PM Modi inaugurates and lays foundation stone of various development projects in Varanasi
Today Kashi is becoming a hub of health facilities for the entire Purvanchal: PM Modi
PM Modi requests people to promote 'Local for Diwali' in addition to 'vocal for local', says buying local products will strengthen local economy

ابھی  آپ سبھی ساتھیو سے مجھے بات کرنے کا موقع ملا ، ذرا مجھے اچھا لگا  اور شہر میں ترقی کے جو کام ہورہے ہیں ، جو فیصلے سرکار نے لئے ہیں ، ان کا فائدہ لوگوں کو ہورہا ہے اور یہ سب کچھ ہورہا ہے ، اس کے  پیچھے بابا  وشوناتھ  کا ایک آشیر واد ہے اور اس  لئے  جب میں آج بھلے ورچوئلی ہی  یہاں آ یا ہوں، لیکن جو ہماری کاشی  کی روایت رہی ہے، اس روایت کو نبھائے بغیر ہم آگے نہیں جاسکتے ہیں۔ اس لئے ا بھی جو بھی میرے ساتھ پروگراموں میں جڑے ہیں ، ہم سبھی ایک ساتھ بولیں گے – ہر ہرمہادیو! دھن تیرس ، دیپاولی ،  ان کوٹ ، گووردھن  پوجا اور ڈالا چھٹھ کی  آپ سب لوگوں کو بہت بہت مبارک ہو! ماتا ان پورنا  آپ سب کو  صحت اور دولت سےمالا مال کرے! ہماری  یہ دعا ہے کہ بازاروں میں رونق اور بڑھے۔ میری کاشی کی گلیاں گلزار ہو اوربنارسی ساڑیوں کا کاروبار چمکے ۔ کو ر ونا سے لڑتے ہوئے بھی ہمارے کسان بھائیوں نے کھیتی پر خوب دھیان دیا ۔ بنارس ہی نہیں پورے پوروانچل میں اس مرتبہ آہنگی فصل اچھی ہے ، اس کی خبرملی ہے ۔ میرےکسان کی محنت  خود کے لئے نہیں بلکہ پورے  ملک کے کام آتی ہے: آپ ان دیوتا لوگ ہیں، آپ کا بہت بہت شکریہ! پروگرام میں میرے ساتھ جڑے اترپردیش کےجناب یشسوی وزیر اعلی جناب یوگی آدتیہ ناتھ جی، نائب وزیراعلی کیشو پرساد موریا جی ، یوپی  حکومت کے  وزیر،  ارکان اسمبلی ، بنارس کے سبھی چنے گئے   گئے نمائندے ، بنارس کے میری پیارے بھائیو اور بہنوں!

 

مہا دیو کے آشیر واد سے  کاشی کبھی تھمتی  نہیں ہے۔ ماں گنگا کی طرح ہمیشہ آگے بڑھتی رہتی ہے۔ کورونا کے مشکل دور میں  بھی کاشی اپنے اسی طور پر آگے بڑھتی رہی ہے۔ کورونا کے خلاف بنارس کے جس بہادری سے لڑائی لڑی، اس مشکل وقت  میں جس سماجی اتحاد کاثبوت دیا ہے وہ سچ مچ بہت ہی قابل ستائش ہے۔ اب آج اسی کڑی میں بنارس کی ترقی  سے جڑے ہوئے ہزاروں کروڑ روپے  کے پروجیکٹوں کا  سنگ بنیاد اور  افتتاح ہورہا ہے۔  ویسے یہ بھی  مہا دیو کا آشیر واد ہے کہ جب بھی کاشی کے لئے کچھ نئے کاموں کی شروعات ہوتی ہے، پرانےکئی وعدے پورے ہوچکے ہوتے ہیں  یعنی ایک طرف   سنگ بنیاد  تودوسری طرف  ، تو  دوسری طرف  افتتاح۔ آج بھی تقریبا 220  کروڑ روپے  کے 16  پروجیکٹوں  کا افتتاح  کے ساتھ ساتھ  لگ بھگ 400 کروڑ روپے کے14 منصوبوں پر کام شروع ہوا ہے۔ میں سبھی ترقیاتی کاموں  کے لئے  بنارس والوں کو مبارک باد دیتا ہو۔ کاشی میں ، اترپردیش میں ، بغیر رکے ، بغیر تھکے ،  جاری ترقیاتی کاموں کا سہرا  جناب یوگی آدتیہ ناتھ جی اور ان کی پوری ٹیم کو، کابینہ کے سبھی اراکان کو، منتخب ہوئے عوامی نمائندوں کو،سرکاری مشینری کے ساتھ جڑے ہوئے سبھی ملازموں کو، ان سب کو اس کامیابی کا پورا پورا  صلہ جاتا ہے یوگی  جی اور ان کی ٹیم کو عوامی خدمت کے اس مشکل کوششوں کے لئے بہت بہت مبارک باد اور نیک خواہشات ۔

ساتھیو !

 

بنارس میں شہر اور دیہات کے ترقیاتی منصوبے میں سیاحت بھی ہے،  ثقافت بھی اورسڑک ، بجلی ، پانی  بھی ۔ہر وقت  کوشش  یہ ہی کہ اپنی کاشی کے ہر شخص  کے جذبات کے مطابق  ہی  ترقی کا  پہیہ آگے بڑھے  ،  اس لئے ترقی   آج اپنے آپ  میں اس بات کی مثال ہے کہ کاشی کیسے ہر ایک  خطے میں ، ہر سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ماں گنگا کی صفائی ستھرائی سے لے کر صحت خدمات تک ، روڈ اور انفراسٹرکچر سے  لے کر  سیاحت تک ، بجلی سے لے کر نوجوانوں کے کھیل کود تک ، اور کسان سے لے کر گاؤں گاؤں تک ہر شعبے میں  بنارس میں ترقی کی نئی رفتار دیکھی گئی ہے۔ آج گنگا ایکشن پلان پروجیکٹ کے تحت سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی  تجدید کا کام  پورا ہوچکا ہے ۔اس کے ساتھ ہی ، شاہی نالہ کے علاوہ سیویج  گنگا میں گرنےسے روکنے کے لئے دائیورژن لائن کا بھی افتتاح کردیا گیا ہے۔ 35 کروڑ روپے  کی لاگت سے  کھڑکیا گھاٹ  کو بھی سجایا وسنوارا جارہا ہے ۔ یہاں سی این جی سے ناؤں بھی چلے گی جس سے گنگا میں  آلودگی بھی کم  ہوگی ۔ اسی طرح کے دشاشو میدھ  گھاٹ پر ٹورسٹ پلازہ بھی آنے ہونے والے دنوں میں سیاحوں کی سہولت  اور  دلچسپی کا مرکز بنے گا ۔ اس  گھاٹ کی خوبصورتی بھی بڑھے گی ، سہولت بھی بڑھے گی، جو مقامی چھوٹے چھوٹے کاروبار ہے ،یہ پلازہ بننے سے ان کی بھی سہولت اور گراہک بڑھیں گے ۔

 

ساتھیو!

 

ماں گنگا  کو لے کر یہ کوشش ہے ،یہ عہد کاشی کا عہد بھی ہے ، اور کاشی کے لئے نئے امکانات  راستہ بھی یہی ہے ۔ آہستہ آہستہ یہاں گھاٹوں کی تصویر بدل رہی ہے۔ کورونا کا  اثر کم ہونے پر جب سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوگا تو بنارس کی اور خوبصورت شبیہ لے کر یہاں  سے جائیں گے۔ گنگا  گھاٹوں کی صفائی ستھرائی ، اور خوبصورت بنائے جانے کے  ساتھ ساتھ سار ناتھ  نئے رنگ روپ میں نکھر رہا ہے ۔ آج جس لائٹ اینڈ ساؤنڈ پروگرام کا آغاز کیا گیاہے اس سے سار ناتھ کی عظمت اور بڑھ جائے گی 

بھائیوں اور بہنوں ،

 

کاشی کی ایک بڑی پریشانی یہاں  لٹکتے ہوئے بجلی کے تاروں کی رہی ہے ۔ آج کاشی کابڑا علاقہ بجلی کے تاروں کے جال سے بھی  پاک رہا ہے۔ تاروں کو زیر زمین کرنے کا ایک اور مرحلہ آج پورا ہوچکا ہے ، کینٹ اسٹیشن سے لہورابیر ، بھوجو بیر سے مہا بیر مندر ، کچھری چوراہے سے بھوجوبیر تراہا ،  ایسے 7 روٹس پر بھی بجلی کے تاروں سے اب چھٹکارا مل گیا ہیں۔ اتنا ہی نہیں ، اسمارٹ ایل ای ڈی لائٹس سے گلیوں میں روشنی اور خوبصورتی بھی پھیلے گی ۔

 

 ساتھیو!

بنارس کی کنیکٹیوٹی ہمیشہ سے ہماری حکومت کی اولین ترجیح  رہی ہے۔ کاشی میں رہنے والوں اور کاشی آنے والے ہر  سیاح ، ہر  عقیدت مند کا وقت سڑک جام میں  ضائع نہ ہو، اس کے لئے نئے انفراسٹرکچر تعمیر کیا جارہا ہے ۔ بنارس میں آج ائیرپورٹ پر سہولیات بڑھ رہی ہیں ۔ بابت پور سے شہر  کو ملانے والی سڑک بھی اب بنارس کی نئی پہچان بن گئی ہے ۔ آج ائیر پورٹ پر دو مسافروں کے بورڈنگ پل کا افتتاح ہونے کے بعد ان سہولیات میں اور  اضافہ ہوگا۔ یہ اضافہ اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ 6 سال پہلے یعنی  آپ نے مجھے، آپ کی خدمت کرنے کا موقع دیا، اس سے پہلے بنارس میں ہر روز 12 پروازیں چلتی تھی۔ آج اس سے چار گنا یعنی 48 پروازیں چلتی ہیں ۔ یعنی بنارس میں سہولیات میں اضافہ دیکھتے ہوئے بنارس آنے والوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔

 بھائیوں اور بہنوں!

 بنارس میں تیار ہونے والا جدید ترین بنیادی ڈھانچہ، یہاں رہنے والوں، یہاں آنے والوں دونوں ہی طرح کے لوگوں کی زندگی آسان بنا رہی ہیں۔ ایئر پورٹس سے جڑی کنکٹیویٹی کے ساتھ ساتھ رنگ روڈہو، محمور گنج۔ منڈوا ڈیھ، فلائی اووروں، این ایچ 56 کوچوڑا کرنا ہو، بنارس آج سڑک بنیادی ڈھانچے کی بھی یکسر تبدیلی ہوتے دیکھ رہا ہے۔ شہر کے اندراور آس پاس کے علاقوں میں بھی سڑکوں کی تصویر بدلی ہے۔ آج بھی وارانسی کے الگ الگ علاقوں کے لئے سڑک تعمیر کے کام شروع ہوئے ہیں۔ نیشنل ہائی وے، فل وریا۔ لہر تارا مارگ، ورونا ندی اور تین پل اور  کئی سڑکوں کی تعمیر، ایسے کتنے ہی کام ہے جو آنے والے وقت میں بہت جلد پورے ہونے والے ہیں۔ روڈ ویز کے اس نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ بنارس اب واٹر ویز کی کنکٹیویٹی میں بھی ایک ماڈل بن رہا ہے۔ ہمارے بنارس میں آج ملک کا پہلا ان لینڈ واٹر پورٹ بن چکا ہے۔

 

بھائیو اور بہنو!

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 6 برسوں میں وارانسی میں  ،صحت بنیادی ڈھانچے پر بھی غیر متوقع  کام کیا گیا ہے۔ نہ صرف  اترپردیش بلکہ ایک طریقے سے یہ تمام  پروانچل کے لئے  صحت سہولیات کا   ہب بنتا جارہا ہے ۔آج  رام نگر میں  لال بہادر شاستری اسپتال کی  جدید کاری سے جڑے کاموں  سے   کاشی کی اس  کردار میں توسیع ہوئی ہے۔رام نگر کے اسپتال میں اب  میکینائزڈ  لانڈری  ، منظم رجسٹریشن کاؤنٹر اور  ملازمین کے لئے رہائشی  کمپاؤنڈ جیسی سہولیات دستیاب ہوں گی۔ ہمیں بھابھا کینسر اسپتال اور پنڈت مہامنا مالیویہ  کینسر اسپتال جیسے بڑے  کینسر انسٹی ٹیوٹ یہاں  پہلے سے ہی خدمات فراہم کررہے ہیں اسی طرح    ای ایس آئی سی اسپتال  اور بی ایچ یو   سوپر  اسپیشلٹی   اسپتال  بھی یہاں غریب سے غریب ساتھیوں   ،  حاملہ عورتوں کو  صحت کی بہتر خدمات دے رہے ہیں۔

ساتھیو!

بنارس  میں آج جو یہ چوطرفہ ترقی ہورہی ہے ، ہرسیکٹر میں  وکاس ہورہا ہے ،  اس  کا پروانچل سمیت  پور ے  مشرقی بھارت کو فائدہ ہورہا ہے۔اب پروانچل کے لوگوں کو چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لئے دہلی اور ممبئی کے چکر نہیں لگانے پڑتے ۔ بنارس اور پروانچل کے کسانوں کے لئے تو  اسٹوریج سے لے کر ٹرانسپورٹ تک کی مختلف سہولیات    پچھلے سالوں میں  یہاں تیار کی گئی ہیں ۔  بین الاقوامی  رائس انسٹی ٹیوٹ کا   سینٹر ہو، ملک پروسیسنگ  پلانٹ ہو یا  حیرت انگیز کارگو مرکزکی تعمیر ہو   ایسی مختلف سہولیات سے یہاں  کے کسانوںکو بہت فائدہ ہورہا ہے ۔یہ بھی  ہمارے لئے فخر کی بات ہے  کہ اس سال پہلی بار وارانسی خطے سے پھل ، سبزی اور دھان کو   بیرون ملک کے لئے  برآمد کیا جارہا ہے ۔کسانوں کے لئے بنی اسٹوریج کی سہولت کو توسیع دیتے ہوئے آج کپسیٹھی  میں  100 میٹرک ٹن اسٹوریج  کی صلاحیت والے گودام کو  قوم کے نام بھی وقف کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ جنسا میں  بھی  ملٹی پرپز   بیج گودام اور  ڈسمنیشن   سینٹر بنایا گیا ہے۔

بھائیو اور بہنو !

گاؤں  غریب اور کسان آتم بربھر بھارت   مہم کے سب سے بڑے حصے بھی ہیں  اورسب سے بڑے مستفدین  بھی ہیں ۔حال میں جو  زرعی اصلاحات ہوئی ہیں ان سے کسانوں کو سیدھا فائدہ ہونے والا ہے ۔ بازارسے ان کا سیدھا راستہ یقینی ہونے والا ہے ۔کسانوں کے نام پر ، کسانوں کی  محنت کو ہڑپ جانے والے بچولیوں  اور دلالوں کو اب سسٹم سے باہر کیا جارہا ہے ۔اس کا سیدھافائدہ اترپردیش کے، پروانچل کے   ، بنارس کے ہرکسان کو ہونےوالا ہے۔

ساتھیو!

کسان کی طرح ہی ریہڑی پٹری والے، ٹھیلہ چلانے والے ساتھیوں کے لئے بھی یہ بہت ہی اہم منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ آج پردھان منتری سوا ندھی یوجنا کے ذریعہ ریہڑی پٹری والے بھائی بہنو کو آسان قرض مل رہاہے۔ کورونا کی وجہ سے ان کو جو پریشانیاں آئی ہے، وہ دور ہوسکے، ان کا کام پھر سے شروع ہوسکے، اس کے لئے انہیں 10 ہزار روپے قرض کی سہولت دی جارہی ہے۔ اسی طرح، گاؤں میں رہنے والے لوگوں کو، گاؤں کی زمین، گاؤں کے گھر کا قانونی اختیار دینے کے لئے، سوا متو ا یوجنا شروع کی گئی ہے۔ گاؤوں میں گھر، مکان کو لے کر جو تنازعہ ہوتے تھے، کبھی کبھی تو مار پیٹ بھی ہوجاتی تھی۔ کبھی اگر گاؤں سے شادی بیاہ میں گئے، واپس آتے تھے تو کوئی اور قبضہ کرلیتا تھا۔ ان ساری پریشانیوں سےنمٹنے کے لئے سوامتو ا یوجنا سے ملے پراپرٹی کارڈ کے بعد اس طرح کی مصیبتوں کی گنجائش نہیں رہ جائے گی۔ اب گاؤں کے ہر یا زمین پر  یہ پراپرٹی کارڈ آپ کے پاس ہونے کی وجہ سے بینک سے قرض ملنا بھی آسان ہوجائے گا۔ ساتھ ہی زمین پر غیر قانونی قبضے دار کا کھیل بھی ختم ہوجائے گا۔ پوروانچل کو بنارس کو ان منصوبوں کا بہت بڑا فائدہ ملنے والا ہے۔

 ساتھیو!

ہمارے شاستروں میں کہاگیاہے ‘‘کاشیام ہی کاشتے، کاشی ، کاشی سرو پرکاشیکا ۔یعنی کاشی کو کاشی ہی منورکرتی ہے اورکاشی سبھی کو منورکرتی ہے ۔ اس لئے آج ترقی کی جو روشنی پھیل رہی ہے ، جو تبدیلی ہورہی ہے ، یہ سب کاشی اورکاشی کے باشندوں کے آشیرواد کا ہی نتیجہ ہے ۔ کاشی کے آشیرواد سے ہی مہادیوکو آشیرواد ہے اور جب مہادیوکا آشیرواد ہے توبڑے سے بڑا کام بھی آسان ہوجاتاہے ۔ مجھے یقین ہے کہ کاشی کے آشیروادسے ترقی کی یہ گنگاایسے ہی بہتی رہے گی اور مسلسل بہتی رہے گی ۔ان ہی نیک خواہشات کے ساتھ آپ سبھی کو ایک بارپھر دیوالی ، گووردھن پوجنا اور بھیادوج کی دلی مبارکباد ۔ میری آپ سے ایک درخواست اور بھی ہے ۔ آج کل آپ دیکھ رہے ہیں ‘ لوکل کے لئے ووکل ’‘ووکل فارلوکل ’اس کے ساتھ ہی لوکل فاردیوالی ، اس اصول کی گونج چاروں طرف سنائی دینے لگی ہے ۔ میرابنارس کے لوگو  ں سے بھی اور اہل وطن سے بھی کہنا ہے کہ لوکل فاردیوالی کو خوب فروغ دیں ، خوب تشہیرکریں ۔کتنے شاندارہیں ، کس طرح ہماری پہچان ہیں ، تویہ باتیں دوردورتک جائیں گی ۔ اس سے مقامی پہچان تومضبوط ہوگی ہی ، جولوگ ان سامانوں کو بتاتے ہیں ان کی دیوالی بھی اورروشن ہوجائے گی ۔ اس لئے میں اہل وطن سے دیوالی سے قبل بارباردرخواست کرتاہوں کہ ہم لوکل کے لئے درخواست کرنے والے بنیں ہرکوئی ووکل بنیں لوکل کے لئے ، دیوالی منائیں لوکل کے ساتھ ۔آپ دیکھئے پوری معیشت میں ایک نیاشعورآجائے گا، نئی جان آجائے گی، وہ چیزیں جس میں میرے اہل وطن کے پسینے کی مہک کو ، جو چیزیں میرے ملک کے نوجوانوں کی ذہنی صلاحیتوں کی علمبردارہوں ، وہ چیزیں جو میرے ملک کے متعدد خاندانوں کو نئے امنگ اور جوش کے ساتھ نئے عزم کو لے کر اپنے کام کو وسعت دینے کی طاقت دیتی ہے ۔ان سب کے لئے ایک ہندوستانی کے ناطے میرے اہل وطن کے تئیں میرافرض بنتاہے ۔ میرے ملک کی ہرچیزکے لئے میرا کمٹمنٹ بنتاہے ۔آیئے ، اسی جذبے کے ساتھ لوکل کے لئے ووکل بنیں ۔ دیوالی لوکل سے منائیں اور صرف دیئے نہیں بلکہ کچھ لوگوں کو تولگتاہے لوکل مطلب دیالے لو ، نہیں بھائی ہرچیز، ہرچیز ۔کوئی ایسی چیزہو جوبالکل ہمارے ملک میں بننا ممکن ہی نہیں ہے ، لازماباہرسے لیناپڑے گا ۔میں یہ بھی کہوں گا کہ آپ کے گھرمیں باہرسے کوئی چیزپہلے لائی ہوئی ہے اس کو پھینک دو، گنگاجی میں بہادو، جی نہیں میں ایسے نہیں کہتا ۔میں اتناہی چاہتاہوں ، میرے ملک کے لوگ جو پسینہ بہارہے ، میرے ملک کے نوجوان جو اپنی عقل  مندی ، طاقت ، صلاحیت سے کچھ نہ کچھ نیاکرنے کی کوشش کررہے ہیں ، ان کی انگلی پکڑنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ، ان کا ہاتھ پکڑنا ہم کی سب کی ذمہ داری ہے ۔ان کی چیزیں لتے ہیں ان کا حوصلہ بلندہوجاتاہے ، آپ دیکھئے ، دیکھتے ہی دیکھتے یقین سے بھرا ہوا ایک نیا پورا طبقہ تیارہوجائے گاجو ہندوستان کو نئی بلندیوں پرلے جانے کے لئے ایک نئی قوت کی شکل میں جڑ جائے گا اور اس لئے میں آج پھرسے ایک بارمیرے کاشی کے باشندوں سے جب بات کررہاہوں تب دیوالی کی مبارکباد کے ساتھ ساتھ کاشی کے جب میں نے مانگا، جو مانگا ، کاشی نے بھی بھرکرکے مجھے دیاہے ، کھلے من سے دیاہے ۔ لیکن میں کاشی کی ہرضرورت کے لئے ، کاشی میں تعمیرہونےوالی ہرچیز کے لئے گیت گاتاہوں ، فخرکرتاہوں ، گھرگھربات پہنچانے کی کوشش کرتاہوں میرے ملک کی ہرچیز کو یہ موقع ملے ، یہی میری درخواست ہے ۔ پھرایک بارمیں کاشی کے باشندوں کو سلام کرتے ہوئے ، کاشی وشوناتھ جی کے قدموں میں سرجھکاتے ہوئے ، کال بھیرو کوسلام کرتے ہوئے ، ماتاان پورنا کو سلام کرتے ہوئے آپ سب کو آنے والے سبھی تہواروں کی بہت بہت مبارکباد دیتاہوں ۔

بہت بہت شکریہ ۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India-Myanmar Joint Statement during the Official Visit of the President of Myanmar to India
June 01, 2026

At the invitation of H.E. Shri Narendra Modi, Prime Minister of India, H.E. U Min Aung Hlaing, President of the Republic of the Union of Myanmar paid his first Official Visit to India from 30 May to 3 June 2026.

The President was accompanied by the Union Ministers for President’s Office, Foreign Affairs, Finance & Revenue, Agriculture, Livestock & Irrigation, and Industry & MSME Business Development, and Governor of the Central Bank of Myanmar. A business delegation from diverse sectors including agriculture, pharmaceuticals, energy, banking, construction, IT, communications, trading and logistics, as well as members of the Myanmar-India Friendship Association, were part of the Myanmar delegation.

The Prime Minister of India and the President of Myanmar held talks on 1 June 2026, during which they reviewed bilateral, regional and global issues of mutual interest and charted the way forward for the relationship. The Prime Minister hosted a luncheon in honour of the visiting dignitary. Hon’ble President of India Smt. Droupadi Murmu received the President of Myanmar on the same day. Earlier, External Affairs Minister Dr. S. Jaishankar and National Security Adviser Shri Ajit Doval separately called on the President of Myanmar.

At the commencement of the visit, the President visited Bodh Gaya on 30 May 2026, where he offered prayers at Mahabodhi Temple, Mahabodhi Meditation Centre and Sujata Temple. These visits to deeply revered sites underscored the enduring spiritual and Buddhist ties, as well as the people-to-people links, between the two countries.

The President delivered a keynote speech at the India-Myanmar Business Conclave, jointly organised by the UMFCCI and CII, in New Delhi on 31 May 2026, where business heads from both sides discussed avenues for further strengthening and expanding bilateral trade and commercial opportunities. The President also toured the NTPC Energy Technology Research Alliance (NETRA) complex in Greater Noida to observe advanced R&D work, including in clean energy innovation, energy efficiency, renewable energy integration and grid resilience.

In his interaction with the President, the Prime Minister stated that Myanmar lies at the confluence of India’s Neighbourhood First, Act East and MAHASAGAR (Mutual and Holistic Advancement for Security and Growth Across Regions) policies. The discussions underscored the importance of strengthening bilateral cooperation, including trade and economic ties, defence and security, border management, development assistance and cultural exchanges. Both sides noted ongoing discussions on various bilateral Agreements and Memoranda of Understanding and looked forward to their early conclusion.

The Prime Minister underlined that enhanced connectivity would foster mutually beneficial economic linkages and shared prosperity in the region. In this regard, both sides shared the importance of working closely towards the completion of Kaladan Multi-Modal Transit Transport project and the India-Myanmar-Thailand trilateral highway.

The Prime Minister conveyed that the Mekong Ganga ICCR scholarships for Myanmar students would be enhanced from 36 to 100 from 2026 onwards.

Both sides agreed to facilitate and enhance bilateral trade including through the Rupee-Kyat settlement mechanism, and appreciated the steady growth in the volume of transactions recorded since its operationalisation in May 2024. Both sides also expressed support for closer trade and investment cooperation in the areas of mutual interest such as agro-processing, petroleum, energy, mining sectors, in accordance with their respective national laws and regulations.

The Prime Minister reaffirmed India’s support for the sovereignty and territorial integrity of the Republic of the Union of Myanmar. Both sides underscored the importance of preventing the misuse of sovereign territory for activities inimical to their security interests. The President reiterated Myanmar’s assurance that its territory would not be permitted to be used against India’s security interests. The Prime Minister affirmed that India, as a steadfast and trusted partner of Myanmar, remained committed to deepening security cooperation between the two countries.

The Prime Minister conveyed support for Myanmar-led efforts towards achieving peace, stability, national reconciliation and socio-economic development. He also offered continued assistance and cooperation, based on mutual respect and friendly relations between the two countries. The President appreciated India’s constructive support and cooperation.

The Prime Minister expressed confidence that the meetings of the President with the Governor of Maharashtra and the Chief Minister, as well as his business engagements during his upcoming visit to Mumbai on 02 - 03 June 2026 would further strengthen existing bilateral cooperation and economic ties.

The official visit of President U Min Aung Hlaing reaffirmed the long-standing friendship and close partnership between Myanmar and India and the shared commitment of both countries to further strengthen cooperation for the mutual benefit of the two countries. Both sides agreed to continue close engagement at all levels.

President U Min Aung Hlaing expressed his sincere appreciation to Prime Minister Shri Narendra Modi for the warm hospitality extended to him and to the members of his delegation during their stay in India. The President also extended an invitation to the Prime Minister of India to visit Myanmar at mutually convenient dates.