Share
 
Comments
وزیر اعظم مودی نے پٹنہ میٹرو، برونی میں امونیا ۔ یوریا کامپلیکس اور توسیعی ایل پی جی پائپ نیٹ ورک جیسے پروجیکٹوں کا آغاز کیا۔
پلوامہ میں دہشت گردانہ حملے کے بعد ملک میں غم و غصے کی فضا کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے بہارمیں کہا کہ میں اپنے دل میں وہی آگ محسوس کر رہا ہوں جو آپ لوگوں کے سینے میں دہک رہی ہے۔
ہمارا مقصد ان لوگوں کے معیار حیات کو اوپر اٹھانا ہے جو بنیادی سہولیات تک کے لئے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے: وزیر اعظم

بھارت ماتا کی — جے

بھارت ماتا کی — جے

بھارت ماتا کی — جے

اسٹیج پر موجود سبھی معزز حضرات اور بڑی تعداد میں آئے ہوئے میرے پیارے بھائیو اور بہنو!

آپ سب اتنی بڑی بھارتی تعداد میں ہم سب کو آشیرواد دینے کے لیے آئے ہیں۔ اس لیے میں آپ کا سر جھکا کرکے سلام کرتا ہوں۔ میں دیکھ پارہا ہوں کہ پٹنہ سے بھی ویڈیو کے ذریعے سے متعدد لوگ جڑے ہیں۔ پٹنہ اور ہزاری باغ میں ہو رہے پروگرام میں حاضر سبھی لوگوں کو میں سلام کرتا ہوں۔

ساتھیو، آدی کنبھ استھلی سمریا دھام جہاں پر ہے، بہار کے شری کرشن سنگھ نے جہاں ستیہ گرہ کیا، قومی شاعر رام دھاری سنگھ دِنکر جیسے مفکرین، جس نے ملک کو دیئے، اس بیگوسرائے کی، بہار کی پاکیزہ سرزمین کو میں سلام کرتا ہوں۔ میں ملک کے لیے اپنی قربانی دینے والے پٹنہ کے شہید کانسٹیبل سنجے کمار سنہا اور بھاگلپور کے شہید رتن کمار ٹھاکر کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ان کے اہل خانہ کے ساتھ اظہارِ تعزیت کرتا ہوں۔ اور میں محسوس کر رہا ہوں آپ کے اور ہم وطنوں کے دل میں کتنی آگ ہے۔ جو آگ آپ کے دل میں ہے، وہی آگ میرے دل میں بھی۔ آج جن نایک کرپوری ٹھاکر جی کا یوم وفات بھی ہے۔ سماجی انصاف کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے کرپوری بابو کا آشیرواد ہم سبھی پر ہمیشہ بنا رہے گا، اس آرزو کے ساتھ میں انھیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو، آج بہار کی مجموعی ترقی کے لیے ہزاروں کروڑ کے درجنوں پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کرنے، افتتاح کرنے اور سنگ بنیاد رکھنے کا کام کیا گیا۔ اس میں پٹنہ کو اور اِس شہر کو اسمارٹ بنانے سے جڑے پروجیکٹ ہیں۔ بہار کی صنعتی ترقی اور نوجوانوں کو روزگار سے جڑے پروجیکٹ ہیں اور بہار کے ہر شخص کے لیے صحت کی سہولیات بڑھانے والے پروجیکٹ بھی اس میں شامل ہیں۔ ان تمام پروجیکٹوں کے لیے میں آپ سبھی لوگوں کو نتیش بابو اور ان کی پوری ٹیم کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ آج ہمارے بیچ بھولا بابو ہوتے تو انھیں بہت ہی خوشی ہوتی۔

ساتھیو، جیسے ہندوستان کے مغربی کنارے پر معاشی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ ان کی برابری کرنے کی بلکہ میں کہوں گا کہ ان سے بھی آگے نکلنے کی طاقت ہمارے بہار اور مشرقی ہندوستان میں ہے۔ جس طرح این ڈی اے حکومت بہار سمیت مشرقی ہندوستان کی ترقی کے لیے جدید بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک کے بعد ایک پروجیکٹ شروع کر رہی ہے وہ دن دور نہیں ہے جب یہ علاقہ ملک کی ترقی کو نئی رفتار دینے والا اہم علاقہ بن جائے گا۔

بھائیو اور بہنو، بہار سمیت مشرقی ہندوستان کی کایا پلٹ کرنے کے نشانے کے ساتھ شروع کیے گئے بہت سے پروجیکٹوں میں سے ایک پردھان منتری اُرجا گنگا یوجنا بھی ہے۔ اس یوجنا کے ذریعے سے اترپردیش، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور اڈیشہ کو گیس پائپ لائن سے جوڑا جارہا ہے۔ اس یوجنا کے پہلے مرحلے میں جگدیش پور ہلدیا پائپ لائن کے پٹنہ- پھول پور سیکشن کو قوم کے نام تھوڑی دیر پہلے ہی وقف کیا گیا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ تقریباً ساڑھے تین سال پہلےجولائی 2015 میں پٹنہ سے ہی میں نے اس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ گیس پائپ لائن کی سہولت کو آگے بڑھاتے ہوئے ہلدیا- درگاپور ایل پی جی پائپ لائن کی بھی توسیع مظفرپور اور پٹنہ تک کی جارہی ہے۔ جس کا سنگ بنیاد بھی آج رکھا گیا ہے۔

بھائیو اور بہنو،اس پروجیکٹ سے تین بڑے کام ایک ساتھ ہونے جارہے ہیں۔ ایک تو یہاں برونی میں جو فرٹیلائزر کا کارخانہ پھر سے شروع کیا جارہا ہے، اس کو گیس فراہم کی جائے گی۔ دوسرا پٹنہ میں پائپ کے ذریعے سے گھروں میں گیس دینے کا کام ہوگا۔ پیٹرول ڈیزل کی جگہ سی این جی سے گاڑیاں چل پڑیں گی۔ پٹنہ میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن کے پلانٹ کا افتتاح بھی ہوگیا ہے۔ اس سے وہاں ہزاروں خاندانو ں کو اب پائپ والی گیس چولہے تک پہنچنے والی ہے۔ اس پروجیکٹ کا تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ جب یہاں پر صنعتوں کو کافی مقدار میں گیس ملے گی اس سے گیس پر مبنی معیشت کا نیا ایکو سسٹم تیار ہوگا۔ نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔ یعنی ایک طرح سے اُورجا گنگا پری یوجنا ، یہاں کے لوگوں اور خاص طور سے متوسط طبقے کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی لانے والی ہے۔ سی این جی کی توسیع ہونے سے گاڑیاں چلانے والے لوگوں کا خرچ کم ہوگا اور پیٹرول ڈیزل پر لگنے والا پیسہ بھی بچے گا۔ اس کے علاوہ ماحول پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔

ساتھیو، برونی کا یہ کھاد کارخانہ تو یہیں کے فرزند اور یہاں کے پہلے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر شری کرشن سنگھ کو ایک طرح سے ہمارا عاجزانہ خراج عقیدت ہے۔ انھوں نے اس کو یہاں قائم کرنے کے لیے بہت کوششیں کی تھیں لیکن تکنیک پرانی پڑجانے کی وجہ سے یہ بند ہوگیا۔اب جب یہاں گیس پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اس کو گیس پر مبنی بنا دیا گیا ہے۔

بھائیو اور بہنو، برونی کے علاوہ گورکھ پور ، سندری اور اڈیشہ کے تالچر میں بھی ایسے کارخانوں کو نئی زندگی بخشنے کا کام تیزی سے چل رہا ہے۔ یہ سب کچھ ممکن ہوپا رہا ہے تو اس کے پیچھے ہے پردھان منتری اورجا گنگا یوجنا۔

ساتھیو، ان تمام کھاد کارخانوں سے یہاں کے کسان بھائیوں کو کافی کھاد تو مل ہی پائے گی نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع بھی ملیں گے۔ اپنے کسانوں بھائی اور بہنوں کے لیے اس بجٹ میں حکومت نے ایک تاریخی منصوبے کا اعلان بھی کیا ہے۔ پی ایم کسان سمّان یوجنا کے تحت اگلے دس برسوں میں ساڑھے سات لاکھ کروڑ روپئے کسانوں کے کھاتے میں سیدھے جمع کئے جائیں گے۔ اس کا بہت بڑا فائدہ بہار کے بھی کسانوں کو ہوگا۔ سوچئے جب اتنی بڑی رقم ملک کے دیہی نظام میں، دیہی معیشت میں سیدھی پہنچے گی، بغیر کسی بچولیے کے پہنچے گی تو وہ گاؤں کو، گاؤں میں رہنے والوں کو کتنی بڑی طاقت دے گی۔

بھائیو اور بہنو، جب کوئی صنعت لگتی ہے تو آس پاس روزگار کا ایک پورا ماحول تیار ہوجاتا ہے۔ جس کا فائدہ بہار کے ساتھ ساتھ پورے مشرقی ہندوستان کو ہوگا۔ اسی طرح برونی کی ریفائنری کی توسیع سے یہاں کچے تیل کو ریفائن کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور بہار کے ساتھ ساتھ نیپال تک پیٹرولیم سے جڑی چیزیں آسانی سے دستیاب ہوپائیں گی۔

ساتھیو، ہماری حکومت کے ذریعے کنیکٹیویٹی پر بھی خاص زور دیا جارہا ہے۔ آج یہاں سے رانچی-پٹنہ ہفتہ وار ایکسپریس کو ہری جھنڈی دکھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ برونی-کمید پور، مظفر پور-رکسول، فتوحا- اسلام پور، بہار شریف-دنیاوان ریلوے لائنوں کی برق کاری کا کام پورا ہوچکا ہے۔

ساتھیو، ریل کے ساتھ ساتھ ہم شہروں میں بھی مساوی ٹریفک نظام تیار کر رہے ہیں۔ میں پٹنہ کے رہنے والوں کو بہت بہت مبارک باد دیتا ہوں کیوں کہ پاٹلی پتر اب میٹرو ریل سے جڑنے والا ہے۔ 13 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ کے اس پروجیکٹ کو حال کے ساتھ ساتھ مستقبل کی ضرورتوں کو رکھ کر تیار کیا جارہا ہے۔ یہ میٹرو پروجیکٹ تیزی سے ترقی کر رہے پٹنہ شہر کو اور بلندی دے گا، نئی رفتار دے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پٹنہ ریور فرنٹ کے تیار ہونے سے پٹنہ میں رہنے والے لوگ اور وہاں آنے والے سیاحوں کو ایک الگ تجربہ ملنے والا ہے۔

ساتھیو، این ڈی اے حکومت کے منصوبے کا وژن ہمارا ترقی کا سفر دو پٹریوں پر ایک ساتھ چل رہا ہے۔ پہلی پٹری ہے بنیادی ڈھانچے سے جڑے منصوبے، صنعتی ترقی، لوگوں کو جدید سہولیات، اور دوسری پٹری ہے ان محروموں ، استحصال کا شکار ، مظلوم لوگوں کی زندگی کو آسان بنانا جو پچھلے 70 برسوں سے بنیادی سہولتوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان سہولتوں سے محروم ہیں۔ اپنے اُن بھائی بہنوں کے لیے پکے گھر بنانا، ان کی رسوئی کو دھوئیں سے پاک کرنا، گیس کنکشن دینا، ان کے گھروں کو بجلی سے روشن کرنا، ٹوائلٹوں کی تعمیر، ان کو علاج کی سہولت دینا، دوا کا خرچ بچانا، بیٹیوں کے لیے تعلیم کا انتظام کرنا، ایسے متعدد منصوبے ہماری حکومت نے چلائے ہیں۔ نیو انڈیا کا انھیں دو پٹریوں سے ہوتا ہوا گزرتا ہے۔ مرکزی حکومت کی آواس یوجناؤں کے تحت بہار میں غریبوں کے لیے 18 لاکھ سے زیادہ گھر بن چکے ہیں۔ اس میں پچاس ہزار سے زیادہ یہاں بیگوسرائے میں بنے ہیں۔

اسی طرح امرت مشن کے تحت بہار کے 27 شہروں جیسے آراء، حاجی پور، پٹنہ، ساسا رام، موتیہاری، بھاگلپور، مونگیر، سیوان کو جدید سہولیات سے جوڑا جارہا ہے۔ آج بھی پٹنہ کے ساتھ ساتھ بہار کے دوسرے شہروں کے لیے بھی پینے کا پانی، ٹوائلٹ سے پانی کے اخراج کے لیے اور صفائی ستھرائی سے جڑے 22 پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ اسی طرح کرمالی چک، باڑ، سلطان گنج اور نوگٹھیا کے لیے سیوریج نیٹ ورک اور گندے پانی کی صفائی سے جڑے پلانٹ جب تیار ہوجائیں گے تو اس سے نمامی گنگے مشن کو اور طاقت ملے گی۔ ہمارے یہ شہر بھی صاف ستھرے رہیں گے، یہاں کا پانی صاف رہے گا۔

بھائیو اور بہنو، گیس پر مبنی معیشت ہو، کنیٹیویٹی ہو، اسمارٹ سٹی ہو، گنگا جی کی صفائی کی بات ہو ایسے تمام انتظاموں کے ساتھ ساتھ این ڈی اے حکومت نے غریب اور متوسط طبقے کی صحت پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔بہار میں صحت کی خدمات کے اعتبار سے آج ایک تاریخی دن ہے۔ چھپرا اور پورنیا میں اب نئے میڈیکل کالج بننے والے ہیں وہیں بھاگلپور اور گیا کے میڈیکل کالج کو اَپ گریڈ کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ بہار میں پٹنہ ایمس کے علاوہ ایک اور ایمس بنانے پر کام چل رہا ہے۔ان ساری سہولتوں کے تیار ہونے کے بعد یہاں کے لوگوں کو گمبھیر بیماریوں کے علاج کے لیے باہر جانے کی ضرورت کم ہوجائے گی۔

بھائیو اور بہنو، میں غریب کے اُس درد کو سمجھتا ہوں جب وہ اپنا علاج اس لیے نہیں کرتا کیوں کہ اسے گھر چلانا ہوتا ہے، بچوں کو پڑھانا ہوتا ہے۔ اسی حالت میں اس کی بیماری اور گمبھیر ہوتی چلی جاتی ہے۔ ملک کے ہر غریب کو اس فکر سے نکالنے کے لیے این ڈی اے حکومت نے آیوشمان بھارت یوجنا، پردھان منتری سواستھ یوجنا شروع کی ہے۔ یہ یوجنا پورے ملک کے لگ بھگ پچاس کروڑ غریبوں کے لیے امید کی کرن بن گئی ہے۔ اس میں سے پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ یہ میرے بہار کے ہیں۔ ابھی تک اس یوجنا کو 150 دن بھی نہیں ہوئے ہیں اتنی کم مدت میں ہی ملک کے تقریباً 12 لاکھ غریب بہن بھائیوں کو اس سے مفت علاج کی سہولت مل چکی ہے۔ اس میں بہار کے بھی ساڑھے بارہ ہزار سے زیادہ لوگوں کو علاج کا فائدہ ملا ہے۔ حال ہی میں ہماری حکومت نے عام زمرے کے غریبوں کے لیے معاشی بنیاد پر 10 فی صد ریزرویشن کا بندوبست کیا ہے۔ یہ دوسرے زمرے کے ریزرویشن کو بنائے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

ساتھیو، ترقی اور اعتماد کے یہ تمام کام اس لیے ممکن ہو پارہے ہیں کیوں کہ آپ نے ایک مضبوط سرکار ساڑھے چار سال پہلے بنائی جو پوری اہلیت کے ساتھ تیزی کےساتھ فیصلے کر پاتی ہے۔ فیصلوں کو زمین پر اتار پاتی ہے اور اس لیے ایک بار پھر آپ سبھی کو نیک خواہشات کے ساتھ اس ترقی کی یوجنائیں نئے بہار کی پہچان بنائیں گی، نوجوانوں کو روزگار دیں گی، کسان کو طاقت دیں گی، پٹنہ کی نئی پہچان بنے گی، صحت مندی کے اعتبار سے صحت مند بہار کے خواب پورے ہوں گے، ان سب باتوں کے لیے آپ سب کے لیے بہت بہت نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔نتیش بابو اور ان کی پوری ٹیم کو بہت بہت ابھینندن،

بہت بہت شکریہ۔میرے ساتھ زور سے بولیے

بھارت ماتا کی — جے

بھارت ماتا کی — جے

بھارت ماتا کی — جے

بہت بہت شکریہ۔

 

عطیات
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Over 10 lakh cr loans sanctioned under MUDRA Yojana

Media Coverage

Over 10 lakh cr loans sanctioned under MUDRA Yojana
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
سوشل میڈیا کارنر،10 دسمبر 2019
December 10, 2019
Share
 
Comments

Lok Sabha passes the Citizenship (Amendment) Bill, 2019; Nation praises the strong & decisive leadership of PM Narendra Modi

PM Narendra Modi’s rallies in Bokaro & Barhi reflect the positive mood of citizens for the ongoing State Assembly Elections in Jharkhand

Impact of far reaching policies of the Modi Govt. is evident on ground