‘‘ پچھلے سال ہندوستان میں پہلی بار ،اے ٹی ایم سے نقد پیسے نکالنے کے مقابلے موبائل سے زیادہ ادائیگیاں کی گئیں ’’
‘‘ڈیجیٹل انڈیا کے تحت تبدیلی لانےسے متعلق کی گئی پہل نے اختراعی فن ٹیک جیسے حل کے لئے دروازے کھولے ہیں جن کا اطلاق گورننس میں کیا جائے گا ’’
‘‘ اب ان فن ٹیک پہل کو فن ٹیک انقلاب میں تبدیل کرنے کا وقت آگیا ہے۔ ایک ایسا انقلاب جو ملک کے ہر ایک شہری کو مالی طور پر بااختیار بنانے کے مقصد کو حاصل کرنے میں مدد کرے گا’’
‘‘اعتماد کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوام کے مفادات محفوظ ہیں ۔ فن ٹیک انوویشن، مالیاتی ٹکنالوجی کی سکیورٹی سے متعلق اختراع کے بغیر نامکمل رہے گا’’
‘‘ہمارا ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر پوری دنیا کے شہریوں کی زندگی کو بہتر کرسکتا ہے’’
‘‘گفٹ سٹی محض ایک احاطہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستان کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کے جمہوری اقدار ، ڈیمانڈ، آبادی اور تکثیریت کو پیش کرتا ہے’’
‘‘ یہ خیالات ، اختراعات اور سرمایہ کاری کے تئیں ہندوستان کے کھلےپن کی ترجمانی کرتا ہے’’

ایکسی لینسیز،

معزز ساتھیو،

ٹیکنالوجی اور فائنانس کی دنیا کے میرے ہم وطن ساتھیو، 70 سے زیادہ ملکوں کے لاکھوں شرکاء۔

نمسکار!

 دوستوں،

مجھے پہلے‘‘ انفینٹی فورم، کاافتتاح کرکے اور آپ سب کاخیرمقدم کرکے بہت  خوشی ہورہی ہے انفینٹی فورم، بھارت میں ‘‘ فنٹیک’’ کے زبردست امکانات کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس سے بھارت کے فنٹیک کے لئے زبردست گنجائش موجود ہونے کا بھی اظہار ہوتا ہے جس سے کہ پوری دنیا کو فوائد فراہم ہوں گے۔

دوستوں،

کرنسی کی تاریخ میں زبردست ارتقاء دیکھنے کو ملا ہے۔ جیسے جیسے انسانوں کاارتقاء ہوتا گیا، اسطرح ہمارے لین دین کے طریقے میں تبدیلی آئی۔ بارٹر نظام ( ایک شے کے بدلے دوسری شے کاتبادلہ) سے لے کر دھاتوں تک ، سکوں سے لے کر نوٹ تک، چیک سے لے کر کارڈس تک، آج ہم یہاں تک پہنچ گئے ہیں۔ اس سے پہلے ترقی کے عمل کو پوری دنیا تک پھیلنے میں دہائیاں تک لگ جاتی تھیں لیکن گلوبلائزیشن یعنی عالم کاری کے اس دور میں اب ایسی بات نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی، فائنانس کی دنیا میں ایک تبدیلی لارہی ہے۔ گزشتہ برس، بھارت میں موبائل کے ذریعہ ادائیگیاں، پہلی مرتبہ اے ٹی ایم سے نقد رقم نکالنے سے تجاوز کرگئیں۔  مادی شاخ پر مبنی دفاتر کے بغیر مکمل طور پر ڈیجیٹل بینک، پہلے ہی  ایک حقیقت کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور ایک دہائی سے سبھی کم مدت میں یہ عام ہوجائیں گے ۔

دوستوں،

بھارت نے دنیا کو یہ ثابت کرکے دکھا دیا ہے کہ جب ٹیکنالوجی اختیار کرنے یا جدت طرازی کامعاملہ ہو تو وہ کسی سے بھی کم نہیں ہے۔ڈیجیٹل انڈیا کے تحت یکسر تبدیلی لانے والی پہل قدمیوں کی بدولت حکمرانی میں عمل میں لانے کے لئے فنٹیک سے متعلق جدت طرازیوں کے لئے راہ ہموار ہوگئی ہے۔ ٹیکنالوجی مالی شمولیت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ 2014 میں 50 فیصد سے بھی کم ہندوستانیوں کے بینک کھاتے تھے اوراب ہم نے گزشتہ سات سالوں کے دوران 43 کروڑ جن دھن کھاتوں کے ساتھ اسےلگ بھگ عام بنادیا ہے۔ ابھی تک 69 کروڑ روپے کا رڈس جاری کئے جاچکے ہیں۔  رو-پے کارڈس کے ذریعہ گزشتہ سال ایک ارب 30 کروڑ لین دین ہوئے تھے۔ انہوں نے محض پچھلے مہینے میں ہی لگ بھگ چار ارب 20 کروڑ لین دین کا پروسیس کیا ہے۔

ہر ماہ لگ بھگ 30 کروڑ انوائسز جی ایس ٹی پورٹل پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ ہر مہینے اکیلے جی ایس ٹی پورٹل پر ہی 12 ارب امریکی ڈالرز سے زیادہ مالیت کی ادائیگیاں کی جاتی ہیں ۔ عالمی وبا کے باوجود، ہر روز لگ بھگ 15 لاکھ ریلوے ٹِکٹ بک کئے جارہے ہیں۔

گزشتہ برس فاسٹیگ نے ایک ارب 30 کروڑ لین دین کا بلارکاوٹ پروسیس کیا ہے۔  پی ایم سواندھی کی بدولت ملک بھر کے چھوٹے کاروباریوں کے لئے قرض تک رسائی فراہم ہورہی ہے۔ ای۔ رو پی کی بدولت، کسی خامی کے بغیر مخصوص خدمات کی نشان زد فراہمی ہورہی ہے۔ میں اس سلسلے میں بہت کچھ بیان کرسکتا ہوں، لیکن یہ بھارت میں فنٹیک کے پیمانے اور دائرے کی محض چند مثالیں ہیں۔

دوستوں،

مالیاتی شمولیت، فنٹیک انقلاب کا محرک ہے۔ فنٹیک چار ستون پر قائم ہے، آمدنی، سرمایہ کاری، بیمہ اور ادارہ جاتی قرض۔جب آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے تو سرمایہ کاری ممکن ہوجاتی ہے۔بیمہ کروالینے کے سبب زیادہ بڑا جوکھم مول لینے اورسرمایہ کاری کی استعداد پیدا ہوتی ہے۔ ادارہ جاتی قرض سے توسیع کے لئے  پر لگ جاتے ہیں اور ہم نے ان میں ہر ایک ستون پر کام کیا ہے۔ جب یہ تمام عناصر یکجا ہوجاتے ہیں تو آپ کو اچانک بہت سے لوگ مالیاتی شعبے میں شرکت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وسیع بنیاد، فنٹیک اختراعات کے لئے مکمل محرک شے بن جاتی ہیں۔ بھارت میں فنٹیک صنعت، ملک کےہر شخص کو فائنانس اور قرض سے متعلق رسمی نظام تک رسائی کی فراہمی میں اضافے کے لئے اختراعات کررہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ فنٹیک سے متعلق ان پہل قدمیوں کو ایک فنٹیک انقلاب میں تبدیل کردیا جائے۔ ایک  ایسا انقلاب جس کی بدولت ملک کے ہر واحد شہری کو مالی اعتبار سے بااختیار بنانے میں مدد مل سکے۔

دوستوں،

اب جبکہ ہم فنٹیک کی رسائی میں توسیع ہوتی دیکھ رہے ہیں، کئی باتیں ایسی ہیں کہ جن پر توجہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔ فنٹیک صنعت نے مدارج اور کامیابیاں حاصل کی ہیں اور کامیابی کامطلب ہے گاہکوں کے  طور پر زندگی کے ہرشعبہ کے افراد ۔ عوام کے مابین اس فنٹیک کی قبولیت کی ایک منفرد خصوصیت ہے۔ یہ خصوصیت ہے ۔اعتماد، بھروسہ، بھارت کے عام آدمی نے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور اس قسم کی ٹیکنالوجیوں کو اختیار کرکے ہمارے فنٹیک ایکو نظام میں زبردست اعتماد کااظہار کیا ہے یہ اعتماد ایک ذمہ داری ہے ۔اعتماد کامطلب ہے کہ آپ کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ عوام کے مفادات محفوظ رہیں، فنٹیک جدت طرازی، فنٹیک سیکوریٹی اختراعات کے بغیر نامکمل رہے گی۔

دوستوں،

ہم دنیا کے ساتھ اپنے تجربات اور مہارت کااشتراک کرنے اور ان سے سیکھنے میں بھی یقین رکھتے ہیں ۔ ہمارے ڈیجیٹل سرکاری بنیادی ڈھانچہ سے متعلق طریقہ کار کی بدولت دنیا بھر کے لوگوں کی زندگی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔

یو پی آئی اوررو۔پے جیسے وسیلے، ہر ملک کے لئے  ایک بے مثل موقع فراہم کرتے ہیں ایک ایسا موقع جو ایک کفایتی اور بھروسہ مند‘‘بروقت ادائیگی کے نظام’’ کے ساتھ ساتھ ‘‘ گھریلو کارڈ اسکیم’’ اور ‘فنڈ کی ترسیل سے متعلق نظام، فراہم کرتا ہے۔

دوستوں،

 گفٹ سٹی، محض ایک احاطہ نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کے وعدے کی نمائندگی کرتا ہے یہ بھارت کی جمہوری اقدار، مانگ، آبادی  اور رنگا رنگی  تکثیریت کو پیش کرتا ہے۔ یہ نظریات، خیالات، اختراعات اور سرمایہ کاری کے لئے بھارت کے کھلے پن کی نمائندگی کرتا ہے۔ گفٹ سٹی ، عالمی فنٹیک دنیا میں داخلے کا دروازہ ہے۔ گفٹ سٹی کے مقام پر آئی ایف ایس سی کی تشکیل اس نظریہ پر ہوئی تھی کہ فائنانس، ٹیکنالوجی کے ساتھ  ملنے کے بعد، بھارت کی مستقبل کی ترقی میں ایک اہم حصہ بن جائے گا۔ ہمارا مقصد، نہ صرف بھارت کے لئے بلکہ دنیا کے لئے بھی بہترین بین الاقوامی مالیاتی خدمات فراہم کرنا ہے۔

دوستوں،

فائنانس یا مالیات، معیشت کو زندگی عطا کرنے والا  خون ہے اور ٹیکنالوجی اسے پہنچانے والی شریان۔ اور یہ دونوں ہی‘‘ انتودیہ اور سروودیہ’’ کی حصولیابی کے لئے برابر کی  اہمیت رکھتے ہیں۔ ہمارا اہم انفینٹی فورم، عالمی فنٹیک صنعت کے تمام کلیدی متعلقہ فریقوں کو آپس میں یکجا کرنے سے متعلق ہماری کوشش کا ایک حصہ ہے تاکہ صنعت کے لامحدود مواقع کو بروئے کار لایا جاسکے۔

مجھے جناب مائک بوم برگ کے ساتھ اپنی آخری ملاقات میں اس موضوع  پر ہوئی گفتگو یاد آتی ہے اور میں بلوم برگ گروپ کی جانب سے ملی حمایت کے لئے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، انفینٹی فورم، اعتماد کا  ایک فورم ہے۔ اعتماد جو  نوجوانوں  کی توانائی اور تبدیلی  سے متعلق  ان کے  جوش وخروش میں ہے ۔ اعتماد جو دنیا  کو ایک  بہتر مقام بنانے میں  ہے۔ آئیے ہم سب  ملکر فٹنیک  میں اختراعی خیالات کا تفصیلی جائزہ لیں ۔ تاکہ ہم دنیا بھر میں سامنے آنے والے سب سے زیادہ فوری توجہ کے متقاضی امور ےکو حل کرسکیں۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s manufacturing push: Govt identifies 100 products for Made-In-India boost

Media Coverage

India’s manufacturing push: Govt identifies 100 products for Made-In-India boost
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Visit of Prime Minister to UAE, Netherlands, Sweden, Norway, and Italy (May 15 - 20, 2026)
May 11, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi will pay an official visit to the United Arab Emirates on May 15, 2026, where he will meet the President of the UAE, His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan. The two leaders will have the opportunity to exchange views on bilateral issues, in particular energy cooperation, as well as regional and international issues of mutual interest. They will also discuss ways to advance the bilateral Comprehensive Strategic Partnership underpinned by strong political, cultural, economic and people-to-people links. The visit will serve to promote the significant trade and investment linkages between the two countries. The UAE is India’s third largest trade partner and its seventh largest source of investment cumulatively over the past 25 years. With the UAE hosting over 4.5 million - strong Indian community, the visit will also be an opportunity to discuss their welfare.

For the second leg of his visit, at the invitation of the Prime Minister of the Netherlands, H.E. Mr. Rob Jetten, Prime Minister Modi will pay an official visit to the Netherlands from May 15-17, 2026. This will be Prime Minister’s second visit to the Netherlands after his previous visit in 2017. During the visit, Prime Minister will call on Their Majesties King Willem-Alexander and Queen Máxima, and hold talks with Prime Minister Rob Jetten. Prime Minister’s visit will build on the momentum of high-level engagements and close cooperation spanning diverse sectors, including defence, security, innovation, green hydrogen, semiconductors and a Strategic Partnership on Water. Prime Minister’s visit early in the tenure of the new Government will provide an opportunity to further deepen and expand the multifaceted partnership. Netherlands is one of India's largest trade destinations in Europe, with bilateral trade worth USD 27.8 billion (2024-25); and India's 4th largest investor with cumulative FDI of USD 55.6 billion.

For the third leg of the visit, at the invitation of the Prime Minister of the Kingdom of Sweden, H.E. Mr. Ulf Kristersson, Prime Minister will travel on 17-18 May 2026 to Gothenburg, Sweden. Prime Minister had earlier visited Sweden in 2018 for the first-ever India-Nordic Summit. PM Modi will hold bilateral talks with PM Kristersson to review the entire gamut of bilateral relations and explore new avenues of cooperation to enhance bilateral trade, which has reached USD 7.75 billion (2025), and Swedish FDI into India which has reached USD 2.825 billion (2000 – 2025), as well as collaboration in green transition, AI, emerging technologies, startups, resilient supply chains, defence, space, climate action and people-to-people ties. The two Prime Ministers will also address the European Round Table for Industry, a leading pan-European business leaders forum, along with H.E. Ms. Ursula von der Leyen, President of the European Commission.

In the fourth leg of his visit, Prime Minister will pay an official visit to Norway from 18 - 19 May 2026 for the 3rd India-Nordic Summit and bilateral engagements. This will be the first visit of Prime Minister Modi to Norway, and will mark the first Prime Ministerial visit from India to Norway in 43 years. Prime Minister will call on with Their Majesties King Harald V and Queen Sonja, and hold bilateral talks with Prime Minister H.E. Mr. Jonas Gahr Støre. Prime Minister will also address the India-Norway Business and Research Summit along with the Norwegian Prime Minister. The visit will provide an opportunity to review the progress made in India-Norway relations and explore avenues to further strengthen them, with a focus on trade and investment, capitalizing on the India – EFTA Trade and Economic Partnership Agreement, as well as on clean & green tech and blue economy. The visit will also be an opportunity to induce momentum in bilateral trade worth around USD 2.73 billion (2024), and investments by Norway’s Government Pension Fund (GPFG) of close to USD 28 billion in the Indian capital market.

The 3rd India-Nordic Summit will take place in Oslo on 19 May 2026. Prime Minister Shri Narendra Modi will be joined by the Prime Minister of Norway, H.E. Mr. Jonas Gahr Støre; Prime Minister of Denmark, H.E. Ms. Mette Frederiksen; Prime Minister of Finland, H.E. Mr. Petteri Orpo; Prime Minister of Iceland, Ms. Kristrún Frostadóttir; and Prime Minister of Sweden, Mr. Ulf Kristersson for the Summit. The Summit will build upon the two previous Summits held in Stockholm in April 2018 and in Copenhagen in May 2022, and will impart a more strategic dimension to India’s relationship with the Nordic countries, especially in technology and innovation; green transition and renewable energy; sustainability; blue economy; defence; space and the Arctic. The visit will also provide an impetus to India’s bilateral trade (USD 19 billion in 2024) and investment ties with Nordic countries as well as help build resilient supply chains following the India-EU FTA and India-EFTA TEPA.

In the final leg of his visit, at the invitation of Prime Minister of the Italian Republic, H.E. Ms. Giorgia Meloni, Prime Minister will undertake an official visit to Italy from 19–20 May 2026. Prime Minister had last visited Italy in June 2024 for the G7 Summit. During the visit, he will call on the President of the Italian Republic, H.E. Mr. Sergio Mattarella and hold talks with Prime Minister Meloni. The visit takes place in the backdrop of a strong momentum in bilateral ties with both sides proactively implementing the Joint Strategic Action Plan 2025-2029, a comprehensive road map for cooperation in various sectors including in bilateral trade which reached USD 16.77 in 2025; boosting investment, which has recorded a cumulative FDI of USD 3.66 billion (April 2000-September 2025); defence and security; clean energy; innovation; science and technology; and people - to - people ties.

Prime Minister’s upcoming visit will further deepen India’s partnership with Europe across sectors, particularly trade and investment ties in light of the recently concluded India-EU FTA.