The Rajya Sabha gives an opportunity to those away from electoral politics to contribute to the nation and its development: PM
Whenever it has been about national good, the Rajya Sabha has risen to the occasion and made a strong contribution: PM
Our Constitution inspires us to work for a Welfare State. It also motivates us to work for the welfare of states: PM Modi

عالیجاب چیئرمین صاحب اور قابل احترام  ایوان، آپ کے ذریعے اس 250 ویں اجلاس کی خاطر میں یہاں موجود تمام ارکان پارلیمنٹ  کو بہت بہت مبارک باد دیتا ہوں، لیکن اس 250  ویں اجلاس  کے درمیان یہ جو سفر رہا ہے، اب تک جن جن نے اہم تعاون دیا ہے، وہ  سبھی مبارکباد کے مستحق ہیں، میں انہیں بھی عزت کے  یاد کرتا ہوں۔

چیئرمین جی، آپ جب بہت آرٹیکولیٹ وے میں دو الگ الگ واقعات کو جوڑ کرکے ابھی پیش کر رہے تھے، مجھے ضرور لگتا ہے کہ ملک میں جو لوگ لکھنے کے  شوقیں ہیں ، وہ ضرور اس پر اب غور کریں گے، لکھیں گے کہ 250  وان اجلاس  ، یہ اپنے آپ میں گزر ہوا وقت ایسا نہیں ہے؛ ایک نظریاتی سفر  بھی رہا ہے۔  جیسا آپ نے کہا کہ کبھی ایک بل ایسا آیا تھا تو جاتے جاتے اسی کے بالكل الگ سا نیا بل اس طرح   سے آیا۔  وقت بدلتا گیا، حالات بدلتے گئے اور اس ایوان نے بدلی ہوئے حالات کو  قبول  کرتے ہوئے اپنے کو ڈھالنے کی کوشش کی۔  میں سمجھتا ہوں یہ بہت بڑی چیز ہے اور اس کے لئے ایوان کے سبھی  اراکین جنہوں نے اس وقت تک کام کیا، مبارک باد کے مستحق ہیں، ورنہ کسی کو لگ سکتا ہے بھئی 20 سال پہلے میں نے تو یہ اسٹینڈ لیا تھا اب میں اسٹینڈکیسے بدل کر سکتا ہوں۔  لیکن آپ نے جس طرح سے آرٹیکولیٹ کر کے اس بات کو پیش کیا، وہ ہمارے نظریاتی سفر کا  عکاس  ہے، بھارت کی ترقی کے سفر کا  عکاس ہے اور عالمی ماحول میں بھارت کس  طرح  سے نئی نئی باتوں کو لیڈ کرنے کی قوت رکھتا ہے، اس کی اس میں عکاسی ہے۔  اور یہ کام اس ایوان سے ہوا ہے، اس لئے  ایوان اپنے آپ میں فخر کا تجربہ کرتا ہے۔

میرے لئے خوش قسمتی کا موضوع ہے کہ آج اس اہم موقع کا میں  گواہ ہوں اور اس میں شریک ہونے کا مجھے موقع ملا ہے۔  یہ صاف کہہ سکتے ہم کہ کبھی بحث چل رہی تھی آئین سازوں کے درمیان کہ ایوان ایک ہو یا دو ہوں، لیکن تجربہ کہتا ہے کہ آئین سازوں نے جو نظام دیا، وہ کتنا مناسب رہا ہے اور کتنا بہترین تعاون کیا ہے۔  اگر  ایوان زیریں زمین سے جڑا ہو اہے  تو ایوان بالا دور تک دیکھ سکتا ہے۔  اور اس طرح سے ہندوستان کی ترقی کے سفر میں ایوان زیریں سے زمین سے جڑی ہوئی اس وقت کی  چیزوں کی اگر  عکاسی ہوتی  ہے تو یہاں بیٹھے ہوئے معززین  سے کیونکہ اوپر ہے، اوپر والا ذرا دور کا دیکھ سکتا ہے، تو دور کی نظر کا بھی تجربہ ۔ ان دونوں کا کمبی نیشن ان ہمارے دونوں ایوانوں میں  ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے۔

اس ایوان نے کئی تاریخی لمحے دیکھے ہیں۔  تاریخ  رقم کی  ہے اور  رقم ہوتی ہوئی تاریخ کو دیکھا بھی ہے اور ضرورت پڑنے پر اس تاریخ کو موڑنے میں بھی اس ایوان نے بہت بڑی کامیابی پائی ہے۔  اسی طرح سے اس ملک کے معزز  ہستیوں نے اس ایوان کی قیادت کی ہے، اس ایوان میں شرکت کی ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے ملک کی اس ترقی کے سفر کو اور آزادی کے بعد کی بہت سی چیزیں گڑھنی تھیں۔  اب تو 50-60 سال کے بعد بہت سی چیزوں نے شیپ لے لی ہے، لیکن وہ شروعاتی  دور میں فیئر آف انّون سے ہمیں گزرنا پڑتا تھا۔  اس وقت جس میچیوریٹی کے  ساتھ سب نے قیادت کی ہے، دیا ہے؛ یہ اپنے آپ میں بہت بڑی بات ہے۔

محترم چیئرمین جی یہ ایوان کی بڑی خصوصیت ہے اور دو پہلو خاص ہیں- ایک تو اس کا وجود پرمانینٹ  کہیں یا ایٹرنل کہیں، اور دوسرا ہے تنوع ڈائیورسٹی۔  اس کی مستقل حیثیت اس لئے  ہے ، ایٹرنل اس لئے ہے  کہ لوک سبھا تو تحلیل ہوتی ہے، اس کا جنم ہوا نہ اب تک کبھی تحلیل ہوئی ہے نہ تحلیل ہونا ہے، یعنی یہ ایٹرنل ہے۔  لوگ آئیں گے، جائیں گے لیکن یہ نظام ایٹرنل رہتا ہے۔  یہ اپنی اس کی ایک خاصیت ہے۔  اور دوسرا ہے تنوع- کیونکہ یہاں ریاستوں کی نمائندگی ترجیح ہے۔  ایک طرح سے بھارت کے فیڈرل اسٹرکچر کی روح یہاں پر ہر لمحے ہماری حوصلہ افزائی کرتی ہے۔  بھارت کا تنوع ، بھارت کا کثرت میں وحدت کا جو فارمولا ہے، اس کی سب سے بڑی طاقت اس ایوان میں نظر آتی ہے اور وہ وقت وقت پر یہ رفلیٹ بھی ہوتی رہتی ہے۔  اسی طرح سے ان گونا گونیت کے ساتھ ہم جب آگے بڑھتے ہیں تب، اس ایوان کا ایک اور فائدہ بھی ہے کہ ہر کسی کے لئے انتخابی میدان عبور کرنا بہت آسان نہیں ہوتا ہے، لیکن ملک کے مفاد میں ان کی افادیت کم نہیں ہوتی ہے۔  ان کا تجربہ، ان   کی صلاحیت اتنی ہی  بیش قیمت ہوتی ہے۔   یہ ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں اس طرح کی صلاحیت کے حامل معززین ، الگ الگ  علاقوں کے تجربہ کار لوگ، ان کا فائدہ ملک کی سیاسی زندگی کو، ملک کی پالیسی سازی کے اندر ان کا بہت بڑا فائدہ ملتا ہے اور وقت  وقت پر ملا ہے ۔  سائنس داں  ہوں، کھیل دنیا کے لوگ ہوں، آرٹ کی دنیا کے لوگ ہوں، قلم کے دھنی  ہوں، ایسے متعدد معزز شخصیات  کا فائدہ جن کے لئے انتخابی میدان  سے نکل کر آنا بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن اس نظام کی وجہ سے ہماری اس دانشورانہ املاک کی بھی ایک رچنیس ہمیں اس سے حاصل ہوئی ہے۔

اور ان 250 اجلاسوں میں اور میں مانتا ہوں اس کی  سب سے بڑی مثال بابا صاحب امبیڈکر خود ہیں۔  کیونکہ کسی نہ کسی وجہ سے ان کو لوک سبھا میں پہنچنے نہیں دیا گیا۔  لیکن یہی تو راجیہ سبھا تھی جہاں بابا صاحب امبیڈکر کی وجہ ملک کو بہت فائدہ حاسل ہوا  اور اس لئے ہم اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ یہ ایوان ہے جہاں سے ملک کو بابا صاحب امبیڈکر  جیسے  کئی  عظیم ہستیوں  کا ہمیں بہت فائدہ ملا۔  یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک طویل عرصہ ایسا تھا کہ جہاں اپوزیشن جیسا کچھ خاص نہیں تھا، مخالفت کا جذبہ بھی بہت کم تھا- ایسا ایک بہت بڑا عرصہ رہا ہے۔  اور اس وقت  نظام حکومت میں جو لوگ بیٹھے تھے ان کی وہ ایک خوش قسمتی رہی کہ ان کو اس کا بہت بڑا موقع بھی ملا جو آج نہیں ہے۔  آج ڈگر ڈگر پر جدوجہد کرنی پڑتی ہے، ڈگر ڈگر پر مخالفت  کا جذبہ ظاہر رہتا ہے۔  لیکن اس وقت جبکہ مخالف طبقہ  نہ کے برابر تھا، اس ایوان میں ایسے بہت ہی تجربہ کار اور  دانشور  شخصیات بیٹھی تھیں کہ انہوں نے نظام حکومت میں کبھی بھی منفی جذبات  نہیں آنے دیئے۔  حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو صحیح سمت میں جانے کے لئے حوصلہ افزائی کرنے کے مشکل  کام ،اسی ایوان میں ہوئے ہیں۔  یہ ایک یعنی کتنی بڑی خدمت ہوئی ہے، اس پر ہم فخر کر سکتے ہیں اور یہ ہم سب کے لئے یادگار ہے۔

محترم چیئرمین صاحب، ہمارے پہلے نائب صدر ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن جی نے اس ایوان کے سلسلے میں جو بات کہی تھی، میں اسے آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن جی نے کہا تھا، اسی کرسی پر بیٹھ کر انہوں نے کہا تھا اور وہ آج بھی اتنا ہی موزوں ہے۔  اور آپ جناب  پرنب مکھرجی کی بات کا ذکر کرتے ہوں یا خود اپنا درد  بیان کرتے ہوں، یہ ساری باتیں اس میں ہیں اور اس وقت رادھا کرشنن جی نے کہا تھا ہمارے خیال، ہمارا رویے، اور ہماری سوچ ہی دو ایوانوں  والے ہمارے پارلیمانی نظام کےجواز کو ثابت کرے گا۔ آئین کا حصہ بنی اس دو ایوان والے  نظام کا  امتحان ہمارے کاموں سے ہوگا۔  ہم پہلی بار اپنے  پارلیمانی نظام میں دو ایوانوں  کی شروعات کررہے ہیں۔ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہم اپنی سوچ، قوت اور سمجھ سے ملک  کے سامنے اس نظام کا جواز پیش کریں۔

250 سیشن کے سفر کے بعد، تجربہ کے اتنا کامل ہونے کے بعدحال کی جانب آنے والی نسلوں کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ ڈاکٹر رادھا کرشنن جی نے جو توقع کی تھی، کہیں ہم اس سے نیچے تو نہیں جا رہے ہیں، کیا ہم ان کی توقعات کو پورا کر رہے ہیں، یا بدلتے ہوئے زمانے میں ہم ان کی توقعات کو بھی اور اچھا ویلیو ایڈیشن کر رہے ہیں، یہ سوچنے کا وقت ہے۔  اور مجھے یقین ہے کہ ایوان کی موجودہ نسل بھی اور آنے والی نسل بھی ڈاکٹر رادھا کرشنن جی کی توقعات کو مکمل کرنے کے لئے مسلسل کوشش کرتی رہے گی اور اس آنے والے دنوں میں ملک کو …

اگر اب، جیسا ابھی محترم چیئرمین جی نے کہا، اگر ہم گزشتہ 250 سیشن کا جائزہ  لیں  تو کئی  اہم تاریخی بل یہاں پاس ہوئے ہیں جو ایک قسم سے ملک کے قانون بنے، ملک کی زندگی کو چلانے کی بنیاد بنے ہیں۔  اور میں بھی گزشتہ اگر پانچ سال کا حساب کتاب دیکھوں تو میرے لئے بڑے خوش قسمتی کی بات ہے کہ ایسے کئی اہم واقعات کا گواہ بننے کا موقع مجھے بھی ملا ہے۔  طرح طرح کے ہر کسی کے خیال کو  سننے كامجھے موقع ملا ہے اور بہت سی چیزوں کو نئے سرے سے دیکھنے کا موقع اسی ایوان سے ملا ہے۔  اور اس  سے میں خود مستفید ہوا ہوں  اور میں سب کا شکر گزار بھی ہوں اور یہ اگر ہم چیزوں کو اگر سیکھیں، سمجھیں تو بہت  کچھ ملتا ہے اور وہ میں نے یہاں محسوس  کیا ہے۔ تو میرے لئے آپ سب کے درمیان کبھی کبھی آ کر سننے کا موقع ملتا ہے، وہ اپنے آپ میں ایک خوش قسمتی ہے۔

اگر ہم گزشتہ پانچ سال کی طرف دیکھیں، یہی ایوان ہے جس نے تین طلاق کا قانون ہو گا کہ نہیں ہو گا، ہر ایک کو لگتا تھا یہیں پر پھنس جائے گا، لیکن اسی ایوان کی میچیوریٹی ہے کہ اس نے ایک بہت بڑا اہم وومین امپاورمینٹ  کا کام اسی ایوان میں کیا گیا۔  ہمارے ملک میں ریزرویشن کی مخالفت کرکے ہر لمحے جدوجہد کے بیج بویا گئے ہیں۔  اس میں سے کشیدگی پیدا کرنے کی  ہرممکنہ کوشش بھی کی گئی ہے۔ لیکن یہ فخر کی بات ہے کہ اسی ایوان نے عام طبقے کے غریب خاندان کا دس فیصد ریزرویشن کا فیصلہ کیا، لیکن ملک میں کہیں کشیدگی نہیں ہوئی، مخالفت کا جذبہ  پیدا نہیں ہوا، رضامندی کا اظہار ہوا، یہ بھی اسی ایوان کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

اس طرح سے ہم جانتے ہیں جی ایس  ٹی طویل عرصے سے جو بھی کوئی، حکومت میں جس کی ذمہ داری ہے، ہر ایک نے محنت کی۔  کمیاں ہیں، نہیں ہے، سدھرنی چاہئے-نہیں سدھرني چاہئے- یہ ساری ڈیبیٹ چلتی رہی لیکن ون نیشن ون سسٹم کی طرف اسی ایوان نے اتفاق رائے قائم کرکے ملک کو   جہت دینا کا کام کیا۔ اور اسی کی وجہ سے ایک نئے اعتماد کے ساتھ دنیا میں ہم اپنی بات رکھ پا رہے ہیں۔

ملک کے اتحاد اور سالمیت – اسی ایوان میں 1964 میں جو وعدے کئے گئے تھے کہ ایک سال کے اندر اندر اس کام کو کر دیا جائے گا، جو نہیں ہو پایا تھا؛ وہ دفعہ 370 اور 35 (A) اسی ایوان میں اور ملک کو سمت دینے کا کام اس ایوان میں پہلے کیا بعد میں لوک سبھا نے کیا ہے اور اس وجہ سے یہ ایوان اپنے آپ میں ملک کے اتحاد-سالمیت کے لئے اتنے اہم فیصلے کے اندر اتنا جو کردار ادا کیا ہے، وہ اپنے آپ میں۔  اور یہ بھی ایک خصوصیت ہے کہ اس ایوان  اس کے لئے جس بات کو یاد کرے گا کہ آئین کے اندر دفعہ 370 آئی، اس کو انٹروڈیوس کرنے والے مسٹر این گوپالاسوامی، وہ اس ایوان کے پہلے لیڈر تھے، فرسٹ لیڈر تھے وہ، تو انہوں نے اس کو رکھا تھا اور اسی ایوان نے اسے نکالنے کا کام بھی بڑے فخر کے ساتھ كركے- وہ ایک واقعہ اب ایک تاریخ بن چکا ہے، لیکن یہیں پر ہوا ہے۔

ہمارے آئین سازوں نے ہمیں جو ذمہ داری دی ہے، ہماری ترجیح ہے فلاحی ریاست، لیکن اس کے ساتھ ایک ذمہ داری ہے- ریاستوں کی بہبود۔  یعنی بھارت ایز سچ ہم فلاحی ریاست کے طور پر کام کریں لیکن ایٹ دی سیم ٹائم ہم لوگوں کی ذمہ داری ہے- ریاستوں کی بھی بہبود۔  اور یہ دونوں مل کر، ریاست اور مرکز مل کر ہی ملک کو آگے بڑھا سکتے ہیں اور اس کام کو کرنے میں اس ایوان نے کیونکہ یہ ریاست کی ریپریزینٹیشن پوری طاقت کے ساتھ کرتے ہیں، بہت بڑا کردار ادا کیا ہے اور ہماری آئینی اداروں کو طاقت دینے کا بھی ہم نے کام کیا ہے۔  ہمارا وفاقی ڈھانچہ، ہمارے ملک کی ترقی کے لئے اہم شرط ہے اور ریاستی اور مرکز ی حکومتیں مل کر کام کریں ، تبھی ترقی ممکن ہوتی ہے۔

راجیہ سبھا اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ملک میں مرکزی اور ریاستی حکومتیں حریف  نہیں ہیں۔  لیکن ہم شریک بن کر، شریک بن کرکے ملک کو آگے لے جانے کا کام کرتے ہیں۔  یہاں جن خیالات کا تبادلہ ہوتا ہے، اس کا جو عرق ہے، جو یہاں کے نمائندے اپنی ریاست میں  لے جاتے ہیں، اپنی  ریاست کی حکومتوں کو بتاتے ہیں۔  ریاست کی حکومتوں کو اس کے ساتھ شامل ہونے کے لئے حوصلہ افزائی کرنے کا کام جانے انجانے بھی محتاط طور پر ہمیں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ملک کی ترقی اور ریاستوں کی ترقی ۔ یہ دو مختلف چیزیں نہیں ہیں۔  ریاست کی ترقی کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں ہے اور ملک کی ترقی کا نقشہ ریاستوں کی ترقی کے برعکس ہو گا، تو بھی ریاستیں  ترقی نہیں کر پائیں گی اور ان چیزوں کی یہ ایوان سے سب سے زیادہ عکاسی کرتا ہے، پوری زندگی کے ساتھ کے ساتھ عکاسی کرتا ہے۔  بہت سی پالیسیاں مرکزی حکومت بناتی ہے۔  ان پالیسیوں میں ریاستوں کی توقعات، ریاستوں کی حیثیت، ریاستوں کا تجربہ، ریاستوں کی روزمرہ مشکلات – ان باتوں کو حکومت کی پالیسی سازی میں  بہت درست طریقے سے کوئی لا سکتا ہے تو یہ ایوان لا سکتا ہے، اس ایوان کے رکن لاسکتے ہیں۔  اور اسی کا فائدہ فیڈرل اسٹرکچر کو بھی ملتا ہے۔ تمام کام ایک ساتھ ہونے والے نہیں ہیں، کچھ کام اس پانچ سال  میں ہوں گے تو کچھ اگلے پانچ سال  میں ہوں گے، لیکن سمت طے ہوتی ہے اور وہ کام یہاں سے ہو رہا ہے، یہ اپنے آپ میں…..

معزز چیئرمین صاحب 2003 میں جب اس ایوان کے 200 سال مکمل ہوئے تھے تب اس وقت بھی ایک اجلاس ہوا تھا اور اس وقت بھی این ڈی اے کی حکومت تھی اور اٹل  بہاری واجپئی بھی وزیراعظم تھے۔ ایوان کے اس 200 ویں اجلاس کے وقت معزز اٹل جی کو تقریر تھی وہ بہت ہی دلچسپ تھی۔ ان کی بات کرنے کا اپنا ایک انداز تھا۔ انہو ں نے کہا تھا کہ ہماری پارلیمانی جمہوریت کی طاقت کو بڑھانے کے لئے سیکنڈر چیمبر موجود ہے اور انہوں نے یہ بھی متنوع کیا تھا کہ سیکنڈ ہاؤس کو کوئی سیکنڈری ہاؤس بنانے کی غلطی نہ کریں۔ یہ انتباہ اٹل جی نے کیا تھا کہ سیکنڈ ہاؤس کو کبھی بھی سیکنڈری ہاؤس کی غلطی نہ کریں۔

اٹل جی کی ان باتوں جب میں پڑھ رہا تھا تو مجھے بھی ایسا محسوس ہوا کہ اس کو آج کے تناظر میں کچھ نئے طریقے سے پیش کر نا ہے تو میں کہوں گا کہ راجیہ سبھا سیکنڈ ہاؤس ہے، سیکنڈری ہاؤس کبھی نہیں ہے اور بھارت کی ترقی کے لئے اسے سیکورٹی ہاؤس بنے رہناچاہئے۔

جب ہمارے پارلیمانی نظام کے 75 سال مکمل ہوئے تب اٹل جی کی تقریر ہوئی تھی۔ پارلیمانی نظام کے 50 سال اور اس تقریر کے شاعرانہ   رنگ سے  انہوں نے ایک بات بتائی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایک ندی کا بہاؤ اسی وقت تک اچھا رہتا ہے جب تک کہ اس کے کنارے مستحکم ہوتے ہیں اور انہو ں نے کہا تھا کہ بھارت پارلیمانی بہاؤ ہے وہ ہمارا جمہوری عمل ہے۔ایک کنارہ لوک سبھا ہے اور دوسرا کنارا راجیہ سبھا ہے۔یہ دونوں مستحکم رہیں گے تبھی جمہوری روایات کا بہاؤ ٹھیک ڈھنگ سے آگے بڑھے گا۔یہ بات  معزز اٹل جی نے اس وقت کہی تھی۔

یہ بات یقینی ہے کہ بھارت ایک وفاقی ڈھانچہ ہے،تنوع سے بھرا پڑا ہے۔تب یہ بھی لازمی شرط ہے کہ قومی نقطہ نظر سے  اوجھل نہیں ہونا ہے۔قومی نقطہ نظر کو ہمیشہ مرکز میں رکھنا ہوگا۔ لیکن ہمیں قومی نقطہ نظر کے ساتھ علاقائی مفاد ہے اس میں توازن بھی بہت ٹھیک ڈھنگ سے قائم کرنا ہوگا تبھی ہم اس جذبے کو،اس توازن کے ذریعہ آگے بڑھا پائیں گے۔یہ کام سب سے اچھے ڈھنگ سے ہوسکتا ہے تو اس ایوان میں ہوسکتا ہے۔  یہاں کے معزز اراکین کے ذریعہ ہوسکتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ کام کرنے کی ہم مسلسل کوشش کررہے ہیں۔

راجیہ ایک قسم سے چیک اینڈ بیلنس اس کے اصل وصولوں کے لئے بہت ہی اہم ہے۔ لیکن چیکنگ اور کلوزنگ اس کے درمیان فرق قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ بیلنس اور بلاننگ کے درمیان ہمیں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک قسم سے ہمارے متعدد عظیم رہنماؤں نے یہ بات بار بار کہی ہے کہ بھئی! ایوان بحث ومباحثہ کے لئے ہوناچاہئے، بات چیت کے لئے ہوناچاہئے، غوروفکر کے لئے ہونا چاہئے، تلخ سے تلخ لہجہ میں بات چیت ہو،اس سے کوئی نقصان ہونے والا نہیں ہے  لیکن ضرورت ہے کہ روکاوٹوں کے بجائے ہم بات چیت کا راستہ اپنائیں۔

میں آج، ہوسکتا ہے کہ میں آج جن لوگوں کا ذکر کررہا ہوں ان کے علاوہ بھی لوگ ہوں گے۔ لیکن میں 2 پارٹیوں کا آج ذکر کرناچاہوں گا۔ ایک این سی پی اور دوسری بی جے ڈی ہے اور کسی کا نام چھوٹ جائے مجھے معاف کرنا، میں 2 پارٹیوں کاذکر کررہا ہوں، ان دونوں پارٹیوں کی خصوصیت دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا خود ڈسپلن طے کیا ہے کہ ہم ویل میں نہیں جائیں گے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک بار بھی ان کے ایک بھی  ممبر نے یہ اصول نہیں توڑا ہے ہم سبھی سیاسی پارٹیوں کو یہ سیکھنا ہوگا۔ ہماری پارٹی سمیت  سب کو یہ سیکھنا ہوگا کہ اس اصول کی پابندی کرنے کے باوجود بھی  این سی پی کی ترقی کی راہ میں کوئی روکاوٹ آئی ہے اور نہ بی جے ڈی کی سیاسی ترقی کے سفر میں کوئی روکاوٹ آئی ہے۔مطلب یہ ہے کہ ویل میں نہ جا کر بھی لوگوں کے دل جیت سکتے ہیں۔ لوگوں کا اعتماد حاصل  کرسکتے ہیں۔یہ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ٹریزی بنچ سمیت ہم لوگوں نے جو ایسے اعلی روایت  انہوں نے قائم کی ہے اس سے ان کا کوئی سیاسی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کیوں نہ ہم ان سے کچھ سیکھیں۔ ہمارے سامنے وہ موجود ہے ۔ میں چاہوں گا کہ ہم بھی وہاں بیٹھیں تو ہم نے بھی وہ کام کیا ہے۔ اس لئے میں ان ایوان کے لئے کہہ رہا ہوں کہ ہم این سی پی، بی جے ڈی دونوں نے جو یہ اعلی طریقے قائم کئے ہیں اور جو ڈسپلن فولو کیا ہے۔ اس پر کبھی نہ کبھی بات چیت بھی ہونی چاہئے۔ اس کے لئے  ان کا شکریہ ادا کرناچاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج جب ایوان کا250 واں  اجلاس چل رہا ہے تو ایسے  اچھے واقع کا ذکر ہونا چاہئے۔ لوگوں کے  سامنے پیش کرنا چاہئے۔

 مجھے یقین ہے کہ ایوان کے وقار کے لئے جس کی بھی ضرورت ہے اسے کرنے میں سب کو اپنا کردار ادا کرتے رہناچاہئے۔ ہم سب کوشش کریں گے کہ اس 250 ویں اجلاس میں ہم سب یہ عہد کریں جس سے آپ لوگوں کو کم سے کم زحمت ہو۔ آپ کے جذبات کا آپ جیسا چاہتے ہیں ویسا ہو۔ اس صاحبان کی کارروائی کو آپ کے ساتھ سارے ڈسپلن کو فولو کرنے کی کوشش کریں۔

اس عہد کے ساتھ میں پھر اہم ترین پڑاؤں پر آپ سب کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں اور جنہوں نے یہاں تک پہنچایا ہے میں ان سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی بات کو ختم کرتا ہوں۔

 بہت بہت شکریہ

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Flash composite PMI up at 61.7 in May, job creation strongest in 18 years

Media Coverage

Flash composite PMI up at 61.7 in May, job creation strongest in 18 years
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
سوشل میڈیا کارنر، 24مئی 2024
May 24, 2024

Citizens Appreciate PM Modi’s Tireless Efforts in Transforming India