیسے رہ کر رکے  سب کیا جائے، وہ علم کا استعمال بھی کرتے ہیں، مشورہ بھی دیتے ہیں اس کے لیے، اس دائرے سے باہر کروگے، کوئی پرابلم  نہیں ہوگی۔ لیکن اب  دائرہ  بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ آج نہیں تو کل، کبھی نہ کبھی تو مسئلہ سامنے آنے ہی  ہے اور بچنا مشکل ہے جی۔ ٹیکنالوجی کچھ ثبوت چھوڑ رہی ہے۔جتنا زیادہ  ٹکنالوجی کی طاقت کا استعمال ہوگا، ہم نطاموں کو بدل  سکتے ہیں اور انہیں تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے، ہم کوشش کریں۔

میں آپ سبھی کو بہت بہت نیک  خواہشات۔

شکریہ بھائیو!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
 PLI schemes attract over Rs 2.16 lakh crore investment, generate 14.39 lakh jobs

Media Coverage

PLI schemes attract over Rs 2.16 lakh crore investment, generate 14.39 lakh jobs
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi inaugurates Phase I of Noida International Airport, developed with an investment of around ₹11,200 crore
March 28, 2026
The inauguration of Phase-I of Noida International Airport marks a major step in Uttar Pradesh’s growth story and India’s aviation future: PM
UP has now emerged as one of the states with the highest number of international airports in India: PM
Airports are not just basic facilities in any country, they give wings to progress: PM
Our government is making unprecedented investments in modern infrastructure to build a Viksit Bharat: PM

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today inaugurated the Noida International Airport at Jewar in Uttar Pradesh. Expressing his pride and joy on the occasion, the Prime Minister said that today marks a new chapter in the Viksit UP, Viksit Bharat Abhiyan. He noted that India's largest state has now become one of the states with the highest number of international airports. PM Modi shared that he felt doubly proud , first, for having laid the foundation stone of this airport and now inaugurating it, and second, because the name of this grand airport is linked to Uttar Pradesh. "This is the state that chose me as its representative and made me a Member of Parliament, and its identity is now associated with this magnificent airport," remarked Shri Modi.

Highlighting the far-reaching impact of the new airport, the Prime Minister said that the Noida airport will benefit a vast region encompassing Agra, Mathura, Aligarh, Ghaziabad, Meerut, Etawah, Bulandshahr, and Faridabad. He emphasised that the airport will bring numerous new opportunities for the farmers, small and medium enterprises, and the youth of western Uttar Pradesh. "Aircraft will fly from here to the world, and this airport will also become a symbol of a developed Uttar Pradesh taking flight," said Shri Modi, extending his heartfelt congratulations to the people of the state, especially western UP.

Speaking about the current global situation, the Prime Minister observed that the entire world is deeply concerned today, with a war raging in West Asia for over a month, creating crises of essential commodities including food, petrol, diesel, gas, and fertilizers in many countries. He noted that India imports a very large quantity of crude oil and gas from the conflict-affected region. "The Government is taking every possible step to ensure that the burden of this crisis does not fall on ordinary families and farmers," affirmed Shri Modi.

Underscoring India's continued momentum of rapid development even during times of global crisis, the Prime Minister noted that in Western Uttar Pradesh alone, this is the fourth major project to be either inaugurated or have its foundation stone laid in recent weeks. "During this period, the foundation stone of a major semiconductor factory in Noida was laid, the country's first Delhi-Meerut Namo Bharat train gained speed, the Meerut Metro was expanded, and today the Noida International Airport is being inaugurated," highlighted PM Modi.

The Prime Minister credited the current Government for these remarkable achievements in UP's development. He noted that the semiconductor factory is making India self-reliant in technology, the Meerut Metro and Namo Bharat Rail are providing fast and smart connectivity, and the Jewar Airport is connecting entire North India to the world. " Today under the current government, the same Noida is becoming a powerful engine of UP's development," asserted Shri Modi.

Elaborating on the history of the airport project, The Prime Minister recalled that the Jewar Airport was approved by Atal ji as early as 2003. And as soon as the current government was formed here, the foundation was laid, construction happened, and now it has started operations," said Shri Modi.

Drawing attention to the region's emerging role as a logistics hub, the Prime Minister pointed out that this area is becoming the hub of two major freight corridors , special railway tracks laid for goods trains, which have enhanced North India's connectivity with the seas of Bengal and Gujarat. He noted that Dadri is the strategic point where both these corridors converge, meaning whatever farmers grow and industries produce here can now reach every corner of the world swiftly, by land and by air. "This kind of multi-modal connectivity is making UP a major attraction for investors worldwide," explained PM Modi.

Addressing the transformation of the region's image, the Prime Minister said. "Today, Noida is ready to welcome the entire world. This whole area is strengthening the resolve of Aatmanirbhar Bharat”.

The Prime Minister expressed his gratitude to the farmers who gave up their lands to make this project a reality, noting that agriculture and farming hold great importance in the region's economy. Shri Modi noted that the expansion of modern connectivity will further boost food processing prospects in Western UP, adding, "The agricultural produce from here will now reach global markets more efficiently."

Acknowledging the contribution of sugarcane farmers to reducing India's dependence on crude oil, the Prime Minister highlighted the significant role of ethanol produced from sugarcane. PM Modi highlighted that without the increase in ethanol production and its blending with petrol, India would have had to import an additional four and a half crore barrels,approximately 700 crore litres of crude oil annually, adding, "The hard work of our farmers has given the country this enormous relief during the time of crisis."

The Prime Minister further elaborated that ethanol has not only benefited the nation but has also greatly benefited farmers, with approximately Rs 1.5 lakh crore worth of foreign exchange being saved. He recalled the earlier days when sugarcane farmers had to wait for years for their dues. "Today, thanks to the efforts of the current Government, the condition of sugarcane farmers has improved significantly," affirmed Shri Modi.

Emphasizing that airports are not merely amenities but catalysts for progress, the Prime Minister pointed out the remarkable expansion of India's aviation infrastructure. Highlighting that today, there are more than 160 airports, PM Modi remarked that the Air connectivity is now reaching not just metropolitan cities but also smaller towns. “ The current government has made air travel accessible for the common Indian," asserted Shri Modi, adding that the number of airports in Uttar Pradesh has been increased to seventeen.

Highlighting the impact of the UDAN scheme, the Prime Minister said that the government has consistently strived to ensure that while airports are built, airfares remain within the reach of ordinary families. Noting that more than one crore sixty lakh citizens have travelled by air at affordable rates by booking tickets under the UDAN scheme, Shri Modi remarked, “ Recently, the Central Government has further expanded the UDAN scheme with an approval of approximately Rs 29,000 crore, under which 100 new airports and 200 new helipads will be built in smaller cities in the coming years. UP will also benefit immensely from this."

Speaking about India's rapidly growing aviation sector, the Prime Minister noted that as new airports are being built, the demand for new aircraft is also rising, with various airlines placing orders for hundreds of new planes. Shri Modi observed that this creates tremendous opportunities for the youth, including pilots, cabin crew, and maintenance professionals, adding that "our government is also expanding training facilities in the aviation sector" to meet this growing demand.

Addressing a critical gap in India's aviation ecosystem, the Prime Minister drew attention to the Maintenance, Repair, and Overhaul (MRO) sector, noting that 85 per cent of Indian aircraft still have to go abroad for MRO services. PM Modi noted that the government has resolved to make India self-reliant in the MRO sector as well and highlighted that today, the foundation stone of an MRO facility has been laid here at Jewar. “When ready, it will serve aircraft from India and abroad , generating revenue for the country, keeping our money within India, and creating numerous jobs for the youth," announced Shri Modi.

Underlining the government's priority of ensuring citizen convenience and saving their time and money, the Prime Minister spoke about the expansion of modern rail services such as Metro and Vande Bharat. "The Delhi-Meerut Namo Bharat Rail has already been used by over two and a half crore passengers. The journey between Delhi and Meerut that used to take hours is now completed in minutes," said PM Modi.

Underscoring the unprecedented investment in modern infrastructure for a Viksit Bharat, the Prime Minister shared that over the past eleven years, the infrastructure budget has been increased more than six-fold, with Rs 17 lakh crore spent on highways and expressways and over one lakh kilometres of highways constructed. He noted that railway electrification has expanded from 20,000 kilometres before 2014 to over 40,000 kilometres since then, with nearly 100 per cent of the broad-gauge network now electrified. The Prime Minister highlighted that for the first time, the Kashmir Valley and the capitals of the North-East are being connected to the rail network, while port capacity has more than doubled in the past decade and the number of inland waterways continues to grow. "India is working at a rapid pace in every sector necessary for building a Viksit Bharat," stated Shri Modi.

Calling for collective effort and national unity in the face of global challenges, the Prime Minister said he had spoken at length in Parliament and held detailed discussions with Chief Ministers about tackling the crisis arising from the ongoing conflict. He appealed to the people to face this crisis with a calm mind and patience, calling it the greatest strength of Indians. PM Modi reiterated that what is in the interest of Indians and in the interest of India, that alone is the policy and strategy of the Government of India." I am fully confident that all political parties will lend strength to the country's united efforts”, concluded Shri Modi.