پی ایم اے وائی- شہری اور دیہی اسکیموں کے تحت دو لاکھ سے زیادہ مستفیدین کے لیے گرہ پرویش پروگرام کا آغاز کیا
‘‘ماں تریپورہ سندری کے آشیرواد سے تریپورہ کی ترقی کا سفر نئی بلندیوں کی گواہی دے رہا ہے’’
‘‘غریبوں کے لیے مکانات بنانے کے معاملے میں تریپورہ سرکردہ ریاستوں میں سے ایک ہے’’
‘‘آج تریپورہ میں صفائی ستھرائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور غریبوں کو مکانات فراہم کرنے کے لیے بات چیت ہو رہی ہے’’
‘‘تریپورہ کے راستے شمال مشرقی خطہ بین الاقوامی تجارت کا گیٹ وے بن رہا ہے’’
‘‘آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت شمال مشرق کے دیہاتوں میں 7 ہزار سے زیادہ صحت و معالجہ مراکز کو منظوری دی گئی ہے’’
‘‘یہاں کے لوکل کو گلوبل بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں’’

بھارت ماتا کی جے!

بھارت ماتا کی جے!

پروگرام میں موجود تریپورہ کے  گورنر جناب ست دیو نارائن آریہ جی، یہاں کے مقبول وزیراعلی جناب مانک ساہا جی، مرکزی کابینہ میں میری معاون پرتیما بھومک جی، تریپورہ  اسمبلی کے اسپیکر جناب رتن چکرورتی ، نائب وزیراعلی جناب جشنو دیو ورما جی، میرے دوست ممبر پارلیمنٹ جناب بپلب دیو جی، تریپورہ سرکار کے تمام معزز وزراء اور میرے عزیز تریپورہ  کے باشندو!

नॉमॉश्कार!

खुलुमखा!

माता त्रिपुरासुन्दरीर पून्यो भुमिते

एशे आमि निजेके धोंनयो मोने कोरछी।

سب سے پہلے تو میں  آپ سب سے سر جھکاکر معافی مانگتا ہوں، کیونکہ مجھے  آنے میں تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ میں میگھالیہ میں تھا۔ وہاں وقت ذرا زیادہ ہوگیا اور مجھے بتایا گیا کہ  کچھ لوگ تو گیارہ – بارہ بجے سے بیٹھے ہیں۔ آپ لوگوں نے جو یہ تکلیف اٹھائی اور آشیرواد دینے کے لئے  رکے رہے،  اس کے لئے  میں آپ کا جس قدر شکریہ ادا کروں، وہ کم ہے۔ میں سب سے پہلے تریپورہ کے لوگوں کا استقبال کرتا ہوں کہ آپ سب کی کوشش سے یہاں صاف صفائی سے جڑی  بہت بڑی مہم چلائی گئی ہے۔ گزرے پانچ سالوں میں  آپ نے صاف صفائی کو عوامی تحریک بنادیا ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس بار تریپورہ چھوٹی ریاستوں میں ملک کی سب سے صاف و شفاف ریاست بن کر ابھری ہے۔

ساتھیو،

ماں تریپورہ سندری کے آشیرواد سے تریپورہ کے ترقیادتی سفر کو آج نئی بلندی مل رہی ہے۔ کنکٹی وٹی ،اسکل ڈیولپمنٹ اور غریبوں کے  گھروں سے متعلق تمام اسکیموں کے لیے آپ سب کو بہت بہت مبارکباد۔ آج تریپورہ کو اپنا پہلا ڈینٹل کالج ملا ہے۔ اس سے تریپورہ کے نوجوانوں کو یہاں ڈاکٹر بننے کا موقع ملے گا۔ آج تریپورہ کے 2 لاکھ سے زیادہ غریب خاندان اپنے گھر میں، نئے پختہ  گھرمیں داخل ہو رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مکانات ہماری ماؤں بہنوں کی ملکیت ہیں اور آپ سب  کو پتہ ہے کہ یہ ایک ایک  گھر لاکھوں روپے کے صرفے سے تعمیر ہوا  ہے۔ بہت سی بہنیں ایسی  ہیں جن کے نام پر پہلی بار کسی جائیداد کا اندراج ہوا ہے۔ لاکھوں روپے کے مکانات کی مالک، میں ان تمام بہنوں کو  آج میں تریپورہ کی سرزمین سے، اگرتلہ کی سرزمین سے ، تریپورہ کی اپنی ماؤں اور بہنوں کو لکھ پتی بننے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

تریپورہ غریبوں کے لیے مکانات کی تعمیر میں ملک کی سرکردہ ریاستوں میں شامل ہے۔ مانک جی اور ان کی ٹیم قابل ستائش کام کر رہی ہے اور ہم تو  جانتے ہیں کہ ہمارے یہاں  اگر کوئی ہمیں رات کو بھی پناہ دے تو زندگی بھر اس کی برکت ملتی ہے۔ یہاں تو ہر ایک  کو سر پر پختہ چھت ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تریپورہ کا بھرپور آشیرواد ہم سب کو مل رہا ہے۔  میں ایئرپورٹ سے یہاں آیا، اس میں کچھ وقت لگا کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ایئرپورٹ کتنی دور ہے۔ راستے کے دونوں طرف  جس طرح سے عوامی سیلاب امڈا تھا لوگ بڑی تعداد میں آکر آشیرواد دے رہے تھے۔ جتنے لوگ یہاں ہیں، شاید اس سے دس گنا زیادہ لوگ روڈ پر آشیرواد دینے کے لئے آئے تھے۔ میں ان کو  بھی سلام کرتا ہوں۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا، میں اس  سے پہلے میگھالیہ میں ن شمال مشرقی کونسل کی گولڈن جوبلی میٹنگ میں تھا۔ اس میٹنگ میں، ہم نے آنے والے برسوں میں تریپورہ سمیت شمال مشرق کی  ترقی کے روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا۔ میں نے وہاں  اشٹ لکشمی یعنی شمال مشرق کی 8 ریاستوں کی ترقی کے لیے  مضبوط بنیاد کے آٹھ نکات پر تبادلہ خیال کیا۔ تریپورہ میں تو  ڈبل انجن سرکار ہے۔ ایسے میں ترقی کا یہ روڈ میپ  یہاں تیزی سے زمین پر اتر رہا ہے، اس میں مزید  تیزی آئے ہم اس سمت میں  کوشش کر رہے ہیں۔

ساتھیو،

ڈبل انجن والی سرکار بننے سے پہلے تک تریپورہ اور  شمال مشرق پر صرف دو  مرتبہ  بات  چیت ہوتی تھی۔ ایک تو جب انتخابات ہوتے تھے، تب  بات  ہوتی تھی اور دوسرے جب تشدد کا  کوئی واقعہ  رونما ہوتا تھا تو اس پر بات  ہوتی تھی۔ اب وقت بدل گیا ہے، آج تریپورہ میں صفائی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے تعلق سے بات ہو رہی ہے۔ غریبوں کو لاکھوں گھر مل رہے ہیں، اس کی بات ہو رہی ہے۔ مرکزی سرکار تریپورہ کے کنیکٹیویٹی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے لیے ہزاروں کروڑ روپے دے رہی ہے اور یہاں کی سرکار اسے تیزی سے زمین پر اتار کر اس میں  حقیقت کا رنگ بھر رہی ہے۔ آج دیکھیں کہ تریپورہ میں قومی شاہراہ  کی کتنی توسیع ہوچکی ہے۔ پچھلے 5 سالوں میں کتنے نئے گاؤں سڑکوں سے منسلک ہوئے ہیں۔ آج تریپورہ کے ہر گاؤں کو سڑکوں سے جوڑنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔  آج جن سڑکوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، ان سڑکوں سے تریپورہ کا سڑکوں کا جال مزید مضبوط ہونے والا ہے۔ اگرتلہ بائی پاس سے راجدھانی میں ٹریفک کا نظام  مزید بہتر ہوگا اور  زندگی  میں آسانی آئےگی۔

ساتھیو،

اب شمال مشرق تریپورہ کے ذریعے بین الاقوامی تجارت کا بھی  ایک گیٹ وے  بن  رہا ہے۔ اگرتلہ-اکھوڑہ ریلوے لائن  سے تجارت کا نیا راستہ کھلے گا۔ اسی طرح، ہندوستان-تھائی لینڈ-میانمار ہائی وے جیسے روڈ انفراسٹرکچر کے ذریعے شمال مشرق  دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کا دروازہ بھی بن رہا ہے۔ اگرتلہ میں مہاراجہ بیر بکرم ہوائی اڈے پر  بھی بین الاقوامی ٹرمینل کی تعمیر کے ساتھ ہی ملک اور بیرون ملک رابطے آسان ہو گئے ہیں۔ اس سے، تریپورہ شمال مشرق کے لیے ایک اہم لاجسٹکس ہب کی شکل میں فروغ پا رہا ہے۔ تریپورہ میں انٹرنیٹ لانے کے لیے ہم نے جو محنت کی ہے اس کا فائدہ آج لوگوں کو، خاص طور پر  میرے نوجوانوں کو مل رہا ہے۔ ڈبل انجن  سرکار بننے کے بعد، تریپورہ کی متعدد  پنچایتوں تک آپٹیکل فائبر پہنچ گیا ہے۔

ساتھیو،

بی جے پی کی ڈبل انجن سرکار نہ صرف فزیکل اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر ہی نہیں  بلکہ سوشل انفراسٹرکچر پر بھی زور دے رہی ہے۔ آج بی جے پی سرکار کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ علاج گھر کے قریب ہونا چاہیے، سستا ہونا چاہیے اور ہر کسی کے لیے دستیاب ہونا چاہیے۔ آیوشمان بھارت اسکیم اس میں بہت مفید ہے۔ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت شمال مشرق کے گاؤوں میں 7 ہزار سے زیادہ صحت اور بہبود کے مراکز کو منظوری دی گئی ہے۔ اس میں سے تقریباً 1000 مراکز  یہاں تریپورہ میں قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان مراکز میں  ہزاروں مریضوں کی کینسر، ذیابیطس جیسی متعدد سنگین بیماریوں کے لیے اسکریننگ کی گئی ہے۔ اسی طرح آیوشمان بھارت-پی ایم جے اسکیم کے تحت تریپورہ کے ہزاروں غریبوں کو 5 لاکھ روپے تک کے مفت علاج کی سہولت  بھی مل رہی ہے۔

ساتھیو،

بیت الخلا ہو، بجلی ہو یا گیس کنکشن، پہلی بار ان پر اتنا وسیع کام کیا گیا ہے۔ اب تو گیس گرڈ بھی بنا دیا گیا ہے۔ تریپورہ کے گھروں تک سستی پائپ گیس پہنچانے کے لیے ڈبل انجن  سرکار تیزی سے کام کر رہی ہے۔ ہر گھر تک پائپ سے پانی پہنچانے کے لیے  بھی ڈبل انجن سرکار دگنی رفتار سے کام کر رہی ہے۔ صرف 3 سالوں میں ہی تریپورہ کے 4 لاکھ نئے کنبوں کو پائپ سے پانی کی سہولت سے جوڑا گیا ہے۔ 2017 سے پہلے تریپورہ میں غریبوں کے  حق  کے راشن کی لوٹ مار ہوتی تھی۔ آج ڈبل انجن والی سرکار ہر غریب  تک اس کے  حصے کا راشن بھی فراہم کر رہی ہے اور پچھلے 3 سالوں سے مفت راشن بھی مہیا  کرا رہی ہے۔

ساتھیو،

ایسی تمام اسکیموں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی ہماری مائیں، بہنیں ہیں۔ تریپورہ کی  ایک  لاکھ سے زیادہ حاملہ ماؤں کو بھی پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا کا فائدہ ملا ہے۔ اس کے تحت غذائیت سے بھرپور خوراک کے لیے ہر ماں کے بینک اکاؤنٹ میں ہزاروں روپے براہ راست جمع کیے گئے ہیں۔ آج ہسپتالوں میں زیادہ سے زیادہ ڈلیوری ہو رہی ہے، جس سے ماں اور بچے دونوں کی جانیں بچ رہی ہیں۔ تریپورہ میں بہنوں اور بیٹیوں کو خود کفیل بنانے کے لیے جس طرح سے  سرکاری یہاں اقدامات  کر رہی ہے وہ بھی انتہائی قابل تعریف ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ سرکار نے خواتین کے روزگار کے لیے سینکڑوں کروڑ کا خصوصی پیکیج دیا ہے۔ ڈبل انجن کی سرکار  کے آنے سے تریپورہ میں خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کی تعداد 9 گنا بڑھ گئی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

دہائیوں سے تریپورہ میں ایسی پارٹیوں کی سرکار رہی ہے جن کے نظریے کی اہمیت ختم ہو چکی ہے اور جو موقع پرستی کی سیاست کرتی ہیں۔ انہوں نے تریپورہ کو ترقی سے محروم رکھا۔ تریپورہ کے پاس جو وسائل تھے، ان کا اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ اس سے  سب سے زیادہ نقصان غریبوں، نوجوانوں، کسانوں اور میری ماؤں بہنوں کو پہنچا۔ اس قسم کا نظریہ، اس قسم کی ذہنیت  سےعوام کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ وہ صرف منفی  باتیں  پھیلانا جانتے ہیں۔ ان  کے پاس  کوئی مثبت ایجنڈا نہیں ہے۔ یہ ڈبل انجن  سرکار ہی  ہے، جس کے پاس عزم کے ساتھ ساتھ کامیابی کے لیے ایک مثبت راستہ بھی  ہے۔ جب کہ تریپورہ میں ایکسلریٹر کی ضرورت پڑنے پر مایوسی  پھیلانے والے لوگ ریورس گیئر میں چلتے ہیں۔

ساتھیو،

اقتدار کی اس سیاست نے ہمارے قبائلی معاشرے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ قبائلی معاشرے اور قبائلی علاقوں کو ترقی سے دور رکھا گیا۔ بی جے پی نے اس سیاست کو بدل دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بی جے پی قبائلی سماج کی پہلی پسند ہے۔ گجرات میں ابھی ابھی  الیکشن ہوئے ہیں۔ 27 سال بعد بھی بی جے پی نے گجرات میں جو زبردست جیت حاصل کی ہے، اس میں قبائلی سماج کا بہت بڑا حصہ ہے۔ بی جے پی نے قبائلیوں کے لیے محفوظ 27  نشستوں میں سے 24 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

ساتھیو،

اٹل جی کی سرکار نے سب سے پہلے قبائلیوں کے لیے الگ وزارت اور الگ بجٹ کا بندوبست کیا۔ جب سے آپ نے ہمیں دہلی میں موقع دیا ہے، تب سے ہم نے قبائلی برادری سے جڑے ہر مسئلے کو ترجیح دی ہے۔ قبائلی برادری کا بجٹ جو 21 ہزار کروڑ روپے تھا، وہ  آج 88 ہزار کروڑ روپے ہے۔ اسی طرح قبائلی طلباء- طالبات کے وظائف کو بھی دوگنا  سے زیادہ کر دیا گیا ہے۔ اس  کا فائدہ  تریپورہ کے قبائلی سماج کو بھی پہنچا ہے۔ 2014 سے پہلے جہاں قبائلی علاقوں میں 100 سے کم ایکلویہ ماڈل اسکول تھے، وہیں آج یہ تعداد 500 سے تجاوز کر رہی ہے۔ تریپورہ کے لیے بھی ایسے 20 سے زیادہ اسکولوں کی منظوری دی گئی ہے۔ پہلے کی سرکاریں صرف 8-10 جنگلاتی مصنوعات پر ہی ایم ایس پی  دیتی تھیں۔ بی جے پی سرکار 90 جنگلاتی پیداوار پر ایم ایس پی دے رہی ہے۔ آج قبائلی علاقوں میں 50,000 سے زیادہ ون دھن کیندر ہیں، جن کے ذریعے تقریباً 9 لاکھ قبائلیوں کو روزگار مل رہا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ہماری بہنیں ہیں۔ یہ بی جے پی کی ہی سرکار ہے جس نے بانس کے استعمال اور تجارت کو قبائلی سماج کے لیے آسان  بنادیا ہے۔

ساتھیو،

یہ بی جے پی سرکار ہے جس نے پہلی بار قبائلی یوم فخر کی اہمیت کو سمجھا ہے۔ بی جے پی سرکار نے 15 نومبر کو بھگوان برسا منڈا کے یوم پیدائش کو پورے ملک میں قبائلی فخر کے دن کے طور پر منانا شروع کیا۔ ملک کی آزادی میں قبائلی برادری کے تعاون کو بھی آج ملک اور دنیا تک پہنچایا جا رہا ہے۔ آج ملک بھر میں 10 ْٹرائبل فریڈم فائٹر میوزیم قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہاں تریپورہ میں بھی حال ہی میں صدر  جمہوریہ محترمہ د  دروپدی مرمو جی نے مہاراجہ بیرندر کشور مانکیہ میوزیم اور ثقافتی مرکز کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ تریپورہ سرکار بھی قبائلی شراکت اور ثقافت کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ تریپورہ کے قبائلی آرٹ کلچر کو آگے بڑھانے والی اہم  شخصیات کو پدم سمان دینے کا اعزاز بھی بی جے پی سرکار نے حاصل کیا ہے۔ ایسی بہت سی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ تریپورہ سمیت پورے ملک میں قبائلی برادری کا اعتماد  بی جے پی پر  سب سے زیادہ  ہے۔

بھائیو اور بہنو،

ڈبل انجن والی سرکار کی یہ کوشش ہے کہ تریپورہ کے چھوٹے کسانوں اور چھوٹے کاروباریوں کو بہترین مواقع ملیں۔ یہاں کا لوکل کیسے گلوبل بنے اس کے لئے بھی  کوششیں کی جا رہی ہیں۔ آج تریپورہ کا پائن ایپل بیرون ملک  تک پہنچ رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہاں سے سینکڑوں میٹرک ٹن دیگر پھل اور سبزیاں بھی بنگلہ دیش، جرمنی اور دبئی برآمد کی جا رہی  ہیں۔ جس کی وجہ سے کسانوں کو اپنی پیداوار کی زیادہ قیمت مل رہی ہے۔ تریپورہ کے لاکھوں کسانوں کو پی ایم کسان سمان ندھی سے  بھی اب تک 500 کروڑ روپے سے زیادہ مل چکے ہیں۔ بی جے پی سرکار آج تریپورہ میں اگر کی  لکڑی کی صنعت پر جس طرح  زور دے رہی ہے، آنے والے سالوں میں اس کے مثبت  نتائج سامنے آئیں گے۔ اس سے تریپورہ کے نوجوانوں کو نئے مواقع ملیں گے اور کمائی کا نیا ذریعہ ملے گا۔

ساتھیو،

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تریپورہ اب امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اب تریپورہ میں ترقی کا ڈبل ​​انجن نتائج دے رہا ہے۔ مجھے تریپورہ کے عوام  کی صلاحیت پر پورا بھروسہ ہے۔ ہم ترقی کی رفتار کو تیز کریں گے، اسی یقین کے ساتھ  آج تریپورہ کے روشن مستقبل کے لیے، جن  پروجیکٹوں کا  سنگ بنیاد رکھا گیا ہے اور وقف کیا گیا ہے، میں ایک بار پھر تریپورہ کے باشندوں کے تئیں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں اور مبارکباد دیتا ہوں۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ اس امید کے ساتھ کہ تریپورہ  آنے والے وقت میں نئی بلندیوں کو حاصل کرے گا۔

بھارت ماتا کی جے!

بھارت ماتا کی جے!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Indian banks are strong enough to support growth

Media Coverage

Indian banks are strong enough to support growth
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister pays tributes to Dr. Syama Prasad Mookerjee on the day of his martyrdom
June 23, 2024

The Prime Minister, Shri Narendra Modi has paid tributes to Dr. Syama Prasad Mookerjee on the day of his martyrdom.

The Prime Minister said that Dr. Syama Prasad Mookerjee's glowing personality will continue to guide future generations.

The Prime Minister said in a X post;

“देश के महान सपूत, प्रख्यात विचारक और शिक्षाविद् डॉ. श्यामा प्रसाद मुखर्जी को उनके बलिदान दिवस पर सादर नमन। मां भारती की सेवा में उन्होंने अपना जीवन समर्पित कर दिया। उनका ओजस्वी व्यक्तित्व देश की हर पीढ़ी को प्रेरित करता रहेगा।”