وزیر اعظم مودی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت جن دھن ون دھن اور گوبر دھن پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔
سردار پٹیل سے رہنمائی حاصل کرکے پریتم رائے دیسائی جی نے احمد آباد میں بڑے پیمانے پر امداد باہمی ہاؤسنگ کے لئے کام کیا۔ ان کوششوں نے متعدد افراد کی امیدوں کو پرواز عطا کی: وزیر اعظم آنند میں
وزیر اعظم مودی کا کہنا ہے کہ امول صرف دودھ کی ڈبہ بندی تک ہی محدود نہیں ہے۔ یہ اختیارکاری کا ایک عمدہ نمونہ بھی ہے۔
سردار پٹیل نے امداد باہمی پر مبنی ہاؤسنگ کے لئے بڑے پیمانے پر کام کیا:وزیر اعظم مودی
آج وقت آگیا ہے کہ جدت طرازی اور قدرو قیمت میں اضافے کو اہمیت دی جائے : وزیر اعظم آنند میں

نئی دہلی ،یکم اکتوبر :گجرات کے  تحت آنند میں امول کے چاکلیٹ  پلانٹ اوردیگرپروجیکٹوں  کے افتتاح کے موقع پرکی گئی وزیراعظم کی تقریرکا متن  درج ذیل ہے:

اسٹیج پرتشریف فرماں تمام حضرات اوربڑی تعداد میں تشریف لائے  ہوئے میرے پیارے بھائیواوربہنو!

          کیم چھو؟میں دیکھ رہاہوں کہ اتنا بڑاپنڈال بھی چھوٹا پڑگیا۔ وہاں بہت لوگ باہردھوپ میں کھڑے ہیں ۔ آپ سب اتنی بڑی تعداد میں آشیرواد دینےکے لئے آئے ، اس کے لئے  ہم سب آپ کے بہت بہت  ممنون ہیں ۔ آج قریب قریب 1100کروڑروپے کے کام  کاافتتاح ، قوم کے نام وقف کرنے اورسنگ بنیاد رکھنے کا آپ سب نے مجھے موقع فراہم کیاہے ۔ آپ نے میری  جو عزت  افزائی کی  ہے ، اس کے لئےبھی امداد باہمی کی تحریک سے جڑے ہوئے میرے سبھی کسان کنبوں کا میں عزت کے ساتھ نمن کرکے شکریہ اداکرتاہوں ۔

          آج دنیا کے 40سے بھی زیادہ ملکوں میں امول برانڈ، اس کی  ایک پہچان بن گئی ہے ۔ اورمیں حیران تھا کچھ ملکوں میں جب مجھے جانے کا موقع نصیب ہوا تو کچھ جو وفود ملناچاہتے تھے ، کچھ ہندوستانی  سماج سے وہاں رہنے والے لوگ تھے ، کچھ وہاں کے لوگ تھے اور ایک بات کہنے والے مل جاتےتھے  کہ ہمارے یہاں  بھی امول کے پروڈکٹ کی سپلائی کا کچھ انتظام کیجئے ۔ اور یہ بات جب سنتاتھا تو اتنا فخرہوتاتھا کہ کاشتکاروں کی امداد باہمی کی تحریک سے قریب قریب سات دہوں کے لگاتارجواں مردی  کا نتیجہ ہے کہ آج ملک اورملک کے باہرامول ایک پہچان بن گیاہے ، امول ایک ترغیب بن گیاہے ، امول ایک لازمیت بن گیاہے ۔ یہ حصولیابی  چھوٹی نہیں ہے ۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔ یہ ایک صرف کو ئی پیداکرنے والی صنعتی اکائی نہیں ہے ، یہ کوئی صرف ملک پروسیسنگ کے طریقہ ہی نہیں ہے ، یہ ایک معیشت کا متبادل  ماڈل بھی  ہے ۔

  ایک طرف سماج وادی اقتصادی ڈھانچہ  ، دوسری طرف پونجی وادی اقتصادی ڈھانچہ ، ایک طرف حکومت کے قبضے والی معیشت ، دوسری طرف دھنا سیٹھوں کے قبضے والی معیشت ۔ دنیا ان ہی دونوں نظاموں  سے واقف رہی ہے ۔ سردارصاحب جیسی عظیم شخصیات نے اس بیج کو بویاجو آج تیسری معیشت کا نمونہ بن کر کے ابھراہے ، جہاں نہ سرکارکا قبضہ ہوگا ، نہ دولت مندوں کا قبضہ ہوگا ، وہ امداد باہمی تحریک ہوگی اورکاشتکاروں کے ، شہریوں کے ، عوام الناس سے ہی امداد باہمی  سے معیشت کی تشکیل نو ہوگی ، پنپے گی ، بڑھے گی اورہرکوئی اس کا حصہ دارہوگا۔

          یہ معیشت کا ایک ایسا ماڈل ہے جو سماجواداور پونجی واد کو ایک متبادل فراہم کرتاہے ۔ ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ آزادی کے قریب  ایک سال پہلے اس امول کی ایک باقاعدہ طریقے سے تشکیل ہوئی تھی  ، لیکن امداد باہمی تحریک  اس سے بھی پہلے  وجودمیں تھی  ۔ بہت کم لوگوں کو پتہ ہوگا جب سردارولبھ بھائی پٹیل احمد آباد میونسپلٹی کے اس وقت کارپوریشن نہیں تھا ، نگرپالیکاتھی ، اس نگرپالیکا کے چیئرمین ا ن کاانتخاب ہوا، وہ نگرپالیکاکے صدربنے  ۔ اور دریاپور سے انتخاب جیت کرکے آئے تھے ،جہاں کبھی ہمارے کوشک بھائی جیتتے تھے ۔ اورسردار صاحب میونسپلٹی میں صرف ایک ووٹ سے جیت کرکے آئے تھے ، ایک ووٹ سے ۔ اوربعد میں  چیئرمین بنے ۔

          گجرات میں پہلی بار شہری ترقی کا منصوبہ ہونا چاہیئے ، شہری ترقی کی منصوبہ بند ی ہونی چاہیئے ، اس نظریے کے جب سرداد صاحب احمدآباد میونسپلٹی کے صدر تھے ، تب پہلی بار گجرات میں تعارف ہوا۔ اوراسی وقت انھوں نے سب سے پہلا تجربہ  کیا کوآپریٹوہاؤسنگ سوسائٹی کا ۔ امداد باہمی کی بنیاد پر مکانات کی تعمیر کاکام ، متوسط طبقے کو مکان ملے ۔اور اس  وقت ایک پریتم رائے دیسائی ہواکرتے تھے ، جن کو سردار صاحب نے کام دیا اورگجرات میں وردیش میں پہلی  ہاؤسنگ سوسائٹی بنی ۔ جس کی قیادت ، رہنمائی ، رچنا سردارصاحب کی رہنمائی میں پریتم دیسائی نے کی تھی ۔ اور 28جنوری ، 1927کو سردار صاحب نے اس کا افتتاح کیاتھا۔ اورافتتاح کرنے کے ساتھ انھوں نے ایک نیا ماڈل ہے ترقی کا ، اس بات کو لوگ یادرکھیں اس لئے پریتم  رائے دیسائی  کی عزت افزائی کرتے ہوئے انھوں نے اس سوسائٹی کانام پریتم نگررکھاتھا۔ آج بھی احمدآباد میں پریتم نگراس امداد باہمی کی پہلی کامیاب یعنی ایک طریقے سے کامیابی کی پہلی یادگارموجود ہے ۔ اوراسی میں سے آگے جاتے جاتے ہرشعبے میں امداد باہمی کے رجحان  کو اورخاص کرکے گجرات اورمہاراشٹر، کیونکہ اس وقت  وسیع ترمہاراشٹرتھا۔ اس پورے علاقے میں امدادباہمی ، یہ انتظام نہیں ، امداد باہمی ۔یہ اصولوں سے بندھی ہوئی کو ئی تخلیق  نہیں ، امداد باہمی ایک سنسکارکے طورپرہمارے یہاں جن مانس میں قائم ہوئی اوراسی کا نتیجہ ہے کہ آج گجرات کی امداد باہمی تحریک سے جڑے  لوگ  پورے ملک کے لئے ایک ماڈل کے طورپر کام کرتے ہیں ۔

          آج امول سے آگے جنوبی گجرات میں اس میں اپنا قدم رکھا۔ دودھ ساگرڈیری بناس ڈیری   بنی۔ کبھی کبھی میں سوچتاہوں کہ اس اعلیٰ نظریات کے حامل  ہمارے یہاں امداد باہمی کے لوگ نہ ہوتے تو گجرات جو دس سال میں سات سال قحط کے حالات میں جینے کے لئے مجبورہواکرتاہے ، اس وقت وہ مصیبت تھی ، آج وہ کم ہواہے ۔ وہ کاشتکار، وہ مویشی پالنے والے ، اس پریشانیوں سے کیسے گذاراکرتاہے ۔ یہ دودھ پیداوارمنڈلی نے کسانوں کے اس مسئلے کا حل تلاش کیااورقحط پڑجائے تو بھی مویشی پروری اور دودھ فروخت کرکے کاشتکاراپنا گذاراکرلیتاتھا، مویشی پالنے والے گذاراکررہے تھے اور زندگی چل پڑتی تھی ۔

  لیکن بعد میں ایک ایسا بھی وقت آیا ، کسی نہ کسی وجہ سے گاندھی نگر میں ایسے لوگ بیٹھے کہ جنھوں  نے اس امداد باہمی ڈیری صنعت کو رکاوٹیں پیداکرنے والے اصول بنائے ۔ کچھ ۔ سوراشٹرمیں ایک طریقے سے ڈیری بنانا چلانا ایک بوجھ بن گیا ، جب کہ مویشی پروری کچھ سوراشٹرمیں زیادہ تھی۔

          جب ہم لوگوں کو خدمت کرنے کا موقع ملا ہم نے روپ بدل دیا۔ہم نے کہا۔ ہرجگہ پر حوصلہ افزائی کی جائے ۔ اورمیں محسوس کررہاہوں آج قریب قریب گجرات کے سبھی ضلعو ں میں مویشی پروری کے لئے ، کاشتکارکے لئے ، دودھ  کی پیداوارکے لئے  ایک بہت بڑاموقع فراہم ہواہے ۔

          کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو بڑے قابل مانتے ہیں ، عالم مانتے ہیں اورجب ان کے دائرے کے باہر کی چیز آتی ہے ان کا من ، ان کا تکبراسے تسلیم کرنے کے لئے تیارنہیں ہوتا۔ مخالفت کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ہے اور اس لئے اس کا مضحکہ  اڑانا ، مذاق اڑانا اور ایسی ہلکی ہلکی باتیں کرنا ، جس کا آپ تصوربھی نہیں کرسکتے ۔

          ایسے لوگ ہوتے ہیں اورمجھے برابر یاد ہے جب کچھ میں وہائٹ ڈیزرٹ رنوتسوکا آغاز کررہے تھے ، رنوتسوکو بڑھا رہے تھے ، زلزلے بعد کچھ کی معیشت کو وایبرنٹ کرنے کے لئے متعدد منصوبے وضع کررہے تھے تو ایک باروہاں اپنی تقریرمیں میں نے کہاتھا کہ ۔ میں نے کہاتھا کہ جہاں تک میری جانکاری ہے ، جو اونٹ کا دودھ ہوتاہے اونٹی کا دودھ وہ بہت زیادہ تغذیاتی اہمیت والا ہوتاہے ۔ ہمارے بچوں کی صحت کے لئے بہت کام آسکتاہے ۔ ہم پتہ نہیں اس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ نریندرمودی نے کیاگناہ کردیاکہ اونٹ کے دودھ کو لے کرکے جہاں جاتا ، میری مذاق اڑائی جاتی تھی  ، کارٹون بنتے تھے ، مکھول اڑایاجاتاتھا ، پتہ نہیں ایسے ایسے بھدے فقرے بولے جاتے تھے ۔ آج مجھے خوشی ہوئی کہ امول کی کیمل  کے دودھ سے بنی ہوئی چاکلیٹ  ، بہت بڑی اس کی  مانگ ہے ۔اورابھی مجھے رام سنگھ بھائی بتارہے تھے کہ گائے کے دودھ سے ڈبل قیمت اونٹ کے دودھ کی آج ہوگئی ہے ۔

          کبھی کبھی انجانے میں لوگ کیاحال کردیتے ہیں ، اس کی یہ مثال ہے ۔ اب ریگستان کے اندراونٹ کو پرورش کرنے والے انسان کو جب اتنا بڑا مارکیٹ ملے گا تو اس کی روزی روٹی کا ایک نیا سہارا تیارہوجائیگا، اورمجھے خوشی ہے کہ آج اتنے سالوں کے بعد امول نے میرے اس خواب کو شرمندہ ٔ تعبیرکردیا۔تغذیہ کے لئے ، نیوٹریشن کے لئے ہمارے ملک میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہم محسوس کرتے آئے ہیں ۔

          جب میں گجرات میں وزیراعلیٰ تھا ، تب میں تغذیہ مشن کو لے کرکے بہت کچھ چیزیں شروع کرتاتھا۔ کیونکہ میر ا یہ فیصلہ رہاہے کہ ہمارے یہاں ماں اوربچہ ، اگریہ صحت مندہوں گے توہندوستان کبھی بیمارنہیں ہوسکتاہے ، ہمارا بھارت بھی صحت مندرہ سکتاہے ۔

مجھے آج ایک اورخوشی ہوئی کہ یہاں پر شمسی توانائی اور امداد باہمی  پرمبنی  تحریک ، اس دونوں کا ملن کیاگیاہے۔ اگرکھیت میں فصل پیداہوتی ہے تب کھیت میں بجلی بھی پیدا ہوگی ۔ اورمیں ان کاشتکاروں کا احترام کرتاہوں ، ان 11کاشتکاروں نے مل کرکے ، کوآپریٹوبناکرکے بجلی پیداکی ، کھیتی میں امداد کی ، جو زائد تھی وہ ریاستی سرکارکی پالیسی کی وجہ سے اب خریدی جارہی ہے ۔ اورمجھے بتایاگیاہے کہ اس امداد باہمی کو سال بھر میں 50ہزارروپے کی علاوہ آمدنی ہوگی ۔ امداد باہمی کے شعبے میں یہ چروترکی سر زمین ہروقت ، سدانئے استعمال کرنے کے لئے ہمت رکھتی ہے ۔

          حکومت ہند نے تین اہم منصوبوں کو آگے بڑھا یا ، ایک جن دھن ، ون دھن اور تیسرا گوبردھن ۔ جن دھن ، ون دھن ، گوبردھن ۔ فضلے  میں سے  دولت  ،مویشی  کا جوفضلے ہیں  اس میں سے بھی دولت اورگوبردھن میں سے گیس بنانا ، بجلی بنانا، فرٹیلائزربنانا، اورمجھے برابریاد ہے کہ ڈاکور امریتھ کے پاس ہمارے ایک بڑے جوشیلے کام کرنے والے ساتھی تھے ، انھوں نے 12-10گاوؤں سے سارا گوبر جمع کرنے کا پروجیکٹ شروع کیا۔ اورایک بڑا گوبرگیس پلانٹ بناکر کے آس پاس کے گاوؤں میں وہ گیس پہنچانے کا منصوبہ اس وقت کرتے تھے ۔ آج بھی جیسے 11کاشتکار یکجاہوکرکے ایک سولار پمپ کے لئے بجلی پیداکرنے کا کام اور بعد میں بجلی بیچنے کا کام ، کھیتی بھی چلتی رہے اورسولار کی بھی کھیتی ہوتی رہے ، ویسا ہی ، 11-11گاوں جمع ہوکرکے بہت بڑا عمدہ گوبردھن کا بھی مشن موڈ میں کام کرسکتے ہیں ۔

          آج میں چروترکی سرزمین پرآیاہوں ، سردارصاحب کی جدوجہد سے ،  متعدد امدادی شعبے کی عظیم شخصیات کی جدوجہد سے یہاں جو کام ، یہاں جو روایت ہیں ، میں امید کرتاہوں کہ آنے والے دنوں میں امول  مارگ درشن کرے ، اورلوگ مارگ درشن کریں اوراس گوبردھن یوجنا  کو ہم حقیقی معنوں میں صاف وشفاف  بھارت مہم بھی ہوگی، فضلے میں دولت ہوگی ،صاف توانائی ملے گی اور ملک کو بیرونی ممالک سے جو چیزی لانی پڑرہی ہیں ، اس پرانحصارنہیں کرنا پڑے گا ۔ ہم اس میں  ملک کی  خدمت کا  ایک اچھا راستہ کھلے گا ۔ آنے والے دنوں میں اس کا م کوبھی یہاں کے لوگ اگرکریں گے تو ملک کے لئے ایک بڑا نمونے کے طورپر ، کام ہوسکتاہے ، ایسا میرا یقین ہے ۔

          اب دوسال کے بعد امول کو 75سال ہوجائیں گے ۔ اور2022میں بھارت کی آزادی کو 75سال ہوجائیں گے ۔ میں  نے دیکھاہے کہ امول ، کبھی رکنے کا نام نہ لینا ، یہ امول نہیں ہے ۔ وہ نیا سوچنا ، نیا کرنا ، حوصلہ کرنا ، یہ امول کی فطرت میں ہے ۔ یہاں کی پوری جو ٹولی ہے ، یہاں کا جو ورک کلچرہے ، اس کو سنبھالنے والے جو پیشہ ورہیں ، یہاں کے جو امدادباہمی کی تحریک کے رہنماہیں ، سب کا میں نے کیونکہ میں اس کے ساتھ سالوں سے جڑا ہواہوں ، اس کو سمجھنے کا ہمیشہ میں نے کوشش کی ہے ۔ وہ حوصلہ مندہیں ، نئی چیز کرنے کی فطر ت رکھتے  ہیں ۔

          میں امول میں بیٹھے ہوئے سبھی پیشہ وروں سے ، امول کی قیادت کرنے والے امدادباہمی تحریک کے تمام رہنماوں سے آج گذارش کرنے آیاہو ۔ جب امول کے 75سال ہوں گے اور جب ہندوستان کی آزادی کے 75سال ہوں گے ، دونوں برسوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے  کیاامول کوئی نئے مقاصد حاصل کرسکتاہے ۔ نئے نشانے معین کرسکتاہے کیا؟اوراس 75سال کے اندر ہم ایسا 75سال بنائیں گے کہ ہم ابھی سے ، ہمارے پاس دوتین سال کا وقت ہے ۔ ملک کی آزادی کے درمیان میں ہمارے پاس وقت ہے75سال میں ۔ تو ہم کچھ ایسے مقاصد طے کرکے ہمارے جتنے بھی لوگ ہمارے ساتھ جڑے ہیں ، ان کو لے کرکے ملک اوردنیا کو کوئی نئی چیزدے سکتے ہیں کیا؟

          آج پوری دنیا میں دودھ پروسیسنگ میں ہم دسویں نمبر ہیں ۔ اگرامول چاہے ، عہدکریں کی آزادی کے 75سال ہوتے ہوتے ہم دس نمبر سے بڑھ کرکے تین نمبر پرپہنچنے کاتعین کرکے چل سکتے ہیں کیا؟مجھے مشکل نہیں لگ رہاہے ۔

          ہمارے ملک میں ایک وقت تھا جب ہم  فقدان  کے زیر اثرزندگی گذارتے تھے ۔ فقدان کے مسائل سے پریشان تھے ۔ اورتب انتظامیہ کے  فیصلے کا طریقہ ، سوچنے کا طریقہ کام کرنے کے طریقے ، الگ ہواکرتے تھے ۔ ہم نے بہت تیزی سے اس میں  سے باہر آناملک کے لازمی ہوگیاہے ۔ آج ہمارے سامنے خطرے کا فقدان نہیں ہے ۔ آج ملک کے سامنے چنوتی  ہے بہتات کی ۔ اتنی بڑی مقدار میں کاشتکارپیداوارکرتاہے کہ کبھی کبھی بازارگرجاتاہے ، کاشتکارکابھی نقصان ہوجاتاہے کیونکہ بہتات  ہے ۔

          پہلے وقت تھا کہ پیداواربہت کم ہوتاتھا ، باہرسے ہم۔ گیہوں تک باہرسے لاکرکے پیٹ بھرتے تھے ۔ جیسے سفید انقلاب ہواویسے ہی زراعتی انقلاب آیا، ملک کے اناج کے ذخائربھرے ۔لیکن اب ہماری ضرورت سے بھی زیادہ کچھ چیزوں میں  ہم زیادہ ہیں ۔ ایسی صورت حال کا ذریعہ ، اس کا پروسیسنگ ہوتاہے ، ویلیوایڈیشن ہوتاہے ۔ اگرہم اس ڈیری صنعت کو فروغ نہ دیتے ،دودھ کے نئے نئے طریقے ، نئے نئے پروڈکٹ نہ بناتے تو شاید یہ دودھ کی پیداواربھی کاشتکارچھوڑدیتا ، مویشی پروری چھوڑ دیتا کیونکہ اس کو ٹکنے کے امکانات ہی  نہیں تھے ۔ لیکن یہ انتظام ہونے کے وجہ سے کاشتکاردودھ پیداوارمیں آج بھی  اسی جوش کے ساتھ جڑاہواہے ۔

          اسی طرح سے ہمارے لئے زرعی مصنوعات ، اس میں بھی ویلیوایڈیشن ہمارے لئے بہت ضروری ہے ۔ جب میں گجرات کا وزیراعلیٰ تھا ، تو یہی آنند میں ایک روز زراعتی میلہ لگاتھا تو میں اس میں آیاتھا ۔تومیرا ایک پرانا ساتھی  مجھے وہاں مل گیا ۔ اب میں بھی بڑا حیران تھا ، کوٹ پینٹ ،ٹائی پہن کرکے کھڑاتھا ، میں نے کہاکیابات ہے بھائی ، تم توبہت بدل گئے ہو، کیاکررہے ہو آج کل ؟تو اس نے مجھ کیا کہا۔ آپ نے یہاں سردہوئے جنا، سدرمانو پاندڑا،اینوپاوڈربناوری بیچوسوں ، انے بہت موٹی کمائی کروں سوں !اس کو کہتے ہیں ویلیوایڈیشن ۔ یعنی پہلے سرد وہ پہلاپڑھوں تھوں ، پاندرہ پہلے پڑھا تھا نیچے پڑھتاتھا، پن اینی نیوٹریشن ولیونی خبر نوتھی ۔کوئی اے کام میں لوگیونے تو۔ ہماری ہرایگرو پروڈکٹ میں وہ طاقت ہے ۔ ٹماٹرپیدازیادہ ہوتے ہیں ،ٹماٹرکا مارکیٹ ڈاون ہوجاتاہے ، ٹماٹردودن ، تین دن میں خراب ہوجاتے ہیں ، لیکن اگرٹماٹرکا ویلیوایڈیشن ہوتاہے ، پرووسینسگ ہوتاہے ، کیچ اپ بن جاتاہے ، بڑھیا سی بوتل میں پیک ہوجاتاہے ، مہینوں تک خراب نہیں ہوتاہے اوردنیا کے بازارمیں بک جاتاہے ۔ ہمارے کاشتکارکو کبھی نقصان نہیں ہوتاہے ۔ اوراس لئے جس طرح سے دودھ کا پروسیسنگ ، اس نے ہمارے کاشتکاروں کو ایک بڑی طاقت دی ہے ۔ آنے والے دنوں میں ہم نے زرعی مصنوعات کا بھی پروسیسنگ ، ویلیوایڈیشن ، قیمت میں اضافہ ، اس کو ہمیں بل دینا ہے ۔ اوراسی لئے حکومت ہند نے وزیراعظم کرشی سمپدا یوجنا کے تحت ہندوستان میں ہمارے زرعی پیداوارکو اورزیادہ طاقت ملے  ، اس سمت میں ہم کام کررہے ہیں ۔

          میں نے کبھی ہمارے اس ڈیری والوں سے کہاتھا ۔ امریلی اور بناس ڈیری نے اس کام کو آگے بڑھایا۔ شاید اوروں نے کیاہوگا لیکن مجھے شاید جانکاری نہ ہو۔ ان کو میں نے کہاتھا کہ جیسے ہم نے سفید انقلاب کیا ویسے ہمیں سویٹ ریولیشن بھی کرنا چاہیئے ۔ اورجو ہمارے کاشتکاربھائی اس دودھ منڈلی سے جڑے ہیں ، ان کو شہد کی مکھی پروری کی بھی تربیت دینی چاہیئے ۔اوروہ جو شہد  کی پیداوار کریں ، جب ہم دودھ لینے جائیں ، اس کے ساتھ شہد بھی لے کرکے آئیں ۔ اورجیسے اس پلانٹ میں اس کا پیکیجنگ کرتے ہیں ، ویسا ہی ایک پیکیجنگ کریں ۔ امریلی ضلع اور بناس ، دونوں ڈیری آج شہد پیداوارکی سمت میں بہت بڑا تعاون کررہے ہیں ۔ ہندوستان میں پہلے جتنا شہد پیداہوتاتھا، اس سے آج کئی گنا شہد پیداہونا شروع ہوا ہے اوروہ بیرونی ممالک میں جانے لگاہے ۔ اگروہ بکے گانہیں ، گھرمیں کھایاجائیگا توبھی بچو ں کی تغذیہ کے کام میں آئیگا۔ اس سمت میں الگ سے محنت نہیں ہے ۔ جیسے وہ ہی کھیت چھوٹا ساکیوں نہ ہو، اگراس  پرسولرپینل لگائیں ، زیادہ قیمت مل جائیگی ۔ اسی کے اندر شہدکی  مکھی پروری کی کچھ چیزیں لگادیں ، اورزیادہ کمائی ہوجائیگی ۔ اس کے لئے ہم 2022، آزادی کے 75سال تک ہندوستا ن کے کاشتکاروں کی آمدنی میں دوگنی کرنے کے لئے ایسے متعدد  نئے نئے تصوراتی خاکوں کو مربوط کررہے ہیں ۔

          میں امید کرتاہوں کہ ہم اس کے ساتھ جڑیں ۔ اورایک خیال میں  نےپہلے ظاہرکیاتھا ، میں اس کو کرنہیں پایا، جب میں یہاں تھا، لیکن ہم کرسکتے ہیں ۔ جیسے یہاں ٹیک ہوم راشن ، اس کے موضوع پراچھا کام ہواہے ۔ یہاں پربچوں کی تغذیہ کے لئے بال امول کی رچنا کے بارے میں بہت اچھاکام ہواہے ۔ ہم دوپہرکے کھانے کی سمت میں بھی بڑا کام کرسکتے ہیں ۔ جن گاوؤں میں ہم دودھ لینے جاتےہیں ،سینٹرلی اگرہم بڑا ککنگ پلانٹ لگائیں ، اورجب ہماری گاڑی دودھ لینے جاتی ہےصبح توساتھ میں وہاں جو اسکول ہوگی ، ان بچوں کے لئے بہت بڑھیا ٹیفن کے اندردوپہرکاکھانالے کرکے جائیں ۔ اسکول کے بچوں کے لئے وہاں ٹیفن چھوڑدیاجائے ۔ ٹیفن بھی ایسا بڑھیا ہو کہ گرم گرم کھانا ملے اور جب دوسرے دن جب دودھ واپس آتاہے تو ساتھ میں خالی ٹیفن بھی چلاآئے ۔کوئی زیادہ نقل وحمل کا خرچ کئے بنا ہم آرام سے ، ہماری جہاں جہاں دودھ منڈلی ہے وہاں کے اسکولوں میں سرکارپیسے دیتی ہے ، ہم صرف منیجمنٹ کریں ۔

          میں یقین دلاتاہوں کہ جس طرح سے اسکان کے ذریعہ دوپہرکے کھانے کے منصوبے کو تقویت ملی ہے ، ہماری سبھی ڈیری بہت عمدہ طریقے سے ہمارے ان بچوں کو اسی نظام کے تحت کھانا پہنچاسکتی ہے ۔ ایک ہی نظام کا ملٹی پل یوٹلٹی ، اس کو دھیان میں رکھ کرکے اگرہم منصوبے بنائیں گے ، میں یقین سے کہتاہوں کہ ہم صرف کچھ محدود شعبوں میں ہی نہیں ، زندگی کے ہرشعبے میں اثرپیداکرنے کا کام کرسکتے ہیں ۔

          مجھے یاد ہے کہ دھرمچ کے ہمارے لو گ، پورے ملک میں میں نے دیکھا ہے کہ جو گوچر کی زمین ہوتی ہے ، اس پرہمیشہ جھگڑا ہوتاہے ۔ کسی نے ان کروچ منٹ کردیا ، ڈھکناکردیا ، فلانا کردیا۔ لیکن ہمارے دھرمچ کے بھائیوں نے سالوں پہلے کوآپریٹوسوسائٹی بنائی اورگوچر کی ترقی کوآپریٹوپرکیا اورروزانہ ، گرین گراس ہوم  ڈیلیوری دیتے تھے اس وقت ۔ آج تو مجھے معلوم نہیں ۔ میں پہلے کبھی آیاکرتاتھا ۔ ہو م ڈیلیووری دیتے تھے گرین گراس ، اگردو مویشی ہیں ، توآپ کو اتناکلوچاہیے ، پہنچادیتے تھے ۔ اوراس میں سے جوکمائی ہوتی تھی اس سے وہ گوچر کی سرزمین کے ڈیولپمنٹ کا جدید کام انھوں نے کھڑا کیا۔

          میراکہنا کا مقصد یہ ہے کہ یہاں کی سوچ میں امدادباہمی کے روایات پڑی ہیں ۔ ہم اس امداد باہمی کی وسیع شکل  کیسے بنائیں ، ہم کیسے اورچیزوں کے ساتھ جڑیں اور  اس کو آگے بڑھانے کی سمت میں ہم کیسے کام کریں ۔

          میں پھرایک بار آج امول کنبے کو اس چروترکی سرزمین کے میرے پرگتی شیل کاشتکارکے بیٹوں کو ، اس سرزمین کے جواں مرد سردارولبھ بھائی پٹیل کو یادکرتے ہوئے اورانھوں نے جو عمدہ روایت قائم کی ہے اس روایت سے وابستہ امداد باہمی کے شعبے کو وقف تمام افراد کو بصد احترام یاد کرتے ہوئے میں آج اس بہت بڑی اسکیم کو، مختلف النوع اسکیموں کو، گجرات کی سرزمین کو ، ملک کی سرزمین کو وقف کرتے ہوئے ازحد فخرکے احساس کے ساتھ ،آپ سب کو بہت بہت نیک تمنائیں پیش کرتاہوں ۔ اورحکومت ہند کی جانب سے یقین دلاتاہوں کہ ، ان تمام کاموں میں اسے آگے بڑھانے میں دہلی کی حکومت کبھی پیچھے نہیں رہےگی ۔ حکومت ہند کندھے سے کندھا ملاکرکے اس کی ترقی کے لئے آپ کی شراکت داربنے گی ۔ اسی گذارش کے  ساتھ  آپ سب کا بہت بہت شکریہ ۔ میرے ساتھ پوری طاقت سے بولیں گے :

بھارت ماتا کی ۔جئے

کیوں بھائی ، کیاہوگیا، یہ میراچروترہے ،آواز ایسی نہیں ہوتی ۔

بھارت ماتاکی ۔جئے ۔

یہ بات ہوئی ، شاباش ۔

شکریہ

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PLP to PLI, reform express at full speed, says PM Modi

Media Coverage

PLP to PLI, reform express at full speed, says PM Modi
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
اکنامک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم 2026 میں وزیر اعظم کے خطاب کا اردو ترجمہ
August 21, 2026
دنیا بھارت کو ترقی اور امید کے روشن مرکز کے طور پر دیکھ رہی ہے: وزیر اعظم
آج بھارت پالیسی کی سطح پر اگلی نسل کی اصلاحات نافذ کر رہا ہے اور حکمرانی کے نظام میں بھی اصلاحات کر رہا ہے: وزیر اعظم
ماضی میں پیداوار میں اضافے کو سزا کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن آج ہماری حکومت پیداوار بڑھانے کے لیے مراعات فراہم کر رہی ہے
بھارت میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل موجود ہے: وزیر اعظم
پہلے ضوابط کا طریقۂ کار یہ تھا کہ ’’اجازت ملنے تک ممنوع‘‘، ہم اس طریقۂ کار کو تبدیل کرکے ’’ممنوع ہونے تک اجازت‘‘ کی جانب لے جا رہے ہیں: وزیر اعظم
حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات شک و شبہ پر نہیں بلکہ اعتماد پر مبنی ہونے چاہئیں: وزیر اعظم
آج ہم ایسی پالیسیاں تشکیل دے رہے ہیں جو عوام دوست، ترقی پر مبنی اور ملک کی ہمہ گیر ترقی کو فروغ دینے والی ہیں: وزیر اعظم

ورلڈ لیڈرز فورم- اس باوقار پلیٹ فارم پر، کاروبار اور صنعت کی دنیا کے تمام معروف رہ نما، پالیسی ساز، دیگر معززین، خواتین و حضرات موجود ہیں۔

آپ سب کے درمیان آکر خوشی محسوس کرنا نہایت فطری امر ہے۔ اس سال سربراہی اجلاس کا محور مشترکہ مستقبل پر مرکوز ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں دنیا نے بے شمار نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ ان تجربات نے ایک بات کو بالکل واضح کر دیا ہے: خواہ کوئی پسند کرے یا نہ کرے، ہر ملک کا مستقبل ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔ تنہائی میں کوئی بھی چیز ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشترکہ مستقبل کا یہ موضوع آج مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بھارت نے ہمیشہ اس جذبے کو برقرار رکھا ہے۔ اپنی جی-20 صدارت کے دوران، بھارت کا رہ نما منتر تھا: ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل۔ مشترکہ مستقبل کا جذبہ اور اس کے ساتھ آنے والا ذمہ داری کا احساس، 21ویں صدی کی دنیا کے کئی مسائل کا حل فراہم کرتا ہے۔

ساتھیو،

آج دنیا میں ترقی کے حوالے سے متعدد تشویشیں پائی جاتی ہیں۔ حالیہ ایام میں دنیا نے ایک نہایت خوف ناک صورت حال کا مشاہدہ کیا ہے۔ وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور عدم اعتماد کا ماحول دنیا کے لیے کئی نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ تاہم، ایسے حالات میں بھی، دنیا بھارت کو ترقی اور امید کی ایک روشن کرن کے طور پر دیکھتی ہے۔ گذشتہ 10-12 برسوں کے دوران، بھارت نے 250 ملین افراد کو غربت کی دلدل سے نکالا ہے۔ مزید برآں، اگر ہم آئندہ ایام کی بات کریں تو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی پیش گوئی ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت رہے گا۔ اور بھارت مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے جو اس کی ترقی کو مزید تیز کر رہے ہیں۔

ساتھیو،

گذشتہ ہفتے ہی، 15 اگست کو، لال قلعہ سے میں نے سات طاقتوں کے سات دھاروں کا ذکر کیا تھا۔ مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی، فوڈ پروسیسنگ، سبز اور نیلی معیشت - میں نے ان سات شعبوں پر بات کی جن پر آج بھارت بھرپور توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے پالیسی کی سطح پر اگلی نسل کی اصلاحات کر رہا ہے۔ یہ اصلاحات حکم رانی میں بھی ہیں اور زندگی کی آسانی کے لیے بھی ہیں۔ پچھلی بار جب میں اسی پلیٹ فارم کے ذریعے آپ سے مخاطب ہوا تھا، تب بھی میں نے یہ کہا تھا کہ یہ اصلاحات ہمارے لیے کوئی مجبوری نہیں ہیں، بلکہ یہ ہماری وابستگی اور ہمارا پختہ یقین ہیں۔

ساتھیو،

سنہ 2014 میں، جب ہماری حکومت تشکیل پائی، تب سے اصلاحات نے ملک کی سمت اور حالت کو یکسر بدل دیا ہے۔ میں آپ کو اس کی ایک انتہائی دل چسپ مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔ شاید ہی یہاں کوئی شخص پی ایل پی (PLP) کے بارے میں جانتا ہو۔ کیا کوئی ایسا ہے جو پی ایل پی سے واقف ہو؟ براہ کرم اپنا ہاتھ اٹھائیں۔ یہاں اتنے سارے میڈیا کے نامور افراد تشریف فرما ہیں - کیا آپ پی ایل پی کو جانتے ہیں؟ اور آپ یہ سن کر حیران رہ جائیں گے۔ پی ایل پی کا مطلب ہے پروڈکشن لنکڈ پنشمنٹ (پیداوار سے منسلک سزا)۔ اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ اور ایک اور اصطلاح جو آپ نے یقیناً سنی ہوگی - پی ایل آئی (PLI)۔ زیادہ تر لوگ اس سے واقف ہیں۔ پی ایل آئی کا مطلب ہے پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (پیداوار سے منسلک ترغیب)۔

ساتھیو،

یہ دونوں اصطلاحات بھارت کے دو مختلف ادوار کی وضاحت کرتی ہیں۔ چوں کہ آج کل وضاحت کرنے والوں کا دور ہے، لہٰذا میں آپ کو اس کی وضاحت کرتا ہوں۔

ساتھیو،

آج کی نوجوان نسل یہ سُن کر حیران ہوگی کہ ہمارے ملک میں ایک ایسا وقت بھی تھا جب کوئی کمپنی مقررہ حد سے زیادہ پیداوار کرتی تھی تو اسے سزا دی جاتی تھی۔ یہ سابقہ لائسنس راج حکومتوں کا پی ایل پی - پروڈکشن لنکڈ پنشمنٹ والا ماڈل تھا۔ یہاں تک کہ ایسی مثالیں بھی موجود تھیں کہ اگر کوئی فیکٹری، بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھتے ہوئے، زیادہ پیداوار کرتی تھی تو اسے نوٹس بھیجا جاتا تھا۔ اس دباؤ کے تحت، کمپنی اپنی مصنوعات کو بازار میں فروخت کرنے کے بجائے اسے خود ہی تلف کر دیتی تھی۔

ساتھیو،

آج جو لوگ میک اِن انڈیا اور آتمِ نربھر بھارت مہم کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کے آباؤ اجداد کی سوچ بالکل یہی تھی: پی ایل پی، پروڈکشن لنکڈ پنشمنٹ۔ ایسے اقدامات کے پس پردہ ایک مخصوص بگڑی ہوئی ذہنیت کارفرما تھی۔ اس ذہنیت کے حامل افراد ہمیشہ ضروری اشیا کی قلت کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ شہریوں کو محرومی میں رکھنا ان کی پالیسی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ ان کے سامنے ہاتھ جوڑیں، بھیک مانگیں - آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ میں کس کی بات کر رہا ہوں۔ لوگوں کو ہاتھ جوڑنے پر مجبور کرنے کے بعد، وہ ایسا ظاہر کرتے تھے گویا وہ کوئی احسان کر رہے ہوں۔ یہی ان حکومتوں کا طریقہ تھا، اور اسی لیے انھوں نے پروڈکشن لنکڈ پنشمنٹ ماڈل کی پیروی کی۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایسا کرنے سے انھوں نے روزگار کی تخلیق کے بنیادی اصول کا گلا گھونٹ دیا۔ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کے درباریوں نے، میں پھر دہراتا ہوں، ان کے درباریوں نے کبھی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔

ساتھیو،

ہر اصلاح کا آغاز سب سے پہلے آپ کی سوچ، آپ کے ذہنی ڈھانچے اور آپ کے دائرہ کار میں اصلاح سے ہوتا ہے۔ جہاں ماضی میں پیداوار بڑھانے پر سزا دی جاتی تھی، وہیں آج ہماری حکومت پیداوار میں اضافے کے لیے ترغیبات فراہم کرتی ہے۔ پی ایل آئی اسکیم کی کام یابی آج پوری دنیا کے سامنے عیاں ہے۔ صرف اس ایک اسکیم کی بدولت - میں تمام اسکیموں کی بات نہیں کر رہا، بلکہ صرف ایک کی - تقریباًًً 2.5 لاکھ کروڑ روپے کی حقیقی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ 22 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی پیداوار اور فروخت عمل میں آئی ہے۔ 15 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی برآمدات کی گئی ہیں۔ اور 14 لاکھ سے زائد براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔ میں آپ کو دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ یہ اعداد و شمار صرف ایک اسکیم سے متعلق ہیں۔ ذرا غور کیجیے: سابقہ لائسنس راج حکومتوں کے سزائی ماڈل نے بے روزگاری میں اضافہ کیا، جب کہ آج ہمارا ترغیبی ماڈل لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا کر رہا ہے۔

ساتھیو،

آج بھارت میں یہ تیز رفتار ترقی اور اصلاحات اس لیے ممکن ہو رہی ہیں کیوں کہ یہاں - جیسا کہ ستیا نے ابھی ذکر کیا - سیاسی استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل پایا جاتا ہے۔ ماضی میں، جو لوگ ملک میں اصلاحات کی بات کرتے تھے، وہ محض اعلانات کرتے اور پھر انھیں فراموش کر دیتے تھے۔ لیکن ہم نے اصلاحات کے لیے ایک واضح لائحہ عمل (روڈ میپ) تیار کیا ہے۔ اس لائحہ عمل کی بنیادی سمت حکم رانی کی سطح پر اصلاحات رہی ہے۔ اسی کے پیش نظر، آج 21ویں صدی کے بھارت میں، ہم محض ضوابط کو تبدیل نہیں کر رہے بلکہ ضابطہ کاری کے پورے فلسفے کو بدل رہے ہیں۔ پہلے ضوابط کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ”جب تک اجازت نہ ہو، ممنوع ہے۔“ یعنی، جب تک حکومت اجازت نہ دیتی، کوئی کام نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہم اس نقطہ نظر کو ”جب تک ممنوع نہ ہو، اجازت ہے۔“ میں تبدیل کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کام کو قانون نے واضح طور پر منع نہیں کیا، اس کے لیے ہر قدم پر اجازت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اس سوچ کے پیچھے ایک نہایت سادہ اصول کارفرما ہے کہ حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلق کی بنیاد اعتماد پر ہونی چاہیے، نہ کہ شک و شبہ پر۔

ساتھیو،

یہ سوچ جن وشواس بل میں بھی نمایاں ہے۔ میرا پختہ یقین ہے کہ ہر طریقہ کار کی غلطی کو مجرمانہ فعل تصور کرنا مناسب نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد جرائم کو غیر مجرمانہ قرار دیا گیا ہے۔ کئی معاملات میں، قید کے بجائے، صرف مالی جرمانے کا التزام کیا گیا ہے۔ حکومت اور کاروباری اداروں کے مابین تعلقات میں، ہم اسی اصلاحی ذہنیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، 40,000 سے زائد تعمیلیں ختم کی گئی ہیں - چالیس ہزار۔ 1,500 سے زیادہ پرانے اور غیر ضروری قوانین کو منسوخ کیا جا چکا ہے۔ اور جب آپ ان تمام اصلاحات کا مجموعی جائزہ لیتے ہیں، تو آپ کو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری صنعتوں اور کاروباروں کے کندھوں سے کتنا بوجھ کم ہوا ہے۔

ساتھیو،

ہم حکم رانی کی اصلاحات کے اس عمل پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے حالیہ مانسون اجلاس میں، ہم نے بینکرز بک ایویڈنس بل منظور کیا۔ یہ ایسے وقت میں ہوا جب اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں مسلسل خلل پیدا کیا تھا۔ اس کے باوجود، ہم نے قوم کی خدمت کے کام کو رکنے نہیں دیا۔ اب اس قانون نے 19ویں صدی کے انگریزی قانون کی جگہ لے لی ہے۔ اس کے تحت، بینکوں کے ڈیجیٹل ریکارڈز کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے قانونی پیچیدگیاں کم ہوں گی، نظام میں شفافیت آئے گی، اور کاروبار کرنے میں آسانی بڑھے گی۔

ساتھیو،

حکم رانی میں اصلاح کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ نظام کو ہر انسانی زندگی اور اس کے وقت کے تئیں حساسیت کے ساتھ تشکیل دیا جائے۔ میں ریلوے کی مثال پیش کروں گا۔ ہماری ریلوے میں بھی اسی نقطہ نظر کے ساتھ کام کیا گیا ہے۔ آج، 6,500 سے زائد ریلوے اسٹیشنوں پر الیکٹرانک انٹر لاکنگ کے انتظامات موجود ہیں۔ 10,000 سے زائد لیول کراسنگ گیٹس کو بھی انٹر لاکنگ سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے انسانی غلطی کے سبب پیش آنے والے حادثات کے امکانات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

ساتھیو،

جب ہماری حکومت 2014 میں برسرِ اقتدار آئی تو تقریباًًً 9,000 بغیر چوکیدار والی ریلوے کراسنگز موجود تھیں۔ انھیں ہٹانا کوئی پیچیدہ کام نہیں تھا۔ ان بغیر چوکیدار والی کراسنگز کے باعث ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا دیتے تھے، لیکن سابقہ حکومتوں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ ہم نے، مشن موڈ میں، گذشتہ دس برسوں کے دوران ان تمام بغیر چوکیدار والی کراسنگز کو ختم کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی، ہم نے روڈ اوور برج اور روڈ انڈر برج کی تعمیر کی رفتار میں کئی گنا اضافہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ 2014 سے پہلے کے مقابلے میں، ٹرین حادثات کی تعداد میں نوے فیصد (90%) تک کمی واقع ہوئی ہے۔ بارہ سال قبل، ایک سال میں تقریباًًً 150 ریل حادثات پیش آتے تھے، جب کہ اب ان کی تعداد کم ہو کر 15-20 رہ گئی ہے۔ ہم اسے مزید کم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔

ساتھیو،

ریلوے میں صفائی بھی حکم رانی کی اصلاح کی ایک عظیم مثال ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ریلوے پٹریوں پر گندگی اور انسانی فضلہ ایک سنگین مسئلہ ہوا کرتا تھا۔ آج صورت حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ 2014 سے قبل ہماری ٹرینوں میں تقریباًًً 12,000 بائیو-ٹوائلٹ نصب کیے گئے تھے۔ 2014 کے بعد، ٹرینوں میں 360,000 سے زائد بائیو-ٹوائلٹ لگائے گئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ 97 فیصد سے زیادہ بائیو-ٹوائلٹ گذشتہ 12 برسوں میں نصب کیے گئے ہیں۔ یہ تبدیلی محض صفائی تک محدود نہیں بلکہ یہ مسافروں کے وقار، صفائی اور ایک جدید بھارت کی تعمیر کی سمت میں حکم رانی کا ایک نیا نمونہ ہے۔ یہ کروڑوں مسافروں کو بہتر تجربہ فراہم کرنے کی ایک مہم بھی ہے۔

ساتھیو،

حکم رانی کے معیار کا ایک اور پیمانہ وقت ہے۔ جو منصوبہ شروع کیا جائے، اسے وقت پر مکمل ہونا چاہیے۔ اور جو خدمات عوام کو فراہم کی جائیں، انھیں بھی وقت کی کسوٹی پر پورا اترنا چاہیے۔ دہلی-میرٹھ نمو بھارت ریپڈ ریل سسٹم اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس کوریڈور پر ٹرینیں 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔ ہمارے ملک میں پہلے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اب تک 40 ملین سے زیادہ مسافر اس میں سفر کر چکے ہیں۔ اور ایک اور اہم پہلو ہے جس پر عموماً بات نہیں کی جاتی۔ دہلی-میرٹھ نمو بھارت ریپڈ ریل کی وقت کی پابندی 99.9 فیصد ہے۔ ورنہ ہم ہر تاخیر پر یہ کہتے تھے کہ ”یہ بھارتی وقت ہے۔“ اب وقت بدل چکا ہے۔ میں ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا ذکر اس لیے کرتا ہوں تاکہ ہمیں یہ احساس ہو کہ ہمارا کام کتنا وسیع اور ہمہ گیر ہے۔ اسی طرح، دہلی میٹرو کی وقت کی پابندی بھی قابلِ ذکر ہے۔ دہلی میٹرو کی وقت کی پابندی 99.9 فیصد ہے، اور یہ نیویارک، ہانگ کانگ اور پیرس جیسے شہروں کی میٹرو کے تقریباًًً برابر ہو چکی ہے۔ یہ محض ایک میٹرو اور ریپڈ ریل کے وقت پر چلنے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے بھارت کی نئی شناخت ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ابھی بھی - اور میں ایسا شخص نہیں ہوں جو صرف اسی پر مطمئن ہو کر بیٹھ جائے - ابھی بھی اس سمت میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ لیکن ہم یہ کام مسلسل کر رہے ہیں۔ ایک آغاز ہو چکا ہے، اور یہ آغاز قابلِ ستائش ہے۔

ساتھیو،

ہماری اصلاحات کے روڈ میپ کا ایک اور اہم پہلو پالیسی کی سطح پر اصلاحات ہے! آج ہم ایسی پالیسیاں وضع کر رہے ہیں جو عوام دوست، ترقی دوست اور ترقی پسند ہیں! پالیسیاں ملک اور اس کے عوام کی ضروریات کے مطابق ہونی چاہییں، نہ کہ ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جن کے مطابق ملک کو چلنے پر مجبور کیا جائے! میں آپ کو ایک اور دل چسپ مثال دینا چاہتا ہوں۔ چند سال قبل تک، ملک کا نقشہ بنانا بھی غیر قانونی تھا۔ اگر آپ نقشہ بناتے، تو یہ غیر قانونی عمل تھا اور آپ کو جیل ہو سکتی تھی۔ اجازت کے بغیر آپ ملک میں نقشہ سازی کا کام بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ذرا غور کیجیے - غیر ملکی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی بھارت کے کسی بھی گوشے کا نقشہ بنا سکتی تھی، لیکن بھارت میں، بھارتیوں کو بھارت کا نقشہ بنانے سے روکا گیا تھا۔

ساتھیو،

ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں، محض یہ ایک پابندی بے شمار اسٹارٹ اپس کو ختم کر سکتی تھی! کئی خیالات عملی جامہ پہنانے سے محروم رہ سکتے تھے! ہم نے اس نظام کو بھی تبدیل کیا۔ ہم نے جیو اسپیشل ڈیٹا کو ضابطوں سے آزاد کیا، اور آج یہ ڈیٹا متعدد اسٹارٹ اپس کی بنیاد بن چکا ہے۔

ساتھیو،

آج آپ ڈرونز کی بڑھتی ہوئی افادیت کا مسلسل مشاہدہ کر رہے ہیں۔ زراعت، دفاع، ترسیل، فلم سازی اور مواد کی تخلیق جیسے شعبوں میں ان کا استعمال اس وقت تک ممکن نہ ہوتا، جب تک بھارت سرکار اس سے متعلقہ قواعد و ضوابط میں اصلاحات نہ کرتی۔ ماضی میں، ملک میں ڈرون اڑانے کا عمل مکمل طور پر سخت قوانین اور پابندیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ ہم نے ان پابندیوں سے چھٹکارا حاصل کیا، اور آج بھارت کی ڈرون صنعت ایک بے مثال پرواز کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

ساتھیو،

قبل ازیں، سرحدی علاقوں کے حوالے سے حکومتوں کی یہ سوچ تھی کہ اگر سرحد پر سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے میں اضافہ ہوتا ہے، تو دشمن بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ہم نے اس سوچ کو تبدیل کر دیا۔ ہم نے کہا کہ سرحدی بنیادی ڈھانچہ کم زوری نہیں بلکہ قوم کی طاقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سرحدی علاقوں میں سڑکوں، پُلوں اور سرنگوں کا جال تیزی سے پھیل رہا ہے۔ صرف 2024 اور 2025 میں ہی، بی آر او کے 250 بنیادی ڈھانچے کے منصوبے قوم کے نام وقف کیے گئے ہیں۔ جب سوچ بدلی، تو سرحدی بنیادی ڈھانچے کی تصویر بھی بدل گئی۔

ساتھیو،

جوہری اصلاحات کی بھی ایک مثال موجود ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ترقی کا مکمل انحصار توانائی پر تھا، پابندیوں اور قدغنوں کے سبب ملک اپنی جوہری صلاحیت کو بروئے کار لانے سے قاصر تھا۔ شانتی بل کے ذریعے ہم نے اس شعبے میں بھی ایک بڑی اصلاح کی۔ آج بھارت میں نجی شعبے کے لیے جوہری توانائی کا راستہ کھل چکا ہے۔ اسی طرح، ہم نے دفاعی شعبے میں بھی ایک اہم پالیسی اصلاح کی۔ وہ نظام جو 200 سال سے رائج تھا، ہم نے 40 سے زائد آرڈیننس فیکٹریوں کو 7 فیکٹریوں میں ضم کر کے اسے تبدیل کیا۔ اور ہم اس کے نتائج کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ آج بھارت اپنی دفاعی ضروریات کے لیے بھی آتمِ نربھر بن رہا ہے، اور 2014 کے مقابلے میں، ہماری دفاعی برآمدات میں 55 گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات اصلاحات ہماری زندگیوں میں اس طرح رچ بس جاتی ہیں کہ ہمیں ان کا احساس تک نہیں ہوتا۔ ذرا غور کیجیے کہ آج آپ کا عام دن کیسے گزرتا ہے۔ آپ صبح بیدار ہوتے ہیں، اپنے فون پر گھریلو اشیا کا آرڈر دیتے ہیں، اور جب تک آپ دفتر کے لیے تیار ہوتے ہیں، وہ تمام سامان آپ کے گھر پہنچ چکا ہوتا ہے۔ آپ کی گلی کے اسٹریٹ وینڈر سے لے کر آپ کی کار کے شوروم تک، آپ کی تمام ادائیگیاں محض ایک کیو آر کوڈ اس کین کرنے سے مکمل ہو جاتی ہیں۔ اگر آپ کی بیٹی کسی دوسرے شہر میں تعلیم حاصل کر رہی ہے، تو آپ اسے فون کے ذریعے رقم بھیج سکتے ہیں، اور وہ رقم سیکنڈوں میں اس تک پہنچ جاتی ہے۔ کئی بار بیٹی ایک کیو آر بھی شیئر کرتی ہے کہ، ”پاپا-ماں، میں نے یہ ڈریس خریدی ہے، براہ کرم ادائیگی کر دیجیے،” اور آپ گھر بیٹھے اس کی خریداری کروا دیتے ہیں۔ یہ چیزیں قابلِ ذکر ہیں، لیکن اب یہ بھارت کے عوام کو حیران نہیں کرتیں۔ جب بیرونی افراد آتے ہیں، تو وہ حیران رہ جاتے ہیں - ”اوہ، یہ ایسے ہوتا ہے۔“ بھارت کے عوام کے لیے، یہ معمول بن چکا ہے۔ یہ بھارت کے عام شہری کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ سوچیے - 2014 سے پہلے، ان میں سے کتنی چیزیں ممکن تھیں؟

ساتھیو،

گذشتہ 10-12 برسوں کے دوران، بھارت نے زندگی گزارنے میں آسانی سے متعلق جو اصلاحات نافذ کی ہیں، انھوں نے عوام کی زندگیوں کو - بالخصوص ہمارے متوسط طبقے کی زندگیوں کو - اس انداز سے تبدیل کر دیا ہے جو دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں اب بھی محض ایک خواب ہے۔

ساتھیو،

آج دنیا کا سب سے سستا ڈیٹا بھارت میں دستیاب ہے۔ ہم سستے اور معیاری اسمارٹ فونز تیار کر رہے ہیں۔ ابھی جناب ستیا نے اس کی وضاحت کی۔ بھارت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو 5G کی سب سے تیز رفتار رول آؤٹ کر رہے ہیں۔ ہم نے آدھار کو بینکنگ، موبائل کنیکٹیویٹی اور دیگر خدمات سے منسلک کیا، جس سے ای-کے وائی سی اور ڈیجیٹل تصدیق جیسی خدمات کی فراہمی ممکن ہوئی۔ آج اگر آپ بینک اکاؤنٹ کھولنا چاہتے ہیں تو آپ کو بینک جانے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ بھارت سرکار نے بینک کو آپ کی دہلیز تک پہنچا دیا ہے۔ آج چاہے بل کی ادائیگی ہو یا ٹکٹ کی بکنگ، کسی سرکاری دفتر جانے کی حاجت نہیں - یہ تمام امور آن لائن انجام پاتے ہیں۔ انکم ٹیکس فائل کرنا مزید آسان ہو گیا ہے۔ ایک ایسا نظام وضع کیا گیا ہے جہاں فارم میں زیادہ سے زیادہ معلومات پہلے سے پُر ہوتی ہیں۔ آپ اس معلومات کی تصدیق کرتے ہیں، جو ضروری ہو وہ شامل کرتے ہیں، اور جمع کر دیتے ہیں - آپ کا کام مکمل ہو جاتا ہے۔ پہلے ریفنڈز کی وصولی میں مہینوں لگتے تھے، اب وہ صرف چند دنوں میں موصول ہو جاتے ہیں۔

ساتھیو،

آج ای-سنجیونی کی مدد سے - جس پر شاید ابھی بھی بہت کم گفتگو ہوتی ہے - دور دراز کے دیہاتوں میں مقیم افراد کہیں سے بھی براہ راست ڈاکٹروں سے مشورہ کر سکتے ہیں اور علاج کی راہ اپنا سکتے ہیں۔ وہ لوگ جنھیں پہلے ہسپتال پہنچنے کے لیے کئی کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا تھا، آج ڈاکٹر ان کے لیے گھر پر، ان کی اسکرین پر دستیاب ہیں۔ یہ اعداد و شمار یقیناً آپ کو حیران کر دیں گے کہ بھارت نے کس طرح ٹیکنالوجی کو اپنایا ہے اور عام آدمی کی زندگی کو کس قدر آسان بنایا ہے۔ اب تک، ای-سنجیونی کے تحت تقریباًًً 500 ملین ٹیلی-کنسلٹیشنز انجام دی جا چکی ہیں۔

ساتھیو،

آج بھارت میں سفر کا تجربہ بدل رہا ہے؛ بھارت کے شہریوں کے سفر مکمل طور پر تبدیل ہوچکے ہیں۔ اس ہال میں ایسا شخص تلاش کرنا مشکل ہے جس نے ہوائی اڈے پر ڈیجی یاترا کا استعمال نہ کیا ہو۔ اسی طرح، آج کل بہت سے کام بغیر کسی رکاوٹ کے انجام پا رہے ہیں۔ شاہراہوں پر فاسٹ ٹیگز فعال ہیں، جس کے باعث آپ بغیر رکے ٹول ادا کر کے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یہی دراصل زندگی میں آسانی کا حقیقی مفہوم ہے۔ وقت کی بچت ہو رہی ہے، زندگی آسان بن رہی ہے، اور کروڑوں افراد اپنی ترقی پر توجہ مرکوز کر پا رہے ہیں۔

ساتھیو،

سیاست میں، اکثر وہی فیصلے سرخیوں کی زینت بنتے ہیں جن کا اثر فوری طور پر دکھائی دیتا ہے - یعنی، جن کی عمر محض 24 گھنٹے ہوتی ہے۔ سابقہ حکومتوں نے انتخابات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اعلانات کرنے کا طریقہ اپنایا، لیکن ایسے اعلانات سے ملک میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آئی۔ ملک کو بدلنے والے فیصلے درحقیقت وہ ہوتے ہیں جن کے اثرات زمینی سطح پر نمایاں ہوں، اور جو حال و مستقبل دونوں کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔

ساتھیو،

پی ایم-کُسُم اسکیم اور پی ایم سوریا گھر مفت بجلی اسکیم اس کی نہایت منفرد مثالیں ہیں۔ کُسُم اسکیم کے ذریعے کسانوں کو بجلی کی تشویش سے نجات ملی ہے، جب کہ سوریا گھر اسکیم کے توسط سے متوسط طبقے کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا ہے۔

ساتھیو،

میں جانتا ہوں کہ اگر میں نے یہ اعلان کیا ہوتا کہ آج سے لاکھوں خاندانوں کے لیے بجلی مفت ہے، تو تمام میڈیا، تمام اسکرین اور تمام اخبارات نے بڑی سرخیاں بنائی ہوتیں کہ ”مودی جی نے آج مفت بجلی کا اعلان کیا۔“ لیکن ہم نے ایک مختلف نقطہ نظر کے ساتھ کام شروع کیا۔ ہم نے ہر گھر کی چھت پر سورج طلوع کرنے کا عزم کیا۔ اور آج ملک میں 5 ملین سے زیادہ خاندان پی ایم سوریا گھر مفت بجلی اسکیم سے منسلک ہیں۔ بھارت سرکار نے ان خاندانوں کو سولر سسٹم نصب کرنے کے لیے 22,000 کروڑ روپے سے زیادہ فراہم کیے ہیں، تاکہ ان کی چھتوں پر سولر پلانٹس نصب کر کے شمسی توانائی پیدا کی جا سکے۔ اب یہ خاندان اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کر کے رقم کما رہے ہیں۔ ان کا اپنا بل صفر ہو گیا ہے، اور انھوں نے آمدنی حاصل کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ یہ اسکیم لوگوں کے خوابوں کو بھی وسعت دے رہی ہے۔ بجلی کے بل کم ہونے کے ساتھ، لوگ اب ریفریجریٹر، کولر، واشنگ مشین اور ٹی وی جیسی اشیا خرید کر رکھ رہے ہیں۔ اب بجلی کی کٹوتی کی وجہ سے دودھ خراب ہونے کا کوئی خوف نہیں رہا، کوئی فکر باقی نہیں رہی۔ اب اسکول جانے والے بچے رات کو سکون سے سو سکتے ہیں۔ میں دوبارہ کہتا ہوں - چاہے انتخابات ہوں یا نہ ہوں، یہ سوریا گھر اور اس کی روشنی باقی رہے گی۔ اس پلانٹ کا فائدہ ملک کے خاندانوں کو برسوں تک پہنچتا رہے گا۔

ساتھیو،

آنے والے وقت میں، زندگی گزارنے میں آسانی اور کاروبار کرنے میں آسانی مزید وسعت اختیار کرے گی۔ ملک کے نوجوانوں، خواتین کی تفویضِ اختیارات، کسانوں، غریبوں اور متوسط طبقے کے لیے ہماری بھارت سرکار اپنا کام جاری رکھے گی۔ ہماری اصلاحی ایکسپریس مزید تیز رفتاری سے آگے بڑھے گی۔ وِکست بھارت کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے ہم مکمل عزم کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ اور میں - میرے لیے، اگر بھارت کا مستقبل محفوظ ہے، تو اسی سرزمین سے دنیا کے مستقبل کو بھی استحکام بخشنے کا ایک عظیم کام انجام دیا جائے گا۔ اس اعتماد کے ساتھ کہ جتنا مستحکم بھارت بنے گا، جتنا محفوظ بھارت کا مستقبل ہوگا، دنیا کو تحفظ کا احساس دلانے کی طاقت یہیں سے پیدا ہوگی۔ اسی صلاحیت اور اسی عزم کے ساتھ، میں ایک بار پھر اکنامک ٹائمز کی پوری ٹیم کا آج کے پروگرام میں مجھے مدعو کرنے کے لیے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ وندے ماترم!