وزیر اعظم نے اسکائی روٹ کے پہلے آربیٹل راکٹ وکرم-1 کی نقاب کشائی کی ، جس میں سیٹلائٹ کو مدار میں بھیجنے کی صلاحیت ہے
ہماری نوجوان قوت اپنی اختراع ، خطرہ مول لینے کی صلاحیت اور صنعت کاری کے ساتھ نئی بلندیاں طے کر رہی ہے: وزیر اعظم
اسرو نے کئی دہائیوں تک ہندوستان کے خلائی سفر کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے ، اپنی ساکھ ، صلاحیت اور قدر کے ذریعے ، ہندوستان نے عالمی خلائی منظر نامے میں ایک الگ شناخت قائم کی ہے: وزیر اعظم
صرف پچھلے چھ سے سات سالوں میں ، ہندوستان نے اپنے خلائی شعبے کو ایک کھلے ، تعاون پر مبنی اور اختراع پر مبنی ماحولیاتی نظام میں تبدیل کر دیا ہے: وزیر اعظم
جب حکومت نے خلائی شعبے کو کھولا تو ہمارے نوجوان اور خاص طور پر جین زی اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے آگے آئے: وزیر اعظم
ہندوستان کے پاس خلائی شعبے میں ایسی صلاحیتیں ہیں جو دنیا کے چند ممالک کے پاس ہیں: وزیر اعظم

کابینہ میں میرے ساتھی جناب جی. کشن ریڈی جی، آندھرا پردیش کے صنعت کےوزیر جناب ٹی. جی. بھرت جی، اِن-اسپیس کے چیئرمین جناب پون گوینکا جی، ٹیم اسکائی روٹ، دیگر عظیم شخصیات، خواتین و حضرات !

ساتھیو!

آج ملک خلائی شعبہ میں ایک غیر معمولی موقع کا مشاہد کر رہا ہے۔ آج بھارت کے خلائی ماحول میں، نجی شعبہ بڑی اڑان بھر رہا ہے۔ اسکائی روٹ کا انفِنٹی کیمپس، بھارت کی نئی سوچ، اختراع اور سب سے بڑی بات نوجوان طاقت کا عکاس ہے۔ ہماری نوجوان طاقت کی اختراع، خطرہ مول لینے کی صلاحیت اور کاروباری صلاحیت، آج نئی بلندی چھو رہی ہے۔ اور آج یہ پروگرام، اس بات کا مظہر ہے کہ آنے والے وقت میں بھارت عالمی سیٹلائٹ لانچ ماحول میں ایک رہنما بن کر ابھرے گا۔ میں پون کمار چندنا اور ناگا بھرت ڈاکا کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ آپ دونوں نوجوان ملک کے کئی نوجوان خلائی کاروباریوں، ہر نوجوان کے لیے بہت بڑی مثال ہیں۔ آپ دونوں نوجوانوں نے خود پر بھروسہ کیا، آپ خطرہ اٹھانے میں پیچھے نہیں رہے۔ اور اس کا نتیجہ آج پورا ملک دیکھ رہا ہے، ملک آپ پر فخر کر رہا ہے۔

ساتھیو!

بھارت کا خلائی سفر بہت محدود وسائل سے شروع ہوا تھا۔ لیکن ہماری خواہشات کبھی بھی محدود نہیں رہیں۔ وہ بھی ایک زمانہ تھا، ایک سائیکل پر راکٹ کا حصہ لے جانے سے لے کر، دنیا کے سب سے قابل اعتماد لانچ گاڑی تک بھارت نے ثابت کیا ہے کہ خوابوں کی اونچائی وسائل سے نہیں، عزم سے طے ہوتی ہے۔ اِسرو نے دہائیوں تک بھارت کے خلائی سفر کو نئی اڑان دی ہے۔ بھروسہ، صلاحیت اور قدر، ہر طرح سے بھارت نے اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔

ساتھیو!

ہم سب جانتے ہیں کہ بدلتے ہوئے اس وقت میں خلائی شعبہ  کتنا وسیع ہو رہا ہے۔ یہ مواصلات، زراعت، سمندری نگرانی، شہری منصوبہ بندی، موسم کی پیشین گوئی اور قومی سلامتی کی بنیاد بن چکا ہے۔ اور اس لیے ہی ہم نے بھارت کے خلائی شعبہ میں تاریخی اصلاحات کیں۔ سرکار نے خلائی شعبہ کو نجی جدت طرازی کے لیے کھولا، نئی خلائی پالیسی تیار کی گئی۔ ہم نے اسٹارٹ اپس کو، صنعت کو، اختراع کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے اِن-اسپیس قائم کیا، اپنے اسٹارٹ اپس کے لیے اِسرو کی سہولیات اور ٹیکنالوجی کو دستیاب کرایا۔ یعنی، بھارت نے گزشتہ 6-7 سالوں میں ہی اپنے خلائی شعبہ کو ایک کھلے، تعاون پر مبنی اور اختراع سے چلنے والے ماحول میں بدل دیا ہے۔ آج کے اس پروگرام میں ہمیں اسی کی جھلک دکھائی دے رہی ہے اور فخر کا احساس ہو رہا ہے۔

 

ساتھیو!

بھارت کا نوجوان ملک کے مفاد کو سب سے اوپر رکھ کر چلتا ہے۔ وہ ہر موقع کا صحیح استعمال کرتا ہے۔ جب سرکار نے خلائی شعبہ کو کھولا، تو ملک کے نوجوان اور خاص طور  پر ہمارے جین زی نوجوان اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے آگے آ گئے۔ آج بھارت کے 300 سے زیادہ خلائی اسٹارٹ اپس، بھارت کے خلائی مستقبل کو نئی امیدیں دے رہے ہیں۔ اور اس میں بھی خاص یہ کہ ہمارے حقوق اور ہمارے زیادہ تر خلائی اسٹارٹ اپس، اس کی شروعات بہت چھوٹی ٹیم سے ہوئی ہے۔ اور مجھے ان سب کو گزشتہ 5-6 سال میں لگاتار ملنے کا موقع ملا ہے۔ کبھی دو لوگ، کبھی پانچ ساتھی، کبھی ایک چھوٹا سا کرائے کا کمرہ۔ ٹیم چھوٹی تھی، وسائل محدود تھے، لیکن ارادے نئی بلندی چھونے کے ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے، جس نے بھارت میں نجی خلائی انقلاب کو جنم دیا ہے۔ آج یہ جین زی انجینئرز، جین زی ڈیزائنرز، جین زی کوڈرز اور جین  زی سائنسدان، نئی نئی ٹیکنالوجی بنا رہے ہیں۔ پروپلشن سسٹم ہوں، مرکب مواد ہوں، راکٹ کے مراحل ہوں، سیٹلائٹ پلیٹ فارم ہوں، بھارت کا نوجوان آج ان شعبوں میں کام کر رہا ہے، جن کا کچھ سال پہلے تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ بھارت کا نجی خلائی ٹیلنٹ پوری دنیا میں اپنی الگ پہچان بنا رہا ہے۔ آج عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھارت کا خلائی شعبہ ایک پرکشش منزل بن رہا ہے۔

ساتھیو!

آج دنیا میں چھوٹے سیٹلائٹس کی مانگ لگاتار بڑھ رہی ہے۔ لانچ کی فریکوئنسی بھی بڑھ رہی ہے۔ نئی نئی کمپنیاں سیٹلائٹ خدمات دینے لگی ہیں۔ اور خلائی شعبہ اب ایک اسٹراٹیجک اثاثہ کے روپ میں جگہ بنا چکا ہے۔ اس لیے، آنے والے سالوں میں عالمی خلائی معیشت کئی گنا بڑھنے والی ہے۔ یہ بھارت کے نوجوانوں کے لیے بہت بڑا موقع ہے۔

ساتھیو!

بھارت کے پاس خلائی شعبہ میں جو صلاحیت ہے، وہی صلاحیت دنیا میں صرف کچھ ہی ممالک کے پاس ہے۔ ہمارے پاس ماہر انجینئرز ہیں، اعلیٰ معیار کا مینوفیکچرنگ ماحول ہے، عالمی معیار کی لانچ سائٹس ہیں اور اختراع کو حوصلہ افزائی کرنے والی ذہنیت ہے۔ بھارت کی خلائی صلاحیت لاگت کے لحاظ سے کفایتی بھی ہے اور قابل اعتماد بھی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کی بھارت سے بہت زیادہ امیدیں ہیں۔ عالمی کمپنیاں، بھارت میں سیٹلائٹس بنانا چاہتی ہیں، بھارت سے لانچ خدمات لینا چاہتی ہیں، بھارت کے ساتھ ٹیکنالوجی شراکت داری چاہتی ہیں۔ اور اس لیے ہمیں اس وقت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ساتھیو!

آج جو تبدیلی ہم خلائی شعبہ میں دیکھ رہے ہیں، وہ بھارت میں ہو رہے اسٹارٹ اپ انقلاب کا حصہ ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں، الگ الگ شعبوں میں اسٹارٹ اپس کا نیا دور شروع ہوا ہے۔ فِن ٹیک ہو، ایگری ٹیک ہو، ہیلتھ ٹیک ہو، کلائمیٹ ٹیک ہو، ایڈو ٹیک ہو، دفاعی ٹیک ہو، ہر شعبہ میں بھارت کے نوجوان، ہمارے جین زی نئے حل دے رہے ہیں۔ اور آج، میں دنیا کے جین زی کو بھی بڑے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر جین زی کے لیے سچے معنی میں کہیں سے ترغیب مل سکتی ہے، تو بھارت کے جین زی سے مل سکتی ہے۔ بھارت کے جین زی کی جو تخلیقی صلاحیت ہے، بھارت کے جین زی کی جو مثبت ذہنیت ہے، بھارت کے جین زی کی جو صلاحیت سازی ہے، یہ اپنے آپ میں پوری دنیا کی جین زی کے لیے مثال بن سکتی ہے۔ آج بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحول بن چکا ہے۔ ایک وقت تھا، جب اسٹارٹ اپ کا مطلب صرف اور صرف کچھ بڑے شہروں تک محدود تھا۔ لیکن آج بھارت کے چھوٹے چھوٹے شہروں اور گاؤں سے بھی اسٹارٹ اپس نکل رہے ہیں۔ آج ملک میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس ہیں۔ متعدد اسٹارٹ اپس یونیکورن بن چکے ہیں۔

 

ساتھیو!

آج بھارت صرف ایپس اور سروسز تک محدود نہیں ہے۔ ہم اب ڈیپ-ٹیک، مینوفیکچرنگ اور ہارڈ ویئر اختراع کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، جین زی کا شکریہ ۔ آپ سیمی کنڈکٹر شعبہ کی ہی مثال لیجیے، سرکار نے جو تاریخی قدم اٹھائے ہیں، وہ بھارت کے ٹیک مستقبل کی بنیاد کو مضبوطی دے رہے ہیں۔ آج ملک میں سیمی کنڈکٹر فیبریکیشن یونٹس، چپ مینوفیکچرنگ اور ڈیزائن ہبز بہت تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ چپ سے لے کر سسٹم تک، بھارت اب ایک مضبوط الیکٹرانکس ویلیو چین تیار کر رہا ہے۔ یہ خود انحصاری کے عزم کا حصہ تو ہے ہی، اس سے بھارت عالمی سپلائی چین کا ایک مضبوط اور قابل اعتماد ستون بھی بنے گا۔

ساتھیو!

اصلاحات کا ہمارا دائرہ بھی لگاتار بڑھ رہا ہے۔ جیسے ہم نے خلائی اختراع کو نجی شعبہ کے لیے کھولا، اسی ظرح ہم ایک بہت اہم شعبہ میں بھی قدم اٹھانے جا رہے ہیں۔ ہم نیوکلیئر شعبہ کو بھی کھولنے کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس شعبہ میں بھی ہم نجی شعبہ کی طاقتور کردار کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں۔ اس سے چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹر، ایڈوانسڈ ری ایکٹرز اور نیوکلیئر اختراع میں مواقع بنیں گے۔ یہ اصلاح، ہماری توانائی کے تحفظ اور تکنیکی قیادت کو نئی طاقت دے گا۔

ساتھیو!

آنے والا مستقبل کیسا ہوگا، یہ بہت کچھ آج ہو نے والی تحقیق پر بھی منحصر ہے۔ اس لیے ہماری سرکار کا بہت زور نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ تحقیق کے مواقع دینے پر بھی ہے۔ ہم نے قومی تحقیقی فاؤنڈیشن کا قیام کیا ہے، جو جدید تحقیق کے لیے نوجوانوں کو سپورٹ کرتا ہے۔ ’’ون نیشن، ون سبسکرپشن‘‘ اس سے سبھی طلباء کی بین الاقوامی جریدوں تک رسائی آسان ہوئی ہے۔ ایک لاکھ کروڑ کے تحقیق، ترقی اور اختراع سے متعلق فنڈ سے ملک بھر میں نوجوانوں کو بہت مدد ملنے والی ہے۔ ہم نے 10,000 سے زیادہ اٹل ٹِنکرِنگ لیبز بھی کھولی ہیں، جو طلباء میں تحقیق اور اختراع کا جذبہ پیدا کررہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں ہم ایسی 50,000 نئی اٹل ٹِنکرِنگ لیبز بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ سرکار کی یہ کوششیں بھارت میں نئے اختراع کی بنیاد بنا رہی ہیں۔

ساتھیو!

آنے والا وقت بھارت کا ہے، بھارت کے نوجوانوں کا ہے، بھارت کی اختراعات کا ہے۔ کچھ مہینے پہلے خلائی دن کے موقع پر میں نے، ہماری خلائی خواہشات کی بحث کی تھی۔ ہم نے طے کیا تھا کہ آنے والے 5 سال میں بھارت اپنی لانچ صلاحیت کو نئی اونچائیوں تک لے جائے گا۔ ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ بھارت کے خلائی شعبہ میں 5 نئے یونیکورن تیار ہوں گے۔ اسکائی روٹ کی ٹیم جس طرح آگے بڑھ رہی ہے، اس سے یہ طے ہے کہ بھارت اپنا ہر مقصد حاصل کر کے رہے گا۔

 

ساتھیو!

میں بھارت کے ہر نوجوان کو، ہر اسٹارٹ اپ، سائنسدان، انجینئر، کاروباری کو بھروسہ دیتا ہوں اور میرے نوجوان ساتھیو! یہ میری گارنٹی ہے، سرکار ہر قدم پر آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ میں ایک بار پھر اسکائی روٹ کی پوری ٹیم کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ اور ان سبھی لوگوں کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں، جو بھارت کے خلائی سفر کو نئی رفتار دے رہے ہیں۔ آئیے، زمین ہو یا پھر خلاء 21ویں صدی کو بھارت کی صدی بنائیں! آپ سب کا بہت بہت شکریہ! نیک خواہشات!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push

Media Coverage

India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
List of Outcomes: Visit of His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, President of UAE to India
January 19, 2026
S.NoAgreements / MoUs / LoIsObjectives

1

Letter of Intent on Investment Cooperation between the Government of Gujarat, Republic of India and the Ministry of Investment of the United Arab Emirates for Development of Dholera Special Investment region

To pursue investment cooperation for UAE partnership in development of the Special Investment Region in Dholera, Gujarat. The envisioned partnership would include the development of key strategic infrastructure, including an international airport, a pilot training school, a maintenance, repair and overhaul (MRO) facility, a greenfield port, a smart urban township, railway connectivity, and energy infrastructure.

2

Letter of Intent between the Indian National Space Promotion and Authorisation Centre (IN-SPACe) of India and the Space Agency of the United Arab Emirates for a Joint Initiative to Enable Space Industry Development and Commercial Collaboration

To pursue India-UAE partnership in developing joint infrastructure for space and commercialization, including launch complexes, manufacturing and technology zones, incubation centre and accelerator for space start-ups, training institute and exchange programmes.

3

Letter of Intent between the Republic of India and the United Arab Emirates on the Strategic Defence Partnership

Work together to establish Strategic Defence Partnership Framework Agreement and expand defence cooperation across a number of areas, including defence industrial collaboration, defence innovation and advanced technology, training, education and doctrine, special operations and interoperability, cyber space, counter terrorism.

4

Sales & Purchase Agreement (SPA) between Hindustan Petroleum Corporation Limited, (HPCL) and the Abu Dhabi National Oil Company Gas (ADNOC Gas)

The long-term Agreement provides for purchase of 0.5 MMPTA LNG by HPCL from ADNOC Gas over a period of 10 years starting from 2028.

5

MoU on Food Safety and Technical requirements between Agricultural and Processed Food Products Export Development Authority (APEDA), Ministry of Commerce and Industry of India, and the Ministry of Climate Change and Environment of the United Arab Emirates.

The MoU provides for sanitary and quality parameters to facilitate the trade, exchange, promotion of cooperation in the food sector, and to encourage rice, food products and other agricultural products exports from India to UAE. It will benefit the farmers from India and contribute to food security of the UAE.

S.NoAnnouncementsObjective

6

Establishment of a supercomputing cluster in India.

It has been agreed in principle that C-DAC India and G-42 company of the UAE will collaborate to set up a supercomputing cluster in India. The initiative will be part of the AI India Mission and once established the facility be available to private and public sector for research, application development and commercial use.

7

Double bilateral Trade to US$ 200 billion by 2032

The two sides agreed to double bilateral trade to over US$ 200 billion by 2032. The focus will also be on linking MSME industries on both sides and promote new markets through initiatives like Bharat Mart, Virtual Trade Corridor and Bharat-Africa Setu.

8

Promote bilateral Civil Nuclear Cooperation

To capitalise on the new opportunities created by the Sustainable Harnessing and Advancement of Nuclear Energy for Transforming India (SHANTI) Act 2025, it was agreed to develop a partnership in advance nuclear technologies, including development and deployment of large nuclear reactors and Small Modular Reactors (SMRs) and cooperation in advance reactor systems, nuclear power plant operations and maintenance, and Nuclear Safety.

9

Setting up of offices and operations of UAE companies –First Abu Dhabi Bank (FAB) and DP World in the GIFT City in Gujarat

The First Abu Dhabi Bank will have a branch in GIFT that will promote trade and investment ties. DP World will have operations from the GIFT City, including for leasing of ships for its global operations.

10

Explore Establishment of ‘Digital/ Data Embassies’

It has been agreed that both sides would explore the possibility of setting up Digital Embassies under mutually recognised sovereignty arrangements.

11

Establishment of a ‘House of India’ in Abu Dhabi

It has been agreed in Principle that India and UAE will cooperate on a flagship project to establish a cultural space consisting of, among others, a museum of Indian art, heritage and archaeology in Abu Dhabi.

12

Promotion of Youth Exchanges

It has been agreed in principle to work towards arranging visits of a group of youth delegates from either country to foster deeper understanding, academic and research collaboration, and cultural bonds between the future generations.