"Demise of General Bipin Rawat is a great loss for every Indian, for every patriot"
"The nation is with the the families of the heroes we have lost"
"The completion of the Saryu Canal National Project is proof that when the thinking is honest, the work is also solid"
"We have done more work in in less than 5 yearsthe Saryu canal project than what was done in 5 decades. This is a double engine government. This is the speed of work of the double engine government"
 
 
 

بھارت ماتا کی جئے! بھارت ماتا کی جئے ! بھارت ماتا کی جئے!

ہم اس مقدس سرزمین کا بار بار سلام کرتے ہیں۔ آج ہمیں بہت زیادہ طاقت والی ماں پاٹیشوری کی مقدس سرزمین اور چھوٹی کاشی کے نام سے مشہور بلرام پور کی دھرتی پر پھر آنے کاموقع ملا۔ آپ سے ہمیں خوب آشیرواد ملا ہے۔

اترپردیش کی گورنر محترمہ آنندی بین، یو پی کے پُرجوش، محنتی اور مقبول وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی، نائب وزیراعلیٰ جناب کیشور پرساد موریا جی، مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت جی، کوشل کشور جی، ریاستی سرکار میں وزیر مہندر سنگھ جی، رماپتی شاستری جی، مکٹ بہاری ورما جی، برجیش پاٹھ جی، آشوتوش ٹنڈن جی، بلدیو اولاکھ جی، جناب پلٹو رام جی، اسٹیج پر موجود سبھی پارلیمنٹ کے میرے ساتھی، سبھی معزز اراکین اسمبلی، ضلع  پنچایتوں کے اراکین، اور میرے پیارے بھائیوں اور بہنو، انقلابیوں کی اس سرزمین نے ملک کی جدوجہد آزادی میں اپنا غیرمعمولی تعاون دیا ہے۔ راجا دیوی بخش سنگھ، راجا کرشن دت رام اور پرتھوی بال سنگھ جیسے طاقتوروں نے انگریزی حکومت سے لوہا لینے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی۔ اجودھیا میں بن رہے بھگوان شری رام  کے پُرشکوہ مندر کی جب بات ہوگی بلرام پور ریاست کے مہاراجا پاٹیشوری پرساد سنگھ کے تعاون کا ذکر ضرور ہوگا۔ بلرام پور کے لوگ تو اتنے پارکھی ہیں کہ انہوں نے نانا جی دیشمکھ اور اٹل بہاری واجپئی کے طور پر دو دو بھارت رتنوں کو گڑھا ہے، انہیں سنوارا ہے۔

ساتھیو،

ملک کے معماروں اور ملک کے محافظوں کی اس دھرتی سے میں آج ملک کے ان سبھی بہادر جانبازوں کو بھی خراج عقیدت پیش کررہا ہوں جن کا 8 دسمبر کو ہوئے ہیلی کاپٹر حادثے میں انتقال ہوگیا۔ بھارت کے پہلے دفاعی عملے کے سربراہ جنرل بپن راوت جی کا جانا ہر بھارت سے محبت کرنے والے کے لئے ہر محب وطن کیلئے بہت بڑا نقصان ہے۔ جنرل بپن راوت جی جتنے جانباز تھے، ملک کی افواج کو خود کفیل بنانے کیلئے جتنی محنت کرتے تھے، پورا ملک اس کا گواہ رہا ہے۔ ایک فوجی، صرف اسی وقت تک فوجی نہیں رہتا جتنے دن وہ فوج میں رہتا ہے۔ اس کی پوری زندگی ایک جنگجو کی طرح ہوتی ہے، نظم وضبط، ملک کی آن بان شان کے لئے  وہ ہر لمحہ وقف ہوتے ہیں۔ گیتا میں کہا گیا ہے، نین چھندنتی شسترانی نینن دہت پاوک۔ نہ اسے ہتھیار توڑ سکتے ہیں اور نہ ہی آگ جلا سکتی ہے۔ جنرل بپن راوت، آنے والے دنوں میں، اپنے بھارت کو نئے عہد کے ساتھ وہ جہاں ہوں گے وہاں سے بھارت کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھیں گے۔ ملک کی سرحدوں کی حفاظت بڑھانے کا کام سرحدی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کا کام ملک کی افواج کو خود کفیل بنانے کی مہم ،تینوں افواج میں تال میل مضبوط کرنے  کی مہم،  ایسے متعدد کام تیزی سے آگے بڑھتے رہیں گے۔ بھارت دُکھ میں ہے لیکن درد سہتے ہوئے بھی ہم نہ اپنی رفتار روکتے ہیں اور نہ ہی اپنی ترقی، بھارت رُکے گا نہیں ، بھارت تھمے گا نہیں، ہم بھارتی ملکر اور محنت کریں گے۔ ملک کے اندر اور ملک کے باہر ہر چیلنج کا مقابلہ کریں گے، بھارت کو اور مضبوط، طاقتور اور مستحکم بنائیں گے۔

ساتھیو،

یوپی کے سپوت، دیوریا کے رہنے والے گروپ کیپٹن ورون سنگھ جی کی زندگی بچانے کیلئے ڈاکٹر جی جان سے لگے ہوئے ہیں۔ میں ماں پاٹیشوری سے ان کی زندگی کی حفاظت کرنے کی دعا کرتا ہوں۔ ملک آج ورون سنگھ جی کے اہل خانہ کے ساتھ ہے، جن بہادروں کو ہم نے کھویا ہے، ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

بھائیو اور بہنوں،

ملک پہلے کے جذبے کو سب سے اوپر رکھتے ہوئے، ملک آج ہر وہ کام کررہا ہے، جو 21ویں صدی میں ہمیں نئی اونچائی پر لے جائے۔ ملک کی ترقی کیلئے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ پانی کی کمی کبھی رکاوٹ نہ بنے۔ اس لئے ملک کی ندیوں کے پانی کا مناسب استعمال ہو، کسانوں کے کھیت تک ضرورت کے بقدر پانی پہنچے، یہ سرکار کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔ سریو نہر قومی پروجیکٹ کا پورا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سوچ ایماندار ہوتی ہے، تو کام بھی دمدار ہوتا ہے۔ دہائیوں سے آپ اس کے پورا ہونے کا انتظار کررہے تھے۔ گھاگھرا، سریو، راپتی، بن گنگا اور روہنی کی پانی کی طاقت اب اس علاقے میں خوشحالی کا نیا دور لے کر آنے والی ہے۔ بلرام کے ساتھ ساتھ بہرائچ، گونڈا، شراوتی، سدھارتھ نگر، بستی، گورکھ پور، مہارج گنج اور کشی نگر کے سبھی ساتھیوں ، لاکھوں اپنے کسان بھائیو، بہنوں کو آج صمیم قلب  سے مبارکباد دیتا ہوں۔ بارش کے موسم میں اس علاقے میں جو پریشانیاں آتی ہیں، ان کا حل نکالنے میں اس سے مدد ملے گی۔ اور میں جانتا ہوں، میرے پیارے بھائیوبہنوں، ہمارے یہاں تو تاریخ گواہ ہے اگر کسی نے پیاسے کو ایک پیالہ بھر پانی پلادیا ہوتا ہے تو وہ انسان زندگی بھر کبھی اس قرض کو بھولتا نہیں ہے، زندگی بھر  اس انسان کو بھولتا نہیں ہے۔ اور آج لاکھوں کسانوں کے پیاسے کھیت جب پانی حاصل کریں گے مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کے آشیرواد زندگی بھر ہمیں کام کرنے کی طاقت دیں گے۔ آپ کے آشیرواد ہمیں نئی توانائی دیں گے۔

بھائیو، بہنوں،

آج میں یہ بھی کہناچاہوں گا، خاص طور سے وہ کسان جن کے پاس دو ہیکٹیئر سے کم زمین ہے، ان کے لئے آب پاشی کا یہ انتظام زندگی بدلنے والا ہوتا ہے۔ جیسے کوئی شخص بستر مرگ پر پڑا ہو۔ اس کو خون کی ضرورت ہو، اس کو بلڈ کی ضرورت ہو، اور جیسے ہی ڈاکٹر خون لاکر اس کو چڑھائے اور اس کی زندگی  بچ جاتی ہے۔ اس پورے علاقے کے کھیتوں کو ایسے ہی نئی زندگی ملنے والی ہے۔

ساتھیو،

بلرام پور کی مسوردال کا ذائقہ توگزشتہ برسوں میں ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ اب روایتی فصلوں کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کے کسان، زیادہ قیمت دینے والی، زیادہ آمدنی دینے والی دوسری فصلوں کی کاشت بھی  بڑے پیمانے پر کر پائیں گے۔

ساتھیو،

عوامی زندگی میں مجھے ایک لمبے عرصے سے کام کرنے کا موقع ملا ہے،میں نے پہلے کی کتنی ہی سرکاریں دیکھی ہیں، ان کاکام کاج بھی دیکھا ہے۔ اس طویل دور میں جو مجھے سب سے زیادہ اکھرا، جس سے مجھے سب سے زیادہ درد ہوا ہے وہ ہے ملک کے خزانے، ملک کے وقت اور ملک کے وسائل کا بیجا استعمال، اس کی بے عزتی۔ سرکاری پیسہ ہے تو مجھے کیا، میرا کیا، یہ تو سرکاری ہے۔ یہ سوچ ملک کے متوازن اور مکمل ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ اسی سوچ نے سریو نہر پروجیکٹ کو لٹکایا بھی، بھٹکایا بھی۔ آج سے قریب 50 سال پہلے اس پر کام شروع ہوا تھا۔ آپ سوچیے 50 سال کے بعد آج اس کا کام پورا ہورہا ہے۔ جب اس پروجیکٹ پر کام شروع ہوا تھا۔ یہ صرف یہاں کے شہری نہیں، ملک کے شہری بھی اس بات کو سمجھیں، ہندوستان کا ہر شہری سمجھے، ہندوستان کو میرا نوجوان سمجھے، جو اپنے روشن مستقبل کی تمنا کرتا ہے وہ میرے ملک کا ہر نوجوان سمجھے۔

ساتھیو،

جب اس پروجیکٹ پر کام شروع ہوا تھا، تو اس کی لاگت 100 کروڑ روپئے سے بھی کم تھی۔ ذرا آپ بولیں گے، کتنی لاگت تھی اس وقت جب شروع ہونا تھا تب۔ 100 کروڑ ، کتنی تھی۔ 100 کرور، کتنی تھی 100 کروڑ ۔ اور آج کہاں پہنچا معلوم ہے۔ آج یہ لگ بھگ 10 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے کے بعد پورا ہوا ہے۔ 10 ہزار کروڑ، کتنا 10 ہزار کروڑ، کتنا۔ 10 ہزار کروڑ۔ پہلے ہونا تھا 100 کروڑ میں، آج ہوا 10 ہزار کروڑ  میں۔ یہ پیسہ کس کا تھا بھائیو، یہ پیسہ کس کا تھا، یہ دھن کس کا تھا، آپ کا تھا کہ نہیں تھا؟ اس کے مالک آپ کے نہیں تھے؟ آپ کی محنت کا ایک ایک روپیہ صحیح وقت پر صحیح کام کے لئے استعمال ہونا چاہئے تھا کہ نہیں ہونا چاہئے تھا؟ جنہوں نے یہ نہیں کیا وہ آپ کے گنہگار ہیں کہ نہیں ہیں؟ آپ کے گنہگار ہیں کہ نہیں ہیں؟ ایسے لوگوں کو آپ سزا دیں گے کہ نہیں دیں گے؟ پکّا دیں گے؟

میرے پیارے بھائیو۔ بہنوں،

سابقہ سرکاروں کی لاپرواہی کی 100 گنا زیادہ قیمت اس ملک کو چکانی پڑتی ہے۔ ہمارے اس علاقے کے لاکھوں کسانوں کو بھی اگر سینچائی کا یہی پانی، اگر بیس سال ۔ تیس سال پہلے ملا ہوتا، آپ تصور کرسکتے تھے۔ اگر میرے کسان کے پاس پانی ہوتا، پچھلے 30-25 سال میں پانی اس کے پاس پہنچا ہوتا،  تو وہ سونا پیدا کرتا کہ نہیں کرتا؟ ملک کا خزانہ بھردیتا کہ نہیں بھردیتا؟ اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت اچھی کر پاتا کہ نہیں کرپاتا۔

بھائیو- بہنوں،

کئی دہائیوں کی اس تاخیر کی وجہ سے میرے یہاں کے کسان بھائیو- بہنوں کا بھی اربوں- کھربوں روپئے کا نقصان ہوا ہے۔

ویسے ساتھیو،

جب میں آج دلّی سے چلا، تو صبح سے میں انتظار کررہا تھا کہ کب کوئی آئے گا، کہے گا کہ مودی جی اس پروجیکٹ کا فیتہ تو ہم نے کاٹا تھا، یہ پروجیکٹ تو ہم نے شروع کیا تھا۔ کچھ لوگ ہیں جن کی عادت ہے ایسا کہنے کی۔ ہوسکتا ہے، بچپن میں اس پروجیکٹ کا فیتہ بھی انہوں نے ہی کاٹا ہو۔

ساتھیو،

کچھ  لوگوں کی ترجیح فیتہ کاٹنا ہے، ہم لوگوں کی ترجیح، پروجیکٹوں کو وقت پر پورا کرنا ہے۔ 2014 میں جب میں سرکار میں آیا تھا، تو یہ دیکھ کر حیران تھا کہ ملک میں سینچائی کے 99 بڑے پروجیکٹ ہیں جو ملک کے الگ- الگ کونوں میں دہائیوں سے ادھورے پڑے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ سریو نہر پروجیکٹ میں کتنی ہی جگہوں پر نہریں آپس میں جڑی ہی نہیں تھیں، پانی آخری سرے تک پہنچانے کا انتظام ہی نہیں تھا۔ سریو نہر پروجیکٹ میں جتنا کام پانچ دہائیوں میں ہوپایا تھا، اس سے زیادہ کام ہم نے پانچ سے پہلے کرکے دکھایا ہے۔ ساتھیو، یہی تو ڈبل انجن کی سرکار ہے، یہی تو ڈبل انجن سرکار کے کام کی رفتا رہے۔ اور آپ یاد رکھئے، یوگی جی کے آنے کے بعد ہم نے بانساگر پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔ کچھ دن پہلے ہی ارجن معاون نہر پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔ اسی ہفتے گورکھپور میں جو فرٹیلائزر کارخانے اور ایمس کا افتتاح کیا گیا، ان کا بھی برسوں سے انتظار ہورہا تھا۔  کشی نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بھی فائلیں برسوں سے چل رہی تھیں۔ لیکن اس ہوائی اڈے کو بھی شروع کروانے کا کام ڈبل انجن کی سرکار نے ہی کیا ہے۔

ساتھیو،

ہماری سرکار کس طرح برسوں پرانے خوابوں کو حقیقت بنارہی ہے اس کی ایک اور مثال کین- بیتوا لنک پروجیکٹ بھی ہے۔ سالوں سے اس پروجیکٹ کی مانگ ہورہی تھی۔ ابھی دو تین پہلے ہی کابینہ نے اس پروجیکٹ کو منظوری دے دی ہے اور اس پر 45 ہزار کروڑ روپئے خرچ کیے جائیں گے۔ یہ اترپردیش کو اتنی بڑی سوغات مل رہی ہے، 45ہزار کروڑ روپئے خرچ کیے جائیں گے۔ یہ پروجیکٹ بندیل کھنڈ کو پانی کے بحران سے نجات دلانے میں بھی بڑا رول ادا کریگا۔

بھائیو اور بہنوں،

آج ملک میں آزادی کے بعد پہلی ایسی سرکار ہے، جو چھوٹے کسانوں کی خبر لے رہی ہے۔ پہلی مرتبہ دو ہیکٹیئر سے کم زمین والے چھوٹے کسانوں کو سرکاری فائدے سے، سرکاری سہولت سے جوڑا گیا ہے۔ بیج سے لیکر بازار تک، کھیت سے لیکر کھلیان تک، ان کی ہر طرح سے مدد کی جارہی ہے۔ان چھوٹے کسانوں کے بینک کھاتوں میں پی ایم کسان سمّان ندھی کے ہزاروں کروڑ روپئے براہ راست بھیجے جارہے ہیں۔ ان کی آمدنی بڑھانے کیلئے انہیں کھیتی سے وابستہ دیگر متبادلوں کی طرف بھی راغب کیا جارہا ہے۔ ایسے متبادل جس میں بہت بڑی زمین کی اتنی ضرورت نہیں پڑتی انہیں اس کا راستہ دکھایا جارہا ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ مویشی پالن ہو، شہد کی مکھیوں کو پالنا ہو، یا ماہی پروری ہو ان کے لئے قومی سطح پرنئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں۔ آج بھارت دودھ کی پیداوار کے معاملے میں دنیا میں آگے ہے ہی، لیکن آپ کو جان کر یہ خوشی ہوگی آج ہم شہد، ہنی، شہد برآمد کار کے طور پر بھی دنیا میں اپنا مقام بنارہے ہیں۔ ہماری سرکار کی کوششوں کی وجہ سے، پچھلے سات برسوں میں شہد کی برآمدات بڑھ کر، قریب-قریب دو گنا ہوگئی ہے اور اس سے کسانوں  کی 700 کروڑ  سے زیادہ کی کمائی ہوئی ہے۔

بھائیو اور بہنوں،

کسان کی آمدنی بڑھانے کا ایک اور ذریعہ بایوفیول بھی ہے۔ ہم کھاڑی کے تیل سے چلاتے تھے اب ہم جھاڑی کا تیل بھی لیکر کے آرہے ہیں۔ بایوفیول کی متعدد فیکٹریاں یوپی میں بنائی جارہی ہیں۔ بدایوں اور گورکھپور میں بایوفیول کے بڑے کمپلیکس بنائے جارہے ہیں۔ یہاں پاس میں، گونڈا میں بھی ایتھینال کا ایک بڑا پلانٹ بن رہا ہے۔ اس کا فائدہ اس علاقے کے بہت سے کسانوں کو ہوگا۔ گنے سے ایتھینال بنانے کے ابھیان میں بھی یوپی  سرگرم کردار کی جانب بڑھ رہا ہے۔ پچھلے ساڑھے چار سال میں لگ بھگ 12 ہزار کروڑ روپئے کا ایتھینال یوپی سے خریدا گیا ہے ۔ یوگی جی کی سرکار جب سے آئی ہے تب سے گنّے کی ادائیگی میں بھی بہت تیزی آئی ہے۔ ایک وقت 2017 سے پہلے کا بھی تھا جب گنّا کسان سالوں سال بقایہ ملنے کے لئے انتظار کرتے تھے۔ سابقہ حکومتوں کے دوران جہاں 20 سے زیادہ چینی ملوں میں تالا لگ گیا، وہیں یوگی جی کی سرکار نے اتنی ہی چینی ملوں کی توسیع اور جدیدکاری کی ہے۔ میں آج بلرام پور سے ملک بھر کے کسانوں کو ایک خصوصی دعوت بھی دینا چاہتا ہوں۔ اور میں چاہوں گا صرف اترپردیش کے نہیں، ملک بھر کے کسان میری اس دعوت کو قبول کریں اور میرے ساتھ جڑیں۔ میری دعوت  کس بات کی ہے؟ اسی مہینے 5 دن کے بعد 16 تاریخ کو، 16دسمبر کو سرکار، فطری کاشت، نیچورل فارمنگ پر ایک بہت بڑا پروگرام منعقد کرنے جارہی ہے۔ ہمارے پدم ایوارڈ یافتہ سبھاش جی کرکے ہیں مہاراشٹر کے، انہوں نے زیرو بجٹ کھیتی کا ایک مشورہ دیا ہے۔ یہ وہ قدرتی کھیتی والا موضوع ہے، اس سے ہماری دھرتی ماں بھی بچتی ہے، ہمارا پانی بھی بچتا ہے اور فصل بھی اچھی اور پہلے سے زیادہ ہوتی ہے۔ میرا آپ سبھی کسان ساتھیوں کو، ملک بھر کے کسان ساتھیوں سے گزارش ہے کہ آپ 16دسمبر  کو ٹی وی کے  ذریعے سے یا کرشی وگیان کیندر کے ذریعے سے ضرور اس پروگرام میں  جڑیے آپ ساری بات کو سمجھیں گے، مجھے پورا یقین ہے آپ اس کو اپنے کھیت میں لاگو کریں گے۔ یہ آپ کو بہت فائدہ دینے والا ہے۔

ساتھیو،

آپ کی ہر ضرورت کو دھیان میں رکھتے ہوئے، آپ کی زندگی آسان بنانے کے لئے ہم دن رات محنت کررہے ہیں۔ اس کی چھاپ آپ کو پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت بن رہے غریب کے پکّے گھر میں بھی دکھے گی۔ پی ایم آواس کے تحت مل رہے گھروں میں، عزت گھر یعنی بیت الخلاء ہے، اُجّولا کی گیس ہے، سوبھاگیہ یوجنا کا بجلی کنکشن ہے، اُجالا کا ایل ای ڈی بلب ہے، ہر گھر جل یوجنا کے تحت مل رہا پانی کا کنکشن ہے۔ اور مجھے تو خوشی تب ہوتی ہے کیوں کہ میں اس علاقے میں بھی دورہ کرچکا ہوں، مجھے معلوم ہے۔ جب یہاں میرے تھارو قبائل کے بھائی- بہنوں کو بھی ان اسکیموں کا فائدہ مل رہا ہے، تو ہمیں خوشی بھی زیادہ ہوتی ہے اور ہمیں آشیرواد بھی زیادہ ملتا ہے۔

ساتھیو، 

ہمارے یہاں صدیوں سے ایک طریقہ رہا ہے کہ ایک گھر ہو گا، میری مائیں بہنیں میری بات سمجھیں اور میرے مرد بھائی بھی اپنے گھر میں بتائیں۔ یہاں ہمارا ایک عقیدہ ہے، ایک روایت ہے، ایک نظام ہے۔ کیا ہوگا، گھر ہوتا تو آدمی کا نام، دکان، پھر آدمی کا نام، گاڑی، آدمی کا نام، کھیت، آدمی کا نام۔ خواتین کے نام پر کچھ نہیں ہوتا، کیا خواتین کے نام پر کچھ ہوتا ہے؟ ایسا نہیں ہوتا۔ میں تمہارے دکھ درد ماؤں بہنوں کے برابر جانتا ہوں پھر ہم نے کیا کیا؟ مجھے خوشی ہے کہ ہم نے کیا کیا، ہم نے زیادہ تر مکانات جو پی ایم آواس یوجنا کے تحت بنائے جارہے ہیں ان کی ملکیت اپنی ماؤں بہنوں، بیٹیوں کو دے دی ہے۔ اس کی وجہ سے ملک میں ایسی بہنوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، جن کے نام کم از کم ایک جائیداد ہے۔ ڈبل انجن والی حکومت کی کوششوں سے یوپی کے 30 لاکھ سے زیادہ غریب خاندانوں کو پکے مکان ملے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ہماری حکومت نے مزید نئے مکانات بنانے کے لیے 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا انتظام کیا ہے۔ یعنی جن لوگوں کو ابھی تک پکا گھر نہیں ملا، وہ آنے والے وقت میں بھی ضرور ملیں گے۔

ساتھیو،

جب حکومت حساس ہو، غریبوں کی سنتی ہو، ان کی حالت زار کو سمجھتی ہو، تب فرق ہوتا ہے۔ آتا ہے یا نہیں آتا- آتا ہے، فرق یہ ہے کہ آیا نہیں آتا- آتا ہے۔ اس وقت ملک سو سالوں میں سب سے بڑی وبا سے لڑ رہا ہے۔ کورونا کے آنے کے بعد سب سوچ رہے تھے کہ کیا ہوگا، کیسے ہوگا؟ کم ہو یا بڑی مقدار میں کورونا کی وجہ سے ہر کوئی متاثر ہوا۔

لیکن دوستو اس کورونا کے دور میں ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ کوئی غریب بھوکا نہ سوئے۔ ابھی اس لئے، پی ایم غریب کلیان انّ یوجنا کے تحت مفت راشن فراہم کرنے کی مہم کو ہولی سے آگے تک بڑھا دیا گیا ہے۔ حکومت غریبوں کے مفت راشن پر 2 لاکھ 60 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کر رہی ہے۔

بھائیو اور بہنوں،

جو پہلے حکومت میں تھے‘ آپ جانتے ہیں نا، اچھی طرح جانتے ہیں نا، جو پہلے حکومت میں تھے، وہ مافیا کو تحفظ دیتے تھے۔ آج یوگی جی کی حکومت مافیا کی صفائی میں مصروف ہے۔ اسی لیے یوپی کے لوگ کہتے ہیں - فرق صاف ہے۔ جو پہلے حکومت میں تھے‘ وہ باہوبلیوں کو بڑھاتے تھے۔ آج یوگی جی کی حکومت غریبوں، پسماندہ، اور قبائلیوں کو بااختیار بنانے میں لگی ہوئی ہے۔ تبھی تو یوپی کے لوگ کہتے ہیں - فرق صاف ہے۔ جو پہلے حکومت میں تھے، وہ یہاں کی زمینوں پر ناجائز قبضے کرتے تھے۔ آج ایسے مافیا پر جرمانہ ہو رہا ہے، بلڈوزر چل رہا ہے۔ تبھی تو یوپی کے لوگ کہتے ہیں - فرق صاف ہے۔ پہلے یوپی کی بیٹیاں گھر سے نکلنے سے پہلے 100 بار سوچنے پر مجبور ہوتی تھیں۔ آج مجرم غلط کرنے سے پہلے 100 بار سوچتا ہے۔تبھی تو یوپی کے لوگ کہتے ہیں - فرق صاف ہے۔ پہلے بیٹیاں گھر میں چھپنے پر مجبور تھیں، اب یوپی کے مجرم جیل میں چھپے ہوئے ہیں۔ تبھی تو کہتے ہیں: فرق واضح ہے۔

ساتھیو،

آج میں یقینی طور پر ایک اور اسکیم کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جس سے یوپی کے لوگوں کو بہت مدد ملے گی۔ اور یہ منصوبہ ملکیت کا منصوبہ ہے۔ سوامیتوا اسکیم کے تحت آج گاؤں میں جائیدادوں کی نقشہ سازی کے بعد لوگوں کو مکانات اور کھیتوں کی ملکیت کے کاغذات دیے جارہے ہیں۔ یہ مہم کچھ ہی وقت میں یوپی کے ہر گاؤں تک پہنچنے والی ہے۔ یہ آپ کو غیر قانونی قبضوں کے خوف سے آزاد کر دے گا اور آپ کے لیے بینکوں سے مدد لینا بھی آسان ہو جائے گا۔ اب گاؤں کے نوجوانوں کو بینک سے اپنے کام کے لیے رقم جمع کرنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

ساتھیو،

ہم سبھی کو ملکر اتر پردیش کو نئی بلندیوں پر لے جانا ہے، اتر پردیش کو ایک نئی شناخت دینی ہے۔ آپ کو ان لوگوں سے مسلسل چوکنا رہنا ہوگا جنہوں نے اتر پردیش کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ بھائیو اور بہنوں، میں ایک بار پھر آپ سب کو سریو نہر پروجیکٹ کے لیے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ میرے ساتھ دونوں ہاتھ اوپر رکھ کر پوری طاقت سے بولیے، بھارت ماتا کی- جئے، بھارت ماتا کی- جئے، بھارت ماتا کی- جئے۔

بہت بہت شکریہ !

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Proud Moment For Every Indian: PM Modi On Sarnath Being Inscribed On UNESCO World Heritage List

Media Coverage

Proud Moment For Every Indian: PM Modi On Sarnath Being Inscribed On UNESCO World Heritage List
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Participants of Viksit Vibrant Village Programme share their experiences with PM Modi
July 26, 2026
Solo travel is a way of discovering the world while discovering oneself: PM
Every young person and every daughter of the country should move forward with confidence and self-belief: PM
Border villages may be geographically distant, but their residents are emotionally deeply connected with the nation: PM
Those who were last in priority earlier are now the first: PM
Journey of young participants reflects the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat: PM
Citizens should spend at least five per cent of their travel budget on purchasing local products: PM

Prime Minister Shri Narendra Modi today interacted virtually with participants of the Viksit Vibrant Village Programme 2026, during which young MYBharat Volunteers shared their experiences from border villages in Himachal Pradesh, Uttarakhand and Ladakh. The interaction highlighted the transformation of these villages through improved infrastructure, connectivity and public services, along with women-led development, tourism, community participation and stronger national integration. More than 5,000 MYBharat Volunteers from 245 districts across the country joined the programme virtually.

Introducing the programme, MYBharat Volunteer Shri Divyansh Joshi from Dadra and Nagar Haveli and Daman and Diu outlined initiatives including the Viksit Bharat Young Leaders Dialogue, Viksit Bharat Youth Parliament, Budget Twist, mentorship and volunteering programmes. He said more than 2.30 crore young people had benefitted from MYBharat initiatives, while 2.86 lakh youth participated in the nationwide quiz through which 403 volunteers were selected to visit border villages. Recounting his visit to Leo village in Kinnaur district of Himachal Pradesh, he highlighted interactions with residents, senior citizens and schoolchildren, career counselling for local youth, sports and cultural activities, the leadership of the woman Sarpanch and the functioning of the Ayushman Arogya Mandir. He said his homestay experience showed that belonging transcends language and State boundaries, adding that the volunteers paid homage to the country’s brave soldiers at the Kargil War Memorial and would compile their experiences for submission to the Prime Minister while remaining committed to the vision of Viksit Bharat.

MYBharat Volunteer Ms Nikita Pravin Solanki from Dadra and Nagar Haveli and Daman and Diu said her selection through the MYBharat quiz enabled her first independent journey to Dhar Chango Nichla village in Kinnaur district. The affectionate welcome extended by the villagers strengthened her confidence and reflected changing societal attitudes towards women. Through her interactions with the woman Pradhan, Panchayat representatives, farmers, senior citizens and children, she witnessed the multiple responsibilities shouldered by rural women and found, contrary to her earlier perceptions, quality roads, regular electricity, drinking-water connections and digital connectivity, which residents attributed to the Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana, Jal Jeevan Mission and Ayushman Bharat. She also participated in cleanliness, sports and cultural activities, recalled the curiosity of village children about her home region and said she continued to remain in touch with her host family.

Recalling his Diwali visit to the Chango region in 2016, the Prime Minister said Ms Solanki’s journey reflected the growing confidence of India’s daughters and that MYBharat had transformed individual journeys into one national family. “Solo travelling is a way of discovering the world while discovering yourself,” observed Shri Modi.

MYBharat Volunteer Shri Sunil Kumar Kela from Jalore, Rajasthan, said that being from a border village himself enabled him to connect readily with the people of Dhar Chango Uprela village in Himachal Pradesh. Despite geographical and climatic differences, he found the people of both regions united by courage, patriotism and warmth. He remained connected with his family through video calls, showing them the Sutlej River, school, Jan Aushadhi Kendra, hospital and sports facilities, while his social-media posts encouraged friends to explore MYBharat. His initial apprehensions regarding roads, accommodation, electricity and mobile connectivity were dispelled by the high-quality roads reaching the homestay, solar-energy installations and improved infrastructure that had transformed daily life. He added that he remained in contact with his host family and had invited them to visit Rajasthan.

The Prime Minister observed that young people from border villages across Rajasthan, Kashmir, Himachal Pradesh and the North-East shared a common outlook and that border residents, though geographically distant, remained emotionally deeply connected with the nation. “Those who were last in priority earlier are now the first,” remarked Shri Modi.

MYBharat Volunteer Ms Bhavya Shri from Chittoor district of Andhra Pradesh said her desire to learn beyond academics led her to MYBharat and to Harsil Valley in Uttarkashi district of Uttarakhand. Her initial concerns about the unfamiliar climate, food, culture and lifestyle were dispelled by the hospitality of local residents and officials, while interactions with Indo-Tibetan Border Police personnel deepened her appreciation of their discipline, humility, dedication and commitment to the nation. She said participants from different States, languages and cultures arrived as strangers but returned as one family, reflecting the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat. Photographs of the Nelang and Jadung Valleys and apple orchards generated considerable interest among her friends, many of whom subsequently registered on MYBharat. She also recalled the equipment provided to help participants adapt to the cold climate, the resilience of a resident who chose to remain in his landslide-affected native village despite hardship, and the peaceful, meditative character of the Garhwali dance in contrast with the energetic folk dances of her home State.

Recalling his visit to Mukhwa village in Uttarakhand, the Prime Minister said the interaction reaffirmed his belief that India’s youth place the nation first. “The manner in which all of you have lived the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat will inspire many more young people,” observed Shri Modi.

Twenty-one-year-old MYBharat Volunteer Ms Sayantika Mistry from the Andaman and Nicobar Islands thanked the Prime Minister for envisioning MYBharat as a platform enabling crores of young people to contribute to nation-building. Recounting her journey from sea level to Maan village in Ladakh at an altitude of nearly 17,000 feet, she described suffering from acute mountain sickness and the care extended by the MYBharat team and ITBP personnel, including doctors who prioritised treating her as their guest before attending to their own personnel. She said the experience showed that ITBP personnel not only protected the borders but also cared deeply for citizens and made her appreciate the resilience required to live in high-altitude conditions. Contrary to her family’s expectation of poor connectivity, she found reliable internet, QR-code and UPI payment facilities and Wi-Fi in the border region. She also interacted with local children, one of whom expressed a desire to visit the Andaman and Nicobar Islands, and highlighted the community spirit through which residents collectively organised weddings and monastery events, restored a damaged mobile tower and constructed a storage facility for its batteries.

Encouraging Ms Mistry to document her experience through articles or a book so that others could better understand the country’s vastness, people and shared sense of belonging, Shri Modi remarked, “When you share joy, it multiplies.”

MYBharat Volunteer Shri Ashish Soni from Jaunpur district of Uttar Pradesh, who is preparing for the Civil Services Examination, thanked the Prime Minister for enabling young people to contribute suggestions during the Budget-making process. Sharing his experience of Kaza Khas in Himachal Pradesh’s Spiti region, he said his parents, who remembered a time when mobile connectivity in remote areas was difficult, were astonished when he video-called them from nearly 14,000 feet. Describing MYBharat as a bridge between a generation that had witnessed struggle and another witnessing transformation, he recounted writing letters from the world’s highest post office at Hikkim to the Prime Minister, his family, the Ministry of Youth Affairs, the Defence Minister and his District Magistrate. He said India was connected not only through metros and airports but also through institutions serving its remotest regions and highlighted QR-code payments at around 14,500 feet as evidence that Digital India had become a source of trust across the country. His interactions with women’s self-help groups introduced him to entrepreneurship through homestays, digital platforms and sea buckthorn-based products, while discussions on the PM MUDRA Yojana and Deendayal Antyodaya Yojana focused on expanding livelihood opportunities. He also highlighted the role of the Border Roads Organisation-built Chicham Bridge in improving connectivity, tourism and economic activity, besides noting the region’s potential for night tourism.

Observing that technology had reached every corner of the country and that purchasing local products would generate employment, support livelihoods and carry regional identities across India, Shri Modi urged, “Wherever you travel, spend at least five per cent of your travel budget on buying products from local people.”

Concluding the interaction, the Prime Minister extended his best wishes to the young participants. The programme highlighted MYBharat’s role in enabling young people to experience first-hand the transformation of India’s border villages, dispel outdated perceptions and deepen their understanding of the country’s cultural diversity, developmental progress, community participation and the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat.