“Bengaluru is a representation of the startup spirit of India, and it is this spirit that makes the country stand out from the rest of the world”
“Vande Bharat Express is a symbol that India has now left the days of stagnation behind”
“Airports are creating a new playing field for the expansion of businesses while also creating new employment opportunities for the youth of the nation”
“World is admiring the strides India has made in digital payments system”
“Karnataka is leading the way in attracting foreign direct investment in the country”
“Be it governance or the growth of physical and digital infrastructure, India is working on a completely different level”
“Earlier speed was treated as a luxury, and scale as a risk”
“Our heritage is cultural as well as spiritual”
“Development of Bengaluru should be done as envisioned by Nadaprabhu Kempegowda”

بھارت ماتا کی جے۔

بھارت ماتا کی جے۔

کرناٹکدا سمستھ جنتگے،

ننّا کوٹی- کوٹی نمسکار گلو!

اسٹیج پر تشریف فرما قابل احترام سوامی جی، کرناٹک کے گورنر جناب تھاورچند گہلوت جی، عوام میں مقبول وزیر اعلیٰ جناب بسوراج بومئی جی، سابق وزیر اعلیٰ جناب یدی یورپا جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی، ریاستی حکومت کے وزراء، اراکین پارلیمنٹ و اراکین اسمبلی، دیگر تمام معززین اور بڑی تعداد میں تشریف لائے ہوئے میرے پیارے بھائیو اور بہنو۔

یہ میری خوش قسمتی ہے کہ آج مجھے ایک بہت ہی خاص دن بنگلورو آنے کا موقع ملا ہے۔ آج کرناٹک کے، ملک کے دو عظیم فرزندوں کا یوم پیدائش ہے۔ سنت کنک داس جی نے ہمارے معاشرے کو راہ دکھائی، تو اونکے اوبووا جی نے ہمارے فخر، ہماری ثقافت کے تحفظ کے لیے اپنا تعاون دیا۔ میں ایک بار پھر ان دونوں شخصیات کو سلام پیش کرتا ہوں۔

 ساتھیو،

آج، ان عظیم ہستیوں کا احترام کرتے ہوئے، ہم بنگلورو کی، کرناٹک کی ترقی اور وراثت دونوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ آج کرناٹک کو پہلی میڈ اِن انڈیا وندے بھارت ٹرین ملی۔ یہ ٹرین چنئی، جو کہ ملک کی اسٹارٹ اَپ راجدھانی بنگلورو اور تاریخی شہر میسور کو جوڑتی ہے۔ کرناٹک کے لوگوں کو ایودھیا، پریاگ راج اور کاشی لے جانے والی بھارت گورو کاشی درشن ٹرین بھی آج شروع ہوگئی ہے۔ آج کیمپے گوڑا بین الاقوامی ہوائی اڈے کے دوسرے ٹرمینل کا بھی افتتاح کیا گیا ہے۔ میں نے ایئرپورٹ کے نئے ٹرمینل کی کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھیں۔ اور آج وہاں جا کر محسوس ہوا کہ نیا ٹرمینل تصویروں میں جتنا خوبصورت نظر آتا ہے، اس سے بھی زیادہ شاندارہے، جدید ہے۔ یہ بنگلورو کے لوگوں کا بہت پرانا مطالبہ تھا جسے اب ہماری حکومت پوری کررہی ہے۔

ساتھیو،

مجھے ناڈ پربھو کیمپے گوڑا جی کے 108 فٹ بلند مجسمے کی نقاب کشائی کرنے اور ان کے جلابھیشیک کرنے کا موقع بھی ملا۔ ناڈ پربھو کیمپے گوڑا کا یہ عظیم مجسمہ ہمیں مستقبل کے بنگلورو، مستقبل کے بھارت کے لیے انتھک لگن سے کام کرنے کی ترغیب دے گا۔

 بھائیو اور بہنو،

یہ میری خوش قسمتی ہے کہ آج قابل احترام سوامی جی نے جس طرح سے آشیرواد دیا، جس طرح سے اپنے جذبات کا اظہار کیا اس کے لئے میں دل سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 ساتھیو،

آج بھارت پوری دنیا میں اسٹارٹ اپس کے لیے پہچانا جاتا ہے اور بھارت کی اس شناخت کو مضبوط کرنے میں ہمارے بنگلور کا بہت بڑا رول ہے۔ اسٹارٹ اپ صرف ایک کمپنی نہیں ہے۔ اسٹارٹ اپ ایک جنون ہے۔ کچھ نیا کرنے کا جذبہ، عام راستے سے ہٹ کر کچھ سوچنے کا جذبہ۔ اسٹارٹ اپ ایک یقین ہے، ملک کو درپیش ہر چیلنج کا حل ہے۔ اس لیے بنگلور ایک اسٹارٹ اپ اِسپرٹ کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ اسٹارٹ اپ اِسپرٹ بھارت کو آج دنیا میں ایک الگ لیگ میں کھڑا کرتا ہے۔

 بھائیو اور بہنو،

آج یہاں جو پروگرام ہو رہا ہے وہ بھی بنگلورو کے اس نوجوان جذبے کا عکاس ہے۔ آج شروع ہونے والی وندے بھارت ایکسپریس بھی صرف ایک نئی ٹرین نہیں ہے بلکہ یہ نئے بھارت کی نئی پہچان ہے۔ یہ ایک جھلک ہے کہ 21ویں صدی میں بھارت کی ریلوے کیسی ہوگی۔ وندے بھارت ایکسپریس اس حقیقت کی علامت ہے کہ بھارت نے اب رک رک کر چلنے کے دنوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بھارت اب تیز دوڑنا چاہتا ہے اور اس کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

 ساتھیو،

آنے والے 8-10 سالوں میں، ہم بھارتی ریلوے کی کایاکلپ کا ہدف رکھتے ہیں۔ 400 سے زیادہ نئی وندے بھارت ٹرینیں، وسٹا ڈوم کوچز بھارتی ریلوے کی نئی شناخت بننے والی ہیں۔ مال بردار ٹرینوں کے لیے مخصوص مال بردار راہداری، نقل و حمل کو تیز کرے گی اور وقت کی بچت کرے گی۔ تیز رفتار براڈ گیج کی تبدیلی کا کام ریلوے کے نقشے پر نئے علاقوں کو لا رہا ہے۔ اور ان سب کے درمیان آج ملک اپنے ریلوے اسٹیشنوں کو بھی جدید بنا رہا ہے۔ آج، اگر آپ بنگلورو میں ’سر ایم وشویش وریا جی‘ کے ریلوے اسٹیشن پر جاتے ہیں، تو آپ کو ایک الگ ہی دنیا کا تجربہ ہوتا ہے۔ ہمارا مقصد ملک کے بڑے ریلوے اسٹیشنوں کو اس طرح جدید بنانا ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ یہاں کرناٹک میں بنگلورو چھاؤنی، یشونت پور، ریلوے اسٹیشنوں کو بھی از سر نو بنایا جا رہا ہے۔

 ساتھیو،

ہمارے شہروں کے درمیان رابطہ ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں بھی بڑا رول ادا کرے گا۔ ملک میں فضائی رابطوں کی زیادہ سے زیادہ توسیع ہو، ہمارے ہوائی اڈوں کی توسیع ہو، یہ وقت کی ضرورت ہے۔ بنگلورو ایئرپورٹ کا نیا ٹرمینل اس کا استعمال کرنے والے مسافروں کے لیے نئی سہولت لائے گا۔ آج بھارت دنیا میں ہوائی سفر کے لیے سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں سے ایک ہے۔ جیسے جیسے ملک ترقی کر رہا ہے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ اسی لیے ہماری حکومت ملک میں نئے ہوائی اڈے بھی بنا رہی ہے۔ 2014 سے پہلے ملک میں تقریباً 70 ہوائی اڈے تھے۔ اب ان کی تعداد  140 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ بڑھتے ہوئے یہ ہوائی اڈے ہمارے شہروں کے تجارتی امکانات میں اضافہ کررہے ہیں، نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

 ساتھیو،

آج پوری دنیا میں بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے جو بے مثال اعتماد پیدا کیا گیا ہے اس کا بہت بڑا فائدہ کرناٹک کو بھی مل رہا ہے۔ آپ تصور کریں، پچھلے 3 سالوں میں جب پوری دنیا کووڈ سے متاثر تھی، کرناٹک میں تقریباً 4 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔ کرناٹک گزشتہ سال میں ایف ڈی آئی کو راغب کرنے میں ملک میں سرفہرست رہا ہے اور جو سرمایہ کاری ہو رہی ہے وہ صرف آئی ٹی سیکٹر تک محدود نہیں ہے، بلکہ بایو ٹیکنالوجی سے لے کر دفاعی مینوفیکچرنگ تک ہر شعبہ یہاں پھیل رہا ہے۔ ہمارے کرناٹک کا ملک میں ہوائی جہاز اور خلائی جہاز کی صنعت میں 25 فیصد حصہ ہے۔ ہم ملک کی فوج کے لیے جو طیارے اور ہیلی کاپٹر بنا رہے ہیں ان میں سے 70 فیصد یہیں بنتے ہیں۔ کرناٹک ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری میں بھی آگے ہے۔ آج فارچیون 500 کمپنیوں میں سے 400 سے زیادہ کمپنیاں کرناٹک میں کام کر رہی ہیں اور یہ فہرست مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ آج کرناٹک ڈبل انجن کی طاقت پر چل رہا ہے۔

 بھائیو اور بہنو،

آج، چاہے بات گورننس کی ہو یا فزیکل اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر کی، بھارت ایک الگ ہی سطح پر کام کر رہا ہے۔ آج جب پوری دنیا بھارت کی ڈیجیٹل پیمنٹ BHIM UPI کے بارے میں سنتی ہے تو حیران رہ جاتی ہے۔ کیا 8 سال پہلے اس کا تصور کرنا بھی ممکن تھا؟ میڈ اِن انڈیا،   5جی ٹیکنالوجی، کیا اس کا تصور کرنا بھی ممکن تھا؟ ان سب میں بنگلورو کے نوجوانوں کا، یہاں کے پیشہ وروں کا بہت بڑا رول ہے۔  2014 سے پہلے کے بھارت میں یہ چیزیں تصور سے باہر تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت جو حکومتیں موجود تھیں ان کی سوچ پرانی تھی۔ پہلے کی حکومتیں اسپیڈ کو لگژری، تو اسکیل کو رسک مانتی تھیں۔ ہم نے اس تصور کو بدل دیا ہے۔ ہم اسپیڈ کو بھارت کا اُمنگ اور اسکیل کو بھارت کی طاقت سمجھتے ہیں۔ لہذا، آج بھارت پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت ملک میں بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہا ہے۔ ہم سب نے دیکھا ہے کہ کس طرح ماضی میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں سب سے بڑا مسئلہ کوآرڈی نیشن کا تھا۔ جتنے زیادہ محکمے، جتنی زیادہ ایجنسیاں، اتنی ہی تعمیر میں تاخیر۔ لہذا ہم نے سب کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا فیصلہ کیا۔ آج، پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت، 1500 سے زیادہ لیئرس میں ڈیٹا مختلف ایجنسیوں کو براہ راست دستیاب کرایا جا رہا ہے۔ آج مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی درجنوں وزارتیں، درجنوں محکمے اس پلیٹ فارم سے جڑ گئے ہیں۔ آج ملک نیشنل انفرا اسٹرکچر پائپ لائن کے تحت انفرا اسٹرکچر پر تقریباً  110 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف رکھتا ہے۔ ملک میں نقل و حمل کے تمام ذرائع کو جڑیں، ایک دوسرے کا ساتھ دیں، اس کے لیے ملک کا زور، پوری طاقت ملٹی ماڈل انفرا اسٹرکچر پر ہے۔ کچھ عرصہ قبل ، ملک نے نیشنل لاجسٹک پالیسی بھی شروع کی ہے۔ یہ پالیسی ملک میں نقل و حمل کی لاگت کو کم کرنے، نقل و حمل کو جدید بنانے میں مدد کرے گی۔

 ساتھیو،

بھارت کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے فزیکل انفرا اسٹرکچر کے ساتھ ساتھ ملک کے سماجی ڈھانچے کو مضبوط کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ کرناٹک کی ڈبل انجن والی حکومت سماجی انفرا اسٹرکچر پر یکساں توجہ دے رہی ہے۔ پچھلے آٹھ سالوں میں ملک میں غریبوں کے لیے ساڑھے تین کروڑ گھر بنائے گئے ہیں۔ یہاں کرناٹک میں بھی غریبوں کے لیے 8 لاکھ سے زیادہ پکے مکانوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ’جل جیون مشن‘ کے تحت صرف تین سالوں میں ملک کے 7 کروڑ سے زیادہ گھرانوں کو پائپ سے پانی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ پہلی بار، کرناٹک میں 30 لاکھ سے زیادہ دیہی گھرانوں تک پائپ سے پانی پہنچا ہے۔ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت ملک کے 4 کروڑ غریب لوگوں کا اسپتال میں مفت علاج ہوا ہے۔ کرناٹک کے 30 لاکھ سے زیادہ غریب مریضوں نے بھی اس اسکیم کا فائدہ اٹھایا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہماری مائیں، ہماری بہنیں، ہماری بیٹیاں ان سہولیات سے سب سے زیادہ مستفید ہوتی ہیں۔

 بھائیو اور بہنو،

آج چاہے چھوٹے کسان ہوں، چھوٹے تاجر ہوں، ماہی گیر ہوں، ریہڑی، پٹری، ٹھیلے والے ہوں، ایسے کروڑوں لوگ پہلی بار ملک کی ترقی کے دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔ ’پی ایم کسان سمان ندھی‘ کے تحت ملک کے 10 کروڑ سے زیادہ کسانوں کے بینک کھاتوں میں تقریباً 2.25 لاکھ کروڑ روپے منتقل کیے گئے ہیں۔ کرناٹک کے 55 لاکھ سے زیادہ چھوٹے کسانوں کو تقریباً 11 ہزار کروڑ روپے ملے ہیں۔ پی ایم سواندھی کے تحت ملک کے 40 لاکھ سے زیادہ اسٹریٹ وینڈرز کو مالی مدد ملی ہے۔ اس سے کرناٹک کے 2 لاکھ سے زیادہ اسٹریٹ وینڈرز کو بھی فائدہ ہوا ہے۔

 ساتھیو،

اس بار 15 اگست کو میں نے لال قلعہ سے اپنے ملک کے ورثے پر فخر کے ساتھ بات کی۔ ہمارا یہ ورثہ ثقافتی بھی ہے اور روحانی بھی۔ آج بھارت گورو ریل ملک کے عقیدت اور روحانیت کے مقامات کو جوڑ رہی ہے اور ساتھ ہی ’ایک بھارت-شریشٹھ بھارت‘ کے جذبے کو مضبوط کر رہی ہے۔ اس سال اب تک ملک کے مختلف حصوں کے لیے اس ٹرین کے 9 سفر مکمل کیے جا چکے ہیں۔ شرڈی مندر ہو، شری رامائن یاترا ہو، دیویہ کاشی یاترا ہو، ایسی تمام ٹرینوں کا مسافروں کے لیے بہت ہی خوشگوار تجربہ رہا۔ آج کرناٹک سے کاشی، ایودھیا اور پریاگ راج کے لئے سفر شروع ہو گیا ہے۔ اس سے کرناٹک کے لوگوں کو کاشی ایودھیا کے درشن کرنے میں مدد ملے گی۔

 بھائیو اور بہنو،

ہمیں سنت کنک داس جی سے بھی تحریک ملتی ہے کہ سماج کو بھگوت بھکتی اور سماجی طاقت سے کیسے جوڑا جا سکتا ہے۔ ایک طرف انھوں نے کرشن بھکتی کا راستہ چنا تو دوسری طرف ’کل-کل-کل ویندو ہوڈیداڈیری‘ کہہ کر ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو ختم کرنے کا پیغام دیا۔ آج پوری دنیا میں باجرے یعنی موٹے اناج کی اہمیت پر گفتگو ہو رہی ہے۔ سنت کنک داس جی نے اسی دور میں باجرے کی اہمیت کو ثابت کیا تھا۔ ان کی تخلیق تھی - رام دھنیہ چریتے۔ انہوں نے کرناٹک میں جوار کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی راگی کی مثال دیتے ہوئے سماجی مساوات کا پیغام دیا۔

 بھائیو اور بہنو،

آج ہماری کوشش ہے کہ بنگلورو شہر کی ترقی ناڈ پربھو کیمپے گوڑا جی کے تصور کے مطابق ہو۔ اس شہر کی آباد کاری میں کیمپے گوڑا جی کا یہاں کے لوگوں کو بہت بڑا تعاون ہے۔ انہوں نے اس بستی کی آبادکاری میں جن باریکیوں کا خیال رکھا ہے وہ حیرت انگیز ہے، لاثانی ہے۔ صدیوں پہلے انھوں نے بنگلورو کے لوگوں کے لیے تجارت، ثقافت اور سہولت کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ بنگلورو کے لوگ آج بھی ان کے وژن سے مستفید ہو رہے ہیں۔ آج کاروبار اور تجارت بھلے ہی اپنی شکل بدل چکے ہوں، لیکن ’پیٹے‘ آج بھی بنگلورو کی تجارتی لائف لائن بنی ہوئی ہے۔ ناڈ پربھو کیمپے گوڑا جی کا بنگلورو کی ثقافت کو بھی فروغ دینے میں اہم حصہ ہے۔ خواہ وہ مشہور گاوی گنگادھریشور مندر ہو یا بسون گڈی علاقے کے مندر۔ ان کے ذریعے کیمپے گوڑا جی نے بنگلورو کے ثقافتی شعور کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ بنگلورو شہر کے لوگ اس شہر کی ایسی بے مثال آباد کاری کے لیے کیمپے گوڑا جی کے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے۔

ساتھیو،

بنگلورو ایک بین الاقوامی شہر ہے۔ ہمیں اپنے ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے جدید انفرا اسٹرکچر سے مالا مال کرنا ہے۔ یہ سب کوشش سے ہی ممکن ہے۔ ایک بار پھر میں آپ سب کو نئے پروجیکٹس کے لیے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ جن قابل احترام سنتوں نے آکر اپنا آشیرواد دیا، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور کرناٹک کے نوجوان، مائیں، بہنیں، کرناٹک کے کسان اتنی بڑی تعداد میں پورے جوش و جذبے کے ساتھ ہمیں آشیرواد دے رہے ہیں۔ میں تہہ دل سے آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔

شکریہ!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
India to complete largest defence export deal; BrahMos missiles set to reach Philippines

Media Coverage

India to complete largest defence export deal; BrahMos missiles set to reach Philippines
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Enthusiasts of Wardha, Maharashtra welcome PM Modi at a public meeting
April 19, 2024
In a remarkable decade of progress, this humble servant has honoured the unspoken: PM Modi at the Wardha rally
The election of 2024 is an election to fulfil the dream of a developed India and a self-reliant India: PM Modi
The INDI Alliance struggles with a lack of substantial issues: PM Modi
The Congress party admits defeat and resorts to threats of chaos post-elections: PM Modi taking a jibe at opposition
Today, as the nation takes decisive strides, Wardha's blessings are crucial: PM Modi at Wardha rally

Prime Minister Narendra Modi attended & addressed a public meeting in Wardha, Maharashtra. The PM was enamoured by the audience. The PM too showered his love and admiration on the crowd.

Initiating his virtuous address, the PM regarded Wardha as the land of a great confluence of spirituality and patriotism. PM Modi also reminded his audience that, “this election of 2024 is an election to fulfil the dream of a Viksit Bharat and a self-reliant India.” “Bapu envisioned this dream pre-independence. Today, as the nation takes decisive strides, Wardha's blessings are crucial. Your overwhelming presence, and the strong backing from Wardha and Amravati, signify that the aim of a developed Maharashtra and India is within reach. Maharashtra echoes today: 'Phir Ek Baar, Modi Sarkar!'”, the PM added with confidence.

Confiding in the massive crowd, PM Modi shared that, “In a remarkable decade of progress, this humble servant has honoured the unspoken, lifting 250 million out of poverty, illuminating every village, providing water connections to 110 million, granting PM-Awas to 40 million impoverished families, and integrating over 500 million into the economy through banking. Each achievement is a testament to our collective dedication and determination towards a brighter, more inclusive future."

PM Modi did not hesitate to expose the realities of the opposition and remarked, “The thinking of Congress and Indi Alliance has always been anti-development and anti-farmer. That is why the condition of farmers in the country has remained so bad for decades.” “A stone laid in the family's name remained unfinished for generations, causing suffering in Vidarbha under Congress rule. Today, our government prioritizes Vidarbha's needs, with Eknath Shinde, Devendra Fadnavis, and Ajit Pawar committed to serving you all,” the PM further mentioned.

Sharing the plight of farmers from Wardha and Amravati, PM Modi observed that, “The irrigation crisis in Wardha and Amravati has long plagued local farmers, with past governments failing to address it sincerely. In 2014, 99 major irrigation projects nationwide, many in Maharashtra, were stalled for decades,” but he also gave hope that, “Under the NDA government, rapid progress is underway, notably with the imminent completion of the Lower Wardha and Lower Pedhi Irrigation Projects, promising to be a lifeline for farmers. Additionally, numerous smaller projects aim to boost irrigation across the region."

“We have separately identified the oranges of Amravati and turmeric of Wardha under ODOP so that the farmers here can benefit from it. For financial assistance to farmers, money from PM Kisan Samman Nidhi is also being sent directly into the accounts,” PM Modi shared.

In a sorry state of affairs, the PM launched his blistering attack against the opposition and said, “In contrast to BJP's development agenda, the INDI Alliance struggles with a lack of substantial issues, resorting to a politics of insults. Inviting leaders opposed to Sanatan principles to Maharashtra, they boycott events like the Ayodhya Ram temple inauguration, dismissing it as hypocrisy. However, their denial contradicts the nation's deep devotion on such occasions, revealing the true face of the INDI Alliance.”
“Eknath Shinde ji's government has resolved to redevelop ‘Lahanuji Maharaj Sansthan’ here. If these people become strong then they will oppose that also. Therefore, you have to account for the sins of Congress on this land of Shivaji Maharaj,” the PM warned.

"The Congress party admits defeat and resorts to threats of chaos post-elections. Their inclination towards constitutional suppression and emergency echoes past tactics. However, the nation desires a resolute, stable government. Voting for Congress or the INDI Alliance is futile.” Hence, PM Modi urged that “Maharashtra's votes must prioritize development. To all on April 26th, let's vote for progress."

In his concluding remarks, PM Modi encouraged the audience to ensure a resounding victory for the BJP by casting record-breaking votes. He expressed gratitude to every individual in the crowd and motivated them to spread his heartfelt regards to every doorstep in Maharashtra.