Share
 
Comments
Launches new Complaint Management System portal of CVC
“For a developed India, trust and credibility are critical”
“Earlier governments not only lost people’s confidence but they also failed to trust people”
“We have been trying to change the system of scarcity and pressure for the last 8 years. The government is trying to fill the gap between supply and demand”
“Technology, service saturation and Aatmnirbharta are three key ways of tackling corruption”
“For a developed India, we have to develop such an administrative ecosystem with zero tolerance on corruption”
“Devise a way of ranking departments on the basis of pending corruption cases and publish the related reports on a monthly or quarterly basis”
“No corrupt person should get political-social support”
“Many times the corrupt people are glorified in spite of being jailed even after being proven to be corrupt. This situation is not good for Indian society”
“Institutions acting against the corrupt and corruption like the CVC have no need to be defensive”
“When you take action with conviction, the whole nation stands with you”

میرے کابینہ کے ساتھی ڈاکٹر جتیندر سنگھ جی، پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر پی کے مشرا، جناب راجیو گوبا، سی وی سی جناب سریش پٹیل، دیگر تمام کمشنرز، خواتین و حضرات!

یہ ویجیلنس ہفتہ سردار صاحب کے یوم پیدائش سے شروع ہوا ہے۔ سردار صاحب کی پوری زندگی ایمانداری، شفافیت اور عوامی خدمت کے لیے وقف تھی۔ اور اسی عزم کے ساتھ، آپ نے ویجیلنس کے بارے میں بیداری کی یہ مہم چلائی ہے۔ اس بار آپ سبھی ’ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے بدعنوانی سے پاک ہندوستان‘ کے عزم کے ساتھ ویجیلنس ہفتہ منا رہے ہیں۔ یہ  عزم  آج کے وقت کا تقاضہ ہے، موزوں ہے اور اہل وطن کے لیے بھی یکساں اہمیت کا حامل ہے۔

ساتھیو،

ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے اعتماد اور اعتبار دونوں بہت اہم ہیں۔ حکومت پر عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد سے عوام کی خود اعتمادی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ہمیں یہ بھی مشکل پیش آئی کہ حکومتیں نہ صرف عوام کا اعتماد کھو بیٹھیں بلکہ عوام پر اعتماد کرنے میں بھی پیچھے رہیں۔  غلامی کے لمبے دور سے ہمیں بدعنوانی کی ، استحصال کی ، وسائل پر کنٹرول کی  جو وراثت ملی، اس  کی بدقسمتی سے آزادی کے بعد  مزید توسیع  کی گئی اور اس کا بہت بڑا نقصان ملک کی چار چار پیڑھیوں نے اٹھایا ہے ۔

لیکن آزادی کے اس امرت کال میں ہمیں  دہائیوں سے چلے آرہے اس طریقے کو  پوری طرح تبدیل کردینا ہے۔ اس بار 15 اگست کو  لال قلعہ سے بھی  میں  کہا  ہے کہ گزشتہ  آٹھ برسوں کی محبت، سادھنا، کچھ پہل، اس کے بعد   اب  بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کا وقت آگیا ہے۔ اس پیغام سمجھتے ہوئے ، اس راستے پر چلتے ہوئے  ہم ترقی یافتہ بھارت کی طرف تیزی سے جاپائیں گے۔

ساتھیو،

ہمارے ملک میں بدعنوانی  کی اور اہل وطن کو آگے بڑھنے سے روکنے والی دو وجوہات رہی ہیں۔ ایک - سہولیات کا فقدان اور دوسری - حکومت کا غیر ضروری دباؤ۔لمبی مدت  تک ہمیں  یہاں سہولیات کے، مواقع کے فقدان کو برقرار رکھا گیا، ایک گیپ، ایک خلا کو بڑھنے دیا گیا۔ اس سے ایک غیر صحت مند مقابلہ شروع ہوا، جس میں کسی بھی فائدہ کو ،  کسی بھی سہولت کو دوسرے سے پہلے پانے کا مقابلہ شروع ہوگیا۔ اس رسہ کشی نے  بدعنوانی کا ایکو سسٹم تیار کرنے کے لیے ایک طرح سے  کھاد اور پانی کا کام  کیا۔ راشن کی دکان پر لائن، گیس کنکشن سے لے کر سلنڈر بھروانے میں لائن، بل بھرنا ہو، ایڈمیشن  لینا  ہو ، لائسنس لینا  ہو،  کوئی پرمیشن لینی ہو، سب جگہ لائن۔ یہ لائن جتنی لمبی ، بدعنوانی کی زمین اتنی ہی  مالا مال۔ اور اس طرح  کی بدعنوانی کا سب سے زیادہ  نقصان اگر کسی کو اٹھانا پڑتا ہے تو وہ ہے  ملک کا غریب اور ملک کا متوسط ​​طبقہ۔

جب ملک کا غریب اور متوسط ​​طبقہ  اپنی توانائی انہیں وسائل کے انتظام میں لگا دے گا تو پھر ملک کیسے آگے بڑھے گا، کیسے ترقی کرے گا؟ اس لئے ہم گزشتہ 8 سالوں سے فقدان اور دباؤ سے  تیار ہونے والے اس نظام کو تبدیل  کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مانگ اور سپلائی کے خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے کئی راستے چنے ہیں۔

تین اہم باتوں  کی طرف توجہ مبذول کرانا  چاہتا ہوں۔ ایک جدید ٹیکنالوجی کا راستہ، دوسرا بنیادی سہولتوں کے سیچوریشن کا مقصد اور تیسرا خود کفیلی کا راستہ۔ اب  جیسے  راشن  کو ہی لیجئے گزشتہ 8 سالوں میں ہم نے پی ڈی ایس کو ٹیکنالوجی سے جوڑا  اور کروڑوں فرضی  استفادہ کنندگان کو سسٹم سے باہر کردیا۔

اسی طرح ڈی بی ٹی سے اب حکومت کے ذریعہ دیا جانے والا فائدہ  براہ راست مستفیدین تک پہنچایا جا ر ہاہے۔ اس ایک قدم کی وجہ سے ابھی تک 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ رقم غلط ہاتھوں میں جانے سے بچی  ہے۔  کیش پر مبنی معیشت  میں رشوت خوری ، کالا دھن  اس کا پتہ لگانا کتنا مشکل ہے، یہ ہم سب جانتے ہیں۔

اب ڈیجیٹل سسٹم میں لین دین کا مکمل تفصیلات کہیں زیادہ  آسانی سے دستیاب ہو رہی ہیں۔ گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس - جی ای ایم جیسے سسٹم سے  سرکاری خریداری میں کتنی شفافیت آئی ہے، یہ جو بھی اس کے ساتھ جڑ رہے ہیں اس کی اہمیت کو سمجھ رہے ہیں، محسوس کرررہے ہیں۔

ساتھیو،

کسی بھی سرکاری اسکیم کے ہر  ایک مستحق  استفادہ کنندہ تک پہنچنا، سیچوریشن کے مقاصد کو حاصل کرنا معاشرے میں تفریق ختم کرتا ہے اور بدعنوانی کی گنجائش بھی ختم کر دیتا ہے۔ جب حکومت اور حکومت کے مختلف محکمے خود ہی آگے بڑھ کر ہر ایک اہل شخص کو  تلاش کررہے ہیں،  اس کے دروازے پر  جاکر دستک دیتے  ہیں تو جو بچولئے بیچ میں بنے رہتے تھے ، ان کا رول بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے ہماری حکومت  ذریعہ  ہر اسکیم میں سیچوریشن کے اصول کو اپناگیا ہے۔ ہر گھر جل ، ہر غریب کو پکی چھت، ہر غریب کو بجلی کا کنکشن، ہر غریب کو گیس کا کنکشن، یہ اسکیمیں حکومت کی اسی اپروچ کو  ظاہر کرتی ہیں۔

ساتھیو،

بیرونی ممالک پر بہت زیادہ انحصار بھی بدعنوانی کی ایک بڑی وجہ رہی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کیسے دہائیوں تک ہمارے دفاعی شعبے کو بیرونی ممالک پر منحصر رکھا گیا۔ اس کی وجہ سے  کتنے ہی گھوٹالے ہوئے۔ آج ہم دفاع کے شعبے میں خود  کفیلی کی جو  کوشش کررہے ہیں  اس سے بھی  ان گھوٹالوں کا اسکوپ ختم ہوگیا ہے۔ رائفلوں سے لے کر فائٹر جیٹس اور ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ  تک، آج ہندوستان خود تیار کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ دفاع ہی نہیں بلکہ باقی ضرورتوں  کے لیے ہمیں بیرونی ممالک سے  خریداری پر کم سے کم انحصار کرنا پڑے، خود کفیلی کی ایسی کوششوں کو آج فروغ دیا جا رہا ہے۔

ساتھیو،

سی وی سی  شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سب  کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرنے والی تنظیم  ہے۔ اب پچھلی بار میں نے آپ سبھی سے پریونٹیو ویجیلنس پر دھیان  دینے کی اپیل کی تھی۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے اس سمت میں کئی اقدامات کئے ہیں۔ اس کے لیے جو 3 ماہ کی مہم چلائی گئی ہے وہ بھی قابل ستائش ہے، میں آپ کو اور آپ کی پوری ٹیم کو مبارکباد  دیتا ہوں۔ اور اس کے لیے آپ آڈٹ، انسپیکشن کا ایک روایتی طریقہ آپ اپنا رہے ہیں۔ لیکن اس کو اور زیادہ   جدید،  زیادہ ٹیکنالوجی ڈرائیون  کیسے بنائیں ، اس کو لے کر  بھی آپ  ضرور سوچتے رہے ہیں اور سوچنا بھی چاہیے۔

ساتھیو،

بدعنوانی کے خلاف حکومت جس قوت ارادی کا مظاہرہ کر رہی ہے، ویسی ہی قوت ارادی تمام محکموں میں بھی نظر آنی  ضروری ہے۔ ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے، ہمیں ایک ایسا ایڈمنسٹریٹیو ایکو سسٹم تیار کرنا ہے جو بدعنوانی پر زیرو ٹالیرینس رکھنا ہو ۔  یہ آج حکومت کی پالیسی میں، حکومت کی قوت ارادی میں، حکومت کے فیصلوں میں، آپ  ہر جگہ پر دیکھتے ہوں گے لیکن یہی جذبہ ہمارے انتظامی سسٹم کے ڈی این اے میں بھی مضبوطی سے تیار ہونا چاہیے۔ یہ جذبہ یہ ہے کہ جو  بدعنوان افسر ہوتے ہیں ان کے خلاف کارروائی چاہے وہ مجرمانہ ہو یا  پھرمحکمہ جاتی، برسوں تک چلتی رہتی ہے۔ کیا ہم بدعنوانی سے متعلق ڈسپلن  کی  کارروائی کو مشن موڈ میں ایک  مدت کا تعین کرکے پورا  کر سکتے ہیں؟ کیونکہ لٹکتی تلوار اس کو بھی پریشان کرتی ہے۔ اگر وہ بے قصور ہے، اور اس چکر میں آ گیا ہے، تو اس کو اس بات  زندگی بھر بہت افسوس رہتا ہے کہ میں نے مصدقہ طریقے سے زندگی گزاری اور  مجھے کیسے پھنسا دیا اور پھر فیصلہ نہیں کر رہے۔ جس نے برا کیا  ہےاس کا نقصان الگ سے ہی  ہے لیکن جس نے نہیں کیا وہ اس لٹکتی تلوار کی وجہ سے حکومت  کے لئے اور زندگی کے لیے ہر طرح سے بوجھ بن جاتا ہے۔ اپنے ہی ساتھیوں کو اسی طرح سے لمبی لمبی مدت تک لٹکائے رکھنے کا کیا فائدہ؟

ساتھیو،

اس طرح کے الزامات پر جتنی جلدی فیصلہ ہو گا، اتنی ہی انتظامی نظام میں شفافیت آئے گی، اس کی طاقت میں اضافہ ہوگا۔ جو کریمنل معاملات  ہیں  ان میں بھی تیزی سے  کارروائی کئے جانے، ان کی مسلسل مانیٹرنگ کئے جانے  کی ضرورت ہے۔ ایک اور کام جو کیا جا سکتا ہے وہ ہے  التوا شدہ بدعنوانی کے  معاملات کی بنیاد پر محکموں کی درجہ بندی۔ اب اس میں بھی صفائی ستھرائی کے لئے جیسے ہم  مسابقت  کرتے ہیں، اس میں بھی کریں۔ دیکھیں تو کون ڈپارٹمنٹ کس میں زیادہ غیر متحرک ہے، کیا وجہ ہے اور کون سا محکمہ  ہے جو بہت تیزی سے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ اور اس سے  متعلق رپورٹوں  کی ماہانہ یا سہ ماہی پبلی کیشن الگ الگ  محکموں کو بدعنوانی کے خلاف چلنے والے معاملات  کو تیزی سے نمٹانے کے لئے  تحریک دے گا۔

ہمیں ٹیکنالوجی کے ذریعے سے ایک اور کام کرنا چاہیے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ویجیلنس کلیئرنس میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ اس عمل کو بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے اسٹریم لائن کیا جا سکتا ہے۔ ایک معاملہ اور جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ ہے عوامی شکایات کا ڈیٹا کا۔ حکومت کے مختلف محکموں میں عام طریقے سے شکایات بھیجی جاتی ہیں، جن کو نمٹانے کا بھی ایک سسٹم بنا ہو اہے۔

لیکن اگر ہم عوامی شکایات کے دیٹا کو ہم آڈٹ کر سکیں تو یہ پتہ لگے گا کہ کوئی  خاص محکمہ ہے کہ جہاں زیادہ  سے زیادہ شکایات آرہی ہیں۔ کوئی خاص پرسن ہے، اسی کے یہاں جاکرکے سارا معاملہ اٹکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ایسا کرکے آپ اس محکمے میں بدعنوانی کی تہہ تک  آسانی سے پہنچ پائیں گے۔ ہمیں ان شکایات کو آئسولیٹیڈ  نہیں دیکھنا چاہیے۔  پوری طرح کینوس پر رکھ کرکے سارا  تجزیہ کرنا چاہیے  اور اس سے عوام کا بھی حکومت اور انتظامی محکموں پر اعتماد مزید بڑھے گا۔

ساتھیو،

بدعنوانی پر نگرانی کےلئے ہم سماج کی حصے داری ، عام شہری کی حصے داری کی ہم زیادہ سے زیادہ کس طرح حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں، اس پر بھی کام ہونا چاہیے ۔ لیکن بدعنوان شخص چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ  کسی بھی حال میں  بچنا نہیں چاہیے، یہ آپ جیسے اداروں کی ذمہ داری ہے۔

کسی بدعنوان شخص  کو سیاسی سماجی پناہ نہ ملنے، ہر بدعنوان شخص کو سماج کے ذریعہ  کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے، یہ ماحول بنانا بھی ضروری ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جیل کی سزا ہونے  کے باوجو  بدعنوانی ثابت ہونے کے باوجود  کئی بار بدعنوان لوگوں کا استقبال کیا جاتا ہے۔ میں تو دیکھ رہا ہوں کہ ایسے ایمانداری کا ٹھیکہ لے کر کے گھومنے والے لوگ ان کے ساتھ جاکر کے ایسے ہاتھ پکڑکر  فوٹو نکالنے میں شرم نہیں آتی ان کو۔

یہ صورتحال ہندوستانی سماج  کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ آج بھی کچھ لوگ قصوروار پائے جانے والے بدعنوان لوگوں  کے حق میں طرح طرح کی دلیل  دیتے ہیں۔ اب تو بدعنوان لوگوں کو بڑابڑا اعزاز دینے کے لئے وکالت کی جارہی ہے، یہ ایسا کبھی سنا نہیں ملک میں ہم نے ۔ ایسے لوگوں، ایسی قوتوں کوبھی سماج کے ذریعہ اپنے فرض کا احساس کرایا جانا بہت ضروری ہے۔ اس میں بھی آپ کے محکمہ کے ذریعہ کی گئی ٹھوس کارروائی کا بڑا رول ہے۔

ساتھیو،

آج جب میں آپ کے درمیان آیا ہوں تو فطری طور پر  کچھ اور باتیں بھی کرنے کا من کرتا ہے۔ بدعنوانی اور  بدعنوان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے  والے سی وی سی جیسے اداروں کو اور   سبھی  آپ کی ایجنسیوں کے لوگ بیٹھے ہیں، آپ کو ڈیفینسیو ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ملک کی بھلائی  کے لیے کام کرتے ہیں تو جرم کے احساس کے ساتھ جینے کی ضرورت نہیں ہے دوستو۔ ہمیں پالیٹیکل  ایجنڈے پر نہیں چلنا ہے۔

لیکن ملک کے عام  لوگوں کو جو مصیبتیں درپیش ہیں ان سے نجات دلانے کا ہمارا کام ہے، یہ کام ہم کو کرنا ہے۔ اور جن کے ذاتی مفادات ہیں وہ شور مچائیں گے، وہ ادارے کا گلا گھونٹنے کی کوشش کریں گے۔ اس ادارے میں بیٹھے ہوئے پرعزم  لوگوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ سب ہوگا میں لمبے عرصے تک  اس سسٹم سے نکلا ہوا ہوں دوستوں ۔ لمبے عرصے تک ہیڈ آف دی گورنمنٹ کے طور پر مجھے کام کررنے کا موقع ملا ہے۔ میں نے بہت  گالیاں سنیں، بہت الزامات سنے ہیں دوستوں، کچھ بچا نہیں ہے میرے۔

لیکن عوام ایشور کا روپ ہوتے ہیں، وہ سچائی کو پرکھتے ہیں ، سچ کو جانتے  ہیں اور موقع آنے پر سچ کے ساتھ کھڑے بھی رہتے ہیں۔ میں اپنے تجربے سے کہتا ہوں دوستوں۔ چل پڑئیے ایمانداری کے لیے ، چل پڑیئے آپ کو جو ڈیوٹی ملی ہے اس کو ایمانداری سے نبھانے کےلئے ۔ آپ دیکھئے، ایشور  آپ کے ساتھ  چلے گا، عوام آپ کے ساتھ چلیں گے، کچھ لوگ شور مچاتے رہیں گے کیونکہ ان کا ذاتی مفاد  ہوتا ہے۔ ان کے اپنے پیر گندگی میں  پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔

اور اس لیے میں بار بار کہتا ہوں کہ ملک کے لیے، ایمانداری کے لیے کام کرتے وقت کچھ بھی  اگر اس طرح کے تنازعات  کھڑے ہوتے ہیں، اگر ہم ایمانداری کے راستے پر چلیں گے، مصدقہ طریقے سے  کام کر رہے ہیں، ڈیفنسیو ہونے  کی کوئی ضرورت نہیں دوستو۔

آپ سبھی گواہ ہیں کہ جب ہم  یقین کے ساتھ ایکشن لیتے ہیں  کئی مواقع آپ کی زندگی میں بھی آئے ہوں گے،  سماج  آپ کے ساتھ کھڑا ہی رہا  ہوگا دوستو۔ بدعنوانی سے پاک ملک اور بدعنوانی  سے پاک سماج بنانے کے لیے سی وی سی جیسے اداروں کو مسلسل بیدار رہنا  وہ  ایک موضوع ہے، لیکن انہیں  تمام سسٹمز کو بھی بیدار رکھنا ہوگا، کیوں کہ  اکیلے تو کیا کریں گے، چار چھ لوگ ایک دفتر میں بیٹھ کرکے کیا کرپائیں گے؟ پورا  نظام جب تک ان کے ساتھ جڑتا نہیں ہے، اس جذبے کو لے کر کے جیتا نہیں  تو سسٹمز بھی کبھی کبھی چرمرا جاتے ہیں۔

ساتھیو،

آپ کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ آپ کے چیلنجز بھی بدلتے رہتے ہیں۔ اور اس لیے آپ کے طور طریقوں میں طریقہ کار میں بھی مسلسل  حرکت ضروری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ امرت کال میں ایک شفاف اور مسابقتی ایگو سسٹم کی تعمیر  میں اہم رول ادا کرتے رہیں گے۔

مجھے اچھا لگا،  آج کچھ اسکولی  طلباء یہاں بلائے گئےہیں۔ سب نے مضمون نگاری  کے مقابلے میں حصہ لیا۔ ایک  مسلسل اسپیچ  کمپٹیشن  کی بھی روایت تیار کی جا سکتی ہے۔ لیکن ایک بات کی طرف میرا دھیان گیا، آپ کا  بھی دھیان گیا ہوگا۔ آپ نے بھی اس کو  دیکھا ہوگا، بہت سے لوگوں نے دیکھا ہوگا، بہت سے لوگوں نے جو دیکھا ہوگا اس پر سوچا ہوگا۔ میں نے دیکھا، میں نے بھی سوچا۔ صرف 20 فیصد مرد بدعنوانی کے خلاف لڑائی میں انعام لے گئے، 80 فیصد  بیٹیاں لے گئیں۔ پانچ میں سے چار بیٹیاں،  مطلب یہ  20 کو  80 کیسے کریں، کیونکہ ڈور  تو ان کے ہاتھ میں ہے۔ ان مردوں میں بھی بدعنوانی کے خلاف  وہ ہی طاقت  پیدا ہو ان جو ان بیٹیوں کے دل و دماغ میں ہے، روشن مستقبل کا راستہ تبھی وہیں بنے گا۔

لیکن آپ کی اس پریوینٹیو  اس نظر سے  یہ مہم  اچھی ہے کہ بچوں کے من  میں بدعنوانی  کے خلاف ایک نفرت پیدا ہونی چاہئے۔ جب تک گندگی کے خلاف نفرت پیدا نہیں ہوتی، صفائی ستھرائی کی اہمیت سمجھ میں نہیں آتی ہے اور بدنوانی  کو کم نہ آنکیں، پورے سسٹم  کو چرمرا  دیتی ہے جی۔ اور میں جانتا ہوں،اس پر بار بار سننا پڑےگا، بار بار بولنا پڑے گا، بار بار ہوشیار رہنا پڑے گا۔

کچھ لوگ اپنی طاقت اس لیے بھی لگاتے ہیں کہ اتنے  قوانین میں سے باہر  کیسے رہ کر رکے  سب کیا جائے، وہ علم کا استعمال بھی کرتے ہیں، مشورہ بھی دیتے ہیں اس کے لیے، اس دائرے سے باہر کروگے، کوئی پرابلم  نہیں ہوگی۔ لیکن اب  دائرہ  بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ آج نہیں تو کل، کبھی نہ کبھی تو مسئلہ سامنے آنے ہی  ہے اور بچنا مشکل ہے جی۔ ٹیکنالوجی کچھ ثبوت چھوڑ رہی ہے۔جتنا زیادہ  ٹکنالوجی کی طاقت کا استعمال ہوگا، ہم نطاموں کو بدل  سکتے ہیں اور انہیں تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے، ہم کوشش کریں۔

میں آپ سبھی کو بہت بہت نیک  خواہشات۔

شکریہ بھائیو!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops

Media Coverage

Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Karnataka on 6th February
February 04, 2023
Share
 
Comments
PM to inaugurate India Energy Week 2023 in Bengaluru
Moving ahead on the ethanol blending roadmap, PM to launch E20 fuel
PM to flag off Green Mobility Rally to create public awareness for green fuels
PM to launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil - each uniform to support recycling of around 28 used PET bottles
PM to dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System - a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously
In yet another step towards Aatmanirbharta in defence sector, PM to dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru
PM to lay foundation stones of Tumakuru Industrial Township and of two Jal Jeevan Mission projects in Tumakuru

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Karnataka on 6th February, 2023. At around 11:30 AM, Prime Minister will inaugurate India Energy Week 2023 at Bengaluru. Thereafter, at around 3:30 PM, he will dedicate to the nation the HAL helicopter factory at Tumakuru and also lay the foundation stone of various development initiatives.

India Energy Week 2023

Prime Minister will inaugurate the India Energy Week (IEW) 2023 in Bengaluru. Being held from 6th to 8th February, IEW is aimed to showcase India's rising prowess as an energy transition powerhouse. The event will bring together leaders from the traditional and non-traditional energy industry, governments, and academia to discuss the challenges and opportunities that a responsible energy transition presents. It will see the presence of more than 30 Ministers from across the world. Over 30,000 delegates, 1,000 exhibitors and 500 speakers will gather to discuss the challenges and opportunities of India's energy future. During the programme, Prime Minister will participate in a roundtable interaction with global oil & gas CEOs. He will also launch multiple initiatives in the field of green energy.

The ethanol blending programme has been a key focus areas of the government to achieve Aatmanirbharta in the field of energy. Due to the sustained efforts of the government, ethanol production capacity has seen a six times increase since 2013-14. The achievements in the course of last eight years under under Ethanol Blending Programe & Biofuels Programe have not only augmented India’s energy security but have also resulted in a host of other benefits including reduction of 318 Lakh Metric Tonnes of CO2 emissions and foreign exchange savings of around Rs 54,000 crore. As a result, there has been payment of around Rs 81,800 crore towards ethanol supplies during 2014 to 2022 and transfer of more than Rs 49,000 crore to farmers.

In line with the ethanol blending roadmap, Prime Minister will launch E20 fuel at 84 retail outlets of Oil Marketing Companies in 11 States/UTs. E20 is a blend of 20% ethanol with petrol. The government aims to achieve a complete 20% blending of ethanol by 2025, and oil marketing companies are setting up 2G-3G ethanol plants that will facilitate the progress.

Prime Minister will also flag off the Green Mobility Rally. The rally will witness participation of vehicles running on green energy sources and will help create public awareness for the green fuels.

Prime Minister will launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil. Guided by the vision of the Prime Minister to phase out single-use plastic, IndianOil has adopted uniforms for retail customer attendants and LPG delivery personnel made from recycled polyester (rPET) & cotton. Each set of uniform of IndianOil’s customer attendant shall support recycling of around 28 used PET bottles. IndianOil is taking this initiative further through ‘Unbottled’ - a brand for sustainable garments, launched for merchandise made from recycled polyester. Under this brand, IndianOil targets to meet the requirement of uniforms for the customer attendants of other Oil Marketing Companies, non-combat uniforms for Army, uniforms/ dresses for Institutions & sales to retail customers.

Prime Minister will also dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System and flag-off its commercial roll-out. IndianOil had earlier developed an innovative and patented Indoor Solar Cooking System with single cooktop. On the basis of feedback received, twin-cooktop Indoor Solar Cooking system has been designed offering more flexibility and ease to the users. It is a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously, making it a reliable cooking solution for India.

PM in Tumakuru

In yet another step towards Aatmanirbharta in the defence sector, Prime Minister will dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru. Its foundation stone was also laid by the Prime Minister in 2016. It is a dedicated new greenfield helicopter factory which will enhance capacity and ecosystem to build helicopters.

This helicopter factory is Asia’s largest helicopter manufacturing facility and will initially produce the Light Utility Helicopters (LUH). LUH is an indigenously designed and developed 3-ton class, single engine multipurpose utility helicopter with unique feature of high manoeuvrability.

The factory will be expanded to manufacture other helicopters such as Light Combat Helicopter (LCH) and Indian Multirole Helicopter (IMRH) as well as for repair and overhaul of LCH, LUH, Civil ALH and IMRH in the future. The factory also has the potential for exporting the Civil LUHs in future.

This facility will enable India to meet its entire requirement of helicopters indigenously and will attain the distinction of enabling self-reliance in helicopter design, development and manufacture in India.

The factory will have a manufacturing set up of Industry 4.0 standards. Over the next 20 years, HAL is planning to produce more than 1000 helicopters in the class of 3-15 tonnes from Tumakuru. This will result in providing employment for around 6000 people in the region.

Prime Minister will lay the foundation stone of Tumakuru Industrial Township. Under the National Industrial Corridor Development Programme, development of the Industrial Township spread across 8484 acre in three phases in Tumakuru has been taken up as part of Chennai Bengaluru Industrial Corridor.

Prime Minister will lay the foundation stones of two Jal Jeevan Mission projects at Tiptur and Chikkanayakanahalli in Tumakuru. The Tiptur Multi-Village Drinking Water Supply Project will be built at a cost of over Rs 430 crores. The Multi-village water supply scheme to 147 habitations of Chikkanayakanahlli taluk will be built at a cost of around Rs 115 crores. The projects will facilitate provision of clean drinking water for the people of the region.