Share
 
Comments
“Bengaluru is a representation of the startup spirit of India, and it is this spirit that makes the country stand out from the rest of the world”
“Vande Bharat Express is a symbol that India has now left the days of stagnation behind”
“Airports are creating a new playing field for the expansion of businesses while also creating new employment opportunities for the youth of the nation”
“World is admiring the strides India has made in digital payments system”
“Karnataka is leading the way in attracting foreign direct investment in the country”
“Be it governance or the growth of physical and digital infrastructure, India is working on a completely different level”
“Earlier speed was treated as a luxury, and scale as a risk”
“Our heritage is cultural as well as spiritual”
“Development of Bengaluru should be done as envisioned by Nadaprabhu Kempegowda”

بھارت ماتا کی جے۔

بھارت ماتا کی جے۔

کرناٹکدا سمستھ جنتگے،

ننّا کوٹی- کوٹی نمسکار گلو!

اسٹیج پر تشریف فرما قابل احترام سوامی جی، کرناٹک کے گورنر جناب تھاورچند گہلوت جی، عوام میں مقبول وزیر اعلیٰ جناب بسوراج بومئی جی، سابق وزیر اعلیٰ جناب یدی یورپا جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی، ریاستی حکومت کے وزراء، اراکین پارلیمنٹ و اراکین اسمبلی، دیگر تمام معززین اور بڑی تعداد میں تشریف لائے ہوئے میرے پیارے بھائیو اور بہنو۔

یہ میری خوش قسمتی ہے کہ آج مجھے ایک بہت ہی خاص دن بنگلورو آنے کا موقع ملا ہے۔ آج کرناٹک کے، ملک کے دو عظیم فرزندوں کا یوم پیدائش ہے۔ سنت کنک داس جی نے ہمارے معاشرے کو راہ دکھائی، تو اونکے اوبووا جی نے ہمارے فخر، ہماری ثقافت کے تحفظ کے لیے اپنا تعاون دیا۔ میں ایک بار پھر ان دونوں شخصیات کو سلام پیش کرتا ہوں۔

 ساتھیو،

آج، ان عظیم ہستیوں کا احترام کرتے ہوئے، ہم بنگلورو کی، کرناٹک کی ترقی اور وراثت دونوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ آج کرناٹک کو پہلی میڈ اِن انڈیا وندے بھارت ٹرین ملی۔ یہ ٹرین چنئی، جو کہ ملک کی اسٹارٹ اَپ راجدھانی بنگلورو اور تاریخی شہر میسور کو جوڑتی ہے۔ کرناٹک کے لوگوں کو ایودھیا، پریاگ راج اور کاشی لے جانے والی بھارت گورو کاشی درشن ٹرین بھی آج شروع ہوگئی ہے۔ آج کیمپے گوڑا بین الاقوامی ہوائی اڈے کے دوسرے ٹرمینل کا بھی افتتاح کیا گیا ہے۔ میں نے ایئرپورٹ کے نئے ٹرمینل کی کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھیں۔ اور آج وہاں جا کر محسوس ہوا کہ نیا ٹرمینل تصویروں میں جتنا خوبصورت نظر آتا ہے، اس سے بھی زیادہ شاندارہے، جدید ہے۔ یہ بنگلورو کے لوگوں کا بہت پرانا مطالبہ تھا جسے اب ہماری حکومت پوری کررہی ہے۔

ساتھیو،

مجھے ناڈ پربھو کیمپے گوڑا جی کے 108 فٹ بلند مجسمے کی نقاب کشائی کرنے اور ان کے جلابھیشیک کرنے کا موقع بھی ملا۔ ناڈ پربھو کیمپے گوڑا کا یہ عظیم مجسمہ ہمیں مستقبل کے بنگلورو، مستقبل کے بھارت کے لیے انتھک لگن سے کام کرنے کی ترغیب دے گا۔

 بھائیو اور بہنو،

یہ میری خوش قسمتی ہے کہ آج قابل احترام سوامی جی نے جس طرح سے آشیرواد دیا، جس طرح سے اپنے جذبات کا اظہار کیا اس کے لئے میں دل سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 ساتھیو،

آج بھارت پوری دنیا میں اسٹارٹ اپس کے لیے پہچانا جاتا ہے اور بھارت کی اس شناخت کو مضبوط کرنے میں ہمارے بنگلور کا بہت بڑا رول ہے۔ اسٹارٹ اپ صرف ایک کمپنی نہیں ہے۔ اسٹارٹ اپ ایک جنون ہے۔ کچھ نیا کرنے کا جذبہ، عام راستے سے ہٹ کر کچھ سوچنے کا جذبہ۔ اسٹارٹ اپ ایک یقین ہے، ملک کو درپیش ہر چیلنج کا حل ہے۔ اس لیے بنگلور ایک اسٹارٹ اپ اِسپرٹ کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ اسٹارٹ اپ اِسپرٹ بھارت کو آج دنیا میں ایک الگ لیگ میں کھڑا کرتا ہے۔

 بھائیو اور بہنو،

آج یہاں جو پروگرام ہو رہا ہے وہ بھی بنگلورو کے اس نوجوان جذبے کا عکاس ہے۔ آج شروع ہونے والی وندے بھارت ایکسپریس بھی صرف ایک نئی ٹرین نہیں ہے بلکہ یہ نئے بھارت کی نئی پہچان ہے۔ یہ ایک جھلک ہے کہ 21ویں صدی میں بھارت کی ریلوے کیسی ہوگی۔ وندے بھارت ایکسپریس اس حقیقت کی علامت ہے کہ بھارت نے اب رک رک کر چلنے کے دنوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بھارت اب تیز دوڑنا چاہتا ہے اور اس کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

 ساتھیو،

آنے والے 8-10 سالوں میں، ہم بھارتی ریلوے کی کایاکلپ کا ہدف رکھتے ہیں۔ 400 سے زیادہ نئی وندے بھارت ٹرینیں، وسٹا ڈوم کوچز بھارتی ریلوے کی نئی شناخت بننے والی ہیں۔ مال بردار ٹرینوں کے لیے مخصوص مال بردار راہداری، نقل و حمل کو تیز کرے گی اور وقت کی بچت کرے گی۔ تیز رفتار براڈ گیج کی تبدیلی کا کام ریلوے کے نقشے پر نئے علاقوں کو لا رہا ہے۔ اور ان سب کے درمیان آج ملک اپنے ریلوے اسٹیشنوں کو بھی جدید بنا رہا ہے۔ آج، اگر آپ بنگلورو میں ’سر ایم وشویش وریا جی‘ کے ریلوے اسٹیشن پر جاتے ہیں، تو آپ کو ایک الگ ہی دنیا کا تجربہ ہوتا ہے۔ ہمارا مقصد ملک کے بڑے ریلوے اسٹیشنوں کو اس طرح جدید بنانا ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ یہاں کرناٹک میں بنگلورو چھاؤنی، یشونت پور، ریلوے اسٹیشنوں کو بھی از سر نو بنایا جا رہا ہے۔

 ساتھیو،

ہمارے شہروں کے درمیان رابطہ ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں بھی بڑا رول ادا کرے گا۔ ملک میں فضائی رابطوں کی زیادہ سے زیادہ توسیع ہو، ہمارے ہوائی اڈوں کی توسیع ہو، یہ وقت کی ضرورت ہے۔ بنگلورو ایئرپورٹ کا نیا ٹرمینل اس کا استعمال کرنے والے مسافروں کے لیے نئی سہولت لائے گا۔ آج بھارت دنیا میں ہوائی سفر کے لیے سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں سے ایک ہے۔ جیسے جیسے ملک ترقی کر رہا ہے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ اسی لیے ہماری حکومت ملک میں نئے ہوائی اڈے بھی بنا رہی ہے۔ 2014 سے پہلے ملک میں تقریباً 70 ہوائی اڈے تھے۔ اب ان کی تعداد  140 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ بڑھتے ہوئے یہ ہوائی اڈے ہمارے شہروں کے تجارتی امکانات میں اضافہ کررہے ہیں، نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

 ساتھیو،

آج پوری دنیا میں بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے جو بے مثال اعتماد پیدا کیا گیا ہے اس کا بہت بڑا فائدہ کرناٹک کو بھی مل رہا ہے۔ آپ تصور کریں، پچھلے 3 سالوں میں جب پوری دنیا کووڈ سے متاثر تھی، کرناٹک میں تقریباً 4 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔ کرناٹک گزشتہ سال میں ایف ڈی آئی کو راغب کرنے میں ملک میں سرفہرست رہا ہے اور جو سرمایہ کاری ہو رہی ہے وہ صرف آئی ٹی سیکٹر تک محدود نہیں ہے، بلکہ بایو ٹیکنالوجی سے لے کر دفاعی مینوفیکچرنگ تک ہر شعبہ یہاں پھیل رہا ہے۔ ہمارے کرناٹک کا ملک میں ہوائی جہاز اور خلائی جہاز کی صنعت میں 25 فیصد حصہ ہے۔ ہم ملک کی فوج کے لیے جو طیارے اور ہیلی کاپٹر بنا رہے ہیں ان میں سے 70 فیصد یہیں بنتے ہیں۔ کرناٹک ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری میں بھی آگے ہے۔ آج فارچیون 500 کمپنیوں میں سے 400 سے زیادہ کمپنیاں کرناٹک میں کام کر رہی ہیں اور یہ فہرست مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ آج کرناٹک ڈبل انجن کی طاقت پر چل رہا ہے۔

 بھائیو اور بہنو،

آج، چاہے بات گورننس کی ہو یا فزیکل اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر کی، بھارت ایک الگ ہی سطح پر کام کر رہا ہے۔ آج جب پوری دنیا بھارت کی ڈیجیٹل پیمنٹ BHIM UPI کے بارے میں سنتی ہے تو حیران رہ جاتی ہے۔ کیا 8 سال پہلے اس کا تصور کرنا بھی ممکن تھا؟ میڈ اِن انڈیا،   5جی ٹیکنالوجی، کیا اس کا تصور کرنا بھی ممکن تھا؟ ان سب میں بنگلورو کے نوجوانوں کا، یہاں کے پیشہ وروں کا بہت بڑا رول ہے۔  2014 سے پہلے کے بھارت میں یہ چیزیں تصور سے باہر تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت جو حکومتیں موجود تھیں ان کی سوچ پرانی تھی۔ پہلے کی حکومتیں اسپیڈ کو لگژری، تو اسکیل کو رسک مانتی تھیں۔ ہم نے اس تصور کو بدل دیا ہے۔ ہم اسپیڈ کو بھارت کا اُمنگ اور اسکیل کو بھارت کی طاقت سمجھتے ہیں۔ لہذا، آج بھارت پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت ملک میں بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہا ہے۔ ہم سب نے دیکھا ہے کہ کس طرح ماضی میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں سب سے بڑا مسئلہ کوآرڈی نیشن کا تھا۔ جتنے زیادہ محکمے، جتنی زیادہ ایجنسیاں، اتنی ہی تعمیر میں تاخیر۔ لہذا ہم نے سب کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا فیصلہ کیا۔ آج، پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت، 1500 سے زیادہ لیئرس میں ڈیٹا مختلف ایجنسیوں کو براہ راست دستیاب کرایا جا رہا ہے۔ آج مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی درجنوں وزارتیں، درجنوں محکمے اس پلیٹ فارم سے جڑ گئے ہیں۔ آج ملک نیشنل انفرا اسٹرکچر پائپ لائن کے تحت انفرا اسٹرکچر پر تقریباً  110 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف رکھتا ہے۔ ملک میں نقل و حمل کے تمام ذرائع کو جڑیں، ایک دوسرے کا ساتھ دیں، اس کے لیے ملک کا زور، پوری طاقت ملٹی ماڈل انفرا اسٹرکچر پر ہے۔ کچھ عرصہ قبل ، ملک نے نیشنل لاجسٹک پالیسی بھی شروع کی ہے۔ یہ پالیسی ملک میں نقل و حمل کی لاگت کو کم کرنے، نقل و حمل کو جدید بنانے میں مدد کرے گی۔

 ساتھیو،

بھارت کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے فزیکل انفرا اسٹرکچر کے ساتھ ساتھ ملک کے سماجی ڈھانچے کو مضبوط کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ کرناٹک کی ڈبل انجن والی حکومت سماجی انفرا اسٹرکچر پر یکساں توجہ دے رہی ہے۔ پچھلے آٹھ سالوں میں ملک میں غریبوں کے لیے ساڑھے تین کروڑ گھر بنائے گئے ہیں۔ یہاں کرناٹک میں بھی غریبوں کے لیے 8 لاکھ سے زیادہ پکے مکانوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ’جل جیون مشن‘ کے تحت صرف تین سالوں میں ملک کے 7 کروڑ سے زیادہ گھرانوں کو پائپ سے پانی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ پہلی بار، کرناٹک میں 30 لاکھ سے زیادہ دیہی گھرانوں تک پائپ سے پانی پہنچا ہے۔ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت ملک کے 4 کروڑ غریب لوگوں کا اسپتال میں مفت علاج ہوا ہے۔ کرناٹک کے 30 لاکھ سے زیادہ غریب مریضوں نے بھی اس اسکیم کا فائدہ اٹھایا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہماری مائیں، ہماری بہنیں، ہماری بیٹیاں ان سہولیات سے سب سے زیادہ مستفید ہوتی ہیں۔

 بھائیو اور بہنو،

آج چاہے چھوٹے کسان ہوں، چھوٹے تاجر ہوں، ماہی گیر ہوں، ریہڑی، پٹری، ٹھیلے والے ہوں، ایسے کروڑوں لوگ پہلی بار ملک کی ترقی کے دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔ ’پی ایم کسان سمان ندھی‘ کے تحت ملک کے 10 کروڑ سے زیادہ کسانوں کے بینک کھاتوں میں تقریباً 2.25 لاکھ کروڑ روپے منتقل کیے گئے ہیں۔ کرناٹک کے 55 لاکھ سے زیادہ چھوٹے کسانوں کو تقریباً 11 ہزار کروڑ روپے ملے ہیں۔ پی ایم سواندھی کے تحت ملک کے 40 لاکھ سے زیادہ اسٹریٹ وینڈرز کو مالی مدد ملی ہے۔ اس سے کرناٹک کے 2 لاکھ سے زیادہ اسٹریٹ وینڈرز کو بھی فائدہ ہوا ہے۔

 ساتھیو،

اس بار 15 اگست کو میں نے لال قلعہ سے اپنے ملک کے ورثے پر فخر کے ساتھ بات کی۔ ہمارا یہ ورثہ ثقافتی بھی ہے اور روحانی بھی۔ آج بھارت گورو ریل ملک کے عقیدت اور روحانیت کے مقامات کو جوڑ رہی ہے اور ساتھ ہی ’ایک بھارت-شریشٹھ بھارت‘ کے جذبے کو مضبوط کر رہی ہے۔ اس سال اب تک ملک کے مختلف حصوں کے لیے اس ٹرین کے 9 سفر مکمل کیے جا چکے ہیں۔ شرڈی مندر ہو، شری رامائن یاترا ہو، دیویہ کاشی یاترا ہو، ایسی تمام ٹرینوں کا مسافروں کے لیے بہت ہی خوشگوار تجربہ رہا۔ آج کرناٹک سے کاشی، ایودھیا اور پریاگ راج کے لئے سفر شروع ہو گیا ہے۔ اس سے کرناٹک کے لوگوں کو کاشی ایودھیا کے درشن کرنے میں مدد ملے گی۔

 بھائیو اور بہنو،

ہمیں سنت کنک داس جی سے بھی تحریک ملتی ہے کہ سماج کو بھگوت بھکتی اور سماجی طاقت سے کیسے جوڑا جا سکتا ہے۔ ایک طرف انھوں نے کرشن بھکتی کا راستہ چنا تو دوسری طرف ’کل-کل-کل ویندو ہوڈیداڈیری‘ کہہ کر ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو ختم کرنے کا پیغام دیا۔ آج پوری دنیا میں باجرے یعنی موٹے اناج کی اہمیت پر گفتگو ہو رہی ہے۔ سنت کنک داس جی نے اسی دور میں باجرے کی اہمیت کو ثابت کیا تھا۔ ان کی تخلیق تھی - رام دھنیہ چریتے۔ انہوں نے کرناٹک میں جوار کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی راگی کی مثال دیتے ہوئے سماجی مساوات کا پیغام دیا۔

 بھائیو اور بہنو،

آج ہماری کوشش ہے کہ بنگلورو شہر کی ترقی ناڈ پربھو کیمپے گوڑا جی کے تصور کے مطابق ہو۔ اس شہر کی آباد کاری میں کیمپے گوڑا جی کا یہاں کے لوگوں کو بہت بڑا تعاون ہے۔ انہوں نے اس بستی کی آبادکاری میں جن باریکیوں کا خیال رکھا ہے وہ حیرت انگیز ہے، لاثانی ہے۔ صدیوں پہلے انھوں نے بنگلورو کے لوگوں کے لیے تجارت، ثقافت اور سہولت کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ بنگلورو کے لوگ آج بھی ان کے وژن سے مستفید ہو رہے ہیں۔ آج کاروبار اور تجارت بھلے ہی اپنی شکل بدل چکے ہوں، لیکن ’پیٹے‘ آج بھی بنگلورو کی تجارتی لائف لائن بنی ہوئی ہے۔ ناڈ پربھو کیمپے گوڑا جی کا بنگلورو کی ثقافت کو بھی فروغ دینے میں اہم حصہ ہے۔ خواہ وہ مشہور گاوی گنگادھریشور مندر ہو یا بسون گڈی علاقے کے مندر۔ ان کے ذریعے کیمپے گوڑا جی نے بنگلورو کے ثقافتی شعور کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ بنگلورو شہر کے لوگ اس شہر کی ایسی بے مثال آباد کاری کے لیے کیمپے گوڑا جی کے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے۔

ساتھیو،

بنگلورو ایک بین الاقوامی شہر ہے۔ ہمیں اپنے ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے جدید انفرا اسٹرکچر سے مالا مال کرنا ہے۔ یہ سب کوشش سے ہی ممکن ہے۔ ایک بار پھر میں آپ سب کو نئے پروجیکٹس کے لیے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ جن قابل احترام سنتوں نے آکر اپنا آشیرواد دیا، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور کرناٹک کے نوجوان، مائیں، بہنیں، کرناٹک کے کسان اتنی بڑی تعداد میں پورے جوش و جذبے کے ساتھ ہمیں آشیرواد دے رہے ہیں۔ میں تہہ دل سے آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔

شکریہ!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
Operation Dost: India sends 6 plane loads of relief material, rescue personnel to Turkey, Syria following earthquakes

Media Coverage

Operation Dost: India sends 6 plane loads of relief material, rescue personnel to Turkey, Syria following earthquakes
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM shares Lopoli Melo's article 'A day in the Parliament and PMO'
February 09, 2023
Share
 
Comments

The Prime Minister, Shri Narendra Modi has shared an article titled 'A day in the Parliament and PMO'

by Lopoli Melo from Arunachal Pradesh. Shri Modi has also lauded Lok Sabha Speaker Shri Om Birla for taking such an initiative which gave him the opportunity to meet bright youngsters.

In a tweet, the Prime Minister said;

"You will enjoy reading this very personal account of Lopoli Melo from Arunachal Pradesh. I would like to laud Speaker Om Birla Ji for taking the lead for such an initiative which also gave me the opportunity to meet bright youngsters."