راجستھان ایک اہم سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر ابھر رہا ہے، جس کی بنیاد اس کی ماہر افرادی قوت اور وسیع ہوتی ہوئی مارکیٹ ہے: وزیر اعظم
دنیا بھر کے ماہرین اور سرمایہ کار بھارت کے تئیں پرجوش ہیں: وزیر اعظم
بھارت کی کامیابی جمہوریت، آبادی، ڈیجیٹل ڈاٹا اور خدمات کی اصل قوت کو ظاہر کرتی ہے: وزیر اعظم
یہ صدی ٹیکنالوجی اور ڈاٹا پر مبنی صدی ہے: وزیر اعظم
بھارت نے ثابت کیا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی جمہوری شکل سے ہر شعبے اور کمیونٹی کو فائدہ پہنچ رہا ہے: وزیر اعظم
راجستھان نہ صرف ترقی کر رہا ہے بلکہ یہ قابل اعتماد بھی ہے، راجستھان چیزوں کو قبول کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے اور وقت کے ساتھ خود کو بہتر بنانا جانتا ہے: وزیر اعظم
بھارت میں مینوفیکچرنگ کی مضبوط بنیاد ہونا انتہائی ضروری ہے: وزیر اعظم
بھارت کے ایم ایس ایم ای نہ صرف بھارتی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں بلکہ عالمی سپلائی اور ویلیو چین کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں: وزیر اعظم

راجستھان کے گورنر جناب  ہری بھاؤ باگڑے جی، یہاں کے مقبول وزیر اعلیٰ جناب بھجن لال جی شرما، راجستھان حکومت کے وزراء، اراکین پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، صنعت کے ساتھی، مختلف سفیر، سفارت خانوں کے نمائندے، دیگر معززین، خواتین و حضرات۔

راجستھان کی ترقی کے سفر میں آج ایک اور اہم دن ہے۔ ملک اور دنیا بھر سے بڑی تعداد میں مندوبین اور سرمایہ کار یہاں پِنک سٹی پہنچے ہیں۔ انڈسٹری کے  بھی کئی ساتھی یہاں موجود ہیں۔ رائزنگ راجستھان سمٹ میں آپ سب کا استقبال ہے۔ میں راجستھان کی بی جے پی حکومت کو اس شاندار تقریب کے لیے مبارکباد دینا چاہوں گا۔

 

ساتھیو!

آج دنیا کا ہر ماہر اور ہر سرمایہ کار بھارت کو لے کر بہت پرجوش ہے۔ریفارم-پرفارم-ٹرانسفرم کے منتر پر عمل کرتے ہوئے بھارت نے جو ترقی حاصل کی ہے وہ ہر میدان میں نظر آتی ہے۔ آزادی کے بعد سات دہائیوں میں بھارت دنیا کی گیارہویں سب سے بڑی معیشت بن پایا تھا۔ اس کے سامنے، پچھلے 10 برسوں میں، بھارت 10 ویں بڑی معیشت سے 5 ویں بڑی معیشت بن گیا ہے۔ پچھلے 10 برسوں  میں بھارت نے اپنی معیشت کا حجم تقریباً دوگنا کر دیا ہے۔ گزشتہ 10 برسوں میں بھارت کی برآمدات بھی تقریباً دوگنی ہو گئی ہیں۔سال 2014 سے پہلے کی دہائی کے مقابلے پچھلی دہائی میں ایف ڈی آئی بھی دوگنا سے  زیادہ ہو گئی ہے۔ اس مدت کے دوران، بھارت نے اپنے بنیادی ڈھانچے کے اخراجات کو تقریباً 2 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 11 ٹریلین تک پہنچا  دیا ہے۔

 

ساتھیو!

جمہوریت، ڈیموگرافی، ڈیجیٹل ڈیٹا اور ترسیل کی طاقت کیا ہوتی ہے، یہ بھارت کی کامیابی سے پتہ چلتا ہے۔ بھارت جیسے متنوع ملک میں جمہوریت اتنی پھول پھول رہی ہے، اتنی طاقتور ہورہی ہے، یہ اپنے آپ میں ایک بہت بڑی حصولیابی ہے۔ ڈیموکریٹک رہتے ہوئے  انسانیت کی فلاح، یہ بھارت کے فلسفے کی بنیاد میں ہے، یہ بھارت کا بنیادی کردار ہے۔ آج بھارت کے عوام، اپنے جمہوری حق کے ذریعے بھارت میں ایک مستحکم حکومت کے لیے ووٹ دے رہے ہیں۔

 

ساتھیو!

بھارت کی ان قدیم روایات کو ہماری آبادی یعنی نوجوانوں کی طاقت آگے لے جا رہی ہے۔ آنے والے کئی سالوں تک بھارت دنیا کے سب سے نوجوان ملکوں میں رہنے والا ہے۔ بھارت کے پاس نوجوانوں کا سب سے بڑا پول ہونے کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا ہنر مند نوجوانوں کا گروپ ہوگا۔ اس کے لیے حکومت یکے بعد دیگرے کئی فیصلے لے رہی ہے۔

 

ساتھیو!

پچھلی دہائی میں بھارت کی نوجوان طاقت نے اپنی صلاحیت میں ایک اور جہت کا اضافہ کیا ہے۔ یہ ایک نئی جہت ہے، بھارت کی ٹیک پاور، بھارت  کی ڈیٹا پاور۔ آپ سب جانتے ہیں کہ آج ہر شعبے میں ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کی کتنی اہمیت ہے۔ یہ صدی ٹیکنالوجی سے چلنے والی، ڈیٹا پر مبنی صدی ہے۔ پچھلی دہائی میں بھارت میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں تقریباً 4 گنا اضافہ ہوا ہے۔ ڈجیٹل لین دین میں نئے ریکارڈ قائم کیے جا رہے ہیں، اور یہ صرف شروعات ہے۔ بھارت دنیا کو جمہوریت، ڈیموگرافی اور ڈیٹا کی حقیقی طاقت دکھا رہا ہے۔ بھارت نے دکھایا ہے کہ کس طرح ڈجیٹل ٹکنالوجی کا ڈیموکریٹائزیشن  ہر شعبے اور ہر طبقے کو فائدہ پہنچا رہاہے۔ بھارت کا یو پی آئی ، بھارت کا بینیفٹ ٹرانسفر اسکیم سسٹم،جی ای ایم ، گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس،او این ڈی سی- ڈجیٹل کامرس کے لیے اوپن نیٹ ورک، ایسے کتنے ہی پلیٹ فارم ہیں جو ڈجیٹل ماحولیاتی نظام کی طاقت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کا بہت بڑا فائدہ اور بہت بڑا اثر ہم یہاں راجستھان میں بھی دیکھنے جا رہے ہیں۔ میرا ہمیشہ سے یہ ماننا ہے کہ ریاست کی ترقی سے ملک کی ترقی ہے۔ جب راجستھان ترقی کی نئی بلندی پر پہنچے گا تو ملک بھی نئی بلندی ملے گی۔

 

ساتھیو!

راجستھان رقبے کے لحاظ سے بھارت کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ اور راجستھان کے لوگوں کے دل بھی اتنے ہی بڑے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کی محنت، ان کی ایمانداری، مشکل سے مشکل مقصد کو پانےکا عزم، ملک کو مقدم رکھنے کا جذبہ، ملک کے لیے کچھ بھی کرنے کا جذبہ، یہ آپ کو راجستھان کی رگ رگ میں، ذرے ذرے میں دکھائی دیتا ہے۔آزادی کے بعد کی حکومتوں کی ترجیح نہ ملک کی ترقی تھی اور نہ ہی ملک کی وراثت۔ اس کی وجہ سے راجستھان بڑا نقصان اٹھا چکاہے۔ لیکن آج ہماری حکومت، ترقی بھی، وراثت بھی اس منتر پرچل رہی ہےاور اس کا بہت بڑا فائدہ راجستھان کو ہورہا ہے۔

 

ساتھیو!

راجستھان رائزنگ تو ہے ہی قابل اعتماد بھی ہے۔ راجستھان قبول کرنے والا بھی ہے اور وقت کے ساتھ خود کو ریفائن کرنا بھی جانتا ہے۔ نئے مواقع کو بنانے کا نام ہے۔ راجستھان کے اس آر فیکٹر میں اب ایک اور پہلو جڑ چکا ہے۔ راجستھان کے لوگوں نے یہاں بھاری اکثریت سے بی جے پی کی ریسپونسیو اور ریفارمسٹ سرکاربنائی ہے۔ بہت کم وقت میں بھجن لال جی اور ان کی پوری ٹیم نے یہاں شاندار کام کرکے دکھایا ہے۔ کچھ ہی دن میں ریاستی سرکار اپنا ایک سال بھی پورا کرنے جارہی ہے۔ بھجن لال جی راجستھان کی تیز رفتار ترقی میں جس کارکردگی اور عزم کے ساتھ لگے ہوئے ہیں وہ قابل تعریف ہے۔ غریبوں کی بہبود ہو، کسانوں کی فلاح و بہبودہو، نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہو، سڑک، بجلی، پانی کے کام ہوں، راجستھان میں ہر قسم کی ترقی اور اس سے متعلقہ تمام کام تیزی سے ہو رہے ہیں۔حکومت جرائم اور بدعنوانی پر قابو پانے میں جس تیزی کا مظاہرہ کررہی ہے اس سے شہریوں اور سرمایہ کاروں میں نیا جوش و خروش پیدا ہوا ہے۔

 

ساتھیو!

راجستھان کے عروج کو مزید محسوس کرنے کے لیے، راجستھان کی حقیقی صلاحیت کو محسوس کرنا بہت ضروری ہے۔ راجستھان میں قدرتی وسائل کے ذخائر ہیں۔ راجستھان کے پاس جدید کنیکٹیویٹی کا نیٹ ورک ہے، ایک مالامال وراثت ہے، ایک بہت بڑا زمینی علاقہ اور ایک بہت ہی قابل نوجوان طاقت بھی ہے۔ یعنی سڑک سے لے کر ریلویز تک، مہمان نوازی سے لے کر دستکاری تک، کھیتوں سے لے کر قلعوں تک، راجستھان کے پاس بہت کچھ ہے۔ راجستھان کی یہ صلاحیت ریاست کو سرمایہ کاری کے لیے بہت پرکشش مقام بناتی ہے۔ راجستھان کی ایک اور خاصیت ہے۔ راجستھان میں سیکھنےکی خوبی ہے، اس میں اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کی خوبی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اب یہاں ریتیلے کناروں میں بھی پیڑ، پھلوں سے لدے ہوئے ہیں اور زیتون اور جتروپہ کی کاشت بڑھ رہی ہے۔ جے پور کی نیلی مٹی کے برتن، پرتاپ گڑھ کی تھیوا جیولری اور بھلواڑہ کا ٹیکسٹائل اختراع... ان کی الگ ہی  شان ہے۔ مکرانہ کا سنگ مرمر اور کوٹا ڈوریا کی پوری دنیا میں پہچان ہے۔ ناگور میں، ناگور کے پان میتھی کی خوشبو بھی منفرد ہے۔ اور آج کی بی جے پی حکومت ہر ضلع کی صلاحیت کو پہچانتے ہوئے  کام کر رہی ہے۔

 

ساتھیو!

آپ بھی جانتے ہیں کہ بھارت کے معدنی ذخائر کا ایک بڑا حصہ راجستھان میں ہے۔ یہاں زنک، سیسہ، تانبا، سنگ مرمر، چونا پتھر، گرینائٹ، پوٹاش وغیرہ جیسے کئی معدنیات کے ذخائر موجود ہیں۔ یہ خود انحصار بھارت کی مضبوط بنیادیں ہیں۔ راجستھان، بھارت کی توانائی کی سلامتی میں ایک بہت بڑا حصہ دار ہے۔ بھارت نے اس دہائی کے آخر تک 500 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس میں  بھی راجستھان  بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔ بھارت کے بہت سے بڑے سولر پارک یہاں بنائے جا رہے ہیں۔

 

ساتھیو!

راجستھان، دہلی اور ممبئی جیسے معیشت کے دو بڑے مراکز کو جوڑتا ہے۔ راجستھان، مہاراشٹر اور گجرات کی بندرگاہوں کو شمالی بھارت سے جوڑتا ہے۔ آپ دیکھئے، دہلی-ممبئی صنعتی راہداری کا 250 کلومیٹر حصہ راجستھان میں ہے۔ اس سے راجستھان کےالور، بھرت پور، دوسہ، سوائی مادھوپور، ٹونک، بوندی اور کوٹا جیسے اضلاع کو بہت فائدہ ہوگا۔سامان کی ترسیل کے لیے مخصوص راہداری جیسے جدید ریل نیٹ ورک کا 300 کلومیٹر حصہ راجستھان میں ہے۔ یہ راہداری جے پور، اجمیر، سیکر، ناگور اور الور اضلاع سے گزرتی ہے۔ کنیکٹیویٹی کے اتنے بڑے  پروجیکٹوں کا مرکز ہونے کے سبب، راجستھان سرمایہ کاری کے لیے ایک بہترین خطہ ہے۔ خاص طور پر خشک بندرگاہوں اور لاجسٹکس کے شعبے کے لیے تو بے شمار امکانات موجود ہیں۔ ہم یہاں ایک ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارک تیار کر رہے ہیں۔ یہاں تقریباً دو درجن سیکٹر مخصوص صنعتی پارک بنائے جارہے ہیں۔ دو ایئر کارگو کمپلیکس بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس سے راجستھان میں صنعتیں لگانے میں آسانی ہوگی اور صنعتی رابطہ بہتر اور  ہوگا۔

 

ساتھیو!

ہم بھارت کے خوشحال مستقبل میں سیاحت کی بڑی صلاحیت دیکھ رہے ہیں۔ بھارت میں فطرت، ثقافت، مہم جوئی، کانفرنسیں، دور دراز مقامات پر شادی اور ورثے کی سیاحت سب کے لیے لامحدود امکانات ہیں۔ راجستھان بھارت کے سیاحتی نقشے کااہم مرکز ہے۔ یہاں تاریخ بھی ہے، ورثہ، وسیع صحرا اور خوبصورت جھیلیں بھی ہیں۔ یہاں کے گانے، موسیقی اور کھانا اس کے لیے تو جتنا کہیں اتنا کم  ہے۔ ٹور، ٹریول اور مہمان نوازی کے شعبے کو جو چاہیے، وہ سب راجستھان میں ہے۔ راجستھان دنیا کے ان چنندہ مقامات میں سے ایک ہے جہاں لوگ شادی بیاہ جیسے زندگی کے لمحات کو یادگار بنانے کے لیے راجستھان آنا چاہتے ہیں۔ راجستھان میں جنگلاتی طرز زندگی کی سیاحت کی بھی کافی گنجائش ہے۔ رنتھمبور ہو، سریسکا ہو، مکندرا ہلز، کیولادیوہو، ایسے کئی مقامات  ہیں جو جنگلاتی طرز زندگی کو پسند کرنے والوں کے لیے جنت ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ راجستھان حکومت اپنے سیاحتی مقامات اور ورثے کے مراکز کو بہتر رابطے کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔ حکومت ہند نے تقریباً الگ الگ تھیم سرکٹس سے متعلق اسکیمیں بھی شروع کی ہیں۔سال 2004 اور 2014 کے درمیان، 10 سال میں تقریبا 5 کروڑ غیر ملکی سیاح بھارت آئے تھے۔جبکہ، سال 2014 سے 2024 کے درمیان، 7 کروڑ سے زیادہ غیر ملکی سیاح بھارت آئے ہیں، اور آپ دھیان دیجیے، ان 10 برسوں میں، پوری دنیا کے تین سے چار سال توکورونا سے لڑنے میں صرف ہوگئے تھے۔ کورونا کے دور میں سیاحت ٹھپ ہو کر رہ گئی تھی۔ اس کے باوجود بھارت آنے والے سیاحوں کی تعداد اتنی زیادہ بڑھی ہے۔ بھارت نے کئی ملکوں کے سیاحوں کو  ای ویزا کی جو سہولت دی ہے،اسے غیر ملکی مہمانوں کوبہت مدد مل رہی ہے۔ بھارت میں آج گھریلو سیاحت بھی نئے ریکارڈ بنا رہی ہے، اُڑان  اسکیم ہو، وندے بھارت ٹرینیں ہوں، پرساد اسکیم ہو، ان سب کا فائدہ راجستھان کو مل رہا ہے۔ بھارت کے وائبرنٹ ولیج  جیسے پروگراموں سے بھی راجستھان کو بہت فائدہ ہو رہا ہے۔ میں نے ہم وطنوں سے بھارت میں شادی کرنے کی اپیل کی ہے۔ راجستھان کو بھی اس کا فائدہ یقینی ہے۔ راجستھان میں ورثوں کی سیاحت، فلم سیاحت، ماحولیاتی سیاحت، دیہی سیاحت، سرحدی علاقے کی سیاحت کو بڑھانے کے بے شمار امکانات ہیں۔ ان شعبوں میں آپ کی سرمایہ کاری سے راجستھان کے سیاحت کے شعبے کو تقویت ملے گی اور آپ کا کاروبار بھی بڑھے گا۔

 

ساتھیو!

آپ سبھی عالمی سپلائی اور ویلیو چین سے متعلق چیلنجوں سے واقف ہیں۔ آج دنیا کو ایک ایسی معیشت کی ضرورت ہے جو بڑے سے بڑے بحران کے دوران بھی مضبوطی سے چلتی رہے اور اسے کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے لیے بھارت میں وسیع مینوفیکچرنگ بیس کا ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ صرف بھارت کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ضروری ہے۔ اپنی اسی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے، بھارت نے مینوفیکچرنگ میں خود انحصاری کا بہت بڑا عہد کیا ہے۔ بھارت اپنے میک ان انڈیا پروگرام کے تحت کم لاگت کی مینوفیکچرنگ پر زور دے رہا ہے۔ بھارت کی پیٹرولیم مصنوعات، بھارت کی ادویات اور ویکسین، بھارت کے الیکٹرانک سامان میں بھارت کی ریکارڈ مینوفیکچرنگ سے دنیا کو بہت بڑا فائدہ ہورہا ہے۔ گزشتہ سال بھی راجستھان سے تقریباً 84 ہزار کروڑ روپے کی برآمدات ہوئی، 84 ہزار کروڑ روپے۔ اس میں انجینئرنگ کا سامان، جواہرات اور زیورات، ٹیکسٹائل، دستکاری، زرعی خوراک کی مصنوعات شامل ہیں۔

 

ساتھیو!

بھارت میں مینوفیکچرنگ کو بڑھانے میں پی ایل آئی اسکیم کا کردار بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آج الیکٹرانکس، اسپیشلٹی اسٹیل، آٹوموبائل اور آٹو پرزے، سولر پی وی، فارماسیوٹیکل ادویات۔۔۔ان شعبوں میں بہت زیادہ جوش و خروش ہے۔ پی ایل آئی اسکیم کی وجہ سے تقریباً 1.25 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے، تقریباً 11 لاکھ کروڑ روپے کی مصنوعات تیار کی گئی ہیں اور برآمدات میں 4 لاکھ کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ لاکھوں نوجوانوں کو نئی نوکریاں بھی ملی ہیں۔ یہاں راجستھان میں بھی آٹوموٹیو اور آٹو کمپوننٹ انڈسٹری کے لیے ایک اچھا بیس تیار ہوچکا ہے۔ یہاں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے بہت امکانات ہیں۔ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے بھی جس ضروری بنیادی ڈھانچہ کی ضرورت ہے، وہ بھی راجستھان میں دستیاب ہے۔ میں تمام سرمایہ کاروں سے گزارش کروں گا کہ وہ راجستھان کی مینوفیکچرنگ صلاحیت کا بھی ضرور جائزہ لیں۔

 

ساتھیو!

رائزنگ راجستھان کی بہت بڑی طاقت ہے - ایم ایس ایمیز.. ایم ایس ایمیز کے لحاظ سے راجستھان بھارت کی ٹاپ 5 ریاستوں میں سے ایک ہے۔ یہاں اس سمٹ میں ایم ایس ایمیز پر الگ سے ایک کانکلیو بھی ہونے والا ہے۔ راجستھان میں 27 لاکھ سے زیادہ چھوٹی اور بہت چھوٹی  صنعتیں اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں میں کام کرنے والے 50 لاکھ سے زیادہ لوگ راجستھان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ راجستھان میں نئی حکومت بنتے ہی کچھ ہی عرصے میں نئی ایم ایس ایم ای پالیسی لے کر آگئی۔ حکومت ہند بھی اپنی پالیسیوں اور فیصلوں کے ذریعے ایم ایس ایمیز کو مسلسل مضبوط کر رہی ہے۔ بھارتی ایم ایس ایمیز نہ صرف بھارت بلکہ عالمی سپلائی اور ویلیو چین کو مضبوط بنانے میں بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہم نے کورونا کے دوران دیکھا، جب دنیا میں فارما سے متعلق سپلائی چین میں بحران ہوا تو بھارت کے فارما سیکٹر نے دنیا کی مدد کی۔ یہ اس لیے ممکن ہوا کیونکہ بھارت کا فارما سیکٹر بہت مضبوط ہے۔ اسی طرح، ہمیں دیگر مصنوعات کی تیاری کے لیے بھارت کو بہت مضبوط بنیاد بنانا ہے۔ اور ہمارے ایم ایس ایمیز اس میں بڑا کردار ادا کرنے جا رہے ہیں۔

 

ساتھیو!

ہماری حکومت نے ایم ایس ایمیز کی تعریف بدلی ہے، تاکہ انہیں ترقی کےاور  زیادہ مواقع مل سکیں۔ مرکزی حکومت نے تقریباً 5 کروڑ ایم ایس ایمیز کو رسمی معیشت سے جوڑا ہے۔ اس سے ان صنعتوں کے لیے قرض تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ ہم نے ایک کریڈٹ گارنٹی لنکس اسکیم بھی بنائی ہے۔ اس کے تحت چھوٹی صنعتوں کو تقریباً 7 لاکھ کروڑ روپے کی امداد دی گئی ہے۔ پچھلی دہائی میں ایم ایس ایمیز کے لیے  کریڈٹ فلو میں دو گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ جہاں سال 2014 میں یہ تقریباً 10 لاکھ کروڑ روپے تھا، آج یہ 22 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہو گیا ہے۔ راجستھان کو بھی اس کا بڑا فائدہ ہوا ہے۔ ایم ایس ایمیز کی یہ بڑھتی ہوئی طاقت راجستھان کی ترقی کو ایک نئی بلندی پر لے جائے گی۔

 

ساتھیو!

ہم خود کفیل بھارت کے نئے سفر کا آغاز کرچکے ہیں۔ خود کفیل بھارت کی مہم، یہ وژن عالمی ہے اور اس کا اثر بھی عالمی ہے۔ حکومتی سطح پر ہم پورے حکومتی نقطہ نظر کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ صنعتی ترقی کے لیے بھی ہم ہر شعبے اور ہر عنصر کو مل کر فروغ دے رہے ہیں۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ سب کی کوششوں کا یہ جذبہ ترقی یافتہ راجستھان اور ترقی یافتہ بھارت بنائے گا۔

 

ساتھیو!

ملک اور دنیا بھر سے کئی مندوبین یہاں آئے ہیں، بہت سے ساتھیوں کے لیے یہ ان کا پہلا بھارت دورہ ہوگا، ہوسکتا ہے یہ ان کا راجستھان کا بھی پہلا دورہ ہو۔ آخر میں، میں یہی کہوں گا، وطن واپس جانے سے پہلے، آپ راجستھان کو، بھارت کو ضرور دیکھیں۔ راجستھان کے رنگ برنگے بازاروں کی خریداری کے تجربے، یہاں کے لوگوں کی زندہ دلی، یہ سب کچھ آپ کبھی نہیں بھول پائیں گے۔ ایک بار پھر، تمام سرمایہ کاروں کو، رائزنگ راجستھان کےعزم کو اور آپ سب کو بہت سی نیک خواہشات۔

شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s manufacturing push: Govt identifies 100 products for Made-In-India boost

Media Coverage

India’s manufacturing push: Govt identifies 100 products for Made-In-India boost
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Visit of Prime Minister to UAE, Netherlands, Sweden, Norway, and Italy (May 15 - 20, 2026)
May 11, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi will pay an official visit to the United Arab Emirates on May 15, 2026, where he will meet the President of the UAE, His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan. The two leaders will have the opportunity to exchange views on bilateral issues, in particular energy cooperation, as well as regional and international issues of mutual interest. They will also discuss ways to advance the bilateral Comprehensive Strategic Partnership underpinned by strong political, cultural, economic and people-to-people links. The visit will serve to promote the significant trade and investment linkages between the two countries. The UAE is India’s third largest trade partner and its seventh largest source of investment cumulatively over the past 25 years. With the UAE hosting over 4.5 million - strong Indian community, the visit will also be an opportunity to discuss their welfare.

For the second leg of his visit, at the invitation of the Prime Minister of the Netherlands, H.E. Mr. Rob Jetten, Prime Minister Modi will pay an official visit to the Netherlands from May 15-17, 2026. This will be Prime Minister’s second visit to the Netherlands after his previous visit in 2017. During the visit, Prime Minister will call on Their Majesties King Willem-Alexander and Queen Máxima, and hold talks with Prime Minister Rob Jetten. Prime Minister’s visit will build on the momentum of high-level engagements and close cooperation spanning diverse sectors, including defence, security, innovation, green hydrogen, semiconductors and a Strategic Partnership on Water. Prime Minister’s visit early in the tenure of the new Government will provide an opportunity to further deepen and expand the multifaceted partnership. Netherlands is one of India's largest trade destinations in Europe, with bilateral trade worth USD 27.8 billion (2024-25); and India's 4th largest investor with cumulative FDI of USD 55.6 billion.

For the third leg of the visit, at the invitation of the Prime Minister of the Kingdom of Sweden, H.E. Mr. Ulf Kristersson, Prime Minister will travel on 17-18 May 2026 to Gothenburg, Sweden. Prime Minister had earlier visited Sweden in 2018 for the first-ever India-Nordic Summit. PM Modi will hold bilateral talks with PM Kristersson to review the entire gamut of bilateral relations and explore new avenues of cooperation to enhance bilateral trade, which has reached USD 7.75 billion (2025), and Swedish FDI into India which has reached USD 2.825 billion (2000 – 2025), as well as collaboration in green transition, AI, emerging technologies, startups, resilient supply chains, defence, space, climate action and people-to-people ties. The two Prime Ministers will also address the European Round Table for Industry, a leading pan-European business leaders forum, along with H.E. Ms. Ursula von der Leyen, President of the European Commission.

In the fourth leg of his visit, Prime Minister will pay an official visit to Norway from 18 - 19 May 2026 for the 3rd India-Nordic Summit and bilateral engagements. This will be the first visit of Prime Minister Modi to Norway, and will mark the first Prime Ministerial visit from India to Norway in 43 years. Prime Minister will call on with Their Majesties King Harald V and Queen Sonja, and hold bilateral talks with Prime Minister H.E. Mr. Jonas Gahr Støre. Prime Minister will also address the India-Norway Business and Research Summit along with the Norwegian Prime Minister. The visit will provide an opportunity to review the progress made in India-Norway relations and explore avenues to further strengthen them, with a focus on trade and investment, capitalizing on the India – EFTA Trade and Economic Partnership Agreement, as well as on clean & green tech and blue economy. The visit will also be an opportunity to induce momentum in bilateral trade worth around USD 2.73 billion (2024), and investments by Norway’s Government Pension Fund (GPFG) of close to USD 28 billion in the Indian capital market.

The 3rd India-Nordic Summit will take place in Oslo on 19 May 2026. Prime Minister Shri Narendra Modi will be joined by the Prime Minister of Norway, H.E. Mr. Jonas Gahr Støre; Prime Minister of Denmark, H.E. Ms. Mette Frederiksen; Prime Minister of Finland, H.E. Mr. Petteri Orpo; Prime Minister of Iceland, Ms. Kristrún Frostadóttir; and Prime Minister of Sweden, Mr. Ulf Kristersson for the Summit. The Summit will build upon the two previous Summits held in Stockholm in April 2018 and in Copenhagen in May 2022, and will impart a more strategic dimension to India’s relationship with the Nordic countries, especially in technology and innovation; green transition and renewable energy; sustainability; blue economy; defence; space and the Arctic. The visit will also provide an impetus to India’s bilateral trade (USD 19 billion in 2024) and investment ties with Nordic countries as well as help build resilient supply chains following the India-EU FTA and India-EFTA TEPA.

In the final leg of his visit, at the invitation of Prime Minister of the Italian Republic, H.E. Ms. Giorgia Meloni, Prime Minister will undertake an official visit to Italy from 19–20 May 2026. Prime Minister had last visited Italy in June 2024 for the G7 Summit. During the visit, he will call on the President of the Italian Republic, H.E. Mr. Sergio Mattarella and hold talks with Prime Minister Meloni. The visit takes place in the backdrop of a strong momentum in bilateral ties with both sides proactively implementing the Joint Strategic Action Plan 2025-2029, a comprehensive road map for cooperation in various sectors including in bilateral trade which reached USD 16.77 in 2025; boosting investment, which has recorded a cumulative FDI of USD 3.66 billion (April 2000-September 2025); defence and security; clean energy; innovation; science and technology; and people - to - people ties.

Prime Minister’s upcoming visit will further deepen India’s partnership with Europe across sectors, particularly trade and investment ties in light of the recently concluded India-EU FTA.