امرتسر - جام نگر اقتصادی راہداری کے چھ لین والے گرین فیلڈ ایکسپریس وے سیکشن کو قوم کے نام وقف کیا
گرین انرجی کوریڈور کے لیے بین ریاستی ٹرانسمیشن لائن کے فیز-1 قوم کے نام وقف کیا
بیکانیر کےبھیواڑی ٹرانسمیشن لائن کو قوم کے نام وقف کیا
بیکانیر میں 30 بستروں والے ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ای ایس آئی سی)ہسپتال قوم کے نام وقف کیا
بیکانیر ریلوے اسٹیشن کی تعمیر نو کا سنگ بنیاد رکھا
43 کلومیٹر طویل چورو- رتن گڑھ سیکشن ریلوے لائن کو دوگنا کرنے کا سنگ بنیاد رکھا
"قومی شاہراہوں کے باعث راجستھان نے ڈبل سنچری بنائی "
"راجستھان بے پناہ صلاحیتوں اور امکانات کا مرکز ہے"
"گرین فیلڈ ایکسپریس وے پورے مغربی ہندوستان میں اقتصادی سرگرمیوں کو مضبوط کرے گا"
"ہم نے سرحدی گاؤں کو ملک کا پہلا گاؤں قرار دیا"

اسٹیج پر موجود راجستھان کے گورنر جناب کلراج مشر  جی، مرکزی وزراء جناب نتن گڈکری جی، ارجن میگھوال جی، گجیندر شیخاوت جی، کیلاش چودھری جی، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی، ایم ایل ایز  اور راجستھان کے میرے پیارے بھائی اور بہنیں !

میں بہادروں کی سرزمین راجستھان کو میرا بہت بہت نمن! یہ سرزمین  ترقی سے سرشار لوگوں کا  بار بار انتظار کرتی ہے، ان کو دعوت بھی  دیتی ہے۔ اور میں ملک کی طرف سے ترقی کی نئی نئی سوغات بہادروں کی اس سرزمین کو اس کے  قدموں میں وقف کرنے کی مسلسل کوشش کرتا ہوں۔ آج یہاں بیکانیر اور راجستھان کے لیے 24 ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی پروجیکٹوں کو عوام کے نام وقف  کیا گیا ہے۔ راجستھان کو چند مہینوں کے اندر دو جدید چھ لین  کے ایکسپریس وے ملے ہیں۔ فروری کے مہینے میں، میں نے دہلی-ممبئی ایکسپریس کوریڈور  کے دہلی-دوسا-لالسوٹ سیکشن کو عوام کے نام وقف کیا تھا  اور آج یہاں  امرتسر-جام نگر ایکسپریس وے کے 500 کلومیٹر  سیکشن کو ملک  کے نام وقف کرنے کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ یعنی ایک طرح سے  ایکسپریس وے کے معاملے میں  راجستھان نے ڈبل سنچری مار دی ہے۔

 

ساتھیو،

آج  قابل تجدید توانائی کی سمت میں راجستھان کو آگے لے جانے کے لیے گرین انرجی کوریڈور کابھی افتتاح کیا گیا ہے۔ بیکانیر میں ای ایس آئی سی ہسپتال کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔ میں ان تمام ترقیاتی کاموں کے لیے بیکانیر اور راجستھان کے لوگوں کو  بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو،

کوئی بھی ریاست ترقی کی دوڑ میں اس وقت آگے نکلتی ہے جب اس کی صلاحیت کی اور  امکانات کی صحیح شناخت کی جائے۔ راجستھان  توبے پناہ صلاحیتوں اور امکانات کا مرکز رہا ہے۔ راجستھان میں ترقی کو تیز کرنے کی طاقت ہے، اسی لیے ہم یہاں ریکارڈ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ راجستھان میں صنعتی ترقی کے بے پناہ امکانات ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں کنکٹی وٹی  کے انفراسٹرکچر کو ہائی ٹیک بنا رہے ہیں۔ تیز رفتار ایکسپریس وے اور ریلوے سےراجستھان میں سیاحت سے متعلق مواقع کی  بھی توسیع ہوگی۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ یہاں کے نوجوانوں کو ہوگا، راجستھان کے بیٹے اور بیٹیوں کو ہوگا۔

ساتھیو،

آج  جس گرین فیلڈ ایکسپریس وے کو قوم کے نام وقف  کیا گیا ہے، یہ کوریڈور راجستھان کو ہریانہ، پنجاب، گجرات اور جموں و کشمیر سے جوڑے گا۔ جام نگر اور کانڈلا  جیسے  بڑے  بڑے کمرشیل سی پورٹ بھی اس کے ذریعے راجستھان اور بیکانیر سے سیدھے جڑ جائیں گے۔ ایک طرف جہاں بیکانیر سے امرتسر اور جودھ پور کا فاصلہ کم ہو جائے گا وہیں جودھپور سے جالور اور گجرات کا فاصلہ بھی کم ہو جائے گا۔ اس کا فائدہ  اس  پورے علاقے کے کسان اور تاجروں  بڑے پیمانے پر ملے گا۔ یعنی ایک طرح سے یہ ایکسپریس وے پورے مغربی ہندوستان کو  اس  کی  صنعتی سرگرمیوں کو نئی طاقت دے گا۔ خاص طور سے ملک کی آئل فیلڈ ریفائنری اس کے ذریعے  جوڑے گی، سپلائی چین  مضبوط  ہوگی اور ملک کو اقتصادی رفتار ملے گی۔

 

ساتھیو،

آج یہاں بیکانیر- رتن گڑھ ریل لائن کو دوہرا کرنے کا کام بھی شروع ہو ا ہے۔ ہم نے راجستھان میں ریلوے کی ترقی کو بھی اپنی ترجیحات میں رکھا ہے۔ سال  2004 اور 2014 کے درمیان، راجستھان کو ریلوے کے لیے ہر سال اوسطاً ایک ہزار کروڑ روپے سے بھی کم ملے تھے جبکہ ہماری حکومت نے راجستھان میں ریلوے کی ترقی کے لیے ہر سال اوسطاً تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے دیے ہیں۔ آج یہاں پر تیز رفتاری سے نئی ریلوے لائنیں بچھائی جا رہی ہیں، ریلوے ٹریکس کی تیزی سے بجلی کاری ہوری ہے۔

ساتھیو،

انفراسٹرکچر کی اس ترقی کا سب سے زیادہ فائدہ چھوٹے تاجروں اور کاٹیج انڈسٹریز کو ملتا ہے۔ بیکانیر  تو اچار، پاپڑ، نمکین اور اس طرح کے تمام پروڈکٹوں لئے پورے   ملک میں مشہور ہے۔ کنکٹی وٹی اور بہتر ہوگی تو یہاں کی کاٹیج انڈسٹری کم  لاگت میں  اپنا مال  ملک کے کونے کونے تک  پہنچا پائے گی۔ اہل وطن بیکانیر کے ذائقے دار پروڈکٹوں   کا  لطف  زیادہ آسانی سے مل  پائے گا۔

 

ساتھیو،

گزشتہ 9 برسوں میں ہم نے راجستھان کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ جو سرحدی علاقے  دہائیوں سے ترقی سے محروم  تھے ان کی ترقی کے لیے ہم نے وائبرنٹ ولیج اسکیم شروع کی ہے۔ ہم نے سرحدی  گاؤوں کو ملک کا پہلا گاؤں قرار دیا ہے۔ اس   سے ان علاقوں میں ترقی ہو رہی ہے، ملک کے لوگوں میں بھی  سرحدی علاقوں میں جانے کی دلچسپی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس سے بارڈر پر بسے  ہوئے علاقوں میں بھی ترقی کی نئی توانائی پہنچی ہے۔

ساتھیو،

ہمارے راجستھان کو سالاسر بالاجی اور کرنی ماتا نے اتنا کچھ دیا ہے۔ اس لیے تو  ترقی کے معاملے میں بھی  سب سے اوپر ہونا چاہیے۔ آج حکومت ہند اسی جذبے کے ساتھ مسلسل ترقی کے کاموں پر زور دے رہی ہے ،پوری طاقت لگا رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم سب  ساتھ مل کر راجستھان کی ترقی کو اور بھی تیز رفتار سے آگے بڑھائیں گے۔ میں ایک  پھر بار  آپ سب کو  بہت بہت نیک خواہشات  کا اظہار کرتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Total Urea stocks currently at 61.14 LMT, up from 55.22 LMT in March 2025

Media Coverage

Total Urea stocks currently at 61.14 LMT, up from 55.22 LMT in March 2025
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review the situation and mitigating measures in the context of ongoing West Asia Conflict
March 22, 2026
Short, Medium and Long term measures to ensure continued availability of essential needs discussed in detail
Alternate sources of fertilizers for farmers were also discussed to ensure continued availability in the future
Several measures discussed to diversify sources of imports required by chemicals, pharmaceuticals, petrochemicals and other industrial sectors
New export destinations to promote Indian goods to be developed in near future
PM instructs that all arms of government should work together to ensure least inconvenience to citizens
PM directs that a group of Ministers and Secretaries be created to work dedicatedly in a whole of government approach
PM instructs for sectoral groups to work in consultation with all stakeholders
PM asks for proper coordination with state governments to ensure no black-marketing and hoarding of important commodities

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired a meeting of the Cabinet Committee on Security to review the situation and ongoing and proposed mitigating measures in the context of ongoing West Asia Conflict.

The Cabinet Secretary gave a detailed presentation on the global situation and mitigating measures taken so far and being planned by all concerned Ministries/Departments of Government of India. The expected impact and measures taken to address it across sectors like agriculture, fertilisers, food security, petroleum, power, MSMEs, exporters, shipping, trade, finance, supply chains and all affected sectors were discussed. The overall macro-economic scenario in the country and further measures to be taken were also discussed.

The ongoing conflict in West Asia will have significant short, medium and long term impact on the global economy and its effect on India were assessed and counter-measures, both immediate and long-term, were discussed.

Detailed assessment of availability for critical needs of the common man, including food, energy and fuel security was made. Short term, Medium term and Long term measures to ensure continued availability of essential needs were discussed in detail.

The impact on farmers and their requirement for fertiliser for the Kharif season was assessed. The measures taken in the last few years to maintain adequate stocks of fertilizers will ensure timely availability and food security. Alternate sources of fertilizers were also discussed to ensure continued availability in the future.

It was also determined that adequate supply of coal stocks at all power plants will ensure no shortage of electricity in India.

Several measures were discussed to diversify sources of imports required by chemicals, pharmaceuticals, petrochemicals and other industrial sectors. Similarly new export destinations to promote Indian goods will be developed in the near future.

Several measures proposed by different ministries will be prepared and implemented in the coming days after consultation with all stakeholders.

PM directed that a group of ministers and secretaries be created to work dedicatedly in a whole of government approach. PM also instructed for sectoral groups to work in consultation with all stakeholders.

PM said that the conflict is an evolving situation and the entire world is affected in some form. In such a situation, all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. PM instructed that all arms of government should work together to ensure least inconvenience to the citizens. PM also asked for proper coordination with state governments to ensure no black-marketing and hoarding of important commodities.