Share
 
Comments
انہوں نے پونے میونسپل کارپوریشن کے احاطے میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے کی نقاب کشائی کی
کئی ترقیاتی پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا، آر کے لکشمن آرٹ گیلری میوزیم کا افتتاح کیا
’’ ہم سب کے دل میں بسنے والے شیواجی مہاراج کا یہ مجسمہ، نوجوان پیڑھی میں حب الوطنی کے جذبہ جگائے گا‘‘
’’پونے نے تعلیم، تحقیق اور ترقی، آئی ٹی اور آٹوموبائل کے شعبوں میں اپنی شناخت کو مسلسل مضبوط کیا ہے، ایسی صورت میں جدید سہولیات پونے کے عوام کی ضرورت ہیں اور ہماری حکومت پونے کے عوام کی اس ضرورت کو ذہن میں رکھتے ہوئے کام کر رہی ہے‘‘
’’یہ میٹرو پونے میں آنے جانے کی آسانی فراہم کرائے گی، آلودگی اور جام سے نجات دلائے گی، پونے کے لوگوں کی زندگی کی آسانی میں اضافہ کرے گی‘‘
’’آج کے تیز رفتار ترقی والے بھارت میں، ہمیں رفتار اور پیمانے پر بھی توجہ مرکوز کرنی ہوگی، اس کی وجہ سے ہماری حکومت نے پی ایم - گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان تیار کیا ہے‘‘
’’جدت پسندی کے ساتھ پونے کی قدیم روایت اور مہاراشٹر کے فخر کے احساس کو شہری منصوبہ بندی میں برابر کا مقام دیا جا رہا ہے‘‘

نئی دہلی۔ 6  مارچ چھترپتی شیواجی مہاراج، مہاتما جیوتیبا پھولے، ساوتری بائی پھولے، مہارشی کروے ینچاسہ آشا، بہت سے باصلاحیت ادبی فنکار، سماجی کارکن، ینچیا واستویانے پاون جھاللیہ پونیہ نگری تیل ماجھا بندھو – بھاگینینا نمسکار!

اس پروگرام موجود مہاراشٹر کے گورنر، جناب بھگت سنگھ کوشیاری جی، مرکزی کابینہ میں میرے رفیق ، رام داس اٹھاولے جی، نائب وزیر اعلیٰ جناب اجیت پوار جی، حکومت مہاراشٹر کے دیگر وزراء، سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس جی، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی پرکاش جاوڈیکر جی، دیگر اراکین پارلیمنٹ، قانون ساز، پونے کے میئر مرلی دھر مہول جی، پمپری چنچوڑ کی میئر محترمہ مائی دھورے جی، یہاں موجود دیگر تمام معززین، خواتین و حضرات،

اس وقت ملک آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے۔ ہندوستان کی آزادی میں پونے کی تاریخی شراکت داری رہی ہے۔ لوک مانیہ تلک، چاپے کر برادران، گوپال گنیش اگرکر، سینا پتی باپت، گوپال کرشن دیشمکھ، آر۔ جی  بھنڈارکر، مہادیو گووند راناڈے جی جیسے تمام  اس سرزمین  کے آزادی پسندوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

آج مہاراشٹر کی ترقی کے لیے خود کو وقف کر دینے والے رام بھاؤ مہالگی جی  کی برسی بھی ہے۔ آج میں بابا صاحب پورندرے جی کو بھی بصد احترام  یاد کر رہا ہوں۔ کچھ دیر پہلے مجھے چھترپتی شیواجی مہاراج  جی کے عظیم الشان مجسمے کے افتتاح کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ہم سب کے دلوں میں ہمیشہ زندہ  رہنے والے چھترپتی شیواجی مہاراج جی کا یہ مجسمہ آنے والی نسلوں میں  حب الوطنی کی تحریک پیدا کرے گا۔

آج پونے کی ترقی سے متعلق کئی اور پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ پونے میٹرو کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے آپ نے مجھے دعوت دی تھی اور اب آپ نے مجھے اس کا افتتاح کرنے کا موقع دیا ہے۔ اس سے قبل جب سنگ بنیاد رکھا  جاتا تھا تو یہ معلوم نہیں  ہوتا تھا کہ افتتاح کب ہوگا۔

دوستو

یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ اس میں یہ پیغام بھی ہے کہ منصوبے وقت پر مکمل ہو سکتے ہیں۔ آج مولا – مو ٹھا ندی کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے 1100 کروڑ روپے کے پروجیکٹ پر بھی کام شروع ہو  رہا ہے۔ آج پونے کو ای بسیں بھی ملی ہیں، بانیر میں ای بس کے ڈپو کا افتتاح ہوا  ہے۔ اور ان  سب کے ساتھ، اور میں اوشا جی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، آج پونے کی متعدد متنوع زندگیوں میں ایک شاندار تحفہ، آر کے لکشمن جی کے نام وقف  ایک شاندار آرٹ گیلری میوزیم بھی پونے کو ملا ہے۔ میں اوشا جی کو ان کے پورے خاندان کے لیے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں، کیونکہ میں ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا ہوں۔ ان کے جوش و جذبےاور دن رات کام کو مکمل کرنے کے لیے مصروف رہنے کے لیے  ، میں واقعی پورے خاندان کو ، اوشا جی کو مبارکباد  پیش کرتا ۔ آج، میں ان تمام خدمت کے کاموں کے لیے پونے کے لوگوں کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ ہمارے دونوں میئر صاحبان کو ، ان کی ٹیم  کو دونوں کو بہت سے ترقیاتی کام تیز رفتاری سے کرنے کے لیے بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

بھائیو اور بہنو،

پونے اپنے ثقافتی، روحانی اور حب الوطنی کے شعور کے لیے مشہوررہا  ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ، پونے نے تعلیم، تحقیق اور ترقی، آئی ٹی اور آٹوموبائل کے شعبہ میں مسلسل اپنی شناخت مضبوط کی ہے۔ ایسے میں جدید سہولیات پونے کے لوگوں کی ضرورت ہے اور ہماری حکومت پونے کے لوگوں کی اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی محاذوں پر کام کر رہی ہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے میں نے گروارے سے آنند نگر تک پونے میٹرو میں سفر کیا ہے۔ یہ میٹرو پونے میں نقل و حرکت میں آسانی پیدا کرے گی، آلودگی اور اژدحام سے نجات دلائے گی، پونے کے لوگوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرے گی۔ پانچ چھ  سال پہلے جب ہمارے دیویندر جی یہاں کے وزیر اعلیٰ تھے تو وہ اس پروجیکٹ کے سلسلے میں مسلسل دہلی آتے تھے، بڑے جوش اور ولولے سے اس پروجیکٹ کے تئیں سرگرم تھے۔ میں ان کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔

دوستو،

کورونا وبا کے درمیان بھی یہ سیکشن آج خدمت کے لیے تیارہوا ہے۔ پونے میٹرو کے آپریشن کے لیے شمسی توانائی کا بھی بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سے ہر سال تقریباً 25 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج رک جائے گا۔ میں اس پروجیکٹ میں شامل تمام لوگوں بالخصوص تمام محنت کشوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کا یہ تعاون پونے کے پیشہ ور افراد، یہاں کے طلباء، یہاں کے عام آدمی کے لیے بہت مددگار ثابت ہوگا۔

ساتھیوں،

آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کس تیزی سے شہری کاری ہو رہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سال 2030 تک ہماری شہری آبادی 60 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔ شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی اپنے ساتھ بہت سے مواقع لے کر آتی ہے لیکن ساتھ ساتھ  چیلنج بھی در پیش ہوتے ہیں۔ شہروں میں ایک خاص حد کے اندر ہی فلائی اوور بنائے جا سکتے ہیں، آبادی بڑھنے سے کتنے فلائی اوور بنیں گے؟ آپ اسے کہاں کہاں بنائیں گے؟ کتنی سڑکیں چوڑی کریں گے؟ آپ اسے کہاں کریں گے؟ ایسی صورتحال میں ہمارے پاس ایک ہی آپشن ہے – عوامی  نقل و حمل۔ بڑے پیمانے پر نقل و حمل کے انتظامات کی زیادہ سے زیادہ تعمیر۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری حکومت بڑے پیمانے پر نقل و حمل کے ذرائع اور خاص طور پر میٹرو رابطے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

2014 تک، ملک کے صرف دہلی-این سی آر میں ہی میٹرو کی وسیع پیمانے پر توسیع ہوئی تھی۔ باقی اکّا دکّا شہروں میں میٹرو پہنچنا شروع ہی ہوا تھا۔ آج ملک کے 2 درجن سے زائد شہروں میں میٹرو یا تو آپریشنل ہو چکی ہے یا جلد ہی آپریشنل ہونے والی ہے۔ اس میں بھی مہاراشٹر کی حصہ داری ہے۔ ممبئی ہو، پونے – پمپری چنچوڑہو ، تھانے، ناگپور ہو، آج مہاراشٹر میں میٹرو نیٹ ورک کی بہت تیزی سے توسیع ہو رہی ہے۔

آج اس موقع پر میری پونے اور ہر اس شہر کے لوگوں سے ایک درخواست ہے جہاں میٹرو چل رہی ہے۔ میں خودمختار شہریوں سے خصوصی درخواست کروں گا، معاشرے کے بڑے لوگوں سے خصوصی درخواست کروں گا کہ ہم کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہو جائیں، معاشرے کے ہر طبقے کو میٹرو میں سفر کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ آپ جتنا زیادہ میٹرو میں چلیں گے، اتنا ہی آپ اپنے شہر کی مدد کریں گے۔

بھائیو اور بہنو،

21ویں صدی کے ہندوستان میں ہمیں اپنے شہروں کو جدید بھی بنانا ہوگا اور ان میں نئی ​​سہولتیں شامل کرنی ہوں گی۔ مستقبل کے ہندوستان کے شہر کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ہماری حکومت کئی منصوبوں پر ایک ساتھ کر کام کر رہی ہے۔ ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ ہر شہر میں زیادہ سے زیادہ گرین ٹرانسپورٹ، الیکٹرک بسیں، الیکٹرک کاریں، دو پہیاالیکٹرک گاڑی ہو، ہر شہر میں اسمارٹ موبیلیٹی ہو، لوگ ٹرانسپورٹ کی سہولیات کے لیے ایک  ہی کارڈ استعمال کریں۔ ہر شہر میں سہولت کو سمارٹ بنانے کے لیےمربوط کمانڈ اور کنٹرول سینٹر ہو، ہر شہر میں سرکلر اکانومی کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹم ہو، ہر شہر کو واٹر پلس بنانے کے لیے مناسب جدید سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ ہوں، پانی کے ذرائع کا بہتر انتظام ہو، ہر شہر میں ویسٹ ٹو ویلتھ بنانے کے لیے گوبردھن پلانٹ ہوں ، بائیو گیس پلانٹ ہوں ، ہر شہر میں توانائی کی بچت پر زور دیا جانا  چاہیے، ہر شہر کی اسٹریٹ لائٹ سمارٹ ایل ای ڈی بلب سے روشن ہو جائیں ، اس نقطہ نظر کے ساتھ آگے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔

شہروں میں پینے کے پانی اور نکاسی آب کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے، ہم امرت مشن کو لے کر مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔ ہم نے ریرا (آر ای آر اے) جیسا قانون بھی بنایا تاکہ متوسط ​​طبقہ اس قانون کی عدم موجودگی کی وجہ سے پریشان ہوتے تھے، پیسے دیتے دیتے، سالوں گزر جاتے تھے، انہیں مکان نہیں ملتا تھا۔ ان تمام مسائل کا حل، جو کاغذ میں بتایا جاتا تھا، وہ مکان نہیں ہوتاتھا، بہت سی بد انتظامیاں ہوتی تھیں۔ ایک طرح سے ہمارا متوسط ​​طبقہ جو زندگی کی  بہت بڑی پونجی سےاپنا ایک  گھر بنانا چاہتا ہے، وہ گھر بننے سے پہلے ہی اپنے آپ کو ٹھگا ہوا محسوس کرتا ہے۔ یہ ریرا (آر ای آر اے) قانون اس متوسط ​​طبقے کے لوگوں کو گھر بنانے کی خواہش کرنے والوں کو حفاظت فراہم کرنے کے لیے بہت بڑا کام کر رہا ہے۔ ہم شہروں میں ترقی کے لیے صحت مند مقابلہ کو بھی فروغ دے رہے ہیں تاکہ بلدیاتی اداروں کی پوری توجہ صفائی پر ہو۔ شہری منصوبہ بندی سے متعلق ان موضوعات پر سال کے بجٹ میں بھی توجہ دی گئی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

پونے کی شناخت ماحول دوست ایندھن کے مرکز کے طور پر بھی مضبوط ہو رہی ہے۔ ہم آلودگی سے نجات پانے، خام تیل کے لیے غیر ملکی انحصار کو کم کرنے اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے ایتھنول پر ، حیاتیاتی ایندھن پرتوجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ پونے میں بڑے پیمانے پر ایتھنول ملاوٹ کی سہولیات قائم کی گئی ہیں۔ اس سے یہاں کے گنے کے کاشتکاروں کو بھی بڑی مدد ملے گی۔ آج میونسپل کارپوریشن نے پونے کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانے کے لیے بہت سے کام شروع کیے ہیں۔ بار بار آنے والے سیلاب اور آلودگی سے پونے کو نجات دلانے میں یہ سیکڑوں کروڑ روپے کے پروجیکٹ بہت کارآمد ثابت ہوں گے۔ مرکزی حکومت بھی مولا موٹھا ندی کی صفائی اور جدید کاری  کے لیےبھی  پونے میونسپل کارپوریشن کو مکمل تعاون دے رہی ہے۔ندیاں پھر سے زندہ ہوں گی تو شہر کے لوگوں کو بھی راحت ملے گی ، انہیں بھی نئی توانائی ملے گی۔

اور میں تو شہروں میں رہنے والوں سے گزارش کروں گا کہ سال میں ایک بار تاریخ طے کر کے باقاعدہ ندی اتسو منائیں ۔ ندی کے تئیں تعظیم، ندی کی اہمیت، ماحولیاتی نقطہ نظر سے تربیت، پورے شہر میں ندی اتسو کا ماحول بنانا چاہیے، تب جاکر ہمیں اپنی ندیوں کی اہمیت کا اندازہ ہوگا۔ ہم پانی کے ایک ایک قطرے کی اہمیت کو سمجھیں گے۔

ساتھیوں،

کسی بھی ملک میں جدید انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیےجو چیز  سب سے زیادہ  ضروری ہے ، وہ ہے رفتار اور پیمانہ ۔ لیکن کئی دہائیوں تک ہمارے پاس ایسے انتظامات رہیں کہ اہم منصوبوں کی تکمیل میں کافی وقت لگ جاتا تھا ۔ یہ سست رویہ ملک کی ترقی کو بھی متاثر کرتا  رہا ہے۔ آج کے تیزی سے ترقی کرنے والے ہندوستان میں ہمیں رفتار اور پیمانے پر بھی توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ اسی لیے ہماری حکومت نے پی ایم-گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان تیار کیا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر منصوبوں میں تاخیر کی وجہ مختلف محکموں، مختلف وزارتوں، حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی منصوبہ برسوں بعد مکمل بھی ہوتا ہے تو وہ پرانا ہو جاتا ہے، اس کی موزونیت ہی ختم ہوجاتی ہے۔

پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان ان تمام تضادات کو دور کرنے کا کام کرے گا۔ جب کام ایک مربوط توجہ کے ساتھ کیا جائے گا، ہر شراکت دار  کے پاس کافی معلومات ہوں گی، تب ہمارے پراجیکٹ کے وقت پر مکمل ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوں گے۔ اس سے عوام کی مشکلات بھی کم ہوں گی، ملک کا پیسہ بھی بچے گا اور لوگوں کو سہولتیں بھی زیادہ ملیں گی۔

بھائیو اور بہنو،

میں اس بات سے بھی مطمئن ہوں کہ جدیدیت کے ساتھ ساتھ پونے کے افسانویت اور مہاراشٹر کے فخر کو شہری منصوبہ بندی میں وہی مقام دیا جا رہا ہے۔ یہ سرزمین سنت دنیشور اور سنت تکارام جیسے متاثر کن سنتوں کی رہی ہے۔ مجھے چند ماہ قبل ہی شری سنت دنیشور مہاراج پالکھی مارگ اور سنت تکارام مہاراج پالکھی مارگ کا سنگ بنیاد رکھنے کا شرف حاصل ہواہے۔ اپنی تاریخ پر فخر کرتے ہوئے، جدیدیت کا یہ ترقی کا سفر اسی طرح جاری رہے، اس خواہش کے ساتھ پونے کے تمام شہریوں کو ایک بار پھر بہت بہت مبارکباد ۔

بہت بہت  شکریہ !  

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
'Ambitious... resilient': What World Bank experts said on Indian economy

Media Coverage

'Ambitious... resilient': What World Bank experts said on Indian economy
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Text of PM's speech welcoming Vice President, Shri Jagdeep Dhankhar in Rajya Sabha
December 07, 2022
Share
 
Comments
Welcomes Vice President to the Upper House
“I salute the armed forces on behalf of all members of the house on the occasion of Armed Forces Flag Day”
“Our Vice President is a Kisan Putra and he studied at a Sainik school. He is closely associated with Jawans and Kisans”
“Our democracy, our Parliament and our parliamentary system will have a critical role in this journey of Amrit Kaal”
“Your life is proof that one cannot accomplish anything only by resourceful means but by practice and realisations”
“Taking the lead is the real definition of leadership and it becomes more important in the context of Rajya Sabha”
“Serious democratic discussions in the House will give more strength to our pride as the mother of democracy”

आदरणीय सभापति जी,

आदरणीय सभी सम्‍मानीय वरिष्‍ठ सांसदगण,

सबसे पहले मैं आदरणीय सभापति जी, आपको इस सदन की तरफ से और पूरे देश की तरफ से बहुत-बहुत बधाई देता हूं। आपने एक सामान्‍य परिवार से आ करके संघर्षों के बीच जीवन यात्रा को आगे बढ़ाते हुए आप जिस स्‍थान पर पहुंचे हैं, वो देश के कई लोगों के लिए अपने-आप में एक प्रेरणा का कारण है। इस उच्‍च सदन में, इस गरिमामय आसन को आप सुभोभित कर रहे हैं और मैं कहूंगा कि किठाणा के लाल, उनकी जो उपलब्धियां देश देख रहा है तो देश की खुशी का ठिकाना नहीं है।

आदरणीय सभापति जी,

ये सुखद अवसर है कि आज Armed Forces Flag Day भी है।

आदरणीय सभापति जी,

आप तो झुंझुनू से आते हैं, झुंझुनू वीरों की भूमि है। शायद ही कोई परिवार ऐसा होगा, जिसने देश की सेवा में अग्रिम भूमिका न निभाई हो। और ये भी सोने में सुहागा है कि आप स्‍वयं भी सैनिक स्‍कूल के विद्यार्थी रहे हैं। तो किसान के पुत्र और सैनिक स्‍कूल के विद्यार्थी के रूप में मैं देखता हूं कि आप में किसान और जवान, दोनों समाहित हैं।

मैं आपकी अध्‍यक्षता में इस सदन से सभी देशवासियों को Armed Forces Flag Day की भी शुभकामनाएं देता हूं। मैं इस सदन के सभी आदरणीय सदस्‍यों की तरफ से देश के Armed Forces को सैल्‍यूट करता हूं।

सभापति महोदय,

आज संसद का ये उच्‍च सदन एक ऐसे समय में आपका स्‍वागत कर रहा है, जब देश दो महत्‍वपूर्ण अवसरों का साक्षी बना है। अभी कुछ ही दिन पहले दुनिया ने भारत को जी-20 समूह की मेजबानी का दायित्व सौंपा है। साथ ही, ये समय अमृतकाल के आरंभ का समय है। ये अमृतकाल एक नए विकसित भारत के निर्माण का कालखंड तो होगा ही, साथ ही भारत इस दौरान विश्‍व के भविष्‍य की दिशा तय करने पर भी बहुत अहम भूमिका निभाएगा।

आदरणीय सभापति जी,

भारत की इस यात्रा में हमारा लोकतंत्र, हमारी संसद, हमारी संसदीय व्‍यवस्‍था, उसकी भी एक बहुत महत्‍वपूर्ण भूमिका रहेगी। मुझे खुशी है कि इस महत्‍वपूर्ण कालखंड में उच्‍च सदन को आपके जैसा सक्षम और प्रभावी नेतृत्‍व मिला है। आपके मार्गदर्शन में हमारे सभी सदस्‍यगण अपने कर्तव्‍यों का प्रभावी पालन करेंगे, ये सदन देश के संकल्‍पों को पूरा करने का प्रभावी मंच बनेगा।

आदरणीय सभापति महोदय,

आज आप संसद के उच्‍च सदन के मुखिया के रूप में अपनी नई जिम्‍मेदारी का औपचारिक आरंभ कर रहे हैं। इस उच्‍च सदन के कंधों पर भी जो जिम्‍मेदारी है उसका भी सबसे पहला सरोकार देश के सबसे निचले पायदान पर खड़े सामान्‍य मानवी के हितों से ही जुड़ा है। इस कालखंड में देश अपने इस दायित्‍व को समझ रहा है और उसका पूरी जिम्‍मेदारी से पालन कर रहा है।

आज पहली बार महामहिम राष्‍ट्रपति श्रीमती द्रौपदी मुर्मू के रूप में देश की गौरवशाली आदिवासी विरासत हमारा मार्गदर्शन कर रही है। इसके पहले भी श्री रामनाथ कोविंद जी ऐसे ही वंचित समाज से निकलकर देश के सर्वोच्‍च पद पर पहुंचे थे। और अब एक किसान के बेटे के रूप में आप भी करोड़ों देशवासियों की, गांव-गरीब और‍ किसान की ऊर्जा का प्रतिनिधित्‍व कर रहे हैं।

आदरणीय सभापति जी,

आपका जीवन इस बात का प्रमाण है कि सिद्धि सिर्फ साधनों से नहीं, साधना से मिलती है। आपने वो समय भी देखा है, जब आप कई किलोमीटर पैदल चल कर स्‍कूल जाया करते थे। गांव, गरीब, किसान के लिए आपने जो किया वो सामाजिक जीवन में रह रहे हर व्‍यक्ति के लिए एक उदाहरण है।

आदरणीय सभापति जी,

आपके पास सीनियर एडवोकेट के रूप में तीन दशक से ज्‍यादा का अनुभव है। मैं विश्‍वास से कह सकता हूं कि सदन में आप कोर्ट की कमी महसूस नहीं करेंगे, क्‍योंकि राज्‍यसभा में बहुत बड़ी मात्रा में वो लोग ज्‍यादा हैं, जो आपको सुप्रीम कोर्ट में मिला करते थे और इसलिए वो मूड और मिजाज भी आपको यहां पर जरूर अदालत की याद दिलाता रहेगा।

आपने विधायक से लेकर सांसद, केन्‍द्रीय मंत्री, गवर्नर तक की भूमिका में भी काम किया है। इन सभी भूमिकाओं में जो एक बात कॉमन रही, वो है देश के विकास और लोकतांत्रिक मूल्‍यों के लिए आपकी निष्‍ठा। निश्चित तौर पर आपके अनुभव देश और लोकतं‍त्र के लिए बहुत ही महत्‍वपूर्ण हैं।

आदरणीय सभापति जी,

आप राजनीति में रहकर भी दलगत सीमाओं से ऊपर उठकर सबको साथ जोड़कर काम करते रहे हैं। उपराष्‍ट्रपति के चुनाव में भी आपके लिए सबका वो अपनापन हमने स्‍पष्‍ट रूप से देखा। मतदान के 75 पर्सेंट वोट प्राप्‍त करके जीत हासिल करना अपने-आप में अहम रहा है।

आदरणीय सभापति जी,

हमारे यहां कहा जाता है- नयति इति नायक: - अर्थात् जो हमें आगे ले जाए, वही नायक है। आगे लेकर जाना ही नेतृत्‍व की वास्‍तविक परिभाषा है। राज्‍यसभा के संदर्भ में ये बात और महत्‍वपूर्ण हो जाती है, क्‍योंकि सदन पर लोकतांत्रिक निर्णयों को और भी रिफाइंड तरीके से आगे बढ़ाने की जिम्‍मेदारी है। इसलिए जब आपके जैसा जमीन से जुड़ा नेतृत्‍व इस सदन को मिलता है, तो मैं मानता हूं कि ये सदन के हर सदस्‍य के लिए सौभाग्‍य है।

आदरणीय सभापति जी,

राज्‍यसभा देश की महान लोकतांत्रिक विरासत की एक संवाहक भी रही है और उसकी शक्ति भी रही है। हमारे कई प्रधानमंत्री ऐसे हुए, जिन्‍होंने कभी न कभी राज्‍यसभा सदस्‍य के रूप में कार्य किया है। अनेक उत्‍कृष्‍ट नेताओं की संसदीय यात्रा राज्‍यसभा से शुरू हुई थी। इसलिए इस सदन की गरिमा को बनाए रखने और आगे बढ़ाने के लिए एक मजबूत जिम्‍मेदारी हम सभी के ऊपर है।

आदरणीय सभापति जी,

मुझे विश्‍वास है कि आपके मार्गदर्शन में ये सदन अपनी इस विरासत को, अपनी इस गरिमा को आगे बढ़ायेगा, नई ऊंचाइयां देगा। सदन की गंभीर चर्चाएं, लोकतांत्रिक विमर्श, लोकतंत्र की जननी के रूप में हमारे गौरव को और अधिक ताकत देंगे।

आदरणीय सभापति महोदय जी,

पिछले सत्र तक हमारे पूर्व उपराष्‍ट्रपति जी और पूर्व सभापति जी इस सदन का मार्गदर्शन करते थे और उनकी शब्‍द रचनाएं, उनकी तुकबंदी सदन को हमेशा प्रसन्‍न रखती थी, ठहाके लेने के लिए बड़ा अवसर मिलता था। मुझे विश्‍वास है कि आपका जो हाजिर जवाबी स्‍वभाव है वो उस कमी को कभी खलने नहीं देगा और आप सदन को वो लाभ भी देते रहेंगे।

इसी के साथ मैं पूरे सदन की तरफ से, देश की तरफ से, मेरी तरफ से आपको बहुत-बहुत शुभकामनाएं देता हूं।

धन्‍यवाद।